معروف فکشن رائٹر شموئل احمد سے ایک مکالمہ
انٹرویو: کامران غنی صباؔ (19اکتوبر 2015)
٭آپ کی پیدائش کب اور کہاں ہوئی؟
4 مئی بھاگلپور1943
٭ اپنے ابتدائی تعلیمی سلسلہ کے بارے میں کچھ بتائیں۔
سول انجینئرنگ میں آر آئی ٹی جمشید پور سے ڈگری لی۔ ابتدائی تعلیم تسلّی بخش نہیں رہی۔ میں نے اردو بھی با قاعدہ نہیں سیکھی۔
٭افسانہ نگاری کی ابتداء کب سے ہوئی؟ پہلا افسانہ کب اور کہاں شائع ہوا؟
ساتویں جماعت کا طالب علم تھا تو پہلا افسانہ ’’ چچا کا تار ‘‘ صدائے عام اخبار میں شائع ہوا ۔
٭اب تک آپ کے کتنے افسانوی مجموعے اور ناول منظر عام پر آ چکے ہیں؟
۴ افسانوی مجموعے اور ۴ ناول اردو اور ہندی میںشائع ہو چکے۔ ایک افسانوی مجموعہ اور ایک ناول انگریزی میں جسٹ فکشن نامی ادارے نے جرمنی سے شائع کیا ہے ۔پنجابی میں نمائندہ افسانوں کا انتخاب مرگ ترشنا کے عنوان سے منظر عام پر آ چکا ہے۔(یہ تفصیلات 2015 تک کی ہیں۔)
٭کیا یہ درست ہے’’سنگھار دان ‘‘ نے فکشن کی دنیا میں آپ کو ایک نئی شناخت عطا کی؟
یہ بات غلط ہے ۔میری پہچان افسانہ ’’ بگولے ‘‘ سے بنی۔ سنگھاردان نے میری پوزیشن کو مستحکم کیا۔
٭ آپ پر اکثر یہ الزام لگایا جاتا رہا ہے کہ ’’پبلسٹی‘‘ کے لئے آپ اپنے افسانوں میں جنسی چٹخارے کا سہارا لیتے ہیں جبکہ آپ اس الزام کی تردید کرتے رہے ہیں۔آخر ایسے الزامات کی کچھ تو وجہ ہوگی؟
جنس زدہ لوگ ایسا الزام لگاتے ہیں ۔ ان کی جنسی گھٹن کو میں بے نقاب کرتا ہوں۔ یہ لوگ میرے ان افسانوں کا نام نہیں لیتے جن میں جنس کا شائبہ تک نہیں ہے ۔جب کہ ان پر ٹیلی فلمیں بھی بن چکی ہیں ۔
٭اردو فکشن کا مستقبل آپ کی نظر میں؟
تاریک نہیں ہے تو بہت روشن بھی نہیں ہے ۔زبان کو دھاردار بنانے کی ضرورت ہے تبھی اردو افسانہ عصری تقاضے کو پورا کر سکے گا ۔
٭ کیا یہ درست ہے کہ نئی نسل نثری ادب بالخصوص فکشن سے دور ہوتی جا رہی ہے؟
درست ہے ۔چالیس کی عمر تک کے کسی ادیب کا نام بتایئے تو جانیں۔شاعر مل جا ئیں افسانہ نگار نہیں ملے گا ۔
٭ملک میں بڑھتی ہوئی فرقہ پرستی کے خلاف ادیبوں کا ایک بڑا طبقہ سراپا احتجاج بنا ہوا ہے۔ مختلف زبانوں کے کئی بڑے ادیبوں نے ساہتیہ اکادمی جیسے بڑے ایوارڈ تک ٹھکرا دئیے ہیں۔ اس سلسلہ میں آپ کی کیا رائے ہے؟
احتجاج ضروری ہے ۔لیکن اردو ادیب پھسڈّی نظر آتا ہے ۔ اردو کی کچھ نامور ہستیوں نے ایوارڈ واپس نہیں کیے جب کہ غیر اردو ادیبوں نے پہل کی ۔ یہ احتجاج فرقہ پرستی اور جور و ستم کے خلاف ہے، پھر بھی اردو کے نام چین کنارے سے طوفاں کا نظّارہ کر رہے ہیں ۔
٭ علم نجوم پر آپ کی گہری نظر ہے۔’’مصری کی ڈلی‘‘ ، ’’القمبوص کی گردن‘‘ اور دیگر افسانوں میں بھی آپ نے علم نجوم کی اصطلاحات کا خوب استعمال کیا ہے۔ بحیثیت ماہر نجوم زبان و ادب کے سلسلہ میں کوئی پیشن گوئی کرنا چاہیں گے؟
اردو زبان قیامت تک زندہ رہے گی۔
٭قارئین اردو کو کوئی پیغام؟
فاشسزم کے خلاف آواز بلند کیجیے ۔
Kamran Ghani Saba
Assistant Professor
Department of Urdu, Nitishwar College, Muzaffarpur
Honorary Editor Urdu Net Japan
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

