مجھ پر ان دنوں خاکہ نگاری کا دورہ پڑا ہوا ہے۔ دنیا بھر میں مہاماری کا دور دورہ ہے اور یہاں حضرتِ دماغ اپنی صحت مندی کا طعنہ پر طعنہ دیے جارہے ہیں، ارے بھائی تنقید کے خشک اور بے آب و گیاہ میدان کی طرف دل رجوع نہیں ہورہا ہے تو دل جیسی نالائق چیز مبارکباد کی مستحق ہے اور مجھے ایسا لگا کہ مجھے راہ مل گئی، کئی چہرے ذہن شریف کے اسکرین پر نمودار ہوئے اور میں ان پر ٹوٹ پڑا، اسکرین کا ٹوٹنا کیا تھا، اس کی کرچیوں میں اور ہزار چہرے ابھر آئے۔ ان میں ایک چہرہ ماشاء اللہ بہت ہشاش بشاش، گبروسا، نک سک درست، آنکھوں سے لے کر ہونٹوں تک مسکراہٹ نے ہمیشہ ہمیشہ قائم رہنے والی لکیریں سی کھینچ دی ہیں۔ اس مسکراہٹ کے متن یا تحت المتن کہیں بھی مجھے طعن و طنز کا کوئی پہلو دکھائی نہیں دیا جیسے وہ کہہ رہی ہو میاں خوش رہو اور خوش رکھو۔ جی ہاں خالد محمود اپنی مسکراہٹ کی آواز میں آواز ملا کر ایسا ہی کچھ کہہ رہے تھے۔ مجھے بھی کچھ یاد رہا کچھ بھول گیا۔
خالد محمود کو اگر کسی نے نہیں دیکھا ہے تو اسے کم از کم ایک بار انھیں دیکھنا ضرور چاہیے۔ اگر کوئی ان سے نہیں ملا ہے تو میں یہی کہوں گا کہ یہ اس کے لیے ناقابل تلافی نقصان کی صورت ہوگی۔ کسی نے انھیں نہیں سنا ہے تو میں اسے بالجبر دعوت دیتا ہوں کہ ایک بار سن کر تشفی ضرور حاصل کرلے۔ ویسے آدمی جیسا پیچیدہ مرکب بھی عجیب جانور ہے۔ جسے دیکھنا چاہتا ہے بس اسے ہی دیکھتا ہے۔ جسے سننا چاہتا ہے اسی کو سنتا ہے۔ شاید اس راز کو ہمارے ایک دوست نے بھانپ لیا تھا۔ وہ خیر سے مٹی کے تیل کا کاروبار کرتے تھے (تھے اس لیے کہ اب وہ اللہ کو پیارے ہوگئے)۔ وہ کوئی بات کرتے تو بیچ میں ٹوک کر ضرور پوچھتے کہ ہاں تو میں کیا کہہ رہا تھا۔ بس وہیں ہم ڈھیر ہوجاتے تھے۔ ایک بار کہنے لگے کیا بتاؤں ”گذشتہ برس 5 لاکھ کا گھاٹا ہوا تھا اور اس سال یہ گھاٹا 7 لاکھ تک پہنچ گیا“،”کتنے لاکھ تک؟“ میں ایک دم چونکا اور فوراً جواب دیا ”5 لاکھ کا گھاٹا۔“ ارے بھائی سنتے بھی نہیں ہو ”5 لاکھ کا گھاٹا تو پچھلے برس ہوا تھا۔“ میں نے بھی ان پر سوال ٹھونک دیا ”تو اس سال کتنا گھاٹا ہوا؟“ جانے دو یار ابھی تو اگست ہی چل رہا ہے دسمبر تک پتہ نہیں کیا ہوگا؟ میں نے کہا کوئی بات نہیں میں خودآکر جنوری میں پوچھ لوں گا۔“ یہ کہہ کر میں نے رخصت لی اور ہوا ہوگیا۔
خیر سے خالد محمود کاروباری نہیں ہیں۔ اسکول میں استاد تھے تب بھی اپنی فیاضی کے دامن کو وسیع رکھا، جو ملا اسے لُٹا دیا۔ بچت کے نام ہی سے انھیں کراہیت ہوتی ہے۔ گھاٹا کس لغت کا لفظ ہے، انھیں نہیں معلوم بلکہ ایک دن میں نے دیکھا کہ موصوف نے اپنی خانگی لائبریری کے شیلف میں رکھی ہوئی انگریزی اور اردو لغت میں بچت اور گھاٹے یا نقصان جیسے الفاظ پر سیاہی پھیر دی ہے۔ اسکول ٹیچر تھے تب بھی رات دن اپنے گھر کا مطبخ کھلا رکھتے تھے۔ پروفیسر ہوئے تو پورے فلیٹ کو مطبخ بنا دیا۔ کہتے ہیں ہماری تمام جیبوں میں سوراخ ہیں، اِدھر آتا ہے اُدھر فوراً نکل جاتا ہے۔ تنخواہ کا تو میں نے کبھی خیرمقدم نہیں کیا اور محبتوں کو کبھی یہ ہوا بھی نہیں لگنے دی کہ تنخواہ کتنی ہے کیونکہ مجھے ہی نہیں معلوم تو کسی کو کیا حساب دوں۔ جب ماہ کے آخری دنوں سے پہلے تنخواہ کا تیاپانچہ ہوجاتا ہے تو اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ کچھ بچا نہیں، بچا کے رکھنا بھی میرے نزدیک گناہ نہیں تو ایک جرم ضرور ہے۔ خدا را آپ اس جرم کے مرتکب نہ ہوں۔
خالد محمود کی آواز میں کھنک ہے۔ موضوع کے اتار چڑھاؤ کے ساتھ ان کے لہجے کا پارہ اوپر نیچے ہوتا رہتا ہے۔ مجال ہے ان کا سامع انھیں ان سنی کردے۔ جیسا کہ میں نے عرض کیا کہ ان سنی پر اسی کا ناقابل تلافی نقصان ہوگا۔ خالد محمود جب بولتے ہیں تو ان کا چہرہ گلاب کی طرح کھِلنے لگتاہے۔ گالوں پر تر و تازگی آجاتی ہے، ان کی یادداشت ہمیشہ اتنی تازہ دم ہوتی ہے کہ کوئی موضوع ہو مجال ہے کہ اس سے بچ کر نکل جائے۔ زندگی میں جتنی ٹھوکریں کھائیں، ہر ٹھوکر پر ٹھوکر مار کر وہ آگے بڑھتے رہے اور سیکھتے رہے۔ اسی لیے زندگی کے رنگارنگ تجربات کا ان کی قفلی بند یادداشت میں کوئی قحط نہیں ہے۔ بولتے ہیں تو ایسا لگتا ہے ان کا سارا وجود بولتا ہے۔ بولتا ہی رہتا ہے اور ہم جیسے سامع سنتے ہیں اور سنتے ہی چلے جاتے ہیں۔ کاما فُل اسٹاپ میں یہ جرأت کہاں کہ ان کے تیز بہاؤ پر قدغن لگا دے۔ خالد محمود میں اکڑ بھی ہے، موصوف اخلاص میں بھی اپنی مثال آپ ہیں۔ صاف گو اتنے ہیں کہ بدگوئی ان سے پناہ مانگتی ہے۔ وہ دشمنوں کو تو جانے دیجیے۔ دوستوں کو بھی نہیں بخشتے۔ دوست بھی وہ انھیں کو بناکر رکھتے ہیں جو ان کی صاف گوئی کو برداشت کرنے کا اہل ہو۔ نااہلوں کو تو وہ منھ بھی نہیں لگاتے۔ معاف کیجیے میں نے محاورۃً ہی ’منہ لگانے‘ کی بات کہی ہے۔ خالد محمود غصہ ہونا، بھڑکنا، لال پیلے ہونا، جیسے ہر داؤکا استعمال کرتے ہیں اور داؤ پھر داؤ ہے کبھی بے وقت بھی لگ جاتا ہے۔ ایک بار ہمارے اور ان کے عزیز دوست کی کسی بات پر وہ ناراض ہوگئے۔ ناراض نہیں ہوئے بھڑک گئے میں نے انھیں راست ناراست سمجھانے کی کوشش کی، لیکن بدتمیز بدگمانی چین کی دیوار بنی رہی۔ وہ ٹس سے مس نہیں ہوئے۔ میں نے جب اپنی شکست قبول کرلی تو بس اتنا کہا خالد صاحب معافی بھی اصل پٹھان کی پہچان ہے۔ ”بس کیا تھا فوراً جواب حاضر“ عتیق بھائی! اچھا یہ بات ہے تو جاؤ میں نے معاف کیا۔ اب کوئی بتائے اتنا معصوم بھی کوئی ہوسکتا ہے جسے ان کی ان خفیہ عادتوں کا علم ہے۔ ان کے ساتھ دوستی پکی، ورنہ آپ کے لیے یہی بہتر ہے کہ ان کی دہلیز میں قدم رکھنے کے بجائے الٹے پاؤں روانہ ہوجائیں۔ (یہ بھی پڑھیں مکتبہ جامعہ شاہد علی خاں لمٹیڈ – پروفیسر خالد محمود )
خالد محمود شاعر پیدا ہوئے اور قلم کبھی تنقید کی طرف لڑھک جاتا ہے۔ کبھی طنز و مزاح کی طرف۔ طنز نگاری تو ان پر محض الزام ہے ورنہ انھوں نے اپنے بزرگوں سے یہی سیکھا ہے کہ خوشی بانٹا بھی ایک عبادت ہے اور خالد محمود بھی مزاح کے ذریعے خوشی بانٹنے پر ’یقین محکم‘ رکھتے ہیں۔ یہ مومن کا یقین محکم نہیں ہے جو اکثر ڈولتا ہوا نظر آتاہے۔ یہ یقین محکم خالد محمود کا ہے۔ عمل پیہم بھی خالد محمود کا ہے اور فاتح عالم بھی خالد محمود کا ہے۔ اسی لیے وہ ہر ناگہانی کو ’گہانی‘ کہتے ہیں۔ کچھ بھی کسی بھی وقت، کسی کے ساتھ بھی ہوسکتا ہے:
خالد کا تو دریا کی گزرگاہ میں گھر ہے
طوفان کو آنا ہو تو دروازہ کھلا ہے
——
ہوتی ہے کیا ہوا میں کسی کی کُلاہ کج
پہلے تو اِک کلاہ ہو پھر کج کلاہ ہو
——
ایک ہی وار میں کردیتا ہے دل قصہ تمام
یعنی مرجانے کا خطرہ نہیں رہنے دیتا
——
ہمارا گھر بھی صحرا ہوگیا ہے
مگر غالب سی ویرانی نہیں ہے
——
آنسوؤں سے سرد ہوجاتی ہے ہر سینے کی آگ
میرا دل آتش کدہ ہے چشمِ تر ہوتے ہوئے
——
قرض تھا اس پر مرا حسنِ عمل
یہ اسی کا تیر ہونا چاہیے
——
رکھیے ہمیشہ دست میں اک چوب دست بھی
ہٹتے نہیں ہیں ورنہ سگِ راہ، راہ سے
خالد محمود کی شخصیت کے عکس سے ان کا کوئی شعر خالی نہیں ہے۔ کہیں شدت، کہیں نرمی، کہیں غصہ کہیں بچوں سی معصومیت، کہیں طنز اور طنز لطیف، کہیں پردہ دری اور کہیں پردہ داری یہ ساری صورتیں ہمیں خالد محمود کے کلام میں صف باندھے ملتی ہیں۔ خالد ایک اعلیٰ درجہ کا مذاقِ شعری رکھتے ہیں۔ وہ شعر برائے شعر گفتن کے قائل نہیں ہیں بلکہ ہمیشہ تجربے کی طرف مائل رہتے ہیں ان کا ہر تجربہ، تجربہئ ذات کا مظہر ہوتا ہے جس میں نیم لبی اور سرگوشی کی کیفیت بھی ہوتی ہے۔ ان کے غم و غصے میں ہم دردی اور ہم جذبی کو بہ آسانی محسوس کیا جاسکتاہے۔ مزاح کے ساتھ طنز کی ہلکی سی چھینٹ ان کی گفتار کا ایک نمایاں پہلو ہے اس لیے رمز کی مدھم سی دھند سے ہمیں بار بار سابقہ پڑتا ہے جو قاری کو یہ دعوت دیتا ہے کہ وہ ایک سے زیادہ بار قرأت کے تجربے سے گزرے۔ طنزجب تک رمز آگیں اور ستم ظریفانہ نہ ہو تب تک وہ طنز کے زمرے میں نہیں آتا۔ خالد نے عظیم بیگ چغتائی کے طنز و مزاح کے عنوان سے ایک طویل تنقید مضمون میں ’طنز‘ کے تعلق سے جو وضاحت کی ہے اس کا اطلاق خود خالد کی طنزیہ شاعری اور خاکوں اور انشائیوں پر ہوتا ہے۔ (یہ بھی پڑھیں ہندوستانی حج ناموں میں جزیرہ نمائے عرب کے تہذیبی نقوش- پروفیسر خالد محمود)
”طنز کے کئی پہلو ہیں اور ادب میں ا س کے لیے کئی اصطلاحیں مستعمل ہیں مثلاً ہجو، تعریض، تنقیص، استہزا، لعن طعن، تمسخر اور دلآزاری وغیرہ۔ اردو کے مشہور طنز و مزاح نگار رشید احمد صدیقی کے مطابق ان تمام اصطلاحات میں طنز ہی وہ لفظ ہے جو بڑی حد تک انگریزی لفظ Satire کی نمائندگی کرتا ہے۔ اس کے لیے اس اصطلاح کا چلن عام ہے۔ طنز دراصل ایک طرح کا عمل جراحی ہے جس کا مقصد اصلاح معاشرہ اور تنقید حیات ہے۔ اسی خیال کے تحت طنز کے لیے مقصدیت پر زور دیا گیا ہے۔ اگر طنز میں اصلاح کا پہلو اور طنزنگار میں ہمدردی کا جذبہ نہ ہو تو یہ محض ہجو اور تنقیص بن کر رہ جاتا ہے جس کی بنیادیں عموماً بدنیتی پر استوار ہوتی ہیں۔“(نقوشِ معنی، ص 85-86)
یہاں رشید صاحب نے طنز کو سٹایر کے متبادل کے طور پر اخذ کیا ہے جبکہ سٹایر کے لیے ہجو کی اصطلاح مناسب ہے۔ ہجو میں بے دردی اور تمسخر کا میلان احاطہ گیر ہوتا ہے۔ طنز بھی مضمر ہوتا ہے لیکن اس کی حدیں نیشتر زنی، یا لعن طعن سے جاملتی ہیں جسے ہم پھبتی یا Sarcasm کہتے ہیں۔ خالد محمود Satirist نہیں ہیں اور ہو بھی نہیں سکتے۔ ان میں کسی قسم کا کینہ ہے نہ وہ کینہ توز ہیں۔ بغض رکھتے ہیں نہ حسد۔ ہمیشہ اپنے نشے میں سرشار، دوست نوازی میں گرفتار، مردم بیزاروں سے بیزار، طنزیہ گفتار کو انھوں نے کہیں کہیں مزاحِ لطیف سے بھی آبدار کیا ہے جس سے ہم بار بار تبسم زیر لب کی کیفیت سے گزرتے ہیں۔ یہاں محض ایک غزل کی مثال دینا چاہوں گا:
گھر میں رکھیں غزلوں کا فن، اک غالب، اک میر
ہر شاعر کے پکّے دشمن، اک غالب، اک میر
آپس ہی میں بانٹ کر رکھ لی، ساری شعر زمین
خالی کرکے فن کا دامن، اک غالب، اک میر
باقی ہیں دنیا میں جب تک دونوں کے دیوان
ہر سچے شاعر کی الجھن اک غالب، اک میر
خالد محمود نے یہ غزل اپنے ایک خاص موڈ میں کہی ہے اور غالباً ایک نشست ہی میں اسے مکمل کیا ہے۔ دراصل انھوں نے طنز سے زیادہ ہیرلڈ بلوم کے تشویش اثر Anxiety of Influence کے تصور کو نظم کرڈالا ہے۔ ہیرلڈ بلوم کا کہنا ہے کہ ہر نسل اپنے پیش رو بڑے شعرا جیسا بننا چاہتی ہے اور اس سے خوف زدہ بھی رہتی ہے۔ وہ اسے کچل کر آگے بھی نکلنا چاہتی ہے۔ اس کشمکش اور ذہنی کشاکش سے تقریباً ہر شاعر گزرتا ہے۔ غالب ہوں کہ میر و اقبال وہ ہماری ذہنی تحریک کا باعث ہیں اور اکثر مخمصے میں بھی ڈال دیتے ہیں۔ ان کے کفر کو توڑنا معرکے سے کم نہیں ہوتا۔ خالد محمود کی پوری کی پوری غزل اپنی نوعیت کا ایک مختلف اور لطیف تر تجربہ ہے۔
خالد محمود ایک شاعر، ناقد اور خاکہ نگار ہیں۔ ان کے فکر و فن کے متنوع پہلوؤ ں پر متعدد حضرات نے مضامین لکھے ہیں۔ بعض جرائد نے ان کے طنز و مزاح اور ان کی شعری اور نثری تصنیفات پر خاص نمبر بھی نکالے ہیں۔ بعض حضرات کے نہایت عمدہ خاکے بھی دیکھنے کو ملے۔ یہ خاکے ان کے شناساؤں اور احباب کے لکھے ہوئے ہیں جو بے حد دلچسپ ہیں اور ایک ایسی شخصیت کا پیکر خلق کرتے ہیں جو نہایت دلآویز اور پرکشش ہے۔ تسنیم بھابی کہتی ہیں دوسرے تعریف کرتے ہیں تو ان پر مستی سی طاری ہوجاتی ہے اور میں تعریف کرتی ہوں تو میری زبان چپ کردیتے ہیں۔ ارے بھائی کیوں؟ اس کا جواب خالد کے پاس یہ ہے کہ آپ سائنس کی پروفیسر ہیں، آپ کی تعریف بھی سائنسی زبان میں ہوتی ہے اور میں اردو زبان کا ادیب ٹھہرا۔ اتنی گہرائی میں اترنا مجھے نہیں آتا، اترنے میں ڈوبنے کا ڈر بھی ہے اور ابھی میں ڈوبنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔ تسنیم بھابی سنتی ہیں۔ شوہر کو ٹاٹا کرتی ہیں اور اپنے سائنسی یا مطبخ کے کاموں میں لگ جاتی ہیں کیونکہ خالد میاں کا حکم ہے کہ چولھا کبھی سرد نہیں ہو نا چاہیے پتہ نہیں کب کسی دوست یا مہمان کا ورودِ مسعود ہوجائے۔
مہمان کے ورودِ مسعود کو وہ سعادتِ خداوندی سے تعبیر کرتے ہیں۔ پتہ نہیں تسنیم بھابی کا کیا خیال ہے، جن کی زبان پر تو ہمیشہ یہی کلمہ ہوتا ہے ”جو خیال خالد صاحب کا وہی ہمارا“ واہ، واہ، ہزار بار تحسین کے لائق ہیں۔ تسنیم بھابھی۔ صاحبِ عمل، صاحب علم،صاحب نظر ان صفات میں وفاشعار کا ٹانکا بھی بہ آسانی لگایا جاسکتا ہے۔ کبھی کبھی تسنیم بھابھی کو فون سے اطلاع ملتی ہے کہ کسی ناگہانی مہمان کا ورودِ مسعود ہوا ہے فوراً آؤ۔ تو وہ اپنے طلبا کو چھوڑ چھاڑ سیدھے اپنی رہائش کی راہ لیتی ہیں۔ خالد محمود انھیں دیکھ کر تسنیم بھابھی کا شکریہ ادا کرنے کے بجائے ’اللہ کا شکر‘ ادا کرتے ہیں جیسے تسنیم بھابی نے انھیں بہت سے ناگہانی خطرات سے بچا لیا۔ یہ ہیں جناب خالد محمود اور یہ ہیں تسنیم بھابی۔ جو پروفیسری اور خانگی ذمہ داریوں میں بڑی خوش اسلوبی سے تال میل بنائے رکھتی ہیں۔ میرے نزدیک خالد محمود کے ساتھ وہ بھی کم انعام کی مستحق نہیں ہیں۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

