Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
ناول شناسی

اردوکی خواتین نا ول نگار اور تا نیثی ڈسکورس(بیسویں صدی میں)-درخشاں

by adbimiras اگست 18, 2020
by adbimiras اگست 18, 2020 0 comment

تا نیثیت ایک ایسی تحریک یاIdeaologyہے جس کے توسط سے معاشرے کی مظلوم عورتوں کے مسائل و مصا ئب کو سامنے لانے کی کوشش کی جاتی ہے ۔عام طور پرتا نیثیت کے متعلق لوگ غلط فہمی کا شکاررہتے ہیں کیونکہ بعض ناقدین نے نسائیت،نسوانیت، نسائی حسیت اور تا نیثیت کو خلط ملط کر دیاہے جس کی وجہ سے تا نیثیت کی واضح تصویر سا منے نہیں آپاتی۔اس سے پہلے کے میں آگے بڑھوں میں نسائیت ،نسوانیت اور تا نیثیت میں پائے جا نے و الے فرق کو واضح کر تی چلوں،نسائیت دراصل فطرت ہے نسوانیت حسن اور تا نیثیت احتجاج ہے۔ تانیثیت نام ہے اس شعوری بیداری و احتجاج کا ، جہاںمرد اساس معاشرے میں عورت کو محض ساما ن ِتفریح یا افزائشِ  نسل کا وسیلہ سمجھا جاتا رہا ہے ۔ ایسے میں خواتین کے حقوق کے لیے صدا بلند کرنا ہی تانیثیت کا کام ہے۔ پدری سماج میں ہمیشہ سے عورت کمزور و کم تر مخلوق سمجھی جاتی رہی ہے۔اور اس کے ساتھ بھیڑ بکریوں سے بھی بد ترسلوک کیا جاتا رہا ہے ۔ حا لانکہ ہر مذہب نے عورت کو جائزحقوق دیے ہیں۔ مگرتعلیم کی کمی کے باعث یا اپنی حاکمانہ فطرت سے مجبور ہوکر مرد اساس معا شرہ عورتوں پر ظلم و جبر کرنا اپنا پیدائشی حق سمجھتا آیا ہے ۔مگر ایسا کب تک چل سکتاتھا۔ ایک دن ایسا آتا ہے جب پوری دنیا میں اس ظلم و ستم کے خلاف آوازیں بلند ہونے لگیں۔کیونکہ ظلم کاحد سے بڑھنا ہی اس کے خاتمے کو آواز دینا ہے۔چنانچہ تانیثی تحریک کے تحت عورت کی سماجی، معاشرتی،سیاسی،اقتصادی اور تعلیمی حیثیت مرد کے مساوی دینے کے لیے صدائے بلند کی جاتی ہیں۔اس تحریک کا اصل مقصد عورتوں کے جائز حقوق کی بازیافت ہے۔

تانیثیت یا Feminism لاطینی زبان کے لفظFemena سے نکلا ہے۔یہ انگریزی ادب میں مخصوص اصطلاح کے طور پر رائج رہا ہے۔اس کے ابتدائی نقوش مغرب میں دیکھے جا سکتے ہیں۔اٹھارویں صدی میں مغرب کی چند خواتین دانشوروں نے سماج میں عورتوںکی بدحالی کو دیکھتے ہوئے معتبر انداز میں اپنی درخواست چرچ میںپیش کیں۔۱۷۹۲ میں میری وال سٹون کرافٹ کی تصنیفA Vindication of the Rights of Women   منظر عام پر آئی یہ مغربی نقطۂ نظر سے تانیثیت کی پہلی معتبر کتاب سمجھی جا سکتی ہے۔اس میں مرد اور عورت کے مساوی حقوق کی بات درج کی گئی تھی۔

خوا تین کے حقوق کے لیے امریکہ میں۱۸۴۸میں عورتوں کی پہلی باقاعدہ کا نفرنس سنیکافالز((Seneca Falls میں منعقد کی گئی۔جس میں خواتین کا جائیداد میں معقول حصہ،طلاق کے معاملات کی وضا حت،اعلیٰ تعلیم اور حق رائے دیہی(Right to vote)  کی مانگ کی گئی۔اور یہ مانگ ستر سال بعد یعنی۱۹۲۸ میں پوری ہوئی ۔

خواتین کے حقوق کی وہ بازگشت جو بعد میں ایک تحریک کی صورت اختیار کر گئی۔اس کو ٹھوس انداز میں جان سٹوورٹ مل  (John Stuart Mill)نے پیش کیا ۔انھوںنے عورت کے حقوق کے لیے ایک وکیل کی طرح اپنے دلائل پیش کیے۔اور اپنی مدلل باتوں سے خواتین کی ذہانت و فطانت اور دماغی صلاحیتوں کو مردوں سے کسی طور بھی کم ترنہیں بتایا:

"The inequality of rights between men and women has no other source than the law  of might.”

(مردوں اور عوتوں کے درمیان حقوق کی نا برابری کا منبع صرف زورِبازو کا قانون ہے۔)   ۱؎

تر نم ریاض کا کہنا ہے کہ جان مل کے نظریات و افکار آگے چل کر تانثیت کے علمبرداروں سیمون دی بوا(Simone de Beauviour)گر مین گریئر(Germaine Greer)اور جوڈتھ بٹلرJudith Butler))کی تخلیقات کا محرک بنے۔

مغرب میں خواتین کے حقوق کی بحالی کی تحریک کے ساتھ ساتھ خواتین ادبی سطح پر بھی منظر عام پر آئیں۔انیسویں صدی کی تیسری سے چو تھی دہائی میں خواتین قلم کار اکثر و بیشتر مردوں کے قلمی ناموں سے ہی لکھتی رہیں یہ سلسلہ کئی دہائیوں تک چلتا رہا۔بیسویں صدی میں جا کر کہیں ممتاز خواتین اپنے نام سے سامنے آئیں۔ان میں برونیٹس،((Brontesایلزبتھ گاسکیل، (Elizebeth Gaskell) فلورنس نا ئٹنگل، ،ٖ(Florence Nightingalان کے علاوہ چارلوٹ یونگ  (Charlottee Young) ،دیناہ ملوک کریک(Dinah MalokCraik)اور ایلزبتھ لنٹنElizebeth Linton))وغیرہ قابل ذکر ہیں۔

ترنم ریاض نے ایلین شووالٹر Elaine Schwalter)  ) سے متعلق اپنے مضمون میں لکھا ہے کہ ایلین شو والٹرنے اپنی مشہور کتاب A Litrature of Their Own میںتانیثیت کا تفصیلی جائزہ پیش کیا ہے۔

