غزل
انتہاۓ عشق کا عالم بھی عجیب ہے
وقتِ وصال ہجر اپنا نصیب ہے
یہ کیسی ہوا چلی ہے عالم میں ہر سو
مریض ہیں مبتلائے درد، پریشاں اپنا طبیب ہے
ہماری تیرہ بختی کی روداد نہ پوچھ اے ہمدم
نکلا وہی رقیب اپنا، دل جسے سمجھا حبیب ہے
وطن کی مٹی کی خاطر لہو اپنا سینچا ہے ہم نے بھی
اے دوست! ہم وہ نہیں،جیجسے کہتے ہو رقیب ہے
شہرِ تمنا کی آغوش میں بستا ہے شہرِ خموشاں
یہاں اہلِ دل تو ہیں پر دل ان کا غریب ہے
بدلتی ہے تقدیر ملک و قوم کی کوششِ نا تمام سے
جہدِ مسلسل رواں رکھ کمالٌ، منزل تری قریب ہے
کمال الدین علی احمد
ایم اے اردو،(گولڈ میڈلسٹ)، نیٹ
تریوینی دیوی بھلوٹیا کالج
رانی گنج، مغربی بنگال
CONTACT : 9093096254 /8906364797


3 comments
Lajawab
بہت عمدہ
شہرِ تمنا کی آغوش میں بستا ہے شہرِ خموشاں
یہاں اہلِ دل تو ہیں پر دل ان کا غریب ہے
اس غزل میں یہ شعر بہت ہی خوبصورت ہے شہر تمنا کی آغوش میں شہر خموشاں کا بسنا اپنے آپ میں انفردیت پیدا کر رہا ہے۔ جدت کی بھی مثال ہے۔ قاری کے ذہن پر پر دستک دیتا ہے۔ دوسرے مصرعے میں میں اہل دل کے ساتھ غریب کا ہونا معنی خیز ہو گیا ہے۔شاعر مبارک باد کے مستحق ہیں۔عمدہ غزل اور عمدہ شعر کے لئے پھر سے مبارک باد۔
ڈاکٹر محمد مستمر