اردو کو آج بھی ملک کا ایک بڑا طبقہ یہ سمجھتا ہے کہ اردو صرف مسلمانوں کی زبان ہے۔ ملک میں ایک طرح کی سوچ رکھنے والوں نے سازش کے تحت آزادی کے وقت سب سے زیادہ عام اور پیاری زبان اردو کو مذہب اور قوم سے جوڑ کر اسے مسلمانوں کی زبان ہونے کی چھاپ لگا دی اور اسی وقت سے ملک میں بڑی تعداد میں عوام کی یہ سوچ بن گئی کہ اردو مسلمانوں کی زبان ہے، جبکہ ایسا نہیں ہے۔ دنیا کے زیادہ تر مسلم ممالک کی زبان عربی ،اس کے بعد ترکی، فارسی ، پشتو، پنجابی، بنگالی، سندھی وغیرہ ہیں۔ اردو کی جنم ،کرم سرزمین ہندوستان ہے۔یہ یہیں پیدا ہوئی یہیں پرورش پائی اپنے شباب کو پہنچی اور آج ضعیفی کی حالت میں دکھائی دیتی ہے۔
آج جس اردو کو مسلمانوں کی زبان بتایا جا تا ہے ،جب اس کی تاریخ رقم کی جاتی ہے تو منشی پریمؔ چند، کرشنؔ چند، رگھو پتی ؔسہائے فراق ؔگورکھپوری، آنند نارائن ملاؔ، رام لعلؔ ، جگن ناتھ آزاؔد، بلراج کوملؔ، دیا شنکر نسیم، عرش ملسیانی، بشیشور پرشادؔ، منور لکھنوی، منشی نول کشورؔ وغیرہ کے ناموں کے بغیر مکمل نہیں ہوتی۔جہاں اردو شعر و ادب کا بغیر غیر مسلموں کے تعاون کے تصورنہیں کیا جا سکتا اسی طرح اردو صحافت میں بھی غیر مسلم بھائیوں کی خدمات کو فراموش نہیں کیا جا سکتا ۔ اردو صحافت کو زندگی دینے ، اس کی پرورش کرنے اور اسے پائے داری دینے میں غیر مسلم پیش ،پیش رہے ہیں۔ اردو زبان کاا دیب ہو یا صحافی ،شروع سے ہی نہ ہندو رہا نہ مسلمان، نہ سکھ رہا نہ پارسی، وہ تو بس اردو کا شیدائی بنا رہا۔ (یہ بھی پڑھیں اردو کی بقاء میں خواتین کی ذمہ داری – ڈاکٹر شیخ نگینوی )
اردو صحافت کی ابتدا 1822سے مانی جاتی ہے۔اردو کا پہلا اخبار ’’جانِ جہاں نما‘‘ 27مارچ1822کو کلکتہ سے شائع ہوا جس کے مدیر منشی سدا سکھ لال تھے۔ اس طرح اردو صحافت کے پہلے بانی ہونے کا فخر سدا سکھ لال جی کو ہے ،جو غیر مسلم تھے۔ اتفاق یہ ہے کہ اردو کا دوسرا اخبار ’’دہلی اردو اخبار‘‘ تھا جس کا اجراکشمیری پنڈت موتی لعل نے کیا تھا۔
14جنوری0 185 سے 1904 تک پنجاب سے لگاتار شائع ہونے والا اردو اخبار ’’اخبار کوہ نور‘‘ اس وقت کا سب سے مشہور اور اشاعت کے معاملے میں سب سے آگے تھا۔ اس کے اڈیٹر منشی ہر سکھ رائے تھے۔1906 میں منشی ہر سکھ رائے کی گرفتاری کے بعد کوہِ نور کی ادارت منشی ہیرا لعل اور ان کے بعد ان کے بیٹے منشی جگت نارائن نے سنبھالی۔ اس وقت سیال کوٹ بھی اردو صحافت کا بڑا مرکز تھا۔ وہاں اردو صحافت کے ارتقا میں منشی دیوان چند نے اہم کردار نبھایاانھوں نے ’’جہاں نما ء فیض‘‘ 1852،’’خورشید عالم‘‘،’’ہمابے بہا‘‘1953ماہنامہ ’’نور لعلیٰ نور‘‘1856اور وکٹوریہ پیر 1953اردو میں شائع کیے۔ پنجاب سے شائع اردو اخبار ’’گلزارِ پنجاب‘‘ جسے خاص اہمیت حاصل تھی، کے اڈیٹر منشی کنڈامل تھے۔1845قدیم دہلی کالج سے شائع ہونے والے ہفت روزہ اخبار ’’ قران السعدین‘‘ کے مدیر پنڈت دھرم نارائن بھاسکر تھے۔ اسی برس ماسٹر رام چند کی زیر ادارت ’’فوائد الناظرین‘‘ شائع ہوا تھا۔ (یہ بھی پڑھیں مولانا ابو الکلام آزادؔ کی نگاہ میں عورت کا مقام – ڈاکٹر شیخ نگینوی )
