ایک دن میں رکشہ سے آفس جا رہا تھا تو دفعتاً یہ احساس ہوا کہ یہ رکشہ والا جان پہچان کا ہے۔’تمہارا نام کیا ہے؟ میں نے پوچھا۔ محمد کمال۔ والد کا نام’جاوید احمد‘
جاوید، راجیش کا دوست۔
جی ہاں
میں تمہارے والد کے جنازے میں تھا۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے۔ تم رکشہ کیوں چلانے لگے؟ اور تم نے پڑھائی کیوں نہیں کی؟
’کبھی کبھی حالات ایسے ہوتے ہیں کہ زندگی ایسے موڑ پر لا کر کھڑا کر دیتی ہے صاحب ، ورنہ کس کو شوق ہے کہ رکشہ کھینچے اور دن بھر لوگوں کے ذلالت بھرے طعنے سنتا رہے۔ ویسے رکشہ چلانا کوئی برا پیشہ نہیں ۔ لاکھوں لوگ چلاتے ہیں۔ ہم محنت سے کام کرتے ہیں اور اپنے بال بچوں کا پیٹ بھرتے ہیں۔ ایمانداری سے اور محنت سے رکشہ چلانے آفسوں میں بے ایمانی کی دولت بٹورنے سے تو بہتر ہے نا بھائی۔ لوگ اس قدر بے حس ہو چکے ہیں کہ دوسروں کی جان لے کر عالی شان کوٹھیاں بنواتے ہیں ۔ اسپتالوں کے ڈاکٹر یوروپ چھٹیاں متانے جاتے ہیں اور علاج کے نام پر غریب مزدور لوگوں کے زندگی بھر کی کمائی ڈکار جاتے ہیں۔ اللہ نے مجھے کم ز کم اس طرح کی لعنت سے بچا کر تو رکھا ہے ۔ ‘
میرے ذہن میں میرے روم پارٹنر راجیش کی فلسفیانہ باتیں اور یادیں دوڑ گئیں
’زندگی ایک سمندر کی طرح ہوتی ہے ، کون سی موج کب کہاں سے اٹھے ، خطرناک طوفان کی شکل اختیار کر لے، کوئی نہیں جانتا۔ اسی طرح اس بات کا اندازہ لگانا بھی مشکل ہے کہ کب کون سا دندناتا طوفان پر سکون فضا میں تبدیل ہو جائے ۔ انسانی زندگی میں رونما ہونے والے حادثات تو کبھی کبھی اتنے دردناک ہوتے ہیں کہ وہ تمام دنیاکے انسانوں کے چہروں سے ہمیشہ کے لیے مسکراہٹ نوچ کر پھینک دیں۔ مگر پھر بھی لوگ مسکراتے ہیں۔ صرف مسکراتے ہی نہیں بلکہ قہقہے لگاتے ہیں۔ صرف بے حسی ہے اور کچھ بھی نہین‘ اتنا کہہ کر راجیش خاموش اور ملول ہو گیا۔
’تجھے کیا پریشانی ہے بھائی، تو تو ایسی بات کر رہا ہے جیسے ساری دنیا کا درد تیرے جگر میں ہے؟‘
’ہاں ہے، میرے جگر میں ہے‘ میں نے دیکھا کہ یہ کہتے ہوئے اس کاچہرہ سرخ ہو گیا تھا۔ اس کی آنکھیں ڈبڈبا گئی تھیں۔ اس نے اپنی بات جاری رکھی۔’میرا دوست ہے جاوید ، اس کا کیا قصور ہے کہ آج وہ اسپتال میں پڑا اپنی موت کا انتظار کر رہا ہے۔ کیا قصور ہے اس کا تو بتا؟
اس نے غلطی صرف اتنی کی کہ اپنی زندگی بھر کی کمائی اپنے علاج پر خرچ کرنے کے بجائے اپنے بچوں کی پڑھائی پر صرف کر دی اور اپنی بیماری کو اپنے گھر والوں سے چھپا کر رکھا۔ تاکہ اس کے بچے پڑھ لکھ کر وہ مقام حاصل کر سکیں جو اس کا خواب تھا۔ ‘ میں بغور اس کی باتیں اسی طرح سن رہا تھا جس طرح میری نانی بچپن میں مجھے پریوں کی کہانی سنایا کرتی تھیں، اور میں ٹک سنتا رہتا۔آخر کار اس کے بچوں کو اس کی بیماری کے بارے میں پتہ چل ہی گیا۔ اور اپنے اسکول کی فیس بھرنے کے بجائے اس کے بیٹے نے اس کو اسپتال میں داخل کروا دیا۔ ڈاکٹر نے بتایا اب بہت دیر ہو چکی ہے۔ اب کچھ نہیں ہو سکتا۔ اب تمہیں بتاؤ اس کا تو سب کچھ بکھر گیا ۔ اس کا خواب، اس کے بیٹے کی تعلیم ، اس کی زندگی اور اس کا مستقبل۔
’ایسا ہوتا ہے۔ تو اس میں تو کیوں پریشان ہو رہا ہے؟‘
میں اس لیے پریشان ہوں کہ جاوید کا بیٹا کل ہی میرے پاس آیا تھا۔ اس نے کہا کہ اس کی دسویں کا امتحان سر پر ہے۔ اس کو کوچنگ کے پیسے دینے ہیں ۔ وہ چاہتا ہے کہ میں اس کی مدد کروں۔
’تو کر دے نا تو اس کی مدد ۔پریشانی کیا ہے۔
پریشانی یہ ہے کہ میں اس کی مدد کرنا تو چاہتا ہوں مگر اس کوچنگ والے کی نہیں جو اس سے پیسے اینٹھنے والا ہے۔ پڑھائی لکھائی کو تو تجارت بنا کر رکھ دیا ہے سالوں نے۔ بھگوان بھلا کرے ہمارے استاد کریم صاحب کا جنہوں نے ہمیں اپنے بچوں کی طرح کان پکڑ کر پڑھایا لکھایا اور آج میں جو کچھ بھی ہوں ان ہی کی تو کرپا ہے سب۔ بھگوان ان کی آتما کو شانتی دے۔ ایک آج کے گرو ہوتے ہیں۔ پہلے فیس بھرو، پھر کلاس کرو۔ سمجھ میں آیا تو ٹھیک نہیں سمجھ میں آیا تو ، بڑی آسانی سے کہہ دیں گے میں کیا کروں میں پڑھا ہی سکتا ہوں ،گھول کر پلا تو نہیں سکتا۔ تعلیم کے یہ سودا گر ہیں۔
’راجیش تو کیا کہ رہا ہے تجھے کچھ پتہ بھی ہے۔ اب تو ہی بتا وہ بچارے کوچنگ والے پیسے نہیں لیں گے تو ان کی فیملی کا کیا ہو گا۔ ان کے بال بچوں کا کیا ہوگا۔
کیوں؟ کریم صاحب کی فیملی نہیں تھی کیا؟ کیا ان کے بچے نہیں تھے؟
’مجھے اب تک یہ سمجھ میں نہیں آ یا کہ تیرا غصہ کس پر ہے۔‘
کسی پر نہیں میرا غصہ ان لوگوں پر ہے جو اپنے برتھ ڈے کی پارٹیوں پر لاکھوں خرچ کر دیتے ہیں، اور جاوید جیسے میرے دوست موت کی بھٹی میں جھونک دیے جاتے ہیں۔ جن کی زندگی میں اندھیرا تھا، آنکھوں کے سامنے اندھیرا ہے، اور اگلی کئی نسلوں کا مستقبل تاریک۔
تو پھر تو نے کیا کیا ۔ اس کو پیسے دے دیے، کوچنگ کے لیے؟
نہیں دیے بھائی۔ میرے پاس پیسے تو ہیں مگر میں ان شکچھا کے کارو باریوں کا پیٹ بھرنے کے لیے پیسے نہیں دے سکتا۔
’ہوں، میرے پاس ایک طریقہ ہے۔ تو اس کی مدد بھی کر سکتا ہے اور تیرا پیسا بھی بچ جائے گا۔
’وہ کیسے؟ ‘ دیکھ تو نے سائنس سے پڑھائی کی ہے۔ تو اسے سائنس خود سے پڑھا دے اور میں اس کو باقی کے موضوعات پڑھا دوں گا۔ اور ہمارا ایک دوست ہے وہ ایک کوچنگ میں حساب پڑھا تا ہے ۔ وہ میرے کہنے پر اس کو بغیر پیسے لیے پڑھا دے گا۔
ٹھیک ہے تو کل ہی سے شروع کرتے ہیں۔
راجیش بہت جذباتی قسم کا نوجوان تھا۔ اس کا دل ہمیشہ دوسروں کے درد سے تڑپ اٹھتا۔ اس کی آنکھیں دوسروں کی تکلیبف پر برسنے لگتیں۔ اگلے دن صبح پھر راجیش خلافِ معمول آفس جانے کے بجائے لابی میں بیٹھا سگریٹ کا دھواں اڑا رہا تھا۔
’’تو صرف باتیں بڑی بڑی کر سکتا ہے۔ اور کسی کام کا نہیں ؟‘‘
کیا ہوا بھائی ۔جاوید کا بیٹا نہیں آیا؟
اب وہ نہیں آئے گا۔
اس کا امتحان؟
وہ امتحا نہیں دیگا
تو کیا وہ جاہل رہے گا؟
شاید
نہیں، یقیناً
مگر کیوں؟
کیوں کہ آج صبح صبح خبر آئی ہے کہ جاوید آئی سی یو میں ہے۔ اور کسی بھی وقت بری خبر آ سکتی ہے۔
او! یہ تو بہت برا ہوا۔
اچھا ہوا۔مر ہی جانا چاہیے سالے کو۔ کیڑے مکوڑوں کی سی زندگی۔ اپنے بچوں کو جو ٹھیک سے پال نہیں سکا۔ ٹھیک سے پڑھا نہیں سکا وہ جی کر کیا کرے گا ۔ آخر کیا دیا اس نے اپنی اولاد کو۔ اولاد تو چھوڑو، اپنے ماں باپ کو کیا دیا۔ یہ کہہ کر راجیش میرے کاندھے پر سر رکھ کر کہیں دور خیالوں میں گم ہو گیا۔
تھوڑی دیر بعد خاموشی کی چادر نے ہم دونوں کو اپنی آغوش میں لے لیا تھا۔
تھوڑی دیر بعد میں نے دیکھا۔راجیش کی آنکھیں بھیگ گئی تھیں۔ وہ جلدی جلدی سگریٹ کے کش لیے جا رہا تھا۔
کیا تم نے بھی کبھی ایسے دکھ دیکھے ہیں؟ جاوید کی زندگی اور پریشانیوں کو دیکھنے کے بعد میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ نہیں۔ ‘ یہ کہتے ہوئے راجیش دفتر کے لیے تیار ہونے چلا گیا۔
راجیش سے میری دو سال پرانی دوستی تھی۔ میں نے راجیش کے بارے میں تفتیش شروع کر دی۔ حیرت انگیز انکشاف ہوا۔ معلوم یہ ہوا کہ وہ پچھلے دس برسوں سے اپنے گائوں نہیں گیا۔ اپنے کسی رشتہ دار سے ملتا بھی نہیں ہے۔ اگر کوئی اس سے رابطہ کرنے کی کوشش کرتا ہے تو وہ اپنا پتہ تبدیل کر دیتا ہے۔ بس اس کے گائوں کا ایک رکشہ والا ہے جو اس کو گائوں کی خبریں بتاتا رہتا ہے۔
میں نے سوچ لیا کہ آج میں اس سے اس کے گائوں کے متعلق سوال پوچھ کر رہوں گا۔
شام کو جب وہ آیا تو وہ بہت جلدی میں تھا۔
کیا ہوا؟
جاوید کا انتقال ہو گیا۔ اس کی بیوی اور بچے سب نڈھال ہیں۔ دکھ تکلیف اور بیماریوں نے تو جیسے ان کا گھر دیکھ لیا ہے۔
میں بھی چلوں۔
چلو۔
جنازے سے قبل جاوید کا بیٹا راجیش کے پاس کھڑا کچھ باتیں کر رہا تھا۔ معاملہ سنجیدہ تھا۔ وہاں جا کر ٹوکنا مناسب نہیں لگا۔ جنازے میں قریب بیس لوگ شریک ہوئے۔ راجیش پہلے ہی چلا آیا۔ جب ہم جنازے سے واپس آئے تو میں نے دیکھا وہ کمرے میں بیٹھا ہنومان چالیسا کا پاٹھ کر رہا ہے۔ یہ موقع مناسب تھا ۔ میں نے اس سے پو چھا کہ وہاں جاوید کے بیٹے نے تم سے کیا بات کی۔ وہ بغیر کچھ بتائے کمرے سے اٹھا اور مجھ سے بولا کہ وہ گائوں جا رہا ہے۔ میں حیرت زدہ تھا۔
شام کو جب جاوید کا بیٹا راجیش کو ڈھونڈتا ہوا ہمارے کمرے پر پہنچاتو ہمیں پتہ چلا کہ راجیش اسپتال کا پو را خرچ ادا کر کہ شہر سے غائب ہوگیا ہے۔
اس واقعہ کو زمانہ گذر گیا۔
٭
اور آج اتفاق سے میں جاوید کے بیٹے کے رکشہ میں بیٹھا تھا۔
میں نے اس سے پوچھا کہ راجیش کی تمہارے والد سے کیسی دوستی تھی۔ وہ کہنے لگا۔ دونوں سگے بھائیوں کی طرح تھے ۔ بچپن سے ساتھ ہی پلے بڑھے تھے۔ مگر میرے والد کے انتقال کے بعد جب وہ گائوں گئے تو پہلی بار انہیں پتہ چلا کہ مسلمان ان کے دشمن ہیں ۔انہیں مسلمانوں سے رابطہ نہیں رکھنا چاہیے۔ اور تب سے اب تک ان کا کچھ پتا نہیں۔
اور تمہارے بھائی بہن سب کیسے ہیں۔
سب لوگ ٹھیک ہیں۔
راجیش سے تمہاری پھر کبھی ملاقات ہوئی کیا؟
کیا تمہیں راجیش کی یاد نہیں آتی؟ اس نے تمہاری کتنی مدد کی تھی ؟
آپ کا آفس آ گیا انکل!
میں رکشے سے اترااور آفس چلا گیا۔
اصل زندگی فلموں کی طرح بالکل نہیں ہوتی۔ اس بچارے کو تعلیم یافتہ بنانے کا کتنا شوق تھا اس کے والد کو۔ وہ چاہتے تھے کہ پڑھ لکھ کر ان کا بیٹا بڑا افسر بنے ۔ مگر قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ کسی زمانے میں ہم اس کو پڑھانے کا منصوبہ بنا رہے تھے۔ اوپر والا ڈائرکٹر کچھ اور ہی اسکرپٹ لکھ رہا تھا ۔اور اب اس کی حالت دیکھیے۔ رکشہ چلا رہا ہے۔
کسی کا کچھ نہیں کہا جا سکتا ۔
مجھے راجیش کے وہ جملے یاد آ گئے۔وہ سچ ہی کہا کرتا تھا۔
’’ انسانی زندگی میں رونما ہونے والے حادثات تو کبھی کبھی اتنے دردناک ہوتے ہیں کہ وہ تمام دنیا کے انسانوں کے چہروں سے ہمیشہ کے لیے مسکراہٹ نوچ کر پھینک دیں۔ مگر پھر بھی لوگ مسکراتے ہیں۔ صرف مسکراتے ہی نہیں بلکہ قہقہے لگاتے ہیں۔ صرف بے حسی ہے اور کچھ بھی نہین۔‘‘
یہ بے حسی ہی تو ہے۔ میں یوں ہی آفس جاتا رہوں گا، جاوید کا بیٹا رکشہ چلاتا رہے گا، جاوید اسپتال میں یونہی مرتا رہے گا۔ اور راجیش محبت سے نفرت کی جانب سفر کرتا رہے گا۔ سب بے حسی ہے۔ اور کچھ بھی نہیں۔
جس دن کمال نے مجھے دفتر چھوڑا تھا اسی دن شام کو وہ جب گھر لوٹ رہا تھا تو راستے میں اس کو نشے میں دھت ایک شخص زخمی حالت میں سڑک کے کنارے پڑا ملا۔ کمال کشمکش میں تھا کہ اسے کسی اسپتال میں چھوڑ دے یا چپ چاپ کسی جھمیلے میں پڑے بغیر گھر کو چلا جائے ۔ پتا نہیں یہ کون ہے ۔ کیا پتہ کوئی دہشت گرد یا ڈاکو ہو اور بعد میں پریشانی ہی ہو جائے۔ پولس کا چکر نا ہو جائے کہیں۔ اس نے چپ چاپ وہاں سے نکل لینے ہی میں اپنی بھلائی سمجھی اور وہاں سے آگے بڑھنے لگا۔ اچانک اس کے ذہن میں یہ خیال آیا کہ وہ بھی تو زندگی کا زیادہ وقت سڑک ہی پر گزارتا ہے، خدا نہ کرے کبھی اس کے ساتھ یہ حادثہ ہو جائے۔ وہ تو تڑپ تڑپ کر سڑک پر دم توڑ دے گا۔ یہ سوچ کر وہ واپس آیا اور اس شخص کو اپنے رکشے میں ڈال لیا۔ اس شخص کے منہ پر کیچڑ لگا تھا، رات کے اندھیرے میں اس کا چہرا دیکھنے سے زیادہ ضروری اس کو اسپتال پہنچانا تھا۔
وقت بھی کیسے کیسے رنگ بدلتا ہے۔ اتفاق سے یہ وہی اسپتال تھا جہاں اس کے والد نے آخری سانسیں لی تھیں۔ ان ہی سانسوں کے ساتھ کمال کے خوابوں کے تار بھی ٹوٹ گئے تھے۔ وہ خواب کیا تھے اس کی زندگی تھی ، رکشہ چلانا جس کا مقدر ہوئی۔ وہ تھوڑی دیر اسپال میں آرام کی غرض سے بیٹھ گیا۔ اس نے دیکھا کہ لوگ زندگی کی امید میں اس جگہ آتے ہیں اور ڈاکٹروں کے آگے گڑگڑاتے ہیں۔ یہ اسپتال بھی اس دنیا کا ایک عجائب گھر ہے جہاں کوئی اس دنیا میں پہلا قدم رکھتا ہے تو کوئی آخری سانس لیتا ہے۔ کوئی امیدوں کے چراغ لے کر آتا ہے اور خوشیاں مناتے ہوئے جاتا ہے تو کسی کی امیدیں اندھیروں میں ڈوب جاتی ہیں۔ کتنی زندگیاں یہاں یادوں کے کھنڈر میں تبدیل ہو جاتی ہیں۔ امیدوں کا یہ کھیل اور ڈاکٹروں کے مہرے سب پہلے سے سجے ہوتے ہیں۔ یہاں ہر چیز کی بولی لگتی ہے۔ امیدیں جتنی بڑی قیمت اتنی ہی زیادہ۔ اگر ڈاکٹر مہرے ہیں تو کھلاڑی کون ہے؟
اس اسپتال کا کونہ کونہ اس کے ذہن میں محفوظ تھا۔ یہاں کی دیواریں اس کے والد کی آخری یادوں کی گواہ تھیں۔ وہ عجیب نظروں سے ان دیواروں کو نہارے جا رہا تھا۔ اچانک کسی نرس نے آواز دی۔ ’جس مریض کو لے کر آپ آئے ہیں انہیں ہوش آگیا ہے۔ آپ یہ دوائیں باہر سے لے کر آ جائیں۔‘ یہ کہہ کر وہ نرس اندر چلی گئی۔ پتہ نہیں یہ دوائیاں کتنے کی ہوں گی ۔ وہ بھاری بھاری قدموں سے دوا کی دکان کی طرف بڑھا۔ دکاندار کو پرزہ بڑھا دیا۔’’ تین سو بارہ روپیے۔‘‘ کہتے ہوئے اس نے دوائیاں بڑھائیں۔ کل تین سو روپے اس نے اس دن کمائے تھے۔جس میں اس کو آج کا راشن لے کر گھر بھی جانا تھا۔ راشن والے نے اب ادھا ر دینے سے بھی منع کر دیا تھا۔ بغیر کچھ سوچے سمجھے کمال نے تین سو روپے دکان دار کے سامنے بڑھا دیے ۔ دکاندار نے اس کی آنکھوں میں دیکھ کر اس کی پریشانی سمجھ لی اور اس کو دوائیاں دے دیں۔
جب وہ واپس آیا تو نرس اس کا انتظار کر رہی تھی۔ نرس نے اس سے دوائیاں لے لیں ۔ وہ گھر جانے کے لیے مڑا۔ نرس نے اس کو آواز دی۔ ’کیا آپ مریض سے ملنا نہیں چاہیں گے؟‘
وہ نرس کے پیچھے پیچھے وارڈ تک گیا۔ جب اس نے مریض کو دیکھا تو اس کی حیرت کی انتہا نہ رہی۔ وہ راجیش تھا۔
اس کے چہرے پر افسردگی نمایاں تھی۔ نرس نے اس کو بتایا کہ اگر یہ رکشہ والا وقت پر اس کو اسپتال نہ لے کر آیا ہوتا تو اس کی جان جا چکی ہوتی۔
راجیش نے نفرت کی دنیا کو الوداع کہنے کا ارادہ کر لیا۔ اب وہ سمجھ چکا تھا کہ محبت، اخوت اور انسانیت اس دنیا کی سب سے بڑی دولت ہے۔ برسوں پرانے ادھورے کام کو اس نے پو را کرنے کا ارادہ کر لیا۔ اب وہ دو گھنٹے روز کمال کو اور اس جیسے دوسرے رکشہ والوں کو تعلیم دیتا ہے۔
’زندگی ایک سمندر کی طرح ہوتی ہے ، کون سی موج کب کہاں سے اٹھے ، خطرناک طوفان کی شکل اختیار کر لے، کوئی نہیں جانتا۔ اسی طرح اس بات کا اندازہ لگانا بھی مشکل ہے کہ کب کون سا دندناتا طوفان پر سکون فضا میں تبدیل ہو جائے ۔‘
٭٭٭
ڈاکٹر انوارالحق
چیر مین ، دی وِنگس فائونڈیشن، نئی دہلی
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

