تقسیم ہند کے بعد یوں تو بہت سے ناول لکھے گئے جن میں فکشن نگاروں نے وقت اور حالات کے پیش نظر فرقہ وارانہ فسادات کی بربریت و خون ریزی ،خاک و خون میں لپٹے ہوئے انسانوں،عورتوں کی عزت و ناموس لٹ جانے کا بیان اور اذیت زدہ واقعات کو موضوع بنایا لیکن شوکت صدیقی کا ناول ’’خدا کی بستی‘‘ ان موضوعات سے مختلف موضوع کا حامل ہے، اس میں تقسیم اور فسادات کے بعد کے اس منظر نامہ کا بیان ہے جب لوگوں نے ایک ملک کو چھوڑ کر دوسرے ملک کو امن و سکون کا گہوارہ سمجھ کر قدم رکھا تھا لیکن وہاں پر انہیں کس طرح کے نامساعد حالات کا سامنا کرنا پڑا۔ پاکستان کی نو تشکیل شہری زندگی میں کس طرح کے خود غرض اور بے ضمیر لوگ موجود ہیں۔ بڑے شہر میں رہنے کے باوجود ان کی ذہنیت کس قدر تنگ ہے اور لاکھوں مہاجر غربت کی زندگی گزار رہے ہیں۔ جھگیوں میں کیڑے مکوڑوں کی طرح سانس لے رہے ہیں اور ان کا کوئی حامی و مدد گار نہیں۔ ناول میں پیش کردہ واقعات کا تجزیہ کرتے ہوئے شہاب قدوائی نے بالکل درست کہا ہے:
’’خدا کی بستی آزادی اور بر صغیر کی تقسیم کے بعد لکھا جانے والا بڑا اہم ناول ہے، جس میں قیام پاکستان کے فوراً بعد تشکیل پانے والے سماج اور معاشرتی زندگی کو اجاگر کیا گیا ہے اس دور میں پلنے بڑھنے اور پھیلنے والی مفاد پرستی اور مطلب پرستی نے دن دوگنی رات چوگنی ترقی کرتے ہوئے پاکستان کی معاشرتی زندگی اور معیشت کو دیمک کی طرح کھوکھلا کردیا ۔‘‘(۱)
اس ناول میں سماج کے اقتصادی اور معاشرتی مسائل کی جس اعتبار سے عکاسی کی گئی ہے وہ ترقی پسندی سے عبارت ہے اور وہ تمام عناصر موجود ہیںجو کسی فن پارہ کو عوامی اور سماجی اعتبار عطا کرتے ہیں، مثلاً اس میں جہاں معاشرے کی ناہمواریوں، یتیم خانے کی خرابیوں ، غربت زدہ اور سڑکوں پر بھیک مانگنے والوں، تعلیم و تربیت سے محروم بچوں، گداگروں اور جرائم پیشہ لوگوں کا بیان ہے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ راوی خود ان تجربات سے دوچار ہوچکا ہے اور یہ حقیقت بھی ہے کہ شوکت صدیقی نے ہجرت کے بعد ایسے ماحول میں کچھ دنوں تک گزر بسر کیا جہاں مختلف طرح کے لوگوں سے واسطہ پڑا۔ ان کے قریب رہ کر ان کی نفسیات ، عادات و ا طوار، رہن سہن کا بغور مطالعہ ممکن ہوسکا اور اسی لیے خدا کی بستی ’’مصنف کے جذبے ا ور سماجی مسائل پر گہری نظر کا بین ثبوت ہے اور یہ ناول ایک خاص دور میں انسانی اغراض پر وجود میں آنے والے پر فریب معاشرے کے باطنی حقائق کی عکاسی کی وجہ سے ترقی پسند تحریک کے بنیاد گزاروں کے نظریہ سے ہم آہنگ نظر آتا ہے۔ اختر انصاری لکھتے ہیں:
’’ہمارے نزدیک ادب میں دو خصوصیتیں لازمی طور پر پائی جانی چاہئیں اول تو یہ کہ وہ اپنے دور کی اجتماعی زندگی سے ایک گہرا اور براہ راست تعلق رکھتا ہو۔ دوم یہ کہ اس کی تخلیق ایک مخصوص اور واضح سماجی مقصد کے تحت عمل میں آئے۔‘‘(۲)