اردو ادب کی تاریخ میں منشی نول کشور کا نام اردو کی طباعت اور اشاعت کے تعلق سے سنہرے الفاظ میں رقم ہے۔ اسی طرح اردو صحافت کے شعبے میں ان کا تعاون ناقابلِ فراموش ہے۔ 1856 میں کشور نے آگرہ سے ’’سفید آگرہ‘‘ شروع کیا، جو اس وقت کا ایک اہم اخبار تھا۔ اس کے علاوہ 1858 میں منشی نول کشور نے لکھنؤ سے ’’اودھ اخبار‘‘ جاری کیا، اسی زمانے 1847 میں لال جی نے لکھنؤ سے ’’لکھنؤ اخبار‘‘ شروع کیا۔
یوپی کے شہر میرٹھ سے ’’جام جمشید‘‘ بابو شیو چند ناتھ کی زیر ادارت 1847ء میں جاری ہوا۔ بابو بھیرو پرشاد کے اخبار ’’مر اۃ العلوم‘‘ بنارس کے اڈیٹر ہر بنس لال تھے۔ اسی شہر بنارس سے بابو کیدار ناتھ گھوش ’ؔ ’ باغ و بہار ‘‘ اخبار نکالتے تھے۔ 1852 میں بابو کاشی داس متر نے بنارس سے ہی ’’آفتاب ہند‘‘ جاری کیا۔ تو 1854ء میں ’’بنارس گزٹ‘‘ کے اڈیٹر گوبند رگھوناتھ تھے۔ اسی طرح آگرہ کے ’’معیاء الشعراء‘‘ کے اڈیٹر بنسی دھر تھے تولکھنؤ سے شائع ’’شحر سامری‘‘ اخبار کے مدیر رگھو بیر پرشاد ’’عیاشؔ‘‘ تھے۔ شہر لکھنو سے ہی 1856ء میں جاری اخبار ’’اعجاز لکھنو‘‘ کے مدیر بینی پرشاد تھے۔
1850ء کے وقت میں پنڈت اجو دھیا پرساد نے اجمیر سے ’’خیر خدا خلق‘‘ کے نام سے ہفت روزہ اخبار جاری کیا تھا، اور 1857 ء میں منشی پیارے لال کی ادارت میں ’’اخبار انجمن پنچاب‘‘ شروع ہو ا تھا۔ اپریل 1870ء میں ہفتہ وار ’’رہنمائے پنجاب‘‘ شائع ہوا جس کے مدیر پنڈت ناتھ اور پنڈت مکندر رام تھے۔ انہی دنوں میں دہلی سے منشی بہاری لعل نے ’’اکمل الاخبار ‘‘ جاری کیا جو اس وقت سب سے زیادہ فروخت ہونے والا اردو اخبار تھا۔1871 ء میں لاہور سے پنڈت گوپی ناتھ نے ’’اخبارِعام‘‘ شروع کیا ،جو تقریباً 1932 تک شائع ہوتا رہا۔ 1878 میں نارائن رائو کا ’’آصف الاخبار، شروع ہوا جو حیدر آباد کا پہلا ہفت روزہ تھا۔ 1885 میں پنڈت کشن رائو کا ’’دکن پنچ‘‘ بھی شروع ہوا۔ 17مارچ 1907 کے قریب الہ آباد سے ’’سوراج‘‘ ہفتہ روزہ بابو شانتی نارائن بھٹناگر نے شروع کیا جس کا مقصد بغاوت کے جذبے کو فروغ دے کر غلامی کو ختم کرنے کی راہ تیار کرنا تھا۔ ایک کے بعد ایک اس اخبار کے 9 اڈیٹر وں کو بغاوت کے جرم کے مقدمہ میں گرفتار کر کالا پانی بھیجا گیا۔ 1905میں حیدرآباد سے شائع’’ محبوب گزٹ‘‘ کے مدیر پیارے لال تھے۔ (یہ بھی پڑھیں اردو کی بقاء میں خواتین کی ذمہ داری- ڈاکٹر شیخ نگینوی )
ریاست جموں و کشمیر میں صحافت کا آغاز 1924سے ہوتا ہے، جب جموں میں لالہ راج صراف نے پہلا اخبار ہفت روزہ’’ رنبیر‘‘ جاری کیا۔ اس سے قبل مہاراج رنبیر سنگھ کے عہد میں اردو کتابوں کی طباعت کے لیے ’’بدیا بلاس‘‘ نام کا چھا پہ خانہ تھا اور اسی سے منسلک سرکاری گزٹ’’بدیا بلاس ‘‘شائع ہوتا تھا۔ جو ریاست میں 1882 میں شائع بدیا بلاس اردو کا پہلا اخبار کہلایا اور اس کے مدیر پنڈت گوپی ناتھ گوہرؔ تھے۔ 1882 میں ہی پنڈت سالک رام کول سالک کا ’’خیر خواہ کشمیر‘‘ لاہور سے جاری ہوا تھا۔جنوری 1885 میں مدھیہ پردیش سے ماہنہ ماہ گلدستہ بابورام کرشن جوشؔ اور اگست1885میں ’’نالہ دل سوز‘‘ اندور چھائونی سے پنڈت جگ موہن ناتھ شوقؔ کی زیر ادارت شائع ہوا۔
30مارچ 1919کو شر ی کرشن نے لاہور سے ’’پرتاپ‘‘ اور پرکاش، 1923میں سوامی شردھانند نے، دیش بندھو گپتاکی ادارت میں دہلی سے ’’تیچ‘‘ 1929میں ،شیر پنجاب لالہ لاجپت رائے نے، سردار موہن سنگھ اور میلا رام وفاکی ادارت ’’وندِ ماترم‘‘ 1942میں لالہ نانک چند نے ’’پربھات ‘‘ ،امر سنگھ نے لاہور سے ’’شیر پنجاب‘‘ ،1921 میں ،شیام لال کپور نے روزنامہ ’’کیسری ،کرم چند نے لاہور سے ’’پارس‘‘ 1927 میں پنڈت مدن موہن مالویہ کی سر پرستی میں لاہور سے ’’ ویر بھارت‘‘ ،رام ناتھ پوری نے امریکہ سے’’ سیکولر آزادی‘‘وپن چندر پال نے لندن سے ’’سوراج‘‘ لالہ ہر دیال نے کیلفورنیہ سے ’غدر‘ 1884میں ،لندن سے راجہ رام سنگھ نے ’’ہندوستان‘‘ 1923 میں خوشحال چندر خورشند نے مشہور زمانہ اردو روزنامہ ’’ملاپ‘‘، 1907 میں بشن سہائے آزاد کی ادارت’آزاد ‘ لالہ دینا ناتھ کا ’ہندوستان‘ 1891میں منشی گنیش لعل نے ’’جلوہ ِ نور، 1890میں اجمیر ہند‘‘ ماہنامہ دیوان سنگھ مفتو نے،ؔ ‘‘ دین دیال بانکے ؔنے ’’جھلک سیال ‘‘ 1942میں لالہ نانک چندر نے ’’پربھات‘‘سردار امر سنگھ منصور نے 1911میں لاہور سے ’لائل گزٹ ‘جیسے اردو اخبار جاری کرکے اردو صحافت کو پروان چڑھایا اور اسے زندہ رکھنے کے لیے اہم اوربیش قیمت تعاون کیا ،ساتھ ہی اردو صحافت کی تاریخ میں اپنا نام درج کرا کر یہ ثابت کیا ہے کہ اردو مسلمانوں کی زبان نہیں بلکہ اس کو زندہ رکھنے میں غیر مسلموں کی برابر کی حصہ داری ہے اور آج بھی یہ سلسلہ روزنامہ راشٹریہ سہارا اردو، روزنامہ انقلاب، روزنامہ ہند سماچار، تیج، پرتاپ ، ملاپ کی شکل میں ہمارے سامنے ہے۔
یہ تمام ثبوت اور مثالیں ان لوگوں کے لیے جو اب ہو نگی، جو اردو کو مسلمانوں کی زبان ہونے کا جھوٹا الزام لگاتے ہیں۔
اردو ہے جس کا نام ہماری زبان ہے
دنیا کی ہر زبان سے پیاری زبان ہے
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

