چند تاثرات(مجموعہ مضامین): ڈاکٹرچمن آرا خاں – ڈاکٹر عبد الرزاق زیادی
ادب اورتعلیم دو مختلف شعبہ جاتِ علم و فن ہیں اور دونوں کے اپنے اپنے علیحدہ طریق ِکار ا ورحدو دعمل ہیں۔دیگر شعبہ جات کی طرح انھیں بھی ایک دوسرے میں ضم کر کے نہیں دیکھا جا سکتا۔ادب ہو یا تعلیمیا پھر کوئی اورشعبۂ حیات ان سے متعلق افراد ان سے ہی منسوب کر کے دیکھے جاتے ہیں۔ اس کے برعکس کچھ ایسی شخصیات بھی ہوتی ہیں جو نہ صرف ایک سے زائد میدانوں میں اپنی شناخت بنانے میں کامیاب نظرآتے ہیں بلکہ وہ ان تمام میں بھی یدطولیٰ رکھتے ہیں۔ ادب او رتعلیم کے باب بھی اس نوع کی شخصیات سے عاری نہیں مگر ایسی شخصیات کا شمار ا نگلیوں پر کیا جا سکتا ہے۔یوں تو مختلف شعبہ جات زندگی سے تعلق رکھنے والے ادباء و شعرااور دانشوران کی کوئی کمی نہیں مگر ایسے افراد جو میدانِ تعلیم میں رہتے ہوئے ادبی دنیا میں بھی اپنی ایک منفرد شناخت قائم کرنے میں کامیاب رہاہو ان کی تعداد بہت کم دیکھنے کو ملتی ہے۔ آزادی کے بعد جن تعلیمی ماہرین و دانشوران کا ذکر آتا ہے اور انھوں نے ایک ادیب و قلم کارکی حیثیت سے بھی اپنی پہچان بنانے میں کامیابی حاصل کی تھی ان میں مولانا ابو الکلام آزاد،ڈاکٹر ذاکر حسین اور خواجہ غلام السیدین کے نام خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ان شخصیات کے بعد ایک زمانے تک ادب و تعلیم کی فضا بے نور سی رہی مگر موجودہ منظرنامے پر نظرڈالیں تو اندازہ ہوگا کہ متعدد ایسے افراد ہیں جن کومیدان ِتعلیم میں رہتے ہوئے بھی ادب میں ایک امتیازحاصل ہے اور ان کے کارنامے بڑے اہم اور قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔تعلیمو ادب کے ان درخشاں ستاروں میں غضنفرعلی،محمد نعمان خاں،ریاض احمد، محمد فاروق انصاری، دیوان حنان خاں، محمد معظم الدین، رضوان الحق اورچمن آرا خاں وغیرہ کے نام خاص طور پر قابل ذکرہیں۔
ڈاکٹر چمن آرا خاں این سی ای آرٹی میں ایسوسی ایٹ پروفیسر ہیں اور تعلیمی میدان میں بڑا وسیع تجربہ رکھتی ہیں۔ ابتدائی و ثانوی تعلیم کے علاوہ ان کی مکمل تعلیم و تربیت معروف دانشگاہ جامعہ ملیہ اسلامیہ سے ہوئی ہے۔ کئی مضامین میں ماسٹرس کے علاوہ ان کے پاس تعلیم و تدریس کا ایک وسیع تجربہ بھی ہے۔ اسکول ہو یایونیورسٹی ہر سطح پر تعلیم و تعلم کا کیا طریق کار اور عمل ہو سکتا ہے ان پروہ نہ صرف گہری نظر رکھتی ہیں بلکہ ان پر ان کی متعدد کتابیں بھی موجود ہیں۔ اب تک ان کی تیارکردہ کئی کتابیں، ترجمے اور ڈکشنریاں این سی ایآرٹی کے پبلی کیشن ڈویژن سے شائع ہو کر منظرعام پر آچکی ہیں اور تاہنوز مختلف پروجیکٹوں پر ان کی کاوشیں جاری و ساری ہیں۔ ان کتابوں میں ہماری زبان، اردو گلدستہ، اردو کِٹ اور سہ لسانی لغات خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔چونکہ ابتدا سے ہی تعلیم کے ساتھ ساتھ یکساں طور پر ڈاکٹر چمن آرا خاں کی دلچسپی ادب سے بھی رہی ہے اس لیے جہاں گاہے بگاہے ان کی مضامین ہندو پاک کے مؤقر و معتبر رسائل و جرائد کی زینت بنتے رہتے ہیں وہیں اب تک ان کی کئی کتابیں بھی قارئین سے داد ِ تحسین حاصل کرچکی ہیں۔ اسی سلسلے کی ایک کڑی زیر نظر مجموعۂ مضامین ”چند تاثرات“بھی ہے۔ ( یہ بھی پڑھیں سرسید کی فکری اساس اور اس کے عصری تقاضے- ڈاکٹرعبد الرزاق زیادی )
زیر تبصرہ کتاب ”چند تاثرات“، جیسا کہ اوپر ذکر ہوا،ڈاکٹر چمن آرا خاں کے مضامین کا مجموعہ ہے۔ اس میں پیش لفظ کے علاوہ کل اٹھارہ مضامین شامل ہیں۔مصنفہ نے اس کو تین حصوں میں تقسیم کر کے حصہ الف کے تحت ادب، حصہ ب کے ضمن میں تعلیم و تدریس اور حصہ ج کے اندر تجزیے شاملِ کتاب کیے ہیں۔ ادب کے باب میں نو مضامین نظیر اکبرآبادی، غالب کی خوش طبعی، اقبال ایک مصلح اور پیامی شاعر، مولولانا ابوا لکلام آزادکی خطوط نگاری،وامق جونپوری، فراق: ہندوستان کے روپ رس کا شعری تلازمہ، ساحر لدھیانوی: درد کو نغمہ بنانے کا جادو، خلیل الرحمن اعظمی:جدید حسیت کے شاعراور عبداللطیف اعظمی: حیات و خدمات شامل ہیں۔ ان مضامین سے جہاں ہمیں ڈاکٹر آرا کے تنقیدی شعور کا پتہ چلتا ہے وہیں ان سے ان کی شخصیت کی ہمہ جہتی، ان کے مطالعے کی وسعت اور گہری و گیرائی کا بھی علم ہوتا ہے۔کلاسیکی ادب ہو یا پھر جدیدیا پھر معاصر ادبی منظر نامہ ہر ایک پر ان کی بڑی گہری اور باریک نظر ہوتی ہے۔نظیر پر ان کا یہ مضمون قارئین کے ذہن میں کئی سوال چھوڑ جاتا ہے۔چنانچہ وہ رقمطراز ہیں:
”نظیر اکبر آبادی ہمارے مقدمین میں سب سے پہلے اور بڑے نظم نگار کی حیثیت رکھتے ہیں۔۔۔نظیر اکبر آبادی پہلے اردو کے شاعر ہیں جنھوں نے نظم کو عام انسانی اور عوامی مسئلوں، جذبات اور احساسات کی تصویر کشی کا وسیلہ بنایا۔ نظیر کی شخصیت بہت منفرد اورانوکھی تھی، اسیوجہ سے انھوں نے ایک خاص نہج پر لکھنے کے بجائے عام لوگوں کے لیے شاعری کی۔ نظیر اکبر آبادی کے زمانے میں چند معیاروں اور اصولوں کو شاعری کی تہذیب میں داخل کیا گیا تھا مثلاً استادی، شاگردی، غزل کی مرصع نگاری، درباری زندگی کا پاس اور امرا کی خوشنودی وغیرہ۔مگر نظیر نے ان باتوں سے انحراف کیا۔ انھوں نے اپنی شاعری کا راستہ خود بنایا۔ دلی اور لکھنؤ کے درباری زندگی اور ماحول سے الگ وہ اکبر آباد میں عام طبقات کے درمیان رہے۔ انھوں نے عوامی زندگی کو بہت قریب سے دیکھا اور محسوس کیا۔“
