قاضی عبدالستارکا شمار بلاشبہ اردوکے اہم اور منفرد ناول نگاروں میں ہوتا ہے ۔انھوں نے تہذیبی ،ثقافتی،معاشرتی ،تاریخی اور رومانی موضوعات پر تقریباچھوٹے بڑے دس ناول لکھے ۔کیفیت اور کمیت کے اعتبار سے ان کے ناول اردو کے اعلیٰ اور ارفع ناولوں کے زمرے میں یقینارکھے جاسکتے ہیں۔قاضی صاحب کے ناولوں کا کینوس اودھ کا علاقہ ہے۔قاضی صاحب کی تخلیقی انفرادیت یہی ہے کہ انھوں نے اپنے زمانے کے فیشن زدہ موضوعات سے کلی طورپراجتناب کیا ۔ترقی پسند تحریک سے وابستگی کے باوجود انھوں نے جاگیردارانہ نظام کے زوال پر شدت سے حسرت واندوہ کا اظہار کرتے ہوئے اس تہذیب کی مثبت اخلاقی اقدارمثلاً رواداری ،وسیع المشربی،سخاوت ،خوش خلقی اور غریب پروری وغیرہ کواپنے فکشن کا محوری موضوع بنایا۔ ترقی پسند تحریک بنیادی طورپر زمینداری کی مخالف تھی۔یہی وجہ ہے کہ اس تحریک سے وابستہ افراد نے اپنی تخلیقات میں زمیندارانہ نظام کے منفی پہلوؤں پر زور دیتے ہوئے اسے جورو استبداد کی علامت قرار دیا۔ترقی پسندوں کا یہ ماننا تھا کہ زمیندار غریبوں اور مزدوروں کا استحصال کرتے ہیں اور ان کی محنت ومشقت پر عیش وعشرت کاتاج محل تعمیر کرتے ہیں۔ترقی پسند تحریک سے ایک طویل عرصے تک وابستگی کے باوجود قاضی صاحب نے اپنی تخلیقات میں زمینداری کے خاتمے کے نقصانات کے علاوہ اس کے مثبت پہلو ؤں کوہی بنیاد بنایا جس کے اندر انسان دوستی ،انسانیت نوازی ،اقربا پروری اور غریبوں کے ساتھ حسن سلوک کا پہلو حاوی ہے ۔اس کے علاوہ انھوں نے سیتا پور اور فیض آباد کے زمینداروں کی اعلیٰ اقدار،انسانی صفات،خوش خلقی اور ان کی رواداری کو اپنے ناولوں کا حصہ بنایا ہے ۔ان کے سماجی ناولوں میں جاگیردارانہ تہذیب کی زوال پذیری کا کرب دیکھنے کو ملتا ہے،ان کا فن اودھ کی دم توڑتی اور مٹتی ہوئی تہذیب کا عکاس ہے۔ قاضی صاحب نے آزادی کے آس پاس لکھنا شروع کیااور یہی وہ زمانہ ہے جب آزادی کے ساتھ تقسیم کے اذیت ناک مرحلے سے برصغیر کے لوگوںکو گزرنا پڑا ۔بہت سے ناول نگاروں نے تقسیم کے عوض رونما ہونے والے انسان کش فسادات ،خونچکاں واقعات، دربدری ،نقل مکانی اور ہجرت کے عذاب کو اپنے ناولوں میں ترجیحی طورپر پیش کیا ۔تقسیم کے پیش نظر یہ ایک اہم موضوع تھا اور اس پربھرپور ناول لکھاجاسکتا تھا اور بہت سے لوگوں نے لکھا بھی۔اپنی خوداعتمادی کی وجہ سے اگر قاضی صاحب ترقی پسندی اور تقسیم کوبنیاد بناکر ناول لکھتے تو وہ یقینا ان دنوں بہت زیادہ شہرت بٹور سکتے تھے۔ لیکن ان کی بھیڑ سے الگ چلنے روش نے فیشن زدہ موضوعات کو برتنے اور وقت کے دھارے میں بہنا گوارا نہیں کیا ۔
معروف انگریزی نقاد ٹی ایس ایلیٹ کا قول ہے کہ’’ فن اپنے فارم کی وجہ سے قائم ہوتا ہے ،لیکن اسے رفعت اور بلندی موضوع کی وجہ سے حاصل ہوتی ہے۔ ‘‘کسی بھی تخلیقی فن پارے میں بنیادی چیز موضوع ہے ،اسلوب کی حیثیت ثانوی ہوتی ہے۔ بصیرت کاتعلق بھی موضوع کی عظمت سے ہی منسلک ہے ۔دنیا میں انسانیت سے بلند اور اس سے اہم کوئی موضوع نہیں ہوسکتا ۔یہی وجہ ہے کہ قاضی صاحب نے اپنے ناولوں کی بنیادانسانی اقدار پر رکھی۔ موضوع کی عظمت کے ساتھ ساتھ اسلوب کی دلکشی کا بھی انھوں نے خاص خیال رکھا ہے ۔انھوں نے مارکسی فکرو نظر کو چھوا بھی نہیںاور بیان بھی کیا تو زمینداری کے خاتمہ کے ان پہلوؤں کو جن کی ضرورت انسانی معاشرے کو آج بھی ہے اور ان کی معنویت اس زمانے میں بھی بہت زیادہ محسوس ہورہی تھی۔کیونکہ اس وقت جہاں ایک طرف صنعتی تہذیب کی آمد سے اخلاقی قدریں پامال ہورہی تھیں اور ان کی جگہ نمودونمائش ،عداوت اور انسانی مکروفریب لے رہی تھیں۔یہ ایک ایسا معاشرتی زوال تھا جس کے نقصانات کو قاضی صاحب نے محسوس کیا اور اسے بنیاد بناکرانھوں نے ناول اور افسانے لکھے۔آج جبکہ ہمارا معاشرہ تباہی اور انسانی تقسیم کے دہانے پر کھڑا ہے توایسے میں قاضی صاحب کی تخلیقات اور ان میں برتے گیے موضوعات کی اہمیت مزید دوچند ہوجاتی ہے کیونکہ انھوں نے اپنی تصنیفات میں سیکولر زم، رواداری،وسیع النظری اور سماجی کثیر الجہتی پر زوردیا ہے اور یہی وہ انسانی اور اخلاقی پہلو ہے جس پر کاربند ہوکرزوال پذیرانسانی معاشرے کو امن وآشتی کا گہوارہ بنایا جاسکتا ہے۔
قاضی عبدالستار کا شمار اردو کے صاحب طرز فکشن نگاروں میں ہوتا ہے ۔فکشن میں ان کا اپنا ایک خاص اسلوب اور اسٹائل ہے جسے ان کی شہرت وشناخت کا روشن ترین حوالہ قرار دیا جاسکتا ہے۔ان کے اسلوب میں بلاکی تازگی اور دلکشی کے ساتھ ساتھ ایک طرح کی پراسرار طلسماتی کیفیت بھی پائی جاتی ہے ۔قاضی صاحب کے ناولوں کی قرات کے درمیان قاری پرماضی کی ایسی تہذیبی کائنات منکشف ہوتی ہے جس میں کشادہ ظرفی کے ساتھ ساتھ روشن قدروں کو اہمیت ومرکزیت حاصل ہے ۔قاضی صاحب کی نثر میں وہ سحر انگیزی اور جادو بیانی پائی جاتی ہے جس سے قاری آسانی سے اپنادامن نہیں چھڑا سکتا۔ان کی نثر میں قصہ ،کردار ،اور صورت حال کے پیش نظر کہیں کہیں عجیب جلالت انگیزی اور شکوہ کا رنگ بھی خوب نمایاں نظر آتا ہے ۔قاضی صاحب کے معاصرین کا جائزہ لیں توپورے دورانیے میں ہمیں کوئی ایسا نثر نگار نظر نہیں آتا جس کی نثر میں وہی شان اور دلآویزی پائی جاتی ہو جس سے قاضی صاحب کی تحریرعبارت ہے ۔سچائی بھی یہی ہے کہ انھوں نے اپنا اسلوب خود ہی وضع کیا،وہ اپنے اسلوب کے موجد بھی ہیں اور خاتم بھی۔قاضی صاحب کے اسلوب کی انفرادیت کا اعتراف کرتے ہوئے معروف فکشن نگار قرۃ العین حیدر نے کہا ’قاضی عبدالستار سے بہتر نثر صرف قاضی عبدالستار ہی لکھ سکتے ہیں۔‘
