محمد خورشید اکرم سوز کےلخت جگر محمد شکیب اکرم کے سانحہ ارتحال پر
منظوم اظہار تعزیت
وہ شکیب اکرم جو تھے خورشید اکرم کے پسر
چل دٸے سوٸے جناں اپنے پدر کو چھوڑ کر
اک جواں بیٹے کی رحلت ہے اک ایساسانحہ
توڑ دی ماں باپ کی جس نے بڑھاپے میں کمر
جملہ اہل خانداں ہیں فرط غم سے جاں بلب
خون کے آنسو رلاتا ہے جنھیں لخت جگر
یہ جہان آب و گل تاریک ہے ان کے لٸے
چھوڑ کر جب سے گیاان کا انھیں نور نظر
صدمہ جانکاہ ہے اکلوتے بیٹے کی وفات
ذہن سے جو محوہوسکتا نہیں اب عمر بھر
جس کےدم سےگلشن ہستی میں تھی ان کے بہار
ہوگیا ہے خشک قبل از وقت وہ تنہا شجر
کیا کیا تھے ارمان دل میں مل گٸے جو خاک میں
کاٹنے کو دوڑتا ایسے میں اپناہی گھر
ایسا ہے خورشید اکرم سوز کا حال زبوں
خشک ہوتی ہی نہیں سوز دروں سے چشم تر
دے خدا نزہت جہاں قیصر کو بھی صبر جمیل
جنت افردوس میں ہو شادماں ان کا پسر
لاڈلی ہیں لاڈلے کے غم میں جو اپنے نڈھال
رحم رب اعالمیں فرماٸے ان کے حال پر
سوز کے اشعار سے سوز دروں ہے آشکار
شاعری پر ان کی ہو جیسے تخلص کا اثر
جس میں کرتے ہیں بسر خورشید اکرم ان دنوں
اس شب تاریک کی ہوگی نہ اب برقی سحر

