Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

      کتاب کی بات

      فروری 5, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

      اسلامیات

      نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعدد…

      ستمبر 23, 2023

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خبر نامہ

      پروفیسر خالد جاوید کی حیثیت شعبے میں ایک…

      اپریل 16, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

      کتاب کی بات

      فروری 5, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

      اسلامیات

      نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعدد…

      ستمبر 23, 2023

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خبر نامہ

      پروفیسر خالد جاوید کی حیثیت شعبے میں ایک…

      اپریل 16, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
نظم فہمی

اخترالایمان کی شاعری کا موضوعاتی مطالعہ – ڈاکٹر یوسف رامپوری

by adbimiras مارچ 9, 2023
by adbimiras مارچ 9, 2023 0 comment

اخترالایمان اردو کا وہ شاعر ہے جس نے انسانی زندگی سے جڑے ان تمام مسائل کو اپنی شاعری میں اٹھایا ، جن سے حیاتِ انسانی متاثر ہورہی ہے اور انسان لحظہ بہ لحظہ تیزی کے ساتھ روبہ زوال ہے۔اخترالایمان کو اس بات کی کڑھن ہے کہ انسان ایک عظیم مخلوق ہونے کے باوجود مسائل کے بھنور میں گرفتار کیوں ہے؟ آخر وہ ایسے راستوں کو اپنے لیے کیوں منتخب کررہا ہے جو اس کو اس کی منزل سے بھٹکاکر ایسے مقام تک لے جارہے ہیں جہاں بربادی وتباہی کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہے۔انسانی زندگی کی اس درگت اور تباہی پر اخترالایمان تلملااٹھتے ہیں اورانسانی مسائل کو اشعارکی زبان دے کر لوگوںکوان کی طرف متوجہ کرتے ہیں۔

اخترالایمان کی شاعری کو موضوعاتی تناظرمیں دیکھنے سے یہ احساس ہوتاہے کہ انھوں نے چن چن کراہم موضوعات کواٹھایا ہے اور شاعری میں برتاہے ،لیکن اشعار میں جو نیچرلٹی ہے وہ مذکورہ مفروضے کومسترد کردیتی ہے اور ایسا لگتا ہے کہ اخترالایمان صرف انسانیت کی تباہی کا نوحہ بیان کررہا ہے اور درد میں ڈوب کر شعر کہتا چلا جاتا ہے۔ اب یہ الگ بات ہے کہ وہ اس دوران کبھی جذباتی ہوجاتاہے، کبھی سراپاغم کی تصویربن جاتاہے، تو کبھی زمانے سے ٹکرانے کا حوصلہ دکھاتاہے، کبھی یاسیت و قنوطیت کے بحر میں ہچکولے کھانے لگتاہے، کبھی وہ اخلاقی قدروںکے زوال پررنج وغم کا اظہار کرتاہے تو کبھی گم ہوتی ہوئی تہذیب کا رونا روتاہے۔کبھی اقدارِ رفتہ کی بازیافت کے لیے صدائے بازگشت بلندکرتاہے تو کبھی اقدارِ جدیدہ سے بچنے کی تلقین کرنے لگتاہے ۔اس کی شاعری کابہائو خود بخود ایسے تمام موضوعات کو اپنی آغوش میں لیتا چلا جاتا ہے جو انسانی زندگی کاالمیہ ہیں۔ اس طرح بہت سے موضوعات خواہی نہ خواہی اخترالایمان کی شاعری کاحصہ بن جاتے ہیں۔آل احمد سرور لکھتے ہیں:

’’اخترالایمان کی نظموں میں زندگی کے سبھی رنگ ملتے ہیں۔اخترالایمان نے خود بھی زندگی سے آنکھیں چار کی ہیں اور اپنے پڑھنے والوں کو بھی یہ حوصلہ دیا ہے۔‘‘(اخترالایمان عکس اور جہتیں، ص 65)

اخترالایمان کی شاعری میں مختلف موضوعات اس لیے بھی مجتمع ہوگئے ہیں کہ اخترالایمان حسّاس شاعر ہیں۔ اگرچہ ہر شاعر اور فنکاربلکہ ہرانسان اور انسان ہی کیا، ہر جاندار حساس ہوتا ہے ، لیکن اخترالایمان ان شعرا میں سے ہیں جن کے یہاں حسیت زیادہ بیدار ہے، جوسماج میں آئے دن رونما ہونے والے ان معمولی واقعات سے بھی ملول ومغموم ہوجاتے ہیں جواور لوگوںکے نزدیک محض روزہ مرہ کے عام واقعات کی حیثیت رکھتے ہیں۔ جن شعرا کے یہاں احساس کی تپش اتنی تیز ہو، ان کے نزدیک ہر واقعہ چاہے وہ معمولی ہو یا غیر معمولی ،ایک موضوع بن کر ابھرتا ہے۔ اخترالایمان نے ایسے بہت سے واقعات کوشاعری میں بیان کیا یاان پر شعر کہے تو ان کی شاعری کے موضوعات کا دائرہ دور تک پھیلتا چلا گیا۔

اخترالایمان کے یہاں انسانی زندگی کے دو پہلو ہیں۔ ایک ان کی داخلی زندگی سے ہم آہنگ اور دوسرا ان کی خارجی زندگی سے متعلق۔ دونوں ہی پہلوان کے احساس کی گرفت میں جکڑے ہوئے ہیں۔ انھوں نے اپنی زندگی کے بھی مختلف نشیب وفراز دیکھے ہیں اور دوسروں کی زندگیوں کے بھی۔ اخترالایمان کابچپن جن حالات میں گزرا، وہ ان کے ذہن وقلب پر ایسے انمٹ اثرات چھوڑ گیا جو تادمِ آخر ان کی یاد داشتوں میں شامل رہے۔ گھر میں غربت کا بسیرا تھا، اس پر طرہ یہ کہ والد غیر ذمے دار او رلاپرواہ ثابت ہوئے تھے ،جس کے باعث ماں باپ کے درمیان ٹکرائو کا ماحول بنا رہتا تھا۔ اخترالایمان اگرچہ کم سن تھے، مگر ان کی کمسن نگاہوں میں وہ تمام منظر اس طرح جذب ہوگئے تھے کہ کبھی اوجھل نہ ہوئے ۔ گھر سے دور اور بہت دور جاکر غربت وافلاس اور عائلی تنازعات کی زندگی تو پیچھے چھوٹ گئی، مگر حقیقت یہ ہے کہ یادہائے رفتہ اور مناظرگزشتہ ان کا پوری زندگی تعاقب کرتے رہے  ۔نئی زندگی میں انھیں اگرچہ مفلوک الحالی کا سامنا نہ تھا اور نہ اس سے پنپنے والے مسائل کا ، لیکن یہاںکے پُرفریب مناظر فی الواقع جس قدرمہیب تھے، وہ اخترالایمان جیسے حساس شخص اور شاعر کو کیسے چین سے بیٹھنے دے سکتے تھے۔ یہاں بیرون کچھ اور، اندرون کچھ تھا۔ یہاں نئی تہذیب کے ہنگامے تھے لیکن مروت وانسانیت جس طرح اس تہذیب کے پیروں تلے روندی جارہی تھی اور اخلاقی قدریں اورروایتیںمادیت کے چنگلوں میں کراہ رہی تھیں، انھوںنے اخترالایمان کو اور زیادہ مضطرب کردیا۔اخترالایمان فلمی دنیا سے بھی وابستہ رہے، معروف ومشہور ہستیوں سے ان کا واسطہ رہا، صاحب ثروت اشخاص کی زندگی کے طور انھوں نے دیکھے، غریبوں کا استحصال کرکے مالداروں کو اپنی تجوریاں بھرتے ہوئے دیکھا ،تو انھیں سخت تکلیف پہنچی، شاعر تھے تو یہ تکلیف ان کی شاعری میں شامل ہو گئی۔ زندگی کے نئے زاویوں نے انسان کو کس قدر مصائب دیے ہیں اور کس طرح اس کی زندگی کا رخ موڑ کررکھ دیا ہے۔ اخترالایمان کہتے ہیں          ؎

