جہیز کی لعنت پر بولتے بولتے اس کا حلق خشک ہو گیا اور جسم پسینے میں شرابور۔ اپنی تقریر ختم کرکے وہ اسٹیج سے اتر آیا۔
پورا ہال تالیوں سے گونج رہا تھا ۔فیصل جلدی سے پانی کا گلاس لے کر آیا۔
’’یار عبید!تونے تو کمال کر دیا۔اتنا زبردست بولا کہ ہال میں سناٹا چھا گیا تھا۔صر ف تیری پُر سحر آواز ہی چاروں طرف گونج رہی تھی۔‘‘
’’شکریہ دوست!‘‘عبید نے پانی پی کر خالی گلاس اسے واپس کرتے ہوئے کہا۔
تبھی اناؤنسر نے مرینہ شان کا نام پکارا۔
’’مرینہ بھئی!تمہارا نام پکارا جا رہا ہے۔‘‘روما نے اس کا شانہ ہلایا۔
’’نہیں یار!اب میرا موڈ نہیں تقریر کرنے کا۔انعام تو پکا عبید کو ہی ملے گا۔‘‘ وہ مایوسی سے بولی۔
’’تیرا دماغ تو خراب نہیں ہو گیا؟‘‘فرح چلائی۔
تبھی اناؤنسر نے دوبارہ اس کے نام کا اعلان کیا ۔تب مجبوراً وہ اسٹیج پر چلی آئی۔
پھر اس نے بھی بولا اور خوب بولا!
ہال ایک مرتبہ پھر تالیوں سے گونج اٹھا ۔مرینہ کی تقریر کو بھی سامعین نے خوب سراہا۔
پروگرام کے اختتام پر انعام کا اعلان کیا گیا۔پہلا نمبر عبید کا تھا،مرینہ دوسرے نمبر پر تھی جبکہ وہ ہمیشہ پہلے نمبر پر آئی تھی اور اب یہ بازی عبید لے اڑا تھا۔( یہ بھی پڑھیں ہاؤس ہوسٹس – پروفیسر غضنفر علی )
اس بات کو مرینہ کو کوئی ملال بھی نہیں تھا۔وہ عبید کی کامیابی پر بھی خوش تھی۔
بے اختیار اس کا جی چاہا کہ وہ عبید کے پاس جا کر اسے مبارکباد دے۔تبھی عبید اپنے دوستوں کے ساتھ اس کے پاس چلا آیا۔
’’مبارک ہو مرینہ!‘‘
’’آپ کو بھی مبارک ہو ۔‘‘وہ مسکرائی۔
’’عبید!اپنی کامیابی پر ہمیں ٹریٹ دو۔‘‘فیصل نے اسے مخاطب کیا۔
’’ہاں کیوں نہیں…ضرور…لیکن ایک شرط پر !‘‘اس نے مسکرا کر کہا۔
’’ہمیں تمہاری ہر شرط منظور ہے۔‘‘فیصل بول پڑا۔
’’ٹھیک ہے اگر مرینہ اور ان کی فرینڈس ہمارے ساتھ شریک ہوں تو مجھے بھی یہ ٹریٹ منظور ہے۔‘‘
’’ارے بھلاہم آپ کی خوشی میں شریک نہیں ہوں گے!‘‘فرح نے جلدی سے ہامی بھر لی۔
’’اور آپ کا کیا خیال ہے مرینہ!‘‘عبید کی نظروں نے اس کے چہرے کا طواف کیا۔
’’جی …میں…!‘‘
’’ارے یہ کیا بولے گی عبید!اس کی طرف سے ہم ’ہاں‘کرتے ہیں۔‘‘
روما نے جلدی سے کہاتو سب ہنس پڑے۔
’’ٹھیک ہے تو پھر آج شام پارٹی پکی!‘‘
…………………
پارٹی کافی شاندار رہی۔سب نے خوب انجوائے کیا۔شام کافی خوبصورت تھی اور اس خوبصورت سی شام کے چند خوبصورت لمحات میں عبید نے پرپوز کیا تھا۔وہ بہت خوش تھی اور کیوں نہ ہوتی،نہ جانے کتنی جدوجہد کے بعد اسے اپنی آیئڈیل شخصیت ملی تھی۔اس کے اور مرینہ کے خیالات کتنے ملتے جلتے تھے۔
اور وہ امان…اس کا کلاس فیلو…کتنا مرینہ کے آگے پیچھے پھرتا تھالیکن مرینہ نے اسے کبھی لفٹ نہیں دی تھی کیونکہ وہ اس کے آئیڈیل سے بالکل مختلف تھا۔
مرینہ نے عبید سے کہہ دیا تھا کہ وہ اپنی امی کو اس کے گھر بھیج دے۔
دوسرے دن عبید کی والدہ مرینہ کی والدہ سے ملیں اور دونوں کا رشتہ پکا کر دیا۔مرینہ کے والد حسن نواز کو بھی اس رشتے پر کوئی اعتراض نہ تھا۔
شادی دونوں کے ایگزام کے بعد ہونا طے پائی تھی۔
…………………
وہ بڑی خوبصورت سی سہانی شام تھی۔آسمان پر ہلکے بادل چھائے ہوئے تھے۔مرینہ اپنے ڈیڈی کے ساتھ لان میں بیٹھی تھی،تبھی ایک گاڑی گیٹ پر آکر رکی۔
مرینہ چونک گئی۔اس کا کلاس فیلو امان،جسے مرینہ نے کبھی اچھی نظروں سے نہیں دیکھا تھا۔اور اسے ’تارکول کا ڈرم‘کے خطاب سے نوازا تھا کیونکہ اس کا رنگ سانولا تھا۔
اسے اس کی والدہ سمیت اپنے گھر پر دیکھ کر مرینہ کو بہت حیرت ہوئی۔
’’ہیلو مرینہ…!‘‘وہ قریب آگیا۔
’’اوہ…ہیلو…!‘‘وہ چونک پڑی۔
’’پاپا…!یہ میرے کلاس فیلو امان ہیں۔‘‘
’’السلام علیکم…!‘‘امان نے انہیں نہایت ہی ادب سے سلام کیا تو نواز صاحب اس کی لیاقت سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔
’’بیٹھو بیٹا…!‘‘انہوں نے شفقت سے سلام کا جواب دیتے ہوئے اسے اپنے نزدیک ہی بٹھا لیا۔
’’مرینہ بیٹی…!تم اپنی امی کو بلا لائو۔‘‘
’’جی پاپا…!‘‘وہ جلدی سے کھڑی ہو گئی۔
نواز صاحب اور ان کی بیگم،امان اور اس کی والدہ سے بڑی محبت سے ملے اور اس دوستانہ ماحول میں بقول مرینہ کے،امان کی والدہ نے بم چھوڑ دیا۔
’’بھائی صاحب!امان میرا اکلوتا بیٹا ہے ۔بڑا ہی لائق بچہ ہے۔اگر آپ اسے اپنی فرزندی میں قبول کر لیں تو بڑی مہربانی ہوگی۔میرے گھر میں کسی چیز کی کمی نہیں،بس ایک بیٹی کی ضرورت ہے مجھے۔وہ آپ پوری کردیں۔‘‘انہوں نے نہایت انکساری سے ان کے آگے اپنی جھولی پھیلا دی۔
نواز صاحب نے ایک نگاہ سر جھکائے بیٹھے امان پر ڈالی۔حقیقت تو یہ تھی کہ وہ بھی امان سے بہت متاثر ہوئے تھے لیکن اب وقت گزر چکا تھا ۔وہ عبید سے مرینہ کا رشتہ طے کر چکے تھے۔
’’آپ نے بہت دیر کر دی بہن!‘‘وہ دھیرے سے گویا ہوئے۔
’’ہم نے مرینہ کی بات طے کر دی ہے۔ایگزام کے بعد ان کی شادی ہوگی۔‘‘
امان نے بے یقینی سے انہیں دیکھا۔
’’بیٹے!مجھے افسوس ہے کہ تم اس در سے خالی جا رہے ہو لیکن میں تمہیں خالی نہیں لوٹنے دوں گا۔آج سے تم میرے بیٹے ہو۔‘‘انہوں نے اس کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے محبت سے کہا۔
امان کو اپنے اندر کچھ ٹوٹنے کا احساس بڑی ہی شدت سے ہوا لیکن اس نے شرافت سے ان کے سامنے سر جھکا دیا۔
مرینہ کے ایگزام شروع بھی ہوئے اور پھر ختم بھی ہو گئے۔وہ بہت خوش تھی کہ جلد ہی اپنے محبوب جیون ساتھی سے ملنے والی تھی۔
اور ادھر امان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو رہا تھا۔
بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ ہمارا کوئی عزیز شخص جب ہم سے جدا ہوتا ہے تو زندگی پھیکی اور بے رونق ہو جاتی ہے۔پوری کائنات اداسی کا لبادہ اوڑھ لیتی ہے اور ہماری شخصیت بکھر جاتی ہے۔
یہی حال امان کا تھا۔
وہ ٹوٹ گیا تھا…بکھر گیا تھا…!
اور کوئی اسے سمیٹنے والا بھی نہ تھا۔
نواز صاحب نے مرینہ کی شادی کے کئی کام اس کے سپرد کر رکھے تھے۔
شادی کا دن بھی آپہنچا…!
ادھر ساری تیاریاں مکمل تھیں لیکن بارات کا کہیں پتہ نہیں تھا۔کافی دیر بعد بارات پہنچی۔
نواز صاحب کے گھر والے ان کی خاطر مدارات میں لگ گئے۔تبھی عبید کے والد نے جہیز کی ایک لمبی فہرست نواز صاحب کے ہاتھ میں تھما دی۔
’’یہ کیا ہے…؟‘‘انہوں نے حیرت سے پوچھا۔
’’میرا خیال ہے کہ آپ پہلے فہرست پرایک نظر ڈال لیں۔‘‘
’’جہیز کی فہرست…؟‘‘نواز صاحب نے حیران نگاہوں سے اپنے سمدھی کو دیکھا۔
’’لیکن آپ نے تو کہا تھا کہ آپ جہیز نہیں لیں گے اور عبید اور مرینہ بھی جہیز کے خلاف ہیں۔‘‘
’’انکل…!آپ سے کس نے کہہ دیا کہ میں جہیز کے خلاف ہوں!‘‘
عبید بول پڑا :’’اور پھر یہ تو ہمارے خاندان کی عزت کا سوال ہے۔آپ تھوڑا بہت کچھ تو دیں گے ہی!‘‘
نواز صاحب نے بڑے تاسف سے عبید کی جانب دیکھا۔
ان کے کانوں میں مرینہ کے الفاظ گونجنے لگے۔
’’پاپا…!آپ جہیز کی فکر نہ کریں،عبید اور میں دونوں ہی جہیز کے سخت خلاف ہیں۔اگر آپ نے کچھ دیا بھی تو عبید ناراض ہوں گے ۔مجھے خود بھی جہیز کی مانگ کرنے والے بالکل پسند نہیں۔‘‘
’’اور بیٹا…!اگر عبید نے جہیز کی فرمائش کر دی تو…؟‘‘
’’ناممکن پاپا…!عبید ایسا کبھی نہیں کر سکتے…مجھے ان پر اعتماد ہے۔‘‘
نواز صاحب کو اپنی بیٹی کی ناسمجھی پر دکھ ہونے لگا تھا۔جہیز کی طویل فہرست ان کے ہاتھ میں تھی۔ان کا کھڑا ہونا مشکل ہو گیاتو وہ پاس پڑی کرسی پر بیٹھ گئے۔
’‘انکل…!‘‘امان نے ان کے یخ بستہ ہاتھ تھام لیے۔
’’آپ فکر نہ کریں میں ابھی جہیز کا انتظام کرتا ہوں۔‘‘
’’بیٹا…!اتنی جلدی کیسے انتظام ہو جائے گا۔‘‘وہ پریشان ہو گئے۔
’’امان…!‘‘دفعتاًوہ فیصلہ کرکے اٹھ کھڑے ہوئے۔
’’تم عبید سے کہہ دو ، وہ اپنی بارات واپس لے جائے۔مجھے اس جیسے لالچی انسان سے اپنی بیٹی کی شادی نہیں کرنی۔‘‘
’’لیکن انکل!لوگ کیا کہیں گے؟یہ آپ کی عزت کا سوال ہے۔‘‘امان نے انہیں سمجھانے کی کوشش کی ۔
’’بس بیٹا!جو میں کہہ رہا ہوں ،وہی کہہ دو تم ان سے جاکر۔‘‘
عبید کے والد جو پاس ہی کھڑے سب کچھ سن رہے تھے،غصے سے تلملاتے ہوئے واپس چلے گئے۔
اور شادی ہال پر شادیٔ مرگ کی سی کیفیت چھا گئی۔ذرا سی دیر میں ہی سارا ماحول اداسی میں ڈوب گیا۔تبھی ان کے دماغ میں ایک خیال بجلی کی مانند کوندا۔
’’امان بیٹے…!یہ ہار تم پہن لو۔‘‘
’’جی انکل…!‘‘وہ حیران رہ گیا۔
’’جلدی کرو بیٹا…!میں جو تم سے کہہ رہا ہوں ،وہی کرو۔‘‘
پھر نواز صاحب نے آگے بڑھ کر وہ ہار جو عبید کے لیے تیار کر وائے تھے، امان کے گلے میں پہنا دئیے۔
اور پھر اس کا نکاح مرینہ کے ساتھ پڑھوا دیا گیا۔
امان بے یقینی کی سی کیفیت میں گرفتار نہ جانے کن سوچوں میں گم تھا۔تبھی اس کی نظریں اٹھیں ۔لوگ اسے مبارکباد دے رہے تھے۔اسے گلے لگا رہے تھے۔وہ ابھی تک یقین نہیں کر پا رہا تھا کہ اس کا نکاح مرینہ سے ہو گیا ہے!
وہ مرینہ جو اس کی زندگی کی اولین خواہش تھی!
جسے اس نے اپنے دل کے صنم خانے میں رکھ کر پوجا کی تھی!
اور جس کی جدائی کا کرب اس سے برداشت نہیں ہو رہا تھا!
بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ بغیر کسی پلان کے کوئی غیر معمولی خوشی ہمیں اچانک ہی مل جاتی ہے اور پھر کتنے ہی پل بیت جاتے ہیں۔ہم یقین اور بے یقینی کی کشمکش میں مبتلا رہتے ہیں لیکن جب ہمیں اس پر یقین آجاتا ہے تب اچانک ہی زندگی کتنی خوبصورت لگنے لگتی ہے۔
امان کی زندگی بھی یکایک رنگین ہو گئی تھی اور خوشیوں کے سارے رنگ اس کے چہرے پر بکھر گئے تھے۔وہ مسکرا رہا تھا!
پھر رخصتی کا وقت آگیا۔
نواز صاحب نے اسے گلے سے لگا کر پیار کیا۔
’’بیٹا…!مرینہ کو میں نے بہت ہی لاڈ پیا ر سے پالا ہے۔اس میں بہت سی خوبیاں بھی ہیں اور خامیاں بھی …تم اس کی خامیوں کو نظر انداز کر دینا بیٹا…!‘‘
پھر وہ مرینہ کی طرف مڑے۔
’’بیٹی…!شوہر کو مجازی خدا کا درجہ دیا گیا ہے۔تم امان کی عزت کرنا…اس کے ساتھ محبت سے رہنا…محبت کے سہارے ہی گھر کا دائمی سکھ قائم رہتا ہے۔‘‘
بولتے بولتے ان کی آواز بھرا گئی۔
اور پھر روتی سسکتی مرینہ بابل کا گھر چھوڑ کر پیا کے گھر آگئی۔
ساری رسموں سے فراغت کے بعد دلہن کو اس کے کمرے میں پہنچا دیا گیا۔
مرینہ نے دیکھا کافی دیر سے امان کھڑکی پر جھکا کھڑا تھا۔
’’امان…!‘‘اس نے دھیرے سے اسے پکارا،تو وہ چونک کر اس کی جانب پلٹا۔
’’کیا سوچ رہے تھے…؟‘‘
’’سوچ رہا ہوں اتنے خوبصورت لمحات میں تمہیں ’تارکول کا ڈرم ‘کس طرح پیش کروں؟‘‘اس نے مسکرا کر کہا۔’’مجھے شرمندہ مت کریں امان…!‘‘
’’آپ بہت اعلیٰ ظرف ہیں اور بلند خیال بھی۔مجھے اپنے آپ پر بہت افسوس ہو رہا ہے کہ میں نے آپ کو ہمیشہ غلط سمجھا۔پلیز!مجھے معاف کر دیں۔‘‘مرینہ نے امان کے آگے اپنے ہاتھ بڑھائے تو اس نے اس کے دونوں ہاتھوں کو تھام لیا۔ امان کو اچانک ہی اپنی زندگی میں خوبصورت بہار کی آمد کا شدت سے احساس ہوا…!
…………………
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |


1 comment
بہت بہت شکریہ
میں زینب سہیل آپ کےا اس بہترین کوشش پر مبارک باد پیش کرتی ہوں
میں اردو زبان کی فروغ کے لئے کام کرنا چاہتی ہوں
ابھی میں اردو ٹوسٹ ماسٹر کلب دمام سعودی عرب میں صدر کے عہدے پر فائز ہوں۔اور اردو زبان کی فروغ کی فلاح و بہبود کے لئے کام کر رہی ہوں