مولانا عبدالماجد دریابادی ایک جید عالم دین، مفسر ِقرآن ہونےکے ساتھ ساتھ ایک عظیم اور بلند پایہ صحافی،معروف کالم نویس ، بے مثل ادیب اور آپ بیتی نگارتھے ، مولاناعبد الماجد دریابادی کی ولادت 16/ مارچ 1892ء مطابق 16/ شعبان 1309ھ کو قصبہ دریاباد، ضلع بارہ بنکی، کے ایک علمی گھرانہ (قدوائی خاندان) میں ہوئی تھی۔
مو لانا عبدالماجد دریا بادی کا نام نامی اردو ادب اور انشاء پردازی میں محتاج تعارف نہیں،جن کےجادوئی قلم کا اعتراف بڑے بڑے اربابِ قلم ،ادباء اورصحافیوں نے کیاہے۔مولانا نے جس موضوع پر قلم اُٹھایا اُس کاحق ادا کردیا ، مولانا ملک کے نامی گرامی صحافیوں میں تھے۔مولانا محمد علی جوہر کے”ہمدرد“سے صحافتی زندگی کا آغاز کیا،پھر مولانا کی ادارت میں مظفر الملک علوی نے جنوری 1925ء میں لکھنؤ سے”سچ “جاری کیا ، جو ہندومسلم اتحادکاحامی اوراسم بامسمیٰ تھا ،اس نے ہمیشہ ”سچ“ ہی لکھا ،ہفت روزہ ”سچ“ بھی اپنی صحافتی اہمیت اور معنویت کی وجہ سے آج صحافتی تحقیق کے حوالوں میں شامل ہے۔ اس اخبار نے اُردو صحافت کے معیارووقارکوبلندکرنے میں اہم اور کلیدی کردار ادا کیا ہے۔”سچ“جمعہ کو شائع ہوتاتھا ، مولانادریابادی”سچی باتیں “کے عنوان سے اداریہ لکھا کرتے تھے جواپنے حسن انشا ، ایجاز بیانی اور معنویت کی وجہ سے کافی مقبول ہوتاتھا،سچ بنیادی طور پر مذہبی تھا لیکن اپنی زبان اور اسلوب کی وجہ سے ادبی حلقوں میں بھی پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھاجاتاتھا ، سماجی اصلاح میں اس رسالے کا بڑا کرداررہاہے، اورادبی صحافت میں بھی اس کوایک خاص مقام حاصل ہے ،مذہبی اور مشرقی اقدار اس کا نصب العین تھا ۔ یہ 1933ء تک جاری رہنے کے بعد بند ہوگیا ۔
پھرمئی1935ء میں یہ ”سچ“ ”صدق“کے نام سے نکلنے لگاجو ستمبر 1950ء تک جاری رہا۔اس کے بعد ”صدقِ جدید“ کے نام سے مولانا موصوف کے انتقال تک برابر شائع ہوتارہا ۔
مولانا نے کم و بیش نصف صدی تک بھرپور صحافت کی ،مولانا کے الفاظ کا جادو اور تحریر کی سلا ست و روانی شگفتگی و دلکشی اپنے نقطۂ عروج پرتھی ، زبان و بیان بہت سہل ،اظہارِ رائے کا انداز نہایت دل چسپ اوران کی تحریر ادب و انشاء کی جان تھی ۔
مولانا مرحوم مضامین پر عنوان اورسرخی قائم کرنے کے فن میں زبردست ماہرتھے۔ ان کی سرخیاں اس قدر جاذب اوردلکش ہوتی تھیں کہ قاری کی توجہ فور اًپنی طرف کھینچ لیتی تھیں۔بطورمثال ملاحظہ ہو:
”سارے گلے تمام ہوئے ایک جواب میں“
”دانا کی نادانی “
”مظلوم کا ظلم “
اور ”بلندیوں کی پستیاں“وغیرہ
متعدد اُردو صحافیوں نے کالم لکھے لیکن جو مقبولیت مولانا عبدالماجد دریابادی کے اداریہ ”سچی باتیں“ کو حاصل ہوئی وہ مقبولیت آج تک کسی صحافی اور قلم کار کے حصہ میںنہیں آئی ۔ اُس کی مقبولیت کا اندازہ اسی سے لگایا جاسکتا تھا کہ ادھر یہ کالم مولانا کے اخبار میں شائع ہوتا اُدھر ہندوپاک کے تمام بڑے اخبارات اس کالم کونقل کرکے اپنے قارئین تک جلد از جلد پہونچانے کی تگ ودو شروع کردیتے تھے ۔
وہ ایک منجھے ہوئے تجربہ کارصحا فی، اور کالم نویس تھے جن کےکالم میں دینی، اخلاقی، علمی، ادبی، فکری، تہذیبی، تاریخی، سیاسی اورمعاشرتی جیسے اہم اور ملک وسماج کے لیے نہایے کارآمد و مفید موضوعات کو تحریر کے لئے منتخب کیا جاتا تھا۔بطور نمونہ” سچی باتیں“ کا ایک اقتباس پیش ِ خدمت ہے ۔ (یہ بھی پڑھیں قدیم حس کا جدید شاعر: صابر گودڑ – پروفیسر محمد کاظم )
”آپ نے اپنی عمر میں خدا کے فضل سے نمازیں بہت سی مسجدوں میں ادا کی ہونگی، بدآواز، خوش آواز، ہر قسم کے مؤذنوں کی آوازیں سنی ہوں گی۔ یہ ارشاد ہو کہ اپنے سارے تجربہ میں آپ نے کسی بیرسٹر کو بھی اذان دیتے سنا ہے؟ کسی انجینئر کی زبان سے حَیَّ عَلَی الصَّلٰوۃ ، اَلصَّلٰوۃُ خَیْرٌ مِّنَ النَّوْم کی پکار آپ نے سنی ہے؟ کسی ہائی کورٹ کے جج کو منبر پر چڑھ کر نماز کی دعوت دیتے آپ نے دیکھا ہے ؟ کوئی کونسل اور اسمبلی کے ممبر بحیثیت مؤذن کے آپ کے تجربہ میں کبھی آیا ہے؟ کسی خان بہادر ، کسی سی ایس آئی، کسی راجہ، کسی نواب، کسی ایل ایل بی، کسی ایم اے، کسی بی ایس سی کو آپ نے کبھی اس ہیئت میں دیکھا ہے کہ ہاتھوں کی اُنگلیاں کان پر ہوں اور حلق سے اللہ کے نام کی پکار بلند ہورہی ہو؟ کیا اِن عہدوں کے حامل ہوتے ہی ، ان مرتبوں پر فائز ہوتے ہی ان امتحانات کو پاس کرتے ہی خدانخواستہ آواز اور حلق کو کوئی صدمہ پہنچ جاتا ہے؟ اگر ایسا ہے تو کونسلوں کے ہال میں گرج گرج کر تقریریں کون کرتا ہے؟
کالج کے ”کلب“ اور یونیورسٹی کی ”یونین“کے در و دیوار کن کی پُرزور تقریروں سے گونج اُٹھتے ہیں؟ ہر کانگریس میں ہر کانفرنس میں، ہر لیگ میں، ہر کمیٹی میں، ہر انجمن میں، چندہ کے لئے چیخ چیخ کر اپیلیں کون کرتا رہتا ہے؟ خدمت گاروں پر یا چپراسیوں پر، ادنیٰ ماتحتوں پر گرجنے اور برسنے کی آوازیں جو اپنی قوم کی، اپنے ملک، اپنے ”سرکار“ کی، اپنے جتھے کی، اپنی پارٹی کی، اور سب سے بڑھ کر خود اپنی ذات کی بڑائی کے پکارنے میں اس قدر بلند رہتی ہیں؟ جب اللہ کی بڑائی کے پکارنے کا وقت آتا ہے تو معاً پست ہوجاتی ہیں؟ یہ کیا خدا کا غضب ہے کہ ہر چھوٹے کی بڑائی کو پکارنے میں ہم اپنی عزت سمجھیں، اپنی وقعت سمجھیں، لیکن ایک اور اکیلے بڑے کی بڑائی کے پکارنے کے وقت ہم شرمانے لگیں۔ اس میں اپنی توہین محسوس کرنے لگیں؟ بندوں کی غلامی کرنا ہمارے لئے باعث فخر، کافروں کی نوکریاں اور کافروں کے دربار میں عزت و رسوخ حاصل کرنا ہمارے لئے موجب مسرت و مشرف۔ لیکن اللہ کی وحدانیت اور حضرت محمد ﷺکی رسالت کاعلی الاعلان گواہی دینا ہمارےلئےباعث توہین وشرم!! انجمنوں اور مجلسوں کےسکریٹری ناظم معتمد بننے کے ہم حریص، کسی میٹنگ اور جلسہ کے لئے اپنے نام سے دعوتی کارڈ جاری کرنے کے لئے ہم بیتاب، لیکن اللہ کے آگے سر جھکانے والوں کو جمع ہونے کی دعوت دینا ہماری خودداری کے منافی، ہمارے آئین، تہذیب سے خارج! لیکچروں اور کتابوں میں حضرت بلالؓ کے فضائل و مناقب پر دریا بہادینے کو تیار لیکن روزانہ کی زندگی میں قدم قدم پر عمل اور تقلید بلالؓ اپنے لئے باعث ننگ و توہین! عزیزو اور دوستو سوچو !
کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں
اپنے اس طرز عمل پر یہ دعویٰ کہ مسلمان ترقی کریں گے! اپنی جھوٹی عزت دکھانے والو! اور اللہ کی بڑائی پکارنے میں کسر شان سمجھنے والو، دیکھو کہ عزت اور کبریائی والا خدا دنیا کی حقیر سے حقیر اور ذلیل سے ذلیل قوموں کے ہاتھ سے آج ہمیں کیسا ذلیل و خوار کررہا ہے!
مولانادریابادی نے اردو صحافت میں بڑی ہی درخشاں اور تاب ناک روایتیں قائم کیں اور بہ حیثیت صاحب طرز صحافی انہوں نے ایک با اصول ممتاز ترین صحافی ہونے کا لوہا منوالیا۔جس دور میں صحافت کے میدان میں داخل ہوئے تو ان کے معاصر صحافیوں میں مولانا محمد علی جوہر، مولانا ابوالکلام آزاد، مولانا ظفر علی خان،مولانا حسرت موہانی، مہاشے کرشن، عبدالمجید سالک اور منشی دیا نرائن نگم جیسے نامور، باکمال اور ایک سے بڑھ کر ایک صحافی و قلم کاراپنا سکہ جمایا ہوئے تھےلیکن مولانانے ان سب سےالگ اپنی راہ نکالی،اور ایک نیا طرزِ تحریر ایجاد کیا۔بقول مولانا علی میاں ندویؒ:” مولانا عبدالماجددریادی خو داپنے طرز کے موجد اور خاتم ہیں۔“
صحافت کے علاوہ مولانا عبدالماجد دریابادی نے متعدد تعزیتی مضامین لکھے ہیںجو ندرت بیان ، حزن و ملال اور غم سے مملو ہونے میں اپنی مثال آپ ہیں۔بطور مثال مولانا نے جو مضمون اپنی والدہ کی یاد میں ”ماں کے قدموں پر“کے عنوان سے تحریر کیا اس کی آخری سطور ملاحظہ ہوں:
”اے مالک و مولیٰ ! آج تیرے حضور میں وہ بندی آرہی ہے جس نے۸۵ سال کی عمر تک روزہ حتی الامکان ایک قضا نہیں ہونے دیا، نماز ایک وقت بھی ناغہ نہ ہونے دی، تیری مخلوق سے محبت کرتی رہی، خود بعد کو کھایا دوسروں کو پہلے کھلایا، جو پایا اس میں دوسروں کو شریک کیا، مئی جون کی لپٹ اور تپش میں روزے رکھے، دسمبر جنوری کی کڑکڑاتی راتوں میں اُٹھ کر نماز پڑھی، عزیزوں کی، قریبوں کی، بستی والوں کی غم خوار تھی۔ تیرے نام کی عاشق، تیرے رسول ﷺ کے نام کی دیوانی تھی، میں گواہی دیتا ہوں کہ اس نےمیرےساتھ دنیا میں جو آخری کلام کیاوہ تیرے ہی کلام کے پڑھنے کا حکم تھا۔ ( ہندوستان میں اردو فن ترجمہ کی روایت – نثار علی بھٹی )
آج بیوائیں اس کے نام پر ماتم کررہی ہیں، یتیم اس کے لئے سر پیٹ رہے ہیں، اس کی موت اس مہینے میں آئی جو تیرے رسول برحق ﷺ کی وفات کا مہینہ ہے،اس وقت آئی جب شبدوشنبہ شروع ہوچکی تھی۔اس مرض (بخار) میں ہوئی جس میں تیرےرسولﷺنے شہادت کی موت بتائی ہے۔ پھر پردیس میں ہوئی جو تیری رحمت کو جوش میں لانے کا ایک ذریعہ ہے ۔ ابدی نیند کی جگہ اس نے ڈھونڈ ھ کر تیرے گھر کے جوار میں پائی تاکہ تیرا نام اس کے کانوں میں پڑتا رہے۔ تیری رحمت تو کسی سہارے کی، کسی بہانے کی محتاج نہیں ،اور پھر اس کے لئے تو اتنے بہانے موجود ہیں۔ اے میرے کریم و شفیق آقا ! اس کی لغزشوں سے درگزر کیجیو، اس کی خطاؤں پر خط عفو پھیر دیجیو، اس کے حسنات کو بڑھائیو ، اور اس کے ساتھ وہ معاملہ کیجیو جو شایان شان ہے تیری رحمت کے، تیری صفت ستاری کے، تیری صفت غفاری کے۔“
(حکیم عبدالقوی دریابادی (مرتب)،وفیاتِ ماجدی ، ص15،16)
اسی طرح مولانا دریابادی کےاپنی اہلیہ کے انتقال پر 10 /جنوری 1969 ء کو ”بوڑھی محبوبہ“ کے عنوان سےلکھے گئے مضمون کا ایک جز پیش خدمت ہے:
”۲/جنوری۱۹۶۹ ء (جمعرات) کو قریب شام ایک لاری۲۵،۳۰ مسافروں سے بھری ہوئی نکلی، باندے جارہی تھی، اس وقت کانپور کے حدود میں داخل ہورہی ہے، سفر تفریحی نہیں ماتمی ہے،تین لڑکیاں جو ابھی چند گھنٹے ہوئے ماں کے سایہ سے محروم ہوئی ہیں اور جس کا جنازہ اپنی بچیوں کا انتظار کررہا ہے ،ایک۷۵،۷۶ سال کا بوڑھا ہے، جو اس دنیا کے عزیز ترین متاع سے محروم ہوچکا ہے ،اس طرح چھوٹے بڑے دوسرے عزیز و اقارب ہیں ، کسی کی زبان پر کلمہ شہادت اور کسی کسی زبان پر قرآن کی سورتیں اور اکثر کی آنکھوں سے آنسو رواں ہیں۔ وقت سوا پانچ سے گزر چکا ہے۔ آفتاب زرد پڑچکا ہے۔ ہر منٹ پر بلکہ ہرسکنڈ اورڈوبتا ہی چلا جارہا ہے—— کھلے میدان میں جب کبھی غروب آفتاب کا منظر دیکھنے کا اتفاق ہوا ہے ،دل ہمیشہ اس سے متاثر ہوا ہے۔ رفیقہ زندگی ہی کے آخری لمحات حیات کا نقشہ نگاہوں کے سامنے کردیاہے۔ آج یہ خیال نہیں واقعہ ہے ،قال نہیں حال ہے، اپنی دنیوی زندگی کے لطف و سکون و راحت کا آفتاب……. ڈوب رہا نہیں ، بلکہ واقعۃً ڈوب چکا ہے۔ “
( حکیم عبدالقوی دریابادی ،(مرتب)وفیاتِ ماجدی ،ص 29،30)
مولانا عبدالماجد دریابادی کااپنا صحافتی نصب العین اپنےاخبار کی پیشانی پر کندہ کروارکھا تھا۔جوقرآن کریم کی آیت:
وَالَّذِیْ جَاءَ بِالصِّدْقِ وَصَدَّقَ بِہٖ اُولٰئِکَ ہُمُ الْمُتَّقُوْنَ(سورۃ الزمر،33)
(ترجمہ) اور وہ جو سچی بات لے کر آیا ،اور جس نے اس کو سچ مانا، وہی پرہیزگار ہیں ۔
سے اخذ کیا گیا تھا۔ وہ عمر بھر اسی قرآنی اصول پر عمل پیرا رہے۔ اپنے ہفتہ وار میں صرف وہ چھاپتے تھے جسے وہ سچ سمجھتے تھے۔
مولانا دریابادی کا اخبار ”سچ“ہمیشہ ،دینی ، مذہبی ، علمی اور ادبی معرکہ آرائیوں میں بھرپورحصہ لے رہا تھا جو اس کی مقبولیت کا سبب بن رہی تھیں۔سچ لکھنے کے لئے عبدالماجد نےاپنی پوری زندگی میں کبھی مصلحت کو آڑے آنے نہ دیا ۔بالآخرصدق وسچائی یہ نقیب اور بے باکانہ صحافت کایہ کوہِ گراں 85/سال کی عمر میں 6/ جنوری 1977ء مطابق 15/ محرم 1397ھ بروز جمعرات قبل فجر خاتون منزل ، احاطہ فقیر محمد خاں پختہ حیدر مرزا روڈ گولہ گنج لکھنؤ میں عالمِ بقا کی کوچ کرگیا ۔اور اپنے آبائی وطن دریاباد میں آسودۂ خاک ہوگیا۔ ع
آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے
سفیان احمد انصاری
ریسرچ اسکالر ،شعبۂ اردو لکھنؤ یونیورسٹی
موبائل نمبر 9839574196
E-mail. sufyanahmadansari2@gmail.com
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