صبح اٹھ جاتا ہوں جب مرغ اذاں دیتے ہیں

اور روٹی کے تعاقب میں نکل جاتا ہوں

شام کو ڈھور پلٹتے ہیں چراگاہوں سے جب

شب گزاری کے لیے میں بھی پلٹ آتا ہوں

’’صبح اٹھ جاتا ہوں جب مرغ اذاں دیتے ہیں‘‘ یہ مصرع ان انسانوں کی زندگی کی عکاسی کرتا ہے جورات کی نیند سے بیدار ہوکر دو وقت کی روٹی کے حصول کے لیے جہاں تہاںسرگرداںہوجاتے ہیں۔ان کی یہ تگ ودو شام ڈھلے تک جاری رہتی ہے۔ گویاکہ صبح تا شام سارا وقت زندگی کے محض ایک شعبے(معیشت) کی نذر ہوجاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا معیشت کے علاوہ انسانی زندگی کا کوئی اور شعبہ یا پہلو لائق اعتنا نہیں۔ اگر زندگی صرف کھانے اور کمانے کا نام ہے تو پھر جانوروں اور انسانوں کے مابین فرق کیاہے؟انسان کی یہ حالت اس نئی تہذیب نے کی ہے جس میں مادّیت ہی سب کچھ ہے۔ اس نئی تہذیب نے انسانی زندگی کے سامنے اس قدر مسائل کھڑے کردیے ہیں کہ وہ ان کے سدِباب کے لیے ایک مشین کی طرح کام کرنے پر مجبور ہے۔ اتنا ہی نہیں بلکہ وہ اپنے گائوں، کھیت کھلیانوں ، دوستوں ، رشتے داروں کو چھوڑ کر دور اجنبی شہروں کا رُ خ کررہا ہے جہاں ہر طرف غبار ہی غبار ہے، جہاں چمنیوں سے نکلنے والے دھوئیں نے پوری فضا کو کثیف اور پراگندہ کیا ہوا ہے۔ ایسے گھٹتے ہوئے ماحول میں دنوں اور راتوں کو محنت ومزدوری کرنے اور اپنی عمر کا ایک بڑا حصہ غیر فطری اجنبی ماحول میں گزارنے کے بعد بھی انسان کو حاصل کیا ہوتا ہے ؟ کیا اسے راحت وسکون سے زندگی بسرکرنے کے لیے وسائل فراہم ہوجاتے ہیں؟ کیا وہ اپنے ان مسائل کا تدارک کرلیتاہے، جن کے لیے اس نے اپنی اس بستی کو خیر باد کہا تھا، جہاں سب کچھ اپنا تھا، جہاں کی فضا مانوس تھی،جہاں کی صبحیں نہایت خوشنما منظرپیش کرتی تھیں اور شامیں بڑی خوشگوار ہوتی تھیں، جہاںسانس لینے میں بھی تازگی کا احساس ہوتا تھا ۔حقیقت یہ ہے کہ اپنے گھروں کو پیچھے چھوڑ کرآنے والے کچھ فیصدلوگوں کو چھوڑ کر زیادہ تربس اپنی پوری عمر اجنبی جگہوںپر ضائع کردیتے ہیں اور انھیں کچھ میسر نہیں آتا۔ اخترالایمان نے اپنی آنکھوں سے نہ جانے کتنی زندگیوں کواس طرح برباد ہوتے ہوئے دیکھا ، اس لیے وہ بے چین ہوگئے اور صدائے احتجاج بلند کرتے ہوئے یوں گویا ہوئے          ؎

یوں نہ ہو مجھ سے گریزاں مرا سرمایہ ابھی

خواب ہی خوا ب ہیں خوابوں کے سوا کچھ بھی نہیں

ملتوی کرتا رہا کل پہ تری دید کو میں

اور کرتا رہا اپنے لیے ہموار زمیں

آج لیتا ہوں جواں سوختہ راتوں کا حساب

جن کو چھوڑآیا ہوں ماضی کے دھندلکوں میں کہیں

مادیت پرستی یا موجودہ صنعتی انقلاب کے خلاف احتجاج اخترالایمان کی شاعری میں ایک مستقل موضوع کی حیثیت اختیارکرگیا ہے۔ انھوں نے اس تناظر میں کئی نظمیں کہی ہیں اور بہت سے اشعار۔ ان کی نظم ’عہدوفا‘ مادیت پرستی کے اندوہناک نتائج کا پورا چربہ اتارکررکھ دیتی ہے۔ ’’جدھر اونچے محلوں کے گنبد، ملوں کی سیہ چمنیاں آسماں کی طرف سر اٹھائے کھڑی ہیں‘‘ سے اخترالایمان نے نئی دنیا کا منظر کھینچا ہے جو اگرچہ بظاہر خوشنما محسو س ہوتا ہے ۔ اونچے محل اور ان کے گنبد نظر آتے ہیں ، مگر ان پر سیاہ چمنیوں کے دھوئیں کے بادل منڈلارہے ہیں اور محلوں کی فضا کو مکدر کررہے ہیں۔نظم ’عہدوفا‘کے یہ الفاظ ’’یہ کہہ کر گیا ہے کہ میں سونے چاندی کے گہنے ترے واسطے لینے جاتا ہوں رامی‘‘ ان خواہشوں اور خوابوں کا علامتی بیان ہیں جن کو شرمندۂ تعبیر کرنے کے لیے انسان اپنے آپ کو پُرشور بھیڑ میں گُم کردیتاہے اور اپنے پیچھے ان منتظر نگاہوں کو چھوڑ جاتاہے جو بس انتظار ہی کرتی رہتی ہیں۔

اخترالایمان موجودہ مادی نظام سے بیزاراس لیے ہیں کہ اس نے اچھے خاصے انسان کو مفاد پرست، لالچی اور چاپلوس بنادیا ہے، اچھی خصلتوں پر بری عادتوں کو غالب کردیا ہے۔ اس نے حیاتِ انسانی سے متعلقہ فطری نظام کو بکھیر کررکھ دیا ہے۔ اخترالایمان کی نظم ’ایک لڑکا‘ میں فطری اور غیر فطری، خودداری اور چاپلوسی، ایثار وقربانی اور مفادپرستی دونوں پہلو سامنے آتے ہیں۔ یہ نظم نہ صرف کسی ایک شخص کی زندگی کا بلکہ پوری بنی نوعِ انساں کی زندگی کا المیہ معلو م ہوتی ہے۔ عصرِحاضر میں انسان کس طرح اپنی فطری زندگی سے بچھڑ کر ہنگامہ آرائی اور استحصالی بھول بھلیوں میں گم ہوگیا ہے۔نظم کے چندمندرجہ ذیل اشعارمیں پہلے معصوم بچے کی فطری زندگی کو دیکھیں، اس کے بعداس بچے کے بدلے ہوئے پہلو کا بھی مشاہدہ کریں۔اخترالایمان کہتے ہیں        ؎

کبھی جھیلوں کے پانی میں ، کبھی بستی کی گلیوں میں

کبھی کچھ نیم عریاں کمسنوں کی رنگ رلیوں میں

تعاقب میں کبھی گم ، تتلیوں کے سونی راہوں میں

کبھی ننھے پرندوں کی نہفتہ خواب گاہوں میں

……

یہ لڑکا پوچھتا ہے اخترالایمان تم ہی ہو

یہ لڑکا پوچھتاہے جب تومیں جھلا کے کہتا ہوں

وہ آشفتہ مزاج اندوہ پرور اضطراب آسا

جسے تم پوچھتے رہتے ہو کب کا مرچکا ظالم

اسے خود اپنے ہاتھوں سے کفن دے کر فریبوں کا

اسی کی آرزوئوں کی لحد میں پھینک آیاہوں

مٹتی ہوئی تہذیبی اور اخلاقی قدریں بھی اخترالایمان کی شاعری کااہم موضوع ہیں۔ انھوں نے اس موضوع کے حوالے سے خاصی شاعری کی ہے اور ڈوب کرکی ہے۔ ایسالگتاہے کہ انھیں قدیم تہذیب سے بے انتہا محبت ہے۔  وہ اسے انسانیت کے لیے اہم سمجھتے ہیں، وہ نہیں چاہتے کہ وہ تہذیب جو اب آہستہ آہستہ ہمارے ماضی کا حصہ بنتی جارہی ہے، معدوم ہوجائے۔ کیونکہ اگر و ہ تہذیب ختم ہوگئی تو نہ صرف پورے ایک عہد کا خاتمہ ہوگا بلکہ انسانیت ہی مرجائے گی۔ نئی تہذیب انسانیت کو آگے نہیں بڑھا سکتی، اس کے اندر تصنع اور بناوٹ ہے، وہ فطرت اور فطری حسن و غنائیت سے عاری ہے، وہ انسان کے جذبات کی ترجمانی نہیں کرتی بلکہ اسے ایک مشین بنادیتی ہے جس میں ضمیر و احساس نہیں ہوتا۔ اخترالایمان چاہتے ہیں کہ ایسی تہذیب رواج نہ پائے لیکن یہ اسی وقت ممکن ہے جب کہ ہمارا تہذیبی اثاثہ نہ صرف محفوظ رہے بلکہ وہ ہماری زندگی میں گھلا ملا ہو یا ہماری زندگی اس تہذیب کے سائے میں آگے بڑھے۔اسی لیے وہ معدوم ہوتی ہوئی پرانی تہذیب کے تحفظ کی بات کرتے ہیں اور اس کے باقیات کو دیکھ کر غمزدہ ہوجاتے ہیں۔ان کی نظم ’مسجد‘ اسی تہذیب کا علامیہ ہے ۔اس نظم میں اخترالایمان نے  تہذیبی اور انسانی اقدار کی بربادی کامرقع کھینچا ہے۔ اخترالایمان کو ڈر ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ موجودہ نسلوں کے جمود و غفلت کے نتیجے میں بقیہ تہذیبی آثار بھی ختم ہوجائیں۔چند اشعار دیکھیے          ؎

تیز ندی کی ہر اک موج تلاطم بردوش

چیخ اٹھتی ہے وہیں دور سے فانی فانی

کل بہالوں گی تجھے توڑ کے ساحل کے قیود

اور پھر گنبد و مینار بھی پانی پانی

اخترالایمان کی شاعری میںغربت وافلاس کا مسئلہ بھی بار بار آیا ہے ۔اس لیے کہ اخترالایمان غربت کی کوکھ سے پیدا ہونے والے مسائل سے واقف ہیں۔ان کی اپنی زندگی کا اچھا خاصا حصہ اسی غربت کے عالم میں گزرا تھا اور انھوں نے دوسرے بہت سے ایسے لوگ بھی دیکھے جن پر غربت نے بڑے ستم ڈھائے تھے۔ غربت کے موضو ع کو دوسرے شعرا نے بھی اپنی شاعری میں برتاہے لیکن اخترالایمان کا امتیاز یہ ہے کہ انھوںنے غربت کی تصویریں کچھ اس انداز سے کھینچی ہیں کہ غربت کے نتائج وعواقب ان تصویروں کے بیک گراؤنڈ میں اس طرح نمایاں ہوجاتے ہیں کہ دیکھنے والا متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتا۔

تقسیم وطن اور سلسلۂ فسادات جیسے موضوعات بھی اخترالایمان کی شاعری میں موجود ہیں۔تقسیم وطن اوروقتاً فوقتاً پھوٹ پڑنے والے فرقہ وارانہ فسادات نے انسانیت کو جونقصان پہنچایا، جس طرح عورتیں، بچے، جوان اور بوڑھے قتل کیے گئے، گھر اجڑے، آبائی گاؤں اور مکانات چھوٹے، انھوں نے حساس اور دردمند انسانوں بالخصوص ادیبوں، فنکاروں اور شاعروں کی آنکھوں کو اشک بار کیاہے۔ اخترالایمان جو انسانیت کا درد اپنے دل میں رکھتے تھے ، کہتے ہیں          ؎

فسادات دیکھے تھے تقسیم کے وقت تم نے

ہوا میں اچھلتے ہوئے ڈنٹھلوں کی طرح

شیر خواروں کو دیکھا تھا کٹتے

اور پستاں بریدہ جواں لڑکیاں تم نے

دیکھی تھیں کیا بین کرتے

(راہِ فرار)

اخترالایمان نے اپنی نظم ’پندرہ اگست‘میں آزادی کی چھائوں میں ہونے والی تباہی وبربادی کا منظر پیش کیاہے ،ایسے انداز میں کہ گویا حسین دوشیزہ سے وابستہ گہری یادوں کا کوئی گیت چھیڑدیاہو ،لیکن اس کی آڑمیں انھوں نے جوطنز کیا ہے وہ واقعی دلوں کو چیرتا چلا جاتا ہے۔ انسانیت کی بربادی ہندوستان میں ہو یا ہندوستان سے باہر، اختر الایمان اس پرماتم کناں نظرآتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ انھوں نے دوسری جنگ عظیم کے خطرناک نتائج اور ہولناکی کو بھی اپنی شاعری میں پیش کیا ہے ۔اس تناظرمیں ان کی نظم ’تاریک سیارہ‘بہت اہمیت کی حامل ہے۔ اس نظم میںانھوںنے تمثیلی اور ڈرامائی انداز اختیار کیا ہے ۔نظم کا آغازاس طرح ہوتاہے         ؎

جانِ من حجلۂ تاریک سے نکلو دیکھو

کتنا دلکش ہے سیہ رات میں تاروں کا سماں

اخترالایمان کی شاعری میں فنا وبقا، یقینیت وغیر یقینیت، تہذیب ومعاشرت، سماج کی ناانصافی ،جبرواستحصال اور عدمِ مساوات، حال و استقبال اور فکر وفلسفے جیسے موضوعات بھی شامل ہیں جو ان کی شاعری کے کینوس کو وسیع کردیتے ہیں۔ اس نوع کے مضامین اخترالایمان نے مسجد، پرانی فصیل، ایک لڑکا، نقش پا، میرانام، ناصرحسین جیسی نظموں میں شامل کیے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ اخترالایمان کی شاعری زندگی کے بہت سے پہلوؤں کا احاطہ کرتی ہے اور زندگی کے سفرکی روداد بن جاتی ہے۔ کبھی ایسا لگتا ہے کہ وہ شاعری نہیں کررہے ہیں، زندگی کو بیان کررہے ہیں ایسی زندگی کو جس میں نشیب وفراز اور اتارچڑھاؤ ہیں، ان کی نظم’ پگڈنڈی‘ اسی قبیل کی نظم ہے ۔نظم میں زندگی کے کئی پہلو اجاگر ہوئے ہیں۔ زندگی بل کھاتی ہوئی ،کبھی خوشی کے شادیانوں کی آوازوں اور مسرت کے قمقموں کی روشنیوں سے گزرتی ہے، تو کبھی مایوسی اور شکست خوردگی کے گہرے احساسات سے دوچار ہوجاتی ہے۔یہ نظم نہ صرف حقیقت کے مظہرہے بلکہ تاثیر وغنائیت سے پُربھی ہے۔ اشعار دیکھیے         ؎

انگڑائی لیتی، بل کھاتی، ویرانوں سے آبادی سے

ٹکراتی،کتراتی، مڑتی، خشکی پر گرداب بناتی

اٹھلاتی، شرماتی، ڈرتی، مستقبل کے خواب دکھاتی

سایوں میں سستاتی،مڑتی بڑھ جاتی ہے آزادی سے

امنگ،جذبہ، ولولہ ،آگے بڑھنے کا حوصلہ انسان کی سرشت میں داخل ہے۔ انسان نامساعدحالات کو بھی اپنے حوصلے اور جذبے سے اپنے موافق بنالیتا ہے۔ اونچائیوں کو چھونے کا حوصلہ بعض اوقات انسانوں کے اندراتنا زیادہ ہوتا ہے کہ انھیں یوں محسوس ہوتاہے گویا وہ آسمانوں کو چھولیں گے اور تارے توڑ لائیں گے۔لیکن اس کے بعد یہ حوصلے پست بھی ہوجاتے ہیں ،جذبات سرد پڑجاتے ہیں، چلتے چلتے تھکاوٹ کااحساس ہونے لگتاہے، ناکامی ومایوسی ہرچہار جانب سے آن گھیرتی ہے۔ اخترالایمان زندگی کی اس سچائی کو بھی بیان کرنے سے نہیں چوکتے۔ کہتے ہیں            ؎

جیون کی پگڈنڈی یونہی تاریکی میں بل کھاتی ہے

کون ستارے چھوسکتاہے، راہ میں سانس اکھڑجاتی ہے

اور بھی کئی نظموں میں اس طرح کے مضامین اخترالایمان نے بیان کیے ہیں۔ان کی اس نوع کی نظموں کو پڑھنے کے بعد کہا جاسکتا ہے کہ ان کے یہاں شکست خوردگی، محرومی اور مایوسی کا احساس زیادہ ہے۔ وہ ماضی کی شاعری کرتے ہیں، حال میں انھیں جاذبیت نظرنہیں آتی اور نہ وہ مستقبل سے پُرامید دکھائی دیتے ہیں۔ شاید وہ انسانوں کے حالات کو دیکھ کر ان کے اندر ایسی رمق نہیں دیکھتے کہ وہ ایک بار پھر اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کرسکیں۔ نظم ’تنہائی میں ‘ بھی کچھ اسی طرح کا تاثر پیش کیا گیاہے۔اسے اخترالایمان کی شاعری کی خوبی بھی کہا جاسکتا ہے اور خامی بھی۔ خوبی اس لیے کہ انھوں نے نہایت دردمندی سے اپنا اور قوم کا حال سنادیا، خامی اس لیے کہ وہ حوصلے سے کام نہیں لیتے اوراکثر اپنے اردگرد یاسیت کا ماحول پیدا کرلیتے ہیں اور پھر اس سے باہر نہیں آتے۔ اقبال کی شاعری کا معاملہ اس سے جدا ہے، وہ زندگی کے حقائق کو کھول کر بیان کرتے ہیں، تہذیبی واخلاقی اقدار کے زوال کا رونا بھی روتے ہیں،  موجودہ نسلوں کی غفلت کی بھی نشاندہی کرتے ہیں، مگر اس کے باوجود وہ مایوس نظر نہیں آتے۔ وہ کہتے ہیں ’’ ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی‘‘اس کے برعکس اخترالایمان کی نظم’ پگڈنڈی‘ کا نچوڑدرج ذیل مصرع ہے      ؎

کون ستارے چھوسکتاہے، راہ میں سانس اکھڑجاتی ہے

ناموافق حالات کو سازگاربنانے کی خواہش اپنی جگہ، جذبات اور امنگوں کا اظہار بھی اپنی جگہ مگر حقیقت یہ ہے کہ کون ستارے چھوسکتاہے راہ میں سانس اکھڑجاتی ہے۔ یہ شاعر کا اپنا زاویۂ نظر ہے۔ ضروری نہیں کہ اس سے اتفاق کیا جائے۔ حوصلوں سے انسان نے کیا نہیں کر دکھایا،  پہاڑوں کے درمیان سے راستے نکال لیے ، سمندر کے سینے کو چیر کر اپنے لیے گزرگاہیں بنالیں، انتہائی مستحکم قلعوں کو تسخیر کرلیا ، شیطانی اور طاغوتی قوتوں کو پسپائی اختیار کرنے پر مجبورکردیا۔ عہدِ رفتہ کی نسلیں ایسے بہت سے کارہائے نمایاں انجام دے کر گزرچکی ہیں۔ عہدِ حاضر کی نسلیں گو کہ خواب غفلت میں پڑی ہوئی ہیں ، لیکن اگروہ بیدار ہوجائیں توعین ممکن ہے کہ حالات مختلف ہوں۔ اخترالایمان موجودہ نسلوں سے مایوس ہوکر انھیں بیدار ہونے کی تلقین ہی نہیں کرتے بلکہ اور ہمت توڑ دیتے ہیں، لیکن اقبال آج کی نسلوں کی عیش پرستی اور مادیت پرستی کے باوجود مایوس نہیں ہوتے، اس لیے بھرپور جوش کے ساتھ انھیں جگانے کی کوشش کرتے ہیں۔ کہتے ہیں            ؎

نہیں تیرا نشیمن قصرِ سلطانی کے گنبد پر

تو شاہیں ہے، بسیرا کرپہاڑوں کی چٹانوں میں

اخترالایمان کی شاعری کا مذکورہ اندازغالباً اس لیے ہے کہ وہ صرف شاعری کرتا ہے ، جو کچھ دیکھتاہے یا جس چیز کا احساس کرتا ہے ، اسے بے کم وکاست بیان کردیتاہے، نہ کوئی نظریہ وضع کرتا ہے اور نہ اسے دوسروں پر تھوپتا ہے، وہ شاعری میں دیانت داری سے کام لیتا ہے۔ اخترالایمان نے شاعری کی زبان میں اپنے جذبات کی ترجمانی کی ہے اور خلقِ خدکے احساسات کی بھی۔اس نے شاعری میں جو کچھ پیش کیا ہے، وہ پورے سماج کے لیے آئینہ ہے جس میں انسانی سوسائٹیاں اور نئی نسلیں اپنی حرکات وسکنات کی تصویر دیکھ سکتی ہیں۔اگر آئینہ دیکھ کر چہرے کی گندگی کو مٹانے کا ارادہ ہو تولوگ اخترالایمان کی شاعری میں اپنے چہرے کودیکھ کر اپنی صورت کو صاف کرسکتے ہیں۔ اس طرح اخترالایمان کی شاعری موجودہ اور آنے والی نسلوں کے لیے درس بھی بن جاتی ہے اور اصلاح کا ذریعہ بھی ۔اپنی اصلاح کرنے کے لیے سب سے پہلے دو چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ایک اس بات کی کہ اپنی کمیوں کا اعتراف کرلیا جائے ، دوسرے اس بات کی کہ ان کمیوں کودور کرنے کا عز م مصمم  اور عمل کیا جائے۔ نیت خالص ہوجائے تو اصلاح کے راستے نکل آتے ہیں۔اس کام کو اخترالایمان نے بخوبی انجام دیاہے۔

موضوعاتی نقطۂ نظرسے اخترالایمان کی شاعری کے مطالعے کے بعد یہ بات بہت وثوق کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ اخترالایمان کی شاعری کا موضوعاتی دائرہ بہت وسیع ہے۔ ان کی شاعری کے کچھ اہم اور خاص موضوعات پر مذکورہ سطریں لکھ کر میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اخترالایمان کی شاعری پر موضوعاتی حوالے سے مستقل کام وقت کی ضرورت ہے ۔

 

Dr. Yusuf Rampuri

Mohalla: Tandola, Tanda

Rampur – 244925 (UP)

Mob.: 9310068594

 

 

 

(اگر زحمت نہ ہو تو ادبی میراث کے یوٹیوب چینل کو ضرور سبسکرائب کریں    https://www.youtube.com/@adbimiras710/videos

 

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

Home Page

 

adabi meerasadabi miraasadabi mirasادبی میراث
0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
اختر الایمان کی شاعری – شمس الرحمن فاروقی
اگلی پوسٹ
ماریشس میں مسلمانوں کی تہذیب وثقافت فروغ پذیر ہے -ڈاکٹر احمداعجازالدین رحمت علی

یہ بھی پڑھیں

آزادی کے بعدکی نظمیہ شاعری کا اسلوب –...

نومبر 19, 2024

جدید نظم : حالی سے میراجی تک (مقدمہ)...

ستمبر 29, 2024

الطاف حسین حالؔی کی "مولود شریف "پر ایک...

اگست 27, 2024

نظم کیا ہے؟ – شمس الرحمن فاروقی

جولائی 23, 2024

ساحر کی نظمیں: سماجی اور تہذیبی تناظر –...

جولائی 9, 2024

فیض کا جمالیاتی احساس اور معنیاتی نظام –...

جون 2, 2024

طویل نظم سن ساٹھ کے بعد – پروفیسر...

جون 2, 2024

نظم ’’ابو لہب کی شادی ‘‘ایک تجزیاتی مطالعہ...

فروری 11, 2024

ساحر لدھیانوی کی منتخب نظموں میں امن کا...

جنوری 28, 2024

اخترالایمان کی نظموں میں رومانی عناصر – نہاں

اکتوبر 30, 2023

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (182)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (118)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,042)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (535)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (204)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (402)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (214)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (475)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,133)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (897)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں