امّی کئی راتوں سے سوئی نہیں تھیں۔ ان کی آنکھیں نیند کے شدید دباؤ سے بوجھل تھیں اور ان کے چاروں طرف گہرے کالے دھبّے پڑگئے تھے۔ ایک سیلاب تھا کہ آنکھوں سے نکل کر کپڑوں کو بھگوتا ہوا زمین کو سیراب کر رہا تھا۔ ان کے گالوں پر آنسوؤں نے کئی دھاریاں بنا دی تھیں ، بال آپس میں الجھ گئے تھے اور لباس کی ترتیب بگڑ گئی تھی۔ محلّے کی عورتیں انہیں چپ کرانے کی کوشش کرتیں، لیکن ان کا بے چین دل کسی طرح ماننے کو تیار نہیں تھا۔ وہ بیکل ہو اٹھتیں اور ان کی آنکھوں کے دھارے ایسی رفتار پکڑ تے کہ کوششوں کے بعد بھی تھمنے کا نام نہیں لیتے۔ ایسی حالت میں محلے کی عورتیں تھک ہار کر اِدھراُدھر چلی جاتی تھیں ۔
ان کی پتلیوں پر حمید کا خوبصورت چہرہ تھا۔ جو ہمیشہ کھلا کھلا اور تروتازہ نظر آتا تھا۔ وہ اپنے بیٹے سے ٹوٹ کر پیار کرتیں اور اسے کبھی اپنی آنکھوں سے اوجھل نہیں ہونے دیتی تھیں۔ حمید ان کا اکلوتا بیٹا تھا، جو سالوں بعد پیر فقیر کی دعاؤں اور گنڈے تعویذ کے بعد پیدا ہوا تھا۔ اس زمانے میں معالجوں کی دوائیاں پلنگ سے لگے ٹیبل پر قرینے سے رکھی ہوتی تھیں۔ انہوں نے بچے کی چاہت میں دونوں ہاتھوں سے روپئے لٹائے تھے۔ حمیددس گیارہ سال کا تھا کہ وبا آگئی۔ ایک ایسی وبا جس نے ملک اور بیرونِ ملک کے گاؤں، قصبوں اور شہروں کو اپنی چپیٹ میں لے لیا تھا۔ سانسوں سے جسم کا رشتہ ٹوٹنے لگا اور کنچے کی مانند لاشیں بکھرنے لگیں۔ ان کے شوہر کی سانسیں بھی تھم گئیں اور وہ ابدی نیند سوگئے۔ وہ شوہر کی موت پر بہت روئی تھیں۔ کئی دنوںکے بعدحمید کی صورت میں مستقبل روشن ہوا تو ان کی آنکھیں خشک ہوئیں۔ ابھی شوہر کا غم تازہ ہی تھا کہ بے رحم وبا کی دوسری لہر آگہی، جس نے حمید کو بھی اپنی چپیٹ میں لے لیا۔ علاج معالجے کے بعد بھی اس کی طبیعت بحال نہیں ہوئی اور وہ امّی کو روتا بلکتا چھوڑ کر دنیا سے چلا گیا۔ اس کے بعد سے امّی کے آنسو تھمتے ہی نہیں ہیں۔ کئی ہفتوں کے بعد محلے کی عورتوں کے سمجھانے بجھانے پر تھوڑی سی تسلّی ہوئی تو انہوں نے پانی کے کچھ گھونٹ لیے اور تکیہ کے سہارے پلنگ پر لیٹ گئیں۔ ہفتوں سے روٹھی ہوئی نیند نے دستک دی اور پلکیں آہستہ آہستہ بند ہونے لگیں۔ محلے کی عورتیں کمرے سے نکل کر دالان میں آبیٹھیں اور فاتحانہ انداز میں اپنی کامیابی کا تذکرہ کرنے لگیں۔ ابھی گھنٹہ دو گھنٹہ بھی نہیں گزرا تھا کہ اچانک انہیں کَراہ سنائی دی۔ وہ سب دوڑیں اور کمرے کے اندر جاکر دیکھا تو امّی پسینے سے شرابور پلنگ پر بیٹھی ہوئی تھیں۔ ان کی سانسیں لمبی لمبی چل رہی تھیں اور خوف سے آنکھیں اپنے حلقوں سے باہر آگئی تھیں۔ انہیں ایسی حالت میں دیکھ کر محلے کی عورتیں گھبرا گئیں۔ کوئی پیر دبانے لگی تو کوئی ان کے سر میں ٹھنڈے تیل کی مالش کرنے لگی۔ ایک نے بڑھ کر پوچھا: (یہ بھی پڑھیں ذکی احمد کے رنگ برنگے پھول – ڈاکٹرعادل حیات )
