Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
افسانہ

رن نیتی  – ساجد حمید

by adbimiras نومبر 2, 2020
by adbimiras نومبر 2, 2020 2 comments

لکشمی ناراین جی بستر پر کروٹیں بدلتے رہے۔ نیند آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔

اگنی کے سات پھیرے، ساتھ جینے مرنے کی قسمیں کھانے سے کیا ہوتا ہے۔ بھگوان کا بلاوا آتا ہے تو سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر جانا ہی پڑتا ہے، وہ بھی چلی گئی دنیا سے جوجھنے انہیں تنہا چھوڑ کر۔ سچ ہے کسی شے کی قدر کا احساس اسے کھونے کے بعد ہی ہوتا ہے۔ انہیں بیوی کی یاد اتنی شدت سے کبھی نہیں آئی تھی جتنی کہ آج۔۔۔وہ بار بار چق اٹھا کر دیکھتے  اور سونے کی کوشش کرتے رہے۔ ان کی بیچینی کو دیکھ کر آخر کار نیند کی دیوی کو ترس آ ہی گیا۔

جب آنکھ کھلی تو سورج نکل آیا تھااور کرنیں دریچے سے گزر کر ان کی مسہری تک آ پہنچی تھیں۔ وہ ہڑ بڑا کر اٹھے۔ جلدی سے کپڑے درست کئے اور سیدھے غسل خانے کا رخ کیا۔درد سے سر پھٹا جا رہا تھا۔ آنکھیں بوجھل تھیں اور بدن کا جوڑ جوڑ دکھ رہا تھا۔ وہ اپنے آپ کو بے حد کمزور محسوس کرنے لگے اور ایک لمحے کے لئے سوچا، کیا میں بوڑھا ہو گیا ہوں؟؟ دوسرے ہی پل انہوں نے اس خیال کو ذہن سے جھٹک دیااور غسل خانے میں داخل ہو گئے۔

کافی دیر تک وہ نہاتے رہے، گرم پانی بدن کو فرحت اور جوڑوں کو سکون بخش رہا تھا۔غسل خانے سے وہ باہر نکلے تواپنے آپ کوبہت ہلکا پھلکا محسوس کیا۔ لیکن سر ابھی بھاری تھا۔ پوجا پاٹ سے فارغ ہو کر ناشتہ کیا، گرما گرم چائے کے دو کپ نوش کئے اور پان کی گلوری منہ میں رکھتے ہوئے باغ کی طرف چل پڑے۔

انہیں اپنے باغ سے والہانہ لگاؤ تھا۔ ہر پیڑ کو اپنی سنتان سمجھتے تھے، کیوں نہ سمجھتے بچوں کی مانند انہیں پال پوس کر بڑا جو کیا تھا۔لانبے لانبے چھریرے پیڑ، خوشبوؤں سے لدے، جھومتے ہوئے، ایک دوسرے سے بوس و کنار ہوتے تو انہیں دیکھ کرانکی آنکھیں چمک اٹھتیں اور بدن میں حرارت سی آ جاتی۔ باغ سرکاری جنگل کے بیچوں بیچ تھا اور اس کے دونوں جانب گنگناتے ہوئے جھرنے تھے، چاروں جانب سدا بہار پیڑ لگا دئے گئے تھے تا کہ سورج کی تیز روشنی  سپیاری کے کومل پیڑوں کو جھلسا نہ دے۔

باغ میں صرف چار مزدوروں کو کام پر لگے دیکھ کر انہیں اچنبھا ہوا ۔ پوچھا باقی مزدور کہاں ہیں؟ جواب ملا کریا کے ساتھ ساتھ وہ بھی گئے۔۔۔۔کیا مطلب؟ گئے کا مطلب نہیں آئیں گے۔ کسی نے دل میں ہنستے ہوئے جواب دیا۔ وہ جھنجلا گئے، باغ کا سارا کام ادھورا پڑا ہوا تھا۔ پیڑوں کو مٹی دینی تھی، گھاس چھیلنی تھی، خوشوں پر دوائی کا چھڑکاؤ ہونا تھا، کھاد ڈالنی تھی اور یہ ان چار مزدوروں کے بس کی بات نہیں تھی ۔ انہیں کریا  پر بہت غصہ آیا۔ لیکن کرتے بھی کیا صبر کے سوا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سپیاری کاباغ پندرہ ایکڑ اراضی پر پھیلا ہو تھا اور اس کی دیکھ بھال کے لئے دس مزدور سال بھر چاہئے تھے۔ انہیں تشویش ہو رہی تھی کہ اگر مزدور لوٹ کر نہیں آئے تو دیکھ بھال نہیں ہو گی اور فصل برباد ہونے کے ساتھ ساتھ باغ بھی اجڑ جائے گا۔ جب سے قریوں میں سڑکیں بننے لگیں مزدوروں کا کال پڑ گیا تھا ۔ اب مزدور کہاں سے لاتے جبکہ مستقل طور پر مامور مزدور ہی کام  چھوڑ کر جارہے تھے۔ ( یہ بھی پڑھیں سہرا – فیصل ہاشمی )

دس سال قبل آٹھ ایکڑ پر لگایا ہوا باغ اب تقریباً دوگنا ہو گیا تھا۔ کارن کچھ بھی ہو۔۔۔۔باغ کو دوگنا کرنے میں کیا کچھ نہیں کرنا پڑا۔ یہ ان کا دل ہی جانتا تھا۔ کچھ محنت اور کچھ چالاکی سے ہر سال باغ سے متصل سرکاری زمیں کچھ اس طرح ہڑپ لیتے تھے کہ کسی کو کانوں کان خبر نہیں پڑتی تھی۔ ایک دن جب کسی نمک خوار کو حق نمک ادا کرنے کی سوجھی تو اس نے محکمئہ جنگلات کے افسروں سے شکایت کردی تھی۔ ان کے خلاف ۔۔ پھر کیا تھا آئے دن کوئی نہ کوئی افسر ان کا دروازہ کھٹکھٹانے لگا ۔ سچ پوچھئے تو ان کے دانتوں تلے پسینہ آگیا تھا۔ کچھ اپنے اثر و رسوخ کی بدولت، کچھ ذات پات کا وسیلہ لے کر اور کچھ دے دلا کر گلو خلاصی ہوئی تھی۔ ورنہ لینے کے دینے پڑ جاتے۔ اتنی محنت سے لگائے ہوئے باغ کو کیا یونہی اجڑنے کے لئے چھوڑ دیتے۔ ویسے بھی ان کا دانہ پانی اسی باغ سے جڑا ہوا تھا۔

کل کریا نے جب کہا کہ وہ کام پر نہیں آئے گا کیونکہ سرکار نے اسے تین ایکڑ زمین عطا کی ہے تو ان کی آنکھوں میں خون اتر آیا تھا، پیڑھیوں سے ہاتھ باندھے، نظریں جھکاکر کھڑے ہونے والے جب ایسی باتیں کرنے لگیں تو غصہ کسے نہیں آتا۔ وہ تو خیر ہوئی کہ انہوں نے اپنے آپکو قابو میں رکھا۔ ورنہ خون خرابے میں کیا دیر تھی۔ کہدیا تمہاری مرضی۔۔۔انہیں کیا پتہ تھا کہ وہ اپنے ساتھ ساتھ دیگر مزدور بھی لے جائے گا۔ انہیں رہ رہ کر پنچایت راج پر غصہ آ رہا تھا کہ یہ سب کچھ اسی کا کیا دھرا تھا ورنہ کیا مجال جو  مزدور اپنے مالک سے اس طرح باتیں کرتے۔

باغ کے معائنے کے بعد جب وہ گھر لوٹے تو کافی فکر مند تھے۔ انہوں نے ہاتھ منہ دھویا، چھاچ پی اور اخبار لے کر برآمدے میں بیٹھ گئے۔ گو ان کی نظریں اخبار پر جمی ہوئی تھیں لیکن ذہن کسی اور طرف تھا۔ سو چ رہے تھے کہ کریا کو کیسے سبق سکھایا جائے ۔ اس بات کا انہیں احساس تھا کہ وقت بدل چکا ہے اور مزدوروں کو قابو میں رکھنا اتنی آسان بات نہیں رہی۔

سوچتے سوچتے دوپہر ہو گئی، انہوں نے بے دلی سے کھانا زہر مار کیا، بس ایک ہی فکر تھی کہ کسی طور کریا کو راضی کر لیا جائے کچھ اس طرح کہ ان کی  ساکھ بھی بنی رہے اور مسئلہ بھی حل ہو جائے۔ کھانے کے بعد وہ اپنے کمرے میں چلے گئے تاکہ تھوڑی دیر آرام کر لیں ۔ رات بھر کی جگار کے باوجود انہیں نیند نہیں آئی۔ آتی بھی کیسے جبکہ سوال ان کی ساکھ اور خاندان کے مستقبل کا تھا۔ یونہی کچھ دی آنکھیں موندے بستر پر پڑے رہے۔ جب دیوار گیر گھڑی نے چار بجنے کا اعلان کیا وہ برآمدے میں آکر بیٹھ گئے۔ سر میں درد اب بھی محسوس ہو رہا تھا۔ انہوں نے بہو کو آواز دی اور چائے کی فرمائش کی۔ جب تک چائے آتی وہ چھالیا کترتے رہے۔ چائے پینے کے بعد انہیں کچھ راحت ملی۔ پان کی گلوری منہ میں دبائے وہ آرام کرسی پر نیم دراز ہو گئے۔ ان کے ذہن میں کئی منصوبے ابھر رہے تھے ڈوب رہے تھے۔

اس دوران ان کا بیٹا گنپتی، جو شہر گیا تھا لوٹ آیا اور اپا جی کو خلافِ معمول برآمدے میں کرسی پر نیم دراز دیکھ کر سٹپٹا گیا۔

