Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تنقید اور عملی تنقید – سید احتشام حسین

      مئی 20, 2026

      تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تنقید اور عملی تنقید – سید احتشام حسین

      مئی 20, 2026

      تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
ناول شناسی

بے جڑ کے پودے : سہیل عظیم آبادی – پروفیسر کوثر مظہری

by adbimiras مارچ 28, 2021
by adbimiras مارچ 28, 2021 0 comment

’’تاریخ گواہ ہے کہ بہت سی جگہوں میں حرامی لفظ کی کوئی اہمیت نہیں۔ بلکہ بہت سے حرامی بچوں نے دنیا میں اپنے نام کا سکہ جاری کیا ہے اور دنیا نے کبھی یہ جاننے کی زحمت نہیں اٹھائی کہ اُن کا باپ کون تھا؟ یہ جبر اور ندامت صرف اسی وقت تک ہے جب تک حرامی بچہ اپنے وجود کو اپنی طاقت سے منوا نہیں لیتا۔‘‘

——

’’کارل مارکس نے سماجی نظام کا ایک خاکہ پیش کیا ہے جس پر عمل کرکے بھوک کا مسئلہ بڑی حد تک حل کرلیا گیا ہے لیکن جنس کا مسئلہ وہ بھی حل نہیں کرسکا۔ شہوت اب بھی ٹیبو (Taboo) ہے۔‘‘

——

’’انسان کی زندگی کے بنیادی مسئلے دو ہیں۔ بھوک اور شہوت۔‘‘

——

یہ جملے زیربحث ناول ’بے جڑ کے پودے‘ سے پیش کیے گئے ہیں جو کتاب کے نصف حصے کے بعد ایک خط میں ملتے ہیں۔ اس ناولٹ کا مرکزی کردار ارنسٹ مسٹر سنہا کے گھر قیام پذیر ہوتا ہے۔ جب وہ الماری سے ایک کتاب مطالعے کے لیے نکالتا ہے تو اسی سے ایک چار صفحات پر مشتمل خط برآمد ہوتا ہے۔ اگر اس خط پر غور کریں تو معلوم ہوگا کہ اس ناولٹ کی کہانی اسی میں پوشیدہ ہے۔ اور یہ بھی کہ سہیل عظیم آبادی نے بڑی فنکاری سے اس خط کے ذریعہ ارنسٹ اور مسٹر سنہا کے درمیان کے رشتے کو واضح کرنے کے وقت ہونے والی حسّیت اور Tension کو Diluteکرنے کی کوشش ہے۔ اس کے ذریعہ فنکار نے یہ کوشش کی ہے کہ ارنسٹ یہ خط ضرور پڑھے اور اسی لیے مسٹر سنہا ایک دن ارنسٹ سے الماری کی چابی لے کر مطالعہ کی تلقین بھی کرتے ہیں جو غیرفطری معلوم نہیں ہوتا، کیوں کہ ارنسٹ کو چابی پہلے ہی مل چکی ہوتی ہے۔ خیر، اتنی تخلیقی ہنرمندی تو ہر فنکار کے لیے ضروری ہے۔ لیکن پورے پلاٹ کا بیج درمیان یا اس سے ذرا آگے چل کر اس خط کی شکل میں رکھنا لائق ستائش ہے۔ بلکہ میں تو سمجھتا ہو ںکہ یہ خط اس ناولٹ کا ابتدائیہ بھی ہوسکتا تھا جس سے اس کے پلاٹ کا روایتی انداز قدرے بدل بھی جاتا اور قاری کو باندھ کر رکھنے کا کام بھی ہوجاتا۔ لیکن سہیل عظیم آبادی جس روایتی طرز تحریر کے حامی اور پرستار تھے، اس میں اس کی گنجائش کم ہی تھی۔ (یہ  بھی پڑھیں نفسیاتی فکرو فلسفہ کا نمائندہ افسانہ”انوکھی مسکراہٹ“ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن )

موضوع:  اس ناول کا موضوع بالکل اچھوتا تو نہیں لیکن کم یاب ضرور ہے۔ ’مشن کمپاونڈ‘ جو عیسائی مذہب کی ترویج و اشاعت کا مرکز ہے اسی میں دو بچے ارنسٹ اور نورا ہیں جن کے والدین کا کچھ اتا پتہ نہیں۔ یہ مشن کمپاونڈ ایک بیج کا باہری خول ہے۔ دراصل ان دو بچوں کے اردگرد کہانی چلتی ہے۔ اس کتاب کا نام استعاراتی و علامتی ہے۔ حالاں کہ ان کی گمشدہ جڑ کا انکشاف آخر میں خود مسٹر سنہا بستر علالت پر کردیتے ہیں جو ان دونوں کے والد ہیں۔

اگر اس ناول کے موضوع پر غور کریں تو اندازہ ہوگا کہ سہیل عظیم آبادی نے اس کے ذریعہ سماج میں ناجائز تعلقات کی دُھند کو Penetrateکرنے کی کوشش کی ہے۔

اس ناول کے موضوع کے بارے میں پروفیسر عبدالمغنی لکھتے ہیں:

