Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
افسانہ کی تفہیم

عصری حسیت اور ساتویں دہائی کی اہم ہندی کہانیاں – فیضان حسن ضیائی

by adbimiras اکتوبر 10, 2023
by adbimiras اکتوبر 10, 2023 0 comment

فیضان حسن ضیائی

محلہ بارہدری ، سہسرام (بہار)

 

ساتویں دہائی کا عرصہ ہندی افسانوی ادب کا سنہرا دور تسلیم کیا جاتا ہے ۔جہاں ایک طرف سماجی مسائل کی پیش کش ہو رہی تھی تو دوسری جانب انسان کی ذات کا کرب بھی سمویا جا رہا تھا ۔جس کی وجہ سے افسانے کا موموضوع ترقی پسندی کی خارجیت سے باہر نکل کر داخلیت کا متقاضی ہو رہا تھا ۔نئے قلم کاروں نے ہر شئے کو اپنے جدید زاویہ نظر سے دیکھا ہے اور نئی فکر کے ساتھ مسائل کو سمجھنے کی کوشش کی ہے۔  لہذا نئی کہانی آندولن کے زیر اثر لکھنے والے مصنفین نے زمانے کے تقاضوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے موضوعات ،نقطئہ نظر ،فلسفہ حیات ،ہیئت اور اسلوب میں تبدیلی کی ایک کامیاب کوشش کی ہے ۔اس حوالے سے معروف فکشن نگارکملیشور کے احساسات ملاحظہ کیجے ۔

ــــ’’ صدیوں جھوٹی بنی رہنے کے بعد اب کہانی سچی ہو گئی ہے ۔صدیوں کے اس پاپ سے نجات پانے کے لیے کہانی

کو خود اپنے آپ سے اور اپنے چاروں طرف کے ماحول سے زبردست جہاد کرنا پڑا ہے ۔وقت اور بنی نوع انسان کے تفکرات

کو اپنے دائرہ میں سمیٹ کرکہانی نے ایک انتہائی زور دار اور موثر ادبی صنف کی حیثیت حاصل کر لی ہے ۔رفتہ رفتہ کہانی نے سبھی

انسانی فکروں کو اپنے دائرہ میں سمیٹ لیا جو دور حاضر کے اہم مسائل ہیں اور جو ہر ذی ہوش انسان کو ذہنی اور روحانی سطح پر پریشان

کرتے ہیں ۔‘‘(ہندی کہانی کا سفر : رسالہ معلم اردو ،لکھنئو،ہندی کہانی نمبر،نومبر۱۹۸۴ء ص ۶)

یہ عہد مشینی دور کا تھا جس میں یہ محسوس کیا جا رہا تھا کہ انسا ن کی وقعت کم ہو رہی ہے بلکہ انسان اپنی شناخت کھوتا جا رہا ہے اور اس احساس نے انسان کو تنہائی کے کرب میں مبتلا کر دیا ہے ۔اس عہد کی ایک بڑی تبدیلی یہ بھی ہے کہ عورت گھر کی چہار دیواری سے باہر نکل کر خود کفیل ہورہی تھیں ۔تعلیم نے خواتین کو اپنے بارے میں سوچنے اور اپنے وجود کا احساس کرنے کا موقع فراہم کیا تھا ۔ ماحولیاتی ،نظریاتی اور موضوعاتی صورت حال کی تبدیل ہوتی ہوئی فضا میں میں کئی کہنہ مشق اور جدید افسانہ نگار ابھر کر سامنے آئے جنہوں نے پرانے اصولوں ، پرانی اخلاقیات ،پرانے موضوعات اور نظریات سے انحراف کو اپنا امتیاز جانا ۔بھیروپرساد گپت کے زیر ادارت شائع ہونے والا ماہنا مہ ’’ کہانی ‘‘ نے اس نئی فکر کے لیے ایک مثبت فضا قائم کی ۔ اس دہائی کے افسانہ نگاروں کے حوالے سے ڈاکٹر نامور سنگھ کی یہ رائے بھی ملاحظہ کیجیے :۔

’’ ساتویں دہائی کے افسانہ نگاروں نے کہانی کی روایات سے حاصل شدہ سچائیوں کو متروک قرار دیا اور اوسط آدمی کی عام زندگی

پر مطلق احساس ،اجنبیت و جلا وطنی ،انسانیت سے بعید سلوک اور خوف و ہراس کی عمیق ترین گہرائیوں میں جھانکے کا جتن کیا جن

سے اب تک آنکھ چرائی جاتی تھی۔‘‘ (’’ ہندی افسانے ‘‘ڈاکٹر نامور سنگھ،نیشنل بک ٹرسٹ انڈیا،دہلی، ۱۹۷۱ء ص ۱۶)

تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ اس عہد میں کئی رجحانات پیدا ہوئے ۔ان کے نام تو مختلف تھے لیکن یہ رجحانا ت فکری اور نظریاتی اعتبار سے بے حد قریب تھے ۔اس لیے اکہانی ہو یا سمانتر کہانی یا نئی کہانی اپنی مقصدیت اور منہاج کے اعتبار سے ان میں زیادہ فرق نہیں تھا ۔بقول طارق چھتاری :

’’ نئی کہانی کے علاوہ ’’ اکہانی ، سچیتن کہانی ‘‘ اور سمانتر کہانیاں بھی لکھی گئی ہیں مگر موضوعات ،اسلو ب اور زبان و بیان کے لحاظ سے یہ سارے رجحانات

’’ نئی کہانی ‘‘ سے مختلف نہیں ہیں ۔حقیقت تو یہ ہے کہ وقتا ً فوقتاً تحریک کے نام بدلتے رہے تھے ۔سچیتن کہانی کے زیر اثر جو لوگ کہانیاں لکھ رہے تھے ان

کا اسٹائل ،موضوع ، زبان ، پس منظر غرضیکہ کچھ بھی نئی کہانی سے مختلف نہیں تھا ۔( جدید افسانہ : اردو ہندی، طارق چھتاری ۔ ص، ۱۶۶،برائون بک پبلیکیشن ،نئی دہلی۔۲۰۱۵ء)

اس دہائی میں اپنی شناخت مسحکم کرنے والوں میں راجندر یادو،کملیشور ،موہن راکیش ،نرمل ورما ، بھیشم ساہنی ، ، گیان رنجن، منو بھنڈاری، دودھ ناتھ سنگھ،بلونت سنگھ، وکاشی ناتھ سنگھ غیرہ خاص اہمیت کے حامل ہیں ۔یہا ں میں چند ایسے افسانہ نگار او ر ان کے افسانوں کا ذکر رہاہوں جو اس دہائی میں خصوصیت سے یاد کیے جاتے ہیں۔

راجندر یادو۔  ممتاز فکشن نگار ،صحافی ،دانشور ،ترقی پسند تحریک سے وابستہ اور نئی ہندی کہانی کے بنیاد گزار رجندر یادو کا شمار ہندی ادب کے ان ادیبوں میں ہوتا ہے جنہوں نے ہندی ساہتیہ کو ایک منفردمقام عطا کیا ہے ۔ہیں۔راجندر یادو نے ہندی ادب کی خدمت میں نمایاں کردار ادا کیا ہے ۔انہوں نے نہ صرف افسانے لکھے بلکہ افسانہ نگار کی نئی نسل کی تربیت بھی کی ۔۔ان کا ادبی سفر کئی دہائیو ں پر محیط ہے۔ان کے کارنامے کسی ایک صنف ادب تک محدود نہیں بلکہ علم و فن کے دیگر شعبوں میں میں بھی موصوف کی گراں قدر خدمات موجود ہیں ۔ہندی افسانوں میں ان کے مجموعے ’’ کھیل کھلونے(۱۹۵۳ء) ، جہاں لکشمی قید ہے ‘‘(۱۹۵۷ء) ’’ ابھیمنیو کی آتم ہتیا‘‘۱۹۵۹ء)’’چھوٹے چھوٹے تاج محل‘‘ (۱۹۶۱ء) ’’کنارے سے کنارے تک‘‘ ( ۱۹۶۲ء ) ٹوٹنا ‘‘ ( ۱۹۶۶ء) وغیرہ اہم یادگار ہیں ۔ان کے علاوہ دیگر کہانیوں کے مجموعے بھی شائع ہوئے ہیں جو مختلف نمائندہ کہانیوں پر مشتمل ہیں۔ راجندر یادو کی کہانیاں زندگی کے لمحات ،واقعات اور تاثرات کو اپنی گرفت میں رکھتی ہیں ۔کہانی کے فن پر انہیں بے پناہ قدرت ہے اور قاری کو ہم خیال بنانے کا گر بھی انہیں خوب آتا ہے۔عام طور پر ان کے کردار سماج کے ٹوٹے اور تھکے ہارے لوگ ہیں جو زندگی کے مختلف شیڈس میں نظر آتے ہیں ۔کہا نی ’’ٹوٹنا ‘‘ اس کی عمدہ مثال ہے ۔کہانی یوں ہے کہ کیشور ایک غریب گھرانے کا محنتی لڑکا ہے وہ ٹیوشن پڑھا کر اپنے اخراجات کے ساتھ اپنی تعلیم بھی جا ری رکھتا ہے ۔وہ اسسٹنٹ کمشنر کی بیٹی لینا کو بھی ٹیوشن پڑھانے جاتا ہے لیکن خود کو اس طرح رکھتا ہے کہ کمشنر صاحب سے اس کا سامنا نہ ہو جائے کیونکہ اس کا لباس اور رکھ رکھائو ایسا تھا جو کمشنر صاحب سے دوری اختیار کرنے پر مجبور کرتا حالانکہ کمشنر صاحب سے جب بھی ملاقات ہوتی وہ خیریت دریافت کرتے اور چائے پینے کے لیے بھی مدعو کرتے ۔دیکچھت صاحب لینا کے والد تھے ۔لینا کا جھکائو کیشور کی جانب بڑھتا گیا ۔یونیورسٹی کے لڑکے بھی میل نہ کھاتے اس جوڑے کو دیکھ کر رشک کرتے ۔باالآخر لینا اور کیشور کورٹ میں شادی کرلیتے ہیں ۔کیشور اور لینا دونوں کے خاندانی حالات ،آسائش زندگی اور طرز زندگی میں کوئی مماثلت نہ تھی کشور چھوٹی نوکری کرنے کے سبب اسے آرام و آسائش کی چیزیں نہیں دے پاتا ۔لینا کبھی کبھی اپنے میکے کی خوشحال اور فارغ البال زندگی کا ذکر کرتی رہتی ہے ۔جو کیشورکو نا گوار گزرتا ہے ۔کہانی سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ ان باتوں کا ذکر یوں ہی کر رہی ہے لیکن کشور یہ محسوس کرتا ہے کہ وہ اس کا مذاق اڑا رہی ہے ۔چھوٹی چھو ٹی باتیں ان کی ازدوجی زندگی میں خلل پیدا کرتی ہیں کشور کا’’ غٹ غٹ‘‘ پانی پینا ،چپ چپ‘ کھانا اور ہیری اوم کی لمبی ڈھکا ر کے ساتھ سیر شکمی کا احساس کرانا لینا کو گراں گزرتا ہے نتیجتاً مہذب سماج ،افسر شاہی سماج اور کیشور کے بیچ ذہنی ناگواری کی فضا پیدا ہو جاتی ہے اور کیشور ہوٹل میں ٹیپس دینے کے معاملے پر بول پڑتا ہے:۔

’’لینا جی ،مجھے دو سو روپے ملتے ہیں ۔۔۔سو بھی آج ۔اور آپ کو رہنے کی عادت ہے اس ماحول میں ،جہاں ہزا ر

روپے تنخواہ اور ڈیڑھ ہزار کی اوپری آمدنی ہوتی ہے ۔وہ لوگ پانچ روپے کے بل پر ایک روپے ٹپ دے سکتے ہیں ۔‘‘( ٹوٹنا، دارجندر یادو ۔ایک دنیا سمانانتر،مرتب ،راجندر یادو ،۱۹۹۳ء ص ۱۶۸)

عملی زندگی میں کیشور جب لینا کو سبزی کاٹتے ،جھاڑو دیتے یا کپڑے دھوتے دیکھتا تو وہ اندر اندر کڑھتا کہ نازو نعمت کی پلی یہ لڑکی کہا ں آ گئی اس لیے گھریلو کام میں وہ خود بھی لینا کی مدد کرتا ۔کیشور لینا کی طرز زندگی ،کپڑوں کے انتخاب اور باہر نکلنے کا سلیقہ دیکھ کر احساس کمتری کا شکار ہوجاتا ہے وہ لینا کے بارے میں یہ بھی سوچتا کہ اس نے انتخاب اپنے اسٹیٹس کے مطابق نہیں کیا ۔نتیجتاً شکست و ریخت کیشور اور لیناکی زندگی کا اندرونی حصہ بن جاتے ہیں ۔ اور ان کی ازدوجی زندگی وہمی خلیج کا شکار ہو جاتی ہے ۔ کیونکہ انہیں اندازہ ہو چکا تھا کہ شاید وہ ایک دوسرے کے لائق نہیں ہیں اور آخر کار دونوں الگ ہو جاتے ہیں کشور سب کچھ بھلا دیتا ہے اور دن رات دولت کمانے میں مصروف ہو جاتا ہے ۔اور ایک دن ترقی کی منزلیں طے کرتے ہوئے ایک کمپنی کا جنرل منیجر بن جاتا ہے ۔ شکست و ریخت کے حالات سے گزرتے ہوئے جب کیشور افسر شاہی کامزہ چکھتا ہے تو تبھی ایک انجانی جنگ سے بر سر پیکار رہتا ہے ۔یہ جنگ اسے اندر ہی اندر کچوکے لگاتے رہتی ہے اور وہ عمر کے اس موڑ پر یہ محسوس کر تا ہے ۔

’’ پھیپھڑوں میں گہری سانس لے کر دھیرے دھیرے چھوڑی تو محسوس ہوا وہ بہت تھک گیا ہے تیس پینتیس کی عمر تک آدمی میں ایک

جوش ہوتا ہے اور ہر نئی جگہ اسے للکار کر بلاتی ہے ۔۔۔چالیس بیالیس تک تھکان شکتیوں کو چوس ڈالتی ہے ۔۔ڈھیلے تن اور من سے

اب زندگی کا ڈھرا بدلنا ۔۔نئے سرے سے نئی ذمہ داریوں کو اوڑھنا اور پھر آخر اسے ضرورت بھی کیا ہے ؟ وہ اب رہ ہی کہاں گیا ،جو۔۔۔۔‘‘

( ٹوٹنا ،راجندر یادو،ایک دنیا سمانانتر، ص۔ ۳۲۴۔ ۱۹۹۳ء)

زندگی کے چھوٹے بڑے واقعات سے گزرتی ہوئی یہ کہانی معنویت سے پر ہے ۔کشور کا کردار ایک ایسا کردار ہے جو اپنی دنیا آپ تراشتا ہے ۔لیکن یہ سار ارد عمل انتقامی ہے ۔وہ انتقام لینے کے لیے خود کو بھی فراموش کر دیتا ہے ۔اس کے اندر انسانی کمزوری بھی ہے جس طبقے سے اس نے اپنا سفر شروع کیا ہے اور جن حالات سے دو چار ہوا ہے اس حالا ت میں تذبذب کا شکار ہونا اور احساس کمتری میں مبتلا ہونا فطری معلوم ہوتا ہے ۔اس کا ظرف زیادہ وسیع نہیں لیکن جس مقصدکو افسانہ نگار نے اس کردار کے ذریعے پیش کیا ہے وہ انسانی فطرت سے بے حد قریب ہے ۔ رجندر یادو کا یہ افسانہ پڑھ کر سریندر پرکاش کی کہانی’’بجوکا‘‘ یاد آتی ہے ۔اس لیے نہیں کہ اس میں استحصال کی کہانی پیش کی گئی ہے اور یہ بتایا گیا ہے کہ استحصال کا جو سلسلہ کل تھا آج دوسری صورت میں ہمارے درمیان جاری ہے بلکہ کہانی کا مرکزی کردار ہوری ’’گئودان‘‘ کے ہوری کی طرح سب کچھ برداشت نہیں کرتا بلکہ وہ احتجاج کرتا ہے اور مر کر بجوکا بننا چاہتا ہے ۔یہ اس کا انتقام ہے۔ اس کہانی کے حوالے سے ڈاکٹر صوبے دار رائے کا یہ خیال بھی اہم معلوم ہوتا ہے ۔:

’’ راجندر یادو کی کہانیاں رشتوں کے پھیلائو کو بیان کرتی ہیں ’’ ٹوٹنا ‘‘ کہانی میں مالی نا برابری رشتوں کے ٹوٹنے کے لیے زیادہ

ذمہ دار ہیں ۔پھر بھی آدمی ہی تو ہے جو تواریخ کو بناتا ہے اور بدلتا ہے ۔کتھن آستھا کا سور ریکھانکت کرتا ہے ۔اس کہانی میں بورزواکلاس

کی بگڑی حالت اور پاکھنڈ کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے ۔آخر تحمل کے بل پر کیشور دکشت تک پہنچتا ہے ۔‘‘ ( ہندی کہانی کا وکاس ، ڈاکٹر صوبے دار رائے ، انوبھو پرکاشن ،شری نگر، جولائی ۱۹۸۱ء ص ۱۴۳)

کملیشور۔: ساتویں دہائی میں اپنی شناخت مستحکم کرنے والوں میں کملیشور ایک معتبر نام ہے ۔ مختلف الجہات خوبیوں کے مالک ،ٹیلی ویزن آرٹسٹ،ساریکا جیسے معیاری رسالے کے مدیر اور معر کتہ الآرا ناول کے خالق ہونے کے ساتھ نئی ہندہی کہانی کے ایک اہم ستون ہیں ۔جنہوں نے فکری سطح پر اہم موضوعات کی طرف توجہ کی ہے ۔ ماحول اور زمانے کی بدلتی ذہنیت ،اخلاقی اور جذباتی قدروں کی پامالی اور شہری زندگی کے بنیادی مسائل کو شدت کے ساتھ محسوس کیا ہے ۔ ان کی پہلی کہانی ’’ کامریڈ‘‘ ایٹہ سے شائع ہونے والا رسالہ ’’ اپسرا‘‘ میں (۱۹۵۰ء‘)  میں شائع ہوئی تھی ۔کہانیاں لکھنے کا ابتدائی احساس کملیشور یوں بیان کرتے ہیں ۔:

’’ جب سے اپنے چاروں طرف کی دنیا کو دیکھنا شروع کیا تو پایا کہ کہیں کچھ بدل نہیں رہا تھا اس لیے مجھے بدلنا پڑا۔مجھے میرے

چاروں طرف کی سچائیوں نے بدل دیا ۔دسواں پاس کرتے کرتے انقلابی سماجی پارٹی کے رابطے میں آیا ۔مارکسزم کی فعال پاٹھ شالا میں

شامل ہوا اور ’’ جن کرانتی ‘‘ میں شہیدوں کی سوانح حیات پر چھوٹے چھوٹے مضمون لکھنے شروع کیے ۔‘‘(فرقہ ورایت اور اردو ہندی افسانے ،محمد غیاث الدین ، ص ۲۵۵ایجوکیشنل پبلشنگ ہائو س،دہلی ۱۹۹۹ء)

کملیشور کے تخلیقی کارناموں کی بڑائی کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ ان کی قدر شناسی مختلف مکتبہ خیال کے اہل ذوق نے کی ہے ۔بلا شبہ انہوں نے ہندی کہانی کو ایک نئی سمت دے کر اپنی انفرادیت کا اعتراف کروایا ہے ۔کرشن چندر کی یہ رائے بھی ملاحظہ کیجیے۔

’’ جدید ہندی افسانے میں کملیشور نے بہت نمایاں رول ادا کیا ہے ۔وہ اسے گھر کی چہار دیواری سے نکال کر کھیت، چوپال ،

سڑک اور فٹ پاتھ پر لے آیا ہے ۔۔۔۔۔مشکل لہجے میں بات کرنا آسان ہے لیکن آسان لہجے میں پیچیدہ اور مشکل بات کرنا بہت

مشکل ہے ۔کملیشور نے اپنی حسی قوت سے اس مسئلے کو بخوبی حل کر لیا ہے ۔‘‘( فرقہ ورایت اور اردو ہندی افسانے ۔ غیاث الدین ،ص۲۵۷۔ایجوکیشنل پبلشنگ ہائوس،نئی دہلی)

کرشن چندر کے اس تاثراتی اقتباس کی روشنی میں کملیشور کی کہانی ’’ کھوئی ہوئی دشائیں ‘‘ پر نظر ڈالتے ہیں ۔کملیشور نے اس کہانی میں شہر کی مصروف ترین زندگی میں ایک فرد کی ذہنی کشمکش کو قارئین کے حوالے کیا ہے ۔کہانی کا مرکزی کردار چندر ایک ایسا نوجوان ہے جو الہ آباد جیسے چھوٹے شہر سے ملک کی راجدھانی دہلی آتا ہے ۔شہری زندگی کا ایک بڑا المیہ یہ ہے کہ انسان خود اپنی دنیامیں مگن ہے ایسے میں شناسا چہرے بھی اجنبی معلوم ہوتے ہیں جہاں وہ خود اپنی ذات کی تلاش میں بے سمتی کا سفر کرتا نظر آتا ہے ۔جہاں دماغ اور پیٹ کا ساتھ بھی ایسا ہو گیا ہے کہ سوچنے پربھی بھوک لگتی ہے ۔

’’ اور تبھی چندر کولگا کہ ایک عرصہ ہو گیا ،ایک زمانہ گزر گیا ، وہ خود سے بھی نہیں مل پایا ۔۔۔یہ بھی نہیں پوچھا کہ آخر تیرا حال کیا ہے

اور تجھے کیا چاہئے ،نہ جانے کیوں من خود سے ملنے میں گھبراتا ہے۔رہ رہ کر کتراتا ہے۔ ( کھوئی ہوئی دشائیں ‘‘ کملیشور ۔ایک دنیا سمانانتر، مرتب راجندر یادو، ۱۹۹۳ء ص ۱۴۲)

کہانی میں چندر کی محبوبہ اندرا اس کے لاشعور میں بسی رہتی ہے وہ اندرا جس سے چندر کو قلبی لگائو تھا جس سے آنکھیں ملائے اسے سکون میسر نہیں ہوتا لیکن اسے اپنی معاشی تنگی کا بخوبی اندازہ تھا وہ نہیں چاہتا تھا کہ اندرا اس کی شریک حیات بننے کے بعد پتھروں پر چلے اور کانٹوں بھری زندگی کا سامنا کرے اس لئے نرملا اس کی زندگی میں شریک حیات بن کر آتی ہے گزرے ہوئے لمحوں کی یادیں چندر کو ذہنی تنائو میں مبتلا کر دیتی ہیں وہ نرملا میں اندرا کا عکس دیکھنا چاہتا ہے لیکن اسے کامیابی نہیں ملتی اور وہ ذہنی کشمکش کا شکار ہو جاتا ہے ۔ چندر جو کناٹ پیلس کے پاس کھڑا فکرکے اتھاہ سمندر میںڈوبا ہوا ہے وہ سوچتا ہے کہ گھر جائے گا تو بیوی سے ملے گا اور اسے بانہوں میں لے کر کہے گا کہ بہت تھک گیاہے ۔لیکن اسے خیال آتا ہے کہ گھر میں پڑوس کی عورتیں بیٹھ کر گپ کرنے میں مشغول ہو ں گی ۔۔اور وہ ایسا نہیں کر پائے گا۔اس درمیان اسے ایک دوست ملتا ہے اور اسے چائے پینے کے لیے راضی کرتا ہے ۔چائے نوشی کے درمیان وہ بڑی بے تکلفی سے چندر سے پیسے طلب کرتا ہے اور کہہ جاتا ہے کہ یہیں رکنا میں چند منٹ میں آتا ہوں ۔ لیکن وہ لوٹ کر نہیں آتا بد حواسی کے عالم میں وہ چہل قدمی کرتا ہوا بس اسٹاپ پر پہنچ جاتا ہے اس کی یادوں کا سلسلہ جاری رہتا ہے اسے اندرا یاد آتی ہے جو اسی شہر میں اپنے شادی شدہ زندگی میں مصروف ہے ۔وہ سوچتا ہے کہ کوئی اس شہر میں اپنا نہیں اندرا تو ہے؟وہ اسے ملنے کے لیے قرول باغ اس کے گھر پہنچتا ہے ۔  اندرا کا شوہر ابھی کام سے نہیں لوٹا ہے وہ اس کی خیریت دریافت کرتے ہوئے اسے بیٹھاتی ہے۔ چندر پائوں پسار کر با اطمینا ں بیٹھ جاتا ہے وہ محسوس کرتا ہے کہ اس کی ساری تھکن دور ہوچکی ہے ۔ کچھ ہی دیر بعد نوکرانی چائے لے کر آتی ہے ۔ اندرا چائے بناتے ہوئے پوچھتی ہے ’’چینی کتنے چمچ‘‘ ؟چندر ایک بار پھر خود کو تھکا ہوا محسوس کرتا ہے اور یہ سوچ کر دو چمچ کہتاہے کہ اندرا کو یاد آ جائے گا کہ وہ چائے میں چینی برائے نام ہی پیتا ہے ۔لیکن اندرا دو چمچ چینی ڈال دیتی ہے ۔وہ کسی طرح چائے کے گھونٹ لیتا ہے اور وہاں سے بھاگ جانا چاہتا ہے ۔  کملیشور نے بڑے ہی سہل انداز میں چندر کے ذریعے ٹوٹتے بکھرتے رشتوں کی عکاسی کی ہے ۔ اور نئی ہندی کہانی کے زیر اثر اجنبیت اور تنہائی کے جن شیڈس کو کہانی کاروں نے اپنی تخلیقا ت میں پیش کیا ہے یہ کہانی اس کی بہتر عکاس ہے۔ یہ اور بات ہے کہ چندر کا کردار کوئی گہرا تاثر نہ چھوڑنے کے باوجود فنکار کا مدعااور مقصد واضح کرنے میں کامیاب ہے ۔البتہ یہ ضرور محسوس ہوتا ہے کہ فن پر فنکار کا مقصد حاوی ہے۔ رشتوں کی اہمیت پر ان کی ایک اہم کہانی ’’ تلاش‘‘ بھی ہے ۔جس میں ماں بیٹی کے بدلتے رشتوں پر روشنی ڈالی گئی ہے ۔ اس کے علاوہ ان کی اہم کہانیوں میں ’’ مانس کا دریا ‘‘ قصبے کا آدمی ‘‘ گرمیوں کے دن ‘‘ اور نیلی جھیل وغیرہ اہم یادگار ہیں ۔

موہن راکیش:۔ (۱۹۲۵ء تا ۱۹۷۲ء) موہن راکیش بھی نئی ہندی کہانی کے اہم ستون ہیں ۔ ان کا ادبی سفر نہ صرف افسانوی ادب تک محدود رہا بلکہ ناول، تنقید ،اور ڈرامہ نگار کی حیثیت سے بھی ان کی شناخت ادبی حلقوں میں محفوظ رہی ہے ۔موہن راکیش کے یہاں موضوعات کی مختلف جہتیں نظر آتی ہیں ۔فرد معاشرہ اور وقت کے نشیب و فراز کے پیچیدہ مسائل نے راکیش کو فکری سطح پر اپنی گرفت میں رکھا ہے ۔ان کی کہانیوں میں فرسودہ اور غیر حقیقی رسم و رواج کا اختلاف نمایاں نظر آتا ہے ۔موہن راکیش لکھتے ہیں ۔

’’ میرے لیے تجربے کا سیدھا راستہ میری سچائیوں سے ہے اور سچائی ہی میرا زمانہ ہے اور ماحول۔۔آدمی سے خاندان خاندان سے قوم

اور قوم سے انسانی معاشرے کا پورا دائرہ ۔۔میں ان میں سے کسی ایک سے کٹ کر باقی سے منسلک نہیں رہ سکتا ۔۔اپنے پاس کے ماحول

سے آنکھ ہٹا کر دور کی فضا وں میں جی نہیں سکتا‘‘ ( بحوالہ ۔فرقہ ورایت اور اردو ہندی افسانے ،غیاث الدین ، ص ۲۴۸)

راکیش کے خیال میں عصری مسائل و معاملات پر توجہ مرکوز رکھنا اہم فریضہ ہے  گزرے ہوئے زمانے پر آنسو بہانا بے سود ہے ۔درج بالا اقتباس کی روشنی میں ان کی کہانی ’’ ایک اور زندگی ‘‘ پر نظر ڈالتے ہیں ۔کہانی ایک اور ز ندگی ‘‘ دو بیویوں کے درمیان ایک شخص کی بے مزہ زندگی کی ذہنی اور نفسیاتی کشمکش کو اجاگر کیا گیا ہے ۔معاشرے میں پنپنے والے جدید ذہن نے میاں بیوی کے درمیان روایتی زندگی گزارنے کے عمل کو جس طر ح مسمار کیا ہے اور جو خوفناک نتائج دن بدن ہمارے سامنے آرہے ہیں اس کی تصویر یہاں دکھائی دیتی ہے۔اس کہانی میں وینا پرکاش کی پہلی بیوی کی شکل میں سامنے آتی ہے جس سے ایک بیٹا بھی ہے ۔وینا ایک تعلیم یافتہ ،خود دار ،ماڈرن اور اپنی شخصیت سے پر اعتماد لڑکی ہے۔معاشی اعتبار سے بھی وینا پرکاش سے مضبوط ہے ۔وہیں پرکاش بھی اپنی شخصیت کے سلسے میں بیدار ہے شاید یہی وجہ ہے کہ ان دونوں کے درمیان چھوٹے چھوٹے مسائل بھی پہاڑ بن جاتے ہیں اور وہ ایک دوسرے کو اچھی طرح سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے ۔اور بالآخر الگ الگ زندگی گزارنے لگتے ہیں ۔اس درمیان ایک بچے کی ولادت ہوتی ہے جسے خود وینا ایک آکسمک گھٹنا تسلیم کرتی ہے ۔ بچے کی سالگرہ اس کے نانیہال میں ہوتی ہے اس موقع پر پرکاش اپنے دوست کے یہا ں ٹھہرتا ہے اور سسرال نہیں جاتا وہ وینا کو اس بات پر راضی کرنا چاہتاہے کہ میرے احباب کے ذریعے بچے کو تھوڑی دیر کے لیے وہیں بھیج دینا انتظار کی گھڑیا ں گزرتی جاتی ہیں، مہما ن رخصت ہوجاتے ہیںپرکاش کی محبت بھری آنکھیں بچے کے دیدار کو ترس جاتی ہیں اور بالآخر رات کے بارہ بج جاتے ہیں بچہ نہیں آتا ۔اپنے اندر کے بھڑکتے طوفان کو خاموش کرتے ہوئے پرکاش پوری رات گزار دیتاہے ۔بچے کا نہ آنا اسے پریشان کرتاہے اور وہ پھر اطلاع دیتاہے کہ بچے کو بھیج دیاجائے ۔اس بار وینا بچے کو لے کر خود آتی ہے۔اور پھر دونوں آپس میں الفاظ کے ذریعے الجھ جاتے ہیں ۔بقول کہانی کار:

اس دن صبح سے شروع ہونے والی بات آدھی رات تک چلتی رہی ۔پرکاش بار بار کہتا رہا ’’ وینا میں اس بچے کا باپ ہوں ‘‘

باپ ہونے کے ناطے مجھے یہ اختیار تو ہے کہ میں بچے کو اپنے پاس بلا سکوں ‘لیکن وینا کا جواب تھا’’ آپ کے پاس باپ کا دل ہوتا

تو کیا آپ پارٹی میں نہ آتے ؟ آپ مجھ سے پوچھیں تو میں کہو ںگی کہ یہ ایک آکسمک گھٹنا ہی ہے کہ آپ اس کے پتا ہیں ۔

وینا! وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے اس کے چہرے کی طرف دیکھتا رہ گیا ’ تم بتائو، تم چاہتی کیا ہو؟ کچھ بھی نہیں۔ میں آپ سے کیا چاہوں گی ؟

تم نے سوچا ہے کہ اس بچے کے مستقبل کاکیاہوگا ؟  ’’ جب ہم اپنے ہی مستقبل کے بارے میں نہیں سوچ سکتے تو اس کے مستقبل کے بارے

میں کیا سوچیں گے ؟( پرتینیدھی کہانیاں :موہن راکیش۔راجکمل پرکاشن ،نئی دہلی، ص ۸۳)

ازداجی زندگی کے یہ وہ مسائل ہیں جن سے آج کا جدید معاشرہ دو چار ہے ۔ ظاہر ہے کہ آپسی رنجشیں ایک دوسرے کے لیے اس حد تک بڑھ جائیں تو وہ رشتہ اپنی اہمیت اور قدر کھو بیٹھتا ہے ۔بہت غور و فکر کے بعد پرکاش عدالت کا سہارا لیتاہے اور قانونی طور پر دونوں جدا ہو جاتے ہیں ۔پرکاش اپنی منتشر زندگی کو سمیٹنے کی کوشش کرتا ہے اور اس کے ذہن میں ’’ ایک اور زندگی ‘‘ کی تلاش ابھرتی ہے ۔اس خیال کے پر کرنے کے بہانے پرکاش کا ایک دوست اپنی مریضن بہن کی شادی کرانے کی تجویز رکھتا ہے جسے پرکاش قبول کر لیتا ہے ۔لیکن یہ شادی اس کی زندگی کے لیے سوہان روح ثابت ہوتی ہے ۔کیونکہ نرملا ایک نفسیاتی مریضہ تھی جسے ہنسی کا دورہ بار بار آتا ہے ۔پرکاش اس نفسیاتی گرہ کو سمجھنے سے قاصر رہتا ہے ۔ اور گھٹن محسوس کرنے لگتا ہے ۔

’’نرملا ہنستی ہوئی اس کے گھر میں آئی تھی مگر وہ ایک ایسی ہنسی تھی جو ہنسنے کا موقع نہ رہنے پر بھی تھمنے میں نہیں آتی تھی ۔۔۔۔

پرکاش کے سامنے نرملا کے طرح طرح کے روپ آتے رہتے اور اس کا من ایک اندھ کنویں میں بھٹکنے لگتا ۔راستہ چلتے ہوئے اس کے

من میں ایک اندھیرا سا گھر آتا اور وہ انجا ن سا سڑک کے کنارے کھڑا ہو کر سوچنے لگتا کہ وہ گھر میں کیوں آیا ہے ؟ اور کہاں جا رہا ہے ‘‘

(پرتینیدھی کہانیاں ‘‘ موہن راکیش۔ راجکمل پرکاشن ،نئی دہلی۲۰۱۶ء ۔ص ۹۵۔۹۴)

پرکاش کو یہ محسوس ہوتا :۔

’’ اندر ہی اندر گھٹ رہا ہو ۔ کیا یہی وہ زندگی تھی جسے پانے کے لیے اس نے برسوں اپنے آپ سے سنگھرش کیا تھا ۔‘‘

(پرتینیدھی کہانیاں ، ص ۹۵)

قسمت کی اس ستم ظریفی کو کیا کہیے کہ زندگی کی جس خلا کو پر کرنے کے لیے نرملا کو اس نے شریک حیات بنایا تھا وہ ایسی نفسیاتی مریضہ تھی جو شوہر کی ازدواجی زندگی کے تقاضے کو کسی بھی حالت میں پر کرنے سے روکتی ہے بلکہ خود کو پاکیزہ ثابت کرنے اور پاکیزہ رہنے کی بات کرتی ہے ۔ اس کہانی میں کہانی کار نے ازدواجی زندگی کو اپنا موضوع بنایا ہے لیکن اس کے پس پردہ وہ سکون ہی ہے اور انسان کا وہ رویہ کہ وہ کسی بھی صورت میں مصالحت کرنے پر آمادہ نہیں ہے جس کی وجہ سے اس کی زندگی مزید برہمی کا شکار ہو رہی ہے ۔ نتیجتاً پرکاش کو دونوں عورتوں کا روپ مثبت نہیں مل پاتا ۔نتیجے میں وہ کلب کی زندگی کو اپنانے لگتا ہے۔شراب سے اپنے غم کو بھلانے کی کوشش کرتا ہے یعنی وہ دوہری زندگی جینے پر مجبور ہو جاتا ہے ۔ڈاکٹر رمیش چندر شرما کے مطابق :

’’ اس کہانی کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ آزادی کے بعد تبدیل ہونے والے ان ناہموار حالات کی طرف اشارہ کرتی ہے جن سے

خوفزدہ ہو کر ہمارے متعدد انٹلکچئول بے سمتی کا شکار ہو اٹھے تھے ۔روایتی طر ز زندگی میں ان کا یقین نہیں رہا تھا اور نئی صحت مند زندگی میں

قدریں ابھی متعین نہیں ہو پائی تھیں اس لیے وہ اقدار سے متعلق نت نئے تجربے کرتے رہتے تھے لیکن کسی سے بھی انہیں تسکین نہیں مل پاتی

تھی ۔۔۔۔اس میں کہانی کا ر کے ذاتی تجربے نے گہرا تاثر پیدا کر دیا ہے ۔(بحوالہ ۔جدید افسانہ اردو ہندی ۔طارق چھتاری ایڈیشن ،۲۰۱۵۔ص۲۷۸)

نرمل ورما ۔: ساتویں دہائی کا ایک اہم ترین نا م نرمل ورما بھی ہے ۔نرمل ورما نے اپنے عہد کو جس طرح سمجھا اور سمجھ کر جس طرح اپنی کہانیوں میں برتا ہے وہ ان کی انفرادیت کا ایک اہم باب ہے ۔شہری زندگی ،پہاڑ ، جنگل ،سفر اور پردیس کے پس منظر میں ان کی کہانیوں نے تنہائی ،رشتے ،ناطے اور ذات کی تہہ داریوں کا بہت قریب سے مطالعہ و مشاہدہ کیا ہے ۔ ان کی کہانیاں عصری زندگی کی پیچیدگیوں کی آگہی اور بصیرت میں قاری کو شریک کر لیتی ہیں  ڈاکٹر نامور سنگھ ’’کتے کی موت‘‘ مایا درپن اور لندن کی ایک رات‘‘ کے پس منظر میں انہیں پرگتی شیل کہانی کار تسلیم کرتے ہیں ۔وہیں ان کی مشہور زمانہ کہانی ’’ پرندے ‘‘کو نئی کہانی کا نقطہ آغاز بھی بتاتے ہیں آئیے اس کہانی پر نگاہ ڈالتے ہیں ۔کہانی ’’ پرندے ‘‘ آزادی کے بعد ایک مخصوص طبقے میں پنپنے والی نفسیاتی اور ذہنی کشمکش کا کامیاب اظہار ہے ۔اس کا مرکزی کردار لتیکا ہے جو اسکول کی ٹیچر بھی ہے اور وارڈن بھی ۔یہاں آنے کے بعد اس کی زندگی ایک محدود دائرے میں سمٹ گئی ہے ۔جس کی وجہ میجر گریش نیگی سے اس کی ملاقات ہے ۔ڈاکٹر مکر جی نے ایک تقریب میں لتیکا کو گریش نیگی سے متعارف کرایا تھا ۔اس ملاقات کا اثر لتیکا پر یوں ہوتا ہے کہ گریش نیگی کو وہ اپنے مستقبل کا حصہ تصور کرنے لگتی ہے ۔لیکن میجر نیگی اس اسکول کے علاقے سے کشمیر گئے تو پھر لوٹ کر نہیں آئے ۔یہی وہ کرب ہے جو لتیکا کے لیے تنہائی کا سبب بن جاتا ہے اور وہ سردیوں کی طویل چھٹیاں بھی ہاسٹل میں گزار دیتی ہے کہ شاید میجر نیگی لوٹ آئیں ۔ گویا محبت میں اس ناکامی کے باوجود وہ اپنی خوبصورت یادوں کو سینے سے لگائے رکھنا چاہتی ہے اور اسی کے سہارے اپنی زندگی کا سفر بھی طے کرنا چاہتی ہے ۔بقول کہانی کار۔:

’’ لتیکا کو لگا جو وہ یاد کرنا چاہتی ہے وہی بھولنا بھی چاہتی ہے۔لیکن جب وہ سچ مچ بھولنے لگتی ہے تب اسے خوف آتا ہے جیسے کوئی چیز اس

ہاتھوں سے چھین لے جا رہا ہے ۔ایسا کچھ جو صدا کے لیے کھو جائے گا ۔من میں جب کبھی وہ اپنے کسی کھلونے کو کھو دیا کرتی تھی تو وہ گم سم

سی ہو کر سوچا کرتی تھی کہ کہاں رکھ دیا میں نے ؟ جب بہت دوڑ دھوپ کرنے پر کھلونا مل جاتا تو وہ بہانا کرتی کہ ابھی اسے کھوج رہی ہے ۔

جس جگہ پر کھلونا رکھا ہوتا جان بوجھ کر اسے چھوڑ کر گھر کے دوسرے کونوں میں اسے تلاش کرتی تب کھوئی ہوئی چیز یاد رہتی ، اس لیے بھولنے کا

خوف نہیں رہتا تھا ۔ آج وہ بچپن کے اس کھیل کا بہانہ کیوں نہیں کر پاتی ۔بہانہ شاید کرتی ہے ۔ اسے یاد کرنے کا بہانہ جو اسے بھولتا جا رہا ہے

۔۔۔۔دن مہینے بیت جاتے ہیں اور وہ الجھی رہتی ہے ، انجانے میں گریش کا چہرہ دھندلا پڑ جاتا ہے ۔ یاد وہ کرتی ہے لیکن جیسے کسی پرانی تصویر

کے دھول بھرے شیشے کو صاف کر رہی ہے اب وایسا درد نہیں ہوتا صرف اس درد کو یاد کرتی ہے جو پہلے کبھی ہوتا تھا تب اسے اپنے اوپت شرمندگی

ہوتی ہے۔وہ پھر جان بوجھ کر اس زخم کو کریدتی ہے جو بھرتا جا رہا ہے ، خود بخود اس کی کوششوں کے باوجود بھرتا جا رہا ہے ۔‘‘(پرندے ۔ نرمل ورما، بحوالہ ایک دینا سمانانتر۔راجندر یادو،ص ۱۸۶ )

لتیکا کی دلچسپی کسی دوسری جانب نہیں ہوتی لیکن ہیوبرٹ دل ہی دل میں اس کے لیے جذبہ ہمدردی اور الفت کا اظہار بھی ایک خط میں کر چکے ہیں ۔ڈاکٹر مکھرجی بھی لتیکا میں لاشعور ی طور پر دلچسپی کا اظہار اس طرح کرتے ہیں ۔

’’   مس لتیکا میں کبھی کبھی سوچتا ہوں ، کسی چیز کو نہ جاننا اگر غلط ہے تو جان بوجھ کر نہ بھول پانا ہمیشہ جونک کی طرح چپٹے رہنا یہ بھی غلط ہے ۔برماسے

آتے وقت جب میری بیوی کا انتقال ہوگیا تھا ،اس وقت مجھے اپنی زندگی بے کا ر سی لگنے لگی تھی ۔آج اس حادثہ کو عرصہ گزر گیا اور جیسا آپ دیکھتی ہیں ،

میں جی رہاہوں ۔امید ہے کہ عرصہ دراز تک یوں ہی جیتا رہوں گا ۔زندگی کافی دلچسپ لگتی ہے ۔اور اگر عمر کی مجبوری نہ ہوتی تو شاید میں دوسری شادی

کرنے میں بالکل نہ ہچکچا تا۔‘‘( ’[پرندے، نرمل ورما، ایک دنیا سمانانتر ، راجندر یادو، نئی دہلی ۱۹۹۳ ۔ ص ۱۹۱)

میجر ، ہیوبر ٹ ،ڈاکٹر مکھرجی اور تمام لوگ اپنے دل کے نہا خانے میں لتیکا کے لیے جذبہ محبت تو رکھتے ہیں لیکن محبت کی حقیقی تعریف پر کھرا نہیں اترتے ۔یہ سبھی موسمی پرندے ثابت ہوتے ہیں جو وقت کے ساتھ اپنے اپنے سفر پر رواں دواں نظر آتے ہیں ہیں ۔ بقول طارق چھتاری ۔:

’’ اس کہانی کا عنوان بھی اس بات کی تائید کرتا ہے کہ آج کا انسان ان پرندوں کی مانند ہے جو ہر موسم سرما میں انجان

میدانوں کی جانب سفر کرتے ہیں ،راہ کی کسی پہاڑی پر لمحے بھر کے لیے رکتے ہیں اور پھر آگے بڑھ جاتے ہیں ۔جن کی زندگی کا

سفر ایک محدود دائرے میں (ذات کے دائرے میں ) چکر کاٹتا رہتا ہے ۔،بے مقصد اور اپنے اپنے درد کو دل میں چھپائے ۔۔۔!

( جدید افسانہ اردو ہندی ،طارق چھتاری ،ص ۲۶۹)

یہ ایک ایسے کردار کی کہانی ہے جو محبت میں ملے زخم کو اپنے دل میں ہمیشہ تازہ رکھنا چاہتی ہے ۔وہ مختلف پروگراموں میں شامل ہوتی ہے ۔زندگی کے معمولات طے ہوتے رہتے ہیںلیکن اس کے اندر کا کرب ہمیشہ تازہ رہتا ہے اور جب کبھی یہ زخم مندمل ہوتا ہے وہ اسے کرید کر تازہ کر دیتی ہے ۔کہانی کار نے اسے ایک لڑکی نہیں بلکہ ادھیڑ عمر کی عورت کی شکل میں پیش کیا ہے ۔محبت کی راہ میں ایک زخم خوردہ دل کی حسیت کو کہانی کار نے ایک نئے زاویہ نگاہ سے دیکھنے کی ایک کامیا ب کوشش کی ہے۔ٍ

منو بھنڈاری :۔ ہندی افسانوی ادب میں خواتین افسانہ نگاروں کے درمیا ن منو بھنڈاری ایک خاص مقام رکھتی ہیں ۔’’اکیلی ‘‘ ایک پلیٹ سیلاب ‘‘یہی سچ ہے ‘‘ عیسی کے گھر انسان ‘‘مکتی اور سیانی بوا‘‘ ان کے قابل ذکر افسانے ہیں ۔ انہوں نے عورتوں کے طرز معاشرہ ،توہم پرستی ، کھوکھلے رسم و رواج اور ان پر غیر ضروری پابندیوں کے خلاف آوازیں بلند کی ہیں ۔معاشرے کے بنیادی مسائل (خاص کر عورتو ں کے حوالے سے ) کا مشاہدہ کرنے کے بعد عورتوں کی اپنی ضرورتیں ،ان کے مساویانہ حقوق ، نوجوان لڑکیوں کے جنسی اور نفسیاتی مسائل وغیر ہ کو نہایت فنکارانہ ڈھنگ سے پیش کیا ہے ۔آ ئیے کہانی ’’یہی سچ ہے‘‘پر نظر ڈالتے ہیں ۔مغربی تہذیب کے زیر اثر جدید عہد میں عورتوں کی طرز زندگی نے جسمانی اور روحانی طور پر جو آزادانہ روی اختیار کی ہے اس کی تصویر کہانی ’’ یہی سچ ہے ‘‘ میں نمایاں ہے ۔اس کہانی میں تعلیم حاصل کرنے والی لڑکی کا ایک آزادانہ کردار ہمارے سامنے آتا ہے ۔وہ بیک وقت دو لڑکوں سے عشق کرتی ہے ۔ اور دونوں کے ساتھ گزرے ہوئے لمحات اسے سکون بخشتے ہیں جب وہ کانپور میں رہتی ہے تو تو سنجے میں ہی اسے زندگی کے ہر رنگ نظر آتے ہیں اور جب کلکتہ کا سفر کرتی ہے تو قدیم ہم جماعت نشیتھ میں کشش محسوس کرنے لگتی ہے ۔حالات کے اعتبار سے اسے کبھی روحانی تسکین ملتی ہے اور کبھی جنسی جبلت اسے سنجے کی گرفت میں لا دیتی ہے ۔کبھی کبھی دیپا اپنے پہلے پریمی نشیتھ کے لیے پیار کا ظہار اس طرح کرتی ہے ۔

’’ پہلا پیار ہی سچا پیار ہوتا ہے ۔بعد میں کیا ہواپیار تو خود کو بھولنے کا ،بھرمانے کا صرف پریاس ہوتا ہے ۔(پرتیندیدھی کہانیاں ، منو بھنڈاری ۔ص۲۷ راجکمل پرکاشن ،۲۰۱۵ء)

آزادئی نسواں کے زیر اثر تعلیم نسواں کو بھی فروغ حاصل ہوا ۔مخلوط تعلیم مغربی ممالک کی طرح ہندوستان میں بھی رائج ہوئی ۔مخلوط تعلیم کے فوائد اپنی جگہ لیکن آزادانہ میل ملاپ نے جنسی جبلت کو فطری طور پر محسو س کیا ہے۔جس پر کوئی کسی طرح کی بندش لگانے میں کامیاب نہیں ہو سکتا ہے ۔دیپا جب جنسی جبلت سے دو چار ہوتی ہے تو اپنے پہلے عاشق کو بھول جاتی ہے اور یہ محسوس کرتی ہے ۔

’’بس میری بانہوں کی جکڑ کستی جاتی ہے ،کستی جاتی ہے ، ۔۔تبھی میں اپنے بھال پر سنجے کے ادھروں کا اسپرش محسوس کرتی ہوں

اور مجھے لگتا ہے ،یہ اسپرش ،یہ سکھ ،یہ لمحہ ستیہ ہے ،وہ سب جھوٹ تھا ،بھرم تھا۔۔۔۔۔(پرتینیدھی کہانیاں ، منو بھنڈاری ، ص ،۳۰۔راجکمل پرکاشن ،۲۰۱۵ء)

کہانی میں دیپا کا کردار عصری مسائل کی بھر پور ترجمانی کرتا ہے اور یہ احساس دلاتا ہے کہ آج کے عہد میں ہمارے ارد گرد کئی ایسے معاملات پیش آتے ہیں جب ایک لڑکی دو لڑکوں سے وابستہ پائی جاتی ہے ۔ یہ مسائل خون خرابے کی شکل اختیار کر جاتے ہیں ۔یہ ایک انوکھا کردار ہے جو لڑکی کی نفسیات پر غور کرنے کو مجبور کرتاہے ۔اس میں ایک جانب آج کے دور میں ایک لڑکی کی آزاد خیالی اور خود مختاری کی بات پوشیدہ ہے تو دوسری جانب وہ جس کے قریب ہوتی ہے اسی میں کشش محسوس کرنے لگتی ہے ۔اس کہانی میں دیپاکا کردار عشق کی ایک ایسی حقیقت لے کر ابھرتا ہے جو حالات کے تابع ہے ۔طارق چھتاری کے مطابق:

’’ منو بھنڈاری نے یہ کہانی لکھ کر ثابت کردیا کہ عشق کی Reality وہ نہیں ہے جو اب تک ہندی کہانی میں پیش کی جاتی تھی

بلکہ یہ ہے جو اس کہانی کی دیپا کے ساتھ گزر ی ہے۔‘‘(جدید افسانہ اردو ۔ہندی ، طارق چھتاری ۔ایڈیشن ،۲۰۱۵ء ص ۱۲۶)

کچھ اس طرح کا خیال میرا سیکری کا بھی ہے ۔

’’ کہانی کی سب سے بڑ ی خوبی یہ ہے کہ یہاں عورت ایک مختلف روپ لیے ،ایک آزاد شخصیت لیے سامنے آتی ہے ،عورت کا یہ روپ

ہندی کے لیے ایک دم نیا ہے ۔‘‘( جدید افسانہ اردو ہندی ، طارق چھتاری ۔ص ۱۲۶)

گیان رنجن :  گیان رنجن بھی اس عہد سے تعلق رکھنے والے ایک معتبر افسانہ نگار ہیں ۔ان کی کہانیوں میں واقعات اور کردار عام زندگی سے اخذ کیے گئے ہیں۔ انہوں نے زندگی کی مختلف جہات کو اپنے افسانوں میں پیش کیا ہے ۔ان کے افسانے اپنے دور میں عصری حسیت اور خود آگہی کے حامل رہے ہیں ۔میرے پیش نظر ان کی کہانی ’’ فینس کے ادھر اور ادھر ‘‘ ہے فینس ایک ٹوٹی ہوئی دیوار ہے جو دو تہذیبوں کی علامت ہے ۔یعنی ایک وہ تہذیب جو پرانی قدروں کی حامل ہے اور دوسری وہ جو نئی قدروں پر مشتمل ہے ۔یہ کہانی در اصل بدلتے سماجی سروکا رکی کہانی ہے۔جس میں پرانے پڑوسی مکھرجی کے تبادلے کے بعد نئے پڑوسی قیام پذیر ہیں جن کا ایک مختصر کنبہ ہے ۔جب سے نئے پڑوسی آئے ہیں وہ لوگ اپنی دنیا میں مگن رہتے ہیں اپنے ہمسایہ اور آس پاس کے لوگوں سے ان کا کوئی میل جول نہیں رہتاہے۔ دوسری جانب دیوار کے اس پار کی دنیا اس کی خیر و خبر رکھنا چاہتی ہے ۔ان کے بارے میں مسلسل گفتگو کرتی ہے اور دلچسپی لیتی ہے ۔اس کے ذہن میں بار بار یہ خیال آتا ہے کہ ان سے رابطہ کیسے قائم ہو۔لیکن دوسری جانب کے لوگ اپنے ہمسایہ کی فکروں سے بے خبر اپنی دنیا میں مگن رہتے ہیں اور اپنے ہمسایہ میں کوئی دلچسپی نہیں لیتے ۔موجودہ معاشرے میں ایک دوسرے سے لا تعلقی اور نئی پرانی قدروں کے بکھرائو کو کہانی کار یو ں بیان کرتا ہے ۔

’’۔۔۔۔۔بڑے شہروں میں ایک دوسرے سے بے تعلق اور اپنی ذات میں محصور رہنے کی جو خاصیت پائی جاتی ہے غالباًہمارے یہ پڑوسی

اسی خاصیت اور فطرت کے حامل ہیں۔یہ شہر اور یہ محلہ دونوں پر سکون ہیں ۔یہا ں لوگ آہستہ آہستہ چلتے ہیں اور نسبتاً لاابالی سے چہل قدمی

کرتے ہیں کیوں کہ یہاں کی زندگی میں کوئی ہلچل نہیں ہے ۔اسی لیے ہمیں اپنے پڑوسی عجیب لگتے ہیں ۔میں باہر نکلتا ہوں وہ لوگ صبح کی چائے

پی رہے ہوتے ہیں ۔میاں بیوی کے علاوہ ایک لڑکی بھی ہیجو غالباً ان کی بیٹی ہے۔ یہی تین فرد ہمیشہ نظر آتے ہیں ۔ان کے یہاں شاید چوتھا کوئی نہیں

ہے ۔لڑکی اگر چہ خوبصورت تونہیں لیکن سلیقہ شعار معلوم ہوتی ہے ۔ڈھنگ سے میک اپ کرے تو شاید خوبصورت بھی نظر آئے ،میں دیکھتا ہوں کہ وہ

اکثر ہنستی رہتی ہے ۔اس کے ماں باپ بھی ہنستے رہتے ہیں ۔وہ سب ہمیشہ خوش و خرم نظر آتے ہیں ۔وہ کس قسم کی باتیں کرتیہیں اور وہ کیوں ہمیشہ ہنستے

رہتے ہیں ؟ کیا ہر وقت ہنستے رہنے کے لیے ان کی زندگی میں ان گنت خوشگوار واقعات ہیں ؟ کیا وہ زندگی کے پر پیچ اور حقیقی مسائل سے غافل ہیں ؟

مجھے حیرت ہوتی ہے اورمیںاپنے گھر کے افرا د کا ان لوگوںسے موازنہ کرنے لگتا ہوں ۔(فینس کے ادھر اور ادھر، گیان رنجن ،بحوالہ ہندی افسانے ،ص ۔۲۱۳۔۲۱۴)

کہانی کا میں ‘ دل ہی دل میں اس لڑکی سے عشق کر بیٹھتا ہے۔لیکن اس کی شادی کہیںاور ہو جاتی ہے۔دودھ والے سے شادی ہونے کی خبر تو مل گئی لیکن والدین سے جدائی کی اس گھڑی میں اس کی کی آنکھوں میں ایک بوند آنسو نہ تھے ۔یہ حیرت ناک منظر دیکھ کر ما ں کی کربناک آواز دیکھیے ۔

’’ پیٹ کاٹ کر جنہیں پالو پوسو ان کی آنکھوں میں ایک بوند آنسو بھی نہیں ۔۔( فینس کے ادھر اور ادھر ،گیان رنجن، ص۔۲۰۰)

جدید عہد کے اس المیے کو کیا کہیے ؟ بہت پہلے اقبال نے مشینوں کی حکومت کو دل کے لیے موت قرار دیا تھا آج جنریشن گیپ اس طرح حاوی ہے کہ پڑوسی کی شادی محبتیں اور ررسمیں بھی جنریشن گیپ کی نذر ہوگئیں ۔پتا جی کہنے لگے۔

’’ قدیم زمانے میں لڑکیاں رخصتی کے وقت بے تحاشا رویا کرتی تھیں ۔۔۔پتا جی کو بڑا درد ہوتا ہے کہ آج ویسا نہیں ہے ۔۔پرانا زمانہ رخصت ہو رہا ہے

اور آدمی کا دل مشین ہو گیا ہے ۔(ص۔۲۰۰)

اس صورت حال سے تشویشناک حد تک دادی متاثر ہوئیں وہ زیر لب بڑا بڑا رہی ہیں ۔ان کی سمجھ میں نہیں آیا کہ شادی بیاہ ایسے بھی ہوتا ہے ۔ان کا لہجہ تلخ ہو اٹھا ۔

’’۔۔پھر ایسے موقع پر پڑوسی کو نہ پوچھنا ،واہ رے انسانیت ! رام رام ۔۔(فینس کے ادھر اور ادھر ،گیان رنجن،بحوالہ ہندی افسانے،ص۔۲۱۷)

پروفیسر لطف الرحمن نے بجا لکھا ہے   ؎

اتنا  چپ چاپ تعلق پہ  زوال آیا  تھا

دل ہی رویا ہے نہ چہرے پہ ملال آیا تھا

ساتویں دہائی میں خصوصیت سے یاد رکھے جانے والے ان مذکورہ کہانی کاروں کے علاوہ بھی کئی اہم نام ہیں جنہوں نے ساٹھ کے بعد اپنا مقام بنایا اور ہندی کہانی کو ہیئت ، اسلوب ، موضوعات اور فن کی سطح پر اعتبار بخشا ہے جن میں رویندر کالیہ ، ، کاشی ناتھ سنگھ،شری کا نت ورما ،مہرالنساء پرویزدودھ ناتھ سنگھ،ناصرہ شرما ، عبد البسم اللہ ،بلونت سنگھ وغیرہ کے علاوہ ایک طویل فہرست ہے ۔جن کے یہاں انسان کی داخلی کیفیات بھی ہیں ،سماجی حقیقت نگاری بھی اور اپنے عہد کا گہرا سیاسی و سماجی شعور بھی ۔

 

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Name : MD FAIZAN

S/O Late Dr Mozaffar Hasan Aali

MOH – BARADARI , PO+PS SASARAM

DISTT- ROHTAS (BIHAR) 821115

E-mai . faizanzeyai.ssm@gmail.com

Mob   7631887356/ 7903399020

 

 

 

 

(اگر زحمت نہ ہو تو ادبی میراث کے یوٹیوب چینل کو ضرور سبسکرائب کریں    https://www.youtube.com/@adbimiras710/videos

 

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

Home Page

adabi meerasadabi miraasadabi mirasادبی میراثہندی کہانیاں
0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
مظہر امام اور حافظے کی شعریات – پروفیسر سرورالہدیٰ
اگلی پوسٹ
فلسفہ – راجیو پرکاش ساحر

یہ بھی پڑھیں

آج کی اردو کہانی: زبان اور ساخت –...

فروری 2, 2026

شموئل احمد کا افسانہ ’’سنگھار دان‘‘ – طارق...

فروری 1, 2026

منٹو اور نیا افسانہ – پروفیسر شمیم حنفی

اکتوبر 11, 2025

عزیز احمد کی افسانہ نگاری! وارث علوی

اپریل 12, 2025

اکیسویں صدی کی افسانہ نگارخواتین اور عصری مسائل...

مارچ 21, 2025

ہمہ جہت افسانہ نگار: نسیم اشک – یوسف...

جنوری 15, 2025

ڈاکٹر رُوحی قاضی : ایک فراموش کردہ افسانہ...

نومبر 25, 2024

اکیسویں صدی کے افسانے – ڈاکٹر عظیم اللہ...

ستمبر 15, 2024

افسانہ ‘ عید گاہ’ اور ‘عید گاہ سے...

اگست 7, 2024

اندھیری آنکھوں کے سامنے سورج اُگانے والا افسانہ...

اگست 4, 2024

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (118)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں