آج میں بالکنی میں کھڑی جب کافی پی رہی تھی تو اچانک میرا ماضی میرے دماغ میں گھوم گیا۔آج ہمارے گھر میں بہت ہی شور گل ہو رہا تھا۔ملازموں کو میں ایک ایک کام تفصیل سے بتا رہی تھی کہ کہیں کوئی کمی نہ رہ جائے۔ہر ایک چیز کی صفائی کروا رہی تھی۔پھول دان میں تازے پھول ڈلوائے۔آنگن میں نئے قالین بچھوائے۔جھومر بدلوائے۔مین گیٹ پر خوشبو دار پھولوں سے سجاوٹ کروائی۔تاکہ جب مہمان آئیں تو انھیں گھر میں داخل ہوتے ہی اچھی خوشبو کا احساس ہو۔دو ملازموں کو میں نے دروازے پر خوشبو لے کر مہمانوں کے استقبال کے لیے کھڑا کیا۔ یہ سب کام میں کروا ہی رہی تھی تبھی امّی نے مجھے آواز دی۔۔روشنی روشنی۔۔۔ارے بھئی سارے کام آج ہی نپٹانے ہیں یا کُچھ کل کے لیے بھی چھوڑوگی۔تبھی شہزاد بھائی جان آ گئے۔
’’آ گئے بیٹا۔تم ذرا دیکھو تو تمہاری بہن کیسے کل کی تیاریوں میں لگی پڑی ہے۔
کیوں نہ لگوں بھئی۔۔۔۔میرے اکلوتے بھاجان کی سال گرہ جو ہے ۔۔۔۔اور ان کی علینا بھابھی کے ساتھ منگنی بھی۔۔۔۔
بھئی میرے پیارے بھائی جان کی دو دو خوشیاں ایک ساتھ ہیں اور میں تیاریوں میں شرکت نہ کروں ایسا تو ہو ہی نہیں سکتا۔
بالکل بھائی جان نے مسکرا کر کہا۔۔۔
ویسے بھائی جان آپ کے من میں خوشی کے مارے لڈّو پھوٹ رہے ہوں گے۔علینا بھابھی جو آنے والی ہیں۔میں نے انھیں چھیڑتے ہوئے کہا ۔بھائی مسکرا دیے۔اتنے میں مامو ں جان اور ممانی جان اورعلینا بھابھی آ گئے۔
السلام علیکم ،پھوپّو۔۔۔۔علینا بھابھی نے امّی کو سلام کیا۔
وعلیکم السلام میری جان ۔کیسی ہو بیٹا؟
جی میں بالکل ٹھیک ہوں۔
آئیے نا بھائی جان ۔بھابھی آپ بھی آئیے نا۔
امّی،ماموں اور ممانی تینوں ہال میں چلے گئے۔میں بھائی جان اور بھابھی وہیں کھڑے رہ گئے۔
شہزاد بھائی ایک ٹک ہو کر بس بھابھی کو ہی دیکھے جا رہے تھے۔اونھ اونھ ،میں نے کھانسنے کی ایکٹنگ کی اور وہ دونوں ہنس پڑے۔
تھوڑا صبر کرو بھائی جان کل تو ویسے بھی آپ دونوں کی منگنی ہونی ہی ہے۔
اچھا بیٹا تب بتاؤں گا تمھیں جب ولی کل گھر آئے گا۔امّی سے کہہ کر تمہاری بھی کیوں نا کل ہی ولی کے ساتھ منگنی کرا دیں۔۔۔؟
میرا چہرا شرم سے لال ہو گیا اور میں شرما کر وہاں سے اپنے کمرے میں بھاگی چلی گئی۔
بھائی اور بھابھی دونوں ہنسنے لگے۔کمرے میں داخل ہوتے ہی میں نے کمرہ lockکر لیا ۔میرا دل دھک دھک دھک دھک کر رہا تھا۔ نہ جانے کیوں ولی کا نام لیتے ہی ہی میرا دل زوروں سے دھڑکنے لگتا ہے۔
ولی ہم دونوں بھائی بہنوں کے بچپن کے دوست تھے۔ جب ابو کا یہاں ٹرانسفر ہوا تھا تب اسکول میں ہماری ولی سے ملاقات ہوئی۔پہلے تو میں ان سے تھوڑا کم بولتی تھی لیکن دھیرے دھیرے ہماری ولی سے گہری دستی ہو گئی۔ ولی کا ہمارے گھر آنا جانا لگا رہتا تھا۔جب بھی گھر پر آتے تھے امی کہتی تھیں کہ ولی کے آنے سے ہمارا گھر کھِل اُٹھتا ہے یہ بات سن کر ولی مسکرا دیتے ۔دن گزرتے گئے اور ہماری دوستی کب محبت میں بدل گئی پتا ہی نہیں چلا۔لیکن کبھی نہ میں اظہارِ محبت کیا اور نہ ہی ولی نے۔
ایک دن ولی گھر پر آئے اُس وقت میں اپنے Assingmentتیار کر رہی تھی اُس وقت بھائی جان بھی گھر پر نہی تھے۔ولی جیسے ہی میرے کمرے کے سامنے سے گزرے میری نظر ان پر پڑی۔وہ دروازہ پار کر چکے تھے لیکن وہ واپس آ گئے اور میرے کمرے میں آ کر دروازہ لاک کر دیا ۔میں گھبرا کر کھڑی ہو گئی۔۔۔۔۔آپ نے دروازہ کیوں لاک کر دیا؟۔۔میں نے گھبرا کر کہا۔۔۔۔اگر کوئی آ گیا تو کیا سوچے گا۔۔۔۔۔۔۔؟
روشنی مجھے صرف دو منٹ دو۔مجھے تم سے بہت ضروری بات کرنی ہے۔۔۔پلیززززز۔۔۔۔صرف دو منٹ۔۔۔۔۔۔۔
او کے ۔صرف دو منٹ؟کہو کیا کہنا ہے؟۔۔۔۔
روشنی پتا نہیں میں کہاں سے شروع کروں لیکن میں جب بھی تمہیں دیکھتا ہوں تو بس دیکھتا ہی رہ جاتا ہوں ۔پتا نہیں تمھیں میری بات پسند بھی آئے گی یا نہیں ۔مجھے گھما پھرا کر بات کہنے کی عادت نہیں ْروشنی میں تم سے بہت محبت کرتا ہوں اور میں جانتا ہوں کہ تم بھی مجھ سے اُتنی ہی محبت کرتی ہو جتنا کہ میں۔۔۔۔۔۔۔۔