’’بلاشبہ مصنف کا اصل موضوع پھینکے اور پائے ہوئے بچے ہیں جن کی ذمہ داری سے ان کے والدین فرار حاصل کرچکے ہیں۔‘‘                       (رسالہ آج کل، سہیل عظیم آبادی، ستمبر، نومبر 1981، ص 16)

میں نے مضمون کے شروع میں ناولٹ میں استعمال کیے گئے ایک خط کے اقتباسات دیے ہیں۔ یہ پورا خط اپنے آپ میں سماج اور مسٹر سنہا جیسے کرداروں کی نفسیاتی گتھیوں کو کھولنے والا ہے۔ انسانی تحت الشعور میں اتر کر سہیل عظیم آبادی نے ایک ایک جملہ لکھا ہے۔ مسٹر سنہا کو بہت ہی سخی اور فیاض اور اچھے سبھاؤ کا پیش کیا گیا ہے۔ دراصل ان کی سخاوت میں بھی خودغرضی ہے کہ ان کے دونوں بچے ارنسٹ اور نورا بھی اُسی مشن کمپاونڈ میں پل رہے ہوتے ہیں۔ وہ خود مذہبی نہیں ہیں لیکن کرسمس ڈے پر مشن کمپاونڈ کے سارے بچوں کو اپنے گھر بلا کر انھیں کھلاتے اور تحفے دیتے ہیں۔ یہ سب اس لیے ہے کہ اسی بہانے ان کے دونوں بچے بھی اس خوشی کو Celebrate کرپاتے ہیں۔ لیکن اس خودغرضی پر سہیل صاحب نے مسٹرسنہا کی اخلاقیات اور سخاوت کی ایسی خوبصورت پرت ڈال دی ہے کہ پورے ناول میں مسٹر سنہا سے قاری کی ہمدردی باقی رہتی ہے۔ ارنسٹ کو جب مشن کمپاونڈ چھوڑنا پڑتا ہے تو مسٹر سنہا ہی کے گھر اسے پناہ ملتی ہے۔ وہ ہر طرح سے اس کا خیال رکھتے ہیں۔ مسٹر سنہا اُسے کپڑو ںکے لیے اور دیگر اخراجات کے لیے پیسے دیتے ہیں۔ اگر سماجی اعتبار سے دیکھا جائے تو مسٹر سنہا کے ذریعہ اپنے دوست کو خط میں اپنی آزادہ روی یا پھر مجھے یہ کہنے دیجیے کہ Free Sex کی توجیہ پیش کرنا اور ہر طرح سے اسے تقریباً جائز ٹھہرانا درست نہیں۔ البتہ سہیل صاحب نے اتنا کیا ہے کہ خط میں جگہ جگہ مرد کی کم ہمتی کو موردالزام ٹھہرایا ہے۔ یعنی یہ کہ اگر مرد کسی عورت سے اپنے ناجائز تعلق کا اظہار کردے تو سب جائز ہے۔ اس خط سے چند سطریں مزید ملاحظہ کرلیں:

’’ہمارا سماج کسی سرمایہ دار سے نہیں پوچھتا کہ اتنی دولت کہاں سے لایا۔ حالاں کہ یقین ہے کہ سرمایہ دار نے دوسروں کو لوٹا ہے، تو یہ کیوں پوچھتا ہے کہ عورت بچہ کہاں سے لائی… اگر اس نے کسی مرد کی زبردستی کے خلاف احتجاج نہیں کیا تو پھر اس کی پسند اور خواہش کے مطابق ہے۔ سماج صرف اقرار اور اعلان ہی تو چاہتا ہے۔‘‘                            (ص 74)

اگر غور کریں تو یہ خط مسٹر سنہا کو مرکزی کردار بنا دیتا ہے۔ چوں کہ اس میں اُنھوں نے یہ بھی ذکر کیا ہے کہ وہ ایک ایسے مقدمے کی وکالت کررہے ہیں جس میں ایک باپ نے اپنی بیٹی کا قتل اس لیے کردیا ہے کیوں کہ وہ بن بیاہی ماں بن گئی ہے۔ چوں کہ خود مسٹر سنہا اسی نوع کے جرم کا ارتکاب کرچکے ہوتے ہیں، اس لیے اس خط میں اپنی نفسیاتی الجھنوں کا بیان کھلے طور پر کرتے ہیں۔ اگر کوئی قاری اس  پر غور کیے بغیر گزر جاتا ہے تو سہیل صاحب کی تخلیقی ہنرمندی تک رسائی مشکل ہوجائے گی۔ ہمارا ذہن اس بات یا تصور کو قبول نہیں کرتا۔ لیکن سہیل صاحب نے اس ناول میں اس خط کے ذریعہ ہمارے عقیدے اور رسومیات پر بنی عمارت کو مسمار کیا ہے۔ ہم جس Conventional approachکے ساتھ جی رہے ہیں اسے Subvert کیا ہے اور کوئی بھی اچھا اور سدھا ہوا فنکار خواہ سادگی خواہ پیچیدگی کے ساتھ، کرتا یہی ہے، بلکہ اُسے یہی کرنا چاہیے۔ عوام کا جو خود نگر تصور (Self Reflexive Convention) ہوتا ہے تخلیق کار اُسے توڑتا ہے یا بدل دیتا ہے اور کچھ نہ ہوا تو کم ازکم تھوڑی دیر کے لیے سوچنے پر مجبور تو کرہی دیتا ہے۔ اگر کوئی تخلیق کار اتنا کرنے پر بھی قدرت نہیں رکھتا تو اُسے یہ حق نہیں پہنچتا کہ قاری کا وقت خراب کرے۔ میرے نزدیک اس خط کی اہمیت اتنی ہے کہ مجھے یہ تک کہنے کی جرأت ہورہی ہے کہ اگر یہ خط نہ ہوتا تو یہ ناولٹ کرشچین مشن کا کھلا پٹارہ بن کر رہ جاتا یا پھر مشن کمپاونڈ کے شب و روزکی محض اک ڈائری۔