بیسویں صدی کی تیسری دہائی تک مغرب میں تانیثی تحریک نے اپنا وجود مستحکم کر لیا۔اگر ہم مشرق میں تانیثی رجحانات و امکانات کی تلاش کرتے ہیں تو ہمیں اس رجحان کے متعلق علی احمد فاطمی کے اس بیان سے اتفاق کرنا پڑے گا :

’’عام طور پر یہ کہا جاتاہے کہ ہندوستان میں عورتوں کی ترقی کی نہ کوئی صدی ہے اور نہ کوئی باضابطہ تاریخ۔۔ساتھ ہی یہ بھی کہ ہندوستان کی ترقی میں عورت کا رول برائے نام ہے۔‘‘  ۲؎

جہاں تک مشرق میں ہندوستان کی خواتین میں بیداری کی بات کی جائے تو ہمیں اندازہ ہوگا کہ یہاں پر خواتین میں بیداری انگریزوں کی آمد سے شروع ہوتی ہے اس وقت انگریز عورتیں ہندوستانی خواتین کے پاس جاکر ان کے مسائل دیکھتی وسنتی تھیںاور تبلیغ کا کام بھی کرتی تھیں۔ہندوستانی عورتوں کی پچھڑی صورت حال دیکھ کر پہلی بار ۵۴ ۱۸ میں انگریزوں کی طرف سے ہندوستانی عورتوں کی تعلیم و تر بیت کے لیے ایک سرکاری اعلا ن کیا گیا۔ جس میں ایک ایسے اسکول کے قائم کرنے کی بات کی گئی جس میں لڑکے اور لڑکیاں ایک ساتھ تعلیم حاصل کر یںگے ۔ اس اعلان نامے سے ملک و قوم میں بیداری آئی۔اس کے علاوہ اصلاحی تنظیموںآریہ سماج اوربرہمو سماج نے بھی باقاعدہ عورتوں کی تعلیم کا مشن چلایا۔ سرسید احمد خاں پہلے پہل عورتوں کی جدید تعلیم کے خلاف رہے لیکن بعد میں انھوں نے بھی اس کی اہمیت پر زور دیا۔ ہندو ستان کی چند پڑھی لکھی خواتین بھی عورتوں کو تعلیمی رجحان اور ان کے حقوق سے آشنا کر نے غرض سے میدان میں کود پڑیں ان میں مسز بے ۔کے۔گوکھلے،(بنگال)مسز کٹریکٹر،(ممبئی) مسز پرا وتی چندر شیکھر،(میسور)کے نام قابل ذکر ہیں۔عورتوں کی تعلیم و تر بیت کے لیے Widow House  کے نام سے ایک ادارہ بھی قائم کیا گیا۔ان کو ششوں سے خواتین کا ایک بڑا طبقہ تعلیم کی طرف متوجہ ہوا۔

خواتین کے حقوق اور تعلیم و ترقی کے لیے چند مرد ا دیبوںنے بھی مضا مین لکھے ،رسالے نکالے، اسکول و کالج قائم کئے ان میں ممتاز علی، شیخ عبداللہ، شیخ محمد اکرام،سرسیداحمد خاں،کرامت حسین،مولاناآزاد،حسرت موہانی ،راشدلخیری اور امتیاز علی تاج کے نام اہمیت رکھتے ہیں۔ان تمام کاوشوںسے خواتین میں روشن خیالی اور تعلیم سے متعلق دلچسپی پیدا ہو ئی۔جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ۱۸۸۳ میں پہلی ہندوستانی عورت گریجویٹ ہوئی۔ اور۱۸۹۲ میں پہلی بار ہندوستانی عورت ڈاکٹری پڑھنے آکسفورڈ یونیورسٹی بھیجی گئی۔

ہندوستان میںخواتین کی تعلیم کے ساتھ ساتھ سیاسی و شعوری بیداری لانے کا کام اس وقت کے رسائل و جرائد نے انجام دیے۔ ان رسالوں میں’’ تہذیب نسواں ‘‘(لاہور)، ’’خاتون‘‘(علی گڑھ )اور’’عصمت‘‘(دہلی ) وغیرہ شا مل ہیں۔ان رسائل کا مقصدہندوستانی خواتین کو تعلیم اور روشن خیالی سے روشناس کرا نا تھا۔ان میں لکھنے والی خواتین عطیہ فیضی،زہرہ،زاہدہ بیگم،نذر سجادحیدر،بیگم بھوپال اور نواب سلطان وغیرہ کے نام اہمیت رکھتے ہیں۔

اردو ادب میں جب ہم تا نیثی نظریات ورجحانات کی تلاش میں ابتدائی ادیبوں کی طرف نظر کر تے ہیں تو ہمیںمرد ادیبوں میں ڈپٹی نذیراحمد،عبدالحلیم شرر ،راشدالخیری اورمرزا ہادی رسوا وغیرہ کے نام نظر آتے ہیں جنھوں نے اپنے فن پاروں کے ذریعے سماج کے دبے کچلے طبقے کی زندگی کے تلخ حقائق کو پیش کرنے کی کوشش کی۔ ان کے یہاں تانیثیت کا مضبوط و مر بوط رجحان تو  دیکھنے کونہیں ملتا مگراس کے ابتدائی نقوش ضرور دیکھے جا سکتے ہیں۔ تانیثیت کے گہرے نقوش بیسویںصدی میں ابھر کر سا منے آئے۔ با لخصوص اردو فکشن میں اس کی جھلک نمایاں طور پر دیکھی جاسکتی ہے۔ترنم ریاض کے مطابق یہ ’رجحان دو طرح کے تھے۔ایک خالص تا نیثی شعور اور دوسرا تانیثی لب و لہجہ کا ۔ ‘اگر ہم اردو ناولوں میں تا نیثی شعور اور تانیثی لب و لہجہ کا جا ئزہ لیں تو ہمیں اندازہ ہو تا ہے کہ مرد اور خواتین قلم کاروں کی ایک بڑی جماعت یہاں مو جود ہے جنھوںنے ان رجحانات کے تحت عورتوں پر کیے گئے ظلم و ستم کو ا پنے اپنے انداز میں پیش کیا ۔

اردو کی خواتین فکشن نگاروںمیں تانیثیت کی پہلی با زگشت ر شیدجہاں کے یہاں سنی جاسکتی ہے۔یہ’’انگارے‘‘(۱۹۳۲)کے ذریعے اپنے انقلابی لب ولہجے سے منظرعام پرآئیں۔’’انگارے‘‘ ایک ایسامجلہ تھاجس نے اردو فکشن میں ایک انقلابی رویہ پیدا کردیا۔اس کے تخلیق کاروں نے سماج کے دبے کچلے طبقے کے جنسی اور نفسیا تی مسائل سے پر دہ اٹھایااور اس پر تھو پی گئی بے بنیادمذہبی اور اخلاقی پا بندیوںکے خلاف بے با کانہ اظہار خیال کیا۔اردو ناول نگاری بھی ’’انگارے‘‘کے اس انقلابی رویے سے متا ثر ہوئے بغیر نہ رہ سکی۔

بیسویں صدی کی خواتین ناول نگاروں میں تانیثیت کی واضح آواز عصمت چغتائی کی سنائی دیتی ہے ۔ان کی تحریریں تانیثی شعور اور تانیثی لب و لہجہ کا پتہ دیتی ہیں۔ انھوں نے اپنے ناولوں کے ذریعے عورتوں کے جنسی اور نفسیاتی مسائل کو پیش کیا ہے ۔جس کی طرف عام طور پر لوگوںکی توجہ کم ہی جاتی ہے۔ ان ناولوںمیں’’ ضدی‘‘،’’ٹیڑھی لکیر‘‘،’’معصومہ‘‘ ،’’سودائی‘‘ اور’’دل کی دنیا‘‘ وغیرہ شامل ہیں۔

’’ضدی‘‘ عصمت چغتائی کا پہلا ناول ہے اس میں معا شرے کے کچھ ایسے حقائق پیش کیے گئے ہیں جس کی بنا پر ہم اس کو نظر انداز نہیں کر سکتے۔اس میں امیر طبقے کا پورن غریب طبقے کی آشا کے دام الفت میں گرفتار ہو جا تا ہے۔مگر طبقاتی تفریق ان کو ایک نہیں ہونے دیتی۔اور پورن کی شادی اس کی بہن کی نند شانتا سے کر دی جاتی ہے۔مگر پورن اپنی بیوی کو وہ حقوق اور محبت نہیں دیتا جس کی وہ مستحق ہوتی ہے۔اپنے شوہر کی بے التفاتی سے بیزار ہوکرشانتا ایک ایسے روپ میں سامنے آتی ہے جس کے نزدیک زندگی کوئی کھیل تماشہ نہیں ہے جس کو رو دھو اور سسک سسک کر کسی بے وفا کے لیے گزار دیا جائے۔وہ ان تمام بندشوںاور حصا ر سے بغاوت کر تی ہے جو اس کے بہتر مستقبل کی راہ میں حائل ہوتی ہیں۔شانتا ناول میںجدید عورت کی نمائندگی کرتی ہے۔

’’ضدی ‘‘ سے قبل کے ناولوں میں بیوی ایک غلام اور شوہر حاکم ہوا کر تاتھا۔جس کی و جہ سے عورت اپنے اوپر کیے گئے تمام ظلم و ستم کو خاموشی سے سہہ جایا کر تی تھی مگر عصمت نے شانتا جیسے باغی کر دار وضع کر کے عورت کی اس غلامی سے انکار کیا ہے جو مدتوںسے اس کی قسمت بنا دی گئی تھی۔ ناول کا یہ اقتباس ملاحظہ ہو:

’’تو شانتا بھٹک رہی تھی ؟ نہ جانے بھٹکنے کے کیا معنی ہیں۔بعض دفعہ ہم بھٹک کر ٹیڑ ھے راستے سے سیدھے راستے پر آجا تے ہیں لیکن ہمیں احساس نہیں ہوتا۔ دنیا میں سیدھے اور ٹیڑھے راستے میں کچھ یوں ہی سا فرق ہے۔ بعض وقت کیا عام طور پر ٹیڑھے میڑھے کانٹوں دار راستے سورگ میں لے جاتے ہیں اور سیدھی سڑک پر انسان بے لاٹھی کے اندھے کی طرح بہکتا پھرتا ہے اور مزہ یہ ہے کہ اس پر نادم بھی نہیں ہوتا۔نہ جانے لوگ سیدھے راستے کی کیوں کھوج کرتے ہیں۔سیدھے راستے عمو ما بھولے بھالے روشن اور سپاٹ ہوتے ہیں۔ گدھا بھی بنا چھیڑے چل پڑے ۔‘‘ ۳؎

شا نتا کو احساس ہو گیا تھا کے اس کا شو ہر کبھی بھی اس کا نہیں بن سکتا تب اس نے کسی کی پرواہ نہ کر تے ہوئے اپنے لیے علیحدہ راستہ منتخب کر لیا۔شانتا کے سامنے صرف دو ہی راستے تھے یا تووہ شوہر کی رفاقت کے بغیر زندگی گزار دیتی جس میں اس کو زندگی کی نہ توخوشیاںنصیب ہوتی نہ ہی دلی و ذہنی آسودگی میسر ہوتی۔ دوسرا راستہ رسوائی اور بدنامی کا تھا۔مگر اس میں مہیش کی محبت ،دل و دماغ کا سکون اور اس کی خوشیاں شامل تھیں۔ اس لیے شانتا نے دوسرے راستے کو تر جیح دی اور اس قیدو بند سے خود کو آزاد کر دیا جو ازل سے مشرقی عورت کا نصیب رہا ہے۔

عصمت کے ایک ناول’’ دل کی دنیا ‘‘میں بھی ایک وفا شعار عورت قدسیہ کو اپنے شوہر کی بے التفاتی کاشکار ہو نا پڑتا ہے۔مگر قدسیہ بھی اپنے حالات سے سمجھوتا نہیں کر تی بلکہ ان اخلاقی و سماجی قیودکی زنجیر کو تو ڑڈالتی ہے۔ جو اس کے پاؤں کو زخمی کرتی ہیں ۔قدسیہ اس قید وبند سے آزاد ہوکر شبیر کے ساتھ اپنی نئی زندگی کی شروعات کر تی ہیں۔ناول کا یہ اقتباس ملاحظہ فر مائیں:

’’اب وہ راشد لخیری کی’’ صبح غم‘‘اور ’’شام زندگی‘‘ پڑھ کر ہچکی با ندھنے کے بجائے مثنوی ’’زہر عشق‘‘چھپا کر پڑھا کر تیں اور راتوں کو گھنٹوں صحن میں ٹہلا کرتیں ۔ انہوں نے سب سنگار اور آرائش و زیبائش مدت ہوئی ترک کر دی تھی اب وہ پھر سے اس کی جا نب راغب ہو گئیں۔زندگی کی معمولات میں ان کی دلچسپی لو ٹ آئی۔شام کو نہا دھو کردھیمے رنگ کے کر کرے غرارے اور چکن کی قمیص پر چنے ہوئے دو پٹے اوڑھتیں اور خلا میں دیکھ کر مسکرایا کر تیں۔چونکہ قدسیہ نے اب زنجیروںکو توڑدینے کا مصمم ارادہ کر لیا تھا۔اس لیے اس کے اندر کی جدید عورت جاگ اٹھتی ہے۔اب وہ کسی بھی قیمت پر معا شرے کے مروجہ رسوم و قیود کے پھندے میں الجھ کراپنی آزادی اور اپنی خواہشوںو آرزوؤں کا گلا گھو نٹنا نہیں چا ہتی اور نہ ہی مکار،دھوکے باز اور فریبی شو ہر کے انتظار میں مزید سڑنا گلنا چاہتی تھی۔اس لیے اس نے اپنے ذہن اور دل و دماغ کی آواز پر لبیک کہا اور شبیر ماموں کو قبول کر لیا۔‘‘۴؎

عصمت چغتائی اپنے ناولوں میںایسے کر دار پیش کر کے سماج کے ان فر سودہ روایات کے خلاف صدائے بلندکرتی نظرآتی ہیںجس کی پاسداری صرف عورتوں تک ہی محدود سمجھی جاتی ہے۔عصمت نے قدسیہ کے ذریعے اس جدید عورت کو بیدار کر نے کی کو شش کی ہے جو سماج کے سفاک رویے سے خا موش نہیں بیٹھتی۔بلکہ دنیا کو چیلنج کر تی ہے کہ اب مزید ظلم و ستم عورت کی ذات بر داشت نہیں کرے گی۔

عصمت چغتائی کے ناول ’’ٹیڑھی لکیر‘‘ میں بھی شمن ایک احتجاجی کردار کی شکل میں  سامنے آتی ہے۔جو بچپن سے اپنے خاندان کی بے توجہی کا شکار رہی ہے۔مگر وہ اپنے گھروالوں کی تو جہ پا نے کے لیے شروع سے ہی ایسا انقلابی رویہ اختیار کر تی ہے کہ لوگ نہ چاہتے ہوئے اس کی طرف متوجہ ہو جاتے ہیں۔شمن سے متعلق شبنم آرا لکھتی ہیں:

’’شمن اردو ناول کا پہلا نسوانی کر دار ہے جو فکر و دانش کی ایک آزاد کھلی فضا میں سانس لیتی ہے وہ اپنے ذہن سے سوچتی ہے اور آزادانہ طور پراپنے وجود کی تکمیل کر تی ہے۔تا نیثی نقطئہ نظر سے شمن ہمارے سامنے ایک جدید عورت کی علامت بن کر ابھرتی ہے کیو نکہ اس کے اندر روایت سے بغاوت اور اپنی پسند کے مطابق زندگی جینے کا حوصلہ و جذبہ پنہاں ہے۔‘‘  ۵؎

شمن مرد اساس سماج میں بار بار روندی جاتی ہے مگر اس کو کسی طور اپنی شکست منظور نہیں ہوتی۔ہر بار یہ نئے عزم کے ساتھ اٹھ کھڑی ہو تی ہے ۔ حا لانکہ مردوں کے لگا ئے گئے ز خموں سے اس کا وجود ریزہ ریزہ ہو جاتا ہے مگر اس کے باو جودیہ کسی بات کی پرواہ نہ کر تے ہوئے زندگی نئے ڈھنگ سے شروع کر تی ہے۔ ہر حال میں خوش رہتی ہے ۔ خوشی ہو یا غم دل کھول کر ان کا خیرمقدم کر تی ہے۔ زندگی اپنی شرطوں پربھر پور انداز میں گزارتی ہے ہمیشہ وہی کام کرتی ہے جس پر اس کا دل و دماغ راضی ہوتاہے۔

عصمت چغتائی نے شمن کو اس قدر باغی ،بے باک پیش کر کے عورت کی ان صلاحتوں سے متعارف کروایا ہے جس سے ادبی حلقہ نا مانوس تھا۔عصمت  چغتائی کا مقصد معاشرے کو یہ باور کر انا ہے کہ صرف مرد ہی خود مختار نہیں ہو سکتے ۔بلکہ عورتیں بھی مر دوں کے شانہ بہ شانہ چل سکتی ہیں اور اپنی زندگی کے فیصلے خود کر سکتی ہیں۔وہ بھی سماج کا ایک اہم حصہ ہیں۔وہ اپنے پیروں پر کھڑی ہو سکتی ہیں۔اپنے زور بازو پر جی سکتی ہیں اور معاشرے میں اپنا علیحدہ مقام بنا سکتی ہیں۔ ان میں  عقل و فہم ،ہمت و حوصلہ غرض کہ کسی چیز کی کمی نہیں ہوتی ہے۔ آخر کیا وجہ ہے کہ عورت کو سماج سے الگ سمجھاجاتا ہے۔ناول کے مطالعے سے ان تمام تا نیثی پہلو ؤں پر روشنی پڑتی نظر آتی ہے۔

عصمت چغتائی کا ایک تانیثی ناول’’معصومہ‘‘ہے ا س میںایک معصوم وبے بس لڑکی اپنے باپ کی بے توجہی اور عدم موجودگی کی و جہ سے طوائف بن جاتی ہے۔اس کا باپ اپنی بیٹی اور بیوی کو چھوڑ کر اپنی بیٹی کی عمر کی لڑ کی کی ساتھ عشق لڑاتا ہے۔ ایسے میں معصومہ کی ماں اپنے شوہر سے انتقام لینے کے لیے اپنی بیٹی کو طوائف کے پیشے میں اتار دیتی ہے۔پدری معاشرے میں اس سے زیادہ شرمناک اور عبرت انگیز بات کیا ہو گی کہ اس کی بیٹی محفل کی شمع بنا ئی جائے۔ ناول کے مطالعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ عورت جب انتقام کی آگ میں جھلستی ہے تو پھر وہ سب کچھ کر گزرتی ہے۔جس کا مرد اساس سماج توقع بھی نہیں کر سکتا۔پھر چاہے اس آگ میں اس کا اپنا ہی جود کیوں نہ جل کر فنا ہو جائے۔

ناول میں مارکسی تانیثیت کا اثر دیکھا جا سکتا ہے ۔کیو نکہ اس میں سرمایہ دارانہ نظام کے ان پہلوؤں کو اجا گر کیا گیاہے۔جس میںدولت مند طبقہ اپنی دولت اور اثر و رسوخ کے بل بو تے پرغریبوں کا استحصال کر تا ہے۔اور غریب طبقہ اپنی کم ما ئیگی کے ہا تھوں مجبور ہوکر ان کا شکار ہو جاتا ہے۔

عصمت چغتائی کے ناولوں کے تانیثی جا ئزے کے بعد ہمیں اندازہ ہو تا ہے کہ ان میں تانیثی ذہن،تا نیثی شعوراور تا نیثی ادراک بدر جہ اتم موجود ہے۔

خواتین اردو ادب میں تا نیثی رجحان کا سلسلہ عصمت چغتا ئی پر آکر ختم نہیں ہو جا تا بلکہ اردو کی معتبر و ممتاز نا ول نگار قرۃالعین حیدر کے بیشتر نا ولوں میں بھی سماج کے سفاک پہلوؤں پر روشنی پڑتی ہے۔ان کے تا نیثی فکر و نظر کے زاویے دوسرے قلم کاروں سے منفرد ہیں۔انھوں نے خواتین طبقے کے مسائل کو زمان و مکان کے تنا ظر میں دیکھا ہے۔قرۃالعین حیدر اپنے نا ولوں میں عورتوںکے حقوق وآزادی کو لے کرایک آواز تو اٹھاتی ہیں مگر اس آواز میںبڑی شائستگی اور نرمی پائی جاتی ہے۔یہ عورتوں کے حقوق کے لیے لڑتی جھگڑتی نہیں ہیں۔ کیونکہ واویلا مچانا ان کا شیوہ نہیں بلکہ وہ مرد اساس معاشرے کو یہ احساس دلانا چاہتی ہیں کہ عورتیں بھی ایک عدد دل رکھتی ہیں جن میں خواہشات کاپیدا ہو نا فطری بات ہے۔اوران خواہشات کو پایہ تکمیل تک پہنچانا عورت کا انسانی حق ہے۔قرۃلعین حیدر کے زیادہ ترناول مو ضوعات کی سطح پر تانیثی نظریے سے ملتے نظر آتے ہیں۔ ان سے متعلق ابولکلام قاسمی رقطراز ہیں:

’’قرۃالعین حیدر نے عورت کے مقدر،اس کی مجبوری اور اس کے استحصال کو ترجیحی طور پر اپنا مو ضوع بنایا۔اس رویے کو اگر ہم کسی شعری کو شش کا نام نہ بھی دیں تب بھی اس رویے کے نتیجے میں سامنے آنے والے خام مواد کی قدروقیمت Feminist Trend  کے نقطئہ نظر سے متعین کر نے کی کو شش ضرور کر تے ہیں۔‘‘ ۶؎

ابوالکلام قاسمی کے خیال سے کسی حد تک اتفاق کیا جا سکتا ہے کیونکہ قرۃالعین حیدر نے ایک عورت ہونے کی حیثیت سے عورت کی نفسیات کا گہرائی سے مطالعہ کیا ہے۔اور اس کے مطابق اس کی کمزوریوں اور خامیوں کو مد نظر رکھ کر اپنے ناول کا تانا باناتیار کیا ہے۔انھوں نے اپنے ناولوں میں عورتوں کے استحصال اورہجرت کے مسائل کوپیش کر نے کے ساتھ ساتھ ان کی مجروح روح اور ان کی نفسیاتی و جنسی پیچیدگی کو تنہائی و جلا وطنی کے آئینے میں دیکھنے کی کوشش کی ہے۔قرۃالعین حیدر نے عورت کو مختلف زاویے سے دیکھا اور پر کھاہے۔عورت کی وفا شعاری اورقربانی کی داستان ان کے دیگر ناولوں میں دیکھی جا سکتی ہے۔ان کے پہلے ناول ’’میرے بھی صنم خانے ‘‘سے لیکر آخری ناول ’’چاندنی بیگم‘‘ تک میں عورت کے یہ تمام مسائل نظر آتے ہیں۔

قرۃالعین حیدر کے پہلے ہی ناول ’’میرے بھی صنم خانے‘‘ میں تانیثی رجحان کا اندازہ ہوتا ہے۔چونکہ اس کے مر کزی کردار رخشندہ کو اس کی مکمل آزادی و حقوق ملے ہوئے ہیں۔ یہ خود مختار آزاد خیال ہے۔ مگرمعاشرے کی عورتوں کو ا ن کے حقوق نہیں ملے ہوئے اس لیے یہ مذہب اور سماج کی فرسو دہ رسم ورواج ،ذہنی غلامی اور معاشرتی نا ہمواریوں کے خلاف احتجاج کرتی ہے ۔ لوگ اس کی روشن خیالی پر انگلی اٹھاتے اورپھبتیاں کستے ہیں۔مگر یہ کسی کی پرواہ نہیں کرتی۔اور ہمیشہ خواتین کے حقوق و آزادی کی حمایت کر تی ہے۔

آخرشب کے ہم سفر نا ول میں بھی عورت کی اسی روشن خیالی اور خود مختاری کو دیپالی سرکار کے ذریعے دکھایا گیا ہے۔دیپالی سرکار تحریک نسواں کی پیش رو بن کر ناول کے منظر نامے پر آتی ہے۔وہ ناول کے مرد کر داروں کی طرح مصلحت آمیز رویہ نہیں اپناتی بلکہ اپنے اصول و آدرش کے تحت زندگی گزارتی ہے۔ دیپالی سر کار ان جدید عورتوں کی نمائندگی کرتی ہے جومردوں کے شانہ بہ شانہ قدم سے قدم ملا کر چلتی ہیں۔ اس ناول کے تمام خواتین کر دار با ہمت نظر آتے ہیں۔یاسمین مجید،روزی،جہاں آرابیگم اوراوما رائے یہ تمام کردار مشکل حالات میں بھی مصلحت آمیز رویہ نہیں اپناتے ہیں۔ جیسا کہ ناول کے مرد کردار کرتے نظر آتے ہیںجہاں آزادی سے قبل ریحان الدین کٹرکمیونسٹ ہو تا ہے۔اور مختلف تحریکوں کا سر گرم رکن ہوتا ہے اور وہیںحالات بدلنے کے بعد سرمایہ دارانہ نظام کا لیڈر بن بیٹھتا ہے۔

قرۃالعین حیدر کے ان ناولوں کے بر عکس’’آگ کا دریا‘‘میں چمپا کا کردار ہندوستانی عورت کی حرماں نصیبی اس کی بے بسی کوظاہر کر تاہے۔جو ازل سے ابد تک اس کا مقدر رہاہے۔ چمپک سے لیکر چمپا احمد تک وہ مختلف روپ بدلتی ہے۔ مگر کسی بھی روپ سے اس کی قسمت نہیں بدلتی۔ قرۃالعین حیدر’’ آگ کا دریا‘‘میں ان عورتوں کے جذبات کی تر جمانی کرتیں ہیںجو اپنے شوہر اور اولاد کی حفاظت کی خاطردعائیں مانگتی ہیں،ا س کے لیے قربانیاںدیتی ہیں ،مسجدوں و مندروں میں ان کے لیے منتیں مانگنے جاتی ہیں۔کیونکہ ان کو اپنے گھر کے مردوں کی ضرورت  ہوتی ہے۔ ان کے بغیروہ اپنے آپ کو غیر محفوظ اور کمزور سمجھتی ہیں۔اس لیے انھیں ایک سہارے کے طور پر ہمیشہ مردوںکی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔اس موضوع پر’’ اگلے جنم موہے بٹیا نہ کیجو‘‘ ناولٹ کا یہ اقتباس درست معلوم ہوتا ہے:

’’لڑکی پیدا ہوتی ہے تو اس کی ماں روتی ہے کہ جانے کیسا نصیبہ لے کر آئی ہے۔ وداع ہوتی ہے تو ماں پچھاڑیںکھاتی ہے کہ نجانے سسرال میں اس پر کیا بیتے گی کبھی تم نے کسی انگریز یا امریکن یا یوروپین لڑکی کو دیکھا یا سنا ہے کہ اس کے بیاہ پر وہ خود یا اس کے ماں باپ دھاڑیں مار مار کر روتے ہوں پھر ہماری ہندوستانی عورت بیوہ ہوتی ہے تو دراصل پچھاڑیں اس لئے کھاتی ہے کہ اس کے روٹی کپڑے کا سہارا ختم ہوا۔‘‘  ۷؎

مذکورہ اقتباس میں مغرب اور مشرق کی خواتین کا موازنہ پیش کرکے دونوں کے سماجی واقتصادی پہلوؤںکو روشن کیا گیا ہے اور یہ بات ثابت کر نے کی کو شش کی گئی ہے کہ ہندوستان کی عورت روٹی کپڑااور مکان کی فکر میں ہمیشہ اس لیے مبتلا رہتی ہے۔ کیونکہ یہ تمام ضرورتیں مشرقی خواتین کسی مرد سے ہی حاصل کر نا چاہتی ہے جبکہ مغربی عورتیں ان تمام باتوں سے آزاد ہوتی ہیں۔ وہ خودمختار ہوتی ہیں ۔ان کے سماج نے انھیں برابری کے حقوق دے کر مردوں کے شانہ بہ شانہ خوداعتماد ی کے ساتھ کھڑا رہنے کی ہمت و طاقت عطا کی ہے۔ جبکہ ہندوستان میں آزادی کے اتنے سال بعد بھی کچھ بڑے شہروں کو چھوڑ کر خواتین اسی طرح پدری معا شرے میں مردوں کے دست نگیں ہیں۔قرۃالعین حیدر کے خواتین کر دار چو نکہ ذہین اورپڑھے لکھے ہوتے ہیں۔اس لیے وہ سماج کے فر سودہ روایات اور دقیانوسی خیالات سے باہر نکلنا چاہتے ہیں مگر مرد اساس سماج ان کو اپنے حصار میں محبوس رکھتا ہے۔

نانیثی ناول نگاروں میں ایک اہم نام خدیجہ مستور کا بھی ہے ان کے ناول ’’آنگن‘‘  میں زوال پذیر زمیندار گھرانے کی عورتوں کی گھٹن اور بے بسی کی تصویر پیش کی گئی ہے۔جہاں  ماضی کی ترو تازہ اور خو ش کن یا دیں ہیں وہیںحال کی الجھنیں ،پریشا نیاںاور کڑوی حقیقتیں بھی شامل ہیں۔ناول کا مرکزی کر دار عا لیہ ہے۔جو ایک کم ہمت اور ڈر پوک کر دار ہے۔عالیہ اپنے چچا زادبھائی جمیل سے محبت کر نے کے باوجود کبھی اعتراف محبت نہیں کرتی اور جائز و نا جائز باتوں پراپنے والدین سے کبھی اختلاف نہیں کر تی پاکستان بنے کے بعد اپنی مر ضی کے خلاف پاکستان چلی جاتی ہے۔وہاں جا نے کے بعد تھوڑی خود اعتمادی پیدا ہوتی ہے۔ مگر آخیر تک وہ ایک حساس اور کم ہمت لڑکی ہی رہتی ہے ۔عالیہ کے کردار میں ہمیں کبھی کبھی قرۃالعین حیدر کے  ناول ’’میرے بھی صنم خانے ‘‘کی رخشندہ اور ’’آگ کا دریا‘‘ کی چمپا احمد کی ہلکی سی جھلک دیکھنے کو ملتی ہے۔

’’آنگن ‘‘ناول میں تانیثی پہلوؤں کا ادراک چھمی نامی کردار سے ہوتا ہے۔یہ عالیہ کے چھوٹے چچا کی بیٹی ہے۔اس کی ماں بچپن میں انتقال کر جاتی ہے جس کی وجہ سے اس کی پرورش بڑے چچا کے گھر ہوتی ہے۔یہ جمیل سے محبت کرتی ہے اور اس کے لیے ہر طرح کی قربانی دینے کے لیے تیار رہتی ہے۔ مگر جمیل کوعا لیہ کی طرف ملتفت دیکھ کر کہتی ہے:

’’بھئی جو ہم سے محبت کرے گا ہم اس سے محبت کریں گے یہ تو بدلہ ہے اس ہاتھ دے اس ہاتھ لے‘‘   ۸؎

وہ جمیل سے ما یوس ہوکر منظور کی طرف متوجہ ہوتی ہے۔مگر اس کے اس رویے سے یہ  محسوس ہوتا ہے کہ وہ جمیل سے نفسیاتی انتقام لے رہی ہے۔مگر منظور کے محاذِجنگ پر جانے کے بعد خا موشی سے کہیں اور شادی کر لیتی ہے۔اس سے ایسا محسوس ہو تاہے جیسے محبت میں نا کامی کے بعد اس کی باغی طبیعت کہیںسو گئی ہے۔مگر جس وقت اس کے سسرال والے پاکستان جانے کی بات کر تے ہیں اس وقت وہی چھمی جو پا کستان بنے کی سب سے زیا دہ خواہش مند تھی پاکستان جانے کی سخت مخالف ہو جاتی ہے اور اپنے شوہر سے طلاق کا مطالبہ کر بیٹھتی ہے۔عالیہ کو پاکستان اپنے خط میں لکھتی ہے:

’’بجیا اب آپ کو یہ بھی بتا دوں کہ میں اسی لیے پا کستان نہیں گئی تھی۔ وہ ظالم مجھے اتنی دور لے جا رہے تھے جہاں سے پلٹ کر میں جمیل کو نہ دیکھ سکتی۔وہ ظالم لوگ مجھ سے سب چھینے لے رہے تھے۔‘‘  ۹؎

چھمی کا کر د ار باغیانہ طور پر ہمیں ٹیڑھی لکیر کی شمن کی یاد دلاتا ہے۔کیونکہ والدین کی محبت کو دونوں تر سی ہوتی ہیں۔دونوں ہی محبت و توجہ کی متلاشی ہوتی ہے۔یہ تشنگی ان میں انقلابی رویہ پیدا کر دیتا ہے۔چھمی اپنی ذہانت اور عقل مندی کے سبب کسی بڑی نفسیاتی الجھن کا شکار نہیں ہوتی۔ بلکہ وہ تمام مشکلات کے باوجود جینے کی کو ئی ہموار راہ نکال ہی لیتی ہے۔

جمیلہ ہا شمی کے ’’ناول تلاش بہاراں‘‘ میں بھی تانیثیت کی جھلک دیکھی جا سکتی ہے۔اس میںہندوستانی سماج میں عورت کا استحصال اور اس کی مظلو میت کو پیش کیا گیا ہے۔اس کا مر کزی کردار کنول کماری ٹھاکر ہے ۔جو عورتوں کی بھلائی ان کے حقوق کی حفا ظت اور ان کی ذہنی صورت حال کو بدلنا چاہتی ہے ۔کنول کماری پورے استحصالی نظام کو بدلنے کا خواب دیکھتی ہے جس کے لیے ایک کا لج قائم کر تی ہے اور نئی نسل کی تر بیت کا انتظام بھی کر تی ہے ۔کنول کماری کے ذریعے جدید عورت کا ایک معتبر روپ سامنے آتا ہے۔یہ مر د اساس معاشرے کے استحصالی نظام کو     بے نقاب کر نے کی کوشش میں لگی رہتی ہے۔اس کے ذریعے جمیلہ ہاشمی نے معاشرے کو یہ احساس دلانے کی کو شش کی ہے کہ کو ئی عورت کمزور یا کم تر نہیں پیدا ہوتی بلکہ سماج اسے کم تر بنا دیتا ہے۔اگر عورت کے جا ئز حقوق دیے جائیں اور ان کی آزادی نہ چھینی جائے تو ایک صحت مند معاشرے کی تشکیل عورت کی ذات سے ممکن ہو سکتی ہے۔

جیلانی بانو کے ناولوں میں بھی تانیثیت کی لے سنی جا سکتی ہے۔ــ’’ایوانغزل‘‘اسکاعمدہترجمانہے۔اسمیںجاگیردارانہنظاممیںحویلیوں،کلبوںاورتھیٹروںمیںعورتوںپرجومظالمڈھائےجاتےتھے اس کی جیتی جاگتی تصویر پیش کی گئی ہے۔چاند اور غزل اس کے مرکزی کردار ہیںجو استحصال کا شکار ہوکر خاموشی سے قبروں میں جا سوتے ہیں۔مگرقیصر اورکرانتی ایسے کردار ہیں جو انقلابی رویہ رکھتے ہیںیہ دونوں چاند اور غزل کی طرح جبر و استحصال کو خاموشی سے برداشت نہیں کر تیںبلکہ اس کے خلاف آواز اٹھاتی ہیں ۔قیصر کو بغاوت کے ا لزام میں پھانسی کی سزا دی جاتی ہے۔کرانتی قیصر سے چارقدم آگے بڑھ کر احتجاج کرتی ہے ۔اورمعا شرے سے اپنے حقوق کا مطالبہ کرتی ہے ۔لنگڑی پھو پھی کا کردار بھی شروع میںخاصا مظلوم نظر آتاہے اس کی پوری عمر جاگیر دارانہ ما حول و معا شرے میں گزرجاتی ہے۔ یہ ظلم و ستم برداشت کر تے کرتے ایک دن اس نظام کے خلاف بغاوت پر آمادہ ہو جاتی ہے ۔آخیر میں تنگ آکر شیخو نام کے ایک مسخرے سے پچاس سال کی عمر میں شادی کر لیتی ہے۔اور اس چہار دیواری کے جبر و استحصال سے نجات حاصل کر لیتی ہے۔

ان خواتین ناول نگاروں کے علاوہ رضیہ فصیح احمدکے ناول ’’انتظار مو سم گل‘‘ میں بھی تانیثی رجحان کا اثردیکھا جا سکتاہے۔ اس ناول میںبنیادی طور پر فیوڈل نظام کی غلاظتوں اور بے را ہ روی کے پس منظر میں ایک جذباتی لڑکی کی داستان بیان کی گئی ہے ۔تارہ جو اس ناول کا مر کزی کردار ہے وہ ایک زمیندار سے عشق کر کے شادی کر بیٹھتی ہے۔شادی کے بعد اس پر یہ اشکار ہو تا ہے کہ اس کا شوہر عورت کو محض سامان تفریح اور افزائش نسل کا ذریعہ سمجھتا ہے۔تارہ اپنے شوہر کی حقیقت جان کراس سے مصلحت نہیں کرتی بلکہ اس گھٹن زدہ ما حول سے ہمیشہ کے لیے دور چلی جاتی ہے۔اور خود مختار ہوکر اپنی زندگی گزارنے کا فیصلہ کر لیتی ہے ۔رضیہ فصیح احمد نے تارہ کر دار پیش کر کے سماج کو یہ بتانے کی کو شش کی ہے کہ عورت کوئی بے جان شئے نہیں ہے جس پر مرد حکمرانی کرے اور وہ بے زبان لونڈی کی طرح سب خا مو شی سے سہتی جائے بلکہ عورت میں اتنی ہمت و حوصلہ ہے کہ وہ تن تنہا اپنی زندگی گزار سکتی ہے۔

ان کے علا وہ صغرا مہدی نے بھی تانیثی فن کارکی حیثیت سے اپنی شناخت قا ئم کی ہے۔ان کے کل پانچ ناول شائع ہوچکے ہیں جن میں تا نیثی اثرات دیکھے جا سکتے ہیں۔ان کے   ناولوں میںمرد کر داروں کے بجائے خواتین کر دار زیادہ جاندار نظر آتے ہیں۔ خواتین کر دار جدید عورت کی تر جمانی کر تے نظرآتے ہیںجو ذہین، تعلیم یا فتہ اورروشن خیال ہو نے کے ساتھ ساتھ زندہ دل بھی ہوتے ہیں۔ ان کا ایک ناول’’راگ بھو پالی‘‘  اس معنی میں اہمیت کا حامل ہے کہ اس کامرکزی کردار رابعہ جو اپنی مر ضی سے شادی کر تی ہے مگر شو ہر سے نا اتفاقی ہونے کے بعد اس کا گھر چھوڑ آتی ہے۔ پھرزندگی بھر اس کی طرف نہیں پلٹتی بلکہ مسائل و مصائب سے دو چار ہونے کے باوجود اس کے پاس نہیں جاتی اور نہ ہی ان مسائل سے ٹوٹتی بکھرتی ہے۔بلکہ خوداعتمادی سے اپنی زندگی گزار تی ہے۔عمر کے آخیری حصے میں اس کا شو ہر عادل دوسری شادی کر نے کے باوجود اس سے مفا ہمت کر نا چاہتا ہے۔مگر رابعہ ایک عورت ہو نے کے ناطے دوسری عورت کا گھر بربادنہیں کر نا چاہتی اس لیے ہمیشہ کے لیے اپنے آپ کو اپنے شوہر سے دور کرلیتی ہے۔

ان تانیثی خواتین ناول نگاروں کے علاوہ بہت سی خواتین فن کاروںکے ناولوں میں بھی تانیثی رجحانات و نظریات کی جھلک دیکھی جا سکتی ہے ان میں بانوقدسیہ،آمنہ ابولحسن اور واجدہ تبسم وغیرہ کے ناول قا بلِ توجہ ہیں۔

اردو میں خواتین ناول نگاروں کے تانیثی جا ئزے کے بعد ہمیں اندازہ ہو تا ہے کہ تانیثی  رجحان کے اثر سے اردو نا ول بھی محفوظ نہ رہ سکا بلکہ بیسویں صدی کی آخری دہائی اور اس کے بعد تک اس تحریک کے زیر اثر مختلف خواتین نا ول نگاروں نے اپنے قلم کے جادو بکھیرے ۔ مذکورہ صدی کی آخری دہائی میں ترنم ریاض نے اپنے ناول ’’مورتی‘‘ اور ثروت خاں ’’اندھیرا پگ‘‘ میں تانیثی نظریات و تصورات کی روشنی بکھیرتی نظر آتی ہیں۔بیسویں صدی کے خاتمے تک تانیثی تحریک کے خاتمے کا بھی اعلان کر دیا گیا۔مگر اس کے باوجود تانیثی پہلوؤں کو اردو ناولوں میں بھرپور انداز میں پیش کیا جا تا رہا ہے۔ کیو نکہ کوئی بھی دور گزرنے کے بعد خواتین پر ظلم و ستم کم ہونے کے بجائے ان میں مزید اضافہ ہی ہوتا جا رہا ہے۔ہاں اس میںاتنا فرق ضرور آتا ہے کہ اس ظلم و جبر کی نو عیت بدلتی رہتی ہے۔اور اس کے خلاف احتجاج کر نا ایک فن کار کا انسانی فرض ہے۔

 

 

 

حوالہ جا ت

۱۔       اردو کی خواتین فکشن نگار،مر تب مشتاق صدف، سا ہتیہ اکادمی،۲۰۱۴،ص۱۷۰

۲۔      اردو ادب کو خواتین کی دین،پیشکش،اردو اکادمی،دہلی۶،۱۹۹۴،ص۱۴۶

۳۔      ضدی،عصمت چغتائی،کتابی دنیا،دہلی۶،  ۲۰۰۲،ص۷۶۔۷۷

۴۔      دل کی دنیا،عصمت چغتائی،کوہ نورپر نٹنگ پریس،دہلی،ص۷۵

۵۔      تانیثیت اور ادب ،مرتب ،انور پاشا،عر شیہ پبلی کیشنز،دہلی۶، ۲۰۱۴ص،۳۷۴

۶۔      نکات فکشن،محبوب حسن،ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس،دہلی،۲۰۱۳،ص،۴۶

۷۔      چار نا ولٹ، اگلے جنم موہے بٹیا نہ کیجو،قرۃالعین حیدر،ایجو کیشنل بک ہاؤس

علی گڑھ،ص۳۷۰

۸۔         آنگن، خدیجہ مستور،ایجو کیشنل بک ہاؤس،علی گڑھ،۱۹۸۳،ص۱۲۵

۹۔         ایضاً،ص۲۴۲

بیسویں صدیتانیثیتانیثیتخواتین ناول نگاردرخشاں
0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
نورالحسنین کی افسانہ نگاری: تہذیبی زوال کی داستان- محمد علیم اسماعیل
اگلی پوسٹ
اردو رباعی میں حمد- ڈاکٹر امیر حمزہ 

یہ بھی پڑھیں

ناول ’آنکھ جو سوچتی ہے‘ ایک مبسوط جائزہ...

نومبر 17, 2024

ناول ”مراۃ العُروس “ایک مطالعہ – عمیرؔ یاسرشاہین

جولائی 25, 2024

ڈاکٹر عثمان غنی رعٓد کے ناول "چراغ ساز”...

جون 2, 2024

گرگِ شب : پیش منظر کی کہی سے...

اپریل 7, 2024

حنا جمشید کے ناول ’’ہری یوپیا‘‘  کا تاریخی...

مارچ 12, 2024

طاہرہ اقبال کے ناول ” ہڑپا “ کا...

جنوری 28, 2024

انواسی :انیسویں صدی کے آخری نصف کی کہانی...

جنوری 21, 2024

مرزا اطہر بیگ کے ناولوں کا تعارفی مطالعہ...

دسمبر 10, 2023

اردو ناول: فنی ابعاد و جزئیات – امتیاز...

دسمبر 4, 2023

نئی صدی کے ناولوں میں فکری جہتیں –...

اکتوبر 16, 2023

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (118)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں