حریمِ دل کہ مقدس ہے ماورائے جنوں
اسی کے فیض سے روشن ہے یہ فضائے جنوں
خدا کے واسطے عقل و خرد کی بات نہ کر
قسم خدا کی ابھی میں ہوں مبتلائے جنوں
بس اتنی بات پہ آئینہ پاش پاش ہوا
وہ پوچھ بیٹھے تھے مفہومِ انتہائے جنوں
مرا عقیدہ ذرا مختلف ہے لوگوں سے
یہ کائنات بنائی گئی برائے جنوں
سمجھ لو شہرِ خرد سے نکل کے آیا ہے
جو شہرِ عشق میں ڈھونڈے کوئی سرائے جنوں
قسم خدا کی میں بیعت کروں گا قدموں پر
مرے جنوں کو جو مل جائیں اولیائے جنوں
کسی کا کچھ بھی بھروسہ نہیں، ذرا بھی نہیں
صبا کا کوئی نہیں ہے، نہیں، سوائے جنوں