اس خط کے ذریعہ سہیل صاحب نے بھوک اور شہوت جیسی جبلی طاقتوں پر جو بصیرت افروز روشنی ڈالی ہے، وہ لائق تحسین ہے۔ ایک طرف تو وہ پہلو ہے کہ مسٹر سنہا ناجائز تعلق سے پیدا ہونے والے بچے کا جواز پیش کرتے ہیں تو دوسری طرف عام انسانوں کے سامنے ایسی باتیں بھی پیش کرتے ہیں جن میں Insightکے پہلو نظر آتے ہیں۔ یہ اقتباس اس خط سے :

’’ایک قبیلے نے دوسرے قبیلے اور ایک قوم نے دوسری قوم پر بھوک کی وجہ سے حملے کیے اور لڑائیاں لڑی ہیں۔ بڑی بڑی آبادیاں ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوگئی ہیں۔ افراد نے روٹی کی تلاش میں وطن کو خیرباد کہہ کر نئی جگہ کو اپنا وطن بنایا ہے…لیکن جنسی تسکین کے لیے بڑی لڑائیاں نہیں لڑی گئیں اور نہ قبیلے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوئے…‘‘                   (ص 73)

اس خط میں وہ جملہ بھی ملتا ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مسٹر سنہا کے سینے میں کوئی راز پوشیدہ ہے:

’’میں روزیٹی کی موت کے بعد بڑی تنہائی محسوس کرتا ہوں۔ بڑی اداس زندگی گزارتا ہوں لیکن میری کچھ ذمہ داریاں ہیں جنھیں صرف میں جانتا ہوں۔ اگر ان کو پورا نہیں کروں گا تو خود اپنی نظر میں مجرم بنا رہوں گا۔‘‘                                                   (ص 75)

اس خط میں یہ جملہ نہیں بھی ہوسکتا تھا لیکن ناول نگار چاہتا تھا کہ کسی صورت میں یہ خط اس کتاب میں ارنسٹ کو مل جائے اور اس کے ذہن میں یہ خط پڑھ کر پہلے سے مسٹر سنہا کے حوالے سے ایک طرح کی زمیں ہموار رہے تاکہ دفعتاً کوئی اَن ہونی بات آئے تو اُسے قبول کرتے ہوئے کسی طرح کا عذر یا قباحت نہ ہو، اور اس کام میں سہیل صاحب کامیاب رہے ہیں لیکن… لیکن ایک سوال یہ پیدا ہوسکتا ہے کہ اگر یہ خط نہ ہوتا تو راز کے اچانک کھلنے پر ارنسٹ، نورا اور قارئین کے ذہنوں پر کیا گزرتا؟ میرے خیال سے یہ اچانک پن تو اور بھی بہتر ہوتا۔ چلیے یہ غور و فکر کا مرحلہ آپ کے صوابدید پر چھوڑتا ہوں اور میں بھی مذکورہ خط کے حصار سے باہر آتا ہوں۔

کردار نگاری:  ناول میں کرداروں کی شناخت کا مسئلہ بھی ہوتا ہے۔ بے جڑ کے پودے میں جو کردار اہم ہیں ان کے نام اس طرح لیے جاسکتے ہیں: مسٹر سنہا، مس گرین، ارنسٹ، نورا، بشپ، فریڈی، آرتھر، مارتھا، بونجی وغیرہ۔ سہیل عظیم آبادی نے تین کرداروں پر محنت کی ہے۔ مسٹرسنہا، مس گرین اور آرنسٹ۔ ان میں سے مرکزی حیثیت کسی ایک کو دینا قدرے مشکل معلوم ہوتا ہے۔ مس گرین کے اوصاف حمیدہ کو سہیل صاحب نے اس طرح بیان کیا ہے:

’’اس نے اپنی زندگی مشن کو سونپ دی تھی۔ اس کا جی چاہتا تھا کہ گاؤں گاؤں پھرے۔ ہر جگہ عیسیٰ کا پیغام پہنچائے۔ اس نے لاوارث بچوں کو پالنا اپنی زندگی کا مقصد بنا لیا…‘‘

——

’’اچھا اب تم جاؤ کسی سے مت بولنا کہ ہم نے تم کو روپیہ دیا ہے۔ بشپ کو معلوم ہوگا تو گُسّا ہوگا۔ یہ روپیہ مشن کا نہیں ہے ہمارا بھائی بھیجا ہے، اس میں سے دیا ہے۔‘‘

——

’’میں کسی کی ماں نہیں ہوں مگر میرے بہت سے بچے ہیں۔‘‘

مس گرین مشن کمپاونڈ میں بچوں کی دیکھ ریکھ کرتی ہے اور ہر ایک کا پورا پورا خیال کرتی ہے۔ مشن کے کام کے لیے جس جذبۂ ایثار کی ضرورت ہوتی ہے، اس سے مس گرین کی ذات پوری طرح متصف ہے۔ بشپ کی طرف سے جب ارنسٹ کو مشن کمپاونڈ سے نکال دیے جانے کا حکم دیا جاتا ہے تو مس گرین کی طرف سے کسی طرح کا احتجاج نہیں ہوتا۔ وہ بہ سر و چشم قبول کرتی ہوئی ارنسٹ کو بشپ کا یہ فیصلہ سنا دیتی ہے۔ حالاں کہ وہ اپنے دکھ کا اظہار بھی کرتی ہے لیکن  وہ روایت سے اس طرح وابستہ ہے کہ بشپ کے خلاف صدائے احتجاج بلند نہیں کرسکتی۔ یہ مکالمہ دیکھیے:

’’ہم کچھ نہیں کرسکتا۔ ہم چاہتا تھا کہ تم ایم اے کرو۔ ولایت جاؤ اور کوئی اچھا کام کرو۔ ہم یہ بھی چاہتا تھا کہ تم کام کرو اور نورا سے بیاہ کرو۔ ہم جانتا ہے تم دونوں ایک دوسرے کو بہت چاہتا ہے مگر اب ہم کچھ بھی نہیں کرسکتا۔ بشپ کا حکم ہے۔ ہم کو اس کا حکم ماننا ہے۔‘‘                        (ص 25)

یعنی یہ کہ بشپ چاہے کچھ بھی حکم دے، چاہے جیسا بھی نامناسب فیصلہ صادر کردے، اسے تسلیم کرلینا چاہیے۔ میرے خیال سے مس گرین جس ہمت، لگن اور جذبے کے ساتھ مشن کا کام کرتی آئی ہے، اس کے اندر یہ ہمت ہونی چاہیے تھی کہ وہ ارنسٹ کے حوالے سے احتجاج نہیں تو کم ازکم اُسے Defend کرنے کے دو لفظ ہی بولتی۔ لیکن ایسا نہ کرنے کے سبب کردار غیرفطری ہوجاتا ہے یا ای ایم فوسٹر (E.M.Foster) کی زبان میں یہ کردار Flat کرداروں کے زمرے میں چلا جاتا ہے— حالاں کہ بہت سے نے تو اسی کو مرکزی کردار بتایا ہے۔  لیکن میں اسے مرکزی کردار تسلیم نہیں کرتا۔ کاش سہیل صاحب اس کردار کی نفسیات کو قدرے مستحکم کرپاتے اور کم سے کم اس کی داخلی قوت میں وہ جذبہ کارفرما ہوتا کہ سچ کو سچ اور جھوٹ کو جھوٹ کہہ پاتی۔ دوسری طرف اگر ہم ارنسٹ کے کردار پر غور کریں تو معلوم ہوگا کہ اس ماحول بلکہ مس گرین ہی کی نگرانی میں اپنی شیر خواری کے زمانے سے رہنے کے باوجود اس میں ایک طرح کا طنطنہ ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ اس میں سماجی شعور بھی ہے اور وہ زمانے کے سرد و گرم سے پیدا ہونے والی تبدیلیوں سے واقف بھی ہے۔ ایسا نہیں کہ اُسے مسٹر سنہا کا تعاون حاصل رہا ہے، بلکہ مشن کمپاونڈ سے نکل کر بھٹکنے کے بعد مسٹر سنہا سے اس کی ملاقات اس حیثیت سے ہوتی ہے لیکن اس سے پہلے مس گرین کے سامنے مشن کمپاونڈ چھوڑنے کا فیصلہ سنانے کے وقت سے لے کر جوسف اور پولینا سے ہوئی گفتگو تک، ارنسٹ کا انداز ایسا ہے کہ جس سے پتہ چلتا ہے کہ اس کی سائیکی اور داخلی قوت کسی بھی نوع کے حالات سے نبرد آزما ہونے کے لیے ہمہ وقت تیار ہے۔ مس گرین جب اُسے بشپ کا حکم  سناتی ہے تو وہ آسانی سے مشن کمپاونڈ چھوڑ دینے کا فیصلہ کرلیتا ہے اور کہتا ہے:

’’اب میں بچہ نہیں ہوں اپنی ذمہ داریوں کو سمجھتا ہوں۔ نور اسے میری دوستی نورا کا اور میرا معاملہ ہے اور بشپ کو اس میں کچھ بولنے کی کوئی وجہ نہیں…‘‘                                            (ص 25)

——

’’آپ میری فکر مت کیجیے۔ اب میں بچہ نہیں جوان ہوں۔ بی اے کرلیا ہے۔ میرا کچھ نہ کچھ انتظام ہو ہی جائے گا۔‘‘                     (ص 27)

لیکن اس سے یہ غلط فہمی بھی پیدا نہیں ہونی چاہیے کہ وہ مس گرین کا احترام نہیں کرتا۔ وہ یہ بھی کہتا ہے:

’’آپ نے مجھے پالا ہے۔ ماں کی طرح آپ کی عزت کرتا ہوں۔ آپ کے سوا دنیا میں میرا کوئی بھی نہیں۔ آپ کا ہر حکم مانوں گا مگر دوسروں کی غلط بات نہیں مانوں گا۔‘‘                                    (ص 26)

اس جملے سے اس بات کا پتہ بھی چلتا ہے کہ ارنسٹ کا کردار ایک ایسا بالغ کردار ہے کہ وہ حفظ مراتب کے ساتھ ساتھ غلط اور منفی قوتوں سے لڑنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔

اس کا دوست جوسف بھی اُسے بشپ کے اس حکم کو ارنسٹ سے Share کرتا ہے۔ جوسف اسی مشن کمپاونڈ میں اپنی بیوی پولینا کے ساتھ رہتا ہے۔ سہیل صاحب نے جوسف اور ارنسٹ کے درمیان ہونے والی گفتگو سے ارنسٹ کے ذریعہ زندگی کے فلسفے کو واضح کیا ہے۔دو تین مکالمے سنیے:

’’پیارے دنیا بہت بڑی ہے اور ساری دنیا پر بشپ کا اختیار نہیں۔ میں کل خود ہی چلا جاؤں گا۔ بہت دنوں تک پنجرے کا پنچھی بن کر رہا۔ اڑان سے بازوؤں میں طاقت آئے گی۔ کچھ تجربے ہوں گے، کچھ سیکھوں گا۔‘‘     (ص 33)

—

تم سچ مچ عیسی ٰ کی بھیڑ ہو اور پادری چرواہا۔ عیسائی ہونا اور بات ہے اور کسی چرچ میں رہنا دوسری بات۔

—

تم سمجھ رہے ہو گے فریڈی نے ٹھیک ہی کیا ہے۔ ارنسٹ پکا عیسائی نہیں ہے۔ سچ مچ میں فریڈی جیسا عیسائی بننا نہیں چاہتا۔        (ص 88)

پادری یہ نہیں بتاتے کہ عیسائیت کیا ہے۔ بلکہ یہ جتاتے ہیں کہ وہ جو کچھ کہیں وہی عیسائیت ہے۔ خود یہ لوگ عیسائیت کے خلاف کام کرتے رہتے ہیں۔ اسی شیطان فریڈی کو لو۔ جو کچھ وہ کرتا رہتا ہے، وہ عیسائیت ہے؟‘‘                                                  (ص 37)

—

’’تم کو معلوم ہے نا، مارٹن لوتھر کو پوپ اور پادریوں کے خلاف بغاوت کرنی پڑی تھی۔ وہ خود پادری تھا مگر غلط باتوں کو زیادہ دنوں تک برداشت نہیں کرسکا۔‘‘                                                    (ص 38)

اس نوع کے جملے اور فقرے صرف ارنسٹ کے کردار کو متحرک و مستحکم نہیں کرتے بلکہ اس سے ناول کا پورا Structure متاثر ہوتا ہے۔ اس کردار کا ایک دوسرا نازک نفسیاتی پہلو بھی ہے یا ہوسکتا ہے یا نہیں بھی ہوسکتا ہے۔ کہیں نہ کہیں باپ کے جین کا بیٹے کے فکری نظام پر اثر ضرور باقی رہتا ہے۔ ممکن ہے کہ یہ عنصر ماحول اور تربیت کے سبب Dormant پوزیشن میں ہو۔ یعنی یہ کہ آخر تو وہ مسٹر سنہا کی اولاد ہے یا پودا ہے۔ ایک تو مسٹر سنہا ہندو دھرم سے وابستہ ہیں مگر وہ مذہبی قطعی نہیں۔ شاید اسی لیے مشن کمپاونڈ میں رہتے ہوئے بلکہ مس گرین، جوسف آرتھر اور دوسرے کرسچین دوستوں کے ساتھ رہتے ہوئے بھی اس میں اس طرح کی انقلابی اور احتجاجی فکر پرورش پارہی ہو۔ حالاں کہ وہ عیسائیت کے خلاف کچھ نہیں بولتا لیکن پادریوں کی غلط پالیسیوں اور رویوں کے خلاف آواز اٹھاتا ہے جب کہ دوسرے احباب میں یہ بات نہیں پائی جاتی۔ مسٹر سنہا ارنسٹ سے دوران گفتگو کہتے ہیں:

’’خدا نے دنیا بنائی ہے اور پادریوں کو دے دیا ہے۔ فکر مت کرو۔ چرچ سوسائٹی تو ہے۔ اس کا عقیدے سے کوئی تعلق نہیں اور عقیدہ بھی کیا۔ میرے ماں باپ کٹّر ہندو تھے۔ میں بھی کہنے کو ہندو ہوں۔ میری بیوی عیسائی تھی میرے نوکر عیسائی ہیں، مسلمان ہیں، صرف ایک ہندو ہے۔ پوجا کرنے مندر میں نہیں جاتا کرسمس مناتا ہوں۔ اب میں کیا ہوں؟ میرے خیال میں اچھا آدمی بننے کے لیے کسی ایک مذہب کا پابند ہونا ضروری بھی نہیں۔‘‘(ص 70)

ارنسٹ اور مسٹر سنہا جیسے کرداروں کے چہرے کسی بھی ناول کے متن کا حصہ بن جاتے ہیں۔ یعنی یہ کہ ان کی باتیں، ان کے حرکات و سکنات متن کے وجود کو مستحکم کرتے ہیں۔ اس ناول کے متن کو مستحکم کرنے اور پورے متن کے چہرے کو قارئین کے سامنے پیش کرنے میں ایسے کرداروں کی اہمیت بڑھ جاتی ہے، جو ناول میں پیش کردہ فکری نظام کا حصہ ہوتے ہیں۔

ایک طرف عیسائی مشنری اور دوسری طرف ایسے بچے جن کے والدین کا کچھ اَتہ پتہ نہیں، اس ناول کا پلاٹ تشکیل دیتے ہیں۔ یہ کردار اسی معاشرے سے آئے ہیں۔ لہٰذا ان کے عمرانی اور سماجی سروکار بھی معاشرتی ہیں۔

زبان اور اسلوب: سہیل عظیم آبادی کی تخلیقی زبان عام فہم ہوتی ہے۔ وہ مفرس اور معرب زبان سے تقریباً احتراز کرتے ہیں۔ ناول میں زبان کی ناہمواری کی بڑی اہمیت ہوتی ہے۔ اس ناول میں سہیل صاحب نے زبان کے استعمال میں احتیاط سے کام تو لیا ہے لیکن اگر غور کیا جائے تو مس گرین کی زبان کے علاوہ دوسرے تمام کرداروں کی زبان کم و بیش ایک جیسی لگتی ہے۔ فکشن کے مشہور نقاد میخائل باختن (Mikhail Bakhtin) کی نظر میں ناول میں Heteroglossia کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔ زبان کے باہمی اتصال اور باہمی تصادم یعنی conflict سے ناول کی شناخت اور قوت مستحکم ہوتی ہے۔ کرداروں کی زبان، راوی کی زبان اور مصنف کی زبان کی سطحیں الگ ہوتی ہیں۔

’بے جڑ کے پودے‘ میں کرداروں کی زبان میں بہت زیادہ فرق نظر نہیں آتا، البتہ جیسا کہ میں نے پہلے عرض کیا کہ ’مس گرین‘ کی زبان انگریز نن کی ہندی معلوم ہوتی ہے۔ جیسے یہ دو مکالمے:

’’ہم سب سمجھتا ہے۔ ہم نہیں جانتا تھا کہ فریڈی بڑا ہوکر اتنا گندا آدمی نکلے گا۔‘‘                                                                (ص 27)

’’ہم سب سمجھتا ہے۔ آدی باسی لوگ تو بہت نیک اور سیدھا ہوتا ہے۔ یہ بدمعاش نکلا۔‘‘                                                  (ص 27)

لیکن سہیل صاحب سے ص 64 پر مس گرین کے لیے مکالمے لکھتے وقت چوک ہوگئی ہے۔ پوری کتاب میں مس گرین کے لیے پہلے ہمیشہ جمع متکلم یعنی ’ہم‘ اور اس کے فعل میں واحد متکلم مذکر کا استعمال کیا گیا ہے۔ لیکن جب ارنسٹ کو مسٹر سنہا اپنے گھر میں پناہ دے دیتے ہیں، مس گرین ان سے ملنے آتی ہے تو ان کے سامنے جو تاثر پیش کرتی ہے، سنیے:

میں بہت خوش ہوں یہ لڑکا تمھاری پناہ میں آگیا۔ میں مطمئن ہوگئی۔ اس کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے میں پریشان ہوگئی تھی…… میں اس کو ایم اے کرانا چاہتی تھی بشپ نے منع کردیا۔                            (ص 64)

اسی لیے کہا جاتا ہے کہ ناول لکھنا کنواں کھود کر پانی نکالنے جیسا عمل ہے۔ اس چھوٹے سے ناول میں ایک کردار کی زبان برتنے میں چوک ہوگئی۔ زبان صرف ذریعۂ اظہار ہی نہیں ہوتا بلکہ کرداروں کے داخلی تصورات اور شعور کی پہنائیوں کو قاری کے سامنے منعکس کرنے کا کام کرتی ہے۔ ناول میں اس کی اہمیت Heteroglossia کے سبب اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ زبان کرداروں کی عمروں، طرزِ حیات، علمی لیاقتوں، سیاسی و سماجی تصورات کو بھی پیش کرتی ہے۔ اس لیے اس کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔ ساتھ ہی زبان اور اس کی پیش کش ہی سے کسی بھی مصنف کا اسلوب بنتا ہے۔ حالاں کہ مصنف کا تو اسلوب ہوتا ہے لیکن ناول میں کئی اسالیب کی جھلکیاں ہوتی ہیں۔ ان کی زبان کے حوالے سے پروفیسر عبدالمغنی لکھتے ہیں:

’’سہیل صاحب کی نثر خاص کر خواجہ حسن نظامی کی نثر سے بہت زیادہ متاثر معلوم ہوتی ہے۔ وہ خواجہ ہی کی طرح چھوٹے چھوٹے، سیدھے سادے جملے لکھتے اور عام فہم الفاظ استعمال کرتے ہیں۔ اضافتوں کا استعمال وہ کم ہی کرتے ہیں اور ان کی ترکیبیں بہت ہلکی ہوتی ہیں… اس اسلوب بیان میں قاری کے ذہن پر الفاظ و تراکیب کا دباؤ بالکل نہیں پڑتا اور اس کی ساری توجہ صرف کہانی پر مرکوز رہتی ہے… یہ طرزِ نگارش ’فسانۂ عجائب‘ کا نہیں بلکہ ’باغ و بہار‘ کا ہے۔‘‘                 (آج کل، سہیل نمبر، 1981، ص: 16، 17)

اگر اس اقتباس کی روشنی میں ’بے جڑ کے پودے‘ کی زبان دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ اس کی نثر ’باغ و بہار‘ سے بھی زیادہ آسان اور عام فہم ہے۔ باغ و بہار کی زبان اس قدر آسان بھی نہیں۔ البتہ ’فسانہ ٔ عجائب‘ کی نقیض بلاشبہ ہے۔ اس ناول کی زبان کے حوالے سے شہاب ظفر اعظمی یوں لکھتے  ہیں:

’’زبان و بیان فطری ہے اور مکالمے کرداروں کی ذہنی کیفیات، جذباتی وابستگی، اور نفسیاتی الجھن کی آئینہ داری کرتے ہیں۔ اُن کے مکالمے چھوٹے، فطری اور دل چسپ ہوتے ہیں۔‘‘          (اردو ناول کے اسالیب، ص 253)

سہیل عظیم آبادی نے اپنے اس ناول میں بے شک آسان اور فطری زبان استعمال کی ہے۔ زبان کا آسان مگر تہہ دار ہونا ایک مشکل بات ہے۔ اگر زبان کے استعمال میں کوئی استعاراتی اور علامتی نظام نہیں تو پھر کوئی بھی ناول ایک صحافتی رپورٹ کا پٹارا ہوسکتا ہے، تخلیقی فن پارہ نہیں۔

زبان اگر صرف وسیلۂ اظہار یعنی Medium of Expression ہے تو صحافتی زبان ہے۔ لیکن سید احتشام حسین نے اسی کو اہمیت دی ہے، یہ الگ بات ہے کہ اس بیان میں ایک طرح سے تخلیقی ہنرمندی کا زاویہ بھی پوشیدہ نظر آتا ہے۔ وہ لکھتے  ہیں:

’’وسیلۂ اظہار کے بغیر اعلیٰ ترین پلاٹ، جاندار کردار، احساس تناسب، اعلیٰ نقطۂ نظر سب پتھر کے اس ڈھیر کی طرح ہیں جس میں ہزارہا شیریں پیکرِ اصنام پوشیدہ ہیں لیکن جنھیں کسی فنکار کا وہ ہاتھ نصیب نہیں ہوا جو تراش کر انھیں باہر نکال لے۔‘‘

(تنقید کے بنیادی مسائل، مرتب: آل احمد سرور، شعبۂ اردو علی گڑھ، 1967، ص 17)

یہ زبان، ماحول، کردار، راوی سب مل کر کسی نقطۂ نظر کو پیش کرتے ہیں۔ اگر زبان میں صفائی، دل کشی اور شُستگی ہے تو قاری کو اپنی طرف متوجہ کرلیتی ہے۔ پھر یہ ہوتا ہے کہ ناول پڑھا جاتا ہے۔ جب ناول پڑھا جاتا ہے تو کوئی نقطۂ نظر بھی ابھر کر سامنے آتا ہے۔ کچھ مکالمے مسٹر سنہا کے، کچھ مس گرین کے اور کچھ ارنسٹ کے آپ نے ملاحظہ کیے۔ اس کے علاوہ خود ناول نگار کا بیانیہ کیا ہے، ایک دو مثالیں ملاحظہ کرلیجیے:

’’پکّی اور کچّی قبروں کو دیکھ کر اُسے خیال آیا۔ لوگ کہتے ہیں کہ موت امیر اور غریب کو برابر کردیتی ہے۔ لیکن ایسی بات تو نہیں۔ مرنے کے بعد بھی امیروں اور غریبوں کا فرق پکّی اور کچّی قبروں کی شکل میں نظر آتا ہے۔ بوڑھے جیکب پادری کو پرانے کپڑے پہنا کر تابوت میں بند کرکے کچی قبر کے اندر دبا دیا گیا تھا اور انگریز پادری ریویرنڈ لائل کو نئے کپڑے پہنا کر اس کی قبر پکی بنائی گئی تھی اور اس پر سنگ مر مر کی صلیب لگائی گئی تھی۔‘‘

(بے جڑ کے پودے، ص 46)

——

’’مس گرین جب مشن میں کام کرنے کے لیے آئی تھی تو لڑکیوں کے اسکول میں پڑھاتی تھی، اس کی عمر اس وقت چوبیس سال تھی۔ اس نے اپنی زندگی مشن کو سونپ دی تھی۔ اُس کا جی چاہتا تھا کہ گاؤں گاؤں پھرے، ہر جگہ عیسیٰ کا پیغام پہنچائے اور لوگوں کو عیسائی بنائے۔ سب کی خدمت کرے اور اُن میں الجھی رہے۔ وہ عام لوگوں کی بولی سیکھ رہی تھی اور اس طرح باتیں کرتی تھی کہ مسٹر سنہا ہنس دیا کرتے تھے۔‘‘    (بے جڑ کے پودے، ص 15)

سہیل عظیم آبادی نے اپنے بیانیے میں بھی مکالموں ہی کی طرح آسان اور عام فہم زبان کا استعمال کیا ہے۔ میں نے اوپر یہ کہا ہے کہ ناول نگار اپنے نقطۂ نظر کا اظہار کبھی مکالموں کے ذریعہ کبھی بیانیہ کے ذریعہ تو کبھی منظرکشی کے ذریعہ کرتا رہتا ہے۔ اوپر پیش کردہ اقتباسِ اوّل میں سہیل عظیم آبادی نے اپنے ترقی پسند نقطہ نظر کا اظہار کردیا ہے۔ کچی اور پکی قبروں کے درمیان تفریق دکھا کر سماج میں رائج طبقاتی کشمکش کو پیش کیا ہے۔ چوں کہ وہ ترقی پسند تھے لہٰذا یہاں ارنسٹ کے خیال میں اپنا نقطۂ نظر ضم کردیا ہے۔ یہاں پر کچھ بھی غیرفطری نظر نہیں آتا کیوں کہ ارنسٹ کی نظر یوں ہی قبرستان کی کچی پکی قبروں کی طرف اٹھ جاتی ہے اور وہ اسی تناظر میں سوچنے لگتا ہے۔ سہیل صاحب کی تخلیقی ہنرمندی نے اسے تبلیغ اور پروپیگنڈہ بننے سے بچا لیا ہے۔ دراصل انھوں نے اپنے کرداروں بالخصوص مسٹر سنہا اور ارنسٹ کی نفسیات کا تجزیہ بھی پیش نظر رکھا ہے۔ اگر مسٹر سنہا کے کردار کو سامنے رکھ کر دیکھا جائے تو ’بے جڑ کے پودے‘ ایک نفسیاتی اور کرداری ناول ہے۔ موضوع کے لحاظ سے اگر دیکھا جائے تو یہ ایک سماجی ناول بھی ہے جس کا موضوع عام سا بالکل نہیں ہے۔ اس لیے کہ عیسائی مشنری پر مبنی کہانیاں مل جائیں گی۔ والدین سے محروم بچوں پر بھی کہانیاں مل جائیں گی، لیکن دونوں کے اتصال سے پیدا شدہ صورتِ حال پر مبنی شاید اردو میں کوئی ناول موجود نہیں۔ اس ناول کا موضوع سماج کی غلیظ اور دھند میں لپٹی ہوئی روایت کو X-rays کی طرح Penetrate بھی کرتا ہے۔ یعنی اس کا سرا تہذیبی طور پر فرسودہ Conventions سے جاملتا ہے بلکہ انھیں Subvert کرتا ہے۔ وہی فنکار کامیاب ہوتا ہے جو فرسودہ نظام یا نظریۂ حیات کے Subversionکی اپنے اندر صلاحیت رکھتا ہے۔

آخر میں مجھے یہ کہنے میں ذرا بھی تامل نہیں کہ سہیل عظیم آبادی کا یہ ناول کوئی شاہکار نہیں بلکہ تجرباتی ہے۔ البتہ موضوع کا انتخاب ان کے خلوص پر دال ہے۔ ان کے اندر اُن بچوں کے تئیں جو والدین سے محروم ہیں، ایک طرح کی دردمندی نظر آتی ہے۔ یہ موضوع عام ہوتے ہوئے بھی بہت نازک تھا جسے سہیل صاحب نے بہرحال فنکارانہ طور پر نبھانے کی کامیاب کوشش کی ہے۔

 

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

بےجڑ کے پودےسہیل عظیم آبادیکوثر مظہری
0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
سانڈ – پروفیسر غضنفر علی
اگلی پوسٹ
اردو میں تضمین نگاری کی روایت -طفیل احمد مصباحی

یہ بھی پڑھیں

ناول ’آنکھ جو سوچتی ہے‘ ایک مبسوط جائزہ...

نومبر 17, 2024

ناول ”مراۃ العُروس “ایک مطالعہ – عمیرؔ یاسرشاہین

جولائی 25, 2024

ڈاکٹر عثمان غنی رعٓد کے ناول "چراغ ساز”...

جون 2, 2024

گرگِ شب : پیش منظر کی کہی سے...

اپریل 7, 2024

حنا جمشید کے ناول ’’ہری یوپیا‘‘  کا تاریخی...

مارچ 12, 2024

طاہرہ اقبال کے ناول ” ہڑپا “ کا...

جنوری 28, 2024

انواسی :انیسویں صدی کے آخری نصف کی کہانی...

جنوری 21, 2024

مرزا اطہر بیگ کے ناولوں کا تعارفی مطالعہ...

دسمبر 10, 2023

اردو ناول: فنی ابعاد و جزئیات – امتیاز...

دسمبر 4, 2023

نئی صدی کے ناولوں میں فکری جہتیں –...

اکتوبر 16, 2023

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (120)
  • تخلیقی ادب (596)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (20)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,049)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (537)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (219)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (407)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (218)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (25)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,135)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (34)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں