ہندوستان میں مسلمانوں کی عظمت کی بحالی کے لیے شدید ترین خواہشات کے ساتھ جو دانشوران ،مصلحین ،اور مفکرین نمایاں ہو ئے ان میں سر سید احمد خاں ،خواجہ الطاف حسین حالی اور علامہ اقبال کا نام بہت ممتاز ہے ۔اسی کڑی کا ایک اہم نام متین طارق باغپتی بھی ہے۔متین طارق باغپتی کو اردو شاعری میں اہم مقام حاصل ہے ۔ اس کے علاوہ وہ اسلامیات ،سیاست ،مذہبیات ،ادب اطفال ،شعر و حکمت ،تحقیق و تنقید اور درس وتدریس کا گہرا ادراک بھی رکھتے تھے۔ان تمام موضوعات پر ان کے لاتعداد مضامین و کتب ،ان کی زود نویسی کا ثبوت دیتی ہیں ۔لیکن ان کی خوبیٔ تحریر یہ ہے کہ زود نویسی کے باوجود ان کی تخلیقات ادب کے معیار ومیزان پر کھرے اترتے ہے۔ان کا پورا نام ’’محمد متین صدیقی ‘‘ ہے ۔ادبی دنیا میں متین طارق باغپتی کے نام سے جانے جاتے ہیں ۔یہ ۲۱ ستمبر ۱۹۲۱ کو مقام باغپت میں پیدا ہوئے ۔ان کے والد محمد یٰسین صدیقی بھی شاعر تھے ۔اور مجنوں باغپتی کے نام سے ادبی حلقوں میں مشہور تھے۔ان کی شاعری کلاسیکی روایتوں کی امین تھی اور مشاعروں میں اپنے اشعار و انداز سے توجہ کا مرکز بنے رہتے تھے ۔گھر کے علمی و ادبی ماحول کے علاوہ متین طارق کے شعری اور ادبی ذوق کو تحریک دینے اور تخلیقی صلاحییتوں کو پروان چڑھانے میں طارق باغپتی سے قربت اور ان کے یہاں منعقد ہونے والی شعری نشستوں کا بڑا دخل ہے ۔متین طارق نے ادیب ،کامل ،فاضل ،وغیرہ کی تعلیم حاصل کی،اور ۱۹۴۲ سے ۱۹۸۲ تک چالیس سال میرٹھ کے مختلف سرکاری اسکولوں میں مختلف مضامین کی تعلیم دی ۔جونیئر ہائی اسکول باغپت سے سبکدوش ہونے کے بعد گھر پر ہی ایک ادارہ ’’تعلیمی مرکز‘‘کے نام قائم کیا ۔جس میں مختلف مضامین کے ساتھ اردو زبان کی تعلیم پر خصوصی توجہ دی ۔جہاں وہ تعلیم اور پیشے کے لحاظ سے اوسط درجے پر تھے وہیں وراثت سے ملی ادبی ماحول اور مذہبی تعلیمات و صحبت نے ان کے شعر وادب کو وہ رخ عطا کیا جو آج ہمارے سامنے ہے ۔
انھوں نے اردو ،ہندی اور انگریزی تینوں زبانوں میں کتابیں لکھی ۔رنگ و نور ان کی غزلیات کا مجموعہ ہے ،شمع عرفان نظموں کا مجموعہ ہے ۔اور فانوس حرم کے نام سے حضور کی سیرت کو نظم کیا گیا ہے ۔اردو شاعری کے روشن چراغ میں شعرأ کا تنقیدی جائزہ پیش کیا گیا ہے ۔ان کے علاوہ درجنوں کتابیں ایسی ہیں جو اسلامی موضوعات پر مبنی ہیں ،مثلا رسول کریمؐ کی سماجی زندگی ،روشنی کی طرف ، صحابہ کرام کا دعوتی عمل ،دین کی دعوت اور ہمارا خاندان ،فکر آخرت ،انفاق،انسانی مسائل اور اسلام ،مذاہب عالم اور اسلام ،اندھیرے سے اجالے کی طرف ،ابوالاعلیٰ مودودی اور فکری انقلاب ،اسلام اور رواداری ،چمکتے کردار،دعوت حق اور غیر مسلم اور مسلمانوں سے اسلام کا مطالبہ وغیرہ ۔دراصل جماعت اسلامی کے بانی مولانا ابوالاعلیٰ مودودی کے افکار و نظریات نے متین طارق باغپتی کو بہت متاثر کیا وہ اپنے فکر وقلم سے اسلامی تعلیمات کے نئے چراغ روشن کرنے کے لیے مکمل طور پر جماعت اسلامی کے ہوگئے ۔جماعت اسلامی سے وابستگی کی وجہ سے ایمرجنسی کے وقت قید و بند کی صعوبتیں بھی برداشت کرنی پڑیں ۔خطوط زنداں متین طارق کی انھیں دنوں کی یادگار ہے جس میں جیل سے لکھے گئے خطوط کو یکجا کیا گیا ہے ۔اسی سلسلے کی ایک کتاب اٹھارہ ستارے بھی ہے ۔جس میں مجاہد آزادی کا ذکر ہے ۔اس کے علاوہ انھوں نے عورتوں کے حقوق وفرائض پر بھی قلم اٹھایا ،جن میں مسلم خواتین اور نیک بیویاں جیسی تصانیف ہیں ۔اندھیری نگری چو پٹ راجا جیسی کتابیں بچوں کے لیے لکھی گئی جس میں سے زیادہ تر کتابیں نصاب میں بھی شامل کی گئی ۔اور ان کتابوں پر حکومت کی طرف سے انعامات سے بھی نوازا گیا ۔ ( یہ بھی پڑھیں وحید الہ آبادی کی غزلوں میں حسن و عشق – مہر فاطمہ)
متین طارق باغپتی ادب برائے ادب کی بجائے ادب برائے زندگی کے قائل نظر آتے ہے۔ انھوں نے مقصدی شاعری کو زیادہ اہمیت دی اور عالمی و آفاقی موضوعات کا انتخاب کیا ۔تاریخ و تمدن ،تہذیب وثقافت ،عزم و استقلال ،حق وباطل ،حب الوطنی اور تاریخی اور مذہبی شخصیات اور عمارتوں کو اپنی شاعری میں جگہ دی ،جن کے مطالعہ سے متین طارق کی شاعری پر اقبال کا رنگ مکمل طور پر غالب نظر آتا ہے ،یہ کہا جا سکتا ہے کہ متین طارق اقبال کی روایت کو آگے بڑھانے والوں میں سے ایک اہم شاعر ہیں ۔ان کے اشعار میں وہی جوش وحرارت اور ویسا ہی فکر وفلسفہ ہے جو اقبال نے اپنی شاعری کے ذریعہ پیش کیا ہے ،بلکہ موضوعات ،استعارات اور تلمیحات اس حد تک ان کی شاعری کا حصہ بن گئے ہیں کہ وہ اقبال ہی کے اشعار معلوم ہوتے ہیں ۔مثلا انھوں نے قطب مینار ،مقبرہ ہمایوں ،جامع مسجد دہلی جیسی نظمیں لکھی ہیں ۔جنھیں پڑھ کر احساس ہوتا ہے کہ ایک شاعر اپنے عظمت رفتہ کے نشانات کو کس زاویہ سے دیکھتا ہے ۔ان کی نظموں کے چند ٹکڑے ملاحظہ فرمائیں :
(الف)نظم قطب مینار سے :۔
اے قطب مینار ،اے عصر کہن کی یادگار
عظمت تہذیب مسلم کے منقش شاہکار
ذرہ ذرہ ہے تراتاریخ کا آئینہ دار
تجھ سے وابستہ ہے اپنے عہد ماضی کا وقار
تو جہاں میں فاتحانہ شان کی تصویر ہے
مسلم ہندی کی گویا اولیں تعمیر ہے
تھے کبھی معمارتیرے ایشیا کے پاسباں
آشنائے گرمیٔ جرأت تھا جن کا کارواں
پنجہ زن رہتے تھے جو برق وو بلا سے ہر زماں
تو بھی ان کے عزم محکم کا ہے تابندہ نشاں
لیکن اب وہ عظمت ماضی و شان قیصری
انقلاب دہر میں عبرت کا ساماں بن گئی
(ب)نظم جامع مسجد دہلی سے :۔
اے شبیہہ مسجد طلعت چہارم آسماں
مظہر حسن عمل کاشانۂ جنت نشاں
نور کا پاکیزہ گنجینہ تھے تیرے بام ودر
تھی زمیں تیری کبھی اہل صفا کی رہ گذر
باعث تسکین جاں تھے جلوہ ہائے صبح و شام
عابدوں کی بندگی میں تھا حقیقت کا پیام
ان نظموں کا تجزیہ کیا جائے تو احساس ہوگا کہ متین طارق نے سنگ رفتہ کی ان عمارتوں میں تہذیب کے نئے منظر دیکھے ہیں۔اور ان کے وسیلے سے معاشرے کو ایک نیا پیغام دیا ہے ۔یہاں لاشعوری طور پر ذہن اقبال کی نظم مسجد قرطبہ کی طرف چلا جاتاہے نہ صرف نظموں میں بلکہ ان کی غزلوں میں بھی اقبال کا پرتو نظر آتا ہے ۔مثلا اقبال کا شعر ہے:
مقام شوق تیرے قدسیوں کے بس کا نہیں
انہیں کا کام ہے ، جن کے حوصلے ہیں زیاد
اس خیال کو طارق باغپتی اس طرح باندھتے ہیں :
ملی ہے لذت آہِ سحر گہی جس کو
ہے قدسیوں سے بھی افضل و ہ بندۂ آزاد
متین طارق کی شاعری میں عزم محکم اور انقلابات کے موضوع بھی شامل ہیں وہ نغمۂ حریت بھی گاتے ہیں اور حب الوطنی کے جذبے کو بھی جگاتے ہے ،وہ صبح بنارس ،شام اودھ اور وطن کے دریا، موسم اور فضا کو بھی شامل کرتے ہیں جو ہمیں چکبست ،سرور جہان آبادی اور تلوک چند محروم کی بھی یاددلاتے ہیں ۔مثلا :
نظم ’’میرا وطن ‘‘:۔
یہ رشک جناں ہے یہ باغ عدن ہے
یہ جان جہاں ہے ،یہ گل پیرہن ہے
یہ جلوہ گہ شاہد سیم تن ہے
یہ گہوارۂ آب گنگ وجمن ہے
یہ میرا وطن ہے ،یہ میرا وطن ہے
یہ دریا یہ موسم یہ کالی گھٹائیں
یہ شبنم یہ گلشن یہ ٹھنڈی ہوائیں
یہ ذرخیز میداں یہ سیمی فضائیں
عروس بہاراں زمین چمن ہے
یہ میرا وطن ہے ،یہ میرا وطن ہے
متین طارق اپنی نظموں کے ذریعہ عورتوں کی ترقی و تنزلی اور راہ راست کی طرف رہنمائی بھی کی ہے۔نظم ’’ترقی کی ماری خاتون‘‘ میں عورتوں سے خطاب کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
رہے گا سدا یاد مجھ کو یہ منظر
کہ تھی دھوپ شدت کہ پھیلی زمیں پر
ہوائیں ادھر پیچ و خم کھارہی تھیں
سزائے حرارت سے گرمارہی تھیں
در ووبام کچھ اس طرح جل رہے تھے
کہ پٹ کھل گئے ہو ںجہنم کے جیسے
تمازت کا ہر سوتھا طوفان برپا
نقاہت میں ڈوبا لب تشنگی تھا
کہ اس سخت گرمی میں نازک سمے میں
دہکتے سلگتے ہوئے راستے میں
اک آزاد عورت ترقی کی ماری
نئی زندگانی کی رونق پہ ریجھی
نگاہیں المناک ہونٹوں پہ پپٹری
نقاہت کی چھائی ہوئی رخ پہ زردی
جبیں گرد آلود چہرہ پریشاں
پسینے پسینے تمنا و ارماں
قدم لڑ کھڑاتے خمیدہ سی گردن
بہ ہر لمحہ بڑھتی ہوئی دل کی دھڑکن
تھپیڑے ہواؤں کے کھاتی ہوئی وہ
بہ ہر گام گرتی گراتی ہوئی وہ
چلی جارہی تھی بھری دوپہر میں
کہ اس کا ٹھکانہ نہ تھا اس کے گھر میں
سمجھتی تھی معراج وہ نوکری کو
کہ اپنا چکی تھی نئی روشنی کو
یہاں اکبر الہٰ آبادی کی جھلک صاف نظر آتی ہے وہی فکر ہے ،وہی آہنگ ہے ،اور وہی طنز وتضحیک لیکن انھوں نے اپنے تجربات و مشاہدات کو اپنی تخلیق میں ڈھالاہے ۔زمانے کے نشیب و فراز کو نظم کردیا ہے ۔سماجی اور سیاسی سطح پر ہونے والی تبدیلیوں کو محسوس کیا اور کبھی کبھی ان کا حصہ بھی رہے اس لیے ان کی نظموں میں ان کے عہد کی تاریخ وواقعات محفوظ ہوگئے ہیں ان کی نظم نالۂ دلدوز کے چند اشعار دیکھے جو انھوں نے ایمر جنسی کے دور میں لکھے ۔
جنون شوق کی پرواز روکنے والو!
یہ کیا طریق سیاست ہے کیا حکومت ہے
مرے وطن کے جہانگیر و شہ جہاں ہو تم
بتاؤ کچھ تو یہ کیسی فضا میں حدت ہے
کہیں تو زخم تمنا کہیں ہیں فریادیں
کہیں ہے سخت عقوبت غریب جانوں پر
مگر میں اس پس منظر میں اتنا کہتا ہوں
اگر ہیں بار یہ آہیں تمہارے کانوں پر
تو صاف کیوں نہیں کہتے کہ آج بندش ہے
نگار زیست کی بڑھتی ہوئی امنگوں پر
تو کھل کے کیوں نہیں کہتے کہ آج پہرے ہیں
تبسموں سے چمکتے حسین ہونٹوں پر
گیا وہ وقت کہ جب اہل ہند نے طارق
فروغ جنت فردا کا خواب دیکھا تھا
گیا وہ وقت کہ جب تیرگی کے ماروں نے
جمال نور سحر بے نقاب دیکھا تھا
غرضیکہ ان کا کلام خواہ کسی سے بھی مشابہت رکھتا ہو لیکن ان کی زندگی کی عکاسی ضرور کرتا ہے ۔ان کی زندگی کے حادثات و واقعات ،ان کا فکر وفلسفہ، ان کی تہذیب و نفاست،ان کی تعلیم و تربیت ،ہمدردی ،انسانیت ، اور اخلاق ،جو ان کی شخصیت کا حصہ تھی وہی چیزیں ان کی شعری و نثری تصانیف کا بھی حصہ ہیں اس لیے ان کا مطالعہ انھیں کے نظریے سے کیا جائے تو سود مند ہوگا۔ان کا کلام تقلید محض ہی نہیں بلکہ ان کی تاریخ و تہذیب اور ان کی ذات کابھی عکاس ہے۔انھیں کے دو اشعار پر بات ختم کرتی ہوں کہ :
حسین لمحو! یہاں میرا دم غنیمت ہے
اندھیری رات میں جلتا دیا ہوں میں
٭
چراغاں چراغاں ہے تہذیب حاضر
مگر دل پر چھایا دھواں آج بھی ہے
مضمون نگار کا مختصر تعارف مہر فاطمہ
٭٭٭
مہر فاطمہ
رسرچ اسکالر ، دہلی یونیورسٹی ،نئی دہلی
ؑEmail : meharekta88@gmail.com
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