جب ولی مجھ مجھ سے یہ باتیں کر رہے تھے تو میرا دل زور سے دھڑکنے لگا۔تبھی ولی نے کمرکے پیچھے سے ایک گلاب کی کلی نکالی اور میرے سامنے پیش کی۔ایک ہاتھ میں کلی اور دوسرے ہاتھ میں انھوں نے میرا ہاتھ تھاما اور میرے اتنے قریب آ گئے کہ مجھے ان کے دل کی تیز دھڑکنوں کی بھی آوازیں آنے لگی اور کہا:
’’ہاتھ دل پر رکھ کر دیکھ تو سہی ہر سانس پر تیرا ہی نام لکھا ہے۔‘‘۔۔۔۔
میں نے گلاب کی کلی ان کے ہاتھ سے اپنے ہاتھ میں لے لی۔ولی نے میرا چہرا اپنے دونوں ہاتھوں میں لے کر کہا’’روشنی تم میری پہلی اور آخری محبت ہو، میں تمہیں ہمیشہ خوش رکھوں گا۔تمہیں کبھی کوئی کمی محسوس نہیں ہونے دوں گا۔میں وعدہ کرتا ہوں ہر خوشی اور غم میں تمہارے ساتھ کھڑا رہوں گا۔‘‘اتنا کہہ کر انھوں نے میری پیشانی پر بوسہ دیا اور ’’اپنا خیال رکھنا‘‘کہہ کر چلے گئے۔
ولی کے جاتے ہی میں بیڈ پر سیدھی لیٹ گئی ۔جس کا مجھے اتنے دنوں سے انتظار تھا آخر ولی نے کہہ ہی دیا۔ ولی کی کہی گئی ساری باتیں ابھی بھی میرے کانوں میں گونج رہی تھیں۔ ان کی موجودگی کا احساس مجھے ابھی بھی ہو رہا تھا۔ ان کے کے جسم کی خوشبو ابھی بھی میرے کمرے میں پھیلی ہوئی تھی۔ ان کی دی ہوئی گلاب کی کلی کو میں بار بار سونگھ رہی تھی۔ولی اچھی طرح جانتے تھے کہ مجھے لال گلاب بہت پسند ہیں۔اس لیے وہ میرے لیے لال گلاب کی کلی لے کر آئے تھے۔ (یہ بھی پڑھیں وہ نئے گلاب کی دستکیں – صائمہ ذوالنور )
اتفاق سے جب ولی میرے کمرے سے جا رہے تھے تبھی شہزاد بھائی جان نے انھیں دیکھ لیا تھا۔ بھائی جان کو ہم دونوں پر شک ہونے لگا تھا۔جب بھئی ولی گھر آتے تو بھائی جان ہم دونوں کی طرف مسکرا کر دیکھتے تو میں شرم سے پانی پانی ہو جاتی اور گھبرا کر وہاں سے چلی جاتی۔
ایک دن ہم سبھی ہال میں بیٹھے باتیں کر رہے تھے تبھی بھائی جان نے مجھے چائے کا بنانے کے لیے باورچی خانے میں بھیج دیا۔ میں اُٹھ کر چائے بنا نے چلی گئی۔ میں نے اپنی ملازمہ سے چائے بنانے کے لیے کہا اور باورچی خانے کے دروازے میں کھڑی ہو کر بھائی جان اور امی جان کی باتیں سننے لگی۔
’’امی آپ کو ولی کیسا لگتا ہے۔۔۔۔۔؟بھائی جان بولے
’’سچ پوچھو تو بیٹا ولی بہت ہی نیک اور شریف بچا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘امی نے کہا۔
’’امی اگر ہم اپنی روشنی کی شادی ولی کے ساتھ کر دیں تو کیسا رہے گا۔۔۔۔۔۔۔‘‘بھائی جان نے کہا۔
’’ارے بیٹا تم نے تو میرے دل کی بات کہہ ڈالی۔میں بھی کئی دنوں سے تم سے یہی بات کرنے کی سوچ رہی تھی۔۔۔۔۔۔‘‘امی بولیں۔
’’ہاں امی ۔۔۔۔اور مجھے لگتا ہے کہ ولی اور روشنی دونوں ایک دوسرے کو پسندبھی کرتے ہیں۔‘‘
’’سچ بیٹا۔۔۔۔۔‘‘‘
’’جی امی۔۔۔۔۔‘‘
’’اور ویسے بھی ولی کا اتنا بڑا کاروبار ہے۔چار چار فیکٹریوں کا اکلوتا وارث ہے۔۔۔۔‘‘
’’ہاں یہ بات تو ہے۔۔۔۔‘‘
’’تو پھر امی آگے کا کیا سوچا ہے ۔۔۔۔۔‘‘
’’سوچنا کیا ہے ؟مناسب وقت دیکھ کر ولی کے ماں پاب سے بات کر لیتے ہیں اور رشتہ پکّا کر دیتے ہیں۔۔۔۔۔‘‘
’’جی امی یہ ٹھیک رہے گا۔۔۔۔‘‘
ملازمہ نے چائے کی ٹرے میرے ہاتھ میں دی اور میں چائے لے کر ہال میں چلی گئی۔بھائی جان مجھے دیکھ کر مسکرا رہے تھے اور میں شرما کر وہاں سے چلی گئی۔پھر ایک دن ولی اور ان کے امی ابو ہمارے گھر اپنے خادموں کے ساتھ شگون کا سامان لے کر آئے۔
’’السلام علیکم طاہرہ بیگم ۔۔۔۔‘‘
’’وعلیکم السلام کلثوم بہن۔۔۔۔‘‘
’’طاہرہ بیگم!آج ہم آپ کے پاس خاص مقصد سے آئے ہیں،انکار مت کرنا۔ہم اپنے ولی کے لیے تمہاری بیٹی روشنی کا ہاتھ مانگنے آئے ہیں۔۔۔۔۔۔‘‘
’’ارے کلثوم بہن ہم تو خود تمہارے یہاں آنے کی سوچ رہے تھے،اسی سلسلے میں تم سے بات کرنے کے لیے۔۔۔۔۔۔‘‘
’’تو پھر ہماری ہونے والی بہو کو تو بلائیں۔۔۔۔۔‘‘
’’جی ضرور۔۔۔۔‘‘
امی نے ملازمہ کے ہاتھوں مجھے بلوایا۔’’روشنی بی بی ولی صاحب اور ان کے امی ابو آئے ہیں ۔بیگم صاحبہ آپ کو بُلا رہی ہیں ۔۔۔۔‘‘
’’کیا ولی اور ان کے امی ابو آئے ہیں۔۔۔۔؟‘‘میں نے چونک کر پوچھا۔
’’جی بی بی جی۔۔۔۔‘‘ملازمہ نے کہا۔
’’تم چلو میں آتی ہوں۔‘‘
جب میں نیچے ہال میں گئی تو وہاں پر شہزاد بھائی جان بھی آ گئے تھے۔ میں نے سب کو سلام کیا۔ کلثوم آنٹی نے مجھے اپنے پاس بیٹھا لیا۔
’’ واقعی طاہرہ بہن آپ کی بیٹی بہت خوب صورت ہے۔ چاند سا چہرہ ہے تمہاری بیٹی کا۔نظر نہ لگے کسی کی۔‘‘
’’تمہیں پتا ہے روشنی بیٹا آج ہم ولی کے ساتھ تمہارا رشتہ پکّا کرنے آئے ہیں۔تمہیں کوئی اعتراض تو نہیں ہیں۔‘‘
اتنا سنتے ہی میں شرم سے لال ہو گئی اور شرم کے مارے میں نے نظریں نیچے جھکا لی۔
’’لو بھئی روشنی بیٹا تو تو شرما گئی۔‘‘شہباز انکل ہنش پڑے۔
کلثوم آنٹی نے سُرخ ڈبّے سے ہیروں کا جھلملاتا نیکلس نکالا اور میرے گلے میں ڈال دیا۔
’’ماشاء اللہ!کتنی پیاری لگ رہی ہو روشنی بیٹا۔کہیں میری ہی نظر نہ لگ جائے۔انھوں نے نوٹوں کی گڈی کو میرے سر کے اوپر اُتارکر خادموں کو دے دی۔امی سب کا منھ میٹھا کرا رہی تھیں۔ سب کے کہنے پر ولی اور مجھے ایک جگہ بیٹھا دیا اور آنٹی نے میرے سر اپنے ساتھ ساتھ لائی دُپٹّا اُڑھا دیا اور شگون کا سامان میری گود میں رکھ دیا۔امی نے بھی ولی کو شگون کا سامان دیا۔ سب نے ہمارا منھ میٹھا کرایا۔سب ایک دوسرے سے باتیں کرنے لگے۔
واقعی روشنی تم بہت پیاری لگ رہی ہو۔میں نے اپنی پلکیں اُٹھا کر ولی کی طرف دیکھا وہ مسکرا رہے تھے۔
’’ہاں لیکن تم سے کم۔۔۔‘‘میں نے دبی آواز میں کہا۔
تھوڑی دیر بعد سب کھانا کھا کر اپنے گھر چلے گئے۔میں اپنے کمرے میں اپنے گلے میں پڑے ہیرے کے ہار کو دیکھ رہی تھی۔
امی نے مجھے آواز دی ’’روشنی نیچے آ جاؤ۔۔۔۔تمہارے ماموں ممانی تمہارا کب سے انتظار کر رہے ہیں۔‘‘’جی امی آئی‘‘میں نے کہا۔
روشنی بیٹا تم نے پارلر تو بُک کر دیا تھا نہ۔کل علینا کو سب سے الگ دِکھنا ہے۔جی امی جان بُک کر دیا تھا اور آپ فکر نہ کریں ۔دیکھنا میں میں علینا بھابھی کو ایسا تیار کروا کر لاؤں گی کہ لوگ ان کی تعریف کیے بغیر نہ رہ پائیں گے۔‘‘
’’اچھاتو چلو تم علینا کو اپنے کمرے میں لے جاؤ اور دونوں جلدی سو جانا ورنہ صبح کو پھر لیٹ اٹھو گی۔‘‘’’جی امی جان
٭٭٭
امی صبح دروازہ کھٹ کھٹا رہی تھیں۔روشنی بیٹا اُٹھ جاؤ۔علینا بیٹا تم بھی ۔جی پھپھو میں کب سے روشنی کو اٹھا رہی ہوں۔اُٹھ گئی امی جان۔
سنو روشنی میں تمھیں لے چلتا ہوں پارلر۔ہاں بے شک بھائی جان آپ ہمیں لے تو چلیں لیکن واپسی میں ہم ڈرائیور کے ساتھ آئیں گے۔کیوں میں لے آؤں گا نا۔
’’نہیں بھائی جان تیار ہونے کے بعد آپ بھابھی کو تبھی دیکھ سکتے ہیں جب آپ بھی تیار ہو کر فنکشن میں پہنچ جائیں گے۔‘‘
’’ٹھیک ہے ،اب چلو ورنہ لیٹ ہو جائیں گے۔‘‘
’’جی چلو‘‘
میں جلدی سے گاڑی کی آگے والی سیٹ پر جاکر بیٹھ گئی۔
روشنی یہاں پر علینا بیٹھتی۔نہیں ابھی نہیں!بھائی جان پہلے منگنی تو ہو جانے دو۔’’بھابھی آپ پیچھے والی سیٹ پر بیٹھ جائیے پلیز۔۔۔۔۔‘‘
بھابھی پیچھے والی سیٹ پر بیٹھ گئیں۔بھائی جان شیشے میں بھابھی کو دیکھ رہے تھے۔’’بھائی جان آگے دیکھ کر گاڑی چلائیے نا۔ورنہ ایکسی ڈینٹ ہو جائے گا۔‘میں نے مسکرا کر کہا۔‘‘
علینا بھابھی میری باتیں سن کر ژرما گئیں۔بیوٹی پارلر پہنچ کر میں نے بھائی جان کو یاد دلایا کہ ڈرائیور کو وقت پر بھیج دینا۔اگر ڈرائیور وقت پر نا آیا تو میں آ جاؤں گا نا۔
’’نہیں بھائی جان‘‘
بھابھی جان تیار ہو چکی تھیں۔اب میں تیار ہونے لگی۔جب میں تیار ہوئی تو مجھے تیار کرنے والی بھی بول پڑی،ماشاء اللہ!آپ تو ایک دم حور جیسی لگ رہی ہو۔اللہ آپ کو نظرِ بد سے بچائے۔‘‘میں نے تیار ہوکر آئینے میں خود کا معائینہ کیا تو لال رنگ کا گاؤن مجھ پر خوب فب رہا تھا۔ میرا گورا بدن لال رنگ میں ایسا لگ رہا تھا جیسے آفتاب کی روشنی میں گلاب پر پڑی اوس کی بوندیں چمک رہی ہوں۔مجھے لوگوں کی کہی باتیں یاد آ رہی تھیں۔طاہرہ بہن آپ کی بیٹی کسی حور سے کم نہیں۔چاند میں داغ ہے لیکن آپ کی بیٹی میں نہیں۔۔۔۔۔۔۔