قابل ذکر بات یہ ہے کہ اس ناول کے تمام واقعات کا ذکر اپنے دور (تقسیم ہند کے بعد) کی اجتماعی ز ندگی سے ایسا گہرا تعلق ہے کہ وہ تمام پوشیدہ گوشے سامنے آجاتے ہیں جو اس معاشرے میں انسانی اقدار کی پامالی کا موجب بنے نیز اس معاشرے میں معاشی کشمکش کی وجہ سے جو مسائل اور ناقابل فہم متضاد صورتیں پیدا ہوگئی تھیں اس کے مکمل صورت حال کی عکاسی راجہ، نوشا، سلطانہ، اس کی ماں،نیاز اور سلمان سے وابستہ واقعات کے ذریعہ ہوتی ہے۔ غربت اور معاشی پستیوں کی وجہ سے ان معصوم بچوں کا بچپن تباہ ہوجاتا ہے تعلیم و تربیت سے محروم ہو کر جرائم کے اڈوں تک جا پہنچتے ہیں راجا لاوارث ہونے کی وجہ سے یتیم خانے میں رہتا ہے وہاں کی زندگی سے تنگ آکر ایک بیمار گداگر کی گاڑی کھینچ کر دن بھر بھیک منگواتا ہے۔ نوشا دن بھر بے رحم عبداللہ مستری کی نگرانی میں کام کرتا ہے لیکن پھر بھی دو وقت کی پیٹ بھر روٹی بمشکل ہی نصیب ہوتی ہے۔اس کے علاوہ نیاز جیسے بے حس لوگ بھی اس معاشرے میں ہیں جو بچوں کو صحیح راہ دکھانے کے بجائے اپنے معمولی مفاد کے لیے چوری کرنے کی ترغیب دیتے ہیں۔ آخر کار مسلسل اذیتوں سے تنگ آکر یہ لوگ شرافت کی زندگی گزارنے اور محنت و مشقت کرکے روزی روٹی کی غرض سے کراچی جاتے ہیں لیکن وہاں بھی شاہ جی کے غنڈوں کے ہاتھ لگ جاتے ہیں جہاں پہنچ کر انہیں بڑی بڑی ڈکیتی کے لیے آلہ کار بنایا جاتا ہے۔ چوری کی سازش کے جرم میں گرفتار ہو کر جیل کی تنگ و تاریک کمروں میں سزا کاٹتے ہیں۔ وہاں ان کی معصومیت مزید مسخ ہو کر رہ جاتی ہے۔ راجا کو اسی جیل میں ایسا زخم لگتاہے جو اس کے لیے جان لیوا ثابت ہوتا ہے۔ جیل سے اسے اسپتال تو بھیجا گیا مگر وہاں بے توجہی اور معقول علاج نہ ہونے کے سبب اس کی حالت مزید خراب ہوجاتی ہے اور اس کے پیر کاٹ کر اپاہج بنا کر باہر سڑک پر چھوڑ دیا گیا، مسلسل آزمائشوں اور ناکامیوں کے باوجود راجہ کا عزم و حوصلہ کم نہیں ہوتا اور خود کو نوشا کے سامنے مضبوط ظاہر کرنے کی کوشش کرتا ہے اور اپنی خستہ حالی کو قسمت کا کھیل کہہ کر حالات سے مفاہمت کرلیتا ہے۔
اسی طرح نوشا بھی جیل سے رہا ہونے کے بعد از سر نو شرافت کی زندگی بسر کرنے کے لیے قدم اٹھاتا ہے مگر وقت اس کا ساتھ نہیں دیتا وہ بھی تھک ہار کر واپس اپنی ماں کے پاس آتا ہے۔ قصبہ میں داخل ہوتے ہی ایک رکشہ والے سے ملاقات ہوتی ہے جو کہ اس کا دوست شامی ہے والد کے انتقال کے بعد مصیبتوں سے تنگ آکر رکشہ کھینچتے کھینچتے ٹی بی کے مرض میں مبتلا رہتا ہے۔ وہ راجہ کو صورت حال کی تفصیل بتاتے ہوئے کہتا ہے:
’’یار بات یہ ہے کہ تیری اماں نے نیاز سے نکاح پڑھوالیا تھا تو ناراض نہ ہو تو ایک بات بتائوں میں نے سنا ہے کہ سلطانہ کی اور نیاز کی کچھ لگ سٹ ہوگئی تھی اسی لیے نیاز نے تیری اماں کو مروادیا۔ سارے محلے والے بھی کہتے ہیں۔‘‘(۳)
یہ خبر سنتے ہی نوشا کے سر پر خون سوار ہوجاتا ہے اور وہ نیاز کی حویلی پہنچ کر اسے قتل کردیتا ہے اور سلطانہ کے لاکھ روکنے کے باوجود خود کو پولیس کے حوالے کردیتا ہے۔ نابالغ ہونے کی وجہ سے اسے سزائے موت کے بجائے چودہ سال کی قید با مشقت کی سزا دی جاتی ہے۔
’’نوشا کو ملزموں سے کٹہرے سے نکالا گیا اور جن ہاتھوں کو قلم کی ضرورت تھی ان میں ہتھکڑیاں ڈال دی گئیں، ہتھکڑیاں پہن کر نوشاد پاگلوں کی طرح چیخنے لگا۔ مجھے پھانسی دو، مجھے گولی ماردو، میں زندہ نہیں رہنا چاہتا، میں اب جینا نہیں چاہتا، خدا کے لیے مجھے پھانسی دے دو۔‘‘(۴)
نوشا کے ان جملوں سے زندگی کے متعلق کڑواہٹ و تلخی، نفرت و ناقابل برداشت تکلیفوں کی شدت کا اندازہ ہوتا ہے۔ مصنف کی فنکاری یہ ہے کہ زندگی کے متعلق ان تلخیوں کو لفظی پیکر دینے کے بجائے احساسات و تجربات کے پیکر میں اس طرح ڈھال دیا ہے کہ کوئی بھی شخص اس کرب کو محسوس کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔
ان کرداروں کی زندگی سے وابستہ واقعات میں حقیقت نگاری کا عنصر اس قدر نمایاں ہے کہ آج بھی یہ کردار ہمیں اپنے ارد گرد سڑکوں اور بازاروں میں در بدر پھرتے نظر آجاتے ہیں اور انہیں جیتے جاگتے کرداروں کی یاد تازہ کرجاتے ہیں۔
سلطانہ کی ماں مسلسل تنگ دستیوں سے عاجز آکر نیاز جیسے ہوس پرست شخص کے بہکاوے میں آکر مالی امداد کی امید میں نکاح کرلیتی ہے۔ نکاح کے بعد نیازبیمہ کی پچاس ہزار رقم اور سلطانہ کو اپنی جنسی خواہشات کی خاطر حاصل کرنے کے لیے سلطانہ کی ماں کو زہریلے انجکشن لگواکر راستے سے ہٹا دیتا ہے اور سماج کی نظروںمیں بیمہ کا قانونی وارث بن کر روپئے حاصل کر لیتا ہے اور سلطانہ کو بنا عقد کے جبراً اپنی بیوی کے طور پر رکھتا ہے۔ مگر سلطانہ بھی اس کے خلاف کوئی احتجاج کا رویہ اختیار نہیں کرتی اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ حالات کی کرختگی کی وجہ سے بے حس ہوچکی ہے۔ دوسری طرف سلمان جو سلطانہ کا ہمدرد ہے اور اس سے محبت بھی کرتا ہے مگر مالی کمزوریوں کی وجہ سے نکاح نہیں کرسکتا ہے، محبت کی ناکامی ، تعلیم کو جاری نہ رکھ پانے کی الجھن، روپیوں کی قلت کی وجہ سے فاقہ کی نوبت، ماں کے دیے ہوئے ذاتی استعمال کے سامان کو فروخت کرنے کا کرب وغیرہ نے اسے ایسے دو راہے پر لا کھڑا کیا کہ زندگی اس کی نظروں میں تلخی اور مشقت کے سوا کچھ نہیں وہ پروفیسر احمد علی سے گفتگو کے دوران کہتا ہے:
’’میں تعلیم حاصل کرنا چاہتا ہوں مگر جاری نہیں رکھ سکتا، ملازمت چاہتا ہوں وہ ملتی نہیں، ایک معزز شہری کی حیثیت سے زندگی بسر کرنا چاہتا ہوں اس کے امکانات نہیں، سیدھا سادا اقتصادی مسئلہ ہے اور کوئی اقتصادی مسئلہ معاشرے سے ہٹ کر اپنا وجود نہیں رکھتا۔‘‘(۵)
’’آپ بند کمروں میں بیٹھ کر زندگی کو کتابوں میں تلاش کرتے ہیں اور میں نے زندگی کو شراب خانوں میں، بالا خانوں میں، قمار خانوں میں اور تنگ و تاریک گلیوں میں دیکھا ہے، مسلسل فاقے کیے ہیں، ذلتیں برداشت کی ہیں، قدم قدم پر ٹھوکریں کھانے کے بعد تجربہ حاصل کیا ہے، زندگی کو برہنہ آنکھ سے دیکھئے وہ کس قدر مظلوم ہے۔‘‘(۶)
زندگی سے بیزاری کا یہی اظہار راجہ کی زبان سے ملاحظہ ہو:
’’یار جی چاہتا ہے مرجائوں‘‘
سالی اس زندگی میںرکھا ہی کیا ہے‘‘(۷)
’’ارے یار آدمیوں کا ساتھ چھوٹ گیا تو جانوروں سے بھی دوستی نہ کروں۔‘‘(۸)
اس مکاملے کے ذریعہ مصنف نے گہری منطق اور تلخ حقیقت کو پیش کیا ہے جس کا تعلق انسانی جذبات و احساسات اور نفسیات کے رد عمل سے ہے اور یہی احتجاج و رد عمل واقعات کے جنم لینے کا پیش خیمہ ثابت ہوتا ہے۔
اس ناول کا دوسرا حصہ فلک پیما کے اسکائی لارکوں (فلک پیما تنظیم سے وابستہ افراد اسکائی لارک کہلاتے تھے) کی جد و جہد اور ان کی عملی سرگرمیوں سے تعلق رکھتا ہے جو سماجی و عوامی فلاح و بہبود کے لیے اور معاشرے میں پیدا ہونے والی خرابیوں کو ختم کرنے کے لیے قائم کیا گیا تھا، جس کا بنیادی مقصد تعلیم سے محروم لوگوں کی تربیت کرنا، بے روز گار لوگوں کے لیے روزی روٹی کی تلاش کے راستے ہموار کرنا تھا لیکن خان بہادر جیسے سیاسی رہنما کے غنڈے فلک پیما کے رفاہی کاموں میں بار بار دخل اندازی کرتے ہیں اور ان کے آفس میں آگ لگا کر سارا اسباب تباہ و برباد کردیتے ہیں لیکن اس کے باوجود اسکائی لارکوں کے عزم و حوصلے میں کمی نہیں آتی ہے وہ نئے سرے سے اپنا آفس تیار کرتے ہیں۔ ان لوگوں کی گرم جوشی دیکھ کر خان بہادر اپنی کامیابی کی راہ میں خطرہ محسوس کرتا ہے اور انہیں پوری طرح اپنے راستے سے ہٹانے کی تدبیریں کرتا ہے۔ اس کی تدبیر اس طرح کامیاب ہوجاتی ہے کہ وہ اپنی دولت اور سیاسی بل بوتے پر سرکاری عہدیداران کو اپنے قبضے میں کرکے فلک پیما پر جان لیوا حملہ کرواتا ہے جس میں سب سے متحرک اسکائی لارک صفدر بشیر کی موت ہوجاتی ہے اور ڈاکٹر زیدی کی ڈسپنسری جلادی جاتی ہے۔ نادار مریضوں کا دواخانہ، ضرورت مندوں کا امدادی بینک، لائبریری اور وہ تمام چیزیں جو غربت و جہالت کو مٹانے کے لیے قائم کی گئی تھیں، نیست و نابود ہوجاتی ہیں، اور سلمان زخمی ہو کر اسپتال میں ایڈمٹ ہوجاتا ہے۔ اس حملہ کا سارا الزام اسکائی لارک احمد علی کے سرتھوپ دیا جاتا ہے اور انہیں سزا بھی ملتی ہے اور خان بہادر حرام پیسوں کے بل پر صاف صاف بچ جاتا ہے جبکہ یہ وہ مجرم ہے جس نے مذہب کے نام پر عوام کے جذبات کو مجروح کیا عوام کا اعتبار حاصل کرنے اور الیکشن میں جیتنے کے لیے اسپتال کے لیے منتخب کی گئی زمین پر راتوںرات مسجد تعمیر کرائی اور اسی طرح کے اور بہت سے نازیبا حرکات کیے جس سے عوام کی حق تلفی ہوئی مگر اس کے باوجود وہ قانون کی نظروں میں اعلیٰ و ارفع ہے۔ ڈاکٹر قمر رئیس ’’خدا کی بستی‘‘ میں سماج کے تلخ پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھتے ہیں :
’’پاکستان کے سرمایہ پرستانہ طبقاتی معاشرے میں مذہب کے نام پر ا نسان کی آواز اور اس کے حقوق کو جس طرح پامال کرنے کی سازشیں ہوتی ہیں، شوکت صدیقی نے بڑی جسارت اور وضاحت سے ناول کے پیچیدہ پلاٹ میں انہیں سمونے کی کوشش کی ہے، شوکت صدیقی کا فن تصور پرستی اور رومانیت کے ان عناصر سے پاک ہے جو آزادی سے قبل اردو ناول کی روایت کا جز رہے ہیں انہوں نے سماجی حقیقت نگاری کی اس اعلیٰ روایت کو نئی وسعت دی ہے جس کی تعمیر پریم چند نے کی تھی، ان کا طبقاتی شعور اور انسان دوستی کا تصور ناول میں پریم چند سے آگے کی راہ دکھاتا ہے۔‘‘(۹)
’’خدا کی بستی‘‘ میں ظلم و جبر کے خلاف صرف نعرے بازی اور نظریہ سازی نہیں ہے بلکہ نہایت ہی فطری انداز میں عملی سرگرمیوں کی بھی عکاسی کی گئی ہے۔ ان کا جذبہ اور خاص سماجی مقصد اس وقت واضح طور پر سامنے آتا ہے جب اسکائی لارک گاؤں اور قصبوں میں جا کر لوگوں کو اپنے مفید مشوروں سے نواز کر انہیں اپنا مدعا بیان کرنے کا طریقہ یہاں تک کہ الفاظ بھی سکھاتے ہیں اور انہیں اس بات کی بھی تعلیم دیتے ہیں کہ ا پنے حقوق کیسے حاصل کیے جائیں۔ اسکائی لارکوں کے مشاغل ا ور انسانی ماحول کو بہتر بنانے کے جذبے کا ا ندازہ اس اقتباس سے ہوگا۔
’’صفدر بشیر اپنے گروپ کے دو ا سکائی لارکوں کے ہمراہ روزانہ کسی پس ماندہ بستی میں جاتا اور اچھا شہری بننے اور صاف ستھری زندگی بسر کرنے کی اہمیت پر زور دیتا، تو ہم پرستی اور فرسودہ رسم و رواج سے پیدا ہونے والی سماجی برائیوں کی نشاندہی کرتا۔ انہیں چھوڑنے ا ور ان کے خلاف مؤثر طور پر جد و جہد کرنے کی تلقین کرتا،عام فہم انداز میں ان کی ذہنی تربیت کرتا۔‘‘(۱۰)
اس عملی جد و جہد کے تناظر میں کہا جاسکتا ہے کہ آلودگیوں سے پر معاشرے کی اصلاح کے لیے اس تنظیم کی تشکیل بالکل مناسب قدم تھا اور اس سے یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ مصنف صرف زبانی ہمدردی کا قائل نہیں ہے۔
ناول کے اختتام میں مصنف کا شعور عوام کے شعور سے ہم آہنگ ہوجاتا ہے اور تمام مناظر عوام کے جذبات کی ترجمانی کرنے لگتے ہیں۔بحیثیت مجموعی اس ناول کو مصنف کے ذاتی نقطۂ نظر کا مظہر نہیں بلکہ عوامی زندگی کا فلسفہ اور مشترکہ طور پر مسائل کا حل تلاش کرنے کی اہم کڑی قرار دیا جاسکتا ہے۔ اس ناول کی سب سے اہم خوبی جو ترقی پسند نظریہ کی ترجمانی کرتی ہے وہ یہ ہے کہ ایسے سنگین حالات کے باوجود بھی قنوطیت کی فضا غالب نہیں۔ قطع نظر ان معصوم بچوں (راجا، نوشا، شامی) کی زندگی میں چند مایوس کن لمحات کے، لیکن وہاں بھی یکسر مایوسی اور محرومی کے اظہار کے بجائے برے حالات کو مقدر سمجھ کر زندگی سے سمجھوتہ کا رجحان نظر آتا ہے۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ ناول میں حقیقت کا ابلاغ ایسا ہے کہ پاکستان کی اس معاشرتی زندگی اور استحصالی نظام کے خلاف قاری کے دل میں نفرت کا جذبہ پیدا ہوجاتا ہے لیکن مصنف کا کمال یہ ہے کہ شدید حقیقت نگاری کے باوجود کہانی کی تخلیقی فضا کو متاثر نہیں ہونے دیا ہے۔ اسی لیے ناول کے واقعات میں تخلیقیت اور تکمیلیت کا احساس ہوتا ہے۔
فنی اعتبار سے ناول کے واقعات میں وسعت اور پیچیدگی ہے اور پلاٹ میں ترتیب و تنظیم اس طرح برقرار ہے کہ واقعات کی تمام کڑیاں ایک دوسرے سے بالواسطہ طور پر وابستہ ہیں، مثلاً سلطانہ ہی کو دیکھیں کہ وہ مختلف مراحل سے گزرتی ہوئی فلک پیما سے وابستہ ہوجاتی ہے ا ور کرداروں کی پیشکش میں مصنف نے جو فنکاری دکھائی ہے وہ بے مثال ہے، سماج کے اعلیٰ طبقہ سے لے کر بے حد نچلے طبقے کے لوگ، بھکاری، قلندرسبھی موجود ہیں سب کی اپنی اپنی انفرادیت ہے، اس طرح کردار نگاری کی سطح پر ’’خدا کی بستی‘‘ یکسانیت و یک رنگی کے نقص سے پاک ہے، کردار بے اثر و بے روح نہیں بلکہ ان میں خیر و شر کا شعور بھی ہے اور مختلف سماجی و طبقاتی میلانات کی نمائندگی بھی کرتے ہیں، مکالمے و محاورے چست اور موقع و محل کی مناسبت سے ہیں، مثلاً ناول میں کردار کی زبان سے ادا ہونے والا پہلا ہی جملہ اس کے Status کی نمائندگی کرتا ہے، ملاحظہ ہو:
’’کیوں استاد کیسا بیمہ کیا؟‘‘
’’ابے یہ رہی ببگی، واہ میری جان میں تیرے قربان، سالو! آج تم کو پدا ماروںگا۔‘‘(۱۰)
بحیثیت مجموعی فنی اعتبار سے ’’خدا کی بستی‘‘ ہمہ داں راوی کے ذریعہ بیان کیے گئے واقعات کا ایسا مجموعہ ہے جس میں دلچسپی، تجسس، تصادم اور منطقیت موجود ہے،عبارت میں کوئی ابہام نہیں علامات و اشارے خارجی ماحول سے اخذ کیے ہوئے ہیں جنہیں قاری بآسانی سمجھ کر نتائج اخذ کرسکتا ہے اور ناول میں تمام مناظر و Discription مرکزی خیال کو آگے بڑھانے کے اشارے فراہم کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ کہ واقعات اور حالات کی نزاکت کو منظر سے وابستہ کرکے مزید تاثر پیدا کردیا گیا ہے۔ اس کی بہترین صورت اس وقت سامنے آئی ہے جب سلطانہ کی خود سپردگی کو ماحول سے منسلک کیا گیا ہے۔
ساون کے مہینے میں اودی اودی بدلیاں گھرنے کا بیان اس کے بعد موسلادھار بارش اور لائٹ چلے جانے کے بعد سلطانہ کو خوف محسوس ہونا، سلطان کے کمرے میں آکر نیاز کا اسے ہوشیار کرنا اور پھر اسے پیار سے ڈانٹنا اور پھر اسے اپنے بازؤں میں اٹھا لینا، نیاز کے اس عمل پر سلطانہ کا کوئی مزاحمت نہ کرنا ایسا فطری بیان ہے جس میں حقیقت نگاری اور موقع محل کی مناسبت کا عنصر غالب ہے۔
حواشی:
(۱) نقد و نظر کا متلاشی ناول نگار شوکت صدیقی، مطبوعہ سہ ماہی کہکشاں، کراچی، اکتوبر تا دسمبر۲۰۰۱ء)
(۲) اختر انصاری، افادی ادب ص ۲۸، بحوالہ اردو میں ترقی پسند ادبی تحریک، خلیل الرحمن اعظمی، ص ۳۴۶۔
(۳) ص۵۵۵ خداکی بستی، شوکت صدیقی ۲۰۰۲ء
(۴) ایضاً ص۶۵۳
(۵) ص ۲۱۸؎ خدا کی بستی، شوکت صدیقی ۲۰۰۲ء
(۶) ص۱۹، ’’خدا کی بستی‘‘ شوکت صدیقی
(۷) ص۲۱۶، ’’خدا کی بستی‘‘ شوکت صدیقی
(۸) حوالہ بالا، ص ۴۹۰
(۹) تلاش و توازن ص ۵۳، بحوالہ اردو ناول آزادی کے بعد، اسلم آزاد ۔
(۱۰) ص ۱۱، ’’خدا کی بستی‘‘ شوکت صدیقی
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