” کیا ہوا ….. کیوں چیخیں”
ا مّی نے اچٹتی نگاہوں سے ایک ایک کا چہرہ اس طرح دیکھا جیسے کچھ سمجھنے کی کوشش کررہی ہوں۔ تھوڑی دیر میں سانسیں بحال ہوئیں اور آنکھیں اپنے جگہ پر آکر سکون محسوس کرنے لگیں تو انہوں نے آہستہ سے کہا:
میں سوئی ہوئی تھی کہ دیکھا یہ خواب
بڑھا اور جس سے مرا اضطراب
ان کا جواب سن کر محلے کی عورتیں ایک دوسرے کو دیکھنے لگیں۔ سبھی کے چہرے پر تجسّس کے آثار نمایاں تھے۔ وہ خواب کی حقیقت کو ایک دم سے جان لینا چاہتی تھیں۔ انہوں نے ایک آواز میں کہا:
” اس کے بعد کیا ہوا ……؟”
امّی دروازے کی دوسری طرف مسلسل دیکھے جارہی تھیں۔ حمید کی چھوٹی سی سائیکل آنگن میں رکھی ہوئی تھی۔ اس نے مہینہ بھر پہلے ہی سائیکل کی رٹ لگائی تھی۔ اس خوف سے امّی ٹالتی رہیں کہ خدانخواستہ سائیکل چلاتے ہوئے کوئی حادثہ نہ ہوجائے، لیکن بیٹے کی ضد کے آگے ان کی ایک نہ چلی۔ سائیکل کیا آئی، حمید کو جیسے پنکھ لگ گئے۔ وہ اسکول سے آتے ہی جلدی جلدی اپنے ہوم ورک کرتا اور سائیکل لے کر یہ جا وہ جا۔ کئی ہفتوں سے ایک جگہ پر کھڑی ہوئی سائیکل گرد و غبار سے اٹ گئی تھی۔ ان کا انہماک محلے کی عورتوں کی باتیں سن کر بھی منتشر نہیں ہوا۔ وہ سائیکل پر نظر کیے ہوئے خواب ناک لہجے میں بولنے لگیں:
یہ دیکھا کہ میں جارہی ہوں کہیں
اندھیرا ہے اور راہ ملتی نہیں
لرزتا تھا ڈر سے مرا بال بال
قدم کا تھا دہشت سے اٹھنا محال
وہ اتنا ہی کہہ پائی تھیں کہ ایک چھوٹا سا خوبصورت کبوتر سائیکل پر آکر بیٹھ گیا۔ اسے دیکھ کر امّی کو کچھ حوصلہ ملا اور پل بھر کے لیے انہیں ایسا لگا کہ حمیدچپکے سے آکر سائیکل پر سوار ہوگیاہے۔ وہ ابھی اِدھر اُدھر دیکھے گا اور کوئی آہٹ نہ پاکر سائیکل لے اڑے گا۔ حمید ایسا ہی کرتا تھا۔ امّی کبھی باورچی خانے تو کبھی اپنے کمرے کی کھڑکی سے اس پر نظر رکھتی تھیں۔ وہ گھر کی چہاردیواریوں سے باہر چلاجاتا تو دروازے کے گیٹ پر آکھڑی ہوتیں اور دیر تک اسے سائیکل چلاتے ہوئے دیکھتی رہتیں۔ حمید کی طرح ہی کبوتر اپنے سر کو اٹھاکر چاروں طرف دیکھ رہا تھا۔ اس کی آنکھیں دیے کی مانند چمک رہی تھیں اور اس کے سنہرے پروں پر زمرد کی پوشاک کا گمان ہوتا تھا۔ کبوتر سائیکل پر بیٹھا ہوا "غٹرغوں….. غٹرغوں” کرنے لگا۔ محلے کی عورتوں کا دھیان بھی کبوتر کی طرف چلا گیا۔ انہیں بھی سائیکل پر بیٹھے ہوئے کبوتر میں حمید کی صورت نظر آئی۔ وہ کبوتر کو دیکھ ہی رہی تھیں کہ ان کے کانوں میں امّی کی آواز گونجنے لگی:
جو کچھ حوصلہ پا کے آگے بڑھی
تو دیکھا قطار ایک لڑکوں کی تھی
زمرّد سی پوشاک پہنے ہوئے
دیے سب کے ہاتھوں میں جلتے ہوئے
وہ چپ چاپ تھے، آگے پیچھے رواں
خدا جانے، جانا تھا ان کو کہاں
وہ اتنا ہی کہہ پائی تھیں کہ اچانک کبوتر اپنے پروں کو تولتا ہوا خلا میں تیرتا چلا گیا۔ محلے کی عورتیں بھی اُسے دور تک اڑتے ہوئے دیکھتی رہیں۔ اس کے اڑتے ہی ہوا کے دباؤ سے سائیکل کی سیٹ پر پڑے ہوئے گردوغبار صاف ہوگئے۔ وہ پہلے کی طرح چمکیلی دکھائی دینے لگی۔ امّی نے ایک سرد آہ بھری اور غمگین لہجے میں اپنی باتوں کو جاری رکھتے ہوئے کہنا شروع کیا۔ محلے کی عورتیں اس کی باتوں کو دھیان سے سننے لگیں:
اسی سوچ میں تھی کہ میرا پسر
مجھے اس جماعت میں آیا نظر
وہ پیچھے تھا اور تیز چلتا نہ تھا
دیا اس کے ہاتھوں میں جلتا نہ تھا
ان کی باتوں کو سن کر محلے کی عورتوں کے رونگٹے کھڑے ہوئے۔ وہ سوچے جارہی تھیں کہ لڑکوں کی جماعت میں حمید سب سے پیچھے کیوں تھا۔ اس کے قدم تیزی کے ساتھ کیوں نہیں اٹھ رہے تھے اور اس کے ہاتھوں میں دیا کیوں نہیں جلتا تھا۔ سوچتے سوچتے ان کے دماغ کی نسیں دکھنے لگیں۔ ان کی سمجھ میں کچھ بھی نہیں آیا توانہوں نے پوچھا:
"حمیدلڑکوں کی جماعت میں کیوں پیچھے چل رہا تھا …… اس کے قدم تیزی کے ساتھ کیوں نہیں اٹھ رہے تھے اور اس کے ہاتھوں کا دیا کیوں بجھا ہوا تھا۔” ( یہ بھی پڑھیں اختر انصاری کا افادی ادب – ڈاکٹر عادل حیات )
امّی نے کوئی جواب نہیں دیا تو محلے کی عورتوں نے انہیں غور سے دیکھا۔ ان کی آنکھیں خشک تھیں، گالوں کی دھاریاں سیاہی مائل ہونے لگیں تھیں اور ان کے ارد گرد کی زمین سیراب ہوکر مسکرانے لگی تھی۔ اسی درمیان اچانک تیز ہوائیں چلنے لگیں، بادل گرجے اور پانی کی بوچھار نے سائیکل پر پری ہوئی دھول مٹی کو صاف کردیا۔ وہ اس خوشنما منظر کو دیر تک ٹکٹکی لگائے دیکھتی رہیں۔ انہوں نے اچانک اپنے آنچل کو اٹھایا اور آنسوؤں کو پونچھتے ہوئے کہنے لگیں:
کہا میں نے پہچان کر میری جاں
مجھے چھوڑ کر آگئے تم کہاں
جدائی میں رہتی ہوں میں بے قرار
پروتی ہوں ہر روز اشکوں کے ہار
نہ پروا ہماری ذرا تم نے کی
گئے چھوڑ اچھی وفا تم نے کی
حمید جو بچوں کی قطار میں سب سے پیچھے چل رہا تھا، درد بھری آواز سن کر اس کے پاؤں اپنی جگہ پر رک گئے۔ اس نے چاروں طرف نظریں اٹھا کر دیکھا۔ امّی آنچل پھیلائے لرزتے ہونٹوں سے اپنا دکھڑا بیان کررہی تھیں۔ ان کے پاؤں کانپ رہے تھے اور وہ فرطِ جذبات سے اپنا توازن کھوئے جارہی تھیں۔ حمید نے امّی کا پیچ و تاب دیکھا تو اس پر بھی رقّت طاری ہونے لگی۔ وہ امّی کی جانب بڑھنا چاہا، لیکن دوچار قدم اٹھانے کے بعد اچانک رُک گیا۔ اس کی آنکھیں سوچنے لگیں اور ماتھے کی لکیریں زیادہ گہری ہوگئیں۔ بارش تھم گئی تھی، لیکن تھوڑی تھوڑی دیر پر بادل گرج اٹھتے تھے۔ محلے کی عورتوں کی نظریں امّی کے چہرے کے اتار چڑھاؤ کو دیکھے جارہی تھیں۔ اچانک ان کے لب ہلے اور سرگوشیاں کرتی ہوئی آواز آئی:
جو بچے نے دیکھا مرا پیچ و تاب
دیا اس نے منہ پھیر کر یوں جواب
محلے کی عورتیں حیرت زدہ تھیں۔ امّی کی باتوں کو سن کر ان کا استعجاب بڑھنے لگا تھا۔ وہ کانوں کو امّی کی طرف لگائے ہوئے تھیں اور آنکھیں ان کے لبوں کی جنبش پر ٹکی ہوئی تھیں، لیکن امی تو پھر سے اپنے خوابوں کی آغوش میں چلی گئی تھیں۔ ان کی نظروں کے سامنے حمید تھا، جو اپنا منہ پھیرے ہوئے دھیمے لہجے میں کچھ کہتے کہتے رُک گیا:
رلاتی ہے تجھ کو جدائی مری
نہیں اس میں کچھ بھی بھلائی مری
یہ کہہ کر وہ کچھ دیر تک چپ رہا
حمید کی باتوں کو سن کر امی تڑپ گئی۔ اس کی ممتا اُبل پڑی اور وہ تیزی سے آگے بڑھنے کی کوشش کرنے لگیں۔ اس کوشش میں ان کے پاؤں لڑکھڑائے اور وہ منہ کے بل زمین پر آ گئیں۔ حمید نے بڑھ کر سہارا دیا تو امّی نے بانہوں میں بھرکر اسے خوب پیار کیا۔ تھوڑی دیر کے بعد دونوں نے ایک دوسرے کے آنسوؤں کو پونچھا اور حمید امی کے ہاتھوں کو اپنی آنکھوں کا بوسہ دینے لگا۔ وہ دیا پھر دکھاکر یہ کہنے لگا:
سمجھتی ہے تو ہو گیا کیا اسے
ترے آنسوؤں نے بجھایا اسے
حمید کے آخری جملے کے ساتھ ہی امّی نے اپنی آنکھیں کھول دیں۔ وہ پوری طرح ہشّاس بشّاس نظر آرہی تھیں۔ انہوں نے اپنی آنکھیں پونچھیں، بال سنوارے اور کپڑوں کو ترتیب دینے لگیں۔ محلے کی عورتیں ان کی بدلی ہوئی حالت سے بہت خوش تھیں۔ ان کی خوشی چہرے سے جھلک رہی تھی۔ انہوں نے بڑھ کر امّی کو گلے سے لگایا۔ اسی درمیان کبوتر دوبارہ سائیکل پر آکر بیٹھ گیا اور اپنی گردن کو اٹھا اٹھا کر چاروں طرف دیکھنے لگا۔ اس دن کے بعد امّی کی آنکھوں میں آنسو آئے، نہ بال آپس میں الجھے اور نہ ہی ان کے کپڑے بے ترتیبی کا شکار ہوئے۔ ہاں …. اتنا ضرور ہوا کہ کبوتر امّی کی تنہا زندگی کا ساتھی بن گیا۔ وہ کبوتر کا خوب خیال رکھتی ہیں اور اس سے گھنٹوں بیٹھی باتیں کرتی رہتی ہیں۔ کبوتر بھی ” غٹرغوں ……غٹرغوں” کی آواز نکال کر ان کی باتوں کا جواب دیتا رہتا ہے۔

