بساط صحافت پہ ایسے کئی صحافی ہیں جنھوں نے اردو اور انگریزی دونوں ہی زبانوں میں صحافتی خدمات انجام دی ہیں انھیں میں سے ایک معتبر نام شاہین نظر کا بھی ہے شاہین نظر صاحب نوئیڈا میں واقع ایک میڈیا انسٹیٹیوٹ میں صحافت پڑھاتے ہیں. اس سے پہلے ٹائمز اوف انڈیا سمیت دبئی اور جدّہ کے اخبارات سے وابستہ رہے ہیں. وہ عملی صحافت سے بھی وابستہ اور علمی صحافت کے حوالے سے بھی کافی تجربہ رکھتے ہیں شاہین نظر صاحب ایک علم دوست انسان ہیں وہ اس بات کی گہری سمجھ رکھ سکتے ہیں کہ وہ تعلیم کے ذریعے ہی اپنے معاشرے کو ترقی یافتہ بنا سکتے ہیں اسی جذبے کے تحت وہ اور ان کی شریک حیات جدہ کی پر تعیش زندگی چھوڑ کے واپس انڈیا لوٹ آئے تاکہ اپنی قوم کے لوگوں کی خدمت کر سکیں اس جذبے کے تحت ان دونوں نے گریٹر نوئیڈا میں غریب بچوں کے لئے مفت تعلیم حاصل کرنے کے لئے اسکول قائم کئے ۔ شاہین نظر صاحب کے والد قیوم اثر صاحب ٹریڈ یونین لیڈر تھے اور مجاہد آزادی بھی تھے قوم کے تئیں خدمت کا جذبہ ان کو اپنے والد سے وراثت میں ملا ہے۔
شاہین نظر صاحب کی شخصیت کے کئی پہلو ہیں آج وہ ہمارے سامنے ہیں آئیے ہم ان کے بارے میں انھیں سے جاننے کی کوشش کرتے ہیں اور بدلتے وقت کے اقدار و روایات کے متعلق بھی ان سے جانیں گے ۔
علیزے نجف: اس انٹرویو کا آغاز روایت کے مطابق میں آپ کے تعارف سے کرنا چاہوں گی سب سے پہلے آپ ہمیں خود سے متعارف کروائیں اور یہ بھی بتائیں کہ آپ کا بنیادی تعلق ہندوستان کے کس خطے سے ہے اور اس وقت آپ کہاں قیام پزیر ہیں؟
شاہین نظر: میں صوبہ بہار کے تاریخی شہر گیا کا رہنے والا ہوں جہاں گریجویشن تک میری تعلیم ہوئی، پھر علیگڑھ مسلم یونیورسٹی سے میں نے صحافت کی تعلیم حاصل کی. اسکول کے زمانے میں کہانیاں لکھا کرتا تھا جو بچوں کے رسالوں میں شایع ہوتی تھیں. کالج میں آیا تو ہفتہ وار بلٹز اردو کے لئے رپورٹنگ کا موقعہ ملا. پھر تعلیم مکمّل کر کے صحافت کو ہی پیشے کے طور پر اپنا لیا. گزشتہ چار دہائیوں میں ٹائمز اوف انڈیا سمیت تقریباً آدھے درجن انگریزی اخبارات میں کام کر چکا ہوں، جن میں خلیجی ممالک کے چار اخبارات شامل ہیں. صحافت کے علاوہ افسانے لکھتا ہوں. اب تک میرے دو افسانوی مجموعے آچکے ہیں.
خلیجی ممالک میں بیس سال گزارنے کے بعد دو ہزار دس میں میں واپس ہندوستان آ گیا اور صحافت کی تدریس شروع کر دی. گزشتہ بارہ سالوں سے میں نے دہلی کے قریب واقع ایک شہر گریٹر نوئیڈا میں سکونت اختیار کر رکھی ہے.
علیزے نجف: آپ کی پرورش و پرداخت کس طرح کے ماحول میں ہوئی آپ کے گھر کے نظم و نسق میں کس طرح کی روایتوں کو غلبہ حاصل تھا اس وقت کے ماحول اور آج کے ماحول میں آپ کیا واضح فرق محسوس کرتے ہیں؟
شاہین نظر: گھر کا ماحول علمی اور ادبی تھا، اور سیاسی بھی. والد جن کا نام قیوم اثر تھا ٹریڈ یونین لیڈر تھے اور مجاہد آزادی رہ چکے تھے. ادب کا بہت اچھا ذوق رکھتے تھے اور ادبی حلقوں میں بھی جانے جاتے تھے. بڑے بھائی جن کا نام سرور عثمانی تھا ایک ادبی رسالہ مفاہیم نکالتے تھے، تو ان کی وجہ سے گھر پر شاعروں اور ادیبوں کی بیٹھک ہوتی تھی اور اکثر ادبی نشستیں ہوتی تھیں. والد کی وجہ سے سیاسی اور سماجی شخصیتوں کا آنا جانا لگا رہتا تھا. والدہ اسکول ٹیچر تھیں تو ان کا اپنا ایک حلقہ تھا. کل ملا کر گھر میں ہر وقت گہما گہمی رہتی تھی.
میرے بچپن کے زمانے میں سماجی رشتے زیادہ مضبوط تھے. دوست، رشتہ دار ایک دوسرے کے یہاں بے دھڑک چلے جایا کرتے تھے. متوسط گھرانہ تھا ہمارا جہاں پیسوں کی فراوانی تو نہیں تھی مگر پیار محبّت بہت تھی. اب زندگی کی رفتار تیز ہو گئی ہے. کسی کے یہاں جانا ہو تو فون پر اطلاع دینا ضروری ہو گیا ہے.
علیزے نجف: آپ کی تعلیمی لیاقت کیا ہے اور تعلیمی میدان میں آپ نے سب سے زیادہ کس شخصیت سے استفادہ کیا نظریات کی تشکیل و ترمیم میں تعلیم کس طرح کا کردار ادا کرتی ہے؟
شاہین نظر: میں نے ماس کمیونیکشن میں ایم اے کیا ہے. کسی ایک شخصیت سے استفادہ کے بارے میں تو نہیں که سکتا البتہ میری تعلیم کا سہرا میری والدہ کے سر ہے جنہوں نے اس کے لئے بڑی قربانیاں دیں. انہوں نے اس زمانے میں نوکری کی جب برقعہ پوشخواتین کا گھر سے نکلنا معیوب سمجھا جاتا تھا کیونکہ والد اپنی سیاسی سرگرمیوں کی وجہ سے کئی بار جیل گئے اور نوکری سے سسپینڈ رہے جس کا اثر گھر کے مالی حالات پر پڑتا تھا.
نظریات کی تشکیل میں بہت سارے عوامل کارفرما ہوتے ہیں، تعلیم ان میں سے ایک ہے. آپ کس دور میں پیدا ہوۓ، کس ماحول میں آپ پلے بڑھے، کس طرح کے لوگوں سے آپ کا سابقہ پڑا ان سب باتوں کا آپ کی سوچ اور شخصیت پر اثر پڑتا ہے.
علیزے نجف: کہتے ہیں ایک بچہ جو کچھ بچپن میں اپنے ارد گرد ہوتے دیکھتا ہے اس سے اس حد تک متاثر ہوتا ہے کہ اس کے اثرات پوری زندگی اس کی شخصیت میں محسوس کئے جا سکتے ہیں میرا سوال یہ ہے کہ تعلیم ان اثرات یا نظریات کو کس حد تک بدل سکتی ہے اور موجودہ تعلیمی نظام شخصیت سازی کے لئے کس حد کارگر ہے؟
شاہین نظر: تعلیم انسانی زندگی میں بنیادی رول ادا کرتی ہے. ہر زمانے میں اسی قوم کو غلبہ حاصل ہوتا ہے جو علم کو اپنا ہتھیار بناتی ہے. کبھی عربوں کو یہ امتیاز حاصل ہوا تھا، آج امریکیوں کو ہے. توہم پرستی اور فرسودہ خیالات سے لڑنے اور سوشل ریفارم کا واحد ذریعہ تعلیم ہے. افسوس کی بات یہ ہے کہ موجودہ تعلیمی نظام کو شخصیت سازی سے زیادہ نوکری حاصل کرنے کا یا دولت کمانےکا ذریعہ بنا دیا گیا ہے. پرائیویٹ یونیورسٹیز اور پرائیویٹ انسٹیٹوٹس جن کی ملک میں اندنوں بھرمار ہے اور جن سے میں خود منسلک ہوں وہاں پروفیسروں سے کہا جاتا ہے کہ وہ طالب علموں کو "مارکیٹ ریڈی پروفیشنلز” بنائیں. ایسے ماحول میں شخصیت سازی یا کردار سازی کا خانہ تو بچتا ہی نہیں. میرا بس چلے تو میں اعلٰی سے اعلٰی تعلیم کے آخری سال تک مورل ٹیچنگ یعنی اخلاقیات کو لازمی پیپر قرار دوں. اس لئے کہ لوگ بڑی بڑی ڈگریاں تو لے لیتے ہیں مگر صحیح اور غلط کی تمیز ان میں نہیں پیدا ہو پاتی.
علیزے نجف: آپ کا تعلیم و تعلم سے گہرا رشتہ ہے معاشرے کی ناخواندگی کی شرح کو بہتر بنانے کے لئے آپ جھگیوں جھونپڑیوں میں رہنے والے بچوں کو مفت تعلیم دینے کے لئے دو اسکول بھی قائم کئے میرا سوال یہ ہے کہ آپ کے اندر یہ خیال کیسے پیدا ہوا اور اس کو تحریک کہاں سے ملی اور آپ کے ذریعے قائم کردہ ان دو اسکولوں کی خدمات اب تک کیسی رہی اس ضمن میں ہمیں کچھ بتائیں؟
شاہین نظر: یہ اسکول میری بیوی جن کا نام فوزیہ ناہید ہے نے قائم کئے ہیں. میں ان کی معاونت کرتا ہوں. ہم دونوں یہ خواب لے کر ہی بیس سال بعد ہندوستان لوٹے تھے. ہمارے پاس کناڈا جانے کا آپشن تھا مگر ہمیں لگا کہ وہاں جاکر ایک آسائش سے بھرے فلیٹ میں گم ہو جانے میں کوئی مزہ نہیں. چنانچہ ہم لوگ واپس اپنے ملک آ گئے. میں نے نوکری کر لی چونکہ گھر چلانا تھا. اس بیچ ہم لوگ حالات کا جائزہ لیتے رہے. چار سال قبل ایک جھگی کا انتخاب کر کے وہاں ایک اسکول کھولا. اُس سے اگلے سال دوسری جھگی میں کھولا اور اِس سال یعنی دو ہزار بائیس میں تیسرا کھولا. اتفاق سے دوسرا اسکول جہاں کھلا تھا وہ جگہ مناسب نہیں تھی اس لئے اسے بند کرنا پڑا. ایک سلائی اسکول بھی کھولا ہے اس سال. ان سب جگہوں پر کوڑا بننے والے بچوں کو مفت تعلیم دی جاتی ہے اور روزانہ ناشتہ بھی دیا جاتا ہے اور یونیفارم اور گرم کپڑے بھی دیے جاتے ہیں. الحمد للہ ہمارا تجربہ بہت اچھا رہا ہے. جو سنتا ہے وہ ہماری ہمّت بڑھاتا ہے. ہمیں عوام سے چندہ لینے کی ضرورت نہیں پڑی ہے ابھی تک. خاندان کے لوگ اور کچھ قریبی دوست مل کر سارا خرچ اٹھا رہے ہیں.
علیزے نجف: بےشک کسی بھی معاشرے کو ترقی یافتہ بنانے کے لئے ضروری ہے کہ ان کے افراد کو تعلیم یافتہ بنایا جائے میرا سوال یہ ہے کہ ہندوستان کے اعلی تعلیم کا گراف عالمی سطح پہ کیسا ہے اور ملک میں رائج نظام تعلیم سے آپ کس حد تک مطمئن ہیں؟
شاہین نظر: ہمارے ملک کا تعلیمی میعار کافی اونچا ہے. تیسری دنیا کے بیشتر ملکوں سے ہم بہت آگے ہیں. عالمی سطح پر بھی یہ تشفّی بخش ہے ورنہ ہمارے لوگ اتنی بڑی تعداد میں مغربی ملکوں میں نظر نہیں آتے، نہ ہی ملٹی نیشنل کمپنیاں ہمارے ملک میں ہماری یونیورسٹیز سے نکلے پروفیشنلز کے بھروسے بزنس کر رہی ہوتیں. بہتری کی گنجائش اور ضرورت تو ہمیشہ رہتی ہے. نیو ایجوکیشن پالیسی اس کی طرف بڑھایا گیا ایک قدم ہے جس کا ہر طبقے نے خیر مقدم کیا ہے. جو بات تشویش کی ہے وہ یہ کہ گزشتہ آٹھ برسوں میں ملک کے ماحول کو بگاڑنے کا جو کام سرکاری سرپرستی میں ہوا ہے اس نے نئی نسل کے اندر مذہبی منافرت اور انتہا پسندی کو راہ دی ہے. اس کے منفی اثرات تعلیم پر بھی پڑیں گے. اس پر بات ہونی چاہئے جو کوئی نہیں کر رہا ہے.
علیزے نجف: آپ پیشے کے اعتبار سے صحافی ہیں آپ نے ٹائمز آف انڈیا سے اپنی صحافت کا آغاز کیا اور مختلف خلیجی ممالک میں آپ نے صحافتی خدمات انجام دی ہیں میرا سوال یہ ہےکہ صحافت آپ کا پیشہ ہے یا شوق اور صحافت کے میدان میں آپ کا اب تک کا تجربہ کیسا رہا ؟
شاہین نظر: جی میں نے اپنے صحافتی کیریئر کا آغاز ٹائمز اوف انڈیا سے کیا تھا، اسّی کی دہائی میں. پھر انیس سو نوّے میں دبئی چلا گیا، خلیج ٹائمز میں کام کرنے. بہت قلیل مدّت کے لئے ٹائمز اوف عمان، مسقط میں رہا. اس کے بعد جدّہ چلا گیا جہاں پہلے سعودی گزٹ اور بعد میں عرب نیوز میں کام کیا. سعودی گزٹ کی ملازمت کے دوران نائن الیون کا واقعہ پیش آیا اور کچھ عرصے کے لئے سعودی عرب خبروں کے لحاظ سے بہت اہم ہو گیا. اس وقت بی بی سی نے مجھ سے رابطہ قائم کیا. میں تقریباً پانچ سالوں تک ان کی اردو اور ہندی سروسز کے لئے رپورٹنگ کرتا رہا، اپنے ایڈیٹر کی اجازت سے. ایک دو موقعوں پر بی بی سی کی مین انگلش سروس نے بھی میری خدمات لیں.
صحافت میرا شوق بھی ہے اور پیشہ بھی. میرا اب تک کا تجربہ بہت اچھا رہا ہے. گزشتہ گیارہ بارہ سالوں سے میں صحافت پڑھانے کا کام کر رہا ہوں اور یہ تجربہ بھی الحمد للہ طمانیت کا باعث ہے.
علیزے نجف: آپ کا صحافتی تجربہ کافی وسیع ہے آپ نے ملکی اور غیر ملکی سطح پہ صحافت کے نشیب و فراز کا تجربہ کیا ہے میرا سوال یہ ہے کہ پچھلے بیس سالوں میں آپ نے صحافت میں کیا دو بڑی تبدیلی واقع ہوتے محسوس کی ہے جب آپ نے صحافت کا آغاز کیا تھا اور اس وقت جب کہ دو دہائیاں اس میں گزار چکے ہیں اس وقت آپ اپنے صحافتی نظریات میں کس طرح کی واضح تبدیلی واقع ہوتے دیکھتے ہیں ؟
شاہین نظر: دنیا کبھی ایک جیسی نہیں رہتی. یہی معاملہ صحافت کا ہے. نئی ٹیکنالوجی کا اس پر براہ راست اثر پڑتا ہے. تقریباً چالیس سال قبل جب میں نے صحافت شروع کی تھی تو صرف اخبارات اور رسائل تھے. ٹیلی ویژن اور ریڈیو سرکاری ملکیت تھے جہاں روزگار کے مواقع انتہائی محدود تھے. نوّے کی دہائی میں انٹرنیٹ عام ہوا جس کے بعد پرائیویٹ ٹیلی ویژن وجود میں آیا. نیوز چینلز نے نیوز کو ایک نئی "انڈسٹری” میں تبدیل کر دیا. روزگار کے نئے مواقع نکلے مگر یہ انڈسٹری اپنے ساتھ بہت ساری برائیاں لے کر بھی آئی. اس کے منفی اثرات ہم ان دنوں دیکھ رہے ہیں بلکہ جھیل رہے ہیں. یہ ایک تفصیل طلب موضوع ہے اس پر کبھی الگ سے بات ہو سکتی ہے.
علیزے نجف: آپ انگریزی صحافت کے ساتھ کسی نہ کسی سطح پہ اردو صحافت سے بھی جڑے ہوئے ہیں آپ ان دونوں زبان کی صحافت میں کس طرح کا فرق دیکھتے ہیں اور اس فرق کی وجہ کیا ہے اردو صحافت کو خود میں کس طرح کی تبدیلی لانے کی ضرورت ہے؟
شاہین نظر : اردو صحافت میں پروفیشنلزم کا زبردست فقدان ہے. چونکہ روزگار کے مواقع دن بدن گھٹتے جا رہے ہیں اس لئے نیا اور اچھا ٹیلنٹ نہیں آرہا ہے. انگریزی صحافت سے وابستہ لوگوں کی رسائی جس طرح کے مواد تک ہوتی ہے وہ اردو والوں کی عموماً نہیں ہو پاتی. جہاں تک میعار کا سوال ہے اردو اخبارات پڑھ کر آپ کی اخبار پڑھنے کی ضرورت پوری نہیں ہوتی، آپ کو انگریزی کا اخبار پڑھنا ہی پڑتا ہے. ایک دوسرا مسلہ وقار کا ہے. اس مسلے سے ہندی اخبارات بھی دو چار ہیں. دینک جاگرن ملک کا سب سے زیادہ پڑھا جانے والا اخبار ہے مگر جو اعتبار انگریزی اخبار میں چھپی خبر کو ملتا ہے وہ دینک جاگرن کی خبر کو نہیں.
علیزے نجف: آپ نہ صرف عملی صحافت سے وابستہ ہیں بلکہ آپ صحافت پڑھاتے بھی ہیں شاردا یونیورسٹی اور جامعہ ملیہ اسلامیہ میں خدمات انجام دینے کے بعد ان دنوں انڈیا ٹوڈے میڈیا انسٹیٹیوٹ سے بحیثیت وِزیٹنگ فیکلٹی منسلک ہیں میرا سوال یہ ہے کہ وہ صحافت جو پڑھائی جاتی ہے عملی زندگی میں ایک صحافی ان کتابی اصولوں پہ کس حد تک قائم رہتا ہے کیوں کہ اب صحافت کلی آزاد نہیں رہی تو ایسے میں اصولوں پہ قائم رہنا مطلب حکومت کو چیلنج کرنا ہے جو کہ آسان نہیں ایسے میں صحافتی اصولوں کا کیا ہوتا ہے؟
شاہین نظر : فی زمانہ صحافت کی تدریس، یا کسی بھی تدریس کی خرابی یہ ہے کہ تعلیم سے اس کی روح نکال لی گئی ہے اور طالب علم کو روبوٹ میں تبدیل کر دیا گیا ہے. کوئی بھی علم اور اس کی بنیاد پر اپنایا گیا پیشہ سماجی ذمّہ داری کے احساس اور اخلاقی قدروں کا پاس رکھے بغیر ہمیں بربادی کی طرف لے جائے گا. آج مین سٹریم میڈیا کے صحافی اور ٹیلی ویژن اینکرز جس بے حسی اور بے شرمی کا مظاہرہ کر رہے ہیں اس کی بنیادی وجہ ان کی تعلیم اور تربیت ہے. میں اپنے سٹوڈنٹس کو صحافت کے گُر سکھانے کے ساتھ ساتھ انھیں ایک اچھا شہری ہونے کی تلقین کرتا ہوں اور ان سے کہتا ہوں کہ جب تم سے جھوٹ بلوایا جائے تو اپنے ضمیر کی آواز سننے کی کوشش ضرور کرنا.
صحافت کرنے کا مطلب ہمیشہ حکومت کی مخالفت کرنا نہیں. اور اگر کرنا پڑ جائے تو اس سے پیچھے بھی نہیں ہٹنا چاہیے. بہت سارے لوگ ہیں جو آج ایسا کر رہے ہیں اور خطرہ مول لے رہے ہیں. کمٹمنٹ کی خاطر ایک نوکری یا ایک زندگی کوئی معنی نہیں رکھتی. مگر ہر ایک کے لئے یہ ممکن نہیں ہوتا. ایسے لوگ خاموش رہتے ہیں اور صحیح موقعے کا انتظار کرتے ہیں. یہ کم درجے کا کمٹمنٹ ہے، اتنا تو ہونا ہی چاہیے اگر آپ صحافت کے میدان میں اترے ہیں تو.
علیزے نجف: آپ فطرتاً انسانیت پرست اور ہمدرد انسان ہیں لوگوں کے کام آنے کو آپ اپنا فرض منصبی سمجھتے ہیں اور ایک زمانے میں پیوپلس یونین فار سول لبرٹیز کے کارکن رہے ہیں میرا سوال یہ ہے کہ آپ کے اندر یہ مزاج کیسے پیدا ہوا اس حوالے سے آپ کو انسپریشن کہاں سے ملی خدمت خلق کو لے کر آپ کا طریقہء کار کیا ہے کیا باقاعدہ پلاننگ کر کے کام کرتے ہیں یا حالات کے مطابق ہوتے رہتے ہیں اور کیا مستقبل کے حوالے سے کوئی حکمت عملی بھی رکھتے ہیں؟
شاہین نظر : جیسا کہ میں نے پہلے بتایا کہ میرے والد مجاہد آزادی تھے تو مجھے یہ فکر وراثت میں ملی. سماجی کام میں دلچسپی لینے کے لئے کسی پلاننگ کی ضرورت نہیں ہوتی. آپ جہاں بھی رہتے ہیں آپ کو آپ جیسے لوگ مل جاتے ہیں اور آپ ان کا حصّہ بن جاتے ہیں. جو اسکول ہم لوگوں نے قائم کیا ہے اس کی فکر تو تھی مگر اس کے لئے باضابطہ کوئی پلاننگ نہیں کی. بس ایک دن چند بچوں کو لے کر بیٹھ گئے اور کام چل پڑا.
علیزے نجف: وقت کے ساتھ تبدیلی کا آنا ایک لازمی عنصر ہے اسی طرح آزادئ ہند کے بعد ہندوستانی معاشرے میں بھی اب تک بےشمار تبدیلیاں پیدا ہو چکی ہیں لیکن یہ تبدیلی اتنی تسلی بخش بھی نہیں کہ کرنے کو کچھ نہ بچا ہو میرا سوال بھی اسی ضمن میں ہے کہ ہمارے معاشرے کے کس شعبے کی حالت اب بھی بہت خستہ ہے اور اس کو بہتر کس طرح بنایا جا سکتا ہے آپ اس بارے میں کیا کہنا چاہیں گے؟
شاہین نظر: بہتر سے بہتر تعلیم اور زیادہ سے زیادہ روزگار کے مواقع. باقی ساری راہیں یہیں سے کھلیں گی. اس کے علاوہ انسانی حقوق کی پامالی اور رولنگ کلاس کا جو غیر جمہوری رویہ ہمارے سماج میں رواج پا گیا ہے اس سے لڑنا ہوگا.
علیزے نجف: آپ صحافی ہونے کے ساتھ ساتھ افسانہ نگار بھی ہیں آپ کی دو کتابیں اشاعت کے مرحلے سے گذر کر منظر عام پہ آ چکی ہیں میرا سوال یہ ہے کہ افسانہ نگاری جو کہ ایک تمثیلی دنیا ہے آپ اس کو کس طرح معاشرے میں مثبت کردار ادا کرنے کا ذریعہ خیال کرتے ہیں جب کہ عام لوگ محض اسے تفریح طبع کے لئے پڑھتے ہیں کیا اس سے سوچوں کو متاثر کیا جا سکتا ہے ؟
شاہین نظر: میرا تازہ افسانوی مجموعہ "کرب ناتمام” ابھی ہی چھپ کر آیا ہے. دو ہزار پانچ میں پہلا افسانوی مجموعہ "سر کٹے لوگ” چھپا تھا. ادب اور صحافت دونوں ہمارے سماج کا آئینہ ہیں، دونوں کی اپنی اپنی افادیت ہے. ادب باقی رہنے والی چیز ہے جبکہ صحافت ہماری روزانہ کی ضرورت کو پورا کرتی ہے. اس کو آپ اس طرح سمجھیں کہ گزشتہ چالیس سالوں میں میں نے انگنت مضامین لکھے، رپورٹس لکھیں جن میں سے چند ہی ایسی ہوں گی جو مجھے یاد ہوں اور ان میں سے بھی بہت کم میرے پڑھنے والوں کو یاد ہوں گی. مگر جو افسانے میں نے لکھے ہیں وہ سب کے سب مجھے یاد ہیں اور گو کہ وہ سب میرے خیال کی دنیا میں آباد ہوۓ مگر انھیں لکھتے ہوۓ میں نے ان کے کرداروں کو اور ان کے پس منظر کو جیا ہے.
علیزے نجف: آپ نے انگریزی ادب کو کافی غور سے پڑھا ہے اور اردو ادب سے بھی آپ کا رشتہ ہے میرا سوال یہ ہے کہ آپ اردو اور انگریزی ادب کے درمیان سب سے بڑا فرق کیا محسوس کرتے ہیں اور کیا ان کے درمیان کچھ ایسی باتیں ہیں جو یکساں ہیں کیا وجہ ہے کہ اردو ادب کی اب پہلی جیسی حیثیت باقی نہیں رہی اس میں کس طرح کی تبدیلیاں لانے کی ضرورت ہے؟
شاہین نظر : میں ادب کا باضابطہ طالب علم کبھی نہیں رہا، نہ انگریزی کا اور نہ اردو کا۔ ہاں ایک عام قاری کے طور پر یہ کہہ سکتا ہوں کہ انگریزی کو جو آفاقیت حاصل ہے وہ اردو کو نہیں۔ انگریزوں نے پوری دنیا پر حکمرانی کی ہے۔ اس کا فائدہ ان کی زبان، ان کی ثقافت اور ان کے ادب کو پہنچا ہے اور آج بھی پہنچ رہا ہے۔ انٹرنیٹ کے پھیلاؤ نے اسے مزید مستحکم کر دیا ہے۔ اس وقت انگریزی کا ایسا غلبہ ہے کہ فرنچ، اسپینش اور دیگر ترقی یافتہ ممالک کی زبانیں بھی اس کی آنچ محسوس کر رہی ہیں۔ چین جو کہ ایک بڑی طاقت بن کر ابھرا ہے وہاں بھی انگریزی سیکھنے کی ہوڑ ہے تاکہ باہر کی دنیا سے تجارت کرنے میں آسانی ہو۔
جہاں تک اردو کا سوال ہے اس کی زبوں حالی میں بھی انگریزی کو دخل ہے۔ اب ہمارے گھروں میں بچوں کا مکتب ابجد سے نہیں اے بی سی ڈی سے ہوتا ہے اور ان کا داخلہ انگلش میڈیم اسکولوں میں کروایا جاتا ہے۔ میں اس کی مذمت نہیں کر رہا۔ یہ زمانے کاجبر ہے جو ہم سے یہ کروا رہا ہے۔ ہمیں اس بارے میں سوچنا ہوگا کہ کیسے اپنی زبان کو بچایا جائے۔ نئی نسل اردو پڑھے گی تبھی تو اس زبان میں ادب تخلیق کرے گی۔
ایک بڑا مسلہ کتابوں کے مارکیٹ کا ہے جو انگریزی کے مقابلے میں انتہائی محدود ہے۔ اردو میں زیادہ تر شاعری اور افسانے کی کتابیں چھپتی ہیں جو بکتی کم ہیں اور بنٹتی زیادہ ہیں۔ یا دینی کتابیں چھپتی ہیں۔ جب تک اردو کو جدید علوم کی ترسیل کا ذریعہ نہیں بنایا جائے گا اردو باقی نہیں رہ پائے گی۔ افسوس کہ اس کے آثار نظر نہیں آرہے۔
ان سب کے علاوہ ایک مسلہ یہ بھی ہے کہ ہمارے بیچ سے ادیبوں کی وہ نسل ختم ہو گئی جو اعلی تعلیم یافتہ تھی اور جس کی نگاہ عالمی ادب پر تھی۔ اب بھی ایسے لوگ موجود ہیں جنہیں علم کے لحاظ سے اعتبار حاصل ہے مگر ان کی تعداد لگاتار گھٹ رہی ہے۔ ظاہر ہے اس کا اثر ہمارے ادب پر پڑ رہا ہے۔ اس کے باوجود ہمارے یہاں جو ادب تخلیق پا رہا ہے وہ دیگر ہندوستانی زبانوں کے مقابلے میں کافی بہتر ہے۔
علیزے نجف: اس دنیا میں ہر انسان زندگی کے تئیں مختلف نظریات رکھتا ہے اور یہ نظریات اس کی زندگی کے تجربوں اور ماحول کے زیر اثر ہوتے ہیں میرا سوال یہ ہے کہ زندگی کے بارے میں آپ کا کیا نظریہ ہے اور آپ نے اپنی اب تک کی زندگی کو کس اصول کے تحت گذارا ہے؟
شاہین نظر: جو اخلاقی قدریں مجھے وراثت میں ملی ہیں ان کی پاسداری ہی میرا نظریہ ہے۔ کوئی بھی انسان پرفیکٹ نہیں ہوتا۔ مجھ میں بھی کمیاں ہوں گی مگر ہمیشہ یہ کوشش کی ہے کہ اپنے بنیادی اصولوں پر سمجھوتہ نہ کروں اور جانتے بوجھتے غلط لوگوں کا ساتھ نہ دوں۔
انٹرویو نگار:
علیزے نجف
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

