(یہ مضمون ادبی فورم "ہم سُخن”بھیرہ کے ماہانہ اجلاس بتاریخ 11دسمبر2022ء بروز اتوارکوپڑھا گیا)
یہ اجلاس گورنمنٹ ٹیکنیکل انسٹی ٹیوٹ بھیرہ کے میٹنگ ہال میں منعقد ہوا۔
؎ پوچھتے ہیں وہ کہ غالب ؔ کون ہے ؟
کوئی بتلاؤ کہ ہم بتلائیں کیا !
اُردوادب کے معروف شاعراورنثرنگارمرزااسداللہ خاں غالبؔ سے کون واقف نہیں ۔غالب کسی تعارف کے محتاج نہیں ،ادبی ،غیرادبی، سیاسی،سماجی ،علمی ،مذہبی حتی کہ ہرشعبہ زندگی کے لوگ مرزااسداللہ خاں غالب کے نام سے واقف ہیں۔مرزااسداللہ خاں غالب ؔ اُردوکے معروف شعرامیں ہی شامل نہیں بلکہ اگراُردوکے تین بڑے شعراکی فہرست مرتب کی جائے تواس میں بھی مرزا اسداللہ خاں غالب دوسرے نمبرپرنظرآتے ہیں ۔ میراموضوع سوانحِ عمری یاشعرائے اُردوکاموازنہ نہیں اس لیے بلاتاخیراپنے موضوع کی طرف آناچاہوں گا۔میراموضوعِ بحث ہے ۔”شعرِ غالب۔چندامتیازات”۔
مرزااسداللہ خاں غالب ؔ کی زندگی ہی خصائص وامتیازات سے عبارت ہے۔اوریہی زیست کے خصائص وامتیازات اُن کی تخلیقات کاخاصا ہیں ۔نثرہویانظم مرزاکی تخلیقات عام مصنفین وشعراءسے ممتازاورالگ پہچان کی حامل ہیں ۔مرزاآزادخیال اوراناپرست شخصیت کے مالک تھے۔وہ بنے بنائے راستوں پرچلنے کے قائل نہ تھے بلکہ اپنے لیے الگ راستے تلاش کرکے اُن پرچلناپسندکرتے تھے۔لہذایہی روش اُن کی تخلیقات کاخاصاہے۔انھوں نے شاعری اورنثردونوں میں مروجہ طورطریقوں سے بغاوت کرکے اپنے لیے نیاراستہ بنایا۔نثرمیں خطوط اپنی الگ پہچان کی واضح مثال ہیں ۔غالب نے خط سے القاب وآداب کاخاتمہ کیااورسادہ اندازمیں اپنی بات کہنے کااندازنکالا،اُن کے خطوط ،خطوط کی بجائے مکالمے کی شکل اختیارکیے ہوئے ہیں ۔اس بات کااندازہ مرزاکوخودبھی تھااس حوالے سے وہ ایک جگہ لکھتے ہیں ۔ (یہ بھی پڑھیں مرزا غالبؔ کے خطوط کی اہمیت – سید غلام حسنین بلگرامی کے نام – بی بی ثریّا مہنگر )
"میں نے مراسلے کو مکالمہ بنادیاہے۔ہزارکوس سے بزبانِ قلم باتیں کرواورہجرمیں وصال کے مزے لیا کرو۔”
نثرکی طرح کلام ِغالب بھی خصائص وامتیازات سے بھرپورہے۔اُن کا کلام فکری وفنی ہردوصورتوں میں اپنی الگ پہچان اورشناخت کا حامل ہے۔بعض شعراکے ہاں مضبوط فکرتوہے مگرفن نظرنہیں آتا،اوربعض کے ہاں فن بامِ عروج پرنظرآتاہے مگرفکرسطحی سی دکھائی دیتی ہے جس کی عمدہ مثال استادِشہ شیخ محمدابراہیم ذوق ؔکاکلام ہے ۔ذوقؔ بعض اوقات فنی حوالے سے غالب سے بڑے شاعر نظرآنے لگتے ہیں مگرسطحی فکرانھیں غالب کے مقابلے میں آنے نہیں دیتی۔مگرمرزااسداللہ خاں غالب ؔ فکراورفن دونوں حوالوں سے بامِ عروج پرنظرآتے ہیں ۔مرزانے فکری وفنی دونوں حوالوں سے روایت سے بغاوت اورپہلوتہی کامظاہرہ کیاہے۔کیوں کہ غالبؔ پیروی، تقلید اور نقل کےقائل نہیں اس لیے وہ اپنی دنیاآپ پیداکرتے ہیں ۔کیوں کہ انھیں جیناتھامرنانہیں تھا۔اوراسی وجہ سے آج ڈیڑھ سوبرس گزرجانے کے بعدبھی علمی وادبی حلقوں میں غالب زندہ جاویدہیں اورجب تک اُردوزبان وادب رہے گامرزازندہ وجاویدرہیں گے۔اگرروشِ عام پرچلتے توروشِ عام میں ہی بہہ جاتے یابہادئیے جاتے۔مگرمرزاکووبائے عام میں مرنا بھی پسند نہ تھاتوپھرروش ِ عام کیسے اختیارکرتے ؟اس لیےمرزانے روشِ عام سے روگردانی کی اورامرہوئے۔ذیل میں اُن کے چندامتیازات پربات کرتے ہیں جن کی وجہ سے وہ آج بھی باقی شعراء پرغالب ہیں ۔
؎ ہیں اور بھی دنیا میں سخنور بہت اچھے
کہتے ہیں کہ غالب ؔ کاہے اندازِ بیاں اور
مرزااسداللہ خاں غالبؔ کا بنیادی اوراہم امتیازاُن کااندازِ بیاں ہے۔مرزاکااندازِ بیاں اُردوکے کسی اور شاعر کو نصیب نہیں ہوا۔میں سمجھتا ہوں مرزاکایہ امتیازانھیں باقی شعرائے اُردوسے الگ اورممتازبناتاہے۔مرزاکوبات کرنے کاسلیقہ اورڈھنگ قدرت نے ودیعت کر رکھا تھا جیسا کہ وہ خودفرماتے ہیں ۔
؎آتے ہیں غیب سے یہ مضامیں خیال میں
غالبؔ صریرِ خامہ نوائے سروش ہے بات سوچنااوربات کرنادومختلف پہلوہیں۔بات سوچتاتوہرکوئی ہےمگربات کرنے کاہنرہرکسی کونہیں آتااسی طرح شعری خیال تو ہر کسی کے ذہن میں آتے ہیں مگراُن کوشعری قالب میں ڈھال لینے کافن ہرکسی کونہیں دیاگیا۔متشاعربلکہ شاعربھی خیال لیے پھرتے ہیں مگرلفظ نہیں ملتے کہ اُن کوباندھ سکیں ،مگرمرزاکے ساتھ ایسانہیں مرزاکے ذہن میں خیال بعدمیں آتاہےلفظ ہاتھ باندھے پہلے موجودہوتے ہیں کہ مجھے شرف بخشاجائے مگرمرزاجسے بہترگردانتے ہیں اسے ہی جگہ دیتے ہیں ۔بات کرنے کاہنرمرزاسے کوئی سیکھے جیسی بات کرنی ہے اس کے لیے ایسالفظ،ایسامحاورا،ایسی تشبیہ اورایسااستعارابرتنے میں خوب ملکہ رکھتے ہیں۔اُن کے کلام کا مطالعہ کیاجائے تواندازہ ہوتاہے کہ لفظوں کاہنرمرزاخوب جانتے تھے۔اُن کے کلام میں کوئی ایک بھی لفظ موقع مناسبت سے ہٹ کرنہیں ملے گا۔اُن کے کسی شعرمیں کوئی لفظ اضافی یاغیرمناسب بھی نظرنہیں آئے گا۔مرزاکواپنے اندازِ بیاں پرخودبھی نازتھا۔لہذااس چیزکاانھوں نے کھل کراظہاربھی کیا،کیوں کہ مرزاکے دل میں جوہوتاتھاوہ اس کے اظہارکرنے میں گھبراتے نہیں تھے۔اپنے اندازِ بیاں پرنازکرتے ہوئے کہتے ہیں ۔
؎ہیں اور بھی دنیامیں سخنوربہت اچھے
کہتے ہیں کہ غالبؔ کاہے اندازِ بیاں اور
مرزااسداللہ خاں غالبؔ کاایک اختصاص اورامتیازیہ بھی ہے کہ اُن کاکلام ہرشخص،ہرعہداورہرمکتبہ فکرکے دل پراثرکرتاہے،بلکہ میں یوں کہوں توکچھ غلط بھی نہ ہوگاکہ مرزاکاکلام انسان کی نبض کواپنی گرفت میں لے لیتاہے۔کلام ِ غالب انسانی نفسیات کی سائنس ہے۔وہ انسان کی نفسیات کاشاعرہے۔عام شعراکاکلام دماغ سے گزرتاہےاوربس گزرجاتاہےمگرمرزاکاکلام دماغ میں آتاہے توپھرجاتانہیں بلکہ دماغ کے ذریعے دل میں چلاجاتاہے اوروہاں بسیراکرلیتاہے۔جیساپنجابی گیت کے شہنشاہ طالب حسین دردکے بارے میں مشہورتھاکہ جواُن کوسنتاہے وہ کسی اورکانام بھی نہیں سنتااورپھراس کاخون آہستہ آہستہ ختم ہوجاتاہے ۔بالکل یہی صورت کلام غالب کی ہے جوکلام غالب کاعادی ہوجائے اسے اورکوئی جچتاہی نہیں ۔کیوں کہ کلامِ غالب دلوں کی ترجمانی کرتانظرآتاہے اوردلوں کی ترجمانی کرنے والامل جائے توکسی دوسرے کی ضرورت نہیں رہتی۔غالب ؔ صرف ماضی کے ترجمان نہیں بلکہ وہ تو حال اورمستقبل کے بھی ترجمان ہیں ۔اسی لیے مرزا کی تفہیم میں آئے روز اضافہ ہورہا ہے۔کلام ِ غالب سے اس حوالے سے چند شعر ملاحظہ کیجیے۔
؎ ڈھانپاکفن نے داغِ عیوبِ برہنگی
میں،ورنہ ہرلباس میں ننگِ وجود تھا
؎ عشق سے طبیعت نے زیست کامزاپایا
دردکی دوا پائی،درد بے دواپایا
؎یہ لاشِ بے کفن اسدؔ خستہ جاں کی ہے
حقِ مغفرت کرے !عجب آزاد مردتھا
؎کی ،مرے قتل کے بعد،اس نے جفاسے توبہ
ہائے! اس زُودِ پشیماں کاپشیماں ہونا
؎ہوئے مرکے ہم جو رُسوا،ہوئے کیوں نہ غرقِ دریا
نہ کبھی جنازہ اُٹھتا،نہ کہیں مزارہوتا
غالب ؔ کاایک امتیازاُن کااستفہامیہ اندازِ بیاں بھی ہے۔غالب اکثراستفہامیہ اندازاپناتے ہیں ۔جس میں شک،سوال،انہونی اورحیرت واستعجاب کارنگ نظرآتاہے ۔یہ اندازبھی غالب کوباقی شعراسے ممتازاورمنفردکرتاہے۔یہ اندازِ بیاں شعرکاشعراورسوال کاسوال والی بات ہے۔شعربھی ہوجاتاہے اورسوال بھی داغ دیاجاتاہے۔اگرمیں یوں کہوں کہ غالب نے شاعری کو بھی مکالمہ کاروپ دیاہے توبے جا نہ ہوگا۔کہیں مکالمہ ہے توکہیں خودکلامی ۔اس حوالے سے صرف دوشعرملاحظہ کیجیے۔
؎کچھ تو پڑھیے،کہ لوگ کہتے ہیں
"آج غالبؔ غزل سرانہ ہوا”
؎فائدہ کیا،سوچ،آخر تُوبھی داناہے،اسدؔ!
دوستی ناداں کی ہے،جی کازیاں ہوجائے گا
مرزااسداللہ خاں غالب ؔ کاایک اختصاص وامتیازاُن کی مشکل پسندی بھی ہے۔انھوں نے مروجہ طورواطوارسے ہٹ کرراستہ اختیارکیاجس کے لیے موضوعات بھی منفردتھے اورلفاظی بھی سطحی نہیں خاص تھی۔غالب نے مشکل لفظ،تراکیب،محاورے،روزمرہ،تشبیعات ،استعارات اورتلمیحات کوبرتاجس وجہ سے اُن کاکلام مشکل ہوا۔اس وجہ سے اُن کواُن کے عہدمیں تنقیدکابھی سامنارہااورلوگوں نے یہاں تک کہ دیاکہ مرزاکاکلام بے معنی اورمہمل ہے۔جس پرپھرمرزانے جواباََ لکھا۔ (یہ بھی پڑھیں خطوط غالب اور نثار احمد فاروقی – ڈاکٹر ثاقب عمران )
؎نہ ستائش کی تمنا،نہ صلے کی پروا
گرنہیں ہیں مرے اشعارمیں معنی ،نہ سہی
غالب کاکلام سمجھناہرکس وناقص کے بس کی بات نہیں ،مگرجوسمجھ لے پھراسے اورکوئی شاعر،شاعرلگتاہی نہیں۔جب مخالفین ِ غالب تنقیدسے بازنہ آئے اورکہنے لگے کہ مشکل پسندشاعرہے اس کا کہایہ خودسمجھے توسمجھے اورکسی کوسمجھ نہیں آتی توپھر غالب ؔ نے بھی للکارکرکہہ دیا۔
؎آگہی دامِ شنیدن جِس قدر چاہے ،بچھائے
مُدعاعَنقا ہے اپنے عالمِ تقریر کا
مرزااسداللہ خاں غالب کی مشکل پسندی کے حوالے سے ناچیز عمیریاسرشاہین کاایک پنجابی شعرملاحظہ کیجیے گاجواُن کوخراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے کہاگیا۔
؎ غالب نوں پڑھن توپہل تسی کئی وارسوچیندے ہوسو
آغازاے نقش فریادی توں انجام ڈھوڈھیندے ہوسو
ادھے شعرنوں پڑھ کے سو واری عمیرؔ چتھیندے ہوسو
آوندے شعرنہی سمجھ آسان اس دے تفہیم لبھیندے ہوسو
(عمیریاسرشاہین)
غالب کاایک امتیازاُن کی اناپسندی،نرگسیت،اورخودی ہے۔مرزاکسی کوخاطرمیں نہیں لاتے،وہ اپنے سے بڑاشاعرتوکجااپنے جیسا تسلیم کرنے سے بھی گریزاں ہیں ۔ایک طرف تووہ اپنے آپ کو ملامت کرتے نظرآتے ہیں ،مگردوسری طرف عالم یہ ہے کہ میر تقی میرؔ جیسے شاعر کوبھی خاطرمیں نہیں لاتے۔ملامت کے حوالے سے غالب کااندازدیکھیے۔
؎ نہ لڑناصح سے،غالبؔ،کیا ہواگراُس نے شدت کی
ہمارابھی توآخرزورچلتاہے گریباں پر!
اوردوسری طرف شاعری کے حوالے سے انا اورنرگیسیت ملاحظہ کیجیے کہ میرتقی میرؔ جیسے استادشاعرکوبھی خاطرمیں نہیں لارہے ۔شعرملاحظہ کیجیے۔
؎ ریختہ کے تمہیں استادنہیں ہوغالبؔ!
کہتے ہیں اگلے زمانے میں کوئی میرؔبھی تھا
؎گنجینہ معنی کاطلسم اس کوسمجھیے
جولفظ کہ غالب مرے اشعارمیں آوے
مرزااسداللہ خاں غالب ؔ کاایک امتیازمعنی آفرینی،پہلوداری،قولِ محال اورذومعنویت بھی ہے۔اُن کے کلام پرنظرڈالیں توایک ایک شعر،ایک ایک مصرعے ،ایک ایک لفظ بلکہ ایک ایک حرف میں کئی کئی معنی اورپہلوپوشیدہ ہیں۔اُن کے ایک شعرکوایک بارپڑھیں تومعنی کچھ دے گااگرذراغورکریں تومعنی مختلف دے گا۔یہ غالب ہی کاخاصہ ہے کہ پورادیوان ِ غالب اٹھاکردیکھ لیں کوئی شعربھی ایسانہیں ہوگا جو اپنے اندرمعنی کاایک جہاں نہ لیے ہوئے ہو۔یہ کلامِ غالب ایسااعجاز وامتیاز ہے کہ کسی دوسرے بڑے سے بڑے شاعرکے ہاں بھی نظر نہیں آتا۔غالب کی معنویت کے حوالے سے ناچیزکاایک پنجابی شعرملاحظہ کیجیے۔
؎ خط سجن مکالمہ ہوندااے اہ غالب دا فرمان اے
مرونجن اناتے سی نہ کرنا اہ تاں غالب دی پہچان اے
لکھی نثرتے زیست دے مسئلیاں لئی پرشاعری دین ایمان اے
ہرشعراچ وکھرافلسفہ اے پڑھ لئی عمیردیوان اے
(عمیرؔ یاسرشاہین)
مرزااسداللہ خاں غالب کے خصائص وامتیازات میں ایک اہم امتیازمرزاکے حالاتِ زیست بھی ہیں ۔قدرت نے اُن کوجن امتحانات سے گزاراوہ بھی اچھی شاعری کے لیے موزوں اور مناسب تھے۔ہرچیز کے لیے ایک خاص طرح کا ماحول اورخوراک ضروری ہوتی ہے ۔لہذاشاعری کے لیے جوماحول اور خوراک ضرورت تھی خداوندِکریم نے وہ میسرکردی۔لہذاان امتحانات کے بدلے میں غالبؔ کو بہترین شعرکہنے کی قدرت عطاکردی گئی۔جس وجہ سے غالب اپنے عہدمیں بھی غالب رہے،آج بھی غالب ہیں اور مستقبل میں بھی غالب رہیں گے۔
مختصراََ مرزااسداللہ خاں غالبؔ نے عشق حقیقی ،عشق مجازی،تصوف،سیاست،معیشت،مذہب،سماج غرض کہ ہرموضوع کو منفرد اور الگ رنگ سے پیش کیا۔اسی طرح فنی حوالے سے بھی اُن کاکلام اپنی ایک خاص اور الگ پہچان کاحامل ہے۔اتنے مختصروقت میں امتیازاتِ غالب بیان کرنامشکل ہی نہیں ناممکن تھالہذامختصروقت میں مختصراختصاص اورامتیازات آپ کے سامنے پیش کیے گئے ہیں وگرنہ شعرغالب ۔امتیازات سے عبارت ہے۔
؎ہوگاکوئی ایسابھی کہ غالب کو نہ جانے
شاعرتووہ اچھاہے ،پہ بدنام بہت ہے
عمیرؔ یاسرشاہین
پی۔ایچ۔ڈی (اسکالر)
شعبہ اُردو یونی ورسٹی آف سرگودھا،سرگودھا
0303.7090395
umairyasir28@gmail.com
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