متذکر ہ بالا اقتباس سے جہاں نظیر کے شعری تقدم کی نوعیت، عوامی احساسات و جذبات کی ترجمانی کی اساس اور عام شعری روایت سے انحراف سے آگہی ہوتی ہے وہیں ان بنیادوں پر بھی روشنی پڑتی ہے جن پر چل کر نظیر کی شاعری کا خمیر تیار ہوا تھا۔مصنفہ نے اس مضمون میں ان مسائل و معاملات کا بھی احاطہ کیا ہے جن کو نظیر نے اپنی شاعری کا مر کز و محور بنایا ہے۔ عام طور پر نظیر کی انفرادیت کی وجہ ان کے یہاں موجود موضوعات و مسائل کی عکاسی تسلیم کی جاتی ہے لیکن ڈاکٹر چمن آرا کے نزدیک اس کاایک بنیادی سبب ان کی زبان بھی ہے۔چنانچہ وہ لکھتی ہیں:
”نظیر نے ان نظموں میں جو زبان استعمال کی ہے وہ خالص ٹکسالی اور قدیم اردو ہے۔نظیر کی لفظیات میں پرندوں کے نام، کبوتروں کی قسمیں، مختلف مذاہب کی اصطلاحیں، پیشہ وروں کی بولی، غرض ہر قسم کے الفاظ کثرت سے پائے جاتے ہیں۔ خصوصاً ہندی الفاظ کو اپنی نظموں میں انھوں نے بہت عمدگی سے برتاہے۔ نظیر نے اردو کے دامن کو لسانی اور موضوعاتی لحاظ سے جو وسعت بخشی اس کی کوئی مثال ہمیں اردو کی تاریخ میں نہیں ملتی۔“ (یہ بھی پڑھیں بچوں کی تعلیم و تربیت اور ادبِ اطفال – ڈاکٹر عبد الرزاق زیادی )
عام طو ر پر نظیر اکبر آبادی پر یہ الزام عائد کیا جاتا ہے کہ ان کے یہاں صحت ِ لفظی کا فقدان ہے۔مصنفہ نے اس مضمون میں اس سوال کو بھی اٹھایا ہے اور بڑے سلیقے سے اس کی دفاع بھی کی ہے۔اس حوالے سے ان کا معروضہ یہ ہے کہ نظیر پر اس طرح کا الزام عائد کرنا بے سرو پا ہے کیونکہ انھوں نے تلفظ کے مطابق لفظوں کو باندھا ہے۔ اپنی شاعری میں نظیر کا نئی نئی لفظی اور صوتی تراکیب کا استعمال باعث نقص ہونے کے بجائے دوسری جانب ان کی شاعری میں خوبی ٹھہرتا ہے بلکہ بقول ابو الکلا م قاسمی کہ’نظیر پر وارد ہونے والے اَن گنت اعتراجات میں سے بعض اعتراض کے حق بہ جانب ہونے کے باوجود کبھی زبان کے تمام امکانات کوکھنگال ڈالنے کے باعث اور کہیں نئی نئی لفظی اور صوتی تراکیب وضع کرنے اور اصطلاحات گھڑ لینے کے سبب ان کی اہمیت مسلم ہے۔اکثر نئی سے نئی صورت حال یا مانوس اور نامانوس مناظر کو لسانی پیرایے پر اس طرح ڈھال دینے کی وجہ سے، کہ ایک بڑا ذخیرۂ الفاظ، اردو زبان کی قوتِ گویائی میں اضافہ کا امکان پیدا کردے، یہ نظیر کی وہ انفرادی صفت ہے جن میں کم شاعر ان کے شریک بتائے جا سکتے ہیں‘۔
”غالب کی خوش طبعی“شامل کتاب دوسرا مضمون ہے۔غالب کی شاعری ہو یا پھر نثر نگاری ان دونوں میں عام قارئیں کی کشش اور توجہ کاایک بنیادی سبب غالب کی خوش طبعی بھی ہے ا سی لیے حالی نے اسے حیوانِ ظریف کہا تھا۔”یاد گارِ غالب‘میں غالب کے حوالے سے حالی کا یہ سب سے زیادہ مشہور ہونے والا جملہ بھی ہے۔ غالب کی شاعری و نثرنگاری کے اس وصف سے ان کے یہاں ایک فکری بصیرت اور گہرائی پیدا ہو گئی ہے۔ ڈاکٹر چمن آرا نے اس مضمو ن میں اس پر بڑی تفصیلی گفتگو کی ہے۔ چنانچہ وہ رقمطراز ہیں:
”غالب کے کلام میں ہمیں شاعرانہ مزاح کے عمدہ نمونے ملتے ہیں۔ شاعرانہ مزاح اس مزاح کو کہتے ہیں جو اگر ابھرے تو تبسم تک آکر رک جائے اور جب بڑھے تو زہر خند ہو جائے۔یہ مزاج شاعر کے احساسات کی گہرائی اور حقائق پر کڑی گرفت کا نتیجہ ہوتا ہے۔ایسا مزاح نگار ایک نمایاں تبسم سے انسان کی توقعات اور خوابوں کے انجام کا احساس دلا کر اسے آنے والی ناکامیوں کے لیے تیار کرتا ہے۔مرزا غالب کے یہاںیہ شاعرانہ مزاح عروج پر نظر آتا ہے۔۔۔غالب کو قدرت نے ظریف طبیعت عطا کی تھی۔ ان کے خطوط میں بھی طنز و مزاح کا عنصر موجود ہے۔ ان خطوط میں قہقہہ بردوش مزاح نہیں ہے بلکہ تبسم زیر لب پیدا کرنے والی حلاوت ہے۔ غالب کے جودت ِ خیال اورشیرینی ِ بیان نے ان خطوط میں ادبی ظرائف کا اضافہ کر دیا ہے۔“
غالب کے ساتھ ساتھ یا پھر غالب کے بعد اقبال کا ذکر نہ ہو،یہ کیسے ممکن ہے۔ڈاکٹر چمن آرا نے بھی اپنی کتاب میں غالب کے بعد اقبال پر قلم بند کیا ہو ا مضمون ”اقبال: ایک مصلح اور پیامی شاعر“ کو جگہ دی ہے۔ اس مضمون میں انھوں نے اقبال کو محض ایک پیامی و مصلح شاعر قرار دینے پر ہی اکتفا نہیں کیا ہے بلکہ اس میں انھوں نے اقبال کے حوالے سے ان رموز و نکات پر بھی بڑی دلچسپ گفتگو کی ہے جو اقبال کو اقبال بناتے ہیں اور انھیں اپنے ماقبل و مابعد کے شعرا سے انفرادیت عطا کرتے ہیں۔خودی، فلسفہئ خودی، اسرارخودی،قومیت، مذہبیت،آفاقیت ان تمام کے حوالے سے اقبال کے جو تصورات تھے ان پر بھرپور روشنی ڈالی گئی ہے۔مضمون کے آخر میں اپنی بات کو مختصر کرتے ہوئے ڈاکٹر چمن آرا لکھتی ہیں:
”اقبال بحیثیت مفکر اور فلسفی ہمیں اس وقت زیادہ متاثر کرتے ہیں جب وہ خودی کے فلسفے سے سرشار ہو کر ہمارے دلوں میں ایک نئی زندگی کا خون دوڑاتے ہیں۔ خودی کے معنی کیا ہیں یہ بہت ہی منطقی لفظ ہے۔ ایک طرح خودی کا مفہوم محض احساس نفس یایقین ذات ہے ہم یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ خودی وحدت و جدانییا شعور کا وہ روشن نقطہ ہے جس سے تمام انسانی تخیلات اور جذبات رواں ہوتے ہیں۔ یہ وہ اہم نقطہ ہے کہ اگر اس کو انسان سمجھ لے تو وہ حقیر قطرہ نہیں رہتا جو انجام کار دریا میں مل جائے بلکہ وہ قطرہ ہے جواپنی ہستی کو زیادہ پائیدار صورت میں استوار کرے۔۔۔یہی وہ مقام ہے خودی کا جہاں اقبال کی روحانی شاعری کے سامنے سجدہ ریز ہوجانے کو جی چاہتاہے۔ اگرہم اقبال کے صرف اس پیغام ِخودی کو اپنی زندگی کے سانچے میں ڈھال لیں تو ہم عارفانہ مقام حاصل کر سکتے ہیں۔جومقام بادشاہی یا پھر خودی ہماری زندگی کی آبرو بن سکتی ہے اس کا وجود ہمارے لیے سیاہی اور عدم ہے روسیاہی خودی انقلاب کی پیامی ہے۔“ (یہ بھی پڑھیں جدید اردو نظم میں ماحولیاتی عناصر – سمیہ محمدی )
”مولانا ابو الکلام آزاد کی خطوط نگاری“ شامل کتاب مضمون میں مصنفہ نے مولانا آزاد کی مکتوب نگاری کا جائزہ لیا ہے۔ یقینا صحافت کے بعد ادبی دنیا میں مولانا آزاد کی شناخت کا بنیادی سبب اگر کچھ ہے تو وہ ہے ان کی خطوط نگاری اور اس میں بھی ”غبار خاطر“کو ایک خاص مقام و مرتبہ حاصل ہے۔اس حوالے سے وہ لکھتی ہیں کہ’غبار خاطر مولانا آزاد کے ان خطوط کا مجموعہ ہے جو انھوں نے قلعہ احمد نگر کی جیل سے مولانا حبیب الرحمان خاں شیروانی کو لکھتے۔ اس میں انھوں نے سیاست کے علاوہ اپنی زندگی پر ایک طائرانہ نگاہ ڈالتے ہوئے اپنے تاثرات کو آزادانہ طو ر پر بیان کیا ہے۔ ”غبار خاطر“ اس لحاظ سے ادبی کارنامہ ہے کہ اس میں مولانا آزاد کی شخصیت ان کے ذوق، دل چسپیوں اور مشاغل کے علاوہ مذہب، فلسفہ، فنون لطیفہ او ر تاریخی معلومات کو نہایت مؤثر اور عمدہ پیرائے میں بیان کیا گیا ہے۔اس کے علاوہ فطرت کے مظاہر، موسم کی تبدیلیوں، پھولوں کے رنگوں، پرندوں کی عادات و طوار وغیرہ پر ایسی معلومات فراہم کرائی گئی ہیں جن میں معرفت اور بصیرت کے بے شمار نکتے موجود ہیں۔ زبان سادہ ہے مگر سادگی میں بھی انھوں نے صنعت کاری کا پورا التزام رکھا ہے۔وہ خیال بندی، استعارہ سازی اور اشعار سے حسنِ بیان کے ساتھ تخلیق کرتے چلے جاتے ہیں۔ ان خطوط میں روز مرہ اور محاوروں کا استعمال نہایت خوبی کے ساتھ کیا گیا ہے۔ عبارت رواں ہے۔’غبار خاطر‘میں ان کی نثر کا رنگ بدلا ہوا ہے۔ پہلے ان کی نثر میں خطیبانہ گونج ہو ا کرتی تھی اب خود کلامی کے بھیس میں ہم کلامی کا عنصر پیدا ہو گیا ہے۔‘
گویا مولاناابو الکلام آزاد کی شخصیت کے تمام پہلو ان کی مکتوب نگاری میں موجزن نظر آتے ہیں۔ڈاکٹر چمن آرا نے اپنے اس مضمون میں بڑی خوش اسلوبی کے ساتھ مولانا آزاد کے خطوط کی مدد سے نہ صرف ان کی فکری و فنی جہات کو اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے بلکہ ان کی شخصیت کے ہست پہلو کو بھی ٹٹولنے کی سعی کی ہے۔”وامق جونپوری“ اردو کے اہم اور ممتاز ترقی پسند ادیب و شاعرہو نے کے باوجود ادبی حلقے میں تو نہیں مگر عام قارئین کی توجہ سے ضرور اوجھل رہے۔ستم تو یہ ہے کہ ناقدین نے بھی ان کی شاعری کو در خور اعتنا سمجھا اور نہ ہی اس پرخامہ فرسائی کی۔ڈاکٹر چمن آرا نے شاید اسی کمی کو دور کرنے کے لیے ان قلم اٹھا یاہے اوراپنے اس مضمون میں ان کے فکر و فن پر بھرپور رشنی ڈالی ہے۔چنانچہ وہ وامق جونپوری کی شاعری پر اظہار خیال کرتے ہوئے رقمطرازہیں:
”وامق جونپوری ترقی پسند شعرا کی صف اول کے شاعر تھے۔ نظریاتی سطح پر وہ اپنی اصل سے ہمیشہ جڑ ے رہے۔ وامق بچپن سے ہی شعر گوئی کی طرف تھے۔کچھ قطعات، رومانی نظمیں اور غزلیں انھوں نے لکھیں۔۔۔وامق جونپوری نے اپنے کلام میں حسن و عشق کے موضوعات کے بجائے سیاسی نظریات اور عوامی تحریک کے جذبات و احساسات کی ترجمانی کی ہے۔ا ن کے یہاں عشقیہ عناصر کی کمی ہے۔ انھوں نے زندگی کے مسائل کا گہرا مطالعہ کیا ہے اور اس کا اظہار اپنی شاعری میں بڑے ہی عمدہ پیرائے میں کیا ہے“ (یہ بھی پڑھیں قصیدہ اور غزل: صنفی امتیازات و افتراقات کے پہلو – ڈاکٹر ساجد ذکی فہمی )
یقیناً وامق جو نپوری اپنے عہد کے ایک ممتا ز اور رمز شناس شاعر تھے۔ انھوں نے ترقی پسندتحریک سے وابستگی کے باوجودبھی اپنی شاعری میں کبھی کوئی حر ف نہیں آنے دیا بلکہ ہمیشہ انھوں نے اپنی انفرادیت کو قائم رکھا۔یہی وجہ ہے کہ ان کے یہاں ایک منفرد شاعرانہ رنگ و آہنگ دیکھائی دیتا ہے۔ ان کی خواہ نظمیں ہوں یا غزلیں ہر ایک پر مصنفہ نے بڑی خوبصورتی کے ساتھ اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔ وامق جو نپوری کی شاعری کے فکری و فنی جائزے کے بعد مصنفہ نے اپنے مضمون ”فراق: ہندوستان کے روپ رس کا شعری تلازمہ“ شامل کتا ب کیا ہے اور اس میں اردو کے معروف شاعر فراق گورکھپوری کی شاعری کا تنقیدی جائزہ لیتے ہوئے اس کے یہاں موجود اس روپ رس کو پیش کیا ہے جو ا ن کی شاعری کا حصہ وخاصہ ہیں۔فراق پر اپنے تأثرات کا اظہار کرتے ہوئے مصنفہ رقمطراز ہیں:
”فراق ایک عظیم شاعر اور نثر نگار تھے۔ انھوں نے شاعری میں غزل، نظم اور رباعی میں طبع آزمائی کی ہے۔نثر میں تنقیدی مضامین، خطوط اور تراجم پیش کیے۔ان کی انفرادیت کا رمز اس واقعے میں مضمر ہے کہ ان کی ہر تحریر میں ان کی شخصیت جلوہ گر ہے۔ انھوں نے شاعری اور نثر دونوں میں ہندوستانی ثقافت ہندو دیو مالائی عناصر کو خاصے رچاؤ اور سلیقے کے ساتھ برتا ہے۔ فراق صحیح معنو ں میں ایک ایسے شاعر ہیں جن کی شاعری میں ہندوستانی عناصر سب سے زیادہ ہیں۔ہندوستانی روح ان کی نس نس میں موجود تھی۔“
گویا بقول خود مصنفہ اس مضمون میں انھوں نے اپنے زمانے کی ایک غیر معمولی ہندوستانی اور بے مثال ادبی شخصیت کی ذہنی جستجو کا افسانہ مرتب کرنے کی کوشش کی ہے جس نے اردو زبان و ادب کو ایک نئی روایت سے روشناس کرایا جو ہندوستانی بھی ہے، ہند اسلامی بھی ہے اور بین الاقوامی بھی۔ ایسی ہمہ گیری اردو ادب کی تاریخ میں معدودے چند ادیبوں میں ملتی ہے۔‘ فراق کے بعد شامل کتاب مضمون ”ساحر لدھیانوی: درد کو نغمہ بنانے کا جادو“ ڈاکٹر چمن آرا کا ایک اہم اور غیر معمولی تنقیدی تخلیق ہے۔ اس میں انھوں نے ساحر کو نہ صرف متعارف کرایا ہے بلکہ ان کے فکر و فن کا بھی بھر پور جائزہ پیش کیا ہے۔عام طور پر ساحر کو ایک ترقی پسند شاعر اور فلمی نغمہ نگار کہہ کر کناررے کر دیا جاتا ہے۔حالانکہ بات ایس نہیں ہے بلکہ بر خلاف اس کے ان کے یہاں بھی فکر وفن کی سطح پر ایک امتیاز نظر آتا ہے جو انھیں نہ صرف فلمی دنیا سے وابستہ شعرا سے انفرادیت عطا کرتا ہے بلکہ عام اور مقبول شعرا کی صف میں بھی ان کو جگہ عطاکرتا ہے۔ اس حوالے سے جاں نثار اختر کا یہ اقتباس ملاحظہ ہو:
”ساحر کا کارنامہ یہ ہے کہ اس نے فلموں کو ایسے گیت دیے جو سیاسی اور سماجی شعور سے لبریز ہیںیہ ایک بڑا قدم ہے جو ساحر نے دلیری سے اٹھا یا، وہ ہمارے بعض دوسرے شاعروں کی طرح فلمی دنیا کی گندگی میں ڈوب کر نہیں رہ گیا اس نے اپنے قلم کی قوت سے فلمی گیتوں کو اگر ایک طرف حسن کی لطافت اور نزاکت اور عشق کا درد اور کسک بخشی تو دوسری طرف سماجی، مادی اور اقتصادی شعور دیا۔“
مصنفہ نے ساحر کی شاعری کے مذکورہ بالا حسن و جمال اور فکر و فلسفہ پر بڑی خوبصورتی کے ساتھ روشنی ڈالی ہے اوراس مضموں میں انھوں نے ان تمام نکات کو سامنے لانے کی کوشش کی ہے جس کی بدولت ساحر کی فکری وفنی جہات کی پرتیں وا ہو سکیں۔جدید شاعری اوربالخصوص نئی غزل کے حوالے سے ناصر کاظمی کے بعد جن شعرا کا نام سر دست لیا جا تا ہے ان میں خلیل الرحمن اعظمی خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔خلیل الرحمن اعظمی اردو کے ان شعرا و ناقدین میں سے ایک ہیں جن کی شناخت ایک شاعر و نثر نگار ہر دو حیثیت سے بہت مقبول و معروف ہے۔ڈاکٹر چمن آرا خاں نے شامل ِ کتاب مضمون”خلیل الرحمن اعظمی: جدید حسیت کے شاعر“ میں ان کی شاعری کا بھر پور جائزہ پیش کیا ہے۔چنانچہ وہ لکھتی ہیں:
”خلیل الرحمن اعظمی ایک منفرد شاعر تھے۔ان کی شاعری کی دنیا خاصی وسیع تھی۔ان کے یہاں حقیقت اور بصیرت کا خوبصورت امتزاج ملتا ہے۔انھوں نے ماضی، حا ل اور مستقبل تینوں ادوار کے خیالات، جذبات اور احساسات و تاثرات کو اپنی شعری تخلیقات میں بہت ہی سلیقے سے برتا ہے۔انھوں نے جب شاعری کا آغاز کیا تو ا س وقت ترقی پسندی او ر کلاسیکی شاعری کے اثرات ان پر حاوی تھے۔۔۔جب انھوں نے کلاسیکی شاعری کا مطالعہ کیا تو اس کی روشنی میں شعری اور ادبی رویے قائم کیے۔ انھوں نے قدیم کلاسیکی ادب اور شاعری کے مطالعے سے نہ صرف غزل گوئی کے فن اور آداب کو سمجھا بلکہ نظم نگاری کا بھی ان کو خاصا شعور اور ادراک حاصل ہوا۔یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری میں کلاسیکی شاعری کے انداز، لب و لہجہ اور آہنگ کے گہرے اثرات نظرآتے ہیں۔“
خلیل الرحمن اعظمی کے یہی وہ شعری اوصاف ہیں جو انھیں جہاں اپنے عہد کے شعرا میں ممتاز بناتے ہیں وہیں انھیں ایک انفرادی مقام بھی عطا کرتے ہیں۔خلیل الرحمن اعظمی کا شعری شعور اپنے ہم عصروں میں حد درجہ بالیدہ تھا۔ انھوں نے کبھی کسی بندھے ٹکے اصول یا فیشن کے طور پر شاعری نہیں کی تھی بلکہ ہمیشہ انھوں نے کلاسک کا دامن تھامے رکھا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری میں ایک خاص رنگ پیدا ہو گیا بلکہ بقول آل احمد سرور’ان کی غزلیں اپنے لطیف اشاروں کی بلاغت کی وجہ سے ا س دور کے سنگ وساز کی کتنی ہی داستانیں اپنے اندر سموئے ہوئے ہیں۔ان کی نظمیں فطرت کے چمن اور دھرتی کی بُو باس کے ساتھ کتنے ہی زخموں کے چمن بھی لیے ہوئے ہیں۔فیشن یا فارمولے سے ہٹ کر اعظمی نے معنی خیز اور قابل قدر شاعری کی ہے۔ ان کے اسلوب میں دھیمی بہنے والی جوئے دل نشیں کی سی روانی ہے ان کے خوابوں اور دھندلکوں میں زندگی کا چہرا کچھ اور روشن نظر آتا ہے۔‘
زیر تبصرہ کتا ب میں ادبی مضامین کے ضمن میں شامل ہونے والا آخری مضمون”عبداللطیف اعظمی -حیات و خدمات“ ہے۔ اس میں،جیسا کہ عنوان سے ہی ظاہر ہے،عبداللطیف اعظمی کی زندگی کا ایک سرسری خاکہ پیش کیا گیا ہے۔نام، پیدائش، ابتدائی تعلیم،اعلیٰ تعلیم، ملازمت اور پھراس درمیان میں ان کی مختلف ذمہ داریوں، مختلف اداروں سے وابستگی، متعدد علمی و ادبی شخصیات سے ملاقات و مراسم، ادب و صحافت کے علاوہ ان کی تصنیفات و تالیفات کا بھی اس میں ایک سر سری جائزموجودہے۔مضمون کا آخری پیرا اس جملے کے ساتھ ختم ہوتا ہے کہ ’غرض، لطیف صاحب جامعہ کی ان اہم شخصیات میں سے ایک ہیں جنھیں کبھی بھلایا نہیں جا سکتا۔‘
زیر نظر کتاب’’چند تاثرات“ کا دوسرا حصہ ’جیسا کہ متذکرہ بالا سطور میں ذکر ہوا، تعلیم و تدریس پر مشتمل ہے۔اس حوالے سے مصنفہ نے پانچ مضامین بچوں کے کردار کی تعمیر میں خاندان کا رول، تعلیم اور جمہوریت کا باہمی رشتہ، پرائمری تعلیم کے مسائل، بچوں کا ادب اور اس کی خصوصیات اور زبان کی تدریس کے جدید طریقہ کارکو شامل کتاب کیا ہے۔”بچوں کے کردار کی تعمیر میں خاندان کا رول“میں مضمون نگار نے گھر،خاندان، والدین، بچے اور ان کی تعلیم گاہوں اور تربیتی اداروں میں خاندان کی اہمیت اور اس کے کردار پرروشنی ڈالی ہے۔ اس ضمن میں ذیل کا اقتباس ملاحظہ ہو:
”خاندان وہ ابتدائی گروپ ہے جو اس کے مختلف ممبروں کے مابین وہ باہمی ربط و ضبط اور میل ملاپ کی زندگی کی عکاسی کرتا ہے۔اس کے مقابلے میں کوئی بھی ایسا تجربہ نہیں ہے جو نسل انسانی کو ایک دوسرے سے اتنی زیادہ تعلیم باہم پہنچا سکے۔ گویا کہ گھر کے ضابطہ تعلیم کی سب سے زیادہ نمایاں خوبییہ ہے۔یہ بچپن میں مکمل سماجی ماحولیات بہم پہنچا تا ہے۔ بچوں کی زندگی میں گھر ایک ایسامکمل سماجی ماحول ہے جو بچوں کی زندگی پر اور اس کے مستقبل کی سماجی تشکیل میں سب سے بڑا وسیلہ ثابت ہوتا ہے۔۔۔بچوں کو تعلیم میں خاندان کا رول سب سے زیادہ ہے۔ یہ در اصل سوسائٹی میں سماجی، سیا سی، اخلاقی، اقتصادی، ذہنی اور مذہبی قدروں سے واقف کرانے کا بہت اہم میدان ہے۔“
”تعلیم اور جمہوریت کا باہمی رشتہ“ میں جہاں مضمون نگار نے ان دونوں کے مابین رشتے کی وضاحت کی ہے وہیں اس سے قبل تعلیم، فلسفہ تعلیم، جمہوریت اور اس کی تعریف و تفہیم پر بھی مختلف حوالوں سے روشنی ڈالی ہے۔ ان کے نزدیک جمہوریت کا مطلب ہے مذہب اور ذات پات میں امتیاز کیے بغیر ایک شخص کو سماج میں اپنی ترقی کے لیے برابر مواقع بہم پہنچائے جائیں تاکہ ہر شخص اپنی صلاحیت اور قابلیت کے مطابق خود کو اور سماج کو ترقیوں کی راہ پر گامزن کر سکے۔اس اصول کے مطابق جمہوری تعلیم پر اظہار خیال کرتے ہوئے مصنفہ رقم رقمطراز ہیں:
”تعلیم کے سلسلے میں اس اصول کا مطلب یہ ہے کہ ایک خاص سطح تک مفت اور لازمی تعلیم سب کے لیے مہیا کی جائے۔ہند کے دستور آئین کی دفعہ 45میں ہدایت کی گئی ہے: ریاست کو کوشش کرنی ہو گی کہ دستور کے نفاذ کے بعد دس سال کی مدت میں تمام بچوں کے لیے چودہ سال کی عمر پوری ہونے تک مفت اور لازمی تعلیم مہیا کرے۔بنیادی تعلیم بلا امتیاز مذہب و ملت ذات سب کو ایک ہی اسکول میں داخل کرنے پر زور دیتی ہے۔۔۔جمہورری تعلیم روایتی طور پر خاموشی سے تعلیم حاصل کرکے نہیں دی جاتی ہے بلکہ کا م کے ذریعے کچھ سیکھنے اور جاننے کے طریقہئ کار کو ہی جمہوری تعلیم کہتے ہیں۔اسکول معاشرتی زندگی کا ایک نمونہ ہے جس میں طلبا اپنے ماحول کے اندر اپنی بامقصد سرگرمیوں کے ذریعے کچھ سیکھتے ہیں اس طرح کی تعلیم طلبا میں ہمت اور اعتماد پیدا کرتے ہے۔ یہ تنقیدی تجزیے کی روح پیدا کرتی ہے اور کسی مسئلے کے حل یا معاملے کا فیصلہ کرنے کی راہ دکھاتی ہے۔ اس طرح طلبا میں ایک دوسرے کو سمجھنے اور مختلف طبقوں کے لڑکے او ر لڑکیوں کے درمیان باہمی اعتماد اشتراک، تحمل اور سماجی خدمت کا جذبہ پیدا کرتی ہے۔“
اس مضمون کے ذریعہ مصنفہ نے اس بات پر زور دیا ہے کہ واقعی اگر ملک میں جمہوریت کی تعلیم کو فروغ دینا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے مقصد کے مطابق سبھی اسکولوں کا نصاب تعلیم متعین کرنا ہوگا تاکہ ہماری تعلیم گاہوں سے جو طلبا فارغ ہو کر نکلیں وہ باوصف اور مثبت ذہن کے حامل ہوں۔1966کے انڈین ایجوکیشن کمیشن کے مطابق ہمیں اپنے معاشرے کے لیے ایسے افراد کی ضرورت ہے جو وسیع القلب، تحمل مزاج، بردبار اور ایک دوسرے کے ساتھ مل جل کر زندگی گزارنے والے ہوں اور یہ سب چیزیں جمہوری تعلیم کے فروغ کے ساتھ ہی حاصل ہو سکتی ہیں۔”پرائمری تعلیم کے مسائل“ مضمون میں مصنفہ نے پرائمری ایجوکیشن پر بھر پور روشنی ڈالی ہے۔آزادی کے بعد ہندوستان میں ایک زمانے تک پرائمری ایجو کیشن پر وہ توجہ نہیں دی گئی جو دی جانی چاہئے تھی۔اس تعلق سے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے ڈاکٹر چمن آرا لکھتی ہیں:
”ملک کی آزادی کے بعد ابتدائی تعلیم نے بڑی اہمیت اختیار کر لی اور سوشل ایجوکیشن کو ملک کی ترقی کے لیے لازمی قرادیاگیا۔ ناخواندگی کی لعنت کو قومی سطح پر محسوس کیا گیا اور اس طرح عوام اور حکومت دونوں کی زیادہ سے زیادہ توجہ محسوس کی گئی اس لیے بیسک ایجوکیشن کو بچوں کی شخصیت کو اجاگر کرنے کے لیے قومی نظام میں تعلیم مانا گیا۔۔۔ 1871ء میں تعلیم صوبائی حکومتوں کی ذمہ داری قردی گئی اس سے ابتدائی تعلیم کے پھیلنے میں مدد ملی۔ 1982میں ہنٹر کمیشن قائم کیا گیایہ ہندوستان کا پہلا تعلیمی کمیشن تھا۔ اس کمیشن کا مقصد ابتدائی تعلیم پر نظر ثانی کرنا تھا۔ اس سلسلے میں پیداشدہ تنازعا ت کو حل کرنے کی تجویز پیش کرنا شامل تھا۔ 1982میں سکنڈری اسکولوں کی تعداد میں 3 ہزار سے کچھ زیادہ اسکولوں کا اضافہ ہوا جو بہت ہی تسلی بخش تھا۔ مگر پرائمری تعلیم نظر انداز رہی۔ کمیشن نے اپنی تمام تر توجہ پرائمری تعلیم پر مرکوز کی اور پالیسی انتظامیہ دیہی اسکولوں کی ہمت افزائی، ٹیچروں کی تربیت اور مالیات پر اصل توجہ دی۔“
پرائمری تعلیم کے بعد مصنفہ نے مضمون ”بچوں کا ادب اور اس کی خصوصیات“پر روشنی ڈالی ہے۔اس ضمن میں انھوں نے بچوں کی سماجی اہمیت، ا ن کی تعلیم و تربیت، بچوں کی زبان و ادب، ادب اطفال کی نوعیت، ادب کے ذریعے بچوں کی تعلیم وغیرہ پر بڑے ہی مؤثر انداز میں گفتگو کی ہے۔چونکہ بچے ہی ہمارا مستقبل ہیں اور ان کی تعلیم و تربیت اور کامیابی و کامرانی پر ہی ہمارے ملک کی کامیابی و کامرانی کا انحصار ہے اس لیے ان کی اچھی تربیت ہماری ترجیحات کا حصہ ہونا چاہئے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم ان کو اچھے سے اچھا ادب فراہم کریں۔ڈاکٹر چمن آرا بچوں کے ادب کا ذکرکرتے ہوئے لکھتی ہیں:
”بچوں کے ادب میں سب ہی کچھ ہے جیسے جادوئی کہانیاں، نظمیں، گیت اور اخلاقی مضامین۔ اس کے علاوہ سیر و سیاحت وغیرہ پر بھی کہانیاں بہت ملتی ہیں۔ ان سب کو بچوں کے ادب کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ ہمارے خیال سے بچوں کا ادب وہ ہے جس میں بچوں کی دل چسپی اور ان کی نفسیات کو مد نظر رکھتے ہوئے ان کی عمراور ذہات کے مطابق لکھا جاتا ہے۔ جب تک بچوں کے ادب کو ان کے معیار کے مطابق نہیں لکھا جائے گا تب تک وہ بچوں کی دل چسپی کی وجہ نہیں بن سکتا۔ زبان و بیان بھی سادہ او ر آسان ہو۔۔۔بچو ں کے ادب کے موضوعات بھی دل چسپ ہونے چاہئیں۔ ا ن میں تنوع اور رنگا رنگی ہو۔“
”زبان کی تدریس کے جدید طریقۂ کار“ شامل کتاب مضمون تدریس سے متعلق بڑا اہم اور کار آمد ہے۔ ہندوستان کے متعدد مؤقر و معتبر رسائل وجرائد میں اس کاشائع ہونااس کی اہمیت و افادیت پردال ہے۔چونکہ زبان کا سیکھنا جتنا مشکل نہیں ہوتا اس سے کہیں زیادہ اسے دوسروں کو سکھانا دشوار طلب ہوتا ہے۔اس کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں مثلاً اس کے سکھانے کا کوئی بندھا ٹکا اصول نہ ہونا، مقاصد میں عدمِ یکسانیت کا پایا جانا، سیکھنے والے کی قوت و عمل میں اختلاف وغیرہ۔مگر باوجود اس کے کچھ ماہرین تعلیم نے اپنی اپنی حیثیت سے تدریس زبان کے کچھ طریقے او راصول و ضوابط ضرور بتائے ہیں۔ مصنفہ نے بھی ان پر ان الفاظ میں روشنی ڈالی ہے۔ چنانچہ وہ رقمطراز ہیں:
”زبان سکھانے میں طریقۂ کار کی خاص اہمیت ہوتی ہے۔ یوں توزبان سکھانے کے کئی طریقے ہوتے ہیں۔ مگر پچھلی کئی دہائیوں سے اسے فوقیت بھی دی جاتی رہی ہے مثلاً براہِ راست طریقہ کار، صوتی طریق کار اور قواعدی طریقہئ کاروغیرہ لیکن ان تمام طریقوں کا بنیادی مقصد مواد کے انتخاب، مواد کی تقسیم اور اس کے پیش کرنے اور دہرانے کے عمل پر منحصر ہے۔ زبان کے اساتذہ ان طریقوں میں سے کسی ایک کو اختیار کر کے تعلیم کے مقاصد کو پیش نظر رکھے تو اس کے لیے زبان سکھانا زیادہ آسان ہو جاتا ہے۔۔۔زبان کی تعلیم کے چار مقاصد ہیں مثلاً سننے، بولنے، پڑھنے اور لکھنے کی مہارت۔“
کسی بھی بچے کو زبان سکھانے کے یہی وہ چار مقاصد ہیں جن کا اوپر ذکر ہوا لیکن ان کا حصول تبھی ممکن ہو سکتا ہے جب بچوں میں اس زبان کے سیکھنے کی دلچسپی موجود ہو۔واضح رہے کہ زبان سکھاتے وقت چاہے جو بھی طریقۂ کار ااختیار کیا جائے مگر اس میں زیادہ سے زیادہ دل چسپی کا عنصر پیدا کرنا ضروری ہے۔کیونکہ تب تک کوئی طریق کار دلچسپ نہیں ہوسکتا جب تک کہ اس میں لطف موجو نہ ہو اور بقول مصنفہ دل چسپی کو بر قرار رکھنے کے لیے چند باتوں کا ذہن نشیں کر لینا ضروری ہے مثلاً ہر لفظ کی ساخت اور الفاظ کے استعمال کو سمجھنا، بات چیت کے انداز کو فروغ دینا وغیرہ۔
کتاب کے تیسرے حصے میں تجزیے کے تحت تین مضامین اردو زبان منزل بہ منزل، کفن کا تجزیاتی مطالعہ اور تعزیر اور زخم دل کا تجزیہ۔اول الذکر مضمون میں، جیسا کہ عنوان سے ہی واضح ہے‘ اردو زبان کی ابتدا،تعمیر و تشکیل، اس کا پس منظر اور اسباب و علل پر بڑے ہی مدلل انداز میں روشنی ڈالی گئی ہے۔یوں تو اردو زبان کے آغاز کے حوالے سے مختلف نظریات موجود ہیں اور ہر ایک کی اپنی اپنی دلیلیں بھی ہیں لیکن تمام لوگوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ یہ مختلف قوموں اور تہذیبوں کے میل جو ل سے ہی معرض وجود میں آئی تھی۔اردو کے قدیم و جدید ادب پر گہری نظر رکھنے والے اور معروف ترقی پسند ناقدڈاکٹر محمد حسن اس حوالے سے لکھتے ہیں:
”اردو ادب کا فروغ تہذیبوں کے اختلاط سے ہوا، مگر ان تہذیبوں کا غالباً ہندوستانی اور ترک ایرانی کہنا زیادہ مناسب ہوگا۔ ہندوستانی اور ترک ایرانی تہذیبیں خود کئی منازل و مراحل سے گزری ہیں اور کئی تہذیبوں وحدتوں سے مل کر بنی ہیں۔ لیکن ہندوستانی اور ایرانی دونوں آریائی تہذیبیں تھیں اور چوں کہ ان دونوں میں نسلی مناسبت تھی لہذا مشترکہ اقدار و تصورات کا ذخیرہ بھی موجود تھا۔ اردو زبان و ادب کی فکری اور جذباتی بنیاد مشترکہ ذخیرہ ئ اقدار پر ہے۔“
ڈاکٹر چمن آرا نے بھی اپنے اس مضمون میں اردو زبان و ادب کے آغاز و ارتقا، تعمیر وتشکیل اور اس کے پس منظرکے حوالے سے کچھ اسی طرح کے خیالات ظاہر کیے ہیں۔وہ لکھتی ہیں:
”اردو ہمارے مشترکہ کلچر کی علم بر دار ہے۔ یہ زبان تاریخ کا کوئی عجوبہ یا اچانک رونما ہونے والا واقعہ نہیں ہے۔ اس کی تشکیل مختلف قوموں کے میل جول اور تہذیب کے باہمی اختلاط کے نتیجے میں ہوئی۔۔۔اردو کی تشکیل میں ہند آریائی عناصر کا رول بہت اہم رہا ہے۔اس کے مزاج میں وہ تمام اوصاف او ر اقدار موجود ہیں جو آریائی، ایرانی اور موہن جوداڑو اور ہڑپا ئی تہذیبوں سے مخصوص تھیں۔ اس کے علاوہ عر بون کے اثرات نے بھی اس کا خاکہ تیار کرنے میں مدد دی۔ مگر اردو نے ترک اور ایرانی مسلمانوں کے اثرات زیادہ قبول کیے۔ نتیجہیہ ہوا کہ اس میں ایک خاص طرح کی آزا د خیالی، وسیع المشربی اور رواداری آگئی۔۔۔اردو ایشیا کی واحد زبان ہے جس میں بہت سی زبانوں اور بے شمار بولیوں کے الفاظ موجود ہیں۔ اردو تقریبا آٹھ سو سال تک عوام الناس کی زبان رہی ہے۔ یہ ہندوستان میں پیدا ہوئی اور یہیں اس نے پرورش پائی۔ چنانچہ اردو کا جسم اور اس کی روح کا بنیادی شناس نامہ ا س کی ہندوستانیت ہے۔ یقینا اردو کی روح ہندوستانیت ہے۔گرچہ اس زبان نے ملک ہندوستان میں جنم لیا،یہیں اس کی پر ورش و پرداخت بھی ہوئی اور پھر پوری دنیا میں اس کی خوشبو پھیل گئی مگر اپنے ہی وطن میں یہ زبان اجنبی رہی،آزادی کے بعد تو اردو زبان کو نہ صرف حد درجہ جارحیت کا سامنا رہا بلکہ اسے غیر ملکی زبان تک بھی قراردیا گیا۔ ستم بالا ئے ستم سیاسی رنگ دے کر اس زبان کو ہندو مسلم فرقہ واریت کا مسئلہ بھی بنا دیا گیا اور تاہنوز یہ سلسلہ جاری ہے۔آزادی کے بعد اردو کی صورت حال، آرٹیکل 29(1) کے تحت زبان وتہذیب کی حفاظت و صیانت کا حق، پارلیمنٹمیں اردو زبان کی ترویج و اشاعت کے لیے ریزولیوشن پیش کرنا، گجرال کمیٹی کی سفارشات اور پھر ان کے رد عمل میں مختلف کمیٹیوں کی تشکیلات اور پھر ان کے نتائج وغیرہ ان تما م نکات پر مصنفہ نے بڑ ی تفصیل سے مدلل انداز میں گفتگو کی ہے۔ اس پوری تفصیل کے خلاصے کے طور پر انھوں نے لکھا ہے کہ ’میں اس ضمن میںیہ بھی کہوں گی کہ اردو ہمارا مستقبل بھی ہے۔ اردو نہیں رہی تو ہم بھی نہیں رہیں گے۔ چنانچہ اردو کی بقا سے ہماری اپنی بقا کا سوال بھی جڑا ہوا ہے۔ شاید اس ملک کی جمہوریت اور سیکولرازم کا سوال بی اسی سوال میں شامل ہے۔‘ (یہ بھی پڑھیں آل احمد سرور کی اقبال فہمی – پروفیسر کوثر مظہری )
کتاب کے آخر میں دو تجزے شامل ہیں۔پہلا تجزیہ اردو کے شاہکار افسانہ ’کفن‘ کا ہے جبکہ دوسرے تجزیے میں ابوالفضل صدیقی کے دو ناول شامل ہیں۔یوں تو پریم چند کے اس افسانے کے متعدد تجزیے آچکے ہیں اور ہر ناقد نے اپنے اپنے اعتبار سے اس کے افہام و تفہیم کی سعی کی ہے مگر ڈاکٹر چمن آراکے اس تجزے کا امتیازیہ ہے کہ اس میں انھوں نے افسانے کا نہ صرف فکری و فنی جائزہ لیا ہے بلکہ اس کے سماج،سیاسی، معاشرتی و اخلاقی اقدار کے تعین کی بھی کوشش کی ہے۔نیز اس میں انھوں نے اس کے کچھ نقائص کی بھی نشان دہی کی ہے۔ افسانہ ”کفن“ کے تجزیے کا آغاز ان الفاظ کے ساتھ ہو تا ہے:
”’کفن‘ منشی پریم چند کا مشہور افسانہ ہے۔اس افسانے میں ہندوستان کے ایک غریب طبقے کا منظر دل دوز انداز میں پیش کیا گیا ہے۔یہ ایک ایسی ٹریجڈی ہے جس میں ایک زندگی کی مشکلات اور پریشانیوں کو بیان کیا ہے وہیں دوسری طرف معاشرتی زبوں حالی، سماجی پسماندگی اورنا خواندگی کی وجہ سے سماج میں پیدا ہونے والی بے شمار خرابیوں کی جانب بھی نشان دہی کی گئی ہے۔“
س تمہدی گفتگو کے بعد مضمون نگار نے اس کی کہانی کو اپنے الفاظ میں بڑی خوبصورتی اور مؤثر اندازمیں بیان کی ہے۔مصنفہ کے اعتبار سے افسانہ ’کفن‘ کو پریم چند نے تین الگ الگ حصوں میں بیان کیا ہے۔پہلے حصے میں ہم کہانی کے مرکزی کردارگھیسو(باپ)، مادھو(بیٹا)،اور بدھیا(مادھو کی بیوی)سے متعارف ہوتے ہیں۔ اس تعارف کے ساتھ پس منظر کے طور پر وہ پوری صورت حال بھی سامنے آجاتی ہے جس میںیہ کردار اپنی بود و باش اختیار کرتے ہیں۔نیز اس میں ا ن کرداروں کی ان حرکات و سکنات سے بھی پردہ اٹھایا جاتا ہے جو ان کے ساتھ خاص تھیں بلکہ اس کے ذریعے افسانہ نگار نے ہر ان سچے کر دار کے بھی راز فاش کیے ہیں جو سماج میں ہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظرِ فردا ہوتے ہیں۔دوسرے حصے میں مادھو کی بیوی بدھیا کی موت،اس کی وجہ سے ان دونوں پر مرتب ہونے والے اثرات، کفن کے لیے چندہ وصول کرنے کی کوشش اور پھر بدھیا کے کفن کے نام پر حاصل ہونے والے چندے کو شراب وکباب میں اڑادیناوغیرہ ان تمام کا بیان ہے۔تیسرے حصے میں غربت و افلاس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی اس بے کسی و بے حسی کو طشت ازبام کیا گیا ہے جو عام طور پر ہمارے سماج کے نچلے طبقے میں دیکھنے کو ملتی ہے۔اس حصے کے اختتام پر بقول مصنفہ ’ہمیں ایسے موڑ پر لے جا کر بالکل تنہا چھوڑ دیتا ہے کہ جہاں بظاہر کہانی ختم ہو جاتی ہے مگر ہم خود کو ایک ایسے سناٹے میں پاتے ہیں جہاں بے ضمیری کا مظاہرہ کرنے والے دو کرداروں کا سامنا کرنے کے بعد رد عمل میں ہمیں سوائے اپنے ضمیر کی آواز کے کچھ اور سنائی نہیں دیتا‘۔
افسانہ ”کفن“ میں پریم چند کے یہا ں کہانی کہنے کا جو سلیقہ دیکھنے کو ملتا ہے وہ ان کے دیگر افسانوں سے باکل مختلف ہے۔ افسانے کا پلاٹ، کردار نگاری، مکالمہ نگاری،منظر نگاری، افسانے میں موجود وحدت تاثر ان تمام میں ان کے یہاں ایک قسم کا اچھوتا پن اور ندرت کا احسا س ہوتا ہے۔مصنفہ نے ان تمام نکات پر بڑی تفصیل اور مدلل انداز میں گفتگو کی ہے۔افسانہ ’کفن‘ کا تجزیہ مندرجہ ذیل الفاظ کے ساتھ ختم ہوتا ہے:
”’کفن‘ کے تجزیاتی مطالعے کے بعد ہم ایک بار اس حقیقت کا اعتراف کرتے ہیں کہ کہانی کہنے کے سلیقے، پلاٹ کی تعمیر و تشکیل کی ہنر مندی اور کرداروں کو زندہ و جاوید بنا کر پیش کرنے کے سبب پریم چند نے اس کہانی کو قریب قریب ایک شاہکار بنا دیا ہے۔ یہ کہانی دو ایک کمزوریوں کے باوجود مصنف کی دوسری تمام کہانیوں سے بہتر کہی جا سکتی ہے۔ اس میں مصنف نے تکنیک کا ایک بالکل نیا تجربہ بھی کیا ہے۔ اس میں بنیا دی طور پر فوٹو گرافی کی تکنیک استعمال کی گئی ہے۔ مگر اس کے ساتھ ہی حکائی انداز کی آمیزش نے اس میں ایک متحرک امیجری کی شان پیدا کردی ہے۔ اس طرح کفن کئی اعتبار سے ایک قابل قدر کہانی قرار پاتی ہے۔“
افسانہ ’کفن‘ کے تجزیے کے بعد ناول ’’زخمِ دل“اور ”تعزیر“ کے بھی تجزیے اس کتاب میں شامل ہیں۔ یہ دونوں ہی ناول ’جیسا کہ اوپر ذکر ہوا‘ابو الفضل صدیقی کے شاہ کار ہیں۔اپنی دیگر کہانیوں اور افسانوں کی طرح ابو الفضل صدیقی نے اپنے ان دونوں ناولوں میں بھی گردو پیشکی سماجی و معاشرتی زندگی کے واقعات کو موضوع بنایا ہے۔زبان کا سماجی و معاشرتی تناظر میں استعمال، وسیع و عمیق مشاہدات و تجربات کی عکاسی، واقعات و جزئیات نگاری کا پُر اَثر لہجہ وغیرہ ان کی کہانیوں کے خاصے ہیں۔ چونکہ ناول زخم دل اور تعزیر بھی ان اوصاف سے متصف ہیں اس لیے تجزیہ نگار نے ان تمام پہلوؤں کو اپنے تجزیے میں پورری وضاحت کے ساتھ بیان کیا ہے۔ ان دونوں ناولوں کے موضوع پر اظہار خیال کرتے ہوئے وہ رقمطراز ہیں:
””زخم دل“اور ”تعزیر“ دونوں ناولوں میں روہیل کھنڈ کے جاگیردارانہ نظام اور گاؤن کی زندگی کی عکاسی بہت عمدہ پیرائے میں کی گئی ہے۔ دونوں ناولوں کی سب سے بڑی خوبی زبان کی برجستگی اور بے ساختگی ہے۔ گاؤ ں کی زندگی اور اس کی تہذیب ان کا خاص موضوع ہے۔ ان کے ناولوں کے کردار، کسان،جاگیردار زمین دار، بنیے، وید، حکیم اور متعددد دوسری قسم کے کر دار صرف اپنی جھلک ہی نہیں دکھاتے بلکہ و ہ مثالی کر دار کی تمام جزئیات کو بھی بیان کردیتے ہیں۔“
دونوں ناولوں کا علیحدہ علیحدہ تعارف و تجزیہ پیش کرتے ہوئے وہ مزیدلکھتی ہیں:
”تعزیر“ ان کا پہلا ناول ہے۔ ا س میں زمین داروں کی آپسی رقابت اور کش مکش کو دکھایا گیا ہے۔ ناول میں دو ریاستوں نو گڑھ اور جیت گڑھ کی ریاستوں میں حد بندی کے تنازع کو موضوع بنایا ہے۔”زخم دل“ یہ بھی ان کا نمائدہ ناول ہے۔ یہ بھی انسانی نفسیات، سماج کے رسم و رواج اور زمین داری نظام میں دیہاتی پس منظر میں لکھا گیا ہے۔ انسانی نفسیات کے بدلتے ہوئے رویّوں کو اس ناول میں پیش کیا گیا ہے۔ انھوں نے اس ناول میں یہ باور کرایا ہے کہ نفسیاتی خواہشات میں جکڑنے کے باوجود انسان اپنی معاشرتی اقدار اور سماجی ضابطہ اخلاق کو علی الاعلان نظر انداز کرکے آزادی اختیار نہیں کر سکتا۔“
متذکرہ بالا تجزیوں میں مصنفہ نے دونوں ناولوں کے قصے، ان کے مر کزی کر دار، پلاٹ،کہانی پن، جزئیات نگاری وغیرہ نہایت پُر اثر انداز میں بیان کیا ہے۔ اس کے علاوہ انھوں نے ان میں موجود لفظیات و مہارات اور کہاوتوں کے برجستہ استعمال پر بھی روشنی ڈالی ہے۔ چونکہ یہ کہانیاں روہیل کھنڈ سے متعلق ہیں اس لیے ان میں وہاں کی قصباتی زبان کا نہایت دلچسپ اور خوبصورت استعمال بھی دکھایا گیا ہے۔ مصنفہ نے اپنے تجزیے میں ان تمام نکات پر روشنی ڈالی ہے اور جگہ جگہ زبان و بیان کے حوالے سے دلائل بھی پیش کیے ہیں۔ ساتھ ہی انھوں نے ان میں در آئی فکری و فنی کمیوں و خامیوں کی بھی نشان دہی ہے۔
غرض یہ کہ زیر تبصرہ کتاب”چند تاثرات“اگرچہ ڈاکٹر چمن آرا خاں کے مضامین کا مجموعہ ہے۔ لیکن اس کے مطالعے سے جہاں ان کی علمی و ادبی حیثیت، علمی و ادبی حیثیت، زبان و ادب کے دشت کی سیاحی اور تعلیمی میدان میں ان کے شعور و دانشمندی کا علم ہوتاہے وہیں دونوں ہی میدانوں میں ان کی سرگرمیوں اور حرکت و عمل کا بھی اندازہ ہوتا ہے۔ ڈاکٹر چمن آرا خاں کا تعلق چونکہ دہلی کے ایک علمی خانوادے سے رہا ہے اورانھوں نے پرانی دہلی ہی میں رہ کر پرورش پائی ہے اس لیے ان کی تحریریں تنقیدی ہونے کے ساتھ ساتھ ان میں وہ امتیاز بھی نظر آتا ہے جو عام طور پر اہلِ دہلی یا پرانی دہلی والوں کا خاصا ہوا کرتا ہے۔ہمارے مطالعے اور معلومات کی حد تک جہاں یہ کتاب ایک علمی خزانہ ثابت ہوتی ہے وہیں اس میں مستعمل زبان و بیان بھی ہمارے لیے کم لطف و انبساط کا باعث نہیں۔ کتاب کے باطن کی طرح اس کا ظاہربھی اپنے اندر بہت سی خوبیاں لیے ہوا ہے۔کمپوزنگ اور طباعت کے اعتبار سے بھی کتاب حددرجہ عمدہ اور نفیس معلوم ہوتی ہے۔ سرورق کی جاذ بیت اور کشش نے اس کے حسن میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ کتا ب میں املا اور پروف ریڈنگ کی غلطیاں خال خال ہی نظر آتی ہیں۔اس اہم کاوش کے لیے ڈاکٹر چمن آرا خاں واقعی نہ صرف مبارکباد کی مستحق ہیں بلکہ مستقبل میں بھی ہم ان سے اس سے بہتر کییقین رکھتے ہیں۔ قوی امید ہے کہ علمی و ادبی حلقے میں کتاب”چندتاثرات“ کی خاطر خواہ پذیرائی ہوگی اور قارئین نہ صرف اسے قدر کی نگاہ سے دیکھیں گے بلکہ ہاتھوں ہاتھ لے کر مصنفہ کی حوصلہ افزائی بھی فرمائیں گے۔
ڈاکٹر عبد الرزاق زیادی
پروجیکٹ فیلو، این سی ای آر ٹی، نئی دہلی
Mobile No.:9911589715,
E-mail: arziyadi@gmail.com
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
“