قاضی عبدالستار مختلف طرزتخاطب اور اسٹائل کے مالک ہیں۔موضوع اورکردارکے اعتبار سے زبان کے استعمال پر انہیں قدرت حاصل ہے۔ سماجی طبقات اور تہذیب کابھی انھیں گہرا علم ہے جن کا اظہار ان کے مختلف ناولوں بالخصوص تاریخی ناولوں میں ملتا ہے۔ ان کے ناولوں کے مطالعے کے دوران قاری زبان واسلوب اور موضوع کی سطح پر مختلف دنیاکی سیر کرتا ہے۔ایک بڑا فکشن نگار صاحب اسلوب ہی نہیں بلکہ اسالیب ساز بھی ہوتا ہے۔ بقول قاضی عبدالستار:
’’میں یہ چاہتاہوں کہ جب میں مروں تو میرا نقاد یہ کہے کہ ایک ایسا شخص مرا جو کئی اسٹائل میں لکھنے کی قدرت رکھتا تھا ۔یہ میرا خواب ہے ،اسی لیے میں نے شعوری طورپر یہ کوشش کی کہ ’صلاح الدین ایوبی‘ کی زبان ’دارا شکوہ ‘ کی زبان ’غالب ‘ کی زبان اور ’خالد بن ولید ‘ کی زبان ۔ان چاروں ناولوں کی زبان میں فرق پیدا کروں ۔‘‘ (ڈاکٹر اختر بستوی :قاضی عبدالستار سے ایک گفتگو ،نیاد ور مئی 1992،ص 10)
قاضی عبد الستار کی نثر شاعری کامزا دیتی ہے ،چونکہ انھوں نے اپنی تحریروں میں شعری وسائل سے کام لیتے ہوئے ایسی فضا خلق کی ہے جو پرکیف بھی ہے اور نشاط انگیز بھی۔قاضی صاحب زندگی بھر اس بات پر مصر رہے کہ تشبیہ ،استعارہ اور علامت صرف شاعری کے لیے مخصوص نہیں ہے ،نثر میں بھی ان سے کام لیا جاسکتا ہے ۔شرط یہ ہے کہ فن کارکو الفاظ کے پیچ وخم سے واقفیت ہو اور اسے نئی لفظیات کو وضع کرنے اور اسے برتنے کا شعور ہو ۔ چنانچہ قاضی صاحب کے اس قول کی روشنی میں ان کی تحریروں کا جائزہ لینے سے یہ بات مترشح ہوتی ہے کہ مذکورہ شعری صنعتوں سے انھوں نے بھرپور کام لیا ہے۔ قاضی صاحب کی تحریروں میں رعنائی وزیبائی کی ایک بڑی دنیاآباد ہے، تو اس کی ایک بڑی وجہ یہی ہے کہ وہ زبان کے جادوگر ہیں۔ان کی یہی طلاقت لسانی ان کی تمام تصنیفات وتخلیقات میں محسوس کی جاسکتی ہے۔زبان کا تخلیقی استعمال بھی ان کے یہاں نظر آتا ہے ۔زبان کی باریکیوں اور ان کی نزاکتوں سے بھی انھیں گہری واقفیت ہے ۔قاضی صاحب کے اسلوب کی دلکشی کا ایک راز یہ بھی ہے کہ وہ اپنی خلاقانہ بصیرت اورقوت تخئیل کی بدولت فکشن میں ایسی فضاخلق کرتے ہیں جس میں ماضی کی قدریں اپنی تمام جہتوں کے ساتھ قاری پر روشن ہوجاتی ہیں۔ان کے اسلوب کی دلکشی کی طرف معروف ناقدپروفیسر وہاب اشرفی اس طرح اشارہ کرتے ہیں۔’قاضی عبدالستار کااسلوب اپنی جگہ پر محاکات اور قول محال کے استعمال پر ایسی دسترس کہ اس کی مثال کہیں دوسری جگہ نہیں ملتی ،ان کے اسلوب کو گرینڈ کہاگیا ہے۔ ‘
قاضی صاحب کے ناولوں اور افسانوں کی ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ انھوں نے اسلوب کی سطح پر تخلیقی رچاؤ سے کام لیاہے۔ ان کے چمکداجملے راور طرحدار فقرے نہ صرف ان کے اسلوب کے لیے تجمیل وتحسین کا فریضہ انجام دیتے ہیں بلکہ قاری کو ان کی تحریروں میں چھپی ہوئی سچائی اور بصیرت سے بھی ہم کنار کرتے ہیں اور اس طرح قاری ان کی تخلیقات کی دبیز تہوں میں چھپے ہوئے گہرے معنی ومفہوم تک رسا ئی حاصل کرلیتا ہے۔اس کے علاوہ موقع محل کی مناسبت سے موزوں ترین لفظیات کے استعمال کے علاوہ ، نادر تشبیہات اور محاکاتی پیرایۂ بیان نے ان کے اسلوب کی دلکشی کومزید دوآتشہ کردیا ہے۔شمس الرحمن فاروقی لکھتے ہیں:
’ قاضی عبد الستار قول محال (PARADOXES)کے بادشاہ ہیں ان کا فن ایڈگر ایلن کی یاد دلاتا ہے۔ان کے قلم میں گزشتہ عظمتوں اور کھوئے ہوئے ماحول کو دوبارہ زندہ کرنے کی حیرت انگیز قوت ہے ۔ان کی سب سے بڑی قوت ان کی حاضراتی صلاحیت ہے جو دوجملوں میں کسی مکمل صورت حال کو زندہ کردیتی ہے ۔ایڈگر ایلن پو کی طرح اس سے انتہائی مختلف سیاق وسباق میں وہ نفسیات کو اُجاگر کرنے کے بادشاہ ہیں ۔‘
قاضی عبدالستار بے پناہ تخلیقی قوت کے مالک ہیں۔تخلیقی آگ وآگہی سے معمور اس فن کارنے تخلیق وتصنیف کی جس وادی میں بھی قدم رکھا اپنی انفرادیت کے نقوش مرتسم کردیے۔قاری ان کے شاعرانہ اور ساحرانہ اسلوب کی داددیے بغیر نہیں رہ سکتا ۔قاضی صاحب نے شاعری بھی کی ،افسانے بھی لکھے ،ناول بھی رقم کیے اور تنقید وتحقیق کی پر خطر وادیوں کی سیاحت بھی کی۔لیکن کمال یہ ہے کہ کہیں بھی ان کا قلم باسی پن کا شکار نہیں ہوااور نہ ہی کبھی ان پر تکرار کاالزام عائد کیا گیااور جب تک صحت اور حافظے نے ان کا ساتھ دیااپنے زرخیز اور گہر بار قلم سے فکشن کے آسمان میں نئے چاند ستارے ٹانکتے رہے۔قاضی صاحب نے آزادی کے آس پاس لکھنا شروع کیااور کہانی سے اپنے تخلیقی سفر کاآغاز کیا ۔’ اندھا ‘ کے عنوان سے ان کا پہلا افسانہ 1947ء میں لکھنؤ سے شائع ہونے والی ایک ادبی میگزین ’ جواب ‘ میں ایڈیٹوریل نوٹ اور قاضی صاحب کی تصویر کے ساتھ شائع ہوا ،اس وقت قاضی صاحب آٹھویں کلاس کے طالب علم تھے ااورپھراس کے بعد ان کی نگاہ ِ التفات شاعری کی طرف ہوگئی اور ایک عرصے تک شاعری کی زلف ِ گرہ گیر کے اسیر رہے۔شاعری میںانھوں نے ’صہبا ‘ تخلص اختیار کیا اوراس عہد کے معروف شاعر بابو گوچرن لال شیدا نبی نگری کی شاگردی اختیار کی۔قاضی عبدالستار نے1950میں لکھنؤ یونیورسٹی میں بی اے میں داخلہ لیا اور اسی زمانے میں انھوں نے ’ گومتی کی آواز ‘ کے عنوان سے چھتیس اشعار پر مشتمل ایک طویل نظم کہی جو ترقی پسندوں کے رسالے ’ شاہراہ ‘ میں 1952میں شائع ہوئی ۔رسالے کے مدیر وامق جونپوری نے اپنے خصوصی نوٹ کے ساتھ نظم شائع کی۔ یہاں اس بات کا تذکرہ دلچسپی سے خالی نہیں ہوگا کہ تخلیقی اعتبار سے قاضی صاحب کا یہ زمانہ ابتدائی ضرور تھا لیکن فنی اعتبار سے ان کی یہ نظم پختہ تھی،شعری محاسن کو بروئے کار لانے کی وجہ سے فراق جیسے منجھے ہوئے ،مستند اور قادرالکلام شاعرکے کلام کو ترتیب میں ان سے نیچے رکھا گیا۔اس سے قاضی صاحب کے تخلیقی اٹھان کے علاوہ شاعری پر ان کی قدرت اور فنی دسترس کااندازہ لگایا جاسکتا ہے ۔یہ ایک انقلابی اور باغیانہ نظم تھی ۔نظم کا پس منظر یوں ہے کہ لکھنؤ یونیورسٹی کے طلبا پر پولس نے گولی چلائی تھی اور اس وقت قاضی صاحب وہاں کے طالب علم تھے ،پولس کے اس ظالمانہ رویے نے ان کے دل ودماغ کو مضطرب کردیا اور ان کایہ دلی اضطراب نظم کی شکل میں باغیانہ تیور کے ساتھ ظہور پذیر ہوا۔
قاضی صاحب بلا کا تنقیدی شعوربھی رکھتے ہیں۔’اردو شاعری میں قنوطیت ‘ اس کی نمایاں مثال ہے۔اس مقالہ پر انھیں1957میں شعبہ اردو مسلم یونیورسٹی علی گڑھ سے پی ایچ ڈی کی ڈگری تفویض کی گئی۔پروفیسر رشید احمد صدیقی کی نگرانی میں انھوں نے یہ مقالہ رقم کیا۔ یہ کتاب ان کی تنقیدی اور تحقیقی بصیرت کی آئینہ دار ہے ۔قاضی صاحب نے اس میں شرح وبسط کے ساتھ اس امر کی وضاحت کی ہے کہ اردو میں قنوطیت کی اصطلاح سراسر مغرب کی دین ہے ،اردوشاعری میں قنوطیت کاپہلو غزلوں میں نمایاں ہے ،شعرائے متقدمین میں خدائے سخن میرتقی میر اوربعد کے دور میں فانی کی شاعری میں قنوطیت کے گہرے عناصر ملتے ہیں۔ البتہ مرثیہ کو وہ قنوطیت کے بجائے المیہ تصور کرتے ہیں،قاضی صاحب کا یہ ماننا ہے کہ قنوطیت سے اس کا کوئی سروکار نہیں ہے۔اس کے علاوہ افسانے کے دروبست اور اس کے فنی لوازمات کے تعلق سے قاضی صاحب کے چھوٹے اور مختصر جملے تنقیدسے ان کی گہری آگہی کے ساتھ ساتھ ان کی بھرپور انتقادی بصیرت کا عندیہ دیتے ہیں۔تنقیدی نشتریت سے مملو ان کے یہ جملے ایک زمانے میں کافی مشہور ہوئے اور ضرب المثل کی حیثیت اختیار کر گئے ۔قاضی صاحب کی تنقید زاہد خشک کی تقریر نہیں معلوم ہوتی بلکہ وہ اس میںبھی شگفتگی سے کام لیتے ہیں ،جس کی وجہ سے ان کی تنقید قاری کے ذہن پر بار نہیں بنتی ۔تنقیدی بصیرت سے مملو قاضی صاحب کے چھوٹے اور مختصر جملے ملاحظہ کریں :
افسانہ چاول پر قل ھواللہ لکھنے کا فن ہے۔
نثر پیغامبری ہے،تخلیقی نثر پیغمبری ہے۔
تخلیق کے گھوڑے کی پشت کے زخم پر بیٹھی ہوئی مکھی کا نام تنقید ہے۔
افسانہ کسی ہوئی چارپائی کی طرح ہوتا ہے ،ذراکمی رہ گئی تو پوری چارپائی ڈھیلی ہوجاتی ہے۔
افسانہ کسی ہوئی سارنگی ہے ،اگر تار ڈھیلے بندھے ہیں توآواز بے سری نکلے گی۔
تنقید نے اردافسانے کے ساتھ وہی سلوک کیا جو کیکئی نے رام کے ساتھ کیا تھا۔
جب برسات شروع ہوتی ہے تو بے شمار مینڈک پیدا ہوتے ہیں ،ان کی ٹرٹراہٹ سے گمان ہوتا ہے کہ بس ان ہی کا غلبہ ہے لیکن اگلی برسات تک سارے مینڈک مرجاتے ہیں ۔البتہ اس درمیان کوئی کالا ناگ پیدا ہوجائے تو وہ اپنے حسن ،رعب شاور زہر کے ساتھ مدتوں زندہ رہتا ہے۔
مذکورہ بالاعبارتوں کی روشنی میں تنقید کی شعریات مرتب کی جاسکتی ہے ،کیونکہ ان جملوں میں تنقید کے سروکار سے بحث کرنے کے ساتھ ساتھ ان میں تنقید ی تعصبات کی نفی بھی نظر آتی ہے۔قاضی صاحب نے یہ باورکرانے کی کوشش کی ہے کہ تنقید اپنے منصب اور دائرے سے بھٹک گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قاضی صاحب نے اردو تنقید سے عدم اطمینان کااظہار کیا ۔قاضی صاحب کی شکایت بجا ہے کہ تنقید کے لیے جس جگر سوزی ،مطالعاتی استغراق وانہماک کے ساتھ ساتھ استدلالی ذہن اور قوت انصاف درکار ہے ،وہ اردو کے بیشتر نقادوں میں ناپیدہے اور یہ اردو تنقید کا المیہ ہے ۔ قاضی صاحب اردو کی فکشن تنقید سے نالاں نظر آتے ہیں،اس کی وجہ یہی ہے کہ فکشن نقادوں نے ان پر وہ توجہ نہیں دی جس کے وہ مستحق تھے۔اردو کی فکشن تنقید کا مطالعہ کریں تو ان کا تدکرہ خال خال ہی نظر آتا ہے،چوٹی کے نقادوں نے قاضی صاحب کی تخلیقات سے مکالمہ کی زحمت گوارا نہیں کی ۔جبکہ سچائی یہی ہے کہ انھوں نے زندگی بھر فکشن کی آبیاری کی ۔قاضی صاحب نے موضوع اور اسلوب کے اعتبار سے اردو میںبعض ایسے ناول لکھے جو ادب العالیہ کا درجہ رکھتے ہیں ۔لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر نقادوں نے ان کے مقام اور مرتبے کا تعین کیوں نہیں کیا ،ان سے عمداً بے اعتنائی کیوں برتی ۔ترقی پسند نقادوں نے بھی ان سے عدم دلچسپی کا مظاہرہ کیا جبکہ زمیندارانہ ماحول میں آنکھیں کھولنے کے باوجود قاضی صاحب ایک عرصے تک ترقی پسند تحریک سے وابستہ رہے اور اس کے سمینار اور جلسوں کی صدارت بھی کی۔دیہات وقصبات اور کسانوں کے مسائل وموضوعات کو انھوںنے اپنے ناولوں اور افسانوں میں ترجیحی طورپرپیش کیا ۔مابعد جدیدیت کے تناظر میں ان کے ناولوں اور افسانوں کا مطالعہ کیا جائے تو ان کے یہاں ثقافت کی بازیافت نظر آتی ہے ۔’پیتل کا گھنٹہ ‘ اس کی ایک واضح مثال ہے۔ اس میں ایک سنہرے دور کی بازآفرینی کے ساتھ ساتھ ایک ایسے طبقے کے کربناک حالات کو موضوع بنایا گیا ہے جن کی سرشت میں سخاوت اور رعایا پروری شامل تھی لیکن زمینداری کے خاتمہ کے بعدوہ خود نان شبینہ کے محتاج اور قلاش ہوگئے اور وہ نکبت وافلاس کی وجہ سے اس قدر خوار ہوئے کہ وہ کہیں کے نہ رہے ۔زمینداروں کی حالت زار پر قاضی صاحب کچھ اس طرح روشنی ڈالتے ہیں:
’’میں نے ایسے زمینداردیکھے ہیں جن کی سالانہ آمدنی ایک لاکھ اسّی ہزار تھی لیکن ان پر بھی ایسا وقت آیا کہ وہ گھر سے باہر نہیں نکلتے تھے۔اس لیے کہ ان کے پاس اچھے کپڑے نہیں تھے ،ان کے بدن پر صرف لنگی اور بنیائن تھی۔‘
دیہی فضا، قصباتی رنگ اور گاؤں کے کسان اور مزدور کے مصائب ومشکلات کو فکشن کے قالب میں ڈھالنے کی وجہ سے بہتوں نے فکری اعتبار سے قاضی صاحب کا رشتہ پریم چند سے ہم آہنگ کرنے کی کوشش کی۔لیکن اگر دیکھا جائے تودونوں کے دیہات وقصبات میں تقریباً نصف صدی کافاصلہ ہے ۔پریم چند کے سامنے فرنگیوں کا راج تھااور وہ انگریز زمینداروں سے ٹیکس کے نام پر لگان وصول کرتے اور یہ زمیندار اپنی چودھراہٹ کی بقا کے لیے غریب کسانوں اور مزدوروں کا استحصال کرتے ،سیٹھ اور ساہوں کاروں کے سودی نظام کو بھی پریم چند نے ہدف ملامت ٹھہرایا ہے۔لہٰذا پریم چند نے کے یہاں اس استحصالی نظام کے خلاف احتجاج نظر آتا ہے۔ قاضی صاحب نے اس وقت لکھنا شروع کیا جب ہندوستان میں آزادی کی کرن نمودار ہورہی تھی اور زمیندارانہ نظام کا سورج غروب ہورہاتھا۔پریم چندنے زمینداری کے منفی اور اس کے غیر انسانی رخ کو پیش کرنے کی کوشش کی ہے جبکہ قاضی صاحب نے زمیندارانہ نظام کے مثبت پہلوؤں کو اس طرح پیش کیا ہے کہ وہ انسانی اقدارکا اعلیٰ نمونہ معلوم ہوتا ہے ۔ رواداری ،محبت اور بھائی چارگی اور گنگا جمنی تہذیب کی وہ جھلک ہمیں ان کے فکشن میں نظر آتی ہے جو ہندوستان کی تعمیر وترقی کے لیے ناگزیر ہے ۔غالباً قاضی صاحب کا یہی وہ افسانوی پہلو ہے جو پریم چند سے انھیں منفرد کرتا ہے۔قاضی صاحب خود ایک زمیندار اور متمول گھرانے کے چشم وچراغ تھے، انھوں نے زمینداری کا زوال اپنی آنکھوں سے دیکھا یہی وجہ ہے کہ انھوںنے ان کی نکبت اور کسمپرسی کو شدت کے ساتھ نہ صرف محسوس کیا ،بلکہ اس اپنے افسانوں اور ناولوں میں بھی پورے شدومد کے ساتھ پیش بھی کیا۔پریم چند کے مقابلے میں قاضی صاحب کی انفرادیت کے حوالے سے مظفر حسین سید لکھتے ہیں:
’’خیال عام کے برعکس قاضی صاحب کے یہاں محض زمیندارانہ پس منظر ہی نہیں ،بلکہ غریب و کمزور دیہی معاشرہ بھی ہے ۔یہاں قاضی صاحب پریم چند سے یوں مختلف نظر آتے ہیں کہ قاضی صاحب کے یہاں اگر ایک طرف ظلم واستحصال ہے،تو دوسری طرف احتجاج ،بغاوت ،ایک عہد نو کی خبر اور ایک جہد نو کی تصویر بھی ،ان کے یہاں دیہی معاشرہ کڑے تیوروں کے ساتھ ایک آنے والے انقلاب کی نوید بھی سناتا ہے ۔یہی قاضی صاحب کی انفرادیت ہے ۔‘‘(نصف صدی کی ہم سفری قاضی عبد الستار،ڈاکٹر مظفر حسین سید،ماہنامہ ایوان اردو ،دسمبر 2018،ص9)
قاضی عبدالستار کا فکشن موضوعاتی تنوع سے عبارت ہے۔ ان کے افسانوں میں زندگی کے سبھی رنگ دیکھے جاسکتے ہیں۔ قاضی صاحب کے افسانوں کو تین زمروں میں رکھاجاسکتا ہے ۔تاریخی ،شہری اور دیہی ۔دیہی موضوعات پرمبنی افسانوں میں’ پیتل کا گھنٹہ ،رضو باجی،مالکن ،نومی ،میراث ،ایک کہانی ،ساملی،ٹھاکر دوارہ ،دیوالی ،واپسی ،نازو ،پر چھائیاں،روپا‘ اور’ وراثت ‘اہم ہیں۔ان افسانوں میں دیہی مسائل کے ساتھ وہاں کی ثقافت اور کلچر کو بھی درشایاگیا ہے۔
قاضی عبدالستار کے افسانوں میں شہری طرز معاشرت اور وہاں کی چمک دمک کو دیکھنا ہوتو اس کے لیے ’سوچ ،ماڈل ٹاؤن، پہلی موت ،جنگل ،مشین ،ایک دن ،تحریک ‘ اور ’داغ ‘کا مطالعہ کیاجاسکتا ہے۔ ان افسانوں میں شہری تضادات کے ساتھ ساتھ انسان کی شخصیت کے دوہرے پن کو پیش کیا گیا ہے۔تاریخ ،قاضی صاحب کا ایک پسندیدہ موضوع ہے ،اس پر موضوع پر انھوں نے ناول بھی لکھے اور افسانے بھی تحریر کیے ۔تاریخی موضوعات پر مبنی افسانوں میں ’آنکھیں ،نیا قانون ،لہو کا عطر،چنگیز خاں کی موت ،سات سلام ‘ اور ’بھولے بسرے ‘ وغیرہ کا ذکر کیا جاسکتا ہے۔
قاضی عبدالستار نے شاعری بھی کی اور تنقید سے بھی ان کا سروکار رہا لیکن ان کے تخلیقی فور کااحساس ان کے فکشن میں نمایاں ہے ۔ناول ان کا خاص میدان ہے ،لیکن ان کے افسانے بھی موضوع اور فن کی کسوٹی پر کھرے اترتے ہیں ۔’ پیتل کا گھنٹہ ،رضوباجی ،مجو بھیا،ٹھاکر دوارہ ،روپا مالکن اور موجرا ان‘ کے کامیاب ترین افسانے ہیں ۔ ان کے ناولوں اور افسانوں میں ایک حد تک موضوعاتی مماثلت کہی جاسکتی ہے۔ تہذیبی قدروں کا زوال ان کے ناولوں میں بھی ہے اور ان کے افسانوں میں بھی زمینداری کے خاتمہ کے بعد اس سے پیدا شدہ صورتحال کی الم انگیز تصویر ملتی ہے ۔ لیکن افسانوں کے بالمقابل ان کے ناولوں میں تفصیل اور اجمال کے علاوہ قلم کار کے امکانی تصور کی جھلک بھی نظر آتی ہے ۔ ان کے بیشتر ناولوں اور افسانوں کا رشتہ ماضی سے ہم آہنگ نظر آتا ہے ،اس بنا پر قاضی صاحب کے فکشن کوتابناک ماضی کی بازیافت قرار دیاجاسکتا ہے۔ ایک بڑے تخلیق کار کی عظمت کا راز اس میں مضمر ہوتا ہے کہ وہ اپنی خلاقانہ بصیرت اور قوت تخئیل کی بدولت ہمارے گردوپیش کی ایسی دنیا خلق کرتا ہے جو تصوراتی اور تخیلاتی ہونے کے باوجود ہماری زندگی سے بہت قریب معلوم ہوتی ہے۔قاضی صاحب کی تخلیقات میں گم شدہ ماضی کے وہ روشن پہلو کلیدی اہمیت رکھتے ہیں جو کارزارحیات میں بھٹکے ہوئے آہو کو سوئے حرم لے جانے کا فریضہ انجام دیتے ہیں۔
قاضی عبدالستار نے 1947کے آس پاس لکھنا شروع کیااس وقت یہاں فکشن نگاروں کی ایک بڑی کہکشاں تھی جس میں راجندر سنگھ بیدی،کرشن چندر ،سعادت حسن منٹو،عصمت چغتائی انتظار حسین ،قرۃ العین حیدر ،رتن سنگھ ،جوگندر پال اور نیر مسعود ایسے نام ہیں جو فکشن کی دنیا کے آفتاب وماہتاب کہے جاسکتے ہیں ان کی موجودگی میں اپنی انفرادیت کو باقی رکھنا یقیناایک مشکل کام تھا لیکن قاضی صاحب کی خوداعتمادی یہاں بھی کام آئی اور وہ اس امتحاں میں بھی سرخرو ہوئے ۔فکشن نگاروں کی بھیڑ میں انھوں نے اپنے فن کا جادوبھی جگایا اور اپنی انفرادیت کو تسلیم بھی کروایا۔
قاضی عبدالستار کا پہلا ناول ’شکست کی آواز‘ ہے ،جو 1953میں شائع ہوا۔جبکہ 1961میں یہی ناول پاکستان میں ’دودِ چراغ محفل ‘ کے نام سے اشاعت پذیر ہوااور یہی ہندی میں 1962 ’ پہلا اور آخری خط‘عنوان سے منظر عام پر آیا۔اس ناول میں اترپردیش کے دیہات کو پیش کیا گیا ہے جو لکھنؤ کے مضافات میں واقع ہے ۔تصنیفی اعتبار سے اولین کاوش ہونے کے باوجود قاضی صاحب کا یہ ناول فنی کمزوریوں سے پاک ہے ۔موضوع ،کردار،منظر نگاری ،زبان وبیان اور مکالمے کے اعتبار سے اسے اردو کے کامیاب اور معیاری ناولوں کی فہرست میں رکھاجاتا ہے۔ ’شکست کی آواز ‘ کے منظر عام پر آنے کے بعد ان پر ماضی پرستی اور اقدار کی نوحہ گری کاالزام عائد کیاگیااور یہ کہا گیا کہ زمینداری کے خاتمہ کے باوجود قاضی صاحب اب بھی اسی ماحول کے متمنی ہیں۔قاضی صاحب کے دل ودماغ پر ان باتوں کا شدید اثر ہوا،جس کااظہار انھوں نے راشد انور راشد کو انٹر ویو دیتے ہوئے کیاہے:
’’اگر میرا پہلا ناول یعنی ’شکست کی آواز ‘Reactionaryہے ،تو یہ سب Reactionaryہے۔زمیندار جس کی حالت قابل رحم ہے ،وہ گاؤں کی عدالت ،پنچایت کے سامنے جیسے کٹہرے میں کھڑا ہوا ملزم ہے اور اس کے مقدمات کا فیصلہ آج وہی آدمی کررہا ہے جو اس کے سامنے کبھی بیٹھنے کی جسارت نہیں کر سکتا تھا۔اس Torcher(ٹارچر)کو میں نے افسانوں اور ناولوں میں پیش کیا ہے۔‘‘(قاضی عبدالستار :اسرارو گفتار،راشدانورراشد،عرشیہ پبلی کیشنز،2014،ص251 )
’شب گزیدہ ‘ قاضی صاحب کا دوسرا ناول ہے جو1962میں منظر عام پر آیا ۔فنی ادراکات کو بروئے کار لانے کی وجہ سے اردو ناول کے بہت سے نقادوں نے اس کو قاضی عبدالستار کا اہم ترین ناول قرار دیا ہے۔’شب گزیدہ ‘ میں زمیندارانہ نظام کے دور آخر کی المناک داستان بیان کی گئی ہے ۔اس میں زمینداری کے خاتمہ کے علاوہ اودھ کے تعلق دار اوروہاں کے مسلم حکمراں کی عبرت انگیز کہانی پیش کی گئی ہے ،جو دردناک ہے۔’شب گزید ہ ‘ خالص معاشرتی ناول ہے ،انھوں نے اس میں زمیندارانہ نظام کے کھوکھلے پن کو بے نقاب کیا ہے ۔قاضی صاحب نے زمیندارانہ نظام کی کبھی حمایت نہیں کی ،ان کا یہ بھی ماننا ہے کہ زمیندار اپنی حکومت اور چودھراہٹ کی بقا کے لیے شیطانیت کے ارزل واسفل ترین حربے کوبھی اپنا سکتا ہے ،حتیٰ کہ اپنے خونی اور حقیقی رشتے کی حرمت کو پامال بھی کرسکتا ہے ۔ذاتی مفاد اور حرص وہوس کی تکمیل کے لیے اپنے آبائی مسلک و مذہب کو تبدیل بھی کرسکتا ہے۔ قاضی صاحب کے لفظوں میں ’دنیا کے سب سے ظالم جانور کا نام زمیندار ہے ‘۔’شب گزیدہ ‘ ظلم وجبر اور قتل وغارت کے حقیقی واقعے پر مبنی ہے۔قاضی صاحب کے قر ب وجوار کے ایک رئیس نے زمام اقتدار کی بقا کے لیے اپنے حقیقی بیٹے کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔اس وحشت نا ک اور دردناک واقعے نے قاضی صاحب کو ’شب گزیدہ ‘ لکھنے کے لیے مجبور کردیا ۔اس میں قدیم افکارو خیالات کے ماننے والے زمیندارباپ اور نئے تصورات کے حامل بیٹے کی کشمکش اور تصادم کی کہانی بیان کی گئی ہے ۔ناول نگار نے اس میں یہ دکھایا ہے کہ جب بیٹا غالب آنے لگتا ہے، توباپ اسے زہر دے کر ابدی نیند سلادیتا ہے۔’شب گزیدہ ‘اودھ کے زمینداروں کی اقدار وروایات ،ان کے مزاج کے حسن وقبح اور ان کے گھریلو زندگی کی تفصیلات سے عبارت ہے۔ناول میں زمیندارانہ نظام کے طریق کار اور گھریلو اقدار وروایات اور واقعات کو ہنرمندی کے ساتھ اس طرح پیش کیاگیا ہے کہ کہیں جھول نظر نہیں آتا اور پورا ناول ایک واقعاتی تسلسل اور تہذیبی ڈور میں بندھا ہوا محسوس ہوتا ہے۔
معاشرتی اورتہذیبی ناولوں کے ساتھ ساتھ قاضی عبدالستار نے تاریخی ناول بھی لکھے ہیں۔ان کا تاریخی شعور انتہائی بالیدہ ہے ۔تاریخی ادراکات کو بروئے کار لاتے ہوئے انھوں نے ’ صلاح الدین ایو بی،خالد بن ولید ،داراشکوہ اور غالب ‘ تصنیف کیے۔ قاضی صاحب نے اپنے تاریخی ناولوں میں تخیل ،محاکات اور فضا آفرینی سے کام تو لیا ہے لیکن تاریخ کو زیادہ مسخ نہیں کیا ،انہوں نے سچائی کو بھی برقرار رکھا ہے اور یہی ان کی انفرادیت ہے۔قاضی صاحب کے تاریخی ناولوں پر بحث کرنے سے قبل اس بات پر گفتگو مناسب معلوم ہوتی ہے کہ ناول اور تاریخی ناول کے درمیان فرق کو سمجھا جائے ۔اس حوالے سے ایک انٹر ویو میں انھوں نے اپنے خیالات کا اظہارکرتے ہوئے کہا ہے:
’’ناول اور تاریخی ناول کا بنیادی فرق یہ ہے کہ ناول میں کرداروں کی تخلیق اور ان کی پیشکش میں تخیل بے محابہ ہوسکتا ہے ،لیکن تاریخی ناول میں ایسا نہیں ہوسکتا۔ناول میں جو کردار ہوتے ہیں وہ عام طورپر روز مرہ کی زندگی میں چلتے پھرتے نظر آتے ہیں اور انھیں کو ناول میں پیش کیا جاتا ہے جو قدرے آسان اس لیے ہوتا ہے کہ اس کے لاحقے اور سابقے سب آپ کی نظر میں ہوتے ہیں۔تاریخی ناول کا معاملہ یہ ہے کہ وہاں کوئی چیز نظر کے سامنے نہیں ہے۔سب الفاظ کے پردوں میں گم ہوتا ہے اور آپ کو وہ پردہ ہٹاکر کردار کی زندگی میں جھانکنا پڑتا ہے،اس کی اردگرد کی زندگی کو پیش کرنا ہوتا ہے ۔‘‘(قاضی عبد الستار:اسرار وگفتار،راشد انور راشد،عرشیہ پبلی کیشنز،2014،ص277)
تاریخی ناول لکھنے کے لیے ضروری ہے کہ ناول نگار سماں باندھنے کی صلاحیت رکھتا ہو ،اسے فضا تشکیل دینے کا سلیقہ آتا ہوجو اس کے خاص دور کے زمان ومکاں سے منسلک ہوتی ہے۔ قاضی عبدالستار نے فضا آفرینی کو تاریخی ناول کے لیے ریڑھ کی ہڈی سے تعبیر کیا ہے اورجو اس کی قوت نہیں رکھتا ،وہ تاریخی ناول نہیں لکھ سکتا ۔وہ کہتے ہیں :
’’فضا آفرینی تاریخی ناول کی ریڑھ کی ہڈی ہے ،اگر کوئی ناول نگار فضا کی تخلیق پر قادر نہیں ہے ،تووہ ناکام تاریخی ناول نگار ہے ۔فضا کی تخلیق کے لیے ضروری ہے کہ اس عہد کی چھوٹی سے چھوٹی تفصیلات اور معمولی سے معمولی جزئیات کا علم بھی ہواور اس کے انتخاب کا سلیقہ بھی ہو۔یہ تو سب جانتے ہیں کہ کیا لکھنا ہے ،یہ صرف بڑا ادیب جانتا ہے کہ کیا نہیں لکھنا ہے ۔‘‘(قاضی عبدالستار :اسرارو گفتار ،راشد انور راشد،عرشیہ پبلی کیشنز،2014،ص277)
مذکورہ تناظر میں قاضی صاحب کے ناولوں کے مطالعہ سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ قاضی صاحب کو منظر نگاری پر قدرت حاصل ہے ،موقع و محل ،حالات اور تقاضوں کے اعتبار سے وہ سیویشن کرییٹ کرسکتے ہیں۔ان کی اسی خوبی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پروفیسر محمد حسن لکھتے ہیں :
’’قاضی عبدالستار کو فضا کاجادو جگانے کا فن آتا ہے ،گوکہ ان کی ہمدردیاں واضح طورپر مرتے ہوئے جاگیردارانہ طبقے کے ساتھ ہیں ،جس کی وضعداری اور تہذیبی آ ب وتاب کو وہ فراموش نہیں کرپاتے۔‘‘( جدید اردو ادب ،محمد حسن،مکتبہ جامعہ ،نئی دہلی،1974،ص56)
قاضی عبدالستار نے تاریخی ناولوں میں عبدالحلیم شرر کی روایت کو زندہ کرنے کے باوجودزیب داستاں کے لیے تاریخی حقیقت میں الٹ پھیر سے کام نہیں لیا اور نہ ہی تاریخی حقائق کومسخ کیا،بلکہ سچائی یہ ہے کہ انھوں نے تخیل میں صداقت کے عنصر کو مد نظر رکھا۔ واقعات وحوادث کے اعتبار سے اردو کے بیشتر تاریخی ناول نگاروں (نسیم حجازی ،عنایت اللہ التمش ،اسلم راہی، صادق سردھنوی اور بشمول عبدالحلیم شرر)کے یہاں یکرنگی نظر آتی ہے ۔ان لوگوں نے اپنے ناول کے کردار صرف اسلامی تاریخ سے اخذ کیے جبکہ مطالعاتی وسعت کی بنیاد پر قاضی عبدالستارنے اسلامی تاریخ سے کرداروں کے انتخاب کے ساتھ ساتھ ہندوستان کی مغلیہ تاریخ سے’ داراشکوہ ‘اور اردو کے لافانی اور عالمی شاعر ’غالب ‘کو اپنے ناول کا حصہ بنایا۔
’صلاح الدین ایوبی ‘قاضی عبدالستار کا ایک مشہور تاریخی ناول ہے ،جس میں اسلامی تاریخ کے روشن کردار ،عظیم مجاہد اور فاتح کی زندگی کے اخلاقی پہلوؤں اور ان کی انسانی ہمدردیوں کو اختصاص کے ساتھ قلم بند کیا ہے۔اس میں صلاح الدین ایوبی کے دور کی اسلامی حکومت کے عروج اور صلیبی جنگوں کا احاطہ بھی نظر آتا ہے ۔ناول میں ہیرو کی شخصیت کی ایک ایسی تصویر نظرآتی ہے جس میں رحمدلی ،سخاوت،مروت اورکسر نفسی کو خاص اہمیت حاصل ہے ۔ناول نگار نے فنی وسائل سے کام لیتے ہوئے ہیرو کی شخصیت پر افسانوی رنگ چڑھایا ہے اور اس میں داستان ِ محبت کو شامل کرکے اسے دلچسپی سے ہم کنار کردیا ہے۔
ناول میں قاضی صاحب نے فلیش بیک کی تکنیک سے کام لیا ہے ،ناول کا پلاٹ گٹھا ہوا اور مربوط ہے۔ناول کو بے ربطی اور انتشار سے بچانے کے لیے پلاٹ میں منطقی ترتیب کا خاص خیال رکھا ہے۔واقعات کی ترتیب اور اس کے بیان میں حزم واحتیاط سے کام لینے کی وجہ سے ناول میں کشش اور واقعیت پیداہوگئی ہے۔اس میں دسویں صدی عیسوی کا دمشق اپنی تمام تر رعنائیوں کے ساتھ جلوہ گر ہے ،جسے پڑھ کر قاری کے دل میں اسلامی اقدار کو اپنانے کی للک شدت اختیار کرلیتی ہے۔صلاح الدین ایوبی کا امارت وسیادت سے تعلق رہنے کے باوجود دنیا سے ان کا سروکارمسافروں جیساتھا، موت کے بعد ان کی زندگی کا کل سرمایہ صرف سات دینار تھا جو ان کی تجہیز وتکفین میں خرچ ہوا ،صلاح لدین ایوبی نے ایک آٹیڈیل زندگی گزاری،وہ قوم کا سچا خادم تھا اوران کی زندگی قوم کی خدمت سے عبارت تھی۔
’داراشکوہ ‘(1967)بھی قاضی صاحب کا ایک تاریخی ناول ہے جس میںعہدِ وسطیٰ کے ہندوستان میں خیر وشر کے تصادم کو روشن کیا گیا ہے۔امارت وملکیت پر غاصبیت کے علاوہ دو نظریے کے تصادم کو بھی اس میں پیش کیا گیا ہے۔ناول میں دونوں بھائیوں( داراشکوہ اور اورنگزیب) کے درمیان ہونے والی جنگوں کی تفصیلات کے علاوہ داراشکوہ کی سادہ لوحی اور اورنگ زیب کی مصلحت پسندی کے بہت سے واقعات بیان کئے گئے ہیں جن سے ان کی طبیعت کی کجی سامنے آتی ہے۔ناول کی قرأت سے دارا شکوہ کی شخصیت کے اخلاقی پہلو سامنے آتے ہیں،جبکہ قاضی صاحب نے اورنگزیب کو عیار ،غاصب ،مصلحت پسند ،چالاک اور سازشی قرار دیا ہے جو مختلف ہتھکنڈے اپناکر اپنے بھائیوں کی ملکیت پر قبضہ کر لیتا ہے ۔ناول کے مطالعے سے داراشکوہ کی ایسی بھولی بھالی شخصیت سامنے آتی ہے جو حکومت کی مصلحت سے عاری ہے ،تبھی تو وہ اپنے مشیروںاور مولویوں کی اس بات پر یقین کیے بیٹھا تھا جناتوں کی ایک فوج اس کی مدد کے لیے آئے گی اور قندھار فتح کرکے اس کے حضور پیش کردے گی۔ قاضی صاحب کا یہ ناول اس طور سے اہم ہے کہ اس میں انہوں مذہبی عقیدتوں سے اوپراٹھ کر انسانی دردمندی کی بنیاد پر ایسی شخصیت کو ہیرو بنایا جواخلاقیات کا حامی اور خیرسگالی کا خواہاں ہے ۔داراشکوہ کی انسانی دردمندی،کسر نفسی اورانسانیت نوازی سے متاثر ہوکر قاضی صاحب نے فنی ادراکات کو بروئے کار لاتے ہوئے یہ ناول رقم کیا ۔
’غالب‘ قاضی عبدالستار کا تیسرا تاریخی ناول ہے جو 1986میں منظر عام پر آیا۔یہ ان کا مشہور اور منفرد ناول ہے جسے انھوں نے مرحوم صدر ِ جمہوریہ فخرالدین علی احمد کی فرمائش پر تصنیف کیا۔اس ناول میں قاضی صاحب نے ڈومنی کی بجائے ایرانی نژاد رسالدار حسین کی بیوہ ترک بیگم کا ذکر کیا ہے جس سے غالب عشق فرماتے تھے،وہ انتہائی خوبرو اور پری پیکر تھی اورشاعری میں غالب سے اصلاح لیا کرتی تھی۔غالب اور ترک بیگم کے درمیان معاشقے کی یہ داستان غالب کے خاندان سے متعلق بیگم حمیدہ سلطان نے بیان کیا ہے۔قاضی صاحب کا یہ ماننا ہے کہ غالب جیسا مغرور اور مغل تہذیب کا نمائندہ شاعر ڈومنی کی شہوت میں مبتلا تو ہوسکتا ہے لیکن اسے محبوبہ کا درجہ نہیں دے سکتا۔ناول میں غالب کا کردار بے حس اور خود غرض انسان کے طور پر سامنے آتا ہے جسے اپنی شریک حیات کے دکھ درد سے کوئی واسطہ نہیں۔البتہ اس ناول کے ذریعے سلطنت مغلیہ کے زوال اوراس عہد کے سیاسی ،سماجی اور معاشرتی مرقعے ضرور دیکھے جاسکتے ہیں۔
’خالد بن ولید‘قاضی صاحب کا چوتھا تاریخی ناول ہے جو 1995میں اشاعت پذیر ہوا۔اسلامی تاریخ کا عظیم جرنیل حضرت خالد بن ولید جن کی فتوحات کا ایک طویل سلسلہ ہے ۔انھوں نے کم و بیش سو جنگیں لڑیں اور ہر محاذپر کامیابی نے ان کی قدم بوسی کی۔لیکن خلیفہ دوم حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے منصب خلافت پر فائز ہوتے ہی اس عظیم جرنیل کو بغیر کسی عذرکے اس منصب جلیلہ سے معزول کردیا۔ناول میں خالد بن ولید کے کردار کی عظمت کو قاضی صاحب نے اس طور بیان کیا ہے کہ اگر وہ بغاوت پر آمادہ ہوجاتے تو عرب میں قیامت صغریٰ نازل ہوجاتی لیکن انھوں نے ایسانہیں کیا اور امیر المومنین کی اطاعت کو اپنے اوپر لازم گردانا ۔پوری اسلامی تاریخ میں ایسی کوئی مثال نہیں ملتی جس نے ملت کو انتشار سے بچانے کے لیے اتنی بڑی قربانی دی ہو۔قاضی صاحب نے یہ بھی لکھا ہے کہ ’اتنا بڑا جنرل ،اتنا بڑا سپاہی محض ملت کے نظم و نسق کے لیے اپنی توہین گوارہ کرلے اس کی بھی نظیر نہیں ہے۔‘
قاضی عبدالستار نے تاریخی ناول میں کسی تقلید یاتتبع نہیں کی۔ان کے ناولوں کے بیشتر موضوعات اسلامی تاریخ سے لیے گئے ہیں ۔ان موضوعات کے برتنے میں انھوں نے کمال فن کاثبوت دیا ہے ۔ان کی یہی انفرادیت ہے جو انھیں تاریخی ناول نگاروں کی فہرست میں ممتاز مقام پر فائز کرتی ہے ۔
’پیتل کا گھنٹہ ‘ قاضی عبدالستار کا افسانوی مجموعہ ہے جس میںافسانوں(پیتل گھنٹہ ،مالکن ، رضو باجی) کے علاوہ ناولٹ ’مجو بھیا‘بھی شامل ہے، جو 1963ء میں حسن طباعت سے آراستہ ہوا۔افسانوں میں زمیندارانہ نظام کے زوال کے ساتھ ساتھ، اُس نظام کی خامیاں پیش کی گئی ہیں۔قلم کار نے اس جانب بھی اشارہ کیا ہے کہ زمیندارجابروظالم ہوتا ہے جو اپنی جھوٹی انا کی تسکین کے لیے دوسروں کو قربان کرسکتا ہے۔اگر اسے کسی کا گھوڑا یا ہاتھی پسند آجائے تو اسے حاصل کرنے کے لیے دوسروں کے آباد وشاد گھروں کو اجاڑنے سے دریغ نہیں کرتا ۔ناولٹ ’ مجو بھیا ‘ کا مرکزی کردار ایک ایسا نوجوان ہے جسے کسی رئیس کا گھوڑا پسند آجاتا ہے اور وہ اسے حاصل کرنے کے لیے رئیس کو قتل بھی کردیتا ہے۔اس ناولٹ کی پوری کہانی گھوڑے کے حصول اور زمام اقتدار کے ارد گرد گھومتی ہے۔زمینداروں کی خودغرضی اور مفاد پرستی کی وجہ سے ان کی رعیت میں فرقہ واریت کیسے جنم لیتی ہے اور اس فرقہ وارانہ تنازعات کی وجہ سے سماج کے حاشیائی کرداروں اور پس ماندہ طبقات کے ہونے والے نقصانات کو اس میں پیش کیاگیا ہے۔
’بادل ‘(1965)قاضی صاحب کا یہ ایک ناولٹ ہے ،اس میں ’بادل ‘کا استعمال جاگیردارای کاخاتمہ اور سرمایہ داری کی ابتداکی علامت کے طور کیاگیا ہے۔اس میں یہ بھی پیش کیا گیا ہے کہ انا کا تصادم اور کشمکش کے نقصانات بہت شدید ہوتے ہیں۔اس کی وجہ سے بہت سے آبادوشاد گھرانے تباہ وبرباد ہوجاتے ہیں۔اس میں بھی یہی ہوا ہے کہ ایک زمیندار کو دوسرے زمیندار کا ہاتھی پسندآجاتا ہے ،اسے حاصل کرنے کے لیے دوسرے خاندان میں شادی کرتا ہے اور مقصد کی تکمیل کے بعد اپنی منکوحہ کو چھوڑ دیتا ہے۔ہاتھی کی نحوست کی وجہ سے دو خاندان تباہی کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں۔کہانی میں اختصار سے اس کے حسن میں اضافہ ہوتا لیکن مصنف نے ایسا نہیں کیا۔ غیر ضروری طوالت کی وجہ سے کہیں کہیں قاری کو اکتاہٹ محسوس ہونے لگتی ہے۔باقر مہدی لکھتے ہیں:
’’کہانی مختصر ہوسکتی تھی مگر قاضی عبدالستار بنیادی طورپر ناول نگار ہیں ،ناول نگار الفاظ کی فضول خرچی بہت کرتے ہیں۔ان کی کہانی میں کئی جگہ جیسے بچوں کو فارسی کی تعلیم ،ہسپتال کا طویل ذکر وغیرہ نہ ہوتے تو اچھا ہوتا ۔پھر بھی کہانی میں جان ہے ۔زمانہ گزرگیا مگر یہ آج بھی مطالعے کے قابل ہے ‘‘۔(نذر قاضی عبدالستار،ترتیب محمد غیاث الدین،ص197) لیکن اس کے باوجود ناولٹ کی فنی عظمت اور اس کے موضوع کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا ۔ناولٹ کے تعلق سے وارث علوی نے جورائے دی ہے اس سے بھی کتاب کی اہمیت ظاہر ہوتی ہے۔وہ لکھتے ہیں: ’’بادل ،قاضی عبدالستار کا سب سے رفیع الشان ناولٹ ہے ۔‘‘
’غبار شب ‘قاضی صاحب کا ایک ناولٹ ہے جو 1966میں حسن طباعت سے آراستہ ہوا۔ قاضی صاحب کایہ ماننا ہے کہ زمینداراپنی ملکیت کی بقا کے لیے کسی بھی حربے کو اپنا سکتا ہے۔تحویل قبلہ کا معجزہ بھی اس سے رونما ہوسکتا ہے۔اس میں یہی پیش کیاگیا ہے کہ ایک زمیندار اپنی زمینداری کو بچانے کے لیے مذہب کی تبدیلی سے بھی گریز نہیں کرتا۔تقسیم اور فسادات کا ضمنی ذکر بھی اس میں ملتا ہے ،البتہ ہندومسلم تنازع اور تقسیم ہند کے نتیجے میں پھوٹ پڑنے والے فسادات کے بیان میں وہ کوئی جدت نہیں پیداکرسکے ،جس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فکشن نقاد وارث علوی لکھتے ہیں:
’’قاضی عبدالستار نے ہندو مسلم تنازع ،تقسیم ہند اور فسادات کا جو ڈرامہ اس میں پیش کیا ہے ،وہ آرکی ٹائپ کی شکل اختیار کرگیا ہے۔ایک ہی پیٹرن ہے جو وقت اور مقام کے اثرات کے تحت تھوڑی سی تبدیلیوں کے ساتھ ہر جگہ ظاہر ہوتا ہے۔‘‘(نذر قاضی عبدالستار:مرتب محمد غیاث الدین ،ایجو کیشنل پبلشنگ ہاؤس ،دہلی2006،ص225)
’حضرت جان ‘(1990)یہ ایک جنسی ناول ہے جس میں پرانی دلّی کے دومتوسط مسلم خاندان کی سات لڑکیوں کی اخلاقی پستی اور جنسی بے راہ روی کی کہانی پیش کی گئی ہے۔لڑکیوں کی اس ضلالت اور جسم فروشی کے اس کھیل میں سماج کے چند مسلمانوں کے علاوہ ان کی ماں بھی شامل ہے ۔یہ لڑکیاں عرب شیوخ کی خدمت میں پیش کی جاتی ہیں۔حضرت جان ناول مرکزی کردار ہے جو عرب شیوخ کی عیش کوشی کا سامان فراہم کرتا ہے۔ناول کے تعلق سے پروفیسر محمدغیاث الدین کی رائے ملاحظہ کریں:
’’حضرت جان کا ہر صفحہ آگ ہے ۔یہ آگ قاری کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے اور قاری آخری صفحے تک آگ کے دریا میں تیرتا رہتا ہے ۔اس آگ کے شعلوں میں دلّی کے دومتوسط طبقے کے مسلم خاندان خاکستر ہوجاتے ہیں ۔جہاں سات لڑکیوں کو اس طرح بربادو خراب کیا جاتا ہے کہ وہ کسی کو اپنا منھ نہیں دکھا سکتیں۔‘‘(نذر قاضی عبدالستار:محمد غیاث الدین ،ص،340)
ناول میں پرانی دلّی کے مسلمانوں کی اخلاقی پستی کے علاوہ عرب شیوخ کی جنسی بے راہ روی اوران کی عیاشی کو بھی طشت ازبام کیا گیا ہے اور یہ بتایا گیا ہے کہ وہ بھی حددرجہ اخلاقی پستی کے شکار ہیں۔وہ دادعیش کے لیے ہندوستان کا رخ کرتے ہیں جبکہ ان کی بیویاں جنسی تکمیل اور اولاد کی حصولیابی کے لیے فرنگیوں کے محلات کی زینت بنتی ہیں۔ناول میں منظر کشی غضب کی ہے ،قاضی صاحب الفاظ کے دروبست سے عیش کوشی کی ایسی تصویریں پیش کرتے ہیں جیسے قاری ایڈلٹ فلم دیکھ رہاہو۔
’تاجم سلطان ‘(2005)یہ ایک سوانحی ناول ہے جو مصنف کے تجربات ومشاہدات اور ان کے افکارو نظریات پر مشتمل ہے۔اس میں قاضی صاحب نے تاجم سے محبت اور اس سے شادی کی داستان کو بیان کرنے کے ساتھ ساتھ جاگیردارانہ نظام اور اس کے اقدار وروایات کوبھی پوری شدومد کے ساتھ پیش کیاہے۔تاجم سلطان کااصل نام زمن آرا تاج سلطان ہے ،جو والیٔ اکبر پور نصیر آبادکے نواب منصورعلی خاں تاج کی اکلوتی وارث ہے۔تاجم آکسفورڈ یونیورسٹی لندن سے گریجویشن کی ڈگری حاصل کرنے کے باوجود پوری طرح مشرقی آداب وروایات کی پابند ہے۔
قاضی صاحب کو تہذیب کی ترجمانی میں ید طولیٰ حاصل ہے۔خاص طور پر جاگیردارانہ جاہ وجلال ،مغلوں کی تہذ یب وثقافت ،سماجی اور معاشررتی اقدار وروایات کا باریک بینی سے جائزہ لیاہے۔ اس ناول میں مغلیہ وتہذیب وتمدن اور اس کی زوال آمادہ قدروں کی جھلک بخوبی محسوس کی جاسکتی ہے۔
قاضی صاحب اپنے معاصرین میں انداز بیان میں ندرت اور پرشکوہ اسلوب بیان کی وجہ سے ممتاز قرار دیے جاتے ہیں۔ان کے اسلوب میں گھن گرج،شان وشوکت ،جاہ و جلال اور انانیت وخطابت کا وہ رنگ نظر آتا ہے جو دوسروں کو مرعوب بھی کرتا ہے اورمتاثر بھی۔درج ذیل اقتباسات میں قاضی صاحب کی نثر کی سحر انگیزی ،دلآویزی ،حسن بیان اور ان کی رنگینی تحریر کو بخوبی دیکھا جاسکتا ہے۔
’’اگر بادشاہ سے اس کا تخت چھن جائے ،اگر سپاہی کی تلوار ٹوٹ جائے ،اگر ادیب کا قلم سوکھ جائے تو زندگی موت سے بد تر ہوجاتی ہے۔ِ‘‘(تاجم سلطان ،قاضی عبدالستار،ص،200-201)
’خوشامد اداروں کو کھاجاتی ہے۔خانوادوں کو ہضم کرلیتی ہے ،قوموں پر ادبار لاتی ہے ،سلطنتوں کو تباہ کردیتی ہے۔‘‘(تاجم سلطان،قاضی عبدالستار،ص194)
’’وہ سامنے کھڑی تھیں جیسے آگ کا بوٹا لہلہارہا ہو،جیسے سرو زریں لعل وجواہر سے پھولا پھلا کھڑا ہو۔۔۔۔۔۔۔۔وہ ہماری طرف بڑھیں جیسے آسمان پر پھولی ہوئی شفق رات کے اندھیرے پر جھک رہی ہو۔‘‘(تاجم سلطان،قاضی عبدالستار،ص309)
حاصل کلام یہ کہ قاضی صاحب کا ’تاجم سلطان ‘ان کی حیات کا ایک مرقع ہے جس میں ان کی زندگی کے معمولات اوران کے افکارونظریات کو بخوبی محسوس کیاجاسکتا ہے۔
غرض قاضی عبدالستار نے موضوع اور فن کے اعتبار سے اردو ناول کو وہ سمت ورفتار عطا کی جس کی طرف ان کے متقدمین میں کسی نے توجہ نہیں دی۔لیکن اس کے باوجود اردو کے نقادوں نے ان کی فکروفن سے مکالمہ کی زحمت گوارہ نہیں کی ،ان کے ساتھ تعصب آمیز رویہ اختیار کیا۔جب کہ ان کے کئی ناولوں کو عالمی معیار کے ناولوں کے زمرے میں رکھا جاسکتاہے:
’’اردو کی معتبر نقاد ممتاز شیریں نے ’داراشکوہ ‘ کے حوالے سے کہا کہ یہ اردو کا پہلا ہسٹوریل ناول ہے جو عالمی معیاروں پر پورا اترتا ہے۔پروفیسر احسن فاروقی نے لکھا کہ قاضی عبدالستار کے ناولوں سے عالمی معیاروں کی خوشبو آتی ہے۔پروفیسر محمد حسن نے لکھا کہ قاضی عبدالستار کی عظمت کو ہم اس لیے نہیں سمجھ پارہے ہیں کہ وہ ہمارے بیچ زندہ ہے۔‘‘(جھوٹ بولنے کے لیے ہے ،لکھنے کے لیے نہیں :ڈاکٹر پریم کمار،مترجم محمد غیاث الدین،نذر قاضی عبدلستار،ص،438-439)
قاضی عبدالستار اردو فکشن کے ایک لیجنڈ تھے ،ان کے افسانوں اور ناولوں کو پڑھیے تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ایک شاندار قوم کی سلطنت اور تہذیب گرچہ بساط عالم سے اجڑ گئی لیکن قاضی عبدالستار کی افسانوی دنیا میں از سرِ نو قائم ودائم ہوگئی۔
٭٭٭٭٭٭
پوسٹ ڈاکٹریٹ فیلو
شعبہ ٔ اردو ،جامعہ ملیہ اسلامیہ،نئی دہلی
noman.qaisar@gmail.co
cell no.8076199053/
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