ڈرائیور ہمیں ریسیو کرنے کے لیے آ چکا تھا۔ گھر پہنچ کر میں بھابھی کو دوسرے دروازے سے گھر میں داخل کر دیا تھا۔ جیسے ہی میں گھر میں داخل ہوئی ہمارا گھر بالکل تاروں کی مانند جھلملا رہا تھا۔چاروں طرف دیکھ کر ایسا لگ رہا تھا جیسے کوئی دلہن سجی ہوئی ہو۔
اللہ کا شکر ہے ابھی مہمان آنے شروع نہیں ہوئے تھے میں وقت پر گھر پہنچ گئی ۔کچھ دیر بعد مہمان آنے شروع ہو گئے۔ میں مہمانوں کے کھانے پینے کے انتظامات دیکھ رہی تھی کہ سب کچھ ٹھیک سے ہورہا ہے یا نہیں۔کہیں کچھ کمی تو نہیں رہ گئی۔تبھی مجھے پیچھے سے کسی کے کھانسنے کی آواز آئی ۔میں نے جیسے ہی پیچھے مُڈ کر دیکھا تو ولی ہاتھوں میں گلاب کے پھولوں کا گل دستہ لیے ہوئے میرے سامنے کھڑے مسکرا رہے تھے۔
’’کیسی ہو مِس روشنی۔‘‘
’’اچھی ہوں ۔آپ بتائیں۔‘‘
’’بھئی ہم تو آپ کے حُسن پرمر مٹے ہیں ۔‘‘
’’ایسے تو مجھے شرمندہ نہ کریں۔‘‘
’’سچ کہہ رہا ہوں روشنی تم بہت خوب صورت لگ رہی ہو۔‘‘
’’آپ بھی کچھ کم نہیں لگ رہے ہو۔‘‘
’’اچھا،یہ لو۔‘‘
’’کیا ،یہ پھول۔‘‘
’’یہ پھول آپ میرے لیے لائے ہیں۔‘‘
’’جی ہاں،ہم اپنی ہونے والی بیوی کے لیے لائے ہیں۔کیا میرا اتنا بھی حق نہیں۔‘‘
’’’’آپ کا میرے اوپر پورا حق ہے ولی صاحب۔‘‘
سال گرہ کی تقریب شروع ہو چکی تھی۔بھابھی جان کو میں جیسے ہی اوپر سے نیچے اُتار کر لائی تو بھائی جان کی نظریں تو بھابھی پر سے ہٹ ہی نہیں رہی تھیں اور ولی کی میرے اوپر سے۔ولی مجھے بار بار نظریں چرا کر دیکھے جا رہے تھے اور میں شرم کے مارے کبھی کسی کے پیچھے چھِپ جاتی تو کبھی کسی کام کا بہانا بنا کر وہاں سے چلی جاتی۔سبھی مہمان بھابھی کی تعریف کر رہے تھے۔ماشاء اللہ طاہرہ بہن آپ کی ہونے والی بہو بہت ہی پیاری لگ رہی ہے۔ نظر نہ لگے کسی کی۔’’جی فاطمہ بہن۔‘‘
بھائی جان اپنی چوبیسویں سال گرہ کا کیک کاٹ رہے تھے۔ ولی نے انھیں مبارک باد دی اور ایک کار کی چابی بھائی کے سامنے پیش کرتے ہوئے کہا۔۔۔۔’’یہ لو اپنی سال گرہ کا تحفہ۔‘‘’’یہ کیا بات ہوئی ولی؟میرے پاس تو نئی کار ہے نا۔‘‘
’’نہیں بھائی جان آپ کو یہ ماڈل پسند تھا ،اس لیے۔۔۔۔۔‘‘
’’شکریہ دوست۔تم میرے دل کی بات کیسے سمجھ لیتے ہو۔‘‘
’’آپ کا دوست ہوں نا اس لیے۔‘‘
جیسے ہی بھائی اور بھابھی نے ایک دوسرے کی اُنگلی میں انگوٹھی ڈالی تو سارا ہال تالیوں کی آواز سے گونج اُٹھا۔
٭٭٭
امی ،بھائی اور بھابھی دونوں آج بہت خوش لگ رہے تھے ۔اسی دوران بھائی بولے’’امی میں تو اب یہ کہتا ہوں کہ لگے ہاتھوں اب ان دونوں کی بھی منگنی کر دینی چاہیے۔۔‘‘میں وہاں سے اُٹھ کھڑی ہوئی۔’’دیکھو امی ہماری بہن کیسے شرما گئی۔‘‘
’’ہاں بیٹا ۔میں تو کہتی ہوں آج سے دو ہفتوں بعد کی تاریخ رخھ لیتے ہیں ۔تمہارا تو کوئی پلان نہیں ہے۔کہیں تمہیں بزنس کے سلسلے میں شہر سے باہر تو نہیں جانا ہے۔‘‘
’’نہیں امی میرا کوئی پلان نہیں ہے۔‘‘
’’تو پھر طے ہو گیا ۔میںکل کلثوم اور شہباز بھائی کو فون کر کے اطلاع دے دیتی ہوں۔‘‘
’’جیسا آپ کو ٹھیک لگے۔‘‘
منگنی کی تاریخ مقرر ہو چکی تھی اور دھیرے دھیرے ساری تیاریاں بھی مکمل ہو گئی اور آج وہ دن آ ہی گیا جس کا مجھے برسوں سے انتظار تھا۔مجھے بالکل دلہن کی طرح سجایا گیا۔میرے ہاتھوں میں لگی ولی کے نام کی مہندی نے بہت ہی گہرا رنگ دیا۔ کہتے ہیں کہ اگر ہاتھوں میں لگی مہندی گہرا رنگ دے اور جس کے نام کی لگی ہو تو وہ آپ سے بہت محبت کرتے ہیں۔
ولی نے اپنی انگوٹھی میرے ہاتھ میں ڈالی اور میں نے ولی کے۔
’’اب تم میری ہو گئی ہو روشنی۔‘‘
’’ابھی پوری طرح سے نہیں ہوئی ہوں جناب۔ابھی صرف منگنی ہوئی ہے نکاح باقی ہے۔‘‘’’تو اس میں کون سی بڑی بات ہے۔نکاح بھی پڑھوا لیں گے۔اگر تم کہو تو ابھی بُلوا لیں قاضی کو۔۔۔۔۔۔!
’’نہیں میں تو مذاق کر رہی تھی ۔۔۔۔‘‘ہم دونوں ہنس پڑے۔
سبھی مہمان جا چکے تھے۔ علینا بھابھی ،بھائی جان ،ماموں ،ممانی،امی ،ولی کلثوم،آنٹی ،شہباز انکل اور میں ہال میں بیٹھے باتیں کر رہے تھے۔اگر آج روشنی کے ابو زندہ ہوتے تو اپنی بیٹی کی خوشی دیکھ کربہت خوش ہوتے ۔
’’اب آپ فکر نہ کریں طاہرہ بہن، روشنی اب ہماری بیٹی ہے۔آپ کو ہماری طرف سے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ہم آپ کو شکایت کا موقع نہیں دیگیں۔‘‘
’’ارے نہیں کلثوم بہن ایسی کوئی بات نہیں ہے ،وہ تو بس مجھے سکندر صاحب کی یاد آ گئی۔‘‘
’’امی میرے دماغ میں ایک خیال آیا ہے کہ ماموں ممانی بھی آئے ہوئے ہیں کیوں نہ سب مل کر ایک فیملی پکنک پر چلتے ہیں۔‘‘
’’ہاں بھائی جان ماموں ممانی کا بہانہ اچھا ہے اصل مسئلہ علینا بھابھی کے ساتھ وقت گزارنے کا ہے۔‘‘میں نے بھائی کو چھیڑتے ہوئے کہا۔
’’ہاںبھائی جان خیال برا نہیں ہے ۔کیوں امّی۔۔۔۔۔۔۔۔؟‘‘ولی نے کلثوم آنٹی سے پوچھتے ہوئے کہا۔
’’ہاں ولی بیٹا خیال تو اچھا ہے۔‘‘آنٹی نے ولی کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے کہا۔
’’تو بھائی جان کہاں جانے کا پلان ہے۔‘‘ولی نے پوچھا۔
’’تم بتاؤ ولی۔‘‘بھائی جان نے پوچھا۔
’’میرے خیال میں منالی کیسا رہے گا ۔‘‘شہباز بولے۔
’’ہاں منالی اچھا رہے گا۔‘‘سبھی نے ہامی بھر تے ہوئے ایک ساتھ کہا۔
’’تو طے یہ ہوا کہ ہم سب پرسوں منالی جائیں گے فیملی پکنک پر۔بھائی جان نے کہا۔
٭٭٭
صبح کے تین بجے ہم سب منالی کے لیے نکلے۔ہم تین گھنٹے کے سفر کے بعد منالی پہنچ گئے ۔منالی میں سب کے رُکنے کا انتظام بھائی جان نے ایک ہوٹل میں کیا۔ہم سب فریش ہونے کے بعد ہوٹل کے لان میں ناشتہ کر رہے تھے۔اسی درمیان میں نے کہا۔۔۔۔
’’بھائی جان اب کہاں چلنے کا اردہ ہے۔‘‘۔پہلے ہم پہاڑوں پر گھومنے جائیں گے۔
پھر ہم شاپنگ پر جائیں گے،میں نے بیچ میں کہا۔۔۔۔۔کیوں بھابھی؟’’ہاں روشنی اتنے دن ہو گئے ہم شاپنگ پر نہیں گئے۔‘‘بھابھی نے کہا۔
’’کیوں روشنی کی منگنی پر نہیں گئے تھے تم دونوں‘‘بھائی جان نے طنزکیا۔
’’ارے تین دن ہو گئے روشنی کی منگنی کو اور لڑکیوں کی تو عادت ہی ہوتی ہے جلدی جلدی شاپنگ کرنے کی۔کیوں روشنی ‘‘بھابھی جان نے میری حمایت کرتے ہوئے کہا۔بے شک بھابھی جان۔میں نے ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے کہا۔
’’اچھا بابا کر لینا شاپنگ۔۔۔۔۔۔اب جلدی سے ناشتہ کرو پھر گھومنے چلتے ہیں۔‘‘بھائی جان نے کہا۔
تھوڑی دیر کے بعد ہم پہاڑوں پر گھوم رہے تھے۔بھائی جان اور بھابھی دونوں الگ کھڑے باتیں کر رہے تھے۔ماموں ممانی امّی اور انکل آنٹی یہ سب الگ کھڑے باتیں کر رہے تھے۔ولی میرا ہاتھ پکڑ کر پہاڑوں کی چوٹی پر لے جانے لگے۔’’ولی آرام سے یہاں برف سے پھسلن ہو رہی ہے،اگر میں پھسل گئی تو۔۔۔۔۔۔۔‘‘میں نے کہا۔
’’نہیں روشنی میں تمھیں گِرنے نہیں دوں گا۔اب یہ ہاتھ تھام لیا ہے تو زندگی بھر نہیں چھوٹے گا۔‘‘ولی نے کہا۔
لیکن خدا کو تو کچھ اور ہی منظور تھا۔ولی اور میں باتیں کرنے لگے۔’’روشنی یہ تمہاری آنکھیں کتنی خوب صورت ہیں۔ان سے نظر نہیں ہٹتی،بالکل ہرنی کی طرح چنچل آنکھیں ہیں۔‘‘ولی نے میری تعریف کرتے ہوئے کہا۔میں نے شرم سے اپنی آنکھیں جھکا لیں۔’’روشنی تمہاری یہی ادا تو مجھے تمہاری طرف مائل کرتی ہے۔مجھے یقین ہی نہیں ہوتا کہ تمہاری اور میری منگنی ہو چکی ہے۔سچ بتاؤں تو کبھی کبھی ایسا لگتا ہے جیسے میں خواب دیکھ رہا ہوں۔ویسے روشنی میں نے سوچا نہیں تھا کہ تمہارے اور میرے گھر والے اتنی آسانی سے ہماری شادی کے لیے تیار ہو جائیں گے۔‘‘
’’ہاں یقین تو مجھے بھی نہیں آتا ولی۔ایسا لگتا ہے کہ یہ ایک خواب ہے اور جلد ہی ٹوٹ بھی جائے گا۔‘‘
’’ایسا نا کہو روشنی۔۔۔۔‘‘
’’ایسا میں اس لیے کہہ رہی ہوں کہ اتنی آسانی سے کسی کو سب کچھ کہاں ملتا ہے۔‘‘
’’ایسا بھی تو ہو سکتا ہے کہ خدا نے ہم دونوں کو ایک دوسرے کے لیے ہی بنایا ہو۔‘‘میں مسکرانے لگی۔
’’اتنا مت مسکرایا کرو روشنی کہیں یہ مسکراہٹ میری جان نہ لے لے۔‘‘
’’خدا کے لیے ایسی باتیں مت کرو ولی۔‘‘میں ان کے ہونٹوں پر اپنی اُنگلی رکھتے ہوئے کہا۔’’اگر آیندہ تم نے ایسی باتیں کی نا ولی تو میں تم سے خفا ہو جاؤں گی۔
’’اچھا ٹھیک ہے ،نہیں کروں گا۔‘‘ولی نے میرا ہاتھ پکڑ لیا اور میری طرف بڑھنے لگے۔میں گھبرا کر کہ کہیں کوئی دیکھ نا لے ولی سے اپنا ہاتھ چھڑا کر بھاگنے لگی۔ میں نے جیسے ہی اپنا قدم بڑھایا۔میرا پیر برف سے پھسل گیا اور میں پہاڑ کی چوٹی سے لڑھکتی ہوئی نیچے دھرام سے آ گِری۔زور دار دھماکا ہوا ۔ولی کی چیخ نکل گئی ۔ولی کی چیخ اور زوردار دھماکے کی آواز سُن کر سب لوگ بے ساختہ میری طرف دوڑے۔مجھے اسپتال میں بھرتی کرایا گیا ۔ڈاکٹر نے میری حالت دیکھ کر فوراً آپریشن کرنے کے لیے کہا۔ تین گھنٹے میرا آپریشن چلا۔سبھی میری سلامتی کی دعا کر رہے تھے۔ امی تو جائے نماز پر خدا کے سامنے مسلسل روئے جا رہی تھیں اور میری سلامتی کی دعائیں مانگ رہی تھیں۔
’’یا اللہ میری بیٹئی کا ہر دُکھ ہر تکلیف دور کر دے۔۔۔۔۔اے میرے مولا! تو میری بیٹی کو جلد از جلد شفا عطا فرما۔میری بیٹی نے ایسا کون سا گناہ کیا جو میری بچی کی آج ایسی حالت ہے۔وہ آج موت اور زندگی کی لڑائی لڑ رہی ہے۔‘‘تبھی آپریشن روم کا دروازہ کھلا ،سبھی ڈاکٹر صاحب کی اور متوجہ ہوئے۔
’’ڈاکٹر صاحب میری بہن کیسی ہے ؟‘‘بھائی جان نے پریشانی اور بے چینی کی حالت میں پوچھا۔
’’دیکھیے ہم نے آپریشن کیا ہے۔‘‘تبھی امی آ گئیںاور ڈاکٹر سے گویا ہوئیں۔۔۔’’ڈاکٹر صاحب میری بچی اب کیسی ہے،کیا ہوا ہے اُسے۔۔۔۔۔۔؟
’’دیکھیے ہمارا آپریشن کامیاب رہا ۔۔۔۔۔لیکن ان کے سر میں اور ٹانگوں میں زیادہ چوٹیں آئی ہیں۔۔۔۔۔۔سر کے زخم تو وقت کے ساتھ بھر جائیں گے لیکن۔۔۔۔۔۔؟
’’لیکن کیا ڈاکٹر۔۔۔۔۔؟ولی نے پریشان ہو کر پوچھا۔
ؔ’’لیکن ان کی ٹانگیں ٹھیک نہیں ہو پائیں گی۔۔۔۔۔۔‘‘
’’کیا مطلب ٹھیک نہیں ہو پائیں گی۔۔۔۔۔؟بھائی جان نے پوچھا۔
’’میرا مطلب ہے اب وہ کبھی بھی چل نہیں پائیں گی۔۔۔۔۔اب انھیں ساری عمر وہیل چیئر پر ہی گزارنی پڑے گی۔‘‘EXECUSE ME PLEASEکہہ کر ڈاکٹر چلے گئے۔ڈاکٹر کی باتیں سن کر امی تو بالکل سکتے میں آ گئیں اور وہیں کرسی پر بیٹھ کر زور زور سے رونے لگیں۔بھائی جان دروازے کی چوکھٹ پکڑ کررونے لگے۔علینا بھابھی اُنھیں تسلی دے رہی تھیں۔ولی پر تو جیسے قیامت ٹوٹ پڑی ہو ۔وہ خود کو قصور وار ٹھہرا رہے تھے۔
٭٭٭
جب مجھے ہوش آیا تو ولی میرے بیڈسے سر لگائے میرا ہاتھ پکڑے رو رہے تھے۔میرے سر پر پٹیاں بندھی تھیں۔منھ پر آکسیجن لگا ہوا تھا ۔پیر تو مانو پتھر کے ہو گئے ہوں۔ہلنے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے۔جیسے ہی میں نے اُٹھنے کی کوشش کی تبھی ولی اُٹھ گئے۔روشنی روشنی تمھیں ہوش آ گیا۔تمھیں پتا ہے سب تمہارے لیے کتنی دعائیں کر رہے ہیں۔خدا کا شکر ہے کہ تمہیں ہوش آ گیا۔‘‘ میں نے جیسے بولنے کے لیے ہونٹھ کھولے تو میرے ہونٹھ بالکل چپکے پڑے تھے۔میں نے لرزتی ہوئی آواز میں ولی سے پوچھا ـ’’ولیم۔۔۔مم۔۔مم۔۔مجھ۔۔۔مجھےکیاہواہے۔۔۔۔۔؟
’’کچھ نہیں روشنی معمولی سی چوٹ ہے ۔تم جلد ٹھیک ہو جاؤ گی۔‘‘ولی نے اپنے آنسوؤں کو پوچھتی ہوئے مسکراتے ہوئے کہا۔
’’تو پھر میرے پیر کیوں نہیں ہِل رہے ہیں۔۔۔۔؟
’’ارے یہ تو ایسے ہی اس پر پٹی جو بندھی ہوئی ہے تمھیں اس لیے ایسا لگ رہا ہوگا۔۔۔۔؟
’’مجھے کتنے دِن ہو گئے یہاں پر ولی۔۔۔۔۔؟
’’تمھیں یہاں پر چار دن ہو گئے ۔۔۔۔؟ولی نے ہچکچاتے ہوئے کہا۔’’تمھیں چار دن میں ہوش آیا ہے روشنی۔‘‘
’’کیا چار ن ـ۔۔۔۔۔۔۔؟میں نےچونک کر پوچھا۔
’’ہاں روشنی۔۔۔۔‘‘
میں یہ سن کر سہم سی گئی۔’’تم ۔۔۔۔تم آرام کرو روشنی ۔‘‘
’’سب گھر والے کہاں ہیں ولی۔۔۔۔؟‘‘
’’امی اور بھائی جان کو میں نے بہ مشکل سمجھا کر گھر بھیجا ہے۔امی ابو بھی گھر گئے ہیں۔میں ڈاکٹر کو دیکھ کر آتا ہے۔تم آرام کرو۔‘‘ولی جیسے ہی نکلنے ہی والے تھے کہ کلثوم آنٹی آ گئی۔’’ولی ۔۔۔۔ولی کہاں ہو تم۔۔۔؟آنٹی نے چیختے ہوئے کہا۔
’’جی امی۔۔۔۔‘اِدھر آؤتم کہہ کر ولی کا ہاتھ پکڑ کر کمرے سے باہر لے گئیں۔آنٹی کے لہجے میں اتنی سختی میں نے پہلی بار ہی دیکھی تھی۔کلثوم آنٹی اور ولی دروازے کے پاس ہی کھڑے باتیں کرنے لگے۔’’کیا تم نے ان کی ساری ذمہ داریوں کو اٹھانے کا ٹھیکا لے لیا ہے۔جو تم ساری ساری رات جاگ کر روشنی کی خدمتیں کر رہے ہو۔ان کے گھر والے کیا مر گئے ہیں۔‘‘
’’آپ یہ کیسی باتیں کر رہی ہیں امی ۔۔۔۔۔؟‘‘
’’طاہرہ آنٹی کی طبیعت خراب تھی اس لیے انھیں میں نے گھر بھیج دیا اور بھائی جان کچھ میڈیسن وغیرہ لینے گئے ہیں۔آتے ہی ہوں گے۔
’’ہاں۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور اس روشنی کی خدمت کرنے کے لیے تم رہ گئے ہو۔تمھیں اپنا بزنس نہیں دیکھنا ہے کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟‘‘
’’یہ کیا کہہ رہی ہیں امی آپ۔روشنی میری ہونے والی بیوی ہے۔‘‘
’’ہونے والی بیوی ہے نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘
’’کیا مطلب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘
’’یہی کہ ہم آنکھوں دیکھی مکھی نہیں نگل سکتے۔تم نے سُنا نہیں ڈاکٹر نے کیا کہا کہ اب وہ ساری عمر چل نہیں سکتی۔اب وہ لنگڑی ہو چکی ہے لنگڑی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘
آنٹی کی یہ باتیں سن کر میری آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں اور میرا دل لرز کر رہ گیا۔میری نظریں ایک دم سے میری ٹانگوں کی طرف گئیں جو اب بالکل پتھر بن چکی تھی۔
’’امی آپ یہ کیسی باتیں کر رہی ہیں ۔آہستہ بولیے اگر روشنی نے سن لیا تو وہ جیتے جی مر جائے گی اور یہ تو حادثہ تھا جو کسی کے بھی ساتھ ہو سکتا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘
’’ارے مرتی ہے تو مر جائے میری بلا سے جان چھوٹے گی۔۔۔۔‘‘
’’امی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟‘‘ولی نے چلّا کر کہا۔
’’امی امی کیا کرتے ہو اب میں تمہاری شادی ہر گذ بھی روشنی سے نہیں ہونے دوں گی ۔۔۔۔؟‘‘
’’مگر امی میری تو منگنی ہو چکی ہے روشنی سے۔۔۔۔۔۔‘‘
’’ارے منگنی تو ہوئی ہے کوئی نکاح تو نہیں ہوا ہے اور ویسے بھی منگنی تو ہوتی ہی ٹوٹنے کے لیے ۔تم دیکھنا میں تمھارے لیے روشنی سے بھی زیادہ خوب صورت لڑکی ڈھونڈ کر لاؤں گی۔‘‘
’’امی میں حیران ہوں تمہاری سوچ پر۔۔۔۔۔۔۔جو کل تک روشنی کی اتنی تعریفیں کرتی تھیں وہ آج ایک حادثہ ہو جانے کے بعد اتنی کیسے بدل سکتی ہیں۔۔۔۔۔۔‘‘
’’بدلنا پڑتا ہے بیٹا۔۔۔اب میں اپنے اکلوتے بیٹے کے لیے ایک اپاہیج بہو تو نہیں لا سکتی ہوں نا اور ویسے بھی میرے بیٹے کے لیے ایک سے ایک اعلا خاندان کے رشتے آئے ہوئے ہیں۔۔۔۔‘‘
’’بس کرو امی۔۔۔۔۔تمہیں خدا کا واسطہ، چُپ ہو جائیے۔آپ میری باتیں غور سے سُن لیجیے۔۔۔۔۔۔۔روشنی میری محبت ہے شادی تو میں اس سے ہی کروں گا۔۔۔۔‘‘
’’میں بھی دیکھتی ہوں تم کیسے کرتے ہو شادی اُس اپاہیج لڑکی سے۔۔۔۔۔۔۔‘
’’امی شادی تو میں روشنی سے ہی کروں گا۔چاہے مجھے آپ کے بغیر ہی کیوں نا کرنی پڑے۔۔۔‘‘یہ کہہ کر ولی میرے کمرے میں آ گئے ۔آنٹی کی باتیں سن کر میری آنکھوں سے آنسوؤں کا سیلاب پھوٹ پڑا۔
’’اوہ ہ ہ ہو ورشنی امی کی تو عادت ہی ہے ایسی تم تو جانتی ہو نا۔۔۔۔چُپ ہو جاؤ پلیززززز۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘
’’صحیح تو کہہ رہی ہیں آنٹی۔اب میں اپاہیج ہو چکی ہوں۔اب میں تمہارے قابل نہیں رہی ولی۔۔۔۔۔‘‘
’’پلیز تم تو ایسی باتیں نا کرو روشنی۔۔۔۔تم تو میری محبت ہو روشنی۔۔۔۔۔۔‘‘
’’محبت ہوں نہیں۔۔۔تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟‘‘
’’یہ کیسی باتیں کر رہی ہو روشنی۔۔۔۔۔‘‘ولی نے تلخ لہجے میں کہا۔
’’صحیح تو کہہ رہی ہوں ولی۔میں تمھیں خوش نہیں رکھ پاؤں گی۔۔۔۔۔‘‘
’’ ایسا کیا ہو گیا جو تم مجھے خوش نہیں رکھ پاؤگی۔۔۔۔آج سے پہلے تو تم نے یہ باتیں نہیں کی۔
’’آج سے پہلے یہ حادثہ بھی تو نہیں تھا ولی۔۔۔۔اب میں اپاہیج ہو چکی ہوں۔اب تمہاری روشنی کو گرہن لگ چکا ہے ولی۔۔۔۔۔۔۔؟‘‘
’’نہیں روشنی یہ ہاتھ میں اس لیے نہیں تھاما تھا کہ تم پر کوئی مصیبت آئے اور میں تمہارا ساتھ چھوڑ دوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں نے تم سے وعدہ کیا تھا نا کہ میں ہر خوشی میں غم میں تمہارے ساتھ رہوں گا۔تو بس شادی تو میں تم سے ہی کروں گا۔چاہے مجھے امی ابو کے خلاف جاکر ہی کیوں نا کرنی پڑے۔‘‘
’’ولی اب تم میرا امتحان لوگے۔۔۔۔۔‘‘
’’نہیں روشنی میں تو تمہیں وہ سب خوشیاں دینا چاہتا ہوں جس کی تم حق دار ہو۔۔۔۔‘‘
مجھے ایک ہفتے بعد ہسپتال سے ڈسچارج کر دیا گیا ۔دن گزرتے گئے ،میری حالت میں آہستہ آہستہ افاقہ ہونے لگا۔تھوڑے دن بعد امی اور بھائی جان نے میرا نکاح ولی کے ساتھ کردیا وہ بھی ولی کے امی ابو کی غیر موجودگی میں۔کلثوم آنٹی اور شہباز انکل ولی سے ناراض ہو کر امریکہ شفٹ ہو گئے۔میں ولی کی دلہن بن کر ولی کے کے گھر چلی گئی۔ ولی بہت خوش تھے۔ ولی مجھے خوش رکھنے کی ہر ممکن کوشش کرتے لیکن میرا من کسی بھی چیز میں نہیں لگتا۔ میں نے خود کو چار دیواری میں قید کر لیا تھا۔ نا میں کہیں جاتی تھی اور نہ ہی کوئی مجھ سے ملنے آتا تھا۔ولی کو میری یہ حالت دیکھ کر بہت ترس آتا تھا۔ولی ایک دن آفس سے جلدی آئے اور کہنے لگے’’روشنی چلو جلدی آ جاؤ ہمیں کہیں چلنا ہے۔‘‘
’’مجھے کہیں نہیں جانا ہے۔۔۔۔۔‘‘
’’کیوں نہیں جانا۔۔۔۔‘‘‘
’’لوگ ہنسیں گے مجھ پر ۔۔۔۔۔اور میں نہیں چاہتی کہ میری وجہ سے تمہاری بے عزتی ہو۔۔۔۔‘‘
’’کوئی نہیں ہنسے گا۔تم دیکھنا تمہارا وہاں بہت من لگے گا۔۔۔۔۔۔‘‘
ولی مجھے ایک ایسے اسکول میں لے کر گئے جہاں میرے ہی جیسے کتنے اپاہیج بچے تھے۔وہ بچے کتنے خوش تھے اور اپنی زندگی کو بہت خوش مزاجی کے ساتھ جی رہے تھے۔ مجھے آج ایسا لگا جیسے میں ایک خود غرضی کی دنیا سے الگ اپنی دنیا میں آ گئی ہوں۔
’’روشنی تم نے دیکھا نا وہ بچے کتنے خوش تھے اور ایک تم ہو کہ بس اس کمرے میں خود کو مھدود کر لیا ہے۔‘‘
’’ہاں ولی آج ان بچوں کو دیکھ کر مجھے ایسا لگا کہ میں خود کے ساتھ زیادتی کر رہی ہوں۔‘‘
’’ہاں میں نا کہتا تھا۔۔۔۔۔۔۔ویسے روشنی میرے خیال سے تم بھی ایسے بچوں کو علم بانٹ سکتی ہو۔میں تمہیں خود اپنا ایک اسکول بنا کر دوں گا۔۔۔۔‘‘
’’نہیں ولی مجھ سے نہیں ہو پائے گا۔۔۔۔‘‘
’’کیوں نہیں ہو پائے گا۔۔۔۔تم تو شروع سے ہی ایکBRILLIANT STUDENTرہی ہو۔۔۔۔۔۔۔‘‘
’’پہلے کی بات اور تھی ولی۔۔۔۔۔‘‘
’’بس اب میں کچھ نہیں سنوں گا۔۔۔۔میں نے طے کر لیا ہے کہ میں تمہیں ایک اسکول کھول کر دوں گا جس میں تم بچوں کی تعلیم دوگی۔۔۔۔۔‘‘
ولی نے ایک سال کے اندرمجھے بہت ہی پیارا سا اسکول بنا کر دیا اور آج اس اسکول سے سیکڑوں بچے تعلیم پاکر اپنی زندگی اچھے سے گزر بسر کر رہے ہیں۔
جیسے ہی موبائل فون کی گھنٹی بجی میرا دماغ میرے ماضی سے ہال میں لوٹ آیا۔میں نے کوفی کے کپ کو (جو اب تھنڈی ہو چکی تھی)پاس میں رکھی میز پر رکھااور وہیل چیئر پر بیٹھ کر فون کے پاس گئی ۔
’’السلام علیکم ولی کیسے ہو آپ۔۔۔۔؟‘‘
’’میں ٹھیک ہوں۔۔۔۔اچھا میں نے یہ بتانے کے لیے فون کیا ہے کہ آج میرے ایک دوست کے گھر پر ڈنر ہے ہمیں وہاں چلنا ہے تم تیار رہنا ۔۔۔ٹھیک ہے۔۔۔!‘‘
’’جی اچھا میں تیار رہو گی۔۔۔۔خدا حافظ۔۔۔۔‘‘
’’خدا حافظ روشنی۔۔۔۔۔‘‘
فون رکھنے کے بعد نماز کا وقت ہو چکا تھا ۔میں نے وضو بنا کر نماز ادا کی اور نماز ادا کرنے کے بعد جیسے ہی میں نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے میری آنکھوں سے آنسو نکلنے لگے۔یا اللہ تیرا بہت بہت شکریہ تیرا جتنا شکریہ کیا جائے اُتنا کم ہے کہ تونے مجھے ولی جیساشوہر عطا کیا ۔اگر مجھے ولی نا ملتے تو میں تو جیتے جی مر جاتی۔ ولی نے جو مجھ سے سے وعدہ کیا تھا انھوں نے بہ خوبی نبھایا میری ہر خوشی میں اور ہر دکھ میں انھوں نے میرا ساتھ دیا۔یا اللہ!اگر میرے ساتھ یہ حادثہ نا ہوا ہوتا تو مجھے اپنے اور پرائے کی پہچان ہی نا ہوتی۔یا اللہ بس تجھ سے ایک دعا ہے کہ تو ہر بیٹی کے نصیب اچھے کر اور ہر لڑکی کو ولی جیسے نیک شوہر عطا کر آمین ثم آمین۔۔۔۔۔۔!
٭٭
GULAFSHAN JAHAN
WARD NO-1,MEHPA CHAURAHA
SIWAL KHAS, MEERUT(U.P)250501
MOBILE.9897012528
(نوٹ: یہ محترمہ گل افشاں جہاں کا پہلا افسانہ ہے۔)

