چند دن پہلے عارفہ شہزاد کا لکھا ہوا یہ ناول نظر سے گزرا۔۔ مرکزی کردار تمثال ہے اور مرکزی خیال اس کی جنسی اور جذباتی زندگی کے ارد گرد چکراتا نظر آتا ہے۔۔۔ کہانی کچھ یوں شروع ہوتی ہے کہ تمثال جو کہ ایک ملازمت پیشہ اور شادی شدہ عورت ہے ، شاعرہ بلکہ نظم نگار بھی ہے اپنے عشق کی ناکامی سے پریشان ہے چنانچہ وہ فیس بک پر ایک ماہر نفسیات ڈھونڈ کر اسے اپنی مشکل بتاتی ہے کہ کس طرح موجودہ عشق کی بےرخی نے اس کی روز مرہ زندگی تقریبا معطل کر رکھی ہے اس کا سارا دن رونے دھونے میں گزرتا ہے اور وہ ہر وقت اٹوانٹی کھٹوانٹی لیے پڑی رہتی ہے فیس بک پر موجود ماہر نفسیات اسے مشورہ دیتا ہے کہ ایک تو ڈائری لکھنا شروع کرو اور دوسرے محبوب کے نام آخری خط لکھو لیکن پوسٹ مت کرو وہ محبوب کے نام خط لکھنے سے یہ کہہ کر صاف انکار کرتی ہے کہ وہ اس عشق سے دستبردار نہیں ہونا چاہتی البتہ ڈائری لکھنا شروع کر دیتی ہے بعد میں اسے اس ڈائری کے مندرجات کو ناول کی شکل دینے کا خیال آتا ہے اور وہ ناول کی مصنفہ یعنی عارفہ شہزاد سے مدد لیتی ہے۔۔۔۔ یہاں سے اصلی ناول شروع ہوتا ہے جس میں تمثال کے بچپن کے کچھ واقعات ہیں جو اس کے جنسی شعور سے متعلق ہیں بلوغت یا جنسی معاملات میں اس کی دلچسپی کا کھلا کھلا بیان ہیں بچپن سے نکل کر تمثال سیدھی میٹرک میں پہنچتی ہے جہاں اسے ایک لڑکے سے عشق ہو جاتا ہے جسے وہ "پہلا عشق” کا نام دیتی ہے۔۔۔ یہ عشق چند جنسی فینٹسیز سے آگے نہیں بڑھ پاتا اور لڑکے کی کسی جگہ شادی ہو جاتی ہے دوسراعشق یونیورسٹی کے زمانے میں لاحق ہوتا ہے۔۔۔ لڑکا شادی کا وعدہ کرتا ہے اور تمثال اس کے ساتھ سستے ہوٹلوں میں وقت گزارنا شروع کر دیتی ہے جن کا بل بھی وہ خود ہی ادا کرتی ہے۔۔۔۔۔۔ بہرحال یہ عشق چار برس تک، تمثال کی طرف سے شادی کے دباؤ کے بغیر، ہوٹلوں کے تاریک کمروں میں پروان چڑھتا رہتا ہے اور وقت آنے پر وہ ماں باپ کے کہنے پر کہیں اور شادی کر لیتی ہے۔۔۔ عشق کا سلسلہ البتہ جاری رہتا ہے کردار بدل جاتے ہیں۔۔۔ اس کا شوہر اب اس کا تیسرا عشق ہے حالانکہ اس شادی میں جذباتی و جنسی تشنگی اور گھریلو جھگڑوں اور مسابقت کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔۔۔ دس برس اور گزر جاتے ہیں اس دوران تمثال کی زندگی کا ایک اور پہلو ہمارے سامنے آتا ہے اور وہ یہ کہ تمثال نظمیں لکھتی ہے اور ادبی حلقوں میں خوب جانی جاتی ہے ۔۔۔ وہ اپنے چوتھے عشق کے لیے ایک شاعر کا انتخاب کرتی ہے اس شاعر کی نظموں سے وہ بہت متاثر نظر آتی ہے اور اپنی چاہت کے اظہار میں بےباک اور انتہائی جذباتی طریقے اختیار کرتی ہے چوتھا عشق اگرچہ اس سے دوستانہ اور ہمدردانہ رویہ اختیار کرتا ہے لیکن اس کی جذباتیت سے جھنجھلا کر جلد ہی بےرخی اختیار کر لیتا ہے تمثال مزید توڑ پھوڑ کا شکار ہوتی ہے اور زہر کا علاج زہر کے فارمولے پر عمل کرتے ہوئے پانچواں عشق کرتی ہے اور وہ بھی چوتھے عشق کے دوست کے ساتھ اب سچوئشن یہ بنتی ہے کہ چوتھے اور پانچویں عشق کو اس ساری عشقیہ ہسٹری سے واقفیت ہے چوتھا عشق پیچھے ہٹ جاتا ہے لیکن پانچواں عشق تمثال کو اس کی تمام تر نادانیوں اور رسہ گیریوں سمیت پسند کرتا ہے اور اس کی ساری باتوں کو معصومیت اور فطری پن پر محمول کرتا ہے اور عشق کی دکان چلتی رہتی ہے ۔۔ اس دوران وہ اپنے دوسرے عشق سے دوبارہ تعلق استوار کرتی ہے ۔۔۔ اس دوران پانچواں عشق اللہ کو پیارا ہو جاتا ہے لیکن عشق کی گاڑی اپنی رفتار تبدیل نہیں کرتی تمثال بغیر وقت ضائع کیے چھٹے عشق کی طرف پیش قدمی کرتی ہے جس کے مطابق عورت اور مرد کے درمیان ایک جسمانی تعلق کے علاوہ باقی معاملات بکواس ہیں تمثال کو اگرچہ یہ بات پسند نہیں آتی لیکن اس کے جذبہ عشق کو خاص فرق نہیں پڑتا۔۔۔ اب صورتحال کچھ یوں ہے کہ دوسرا ، تیسرا اور چھٹا عشق تمثال کے جنسی اور جذبائل مسائل کو اپنے اپنے طریقے سے حل کرنے کی کوششوں میں لگے ہیں لیکن کامیابی کسی کے حصے میں نہیں آ رہی اور اسی کھچڑی ماحول میں ساتویں عشق کی انٹری ہوتی ہے جسے دیکھ کر تمثال ایک ندیدے بچے کی طرح پچھلے سارے عشقیہ معاملات پر لعنت بھیج کر اس نئے شاعر کی طرف متوجہ ہوتی ہے، جی جان سے فدا ہو جاتی ہے ۔۔۔۔ ساتواں عشق شروع میں تو اچھے جذبات کا اظہار کرتا ہے اسے ملنے اس کے شہر بھی آتا ہے لیکن ایک شام اس کے ساتھ گزارنے کے بعد سر پر پاؤں رکھ کر بھاگ جاتا ہے ۔۔۔ تمثال اس کی توجہ اور محبت پانے کے لیے ہر طرح کے ہتھکنڈے استعمال کرتی ہے اس کے موبائل اور دفتر کے نمبر پر فون کر کے ہراساں کرتی ہے قریبی دوستوں کے پاس دہائی دینے پہنچتی ہے فیس بک پر پیچھا کرتی ہے وغیرہ وغیرہ ساتواں عشق کبھی اس کی حرکتوں پر جھنجھلاتا ہے کبھی پسیج بھی جاتا ہے لنگڑاتا لڑکھڑاتا یہ عشق ابھی ختم نہیں ہو پاتا اور ناول ختم ہو جاتا ہے۔۔۔۔ ناول کے اختتام پر مجھ ایسا قاری ہکا بکا رہ جاتا ہے کہ کہانی اصل میں کیا تھی۔۔۔ ہو سکتا ہے یہ ناول لکھنے کا نیا طریقہ ہو جس میں ایسا اہتمام کیا جاتا ہو کہ کچھ بھی ہو جائے کرداروں کی سمجھ نہیں لگنے دینی۔۔۔۔ جزوی اور ثانوی کردار تو کس کھاتے میں آتے ہیں ہمیں تو تمثال کی اپنی زندگی کے بارے میں خاص معلومات حاصل نہیں ہو پاتیں سوائے اس کے کہ وہ خوشحال ہے، اس کا رنگ گورا ہے، اس کے سسرال والے تنگ نظر اور گھٹیا لوگ ہیں، وہ بری طرح سے جنسی اور جذباتی گھٹن کا شکار ہے، اعصابی بیماری میں مبتلا ہے اور ایک ساتھ شادی شدہ زندگی اور ایسا دھواں دھار عشق چلا سکتی ہے جس میں اپنے محبوب سے چوبیس گھنٹے باتیں کرتی ہے، ہوٹلوں میں وقت گزارتی ہے، فیس بک پر لمبے کمنٹس کرتی ہے اور نظموں کے ڈھیر لگاتی ہے۔۔۔ ہم تو پورے ناول میں اس کی شکل تک نہیں دیکھ سکے ۔۔۔ وہ کہاں جاب کرتی ہے اس کے ماں باپ اس کے بچے اس کی زندگی کا کوئی اور رخ ہمیں نظر نہیں آ سکا اسی طرح باقی کرداروں کا بھی کچھ اتا پتا نہیں چلتا۔۔۔۔ وہ کون ہیں کیسے ہیں اور کیوں یکے بعد دیگرے بلکہ کبھی کبھی ایک ساتھ بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے پہنچ جاتے ہیں بلیک میل ہوتے ہیں ستائے جاتے ہیں لیکن انسانیت بلکہ عورت کی معصومیت پر انگلی تک نہیں اٹھاتے۔۔۔ مناظر جو اس ناول کے ذریعے قاری پر کھلتے ہیں وہ بھی صرف ہوٹلز کے کچھ کمرے اور ایک دو آفسز ہیں ۔۔۔۔ شہر، سڑکیں، گلیاں، موسم، گھر۔۔۔ ان کے بیان کی کوئی خاص ضرورت محسوس نہیں کی گئی گویا کردار نگاری اور منظر نگاری کا کوئی چکر نہیں جزئیات نگاری بھی کچھ معاملہ بندی وغیرہ تک ہی محدود ہے ۔۔۔ کرداروں اور ان کے ماحول کے ساتھ قاری کی کوئی جڑت نہ ہو سکے اس بات کا خاصا خیال رکھا گیا ہے۔۔۔ رہا حسن بیان تو اسے بالکل غیر ضروری سمجھ کر الگ رکھ دیا گیا ہے ۔۔۔ اب بتائیے فلاں فلاں نے فلاں فلاں کے ساتھ فلاں فلاں سلوک کیا اس سے قاری کو کیا لہذا اس کےکانوں پر بھی جوں نہیں رینگنی چاہیے۔۔۔ عورت اور مرد کے تعلق میں نئی بات کیا ہے ہمیشہ سے ہر طرح کی مثالیں موجود رہی ہیں۔۔۔ قاری یہ بھی سمجھ نہیں سکتا کہ آخر ناول کی ہیروئن دکھی کیوں ہے ایسے معاشرے میں جہاں دن رات عورت ظلم کی چکی میں پس رہی ہے اسے گھر چلانے اور بچے پالنے سے فرصت نہیں اگر ایک ساتھ نوکری اور گھر چلانا پڑ جائے تو وہ چیخ اٹھتی ہے شوہر خدائی فوجدار کی طرح سر پر چڑھا رہتا ہے کہیں آنے جانے کے لیے دس لوگوں سے پوچھنا پڑتا ہے۔۔۔ ایسے دگرگوں حالات میں اگر ایک عورت کے ڈھیروں چاہنے والے ہیں، شکل سے اچھی ہے، پیسےجیب میں ہیں، جب جی چاہے گھنٹوں فون اور فیس بک پر جس سے چاہے گپیں لڑا سکتی ہے، ملنے جا سکتی ہے اور ملنے ملانے میں کسی حد سے بھی گزر سکتی ہے، روک ٹوک پابندی جیسی کوئی چیز اس کے راستے میں نہیں ہے ۔۔۔ اسلامی سوسائٹی میں رہنے کے باوجود شادی شدہ ہونے کے باوجود بےنتھے بیل کی طرح شہر بھر میں گھومتی ہے، باری باری سب عاشقین کے لیے تحفے خریدتی ہے کھانے پکاتی ہے، جب جی چاہے کسی کو فیس بک فون وغیرہ کے ذریعے دھمکا لرزا بھی سکتی ہے ۔۔۔ دیکھنے والے یہ بھی نہیں کہہ رہے کہ بی بی آپ تھوڑی جنگلی ہیں معاشرتی تربیت کی اشد مستحق ہیں ۔۔۔ بلکہ سب اس کی جذباتی انتشار اور جنسی تشنگی پر مکمل ایمان رکھتے ہیں ، ہمدردی بھی جتاتے ہیں بھلا وہ کیوں پریشان ہے۔۔۔۔ ناول کے آخر میں کہیں کچے پکے انداز میں ساتویں عشق کو نارسسٹ بھی بتایا گیا ہے ۔۔۔ گویا حد ہی ہو گئی وہ بیچارہ خود ہراسمنٹ کا شکار لگتا ہے جگہ جگہ بلیک میل ہوتا نظر آتا ہے ۔۔۔۔ ناول میں بہت سے جھول ہیں کہانی تو ناپید ہے ہی بہت سی خالی جگہیں بھی ہیں بہت سے اکھڑے اور ادھورے مناظر اور باتیں ہیں یہ لگتا ہے کہ مرکزی کردار کو اپنی زندگی میں پیش آنے والے جنسی واقعات اور ذہن میں جاری جذباتی جنگوں کے علاوہ سب بھول چکا ہے۔۔۔ پر آپ جانیں یہ ٹک ٹاک ویڈیوز کا زمانہ ہے فن پاروں کا نہیں آپ جو چاہے چیخ و پکار کریں اخلاقیات کے ٹوکرے بھر بھر انڈیلتے رہیں جو جتنا لغو اور بیہودہ اس کے اتنے ویوز جتنے ویوز اتنی شہرت اب اس سے پہلے کہ یہ ناول بھی شہرت کے ساتویں آسمان پر بیٹھ جائے اور ایوارڈز کا تابڑ توڑ سلسلہ شروع ہو جائے کوئی ہمیں صرف اتنا سمجھا دے کہ اس ناول کو ہم ناول کیونکر سمجھیں۔۔۔۔۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

