Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
صحافت

اخبار مدینہ بجنور کے بانی: مولوی مجید حسن علیہ الرحمہ -پرویز عادل ماحی

by adbimiras نومبر 27, 2020
by adbimiras نومبر 27, 2020 1 comment

بیسوی صدی کی دوسری دہائی میں اردو کے تین اخبارآسمان صحافت پر نمودار ہوئے۔ان تینوں ہی اخبارات نے اردو صحافت کو نئی سمت اورنئی پہچا ن بخشی۔ تحریک آزادی میں جو خدمات مذکورہ اخبارات نے انجام دی ، ان کا ذکر تحریک آزادی کی داستان یا افسانوں میں نہ کیاجائے تو ہم یقینی طور پر اس کتاب کے مستند اور معتبر ہونے پر سوالات کھڑے کرسکتے ہیں۔ان اخبارات میں سب سے پہلے بجنور صدرمقام سے جاری ہوا ’’اخبار مدینہ‘‘ہے۔ جس کو بجنور کے عظیم فرزند مولوی مجید حسن نے یکم مئی 1912کو  ہفت روزہ اخبار کی شکل میں جاری کیا تھا۔ مدینہ کے بعد شائع ہونے والا دوسرا اخبار  ہفت روزہ ’’الہلال‘‘ تھا۔ جس کو اردو کے نامور ادیب اور صحافی مولانا ابوالکلام آزاد نے 13 جولائی1912 کو دہلی سے جاری کیا تھا۔ تیسرا اہم اخبار ’’ہمدرد‘‘تھا جس کو محمد علی جوہر نے 23 فروری1913 کو جاری کیا تھا۔ یہ تینوں ہی اپنے زمانے کے اہم ترین اخبار تھے۔

مولانا ابوالکلام آزاد اور محمد علی جوہر کے اخباروں کے درمیان مولوی مجید حسن کے اخبار ’’مدینہ‘‘کا خود کو قائم رکھنا اور عالمی شہرت حاصل کرنا ایک بڑا کارنامہ اور تاریخ صحافت کا معجزہ ہے۔ مدینہ اخبار کو یہ امتیاز بھی حاصل ہوا کہ اس نے طویل عمرپائی اور ہزاردقتوں کے باوجود 64 برس تک اردو زبان وادب کے ساتھ ساتھ ملک وملت کی خدمات سرانجام دیتا رہا۔

اردو صحافت کے نامور اور سب سے کامیاب کہے جانے والے اخبار الہلال کی بڑی خصوصیت یہ تھی کہ اس کو نکالنے والا شخص اپنے زمانے کا بڑا ادیب، انشاء پرداز اور عظیم سیاسی رہنما تھا اور ایسے نوابین کی تعداد بھی کچھ کم نہ تھی جو مولانا آزاد کے الہلال کی مالی خدمت کا جذبہ رکھتے  تھے۔ تاہم یہ صداقت اپنی جگہ مسلم ہے کہ مولانا آزادنے ایسی کسی پیش کش کو کبھی قبول نہیں کیا۔

23فروی1913 سے جاری ہوئے ہمدرد کی حیثیت سے کون واقف نہیں ہے جب کہ اس کو نکالنے والی ذات خود محمد علی جوہر کی تھی جو اس زمانے میں زمین کا گزبنے ہوئے تھے۔

اس کے برعکس مدینہ کے مالک مجید حسن تھے جو ستودہ صفات سے مزین ہونے کے علاوہ دیگر کسی  وراثت کے بظاہر مالک نہ تھے ان کی غیر معمولی استعداد اور ذ اتی خصوصیات کی بناء پر قوم نے ان کو مولوی کے لقب سے پکارا تھا اخبار مدینہ کی ابتدائی زندگی پر روشنی ڈالتے ہوئے مولوی مجید حسن نے متعدد مقامات پر اس صداقت کا اعتراف کیا اور کہا ۔

مدینہ کو جاری کرتے وقت اللہ رب العزت کی مددونصرت کے علاوہ بظاہر کسی دوسرے سروسامان سے میرادامن خالی تھا۔

اس لیے یہ کہنا قطعًا مبالغہ آرائی نہ ہوگا کہ اخبار مدینہ کا الہلال وہمدرد کے مقابلہ طویل عمر پانا اور تمام دقتوں کے باوجود 64برس تک ملک وملت کی خدمت کے لیے آمادہ رہنے کے پس پشت مولوی مجید حسن کی وہ ذاتی خصوصیات تھیں جو اللہ نے ان کو ودیعت فرمائی تھی اور جس کا اعتراف ان کے انتقال کی خبر سننے کے بعد ملک و بیرون ملک سے آئے تعزیتی خطوط میں قارئین مدینہ نے کیا۔

مولوی مجید حسن صاحب 1883میں پیدا ہوئے والد صاحب کا نام اولاد حسن تھا وہ شیخ عبداللہ کے بیٹے تھے جو بجنور کے سرکاری اسکول میں پڑھاتے تھے مولوی صاحب مرحوم نے دستور کے مطابق قرآن پاک اور دینیات کی کتابیں پڑھنے کے بعد فارسی میں گلستاں، بوستاں اور سکندر نامہ تک پڑھا۔

ذریعہ معاش کے لیے اس وقت کے اعتبار سے آپ نے شریف ترین پیشہ کتابت کو اختیارکیا۔1903میں جب آپ کی عمر 20سال کی تھی تو آپ قادیان تشریف لے گئے  وہاں کے مشہور ’’اخبارالحکم‘‘ میں تین سال تک کتابت کا کام کرتے رہے اور تین سال تک کتابت کے اعتبار سے اخبار مذکور کو بہت عروج پر پہنچادیا۔

فن کتابت میں مولوی صاحب مرحوم کو یہ ملکہ حاصل تھا کہ 1906میں جب امیر کابل ہندوستان آئے تو ان کی شان میں جو قطعہ لکھا گیا تھا اس کی کتابت منشی محمد قاسم صاحب لدھیانوی نے کی تھی جب اس پر بیل بنانے کانمبر آیا تو منشی محمد قاسم صاحب قادیا ن آئے اور انہوں نے مولوی صاحب سے بیل بنوائی، مولوی صاحب نے اس پر اس شان سے بیل بنائی کہ جس کو دیکھ کر منشی محمد قاسم صاحب نے فرمایا:

’’بھائی!  مولوی مجید حسن تم نے تو میری کتابت کو زندہ کردیا۔‘‘

فن کتابت کی یہ مہارت دیکھ کر منشی محمد قاسم صاحب نے مولوی صاحب مرحوم اور ان کے چھوٹے بھائی جناب مولوی ظہورالحسن صاحب کو اپنے یہاں لدھیانہ بلالیا، یہاں آکر آپنے ایک تاجر کی مشہور کتاب ’’پانسو بیوپار‘‘ کی کتابت کی، کتابت اتنی روشن اور عمدہ تھی کہ یہ کتاب اس وقت ہزاروں کی تعداد میں ہاتھو ں ہاتھ فروخت ہوئی۔

اخبار مدینہ عالمی صحافت کے معیار پر قائم رہ سکے اس کے لیے انہو ں نے ترقی یافتہ ملکوں کی اعلی صحافت کے اصول کار کو اپنایا۔ انہوں نے تجارتی اور ادارتی پہلوں ایک دوسرے سے بالکل جدا رکھا، وہ ادارتی عملے کو پوری آزادی دئے جانے کے حامی تھے، آخری وقت تک پوری ایمانداری سے اس اصول پرکاربند رہے۔ چنانچہ مدیران کی تقرری سے قبل ان کو لکھ دیا جاتا تھا۔

 

’’مدینہ‘‘ کی پالیسی قوم پرورانہ ہے اور وہ ملک کی آزادی خواہ جماعتوں کا  ہمنوا اور مسلمانوں کے حقوق اور مسلم مفاد کا ترجمان ہے اس پالیسی سے اتفاق ہو  توبراہ کرم تشریف لاکر ہماری عزت وہمت بڑھائیے‘‘

 

اس پالیسی سے جو افراد متفق ہوتے اور وہ بجنور تشریف لاتے تو مولوی مجید حسن ان کو سرآنکھوں پر بیٹھاتے ان کے آرام وآسائش کا پورا خیال رکھتے۔ اکثر مدیران مدینہ کو اپنے دسترخوان پر شریک رکھتے اور اپنے عمل سے یہ ثابت کردیتے کہ انہیں مذکورہ پالیسی کے فریم ورک میں لکھنے کی پوری آزادی ہے یہی وجہ ہے کہ اردو صحافت کی زبوںحالی کے باوجود ملک کے ممتاز اہل قلم نے مدینہ کے ادارتی فرائض انجام دینے میں ہمیشہ مسرت محسوس کی۔ اس کے مدیران کی فہرست میں ہمیں علی الترتیب حافظ نورالحسن ذہین کرت پوری، آغا رفیق بلند شہری، مولانا مظہرالدین شیرکوٹی، مولوی نصیر الحق دہلوی، مولوی احقاد حسین بریلوی، حافظ علی بہادر خاں مرادآبادی، شاہ خلیل الرحمن بہاری، قاضی عدیل عباسی، قاضی بدرالحسن جلالی، مولانا امین  احسن اصلاحی، مولوی شبیرالحسن چاندپوری، مولوی نور الرحمن بچھرایونی، مولانا نصراللہ خا ں عزیز، مولانا حامدالانصاری غازی مولوی محمد احسن بچھرایونی، جناب ابوسعید بزمی، مولانا مسعود عالم ندوی، مولانا ابواللیث اصلاحی، قدوس صہبائی، حمید حسن فکر، ضیاء الحسن فاروقی اور مولوی مجید حسن صاحب کے بیٹے سعید اختر جیسے مشہور اہل قلم کے نام نظر آتے ہیں۔

اخبار  مدینہ یکم جنوری 1917 سے ہفتہ میں دوبار نکلنے لگا تھا۔غالبًا نامناسب نہ ہوگا اگر قارئین مدینہ کو اس دلچسپ واقعہ سے باخبر کردیاجائے کہ ابھی مدینہ کے چند ہی پرچہ نکالے گئے تھے کہ مولوی مجید حسن نے خواب میںآسمان پرچودھویں رات کا چاند دیکھا اور دفترمدینہ کے ایک طاق پر ٹمٹماتا ہوا چراغ، اس خواب کی حالت ہی میں مولوی سید نورالحسن ذہین نے جو اس وقت مدینہ کے ایڈیٹر تھے ان کو بتایا کہ یہ ٹمٹماتا ہوا چراغ اخبار مدینہ کی موجودہ حالت ہے اور یہ بدرکامل اس کی ترقی یافتہ شکل ہے اس کے چار سال بعد جب مدینہ کو ہفتہ میں دوبار جاری کرنے کا ارادہ کیا تب بھی اسی قسم کا ایک دلچسپ تجربہ ہوا یعنی بیگم مجید حسن نے خواب کی دنیا میں یہ عجیب وغریب منظر دیکھا کہ چودھویں رات کے چاند میں سے سورج نکلنا شروع ہوا، اور دیکھتے ہی دیکھتے پورا سورج اس میں سے نکل آیا اور چاند ماند پڑگیا، اس خواب کی تعبیر بھی خواب ہی میں مولوی سید نور الحسن ذہین نے یہ دی کہ یہ سورج جوچاند میں سے نکلا ہے ہفتہ میں دوبارمدینہ ہے اور اب ہفتہ وار اخبار کی ضرورت نہیں۔(جوبلی نمبر،مدینہ1939)

تاریخ کے اوراق گواہ ہیں کہ اخبار مدینہ کو پھاڑا اور جلایا بھی گیا مدیران مدینہ کو آواز حق بلند کرنے کی پاداش میں جیل کی صعوبتیں برداشت کرنی پڑیں،مدینہ سے باربار ضمانت طلب ہوئی لیکن مولوی مجید حسن کے پاؤں میں ذرا لرزش نہیں آئی اور وہ انگریزی قہرواستبداد کے آگے سینہ سپر رہے۔ مئی1919 میں پنجاب کے جلیاں والا باغ میں انگریزوں نے بے گناہ اور نہتے ہندوستانیوں پر خوب گولیاں برسائیںجس میں سینکڑوں ہندوستانی شہید ہوئے۔ انگریزی حکومت کے ظلم اور قہرواستبداد کے خلاف اخبار مدینہ نے زبردست احتجاج کیا اور جنرل ڈائر کے ذریعے بے گناہ ہندوستانیوں پر گولی چلانے کے حکم کو تنقید کا نشانہ بنایا۔صدائے حق بلند کرنے اور انگریزی حکومت سے ٹکرانے کا جو نتیجہ نکلنا تھا وہ اخبار مدینہ پر پابندی کی شکل میں سامنے آیا لیکن مولوی مجید حسن کی ہمت واستقامت بڑھتی ہی گئی۔

انہوں نے انگریزی حکومت کو خبردار کیا اور کہا کہ وہ ہندوستانیوں پر کئے جارہے ظلم وستم سے باز آئے۔

پنجاب میں اخبار مدینہ کے داخلے پر پابندی لگادئے جانے کے بعد مدینہ شہر مدینہ کے قدیم نام یثرب کے نام سے جاری ہوا،ابھی یثرب کے محض چند شمارے  نکلے تھے، انگریز حکومت مدینہ کے اس نئے رنگ کو بھی پہچان گئی اور انہوں نے پنجاب میں یثرب کے داخلے پر بھی پابندی لگادی، یثرب کی پیشانی علامہ اقبال کے شعر   ؎

خاک یثرب از دو عالم خوشتر ست

ایں خنک شہرے کہ آ نجا دلبرست

سے مزین تھی، پھر اگست ۱۹۱۹ء کو منظر عام پر آئے یثرب کے آخری شمارے میں اخبار نے اداریہ کا عنوان قایم کرتے ہوئے کہا:

نہ تڑپنے کی اجازت ہے نہ فریاد کی ہے

گھٹ کے مرجاؤں یہ مرضی مرے صیاد کی ہے

25اگست1919سے اخبار مدینہ دوبارہ جاری ہوا اورمولوی مجید حسن کی آخری سانس تک متواتر جاری رہا۔ ملک وملت کی عظیم خدمت انجام  دیں  ۔یہاں پر اس حقیقت کا اعتراف نہ کرنا اخلاقی جرم ہوگا کہ اخبار مدینہ کی ترویج و اشاعت میں ان کی اہلیہ کنیز فاطمہ کی قربانیاں لافانی اور لازوال تھیں۔ محترمہ کنیز فاطمہ نے اپنا وہ تمام اثاثہ مولوی مجید حسن کو یہ کہتے ہوئے سپرد کیا تھا کہ آپ اس کو فروخت کردیں اور مدینہ کو اردو صحافت کا مثالی نمونہ بنادیں چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ محترمہ کنیز فاطمہ کی قربانی اور تعاون کے بعد اخبار مدینہ نے پیچھے مڑکر نہیں دیکھا اور مولوی مجید حسن کو ضلع بجنور میں ا ردو صحافت کے عہدۂ امامت پرفائز کرنے کے بعد خود اردو صحافت کا قبلہ کہلایا۔

اخبار مدینہ کی مقبولیت ا ور قارئین کرام کی زبردست تعداد کے مدنظر یکم جنوری 1933سے اخبار مدینہ روزنامہ کی شکل میں جاری ہوا پورے ملک نے روزنامہ مدینہ کا پرجوش خیر مقدم کیا اورروزانہ مدینہ کو آسمان حریت کا ایک تازہ آفتاب قراردیا۔

 

روزنامہ مدینہ کے پہلے مدیر مسئول مولانا نصراللہ خاں عزیز  تھے لیکن بجنور سے ٹرانسپورٹ کی بہتر سہولیات نہ ہونے کے سبب جلد ہی روزنامہ مدینہ کو بند کرنا پڑا البتہ سہ روزہ مدینہ دنیا کے 40 ممالک میں پوری آب وتاب کے ساتھ ہندوستانی اردو صحافت کی نمائندگی کرتا رہا۔

1928 سے عزیز لکھنوی کا یہ شعر اخبار مدینہ کے ماتھے کا جھومر بنا اور تاحیات اپنی آب وتاب سے قارئین مدینہ کے روشن دماغوں کو جھلملاتا رہا۔

معجزہ شق القمر کا ہے مدینہ سے عیاں

مہ نے شق ہوکرلیا ہے دین کو آغوش میں

مولوی مجید حسن بچوں سے بڑی محبت کرتے تھے اور بچوں کو ملک وملت کا عظیم سرمایا سمجھتے تھے اس لیے بچوں کی خصوصی تربیت پر کافی                   سے زائد توجہ دئے جانے کے حامی تھے۔ قوم کے بچے تعلیم وتربیت سے آراستہ وپیراستہ ہوکر ملک وملت کی تعمیر میں ذمہ دار شہری کی طرح کردار نبھائیں اپنے اس منصوبہ کو عملی جامہ پہنانے کے لیے انہوں نے 1922سے بچوں کے لیے  ہفت روزہ ’’غنچہ‘‘جاری کیا جس کے سرورق پر وہی مقصد عیاں تھا جو غنچہ کی اشاعت کے پس پشت مولوی مجید حسن کے دل میں گھر کرگیا تھا مطلب یہ کہ

’’بچوں کی تعلیم قومیت کی تعمیر ہے‘‘

16صفحات پر مشتمل یہ  ہفت روزہ پوری طرح بچوں کی تعلیم وتربیت کے لیے وقف تھا، اخلاقی کہانیاں اور نظم وغزل کے علاوہ بچیوں کے لیے کشیدہ کاری کے نمونے بھی غنچہ کے آخری صفحات پر چھاپے جاتے تھے اسکولی طلبا کے لکھے مضامین بھی شامل اشاعت ہوتے تھے اور ان کو نظم ونثر کے نکات بھی سکھلائے جاتے تھے۔ 08جنوری1951کو جاری ہوئے غنچہ کے سالنامہ پر حامد حسن قادری کا تحریر کردہ یہ قطعہ  ؎

اس غنچہ کی دھوم ملک میں ہر سو ہو

اس گل کا نیا رنگ نرالی بو ہو

اس غنچہ کا ہر ورق سخن سنجوں کو

آئینہ حسن شاہد اردو ہو

آج بھی جھلملاتا  ہے۔ غنچہ کے پہلے مدیر اپنے زمانے کے معروف ادیب وشاعر محمد وارث کامل تھے۔ غنچہ اپنے زمانے کا انتہائی مقبول رسالہ تھا اور یہ ہر اس ملک میں پسند کیاجاتا تھا، جہاں اخبار مدینہ کے قارئین تھے اور اس بات سے کون واقف نہیں کہ جاپان میں بھی اخبار مدینہ کے پانچ خریدار ہوا کرتے تھے۔

جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ مولوی مجید حسن نابغہ روزگار شخصیت تھے اس لیے ان کا تحریکی واصلاحی کارواں مدینہ، یثرب اور غنچہ نکالنے پر ہی نہیں ٹھہرا بلکہ انہوں نے مارچ1935سے مذہبی افکار وخیالات پر مبنی ماہنامہ ’’فاران‘‘بھی جاری کیا،80صفحات پر مشتمل یہ ماہنامہ اس وقت چھ ہزار کی تعداد میں چھاپا جاتا تھا اور یہ ہر مہینے کی15تاریخ کو دفتر مدینہ سے جاری ہواکرتا تھافاران کی تقریب اجرا سے متعلق اردو کے مشہور شاعرمیر افق کاظمی نے جو قطعہ مولوی مجید حسن کو تحریر کیا  جو  نذر قارئین ہے ۔

ہواہل مدینہ کو یہ فاران مبارک

مامون رہیں جملہ مسلمانان و مدینہ

تاریخ دعائیہ افق لکھ دو علی الفور

افزوں رہے یہ غنچہ و فاران و مدینہ

ماہنامہ فاران کے پہلے ایڈیٹر اپنے زمانہ کے مشہور عالم دین مولانا سعید انصاری تھے۔مولوی  مجید حسن صاحب نے بہت سے کاتب اور بہت سے ایڈیٹر رکھے یہ لوگ وہ تھے جن کی وجہ سے مدینہ چمکا اور پھر مدینہ سے وہ چمکے، مدینہ کے سب سے پہلے کاتب سید لائق حسین قوی اور سب سے پہلے ایڈیٹر سیدنورالحسن ذہین کرت پوری ہیں۔

مولانا نورالرحمن، بچھرایونی ،بدر الحسن جلالی، مولانا نصراللہ خاں عزیز نے مدینہ کے صفحات سے حق گوئی کا جو اعلا ن کیا اس کی پاداش میں انہیں حکومت کے ایوان سے قید وبند کا تحفہ پیش کیا گیا۔ ایک زمانہ میں پنجاب کے سارے صوبے میں از1919تا 1920 عیسوی مدینہ کا داخلہ بند رہا۔

مولوی صاحب مرحوم متینؔ اور خاموش تخلص فرماتے تھے۔

مدینہ اخبار مولوی صاحب مرحوم کے لئے صرف ذریعہ معاش ہی نہیں تھا بلکہ ان کی دلچسپیوں اور امنگوں اور جذبات ملی ودینی کا بھی آئینہ دار تھا ہر چیز کی خود نگرانی فرماتے تھے پروف پڑھتے، پلیٹیں دیکھتے حروف کی نوک درست کرتے،چھپتے چھپتے اگر کوئی حرف خراب نظر آیا فورًا مشین رکواتے اس کو درست کراتے۔ یہی وجہ تھی کہ اخبار مدینہ اپنی صحت کے اعتبارسے استدلال میں پیش کیاجاتا تھا۔ لوگ لغت کے معاملے میں اس کی طرف رجوع کرتے اور اس سے استدلال کرتے مولوی صاحب مرحوم کے تعلق خاطر ہی کی بات تھی کہ مدینہ کے پورے اسٹاف کے ساتھ نہایت عزت اور احترام کا معاملہ کرتے۔ جب کوئی قابل آدمی آجاتا تو بہت خوشیاں مناتے، اس کو انتہائی عزیز کرکے رکھتے، چنانچہ مدینہ اخبار کے دوسرے ایڈیٹر جو مولوی نورالحسن صاحب ذہینؔ کے بعد جناب آغارفیق بلندشہری تھے ان کی آمد پرایک طویل نظم مولوی صاحب مرحوم نے کہی جو 1913 کے مدینہ میں شائع ہوئی ہے۔

 

آخری بند میں فرماتے ہیں:

کہیں تمدن کے پھول اس میں شگفتہ ہوکر بہار دیں گے

کہیں مضامینہوں گے ملکی جو لطف بے اختیار دیں گے

کہیں گہر قوم کے چمک کر ہمارے دل کو قرار دیں گے

جوہوں گے اخلاق پر مضامیں ہماری بگڑی سنوار دیں گے

یہی مدینہ بنے گا بے شک خزینۂ واقعات عالم

یہی مدینہ تمہیں سنائے گا واقعی واقعات عالم

متینؔ کی اب تو یہی دعا ہے کہ ہو مبارک بس ان کا آنا

مدینہ مقبول انس و جاں ہو پسند اس کوکرے زمانہ

ہمیشہ یا رب رہ ترقی پر اب مدینہ کا کارخانہ

مدینہ بنے نہ اک دم کو یا الٰہی نگاہ صیاد کا نشانہ

جو ناظرین ہیں، رہیں ہمیشہ شفیق اس کے

رہے رفاقت سے یا الٰہی ایڈیٹر آغارفیق اس کے

(’’مدینہ‘‘بجنور، یکم فروری 1913 صفحہ نمبر01)

قرآن پاک مترجم

اسلامی دنیا میں جناب مولوی مجید حسن  کی یہ خدمت ہمیشہ یادگار رہے گی حضرت شیخ الہندؒ کے مترجم قرآن پاک کی جو خدمت آپ نے کی ہے طباعت کی دنیا میں اس کی مثال ملنا مشکل ہے  ۔مولانا مجید حسن صاحب نے عرض ناشر میں بیان فرمایا ہے:

۱۲؍ذی قعدہ1314ہجری مطابق28جون1923عیسوی کو میری قسمت کا ستارہ چمکا اور بصدمشکل حضرت مولاناؒ کے ورثاء سے اس دولت دارین کو باضابطہ طور پر حاصل کرنے میں کامیاب ہوا، مشتاق نگاہیں، بیتاب تشنہ  کامان ہدایت مضطرب اور تقاضہ شدید تھے اس لیے فورًا ہی پہلے ایڈیشن کی طباعت کا انتظام 1925 میں شروع کردیا گیا تھا اور26پاروں کے حواشی جو حضرت شیخ الہندؒ اپنی حیات میں پورے نہ فرماسکے ان کی جگہ حضرت شاہ عبدالقادر صاحب کے حواشی سے پرکردی گئی تھی ۔

مولانا مجید حسن متقی، پرہیزگار اور پرانی وضع کے سچے اور پکے مسلمان تھے۔ ہوا یہ تھا کہ حضرت شیخ الہندؒ کے وصال 1339ہجری کے بعد مولوی مجید حسن صاحب نے ایک خواب دیکھا تھا جس کی تعبیر جناب نصراللہ خاں عزیز  ایڈیٹر مدینہ نے یہ دی تھی کہ حضرت شیخ الہند کا ترجمہ قرآن پاک رکھا ہوا ہے آپ کسی طرح اس کو طبع کرائیں یہ سن کر مولوی صاحب موصوف کو لگن لگ گئی چنانچہ دیوبند پہنچ کر کسی نہ کسی طرح مبلغ نوہزار روپیہ میں باٖضابطہ شیخ الہند کے ورثاء سے یہ ترجمہ حاصل کیا۔

 

مولا نانے یہ نسخہ نہایت ہی اہتمام سے شائع کیاطباعت کی نزاکتیں، لطافتیں اور رنگینیوں کو اس اشاعت میں داخل کردیا(میں نے بذات خود اس عظیم نسخہ کو دیکھا اور پڑھا ہے)لیکن مولوی صاحب کی امنگیں جولانیوں پر تھیں وہ ترجمہ کو اس کی شایان شان فوائد کے ساتھ شائع کرنا چاہتے تھے چنانچہ بعد مشورہ کے طے پایا کہ حضرت شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد صاحب مدنیؒ سے بقیہ 26 پاروں کے فوائد لکھوائے جائیں چنانچہ موصوف کو اس کام کے لیے آمادہ کیا گیا اور دوسوروپئے فی پارہ ان کے معاونین کار کے لیے مقرر کردئے گئے لیکن افسوس کہ حضرت موصوف اپنی سیاسی اوردرسی مصروفیات کی وجہ سے دو سال تک ایک پارہ کے فوائد بھی نہ لکھ سکے تب حضرت مولوی مجید حسن صاحب کے پاس جاکر دوسال کی رقم واپس کردی اور عذر پیش کردیا۔

 

اس کے بعد تحریر فوائد کے لئے حضرت مدنیؒ کے مشورے سے مولانا عبید الرحمن صاحب مفسر امروہی کا انتخاب عمل میں آیا مولوی مجید حسن صاحب اور آغارفیق بلند شہری ایڈیٹر مدینہ دونوں امروہہ گئے اور مولانا کو اس کام کے لیے آمادہ جب مولانا دو پاروں کے فوائد تحریر فرماچکے تو بعض مخالفین اور دراندازوں نے کام میں رکاوٹ پیدا کردی جس کی بناء پر مولانا موصوف نے یہ تحریر فوائد کا کام بند کردیا۔ ( یہ بھی پڑھیں مجید حسن اور اخبار’مدینہ‘ بجنور – ڈاکٹر ساجد ذکی فہمی )

مولانا مجید حسن نے ہر چند کوشش کی لیکن مولانا عبیدالرحمن صاحب آئندہ تحریر کے لئے کسی طرح آمادہ نہ ہوئے۔ سطور ذیل میں مولوی مجید حسن

کا ایک مکتوب بنام مولانا عبید الرحمن صاحب پیش کیا جارہا ہے جس سے تحریر فوائد کے معاملہ میں کافی روشنی پڑتی ہے۔

مکتوب مولوی مجید حسن صاحب

دفتر مدینہ بجنور، یوپی انڈیا

20جولائی 1928 عیسوی

مولانا محترم السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

مزاج گرامی! والانامہ پڑھ کر رنج اور افسوس ہوا، معلوم نہیں کس در انداز نے آپ سے یہ کہہ دیا کہ فوائد مفید عام اور پسندنہیں، ممکن ہے کہ یہ کارروائی کسی مخالف کی ہو اور خدا کے کام میں روڑہ  اٹکانے کے خیال سے ایسا کیاگیا ہو بہر نوع میرا اور کسی متعلق شخص کا ہرگز یہ خیال نہیں ہے کہ فوائد پسندیدہ نہیں ہیں۔ مولانا! قرآن مجید کی موجودہ اشاعت پر پچاس ہزار روپئے خرچ آیا ہے اس حساب سے دس روپیہ فی کلام مجید غیر مجلد لاگت ہوئی دوروپئے جلد سازی پر فی کلام مجیدصرف ہوتا ہے گویا بارہ روپئے فی کلام مجید مصارف آئے ہیں اور پندرہ روپئے میں ہدیہ کیا جارہا ہے اس سے آپ میری ذاتی اغراض اور شخصی منافع کا حال معلوم فرماسکتے ہیں حقیقت حال یہ ہے کہ میرے ذاتی منافع کا تعلق دوسرے کاروبار سے ہے قرآن مجید سے نہیں اور میں اس خدمت کو خالصتًا لوجہ اللہ انجام دے رہا ہوں اور آپ نے بھی یہی فرمایا تھا کہ خالصتًا لوجہ اللہ تحریر فوائد کا کام کروں گا غرض کہ دونوں کی نیت اور غرض ایک ہی ہے اور ’’انما الأعمال بالنیات‘‘ کے فرمان رسول کے مطابق میری اور آپ کی یہ خدمت یقینا عاقبت میں انجام بخیر ہونے کی ضامن ہوگی پھر معلوم نہیں آپ خدا کے کام میں کسی رخنہ اندازی سے کیوں متأثر ہوتے ہیں

مولانا! دراندازوں کا حال مجھ کو اچھی طرح معلوم ہے۔ مولانا حسین احمد کے فوائد لکھنے میں بھی لوگ مزاحم ہوئے اور اب معلوم ہوتا ہے کہ آپ پر بھی اثر ڈالا جارہا ہے میں نہیں کہہ سکتا کہ دراندازوں کا یہ فعل کہاں تک حق بجانب ہے جب کہ میں اور آپ دونوں خلوص کے ساتھ خدا کے کام میں مصروف ہیں گویا یوں کہنا چاہیے کہ یہ لوگ میرے اور آپ کے کام میں نہیں، خدا کے کام میں دراندازی کرکے اس کو روکنا چاہتے ہیں لیکن مجھ کو خدا پر کامل بھروسہ ہے اور کامل یقین ہے کہ وہ اپنا کام اپنے بندوں سے لے گا اور کام ضرور تکمیل کو پہنچے گا، خواہ دراندازی کتنی ہی کریں: ’’یُرِیْدُوْنَ لِیُطْفِئُوْانُوْرَاللّٰہِ بِأَفْوَاھِھِمْ‘‘

مولانا! جس مکاتبت کا حوالہ آپ نے دیا ہے اس میں کبھی یہ ظاہر نہیں کیا گیا کہ فوائد پسندیدہ نہیں بلکہ جو کچھ لکھا ہے خدا بہتر جانتا ہے محض خادمانہ مشورہ تھا جو آپ کے ارشاد کے مطابق پیش کیا گیا تھااور وسیع اخلاق کو پیش نظر رکھ کر عرض کیا گیا تھا، ورنہ اس کی ضرورت بھی نہ تھی اب رہا خدمت اور اعانت کا مسئلہ مولانا معاف کیجئے! میں آپ کے مافی الضمیر یا طبیعت کے خلاف اس بحث کو چھیڑ رہا ہوں واقعہ یہ ہے کہ انسان حوائج دنیا سے مجبور ہے اور اس مجبوری کا مجھ کو کافی احساس ہے اورمیں نے ارادہ کرلیا ہے کہ آئندہ مستقل طور پر خدمت کرتارہوں گا خداکاکوئی کام رکا نہیں کرتا وہ اپنے کام معمولی بندوں سے بھی لے لیتا ہے، شرح صدر عنایت فرماتا ہے اور کا م کی توفیق دیتا ہے۔ کام ہوجاتا ہے،دنیا میں سینکڑوں مثالیں اس قسم کی موجود ہیں۔ ممکن ہے خدا نے یہ خدمت آپ ہی کے حصہ میں رکھی ہو۔ آپ قلبی اور انسانی وساوس سے متأثر نہ ہوئیے۔ خدا کے اس کام سے گریز نہ فرمائیے، پھونکیں مارنے والوں کی پرواہ نہ کیجیے اور ہمہ وقت ذات باری پر بھروسہ رکھئے، لیکن خدانخواستہ اگر دراندازوں کی جدوجہد آپ کے ارادوں اور خدمت دین الہی کے سچے جوش پر غالب آجائے تو میں سمجھوں گاکہ یہ خدمت کسی اورکے حصہ میں ہے اور یہ سعادت کسی دوسری ہستی کو حاصل ہوگی اس صورت میں میری کوشش غیر مفید ہوگی اور درانداز کامیاب، خدا کا کام پھر بھی ہوگا اور ضرور ہوگا اوروہ کسی دوسری ہستی کو مامور فرمادے گا۔

مولانا! آپ وساوس کو قلب میں پیدا نہ ہونے دیں اور دراندازوں کی پھونکوں کی پرواہ نہ کریں اورکام کئے جائیں جہاں تک میرا خیال ہے یہ خدمت آپ ہی کے حصہ میں آئی ہے اور آپ ہی اس کو انجام دیں گے وساوس کے امتحانات اس کا ثبوت ہیں، امتحان میں ثابت قدم رہئے استقلال کی ضرورت ہے۔ ’’أَلَا أِنَّ حِزْبَ اللّٰہِ ھُمُ الْغَالِبُوْنَ‘‘

الحاصل! مولانا عبیدالرحمن صاحب کسی طرح آمادہ نہ ہوئے تب حضرت شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد صاحب مدنیؒ کے مشورے سے یہ کام حضرت علامہ مولانا شبیر احمد عثمانیؒ کے سپرد کیا گیا۔ حضرت علامہؒ نے فرمایا کہ مجھے تو اس کام پر معاوضہ لینے کی ضرورت نہیں ہے البتہ میرے اور دو معین کار ہوں گے ان کی مدد آپ کو کرنا ہوگی۔ چنانچہ دوسوروپئے فی پارہ کے حساب سے کام شروع کردیا گیا ہرمہینہ میں ایک پارے کے فوائد تیار کرکے بھیجنا شروع کردئیے۔ اس طرح دو سال دوماہ میں کام پورا ہوا۔

 

مسجد کی تعمیر

 

اسی محلہ کی ایک بہت چھوٹی مسجد تھی جس میں جمعہ بھی ادا کیا جاتا تھاالبتہ نمازیوںکے لئے بہت ناکافی تھی۔ پھر جب مدینہ اخبار کو فروغ ہوا اور ہندوستان بھر کے علماء ادھر آنے لگے تو ان کے مواعظ حسنہ اور تقریروں کے مواقع پر یہ مسجد بہت ہی ناکافی ثابت ہوئی۔ اس لیے مولوی صاحب مرحوم نے اس مسجدکی توسیع کے لئے کوشش کی۔

جن دنوں مسجد تعمیر ہورہی تھی ان دنوں میں مولوی صاحب مرحوم کا محبوب ترین مشغلہ تعمیر مسجد تھا، کھانا،ناشتہ اور رات اور دوپہر کے آرام کے علاوہ تمام اوقات مسجد میں گذارتے۔ مئی،جون کی دھوپ میں معماروں کے پاس چھتری لگاکر مسلسل چار۔چار،پانچ۔پانچ گھنٹہ کھڑے رہنا اور ان کو بتلاتے رہنا معمولی کام نہیں ہے پھر اسی کے ساتھ ملک کی اہم شخصیات کا تصور بھی مولوی صاحب مرحوم کے ساتھ وابستہ کردیجئے تو حیرت ہی حیرت ہوگی لیکن مرحوم مولوی صاحب کو ایک لگن تھی جو لگی ہوئی تھی مسجد تیار ہوئی۔اپنی نوعیت کی تنہا مسجد، نازک ترین مسجد مضبوط ترین مسجد جس پر ہزاروں روپیہ مولوی صاحب کا صرف ہوا اور جس غریب اور رئیس نے دست تعاون دراز کیا اس کے بھی چار پیسے اور سینکڑوں روپئے لگے جب مسجد تیار ہوگئی تو مولوی صاحب مرحوم نے سنگ مرمر کی ایک لوح پر ایک قطعہ کندہ کراکر نصب کرادیا۔

یہ قطعہ مولوی صاحب کا تاریخی قطعہ ہے

سال تعمیر

سال ہجری ہے جو تیرہ سو اکہتر ہے متین

چار میناراور بنگلہ ہیں اس سن کے نگین

۔۔۔۔۔۔

عیسوی سن ماہ جون انیس سو باون کا ہے

اس زمانے میں بنی یہ یادگارِ بہترین

۔۔۔۔۔۔

ختم رمضان المبارک میں ہوا یہ کار دین

اس میں حصہ لینے والے ہیں مبارک بالیقین

مولوی مجید حسن کی حیات وخدمات پر تحریر کرنے کے لیے ایک دفتر چاہیے امید ہے عنقریب تحقیقی ذہن رکھنے والے نوجوان اپنے محسن ومربی کے زریں کارنامے عوام الناس کے سامنے لائیں گے۔

11نومبر1966 کا دن اخبار مدینہ کی زندگی کا سب سے تاریک دن ہے کہ اس دن اپنی محنت وکاوش سے مدینہ کو تناور درخت بنانے والے مولوی مجید حسن اس دارفانی سے کوچ کرگئے، تاریخ گواہ ہے کہ سہ روزہ مدینہ میں شائع ہوئی مولوی مجید حسن کے انتقال کی خبر ملک وملت کے دل ودماغ پر بجلی بن کر گری اور پورے ملک نے مولوی مجید حسن کی موت کو قومی نقصان سے تعبیر کیا۔

خوشتر مکرانوی نے نوحہ غم کیالکھا بس دل نکال کر رکھ دیا ہے:

قوم وملت پر ترے احسان ہیں

کارنامے سب تیرے ذیشان ہیں

رہنمائے قوم ہوں کہ فلسفی

تیرے درس زیست پر قربان ہیں

جتنے بھی اہل قلم ہیں ہائے ہائے

کتنے تیری موت سے حیران ہیں

مشہور عالم دین اور مفکر اسلام مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ نے مولوی مجید حسن کے انتقال پر گہرے رنج وغم کا اظہار کرتے ہوئے کہا:

اگر ہماری قوم بیداری کا مظاہرہ کرتی اور اس میں ہیرے کو پہچاننے کی صلاحیت ہوتی تو وہ مولوی مجید حسن کی زندگی سے بڑا فیض اٹھاسکتی تھی۔

افسوس کہ مولوی مجید حسن کے انتقال سے محض 08برس بعد تک اخبار مدینہ زندہ رہا اور اپنی عمر کے 62برس مکمل کرلینے کے بعد تاریخ کا زریں باب بن گیا۔ایسا نہیںکہ مولوی مجید حسن کی اولاد میں وہ صلاحیت نہیں تھی جو کہ اخبار مدینہ کی ترویج واشاعت کے لیے ضروری تھی بلکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ دور ہی  ہفت روزہ اور سہ روزہ صحافت کے لیے سازگار نہیں رہ گیا تھا جب کہ وطن کی تقسیم ملت کے زریں مستقبل کا گلا گھونٹنے کے ساتھ اردو صحافت کی کمر پہلے ہی توڑ چکی تھی۔

’’شخص دنیا سے چلاجاتا ہے مگر شخصیت کبھی نہیں مرتی اس کو دبایا اور جلایا بھی نہیں جاسکتا، مولوی مجید حسن ایسی ہی شخصیت کے مالک تھے‘‘

**********

parvezadilmahi123@gmail.co

9412568028

 

مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔
akhbar e madinamaulvi majeed husainاخبار مدینہادبی صحافتادبی میراثمولوی مجید حسن
1 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
اگلی پوسٹ
ٹیگور کی شاعری میں ماحولیات (اُردو تراجم ’’کلامِ ٹیگور‘‘ اور ’’باغبان‘‘ کے حوالے سے)- ڈاکٹر جاوید حسن

یہ بھی پڑھیں

اردو رسائل و جرائد میں خطوط کی اہمیت...

اگست 1, 2024

اُردو رسائل و جرائد:اہمیت وروایت – وجیہ بتول

جولائی 28, 2024

1857کی جنگ آزادی اور دہلی اردو اخبار –...

جولائی 28, 2024

اردو صحافت کے پٹھان : احمد سعید ملیح...

جون 30, 2023

ظریفانہ صحافت اور پنچ اخبارات – ڈاکٹر محمد ذاکر...

فروری 23, 2023

ادبی صحافت کے دو سو سال – حقانی...

جنوری 7, 2023

ادب اور صحافت کا معاملہ (مولانا ابوالکلام آزاد...

اکتوبر 11, 2022

احمد سعید ملیح آبادی: اردو صحافت کا نیر...

اکتوبر 3, 2022

تحریک آزادی اور اردو صحافت – علیزے نجف

اگست 16, 2022

اخبار ’سحرسامری‘ لکھنؤ – ڈاکٹر مخمور صدری

جولائی 14, 2022

1 comment

Muhammad Arshad اگست 8, 2025 - 10:03 صبح

اخبار مدینہ بجنور اور مولوی مجید حسن کے بارے میں ڈاکٹر ساجد ذکی فہمی اور پرویز عادل ماحی کے مضامینح پڑھنے کی مسرت حاصل کرنے کے بعد بے ساختہ زبان سے یہ الفاظ نکلے ۔ بہت خوب ماشا اللہ۔
کیا یہ مضامین کسی مجلے میں بھی شائع ہوئے ہیں؟
نیاز مند
محمد ارشد، سابق مدیر اعلٰی ، اردو دائرۂ معارف اسلامیہ ، پنجاب یونیورستی، لاہور۔

Reply

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (118)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں