Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تنقید اور عملی تنقید – سید احتشام حسین

      مئی 20, 2026

      تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تنقید اور عملی تنقید – سید احتشام حسین

      مئی 20, 2026

      تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
نصابی موادنظم فہمی

1857 اور حالی کی نظمیں- پروفیسر کوثر مظہری

by adbimiras اگست 22, 2020
by adbimiras اگست 22, 2020 2 comments

مولانا الطاف حسین حالی کی گلوبند والی تصویر دیکھ کر کوئی بھی شخص یہ نہیں سوچ سکتا کہ اُن کے اندر بھی کسی طرح کی سیاسی اور سماجی اُتھل پتھل کے نقوش ہوں گے۔ لیکن چوں کہ وہ ایک اعلیٰ ذہن اور بردبار شخصیت کے حامل انسان تھے اس لیے بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے، ورنہ ان کی تحریروں میں اپنے زمانے کے تمام تر انقلابات کی تصویریں جھلملاتی نظر آتی ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ ان کا طرزِ اظہار نثر اور شاعری دونوں میں بہت ہی بالیدہ، سدھا ہوا اور شور و غوغا سے پاک ہوتا ہے۔

حالی ۱۸۳۷ء یعنی آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کی تخت نشینی کے سال ہی پیدا ہوئے۔ یہی وہ زمانہ تھا جب انقلاب ۵۷ء کے لیے زمین ہموار ہورہی تھی۔ ہندستان کی پوری تہذیبی اور اقتصادی بساط الٹ رہی تھی۔ انگریز قوم کا دستِ تطاول روز افزوں دراز تر ہوتا جارہا تھا۔ تجارت اور تعلیم کے میدان میں فرنگی نقوش مستحکم ہوتے جارہے تھے۔ فرنگیوں کی سیاسی چالوں نے ہندستان کو پوری طرح شکست دے دی تھی۔ ان کو میرجعفر اور میرصادق جیسے غدارانِ وطن بھی مل گئے تھے۔ اگر اس لوٹ کھسوٹ اور سیاسی چال بازی سے پیدا ہونے والی صورتِ حال پر غور کیا جائے تو حالی کے ذہن پر اس کا گہرا اثرپڑا تھا، یہ الگ بات ہے کہ ان کا طرزِ اظہار نہایت ہی شائستہ اور نپا تلا ہوتا تھا:

سب سے آخر کو لے گئی بازی

ایک شائستہ قوم مغرب کی

چوں کہ انگریز قوم خود کو بہت ہی مہذب اور Cultured کہتی تھی اس لیے یہاں حالی نے بھی ’’شائستہ قوم‘‘ کا استعمال طنز کے طور پر کیا ہے۔ انھیں بے حد تکلیف پہنچتی ہے تو طرزِ اظہار میں قدرے شدت پیدا ہوجاتی ہے لیکن اس کے باوجود چیخ پکار والی صورت پیدا نہیں ہوتی۔

پہلی جنگ آزادی کے وقت حالی کی عمر بیس برس تھی۔ اس وقت ان کا شعور پختگی کی طرف مائل تھا۔ لہٰذا انھوں نے اس جنگ آزادی کے بعد پیدا ہونے والے اثرات پر کچھ اس طرح نکتہ چینی کی:

نہیں خالی ضرر سے وحشیوں کی لوٹ بھی لیکن

حذر اُس لوٹ سے جو لوٹ ہے علمی و اخلاقی

نہ گل چھوڑے، نہ برگ و بار چھوڑے تونے گلشن میں

یہ گل چینی ہے یا لُٹّس ہے گلچیں یا ہے قزّاقی

ظاہر ہے تجارت اور نئی تعلیم و ترقی کی آڑ میں ہندستانی تہذیب اور معاشیات کو کافی نقصان پہنچا، جس کی طرف حالی نے اشارہ کیا۔ حالاں کہ جب حالی سن شعور کو پہنچے تو سرسید کا تصور تعلیم و ترقی باضابطہ ایک Ideologyکی شکل اختیار کرچکا تھا۔ یہ الگ بات ہے کہ سرسید جس طرح انگریزی تعلیم و تربیت اور تہذیبی ترقی کے قائل تھے اُس سے مسلمانوں کا ایک بڑا طبقہ ان سے ناراض بھی تھا لیکن حالی اس طبقے کے برخلاف سرسید کی جماعت میں شامل ہوکر یہ کہنے لگ گئے تھے  ع

چلو تم ادھر کو ہوا ہو جدھر کی

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حالی نے ایسا کیوں کیا؟ اپنی بات اور اس سوال کی توثیق میں پروفیسر گوپی چند نارنگ کا یہ اقتباس پیش کرنا چاہتا ہوں:

’’حالی نے مغلیہ سلطنت کی بساط اپنی آنکھوں سے اجڑتے دیکھی تھی۔ انگریزی حکومت کو انھوں نے ناگزیر حقیقت سمجھ کر قبول کرلیا۔ ان کا خیال تھا کہ مسلمان، اخلاقی اور روحانی زوال کی آخری حد تک پہنچ چکے ہیں۔ ان میں حکومت کی صلاحیت باقی نہیں رہی… چنانچہ سرسید کی طرح حالی نے بھی انگریز دوستی کو اصول قرار دیا…‘‘  ۱۵؎

کبھی کبھی یہ خیال آتا ہے کہ آخر حالی کے اندر وہ کون سی کمزوری تھی جس کے سبب وہ سرسید کی فکر اور ان کے نظریے سے مفاہمت کرنے پر مجبور تھے؟ ان کی اپنی علمی کاوش و استعداد ایسی تھی کہ جس سے سرسید خود بھی متاثر تھے۔ اسی زمانے میں شبلی کی شخصیت بھی سامنے آتی ہے جو عین ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی کے زمانے میں پیدا ہوئے۔ عمر میں بہت بڑا فرق ہے لیکن انھوں نے بہت جلد سرسید کے نظریے سے خود کو الگ کرلیا۔ اس سے اس بات کا اندازہ بھی ہوجاتا ہے کہ شبلی کے اندر حالی کی بہ نسبت اجتہادی عناصر و عوامل زیادہ توانا تھے۔ حالاں کہ کسی طرح بھی حالی کے اخلاص اور سچے جذبات سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ وہ انگریز قوم کی نئی روشنی سے ہندستانیوں اور بالخصوص مسلمانوں کو فیض اٹھانے کی تلقین بھی کیا کرتے تھے لیکن کہیں نہ کہیں ان کے اندر یہ آرزو بھی پوشیدہ تھی کہ ہندستان کسی بھی طرح ایک آزاد ملک بن جائے۔ یہ الگ بات ہے کہ وہ بہت کھل کر یا بہ بانگ دہل حصول آزادی کے نعرے بلند نہیں کرسکتے تھے۔ (یہ بھی پڑھیں کوثر مظہری کی نظمیہ شاعری میں رات کا تصور – ڈاکٹر نوشاد منظر )

حالی کی آرزوئے آزادی معتدل اور سبک ہے۔ تندی اور تیزی ان کی تحریروں میں نہیں ملتی۔ حالی کا ایک اقتباس پروفیسر نارنگ نے اپنی کتاب میں دیا ہے، یہاں پیش کیا جاتا ہے۔ نارنگ صاحب نے لکھا ہے کہ حالی کا یہ بیان سرسید کی وفات کے بعد کا ہے۔ حالی سودیشی تحریک کی تعریف میں لکھتے ہیں:

’’اس تحریک کا اثر ملک پر ضرور ہوگا۔ لوگوں کو اس سرنگ کا راستہ معلوم ہوگیا ہے جس راستے سے ملک کی دولت غیر ملکوں میں کھنچی چلی جاتی ہے۔ مگر اس راستے کا بند کرنا ہنسی کھیل نہیں ہے اور اس کے لیے جلدی کرنا نیچر سے مقابلہ کرنا ہے… اگر ایک صدی میں بھی ہندستان غیر ملکوں کی مصنوعات کا مقابلہ کرنے کے قابل ہوجائے تو سمجھ لو کہ اس کو بہت جلد کامیابی ہوئی۔‘‘  ۱۶؎

۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی کے بعد ہندستانیوں اور بالخصوص مسلمانوں میں جو ایک طرح کا اضمحلال اور قنوطی رویہ سرایت کرگیا تھا، حالی کی شاعری میں اس کا عکس دیکھا جاسکتا ہے۔ میں نے اس مضمون میں ان کی صرف نظمیہ شاعری کو پیش نظر رکھا ہے۔ تہذیبی اور معاشرتی اقدار کے یکسر بکھر جانے سے قومی زندگی میں یک لخت انحطاط نظر آنے لگا تھا۔ حالی ایک حسّاس دل کے مالک تھے، انھوں نے اپنے احساس اور فکر سے اس تہذیبی تناظر کو ہم آمیز کرنے کی   کوشش کی۔

حالی نے ۱۸۸۷ء میں ایک نظم ’’ننگ خدمت‘‘ کہی تھی جو ۲۹ بند پر مشتمل ہے۔ یہ ایک اصلاحی نوعیت کی نظم ہے۔ دراصل اس میں محنت سے جی چرانے والوں اور تقدیر کا رونا رونے والوں کو خطاب کیا گیا ہے۔ یہ نظم معاشرے میں پھیلی کاہلی جیسی بیماری، زعم بے جا اور اپنے حسب نسب پر اترانے والوں پر ایک طرح کا طنز بھی کرتی ہے۔ اس میں عہد گزشتہ کی عظمت کو حالی نے پیش کرنے کے بعد ظلم و جبر کی آندھی اور گردش ایّام کا ذکر بھی کیا ہے۔ یہ دو بند ملاحظہ کیجیے جن سے اندازہ ہوجائے گا کہ پہلی جنگ آزادی کے بعد کی تصویر حالی نے کس طرح پیش کی ہے:

ناگہاں جور و تغلّب کا اک اٹھا طوفاں

جس کے صدمے سے ہوئی زیر و زبر نظم جہاں

اقویا ہاتھ ضعیفوں پہ لگے کرنے رواں

بکریوں کو نہ رہی بھیڑیوں سے جائے اماں

تیز دنداں ہوئے جنگل میں غزالوں پہ پلنگ

مچھلیوں پر لگے منہ کھولنے دریا میں نہنگ

اب حَسب اور نسب کچھ نہیں نازش کا محل

گردشِ دہر نے دی صورتِ احوال بدل

خاندانوں کی نجیبوں کے گئی ٹھیک نکل

گرگئے جو مئے پندار کے تھے متوالے

بڑھ گئے پیشہ و مزدوری و محنت والے

غور کیجیے کہ اوپر کے دونوں بندوں میں جور و تغلّب کا طوفان اٹھنا اور گردش دہر کے سبب صورت حال کا بدل جانا کس طرف اشارہ کرتا ہے؟ حالی نے اپنی اس نظم میں ایک ایسا تہذیبی تناظر خلق کیا ہے جو پہلی جنگ آزادی کے بعد کا ہے۔

حالی یہ سمجھتے تھے کہ اپنے اسلاف کے کارناموں پر فخر کرنا ہی اہم نہیں ہے بلکہ اس دنیا میں اگر جینا ہے تو آپس کے گلے شکوے مٹا کر غفلت کی نیند سے بیدار ہونا ضروری ہے، ورنہ ہماری نشانیاں تک مٹ جائیں گی۔ ان کی ایک نظم جشن قومی (ترکیب بند) میں یہی تاثر نظر آتا ہے۔ یہ اشعار دیکھیے:

اتراتے ہیں سَلف پر اور آپ نا خلف ہیں

رستہ کدھر ہے ان کا اور جارہے کدھر ہیں

دنیا میں گر ہے رہنا تو آپ کو سنبھالو

ورنہ بگڑنے کے یاں آثار سب عیاں ہیں

جو اپنے ضعف کا کچھ کرتیںنہیں تدارک

قومیں وہ چند روزہ دنیا میں میہماں ہیں

(جشن قومی: ۱۸۸۲ء)

اس ہولناکی اور دہشت خیزی سے ہندستان کا نقشہ بگڑ گیا تھا۔ انگریز حکومت کی بربریت اور سفّاکی کو حالی نے پیش تو کیا لیکن اس کے لیے اپنے لہجے کو نہایت ہی دھیما اور شیریں ہی رکھا۔ دہلی کے اجڑنے کا ذکر غالب کے خطوط میں بھی ملتا ہے اور حالی کی شاعری میں بھی۔ اشعار ملاحظہ کیجیے جو دہلیٔ مرحوم کا مرثیہ پیش کرتے ہیں: (یہ بھی پڑھیں جوش کی فکری کشمکش – پروفیسر کوثر مظہری )

تذکرہ دہلیٔ مرحوم کا اے دوست نہ چھیڑ

نہ سنا جائے گا ہم سے یہ فسانہ ہرگز

لے کے داغ آئے گا سینے پہ بہت اے سیاح

دیکھ اس شہر کے کھنڈروں پہ نہ جانا ہرگز

چپّے چپّے پہ ہیں یاں گوہر یکتا تہہِ خاک

دفن ہوگا نہ کہیں اتنا خزانہ ہرگز

مٹ گئے تیرے مٹانے کے نشاں بھی اب تو

اے فلک، اس سے زیادہ نہ مٹانا ہرگز

جن کو زخموں کے حوادث سے اچھوتا سمجھیں

نظر آتا نہیں اک ایسا گھرانا ہرگز

انگریزوں نے جو قتل و غارت گری کی، اس کے لیے خود ہم نے زمین ہموار کی۔ حالی کا رشتہ پہلی جنگ آزادی سے اسی طرح قائم ہوتا ہے کہ انھوں نے قومی تنزل کے اسباب پر اور غارت گری کے بعد پیدا ہونے والے حالات پر سنجیدگی اور منطقی طور پر روشنی ڈالی۔ یہاں اس بات کی وضاحت بھی ضروری ہے کہ حالی کے نزدیک قوم کا تصور مسلمانوں کے لیے ہے اور  ہم وطن کا تصور دوسرے تمام مذاہب کے ماننے والوں کے لیے۔ قومی زوال اور انحطاط سے وہ مسلم قوم کا زوال مراد لیتے تھے۔ حالی کے سیاسی شعور کا مطالعہ کرتے ہوئے جذبی نے ایک نظم پیش کی ہے اور پھر تبصرہ کیا ہے۔ پہلے نظم کا یہ حصہ دیکھیے:

یہ ہے مانی ہوئی جمہور کی رائے

اسی پر ہے جہاں کا اتفاق اب

کہ نیشن وہ جماعت ہے کم ازکم

زباں جس کی ہو ایک اور نسل و مذہب

مگر وسعت اُسے بعضوں نے دی ہے

نہیں جو رائے میں اپنی مذبذب

وہ نیشن کہتے ہیں اُس بھیڑ کو بھی

کہ جس میں وحدتیں مفقود ہوں سب

زباں اس کی نہ ہو مفہوم اس کو

ہوں آدم تک جُدا سب کے جد و اب

جو واحد لاشریک اس کا خدا ہو

تو لاکھوں اس کے ہوں معبود اور رب

جذبی لکھتے ہیں:

’’حالی گویا قوم کے لیے زبان، نسل اور مذہب کی قید ضروری سمجھتے ہیں۔ دوسرا نظریہ جس میں یہ قید نہیں ان کے نزدیک مضحکہ خیز ہے کیوں کہ اس کی رو سے خدائے واحد و لاشریک کے ماننے والوں اور لاکھوں خداؤں کو پوجنے والے ایک دوسرے کے ہم قوم بن جاتے ہیں۔ آخری شعری میں مذہب پر جو زور ہے اس سے بہ ظاہر یہی مترشح ہوتا ہے کہ قوم کے لفظ کا اطلاق صرف ایک ہی مذہب کے ماننے والوں پر ہوسکتا ہے۔‘‘ ۱۷؎

حالی ایک مشہور نظم حب وطن، جس میں ایک دکھے ہوئے دل کا احساس مرتعش نظر آتا ہے۔ ماضی کی عظمت، وطن عزیز کی تعریفیں اور پھر درد بھرے لہجے میں ملتجیانہ انتباہ۔

اب نظم ’’حب وطن‘‘ کے یہ حصے دیکھئے:

بیٹھے بے فکر کیا ہو ہم وطنو!

اٹھّو اہل وطن کے دوست بنو!

مرد ہو تو کسی کے کام آؤ

ورنہ کھاؤ، پیو، چلے جاؤ

تم اگر چاہتے ہو ملک کی خیر

نہ کسی ہم وطن کو سمجھو غیر

ملک ہیں اتفاق سے آزاد

شہر ہیں اتفاق سے آباد

——

ظاہر ہے کہ اگر حالی کا ’’تصور قوم‘‘ تمام ہندوستانیوں کے لیے ہوتا تو وہ اپنی اس نظم میں ’’ہم وطنو!‘‘ کہہ کر مخاطب قطعی نہیں کرتے۔ آگے چل کر دانشوروں کو نشانہ بناتے ہیں:

فاضلوں کو ہے فاضلوں سے عناد

پنڈتوں میں پڑے ہوئے ہیں فساد

سب کمالات اور ہنر ان کے

قبر میں ان کے ساتھ جائیں گے

نظم اس طرح اختتام پذیر ہوتی ہے:

کوئی دن میں وہ دور آئے گا

بے ہنر بھیک تک نہ پائے گا

گر نہیں سنتے قول حالی کا

پھر نہ کہنا کہ کوئی کہتا تھا

یہ ہے وہ سیاسی، اخلاقی، ذہنی اور تہذیبی انحطاط جس کو حالی نے اپنے لیے حرزِ جاں بنا لیا تھا۔ حالی نئے شعور اور نئے سماج کی تشکیل کے وقت بھی مذہبی اور اصلاحی امور کو اپنے پیش نظر رکھے ہوئے تھے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ علی سردار جعفری نے ان کی عقل پسندی اور حقیقت نگاری کی داد تو دی لیکن سیاسی طور پر رجعت پرست بھی کہا (ترقی پسند ادب، ص: ۱۰۴) لیکن اس           رجعت پرست حالی کے بارے میں رشید احمد صدیقی کا موقف دیکھیے:

’’تہذیب اور تاریخ کا پورا سواد اعظم حالی نے اپنی آنکھوں کے سامنے مسمار ہوتے دیکھا تھا اور اس کھنڈر پر حالی بے پایاں انسانی ہمدردی، درمندی اور غیرت قومی کے ساتھ کھڑے اپنے ساتھیوں کی غفلت اور خفیف الحرکاتی پر آنسو بہاتے ہیں۔‘‘   ۱۸؎

اگر بغور دیکھا جائے تو نظم جدید کی اساس کے پیچھے بھی اسی انحطاط سے نبرد آزمائی کی نفسیات پوشیدہ تھی۔ سماجی، علمی، تہذیبی اور ادبی امور پر ۱۸۵۷ء کے بعد اس وقت کا ہر حساّس آدمی غور و فکر کررہا تھا۔ محمد حسین آزاد نے سب سے پہلے انگریزی شاعری سے متاثر ہوکر ۱۸۶۷ء میں انجمن پنجاب کے ایک جلسے میں لکچر دیا اور ۱۸۷۴ء میں نظموں پر مشتمل ایک نشست ہوئی جس میں حالی نے بھی شرکت فرمائی۔ انھوں نے بھی انگریزی طرزِ شاعری سے بالواسطہ اثر قبول کیا تھا لیکن بڑی سادگی اور صفائی سے مجموعہ نظم حالی کے دیباچے میں انھوں نے یہ اعتراف بھی کرلیا: (یہ بھی پڑھیں فراق کی تین نظمیں— تشریح و تعبیر – پروفیسر کوثر مظہری )

’’مجھ کو مغربی شاعری کے اصول سے نہ اُس وقت کچھ آگاہی تھی اور نہ اب ہے… ان صاحبوں کے سامنے جو مغربی شاعری کی ماہیت سے واقف ہیں، اعتراف کرتا ہوں کہ طرزِ جدید کا حق ادا کرنا میری طاقت سے باہر تھا۔ البتہ میں نے اردو زبان میں نئی طرز کی ایک ادھوری اور ناپائیدار بنیاد ڈالی ہے۔ اس پر عمارت چننی اور اس کو ایک قصر رفیع الشان بنانا ہماری آئندہ ہونہار اور مبارک نسلوں کا کام ہے جن سے امید ہے کہ اس بنیاد کو ناتمام نہ چھوڑیں گے۔‘‘   ۱۹؎

بظاہر یہ اقتباس حالی کی نئی طرز شاعری سے رغبت کو پیش کرتا ہے لیکن اس کے پیچھے کہیں نہ کہیں اس جنگ آزادی کے بعد پیدا ہونے والے حالات اور سرسید کے تصورات بھی بطور محرک کے کام کررہے تھے۔ دراصل آزاد، حالی، شبلی، نذیر احمد یہ سب کے سب سرسید اور ان کے رفقاء کے ساتھ ساتھ یا آس پاس رہ کر اسی اضمحلال اور انحطاط کو ختم کرنے کی کوشش میں مصروف تھے۔ حالی کبھی برطانوی حکومت کی برکتوں کا ذکر کرتے ہیں اور کبھی اس کی ناانصافیوں سے متنفر نظر آتے ہیں۔ دونوں طرح کی مثالیں حالی کی نظموں میں موجود ہیں لیکن معتد بہ حصہ انگریزی حکومت اور انگریزی و جدید تعلیمات کی تعریف و توصیف میں ہے۔ آل احمد سرور کے بقول:

’’حالی نے زمانے کی رفتار پر چلنا سکھایا تھا۔ زندگی کی تلخیوں اور حقیقتوں کا احساس دلایا تھا۔ شاعری کو انسانیت کا علم بردار بنانے کی کوشش کی تھی۔‘‘۲۰؎

شاعری کو انسانیت کا علم بردار بنانے کا جو عمل ہے وہ بہت آسان نہیں۔ بدلتے ہوئے ماحول میں ایک طرح کا جو انتشار پیدا ہوگیا تھا اس کو حالی اور اُن کے معاصرین ختم کرنا چاہتے تھے۔ عبادت بریلوی لکھتے ہیں:

’’حالی نے یہ نظمیں ایک بدلتے ہوئے ماحول کے تقاضے کو پورا کرنے کے لیے ایک مخصوص اصلاحی تحریک کے زیر اثر لکھی ہیں۔‘‘       ۲۱؎

حالی کی نظموں میں ’’حب وطن‘‘، ’’نشاط امید‘‘ کا مطالعہ کریں یا ’’مدوجزر اسلام‘‘ کا، ہمیں یہ احساس ہوگا کہ سرزمین ہند پر جو زوال آمادہ قوم ہچکیاں لے رہی تھی، اُس کے سامنے ایک امید کی کرن سی پھوٹ رہی ہے۔ کہیں کہیں منظر ہولناک بھی معلوم ہوتا ہے لیکن حالی کا مقصد خوف زدہ کرنا نہیں بلکہ وہ ہمدردانہ جذبے کے ساتھ قوم کو بیدار کرنا چاہتے ہیں۔ ’’حب وطن‘‘ سے یہ اشعار دیکھیے جن میں ایک طرح کی سیاسی بے چینی نظر آتی ہے۔ حالی کا سیاسی شعور کس قدر بالیدہ ہے اور ان کے اندر قوم اور اپنے وطن سے محبت کا جذبہ کتنا مستحکم ہے، ملاحظہ کیجیے:

اے وطن اے مرے بہشت بریں

کیا ہوئے تیرے آسمان و زمیں

رات اور دن کا وہ سماں نہ رہا

وہ زمیں اور وہ آسماں نہ رہا

اس کے بعد حالی غیروں کی ٹھوکریں کھانے کے اسباب بیان کرتے ہیں:

ہند میں اتفاق ہوتا اگر

کھاتے غیروں کی ٹھوکریں کیوں کر

قوم جب اتفاق کھوبیٹھی

اپنی پونجی سے ہاتھ دھو بیٹھی

’’مدوجزراسلام‘‘ سرسید کی سوچ اور فرمائش کا نتیجہ تھی۔ ۱۸۵۷ء کے بعد مسلمانوں کی زبوں حالی اور بھی بڑھ گئی تھی۔ اس قوم کا ستارہ جیسے بجھ سا گیا تھا۔ ناامیدی، پشیمانی اور          بے سروسامانی نے آگھیرا تھا۔ حالی نے ماضی کی عظمت اور حال کی شکست خوردگی کو پیش کیا اور پھر اخیر میں امید کی کرن دکھائی۔ اس نظم نے واقعتاً مسلمانوں کے اکھڑتے سانوں کے زیر و بم کو درست کیا اور جہانِ تیرہ و تار میں جگنو کی سی چمک نظر آئی۔ امید نے اپنا چہرہ دکھایا:

گھٹا سر پہ ادبار کی چھا رہی ہے

فلاکت سماں اپنا دکھلا رہی ہے

نحوست پس و پیش منڈلا رہی ہے

چپ و راست سے یہ صدا آرہی ہے

کہ کل کون تھے آج کیا ہوگئے تم

ابھی جاگتے تھے ابھی سوگئے تم

جہاز ایک گرداب میں پھنس رہا ہے

پڑا جس سے جوکھوں میں چھوٹا بڑا ہے

نکلنے کا رستہ نہ بچنے کی جا ہے

کوئی ان میں سوتا کوئی جاگتا ہے

جو سوتے ہیں وہ مست خواب گراں ہیں

جو بیدار ہیں اُن پہ خنداں زناں ہیں

اور اب امید کی ایک جھلک:

بس اے نااُمیدی نہ یوں دل بجھا تُو

جھلک اے امید اپنی آخر دکھا تُو

ذرا ناامیدوں کی ڈھارس بندھا تو

فسردہ دلوں کے دل آکر بڑھا تُو

ترے دم سے مردوں میں جانیں پڑی ہیں

جلی کھیتیاں تونے سرسبز کی ہیں

میں یہاں ’’مسدس‘‘ کی تعریف و توصیف کرکے یا اس پر کچھ زیادہ لب کشائی کرکے آپ کا وقت ضائع کرنا نہیں چاہتا، البتہ دو چھوٹے چھوٹے اقتباسات پیش کرنا چاہتا ہوں:

۱- جس کے (مسدس) اشعار ہر شخص کی زبان پر ہیں اور ہر قومی مجلس میں پڑھا جاتا تھا۔‘‘   ۲۲؎

۲-  مسدس نے قوم کی بیداری کا پیغام اس حلقے تک پہنچایا جہاں علی گڑھ کالج یا کانفرنس کی رسائی نہ تھی۔ حالی کے آنسو خالص آبِ حیات کے چھینٹے تھے۔  ۲۳؎

۱۸۵۷ء کا انقلاب ہندستانیوں کے لیے ایک ایسا موڑ تھا جہاں سے آگے بڑھنے کے لیے ہمت درکار تھی۔ اس انقلاب کے بعد قومی روح پر افسردگی کے بادل چھاگئے تھے۔ لہٰذا زعمائے قوم اور اکابرین شعر و ادب اپنی اپنی طرح اس مردہ قوم میں ازسر نو روح پھونکنے کی کوشش کررہے تھے۔ حالی بھی اس انقلاب کے After effect کے نوحہ خواں بن گئے تھے۔ سرسید اس عہد کے ایک روشن خیال نوحہ گر تھے جن کے سامنے قوم کے مستقبل کا ایک کامیاب خاکہ تھا، جس میں رنگ بھرنے کی انھوں نے پوری کوشش کی۔ اس کام میں ان کے رفقا نے ان کا بھرپور ساتھ دیا۔ اسی جماعت میں حالی اور شبلی بھی تھے۔ شکست خوردہ قوم میں جوش اور ولولہ بھرنے کے لیے اصلاح پسندی اور حقیقت نگاری اور زنگ آلود ذہنوں کو صیقل کرنے کے لیے مختلف تحریکیں شروع ہوگئیں۔ ۱۸۵۷ء سے پہلے سیاسی نوعیت کی نظمیں کم ہی نظر آتی ہیں۔  اس پہلی جنگ آزادی کے بعد حالات کچھ ایسے بن گئے کہ اردو شاعری میں ایک بڑی تبدیلی کی ضرورت محسوس ہوئی۔ آزاد اور حالی کی نظم جدید کی تحریک بھی اسی قعر مذلت اور اضمحلال کے دلدل سے نکلنے کی ایک کوشش تھی۔ محمودالرحمن نے بہت صحیح لکھا ہے:

’’۱۸۵۷ء کے ناکام انقلاب اور بیسویں صدی کی سیاسی تحریک کے درمیان کی یہ عبوری شاعری ہمارے موضوع سے خارج نہیں کی جاسکتی۔ اس نے ملک و ملت کی عظمت کو اجاگر کرکے سیاسی شعور کا ڈول ڈالا ہے اور آزادی کے جذبے کو فروغ دیا ہے۔‘‘  ۲۴؎

حالی سرسید کی علی گڑھ تحریک میں گاہے گاہے روح پھونکتے رہے جس کا مقصد مسلمانوں کو تعلیم کے میدان میں آگے لانا تھا۔ حالی نے مسلم ایجوکیشنل کانفرنس کے کئی اجلاسوں میں اپنی نظمیں اہتمام سے سنائیں۔ مسلمانوں کی تعلیم، قوم کا متوسط طبقہ، جشن قومی، تحفۃ الاخوان، فلسفۂ  ترقی جیسی نظمیں حالی کے افکار و تصورات پر دال ہیں۔ ان نظموں کا اگر بغور جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوگا کہ سرسید کے تصورات سے حالی کی پوری ذہنی ہم آہنگی تھی۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے بارے میں نظم کا یہ ٹکڑا ملاحظہ کیجیے اور حالی کی دوررسی کی داد دیجیے:

یہ دارالعلم سدّراہِ آسیبِ زماں ہوگا

اسی دارالشّفا میں بختِ پیر اپنا جواں ہوگا

یہ بیت العلم روز افزوں ترقی کا ہے سرچشمہ

اسی چشمے سے دیکھوگے تو اک دریا رواں ہوگا

یقیں ہے ٹہنیاں پھیلیں گی طوبیٰ سے سوا اس کی

ہمارے واسطے دنیا میں یہ باغ جناں ہوگا

(مسلمانوں کی تعلیم، محمڈن ایجوکیشنل کانگریس کے چوتھے اجلاس میں ۱۸۸۹ء میںپڑھی گئی)

پہلی جنگ آزادی کے بعد والے پُرآشوب دور میں سرسید، آزاد، حالی، شبلی، نذیر احمد وغیرہ جیسے اکابرین کے سبب ہی ہندستان میں تہذیبی اور مذہبی نشاۃ الثانیہ کی داغ بیل پڑی۔ اس انقلاب کے بعد ذہنی و فکری تموج نے جینے کا سلیقہ سکھا دیا۔    شرفا پر جب برا وقت آن پڑا اور اس سے بھی بڑھ کر جب پوری قوم اور مذہبی اقدار پر حملے ہوئے تو اجتماعی تشخص (Collective Identity) بھی مجروح ہوا۔ لہٰذا ہر محاذ پر اصلاح اور بیداری کے نغمے سنائے جانے لگے۔ اسلامی ثقافت اور ماضی کے سرچشموں کی طرف مراجعت میں عافیت سمجھی گئی۔ حالی کو اپنی عظمت رفتہ سے ایک ایسا تناظر تشکیل دینا پڑا جو انحطاط پذیر قومی چہرے کے لیے آئینے کا کام کرسکے۔ ایسا اس لیے بھی ضروری تھا کہ اس سے اپنے مستقبل کی فکر دامن گیر ہوگی۔ کانٹ ویل اسمتھ نے یہ صحیح لکھا ہے کہ:

’’انھوں نے مسلمانوں سے ان کی اپنی شاندار تاریخ کا واسطہ دینے میں اسلام کے ماضی کی فخریہ تعمیرِ نو کا خاص طور پر ذکر کیا ہے۔ یہ امر نہایت اہم ہے کیونکہ وہ پورے دورِ آئندہ میں مذہبی ترقی کے لیے بنیاد کا کام کرتا ہے۔‘‘    ۲۵؎

ایک انگریز مورّخ کو اس کا احساس تھا کہ ۱۸۵۷ء کے بعد حالی نے جو ’’مسدس‘‘ یا اس جیسی دوسری نظمیں کہیں ان کا مقصد دور آئندہ میں مذہبی ترقی کے لیے بنیاد فراہم کرنا تھا۔ حالاں کہ حالی بھی روایتی مذہبی رویوں سے قدرے بیزار تھے۔ وہ مذہبی معاملات میں کچھ حد تک Liberalبھی تھے۔ جذبی نے تجزیہ کرتے ہوئے لکھا ہے:

’’سرسید نے مذہب کو مغرب کے صنعتی دور سے ہم آہنگ کرنے کے لیے مغرب کی عقلیت اور سائنس کی روشنی میں اسلام کو پیش کیا….. اس سلسلے میں انھوں نے صرف قرآن کو مذہب کا اصل سرچشمہ قرار دیا اور اس کی وہ تفسیر پیش کی جو مغربی اقدار کے مطابق تھی….. سرسید کی تفسیر القرآن میں بعض جگہ نمایاں لغزشیں نظر آئیں پھر بھی حالی نے سرسید کی مذہبی خدمات میں اسے ایک نہایت جلیل القدر خدمت سے تعبیر کیا……‘‘  ۲۶؎

حالی نے ۱۸۵۷ء کے بعد کے تہذیبی، فکری، سیاسی، مذہبی، علمی اور اصلاحی شعور کو کریدا۔ اپنی قوم کے ماتم میں حالی کا کیا حال تھا اس کا اندازہ ان کے ایک مرثیہ کے اس شعر سے    ہوجاتا ہے:

سینہ کوبی میں رہے جب تک کہ دم میں دم رہا

ہم رہے اور قوم کے اقبال کا ماتم رہا

(ماخوذ از مرثیہ حکیم محمود خاں مرحوم دہلوی)

حالی کی نظموں کو اور اُن کے موضوعات کو سامنے رکھتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ ان کے فکری کینوس پر مسلم معاشرے کی زبوں حالی اور وطنی زندگی کی افراتفری کے نقوش نظر آتے ہیں۔ اخیر میں اپنے تجزیے اور اپنے ان خیالات کی توثیق میں ڈاکٹر سلام سندیلوی کا یہ موقف پیش کرنا چاہتا ہوں:

’’درحقیقت اردو شعر و سخن کی نشأۃ ثانیہ اور حیات نو، انھیں کی مرہون منت ہے… اسی لیے حالی کو قدیم شاعری کا مصلح، جدید غزل اور نیچرل شاعری کا مجدد، قومی اور وطنی شاعری کا امام، نورجائیت اور ترقی پسند تحریک کا علمبردار اور حکیمانہ نظم کا موجد تسلیم کیا گیا۔‘‘    ۲۷؎

(سمینار، غالب انسٹی ٹیوٹ، نئی دہلی ۳،۴؍نومبر ۲۰۰۷ء)

 

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

1857 اور حالیالطاف حسین حالیسرسیدکوثر مظہری
2 comments
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
مرحوم کی یاد میں-پطرس بخاری
اگلی پوسٹ
اردو غزل اور ہندوستانی ذہن و تہذیب: گوپی چند نارنگ- پروفیسر کوثر مظہری

یہ بھی پڑھیں

آزادی کے بعدکی نظمیہ شاعری کا اسلوب –...

نومبر 19, 2024

جدید نظم : حالی سے میراجی تک (مقدمہ)...

ستمبر 29, 2024

الطاف حسین حالؔی کی "مولود شریف "پر ایک...

اگست 27, 2024

نظم کیا ہے؟ – شمس الرحمن فاروقی

جولائی 23, 2024

ساحر کی نظمیں: سماجی اور تہذیبی تناظر –...

جولائی 9, 2024

فیض کا جمالیاتی احساس اور معنیاتی نظام –...

جون 2, 2024

طویل نظم سن ساٹھ کے بعد – پروفیسر...

جون 2, 2024

نظم ’’ابو لہب کی شادی ‘‘ایک تجزیاتی مطالعہ...

فروری 11, 2024

ساحر لدھیانوی کی منتخب نظموں میں امن کا...

جنوری 28, 2024

اخترالایمان کی نظموں میں رومانی عناصر – نہاں

اکتوبر 30, 2023

2 comments

Safdar Imam Quadri جولائی 20, 2021 - 6:02 صبح

حوالہ جات کہاں چلے گئے۔

Reply
Asasa tahzeeb اکتوبر 19, 2023 - 3:20 صبح

Masha Allah … Bht Mustafeed huye

Reply

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (120)
  • تخلیقی ادب (596)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (20)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,048)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (537)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (219)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (406)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (217)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (25)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں