ادب اطفال عالمی ادب کا ایک ناگزیر حصہ ہے۔ زمانۂ قدیم سے اس کی بڑی مضبوط اور مسلسل روایت ملتی ہے۔ ادبیات عالم کا دائرہ بہت ہی پھیلا ہواہے۔سب کا احاطہ کرناکاردشوارہے لیکن انگریزی میں ادب اطفال کی گراں مائیگی کا علم بالواسطہ طور پریقینا ہمیں ہے ۔ اردوکے ممتاز و مایہ ناز شاعر علامہ اقبالؔ کے یہاں انگریزی میں لکھے گئے ادب اطفال کے بہت سارے ترجمے ملتے ہیں ۔ یہ ترجمے اقبالؔ کے پہلے شعری مجموعہ’’بانگِ درا‘‘میں مختلف نظموں کی صورت میں موجود ہے۔ اقبالؔ کے علاوہ اور بھی بہت سارے اردو شاعروں نے ادبیات عالم میںادب اطفال کی اہمیت سے ہمیں روشناس کرایا ہے۔ لیکن ان سب کا احاطہ ہمارے موضوع سے باہر ہے۔
بچوں کے لئے لکھناآسان کام نہیں ہے۔ اس کے لئے بچوں کی استعداد،ان کے ماحول اور ان کی نفسیات کا گہرا مطالعہ ضروری ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی ضروری ہے کہ لکھنے والا خود زبان پر غیر معمولی قدرت رکھتا ہوتا کہ نظم و نثر میں زبان و ادب کی باتوں کو بہ آسانی بچوں تک پہنچاسکے۔تاکہ بچوں میں زیادہ پڑھنے اور آگے بڑھنے کا ایک جوش اور ولولہ پیدا ہو تبھی بچے ان تخلیقات کو خوشی خوشی پڑھیں گے اور ان نظموں اور کہانیوں سے غیر محسوس طور پر زندگی گزارنے کا سبق حاصل کریں گے۔انہیں تمام ذرائع سے بچوں کے دل و دماغ میں اچھے اخلاق ،مذہب و منہج کی صحیح تفہیم اور حب الوطنی کا جذبہ پیدا ہوگا۔
ادبِ اطفال کا سب سے بڑا حسن یہ ہے کہ اس میں بچوں کی ذہنی سطح کا لحاظ رکھ کر تخلیق ادب کیا جائے۔ بچوں کی عمر،ان کے ماحول، ان کے ذوق و شوق اور ان کی فکری صلاحیتوں کے پیش نظر ہی کامیاب ادب وجود میں آسکتا ہے۔ اس لئے ادب اطفال کی تخلیق کے تعلق سے وہی شاعروادیب کا میاب ہوسکتا ہے۔جس نے بچوں کی ذہنیت اور ان کی نفسیات کا حتیٰ المقدورلحاظ رکھاہو۔ ہمارے یہاں اردوادب میں ادب اطفال کا بڑااہم ذخیرہ پایاجاتاہے۔اسی مناسبت سے منیرالمحوی صدیقی کا یہ اقتباس قابلِ غور ہے :
’’اس حقیقت سے کوئی انکار کر سکتاہے کہ بچوں کے لئے لکھنا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ بچوں کے ادب کے لئے قلم اٹھانے سے قبل غور و فکرکے مراحل طے کرنے پڑتے ہیں ۔بچوں کے لئے لکھتے وقت مشکل اور غیر مانوس الفاظ، تراکیب، تلمیحات اور استعارے سے گریز کرنا پڑتا ہے۔ زبان نہایت صاف ستھری ، آسان اور عام فہم استعمال کرنی پڑتی ہے۔………بچوں کے ناپسند اور رغبت اور دلچسپی کو مد نظررکھنا اور بچوں کے شعوراور ذہن و مزاج سے واقف ہونا بھی ضروری ہے۔جن موضوعات پرقلم اٹھایا گیا ہو وہ خالص بچوں کی ذات اور ان کی نفسیات کے مطابق ہوں۔……اس فن میں وہی شاعراور ادیب کامیاب ہوسکتے ہیں۔ جنہوں نے ان باتوں کو مدِ نظر رکھا اور بچوں کے لئے قلم اُٹھایا۔‘‘
(سِہ ماہی ’’ساغرِ ادبْ‘‘،مظفرپور،جنوری تا مارچ، ۲۰۲۰)
میری معلومات کی حد تک اس کی ابتداء مولوی اسمٰعیلؔ میرٹھی سے ہوتی ہے۔ جنہوں نے سینکڑوں نظمیں لکھ کر بچوں کے لئے قابلِ قبول بنایاہے۔ چنانچہ اردوکی پہلی دوسری اور چوتھی کتابیں جو انجمن حمایت اسلام ، لاہور کی شائع کردہ ہیں۔ ان میں مولوی اسماعیلؔ میرٹھی کی بہت ساری نظمیں ملتی ہیں۔ جو اردو کے ادب ِ اطفال میں گراں بہااضافہ کرتی ہیں۔ جیسے ایک نظم کا عنوان ہے’’صبح کی آمد‘‘،’’برسات‘‘،’’ہماری گائے‘‘اور’’ پن چکی‘‘،’’نصیحت‘‘،’’رات‘‘،’’سچ کہو‘‘،’’بارش کا پہلا قطرہ‘‘،’’کچھوااور خرگوش‘‘،’’ایک وقت میں ایک کام‘‘،’’چھوٹے کام کا بڑا نتیجہ‘‘،’’ہوا اور سورج کا مقابلہ‘‘،’’اونٹ‘‘وغیرہ ۔
اس کے بعد ادبِ اطفال لکھنے والوں کا ایک قافلہ چل پڑا۔جس میں خود علامہ اقبالؔ کا بے حد اہم نام ہے۔ ’’بانگِ درا‘‘میں ’’بچوں کا قومی گیت ‘‘کے نام سے ہی ایک اہم گیت ملتی ہے۔پھرایک نظم ’’مکڑااور مکھی‘‘ایک نظم ’’پہاڑ اور گلہڑی‘‘،’’بچے کی دعا‘‘،’’پرندے کی فریاد‘‘،’’گائے اور بکری‘‘وغیرہ۔ ( یہ بھی پڑھیں بہو کی حمایت میں – ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی )
اُردومیں بچوں کے لئے بہت سے ادیب اور شعراء حضرات نے خامہ فرسائی کی ہے اور کر رہے ہیں ۔ اقبالؔ،اسماعیل میرٹھی کے علاوہ حامداللہ افسر،اطہر پرویزاور ماضی قریب میں مولانا شبنم کمالی کے کاموں سے اردو دنیابخوبی واقف ہے۔ان میں شفیع الدین نیرؔنے بھی تسلسل اور گہرائی کے ساتھ بچوں کے ادب کی تخلیق میں اہم کرداراداکیا ہے۔جو اپنے آپ میں ایک مثال ہے۔نیّرؔکی بچوں کی ایک نظم ’’چھٹی‘‘میں کس طرح سے بچوں کو چھٹی کا مزہ لوٹنے کی ترغیب دی گی ہے ۔ملاحظہ ہو ؎
چھٹی ہے بھئی چھٹی، آؤ لکھنا پڑھنا چھوڑیں
کھیلیں کودیں، موج اُڑائیں سارے بندھن توڑیں
کیسی اردو کیسی ہندی، کیسا علم ریاضی
کیسا حال اور کیا مستقبل اور کیسی ماضی
سائنس اور ڈرائنگ سے بھی اب چھٹکارا پائیں
چھٹی ہے، بھئی چھٹی، آؤ دن بھر لطف اُٹھائیں
صرف شاعری کی بات نہیں اردو نثر میں بھی ادب اطفال کا اچھا خاصاسرمایہ ملتا ہے۔ ایک زمانے میں بجنور،(یو۔پی)سے بچوں کا ایک رسالہ ہی نکلتا تھا۔ جس کا نام ’’غنچہ‘‘تھا۔ اس کے سارے مضامین و مشتملات بچوں کی ذہنی سطح اور ان کی نفسیات کے پیش نظر شامل اشاعت ہوتے تھے۔ اردوکے ادب اطفال میں رسالہ ’’غنچہ‘‘کی گراں قدرخدمات کو ہرگز فراموش نہیں کیا جا سکتا ہے۔دہلی سے ایک مشہور رسالہ ’’شمع‘‘نکلتا تھا۔اسی ادارے سے ’’کھلونا‘‘نام کا بھی ایک رسالہ بچوں کے لئے شائع ہوتاتھا۔جس نے اردوکے ادبِ اطفال کو بہت ہی توانائی بخشی،آج بھی بچوں کے لئے کئی رسائل اردو میں شائع ہو رہے ہیں۔جن میں رسالہ ’’اُمنگ‘‘کا نام سرِ فہرست آتا ہے۔اس میں طرح طرح کے سائنسی اور غیر سائنسی مضامین شامل ہوتے ہیں۔خاص طورپرنئی سائنسی ایجادات میں ٹی۔وی۔،موبائل،لیپ ٹاپ،ہوائی جہاز،مشین گن، توپ،میزائل وغیرہ ان کی بناوٹ اوران کے ارتقائی سفرپر بھی اچھاخاصامواد فراہم کیاجاتاہے۔ اس لئے ہم اس طرح کے رسائل کو عالمی ادبِ اطفال کے مقابلے میں بلا تکلف پیش کر سکتے ہیں۔ ایسانہیںکہ اردووالے ادبِ اطفال کی تخلیق کے معاملے میں دنیاکے کسی شاعروادیب سے پیچھے ہوں، ادب اطفال کی تخلیقات کایہ سفر بڑی تیزی سے جاری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اردو داں بچے بھی آج کی نئی نئی ایجادات و سائنسی انکشافات سے پوری طرح باخبر ہیں۔
ادبِ اطفال کی تخلیق کے سلسلے میں اسلوب کی بڑی اہمیت ہے یعنی زبان و طرز بیان ہر حال میں بچوں کی ذہنی سطح کا لحاظ کرکے ہی اختیار کرنا چاہئے،زبان بالکل سادہ و سلیس ہو جملے چھوٹے چھوٹے ہوں، عربی اور فارسی کے ثقیل الفاظ اور مصطلحات سے حتیٰ امکان گریز کرنا چاہئے کیونکہ بچوں کا ذہن اس کا متحمل نہیں ہوگا۔ میں سمجھتا ہوں کہ دنیا کے عام ادب میں اسلوب کی سادگی مگردلکشی پر توجہ دی جاتی ہے۔ اردو ادب بھی اس سلسلے میں اپنی ذمے داریاں سمجھتے ہوئے ادبِ اطفال کی تخلیق کرتا ہے۔ مشکل الفاظ و تراکیب بچوں کے سرسے گزر جائیں گے۔ اس لئے ہمیں اس نقطے کا ہر حال میں لحاظ رکھنا چاہئے۔
بہار اردو اکیڈمی ،پٹنہ کا ترجمان ماہنامہ ’’زبان و ادب‘‘باقاعدگی سے شائع ہوتا ہے۔ اس میں مستقل طور پر بچوں کے لئے کچھ صفحات مخصوص ہوتے ہیں۔ میرے خیال میں اس طرح کی شعوری کوشش دوسرے رسائل میں نظرنہیں آتی۔ اس لحاظ سے ’’زبان و ادب‘‘،پٹنہ قابلِ تعریف و تحسین ہے۔
اکیسویں صدی بھی ادب اطفال کے فروغ کے تعلق سے پچھلی صدیوں سے پیچھے نہیں ہے۔ نجی ادارے تو ادب اطفال کو فروغ دے ہی رہے ہیں۔ سرکاری ادارے بھی اس سلسلے میں بہت ہی سرگرم اور متحرک ہیں۔ جیساکہ میں نے گزشتہ سطور میں ہلکاسا اشارہ کیا ہے۔ خالص بچوں کا رسالہ ’’اُمنگ‘‘دلی اردو اکیڈمی کا ترجمان ہے۔ اور ظاہر ہے دہلی اردو اکیڈمی سرکار کے مالی تعاون سے ہی چلتی ہے۔ اس لئے کہاجاسکتا ہے کہ ہندوستان کی مختلف ریاستیں بھی اس سلسلے میں سرگرم حصہ لے رہی ہیں۔ اکیسویں صدی میں جو سائنسی ترقیاں ہورہی ہیں۔ ان سے ہمارا ادبِ اطفال بھی مالامال ہے۔ اور عالمی ادب میں ادبِ اطفال کی جو رفتار ترقی ہے۔ اس کے دوش بدوش چلنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس لئے ہم اردو میں ادبِ اطفال کے مستقبل سے مایوس نہیں ہیں۔ اردوکے مختلف شعراء و ادیب اس کو معتبر اور مؤقر بنانے میں اپنی بہترین خدمات پیش کر رہے ہیں۔ اردوصرف اردوزبان و ادب ہندوستان و پاکستان تک محدود نہیں ۔دنیاکے اکثرممالک میں اردو لکھی اور پڑھی جا رہی ہے۔ اس لئے ان ممالک میں جو ادب تخلیق کیا جا رہا ہے۔ اس سے استفادہ کرکے ہماراادبِ اطفال اپنے دامن کو گل ہائے رنگ رنگ سے مزیّن کر رہا ہے۔ اس لئے ہمارے اس جہت سے ہمار اردو کا مستقبل بہت ہی تابناک اور درخشاں ہیں۔
امام الدین امامؔ
(متعلم JNU،نئی دہلی)
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

