فضیل جعفری کا یہ مانناہے کہ کسی بھی تخلیق پر تنقید یا کم از کم رائے دہی سے قبل اس کے خالق کے ادبی نظریات و اعتقادات کا علم ہونا لازمی نہ سہی مناسب ضرور ہے۔وہ خود بھی اس نظریے پر سختی سے عمل پیرا ہوتے ہیں تاہم میراجی سے متنی تنقید کے جو دھارے نکلتے ہیں ان کی رو سے کسی بھی تخلیق پر تنقید کے لئے نہ مصنف کے سماجی پس منظر اور نہ ہی اس کے ادبی اعتقادات کو درمیان میں حائل ہونا چاہیے۔ پھر اس حقیقت کا ادراک بھی شمس الرحمن فاروقی سے لے کر اردو کے تقریباً تمام نقادوں کو رہا ہے کہ کسی بھی فن پارے میں مصنف اپنے سماجی پس منظر کا عکس شعوری یا لاشعوری طور پر ضرور پیش کرتاہے۔ جہاں تک تعلق اداس نسلیں کا ہے تو اس کی خوبیوں میںسے ایک خوبی یہ ہے کہ اس میں عبد اللہ حسین کے ادبی اعتقادات کی بازگشت کا احساس کہیں بھی نہیں ہوتا، تاہم کچھ موقعوں پر انہوں نے اپنے نیم فلسفیانہ خیالات کا اظہار ضرور کیا ہے۔پورے ناول میں زیادہ تر جگہوں پر کرداروں کی نفسیات کا تجزیہ ان کے سماجی پس منظر کے اعتبار سے ہی کیا گیا ہے۔اگر عبد اللہ حسین نے اپنے اس ناول میں کچھ چیزوں پر زور اور کچھ سے پرہیز کیا ہوتا تو یقیناً اردو ادب میں اداس نسلیں کا مرتبہ آج کی بہ نسبت بہت زیادہ ہوتا۔ ناول کے بالکل ابتدائی باب میں کچھ تکنیکی خامیوں اور آئیندہ کے ابواب میں کہانی کے بہت آہستہ بہنے نیز آخری حصے میں مصنف کی بے جا تقریروں کے باوجود بھی بعض جگہوں پر بیانیہ کا سحر اس وقت تک قاری کی توجہ ان خامیوں سے ہٹا ئے رکھتا ہے جب تک مصنف خود اس سحر کو توڑنے کے لئے کوئی تکنیکی غلطی یا بے جا منظر نگاری نہیں کرتا ۔ اداس نسلیں کا مطالعہ کسی طوفانی اور اندھیری رات میں سفر کرنے جیسا ہے جب وقفے وقفے سے بجلی کی چمک کچھ دور تک کا راستہ سجھا جاتی ہے اور مسافر یہ خواہش کرتا ہے کہ کاش یہ بجلی ہمیشہ چمکتی رہے ۔
راجندر سنگھ بیدی منظر نگاری کے باب میں ایک جگہ لکھتے ہیں کہ
’’ جورج ایلیٹ کی سی ادیبہ غروب آفتاب سے متعلق آٹھ صفحے لکھ سکتی تھی لیکن آج کا ادیب
غروب آفتاب کا منظر بیان کرنے کے لئے محض چند جملے ہی ایجاد کر سکتا ہے اور اس کے لئے
بھی یہ شرط ہے کہ وہ کہانی کا جزو لاینفک ہوں۔‘‘ (۱)
ہو سکتا ہے عبد اللہ حسین نے بیدی کے یہ جملے نہ دیکھے ہوں لیکن اداس نسلیں میں انہوں نے شروع سے آخر تک صرف منظر نگاری کے بیان پر ہی اپنی توجہ مرکوز رکھی ہے اور جہاں تک فکشن میں کہانی کے ارتکاز اور اس کی مرکزیت کا تعلق ہے تو اداس نسلیں میں کہانی ، منظر نگاری کے مقابلے میں ثانوی حیثیت رکھتی ہے۔منظر نگاری کوئی عیب نہیں ہے اس کے ذریعہ ہی مصنف کہانی میںاپنے مطلوبہ علاقے یا عہد کی تشکیل کرتا ہے اور اگر یہ نہ ہو تو اچھی سے اچھی کہانی میں بھی وہ سحر پیدا نہیں ہوسکتا جو قاری کو خود سے چمٹائے رکھتا ہے تاہم یوں بھی نہ ہونا چاہیے کہ ہر آدھے صف کے بعد منظر کشی کے لئے دو دو صفحات کو وقف کردیا جائے اور معمولی اور ذیلی واقعات کے لئے بھی ساری توجہ محض منظر نگاری پر ہی دی جائے۔ ایسا کرنے سے ایک نقصان یہ ہوتا ہے کہ قاری کا ذہن واقعات کے ساتھ آگے بڑھنے کے بجائے منظر میں ہی الجھ کر رہ جاتا ہے۔مجھے منظر نگاری سے کوئی دشمنی نہیں ہے تاہم میں ’صرف منظر نگاری‘ کا قایل نہیں ہوںاور بہت کڑے دل سے کہنا پڑرہا ہے کہ اگر اداس نسلیں سے اس کی منظر نگاریوں کو علیحدہ کردیا جائے تو اس ناول کی ضخامت آدھی سے بھی کم ہوجائے گی۔ دوسری طرف عبد اللہ حسین کو بہ ہر حال دل چسپ نثر لکھنے کا گُر معلوم تھا اور ان کی یہ خوبی مناظر کے بیان میں ہی سامنے آتی ہے۔ ناول کی ابتدا میں روشن آغا کے محل کی دعوت کا بیان ہو یا نعیم کی پہلی جنگ عظیم میں شرکت اور قاہرہ، فرانس اور سر کاٹ کیمپ میں اس کے مختصر قیام کا حال یا ان شہروں کے دل فریب مناظر کی لفظی نقاشی ہر جگہ عبد اللہ حسین نے اپنا جوہر دکھایا ہے۔
’’پھر مومی شمعوں کی روشنی میں کھاناشروع ہوا اور خاموشی سے جاری رہا۔ اب چاند وسط مئی
کے آسمان پر روشن اور گرم تھا، اور ہوا درختوںمیں تھم چکی تھی۔ مدھم چاندنی میں دلی کی آدھی
سے زیادہ آبادی سو چکی تھی اور روشن محل کے باغ میں مقدس چربی کی روشنی میں خاموشی سے
کھانا کھایا جارہا تھا۔ سفیدے کے اونچے درخت ساکت کھڑے تھے۔ میزوں سے پرے
ایک فوارہ اندھیرے میں خاموشی سے پانی اچھال رہا تھا۔ نعیم نے کھانے پر سے سر اٹھا کر
دیکھا۔ ساری فضا طلسمی تھی۔‘‘ (۲)
’’ مصری آسمان پر سورج تیزی سے چمک رہا تھا اور زمین یوں خشک اور سخت تھی جیسے برسوں
سے پانی کی شکل نہ دیکھی ہو۔ ریس کورس بہت بڑے دائرے کی شکل میں تھا جس کے تین
چوتھائی رقبے پر کیمپ پھیلا ہوا تھا۔ جنوب میں بھورے رنگ کی خشک ، پتھریلی پہاڑیاں تھیں
جن کے پتھر سورج کی مسلسل تپش اور تیزی سے سیاہی مائل ہو چکے تھے اور ان پر اسی رنگ
کی پہاڑی بکریاں جانے کیا چرا کرتی تھیں۔ شمال اور مغرب میں قاہرہ پھیلا ہوا تھا جس کی
چوڑی خوش نما سڑکوں پر دیہاتی عربی لباس پہنے بدو گدھا گاڑیوں اور اونٹ گاڑیوں پر
سبزیاں اور دودھ بیچتے پھرتے تھے۔ مشرق میں ریگستان تھا اور جا بہ جا چمکتی ہوئی ریت
کے ٹیلے تھے جن کے پیچھے سے ہر صبح چمکتا ہوا سورج قاہرہ پر اور ریس کورس کے کیمپ پر
اور تھکے ہوئے، گرد میں اٹے ہوئے، اکتائے ہوئے فوجی چہروں پر طلوع ہوا کرتا
تھا‘‘ (۳)
منظر نگاری کی یہ اور اس طرح کی بہت سی خوب صورت مثالیں اداس نسلیں کے ہر تیسرے صفحے پر مل جاتی ہیں عبد اللہ حسین نے ان کا استعمال کثرت سے کیا ہے لیکن قاری ناول بہر حال کہانی کے لئے ہی پڑھتا ہے اور کہانی کی عدم دستیابی سے اس کی طبیعت بوجھل ہوجاتی ہے۔
اداس نسلیں کا جغرافیائی پس منظر مجموعی طور پر دلی اور روشن پورکے علاقوں کا ہی احاطہ کرتا ہے تاہم کچھ جگہوں پر کلکتہ اور آخری حصے میں لاہور اور اس کے نواح کو بھی پس منظر کے طور پر پیش کیا گیاہے۔ اردو کے تمام بڑے اور مشہورناولوں میںوقوع کہانی کے محل وقوع کو واضح طور پر پیش کرنے کی روایت ملتی ہے لیکن اداس نسلیں میں علاقوں کے ناموں کے علاوہ ان سے متعلق کوئی اور خارجی معلومات بہم نہیں پہنچائی گئی ہیں جس سے ان علاقوں کے محل وقوع کو بہتر طور پر سمجھا جاسکے ۔اگر ناول میں دلی اور روشن پور کے بجائے مدراس اور میرٹھ یا کسی اور شہر کا نام ہوتا توبھی اس سے کہانی کے مجموعی تاثر میں کوئی واضح فرق نہیں پڑتا۔ دوسری چیز جو میرے نزدیک زیادہ اہم ہے وہ یہ ہے کہ فکشن تب تک فکشن نہیں ہوسکتا جب تک اس میں وقت کے بہاؤ کو سلیقے سے پیش نہ کیا جائے اور ناول میں تو افسانے کی بہ نسبت وقت کا زیادہ دخل ہوتا ہے کہ بقول فضیل جعفری’’ مختصرافسانہ وقت کی طرف اپنے رویے سے پہچانا جاتا ہے جب کہ ناول میں وقت خود کردار ہوتا ہے‘‘ (۴) پھر ہمیں احتشام حسین صاحب کی یہ بات بھی نہ بھولنی چاہیے کہ’’ کہانی کا مواد اتنا سیّال ہوتا ہے کہ وہ زمانے کے سینے پر بہتا اور اپنی سطح ڈھونڈ نکالتا ہے ـــ۔۔۔‘‘ (۵)یعنی وقت یا زمانے کا بہاؤ فکشن کے لئے بہر حال ضروری ہے۔ہمارے تخلیق کاروں نے وقت کے تسلسل کو بیک وقت آگے اور پیچھے موڑ کر واقعات کے تاریخ وارانہ روایتی افسانوی ڈھانچے کو توڑنے کی کامیاب کوششیں کی ہیں۔ انتظار حسین ہمارے واحد افسانہ نگار ہیں جو ماضی کو حال میں مکمل طور پر پیوست کردیتے ہیں دوسری طرف ایک انوکھی مثال قرۃالعین حیدر کی ہے جو ہزارہا برس کے زمانی فاصلے کو وقت کے ایک ہی منطقے پر کھینچ لاتی ہیں تاہم وہ کبھی بھی Retrospective Time کو Temporal time میں خلط ملط نہیں کرتیں ان کے یہاں کہانی اپنے تاریخ وارانہ خط پر ہی سفر کرتی ہے۔ جہاں تک معاملہ عبد اللہ حسین کا ہے انہوں نے بیسویں صدی کی پہلی دہائی سے تقسیم ملک کے کچھ عرصے بعد تک کے زمانے پر اداس نسلیں کی ساری کہانی کو بکھیرا ہے۔ چالیس پچاس سال کا زمانی عرصہ کسی بھی ناول کو ایک بہت بڑا کینوس عطا کرتا ہے جس میں ناول نگار بہت ہی آرم اور انتہائی مہارت سے وقت کے بہائو کو قاری کے سامنے پیش کر سکتا ہے تاہم اداس نسلیں میں وقت کہیں بھی اپنے فطری بہاؤ کے ساتھ آگے بڑھتا ہوا محسوس نہیں ہوتا بارہا خود مصنف قاری کو یہ اطلاع دیتا ہے کہ اب پانچ سال بیت چکے یا آج چھ برس مکمل ہوگئے یا اس کی شادی کو کل تین سال ہوجائیں گے وغیرہ۔ اس سلسے میں خدا کی بستی کا نام بے ساختہ ذہن میں آتا ہے۔ اداس نسلیں سے بہت کم Time Span خدا کی بستی کا ہے لیکن شوکت صدیقی نے جس فنی خوبی سے صرف چار پانچ سال کے زمانی عرصے کو پورے ناول میں رواں رکھا ہے اس کی مثال بہت کم لوگوں کے یہاں ملتی ہے۔
عبد اللہ حسین جیسے بڑے فکشن رائٹر سے قاری قطعی یہ امید نہیں کرتا کہ وہ منشی پرین چند یا سہیل عظیم آبادی کی طرح بار بار کھڑے ہوکر تقریر شروع کر دیں اور اسے بار باران کا ہاتھ پکڑ کر بیٹھانا پڑے۔ دراصل Idealism سے متاثر تمام مصنفین کے یہاں یہ چیز دیکھی جاتی ہے کہ وہ اپنی تحریروں میں بھی تقریر کرنے لگتے ہیں ۔ جو باتیں ان کے ا صلاحی مضامین میں آنے سے رہ جاتی ہیں انہیں وہ کسی نہ کسی طرح اپنی کہانیوںمیں لے آتے ہیں اورکسی کردار کی زبانی کہلوا دیتے ہیں۔ عینیت پسندوں کی سماجی اور اصلاحی خدمات کا منکر ہوکر میں اپنا نام ناسپاسوں کی فہرست میں شامل کروانا نہیں چاہتا تاہم اصلاح کی خاطر فکشن کی شعریات کا گلا گھونٹنے کے جرم کا ارتکاب کرنے والوں کی صف میں بھی میں شامل نہیں ہوسکتا۔ عبد اللہ حسین ہرگز Idealist نہیں تھے لیکن اداس نسلیں کے آخری حصے میں وہ خود ناول میں اتر جاتے ہیں۔ ڈاکٹر انصاری ، انیس الرحمٰن اور ہجرت کے دوران بوڑھے پروفیسرکا کر دار یہ سب عبد اللہ حسین کے ہی اوتار ہیں جو ان کے نیم فلسفیانہ خیال کی نکاسی کے لئے حسب ضرورت ناول میں جنم لیتے رہتے ہیں اور بے ضرورت اور بغیر محل کے لمبی چوڑی تقریر شروع کر دیتے ہیں۔ ان کے علاوہ ناول کا مرکزی کردار نعیم بھی ہے جو ناول میں کہیں بھی فلسفیانہ طرز گفتگو کا مرتکب نہیں ہوتا لیکن ناول کا ایک تہائی حصہ گزرنے کے بعد عبد اللہ حسین کی نیم فلسفی روح اس کے جسم میں سرایت کرجاتی ہے اور وہ وہی سوچتا اور کہتا ہے جو مصنف چاہتا ہے۔ قلب ماہیت کے دور سے گزر کر نعیم کے نروان حاصل کرنے کے باوجود ہجرت کے دوران زندگی سے اس کی لاتعلقی اور آخر کار بلوائیوں کے ہاتھوں اس کا قتل ہونا کسی بھی طور ایک نروان حاصل کر چکے شخص کی طبیعت سے مطابقت نہیں رکھتا۔ ڈاکٹر انصاری کی تین چار صفحات کی تقریر کا ایک حصہ دیکھئے۔
’’ تم تخیل کی بنیاد کس پر رکھتے ہو؟ تخیل کو تم بغیر کسی وجہ کے عمل میں نہیں لاسکتے۔ ذہن کو اور خیالات کو
مرنے سے بچانے کے لئے تمہارے پاس کوئی وجہ، کوئی دلیل ہونی چاہیے اور تبھی اس کے جواز کے
طور پر تم سوچ سکتے ہو اور اپنے دماغ کو تباہی سے بچا سکتے ہو۔ خیالات کی بنیاد تم Nothingness
پر نہیں رکھ سکتے۔ ایسا اگر کبھی کروگے تو کسی خاص سمت میں بڑھنے کے بجائے تمہارے خیالات تیزی
سے ادھر ادھر بکھر جائیں گے اور دماغ کو پاش پاش کردیں گے۔‘‘(۶)
انیس الرحمٰن کی تقریر ڈاکٹر انصاری کی تقریر سے تقریباً دوگنی ہے ان کے الفاظ بھی ملاحظہ کریں۔
’’ ہم باتیں کرتے ہیں اور باتیں اور باتیں حتیٰ کہ ایک روز بیٹھے بٹھائے ہمیں احساس ہوتا ہے کہ
یہ اس قدر بے سود ہے اور یہ احساس بڑا خوف ناک ہے۔ تمہیں کبھی ہوا ہے؟ ۔۔ اس کے باوجود
ہم چلتے جاتے ہیں، منزل سے منزل کی طرف ، چہرے سے چہرے کی طرف ، بات سے بات کی
طرف ، حتیٰ کہ ہم تھک جاتے ہیں اور اداس ہوجاتے ہیں اور ہمارے دل سے امن غائب ہوجاتا
ہے۔ پھر خاموش جنگلوں کی آرزو پیدا ہوتی ہے۔‘‘ (۷)
اور اس بوڑھے پروفیسرکے اقوال دیکھئے جس سے نعیم کی ملاقات ہجرت کے دوران ہوتی ہے۔
’’ اس سے پہلے آئیڈیلز تھے اور آوارگی تھی۔ اگر میں تفصیل سے بیان کروں تو تم کہوگے کہ وہ آوارہ گردی
کی زندگی تھی۔ مگر نہیں، وہ محض آوارگی تھی۔ یہ مجھے بہت بعد میں پتہ چلا۔۔ آئیڈیل۔۔ اصل اور صحیح
آئیڈیل تو مکمل نارمل حالت میں بنتے ہیں۔ ایسے ذہنوں میں جو پرشکم ہوتے ہیں، عظیم اور بے ہوس
ہوتے ہیں، جن کے پاس صرف تخیل ہوتا ہے اور بلندی اور مایوسی ہوتی ہے۔ ایسے انسان جن پر کوئی
دباؤ نہیں ہوتا۔‘‘ (۸)
ڈاکٹر انصاری اور انیس الرحمٰن کے یہ بلیغ جملے تو پھر بھی قابل قبول ہیں کہ یہ دونوں نعیم سے گفتگو کے دوران ان خیالات کا اظہار کرتے ہیں لیکن پروفیسر کی باتوں کا کوئی جواز نہیں بنتا۔ ایسی فلسفیانہ باتیں وہ اس وقت کررہا ہے جب اپناسب کچھ اپنی آنکھوں کے سامنے لٹتے ہوئے دیکھ لینے کے بعد مضبوط ترین قوت اعصاب رکھنے والوں کے حواس بھی مضمحل ہوجاتے ہیں۔ان کرداروں کے سوا اداس نسلیں کے زیادہ تر کردار بالکل فطری ہیں اور زندگی کے نشیب و فراز کی عملی تصویریں پیش کرتے ہیں۔عذرا کولونیل ہندوستان کے زمین دارانہ نظام کی پروردہ خاتون کی علامت ہے جس کی نفسیات کو عبد اللہ حسین نے بڑی باریکی سے پیش کیا ہے ۔ دراصل سارا روشن محل ہی زمین دارانہ نظام کی علامت ہے جہاں لوگ ملک کی فلاح اور آزادی اس شرط پر چاہتے ہیں کہ ان کا اپنا گھر کسی تخریب کی آنچ سے محفوظ رہے ۔ نیاز بیگ خالص کسان کی علامت ہے جو اپنی ساری زندگی صرف اپنے گھر کو سہیجنے میں گزار دیتا ہے۔ علی، نجمی ، پرویز، خالد،مسعود وغیرہ کے کردار بہت اہم نہ ہوتے ہوئے بھی اپنی ذات میں بالکل مکمل ہیں ان کی شخصیت کو سنوارنے میں یقیناً عبد اللہ حسین نے محنت کی ہے۔
پچھلی صدی کے فکشن رائٹروں کے یہاں تقسیم ہند کا المیہ اور ابتدائی پاکستانی سماج کی تشکیل اور اس کی نفسیات کا پس منظر ایک بہت بڑے فنی تجربے کی شکل میں سامنے آتا ہے۔اس زمانے اور اس کے بعد کے تقریباً تمام مصنفوں نے انہیں اپنی کہانیوں میں براہ راست یا بالواسطہ ضرور استعمال کیا ہے۔ انتظار حسین کے’’ بستی‘‘ اورقرۃالعین حیدر کے ’’آگ کا دریا‘‘ کے آخری حصوں میں اور شوکت صدیقی کے ’’خدا کی بستی‘‘ میں اسی ابتدائی پاکستانی سماج کی تشکیل اور اس کی نفسیات کا تجزیہ کیا گیا ہے ۔ اچھی بات یہ ہے کہ ان لوگوں نے اس نئے نویلے سماج کو کسی’ نظریے‘ سے نہیں بل کہ اپنی اپنی نظروں سے دیکھا ہے اسی لئے ہر ایک کا مشاہدہ دوسرے سے الگ ہوتے ہوئے بھی بالکل سچا ہے۔ جہاں تک اداس نسلیں کا معاملہ ہے تو اس ناول کی ابتدا ۱۹۵۶ء میں ہوئی یعنی عبد اللہ حسین نے پورے نو سال تک اس نئے پاکستانی سماج کے نفسیات کا مطالعہ کرنے کے بعد اسے لکھنا شروع کیا لیکن وہ نئے پاکستانی سماج میں صرف اس ایک خاندان کی نفسیات کو ہی بیان کر سکے جو دلی کے ’روشن محل‘ سے ہجرت کرکے لاہور کے ’راج منزل ‘ میں آیا تھا اور اس کے لئے بھی انہوں نے صرف دس بارہ صفحوں پر قناعت کیا ہے ۔اس طرح اداس نسلیں اس مخصوص سماجی ڈھانچے کے بیان سے خالی رہ گیا ہے جس کے ذکر کو شامل کرکے اس ناول کی عالمگیریت نہ سہی بر صغیریت میں ضرور اضافہ کیا جاسکتا تھا۔
حواشی:
(۱) بحوالہ آبشار اور آتش فشاں از فضیل جعفری، ص ۱۴۳، قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، نئی دہلی
(۲) اداس نسلیں، ص ۲۳، بسمہ کتاب گھر،دہلی
(۳) ایضاً ،ص ۹۱
(۴) آبشار اور آتش فشاں از فضیل جعفری،ص ۱۵۸، قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، نئی دہلی
(۵) روایت اور بغاوت از احتشام حسین، ص ۷۹، اتر پردیش اردو اکادمی
(۶) اداس نسلیں، ص ۴۰۴، بسمہ کتاب گھر، دہلی
(۷) ایضاً ، ص ۴۶۵
(۸) ایضاً، ص ۵۰۶
Mohammad Irshad
PhD Scholar, University of Calcutta
Add. 24/2, BiprodasChatterjee Lane, Shibpur Howrah. 711102, West Bengal
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