انہیں تو اس وقت اپنے کمرے میں ہونا چاہئے تھا۔ یہ سوچتے ہوئے وہ دبے پائوں اندر داخل ہوا اور بیوی سے پوچھنے لگا۔ماجرا کیا ہے؟ بیوی نے بتایا کہ کوئی خاص بات نہیں۔ اس نے گہری سانس لی۔ اسے بہت بھوک لگی تھی، بیوی سے کھانا پروسنے  کے لئے کہہ کر ہاتھ منہ دھونے چلا گیا ۔کھانے سے فارغ ہو کر اس نے چائے پی تو توانائی لوٹ آئی۔ سوچنے لگا کہ بات کیا ہو سکتی ہے۔ کہیں مجھ سے کوئی غلطی تو نہیں ہوئی؟ ابھی وہ کچھ اور سوچنے نہیں پایا تھا کہ اپا جی نی اسے آواز دی۔ وہ ہڑ بڑا کر اٹھا او ر اپا جی کے روبرو حاضر ہو گیا۔ جب انہوں نے اسے بیٹھنے کے لئے کہا تو اس کی جان میں جان آئی کہ وہ اس سے ناراض نہیں ہیں بلکہ بات کچھ اور ہے۔ وہ ہمہ تن گوش ہو کر بیٹھا رہا۔ کچھ دیر تک خاموشی چھائی رہی۔ انہیں سوجھا نہیں جا رہا تھا کہ شروعات کہاں سے کریں۔ گنپتی کو وہ اب بھی بچہ سمجھتے تھے حالانکہ وہ دو بچوں کا باپ بن چکا تھا۔ اسی لئے وہ کچھ کہنے سے قبل وچار کر رہے تھے۔ انہوں نے تا حال کسی سے، کسی بھی موضوع پر تبادلۂ خیال نہیں کیا تھا۔ یہ ان کا مزاج تھا، فطرت تھی۔ لیکن آج مجبور تھے انہوں نے تفصیل سے کریا اور دیگر مزدورں کے کام پر نہ آنے کی بات اور وجہ بتلائی۔اور یہ بھی ذہن نشین کروادیا کہ اس مسئلے کا حل یوں ڈھونڈا جائے کہ سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے۔

رات بھر دونوں اپنے اپنے طور پر مسئلے کا حل ڈھونڈتے رہے۔ گنپتی کے لئے اپنے آپ کو ثابت کرنے کا ایک سنہری موقع تھا لیکن ناتجربہ کار اور تھوڑا  سا لاپرواہ  ہونے کی وجہ وہ ایک حد سے آگے سوچ ہی نہیں پا رہا تھا۔

صبح باپ بیٹے نے اکھٹے ناشتہ کیا۔ اس کے فوری بعد وہ اسے لے کر اپنے کمرے میں گئے اور پوچھا ۔ کیا سوچ رکھا ہے۔گنپتی ہچکچاتے ہوئے بتانے لگا۔ کریا کو زیادہ مزدوری کا لالچ دے کر واپس بلایا جا سکتا ہے اسکے سوا کوئی چارہ نہیں۔بیٹے کے بھولپن پر وہ مسکر ائے بغیر نہ رہ سکے۔ کیونکہ معاملہ صرف روپے کا نہیں تھا بلکہ انا اور آزادی کا تھا۔ اگر اتنی سی بات تھی تو میں کیوں  پریشان ہوتا ۔ انہوں نے بیٹے کے چہرے پر نظریں گاڑتے ہوئے کہا۔ گنپتی کے چہرے پر پسینے کی ننھی ننھی بوندیں اگ آئیں۔۔۔۔یہ مسئلہ اتنا آسان نہین جتنا کہ تم سمجھ رہے ہو۔ یہ کہتے ہوئے انہوں نے جو منصوبہ بنایا تھا اس کی تفصیل بتانے لگے۔انہیں یقین تھا کہ اس رن نیتی سے ان کی نیا پار لگ جائے گی۔

رات دیر گئے تک وہ اپنے منصوبے کے بارے میں از سرِ نو غور کرتے رہے ۔جب انہیں یقین ہو گیا  کہ اس میں کوئی خامی نہیں ہے تو  اطمینان سے بستر پر دراز ہو گئے۔

صبح پوجا پاٹ سے فارغ ہو کر لکشمی ناراین جی بیٹے کو لے کر باغ کی طرف روانہ ہو گئے۔ راستے میں وہ اپنے منصوبے کے بارے میں مزید تفصیلات بتاتے اور ضروری باتیں ذہن نشین کراتے رہے۔ یہ بھی سمجھا دیا کہ اسے کون سا رول ادا کرنا ہے۔ باغ میں تھوڑا وقت گزارنے کے بعد گنپتی کو وہیں چھوڑ کر انہوں نے کریا کی کٹیا کا رخ کیا۔

کریا ابھی ابھی لوٹا تھا انہیں آتا دیکھ کر دوڑا دوڑا چلا آیااور ہاتھ جوڑ کر نمسکار کرنے کے بعدسراپا سوال بن کر کھڑا ہو گیا۔ لکشمی ناراین کی آنکھوں میں چمک عود کر آئی۔ خیریت دریافت کرنے کے بعد انہوں نے اپنائیت بھر لہجے میں پوچھا۔ کریا تمہاری زمین کہاں ہے ذرا ہم بھی تو دیکھیں۔۔۔۔

اس اچانک سوال سے کریا گڑبڑا گیا۔۔۔کہنے لگا کیوں نہیں بودی چلئے یہیں قریب ہے۔

زمین خود رو جھاڑیوں سے ڈھکی ہوئی تھی۔ اگر تھوڑی بہت محنت کی جائے تو کاشت کے قابل ہو سکتی تھی۔ انہوں نے سوچا ۔ کریا محنتی آدمی ہے اگر اسے مہلت دی گئی تو پھر وہ ہاتھ نہیں آئے گا۔ لہٰذا انہوں نے اس کی حوصلہ شکنی کرتے ہوئے کہا ۔ یہ تو بنجر ہے۔ اس پر کافی محنت کرنی پڑے گی کریا۔

ہاں بودی وہ تو ہے۔ ہم میاں بیوی جی جان سے محنت کریں گے اور اسے کاشت کے قابل بنا کر ہی دم لیں گے۔ کریا کی خود اعتمادی دیکھ کر ان کا ماتھا ٹھنکا۔ دل ہی دل میں کہنے لگے۔ ہم تمہیں کام کرنے دیں تب نا۔۔۔۔۔۔۔۔۔لیکن ہونٹوں سے کہا ۔۔ہا ں ہاں کیوں نہیں ۔محنت سے کیا نہیں ہو گا اور اطراف کا جائزہ لیتے ہوئے پوچھا

کریا تمہارا مکان کدھر ہے؟

وہ جو کٹیا نظر آ رہی ہے وہی ہے بودی

کیا کہا ؟ تم اس کٹیا میں رہتے ہو

ہاں بودی، برسوں سے تو اسی کٹیا میں رہتے آ ئے ہیں

ارے برسوں کی بات الگ ہے ۔ اب تم زمیندار بن گئے ہو ۔ پختہ مکان کیوں نہیں بنوالیتے

بھگوان کی کرپا رہی اور فصل ہاتھ آئی تو وہ بھی بنوالیں گے بودی۔

یہ بھگوان بھگوان کی کیا رٹ لگا رکھی ہے تم نے۔ بھگوان کو ہم تم سے زیادہ جانتے ہیں

پورا ایک سال گذر جائے گا تب کہیں جا کر فصل ہاتھ آئے گی۔ مجھے اچھا نہیں لگتا کہ تم اس وقت تک اس کٹیا میں رہو۔ تمہارا شبھ چنتک ہونے کے ناطے کہہ رہا ہوں ورنہ مجھے کیا پڑی کہ مشورہ دیتا پھروں۔ اگر مجھ پر بھروسا ہے تو شام کو مجھ سے گھر پر مل لینا۔ میرے پاس کچھ روپے پڑے ہوئے ہیں میں تمہیں ادھار دے دوں گا ۔ جب بھی سہولت ہو لو ٹا دینا اور ہاں میں تم سے سود نہیں لوں گا۔ یہ کہہ کر وہ لوٹ آئے۔ لوٹتے وقت ان کے چہرے پر طمانیت اور لبوں پر زہریلی مسکراہٹ تھی۔ سود نہ لینے والی بات جان بوجھ کر انہوں نے اونچی آواز میں کہی تھی کہ اس کی بیوی کے کانوں تک پہنچ سکے۔ عورت ذات کی کمزوریوں سے وہ اچھی طرح واقف تھے۔

کریا کے دل میں وسوسے اٹھ رہے تھے۔ لکشمی ناراین جی کا اچانک اس سمے چلے آنا، بلا سود ادھار دینے کی بات کرنا وغیرہ کچھ عجیب سا لگا تھا۔ دل کہہ رہا تھا کہ کچھ نہ کچھ گڑ بڑ ضرور ہے۔ وہ ان کی پینترہ بازیوں سے خوب واقف تھا ۔ بڑی مشکل سے اس نے اپنے آپ کو آزاد کروایا تھا۔ اسے پتہ تھا کہ ادھار لینے کے بعد وہ دوبارہ ان کے چنگل میں پھنس جائے گا اور ساری زندگی غلامی میں گزرے گی۔ اس نے تہیہ کر لیا چاہے کچھ بھی ہو جائے وہ ادھار لے کر دوبارہ ان کے چنگل میں پھنسنے کی حماقت نہیں کرے گا۔

لکشمی ناراین کا حربہ کامیاب رہا۔ توقع کے مطابق بلا سود قرضے والی بات کریا کی بیوی کے کانوں میں پڑ کر رس گھول رہی تھی اور اس نے خواب بننے شروع کر دیے تھے۔ جب اس نے استفسار کیا کہ بودی کیوں آئے تھے تو کریا نے ساری باتیں من وعن بیان کر دیں اور اپنا فیصلہ بھی سنا دیا کہ وہ ادھار کبھی نہیں لے گا۔ کچھ دیر تک دونوں خاموش رہے اور خاموشی بولتی رہی۔ ۔۔سکوت توڑتے ہوئے اس کی بیوی نے کہا۔۔بلاسود ادھار لینے میں حرج ہی کیا ہے جب کہ خود انہوں نے اس کی پیشکش کی ہے۔اگر تم نہیں جاؤ گے تو وہ سمجھیں گے تین ایکڑ زمین کیا ملی اپنے آپ کو زمیندار سمجھنے لگا ہے۔ اگر ہم ادھار لیں گے تو ان کے انا کی تسکین بھی ہو جائے گی ار ہماری ضرورت بھی پوری۔ ۔ کیا ہمیں ساری زندگی اسی کٹیا میں گزارنی پڑے گی؟؟۔ بارش میں تو اس کی چھت آٹھوں پہر ٹپکتی رہتی ہے۔ میں تو تنگ آگئی ہوں۔ اور میں تو یہ کہتی ہوں کہ دریا میں رہ کر مگر مچھ سے بیر کرنا کہاں کی عقلمندی ہے۔ آگے آپ کی مرضی۔

کریا نے جب تھوڑی بہت پڑھی لکھی بیوی کی باتیں سنیں اور ٹھنڈے دماغ سے غور کیا تو اسے لگا کہ اس کی باتوں میں دم ہے۔ مگر مچھ سے بیر دریا میں رہتے ہوئے۔ ۔۔نا بھئی نا۔اس سے بڑی بے وقوفی اور کیا ہو سکتی ہے۔ بھلے برے میں وہی تو اک ہیں جو ہمارے کام آ سکتے ہیں ۔ ان سے کیا برابری کرنا۔ اس نے بیوی کے آگے ہتھیار ڈال دیے اور جب سورج اپنے گھر لوٹ رہا تھا کریا اپنے سابق مالک کے گھر کی جانب چل پڑا۔

لکشمی نراین جی نے دنیا دیکھی تھی۔ وہ ظاہر کرنا نہیں چاہتے تھے کہ انہیں کریا کا بے صبری سے انتظار ہے۔ لہٰذا وہ بر آمدے کی بجائے اپنے کمرے میں براجمان تھے۔ جب کریا کی آمد کی اطلاع ملی تو ان کا دل فرطِ مسرت سے جھوم اٹھا۔ لیکن انہوں نے اپنے چہرے پر کوئی تاثر ابھرنے نہیں دیا۔ کچھ دیر بعد وہ برآمدے میں پہنچے کریا نے انہیں نمسکار کیا تو سر کی جنبش  سے انہوں نے جواب دیا اور اسے ہاتھ پکڑ کر بٹھایا بھی۔ وہ اس سنہری موقع کو یونہی ضایع نہیں کرنا چاہتے تھے اس لئے ایک مختصر سی تقریر کر ڈالی۔

ــ’’کریا۔۔۔ تم ہمارے وفادار نوکر رہ چکے ہو۔ گو اب وہ سمبندھ نہیں رہا۔ پھر بھی تمہارا شبھ چنتک ہونے کے ناطے میرا اتنا ادھیکار تو ہے کہ میں تمہارے بارے میں سوچوں، تمہاری ترقی کے لئے راہ ہموار کروں۔ تمہاری کٹیا دیکھ کر مجھے بہت پشیمانی ہو رہی تھی کہ میں نے تمہارے لئے کچھ نہیں کیا۔چونکہ میری آتما کچوکے لگا رہی تھی اس لئے میں نے تم سے قرض کی بات کی۔ مجھ سے ادھار لے کر تم میرے دل کو سکون مہیا کر سکو گے۔اور میں تمہارا احسان مند رہوں گا کہ میری آتما کا بوجھ ہلکا ہو جائے گا۔ اتنا کہہ کر انہوں نے اپنی آنکھیں پونچھیں۔

اس منظر کو دیکھ کر کریا کی آنکھیں بھیگ گئیں۔ وہ کچھ کہنا چاہ رہا تھا مگر کہہ نہیں پا رہا تھا ۔ اس کی حالت دیکھ کر وہ سمجھ گئے کہ تیر نشانے پر لگا ہے۔ انہوں نے اس کی پیٹھ تھپتھپائی اور گنپیتی کو آواز دی۔وہ جیسے اسی آواز کا منتظر تھا لپک کر باہر آیا۔تو انہوں نے اسے روپے لانے کے لئے کہا۔۔۔روپے کریا کے ہاتھ میں رکھتے ہوئے کہا میرے من کا بوجھ ہلکا ہوگیا ۔۔۔گن لو پورے بیس ہزار ہیں۔کریا نے ایک ساتھ اتنے روپے کبھی چھوئے تک نہ تھے اس کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا اور آنکھیں فرطِ عقیدت سے جھک گئیں۔

روپے لے کر جب وہ گھر لوٹا تو  اس کی بیوی بے صبری سے اس کا انتظار کر رہی تھی۔ جیسے ہی وہ گھر میں داخل ہوا اس نے سوالات کی بوچھار کر دی۔اس کی حالت اب تک سدھر نہیں پائی تھی۔ وہ اتنا مسرور تھا کہ زبان اس کے ذہن کا ساتھ نہیں دے پا رہی تھی۔ ایک تو بلا شرط  و سود روپے کا ملنا اور دوسری بات یہ تھی کہ بودی نے کاغذ پر اس کا انگوٹھا بھی نہیں لگوایا تھا۔ وہ اپنے آپ پر لعنت بھیجنے لگا کہ ایسے دیوتا سمان  شخص پر وہ شک و شبہ کر رہا تھا۔ اس کی بیوی نے جب روداد سنی تو کہنے لگی۔ سب بھگوان کی لیلا ہے دشٹ کو نیک اور نیک کو دشٹ بننے میں کیا دیر۔۔

دن گزرتے گئے، کریا اور اس کی بیوی دن رات محنت کرتے رہے۔ اسی زمین کے ایک گوشے میں انہوں نے پختہ مکان بھی بنوانا شروع کر دیا اور اسکی تعمیر کی لئے چند مزدور بھی لگوا  دئے گئے تاکہ بارشوں سے قبل مکا ن تیا ر ہو جائے۔مکان کی دیواریں کھڑی ہو گئیں۔ ابھی چھت اور دروازے دریچوں کا کام باقی تھا کہ روپے ختم ہو گئے۔مزید دس پندرہ ہزار روپوں کا انتظام ہو جاتا تو مکان بن جاتا۔ لیکن اتنے روپے آتے کہاں سے۔؟ میاں بیوی سر جوڑ کر بیٹھ گئے کہ اب کیا کیا جائے۔اگر چھت کا کام نامکمل رہ جاتا تو دیواریں ڈھ جاتیں اور سب کیے کرائے پر پانی پھر جاتا ۔ بالآخر انہوں نے فیصلہ کیا کہ بودی کے پاس مزید ادھار لینے کے سوا اور کوئی چارہ نہیں۔انہیں یقین تھا کہ بودی نا نہیں کہیں گے۔

کریا کا حالِ زار سن کر وہ افسوس کرنے لگے ان کے پاس فی الوقت رقم موجود نہیں تھی اس لئے معذرت چاہ لی البتہ اتنا ضرور کہا کہ میرے پاس کھپریل پڑی ہے ، چاہو تو لے جا سکتے ہو اور یہ بھی مشورہ دیا کہ بارشیں با لکل قریب ہیں روپے کا بندوبست بھی اتنی جلدی ممکن نہیں، گاؤں میں مکان بنانے کے لئے لکڑی کون خریدتا ہے۔ دو چار مزدور لے جاؤ اور پاس والے جنگل میں دو چار پیڑ کٹوالو تو تمہاری ضرورت پوری ہو جائے گی۔ رہا فارسٹ گارڈ کا معاملہ تو میں اسے سنبھال لوں گا۔ کریا کو ان کا مشورہ پسند آیا۔ اس نے تشکر آمیز نظروں سے انہیں دیکھا ، پیر چھوکر آشیرواد لیئے اور لوٹ آیا۔

لکشمی ناراین کا منصوبہ تقریباً کامیاب ہو چکا تھا۔ بس تابوت میں آخری کیل ٹھونکنی باقی تھی۔ انہیں اس پل کا بے صبری سے انتظار تھا۔

گنپتی کو کریا کے پیچھے لگا دیا گیا تا کہ وہ اس کی نقل و حرکت پر کڑی نظر رکھے اور انہیں خبر کرتا رہے۔جب سرکاری جنگل میں پیڑ کٹ گئے اور کریا کی کٹیا میں شہتیر ، چوکھٹ وغیرہ بن کر پہنچ گئے تو گنپتی نے اپا جی کو فوراً اطلاع دے دی۔ لکشمی ناراین جی ایک پل ضایع کئے بغیر اینٹی سمگلنگ سکواڈ سے فون پر رابطہ کیا اور کریا کے خلاف شکایت درج کرادی۔ ساتھ ساتھ یہ بھی بتایا کہ اگر وہ اسی وقت آ جائیں تو اسے رنگے ہاتھوں گرفتار کیا جا سکتا ہے۔ کریا کی کٹیا کا محل وقوع بھی انہوں نے نوٹ کروادیا تاکہ انہیں تلاش کرنے میں دقت نہ پیش آئے۔

سکواڈ فوری طور پر حرکت میں آ گیا

کریا، اپنی کٹیا میں مستقبل کے حسیں خواب آنکھوں میں سجائے ہوئے نیند کی آغوش میں پہنچنے ہی والا تھا کہ دروازہ کھٹکھٹانے کی آواز آئی۔۔۔اتنی رات گئے کون ہو سکتا ہے، اس نے سوچا، ماچس جلائی ، لالٹین روشن کی اور جیسے ہی کواڑ کھولے ٹارچ کی تیز روشنی  سے اس کی آنکھیں چندھیا گئیں۔ اس نے آنکھیں مل مل کر دیکھنا شروع کیا ۔خاکی وردی میں ملبوس نوجوان اس کے سامنے ایستادہ تھے ۔ انہیں دیکھ کر اس کے ہوش و حواس اڑ گئے اور وہ مبہوت بن کر کھڑا رہ گیا۔ ایک جوان نے آگے بڑھ کر پوچھا۔ تم ہی کریا ہو؟ اس نے اثبات میں گردن ہلائی تو جوان نے کہا تمہاری کٹیا کی تلاشی لینی ہے۔ اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتا اسے پرے دھکیلتے ہوئے سکواڈ کا عملہ کٹیا میں گھس پڑا اور تلاشی لینے لگا ۔ چند منٹ بھی نہ گزرے تھے کہ لکڑی بر آمد کر لی گئی اور کریا کو کسی مزاحمت کے بغیر گرفتار کر لیا گیا۔

اس کی گرفتاری کی خبر گائوں میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ رات کے گیارہ بج رہے تھے اس باوجود لوگ ایک ایک کر کے اکھٹا ہونے لگے، ان میں گنپتی بھی شامل تھا اور موقع واردات کا خاموشی سے جائزہ لے رہا تھا سکواڈ کے افسر نے اپنے ماتحتوں سے کاغذی کاروائی مکمل کرنے کے لئے کہا اور ایک گوشے میں جا کر سگریٹ جلانے لگا۔ اسے تنہا دیکھ کر موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے گنپتی  اس کے قریب پہنچا اور سرگوشیانہ لہجے میں کہنے لگا ۔۔ بالآخر آپ نے اسے دھر ہی لیا ، بہت اتراتا تھا کہ کوئی اس کا بال بھی بیکا نہیں کرے گا، آپ چونکہ ایماندار اور فرض شناس افسر ہیں اسی لئے اس کی ایک نہ چلی ورنہ کئی افسروں نے اسے رنگے ہاتھوں پکڑ کر بھی چھوڑ دیا تھا ۔ آپ کسی قسم کی نرمی نہ برتیے گا ورنہ جنگل کا صفایا ہونے میں دیر نہیں لگے گی۔ افسر نے جب اپنی تعریف سنی تو اسے لگا کہ اسکی باتوں میں کچھ نہ کچھ سچائی ضرور ہے۔ اس نے یقین دلایا کہ کریا کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔ افسر کی اس یقین دہانی کے بعد گنپتی وہاں سے کھسک کر سیدھے گھر پہنچا اور اپا جی کو ساری تفصیلات بتا دیں۔ بیٹے کی کار کردگی سے وہ بے حد مسرور ہوئے۔ انہیں یقین ہو گیا کہ وہ بہت جلد جینے کا ہنر سیکھ لے گا۔

لکشمی ناراین جی پوری طرح چوکنے ہو گئے اور ان کا ذہن تیزی سے حرکت کرنے لگا۔ شرائط نامے، اسٹامپ پیپر اور دیگر دستاویزات انہوں نے سلیقے سے سجا کر میز پر رکھ دیں تا کہ عین موقع پر انہیں ڈھونڈنا نہ پڑے۔اور گنپتی کو ہدایت دی کہ اگر کوئی آجائے تو مطلع کر دینا۔ وہ مسہر ی سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئے  اور آنکھیں موند لیں۔ وہ اپنے ذہن کو تھوڑی دیر لئے آرام دینا چاہتے تھے۔ دریں اثناء گنپتی نے اطلاع دی کہ گاؤں کے چند لوگ ان سے ملنے آئے ہیں۔ انہوں نے کمرے کی بتی جلائی، حلق کو پانی سے تر کیا اور بڑ بڑاتے ہوئے باہر نکلے کہ یہ بھی کوئی وقت ہے کسی شریف آدمی کو جگانے کا۔۔۔۔۔۔بر آمدے میں پہنچ کر انہوں نے پوچھا کہ کیا بات ہے۔ اتنی رات گئے کون سی آفت آن پڑی۔۔۔لوگوں نے بتایا کہ کریا کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ انہوں نے چونکنے کی اداکاری کرتے ہوئے پوچھا ۔۔۔کریا کو؟ کس نے؟ اور کیوں؟؟لوگوں نے جب تفصیل سے روداد سنائی تو وہ سر پکڑ کر بیٹھ گئے۔ ایک بزرگ نے کہا ۔۔۔۔جو ہونا تھا ہو چکا۔ گاؤں کی لاج اور کریا کی زندگی آپ کے ہاتھوں میں ہے۔۔ پہلے تو انہوں نے صاف انکار کر دیا کہ وہ رنگے ہاتھوں پکڑا گیا ہے اس لئے کچھ نہیں کر سکتے۔لیکن جب لوگوں کا اصرار بڑھ گیا ۔ ،منت سماجت ہونے لگی تو انہوں نے ہاں کر دی اس شرط پر کہ وہ لوگ بھی ان کے ساتھ چلیں گے۔ابھی باتیں ہو رہی تھیں کہ سکواڈ کی جیپ ان کے مکان کے روبرو آ کر رکی۔ سکواڈ کا عملہ جیپ سے اتر کر ان کے پاس آیا اور دریافت کرنے لگا کہ لکشمی ناراین بھٹ کون ہیں۔ وہ مسکرائے ۔ انہیں ایسی صورتحال کا سامناکئی بار کرنا پڑا تھا۔۔۔کہا ۔۔۔۔میں ہی ہوں اور جیپ کے قریب پہنچے۔افسر جیپ میں بیٹھا سگریٹ کے کش لے رہا تھا ۔ ایک ماتحت نے کہا کہ لکشمی ناراین بھٹ آ گئے ۔یہی ہیں۔افسر نے پوچھا  کیا کریا آپ کا ملازم ہے تو انہوں نے جواب دیا ملازم تھا اب نہیں ہے۔

ہم نے اسے گرفتار کر لیا ہے۔ لکڑی اسمگلنگ کرنے کے جرم میں اور کافی مقدار میں اس کی کٹیا سے لکڑی ضبط کی ہے۔ ہم آپ کی تحویل میں وہ لکڑی دینا چاہتے ہیں

لکشمی ناراین جی بولے۔آپ کا حکم سر آنکھوں پر ۔۔۔۔۔۔آپ کرپا کر کے غریب خانے پر پدھارئے تا کہ تفصیل سے باتیں ہوں۔۔۔افسر کو چونکہ لکڑی ان کی تحویل میں دینی تھی اس لئے چارونا چار وہ جیپ سے اترا اور ان کے ساتھ ہو لیا۔

جب تک کاغذی کاروائی مکمل ہوتی ۔ گفتگو ہوتی رہی۔ چائے کا دور چلتا رہا ۔ دورانِ گفتگو لکشمی ناراین جی نے افسر سے گذارش کی کہ وہ اپنے فیصلے پر نظر ثانی کریں کہ کریا ویسا نہیں ہے جیسے کہ انہیں باور کرایا گیا ہے۔ وہ ایک سیدھا سادا دیہاتی ہے۔ اپنے ذاتی مکان کے لئے اس نے پیڑ ضرور کٹوائے، جرم کا مرتکب ہوا  لیکن وہ عادی سمگلر نہیں ہے۔ اس لئے اس کے ساتھ رعایت برتی جائے۔آپ چاہیں تو اس کے مکان کا معائنہ کر سکتے ہیں جو زیر تعمیر ہے۔لوگوں نے بھی اس کی تائید کی۔پہلے تو افسر اڑا رہا کہ وہ کسی قسم کی رعایت نہیں برتے گا کہ اس کی اطلاع کے مطابق کریا خطرناک سمگلر ہے۔لیکن جب لکشمی ناراین جی نے لوگوں سے نظریں بچا کر اشاروں کنایوں میں اسے سمجھا دیا کہ آپ کو بھی خوش کر دیا جائے گا  تو وہ تھوڑا نرم پڑ گیا۔ اسے نرم پڑتے دیکھ کرلوگوں کا حوصلہ بڑھا اور لکشمی ناراین جی بھی پورے فارم میں نظر آنے لگے۔ بالآخر طے یہ ہوا کہ اگر لکڑی کی قیمت سرکار کو ادا کر دی جائے ٹیکس اور جرمانے کے ساتھ تو سمجھوتہ ممکن ہے ورنہ نہیں۔۔۔۔۔

کریا کے پاس روپے کہاں سے آتے۔لوگوں نے لکشمی ناراین جی سے استدعا کی کہ جو کچھ کرنا ہے آپ ہی کو کرنا ہے اور کریا کو ان کے آگے دھکیل کر کہنے لگے چل پیر پکڑ بودی کے ورنہ جیل میں سڑے گا۔ لکشمی ناراین جی کا سینہ گز بھر چوڑا ہو گیا۔ انہوں نے کریا کو اٹھایا اور افسر کی اجازت سے اسے اپنے کمرے میں لے گئے۔

کمرہ اگر بتی کی خوشبو سے مہک رہا تھا۔ انہوں نے کریا کے انگوٹھوں کے نشان شرائط نامے، سٹامپ پیپر اور دیگر دستاویزات پر لگوالیے۔ اور جب باہر نکلے تو ان کے خاندان کا مستقبل محفوظ ہو چکا تھا اور کریا کی آنکھوں سے ویرانی چھلک رہی تھی۔

 

 

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔
2 comments
1
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
مولانا محمد علی جوہر کی صحافتی خدمات – ڈاکٹر عمیر منظر
اگلی پوسٹ
خطۂ اعظم گڑھ کی تعلیمی ترقی میں شبلی کا حصہ – ڈاکٹر شاہ نواز فیاض

یہ بھی پڑھیں

زندگی کے درمیاں – وصی الحق وصیؔ

اکتوبر 11, 2025

بُت اگر بولتے – قیُوّم خالد

جنوری 20, 2025

بھیگے ہوئے لوگ – اسلم سلازار 

جنوری 6, 2025

شیشے کے اُس پار – ڈاکٹر عافیہ حمید

ستمبر 18, 2024

دو دوست /موپاساں – مترجم: محمد ریحان

ستمبر 9, 2024

غریبِ شہر- ڈاکٹر فیصل نذیر

ستمبر 8, 2024

راج دھرم – ڈاکٹر ابرار احمد

اگست 7, 2024

پہلی نظر – تسنیم مزمل شیخ

جون 18, 2024

کائی – قیُوّم خالد

جون 2, 2024

یہاں کوئی کسی کا نہیں – ڈاکٹر ابرار...

مئی 28, 2024

2 comments

ملنسار احمد نومبر 3, 2020 - 4:03 شام

رن نیتی یہ افسانہ جناب ساجد حمید کا ہے یا ساجد رشید کا؟

Reply
adbimiras نومبر 3, 2020 - 4:37 شام

ساجد حمید صاحب کا افسانہ ہے

Reply

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (119)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں