خاکہ گيندا صاحب کا ۔۔۔۔۔
۔۔کہتے ہیں لکھنؤ یونیورسٹی میں اردو کے مختلف نوع کے پھول کھلتے ہیں اور اس یونیورسٹی سے جو اردو کا خوشنما علم نکلتا ہے وہ ان ہی پھولوں کے غنچے سے بنتا ہے۔یونیورسٹی کے ہر پھول کا اپنا ایک خاص رنگ ہے اگر ان میں سے کسی ایک کو بھی ہم اس باغیچے سے جدا کردیں تو اردو کے گلستان میں ایک رنگ کم ہوجائے گا۔
ہم جس وقت اردو کے اس خوبصورت چمن میں داخل ہوئے وہ زمانہ شاید اردو کے عروج کا زمانہ تھا اردو کو ہم نے فصل بہار میں دیکھا۔اردو ہماری یونیورسٹی میں مسکراتی اور گنگناتی ہے اردو اودھ میں اور خاص کر ہماری درس گاہ میں سہاگن ہی رہی۔
اور شاید۔۔
اردو کی اس خوشحالی کے پیچھے ان اردو کے پروانوں کا ہاتھ تھاجنہوں نے قسم کھارکھی تھی کہ ہر حال میں ہمیں اردو کی شمع کو روشن رکھنا ہے۔ان ہی پروانوں میں ایک پروانہ وہ بھی ہے جو کسی اور چمن سے آکر اردو کا دیوانہ ہوا تھا۔ اسے دیکھ کر ایسا لگتا تھا کہ گلاب کے باڑے میں کسی نے ایک پیڑگيندے کا لگادیا ہو۔
اردو سے ان کے لگاؤ اور محبت کی کہانی بہت لمبی ہے۔ المختصر اب گیندے نے گلاب ہونے کی ہر ممکن کوشش کی اور دیکھئے گلاب کی فراخ دلی، گیندے کو پوری محبت اور اپنائیت سے گلے لگایا۔
’’جب پہلی بار ہم نے انہیں دیکھا تو تھوڑا ہم ’’بدکے‘‘ ’’بدکنے‘‘ کی کئی وجہیں تھیں۔ سب سے پہلی بات۔ کہاہم۔ نازک دبلے پتلے۔کہاں وہ بھاری بھرکم۔ چلیں تو زمین پناہ مانگے۔‘‘
پھر قدرت کی شان یہ کہ رنگ بھی انہیں بڑی بخیلی سے دیا گیا تھا ۔ہاں لیکن یہ کمی پیٹ کے سائز پر پوری کردی گئی تھی۔کبھی کبھی تو ایسا ہوتا وہ گیٹ نمبرایک پر ہوتے اور ہم ڈیپارٹمنٹ کے سامنے کھڑے ہوتے تو ہمیں یہ شبہ ہوتا کہ شاید کسی کھلاڑی نے ایک بڑی فٹ بال روڈ پر شرارت سے لڑھکا دی ہو۔
پھر دھیرے دھیرے احساس ہوتا ارے ہمیں بھی کیا ہوگیا۔۔لگتاہے چشمے کا نمبر چینج کرانا پڑے گا۔یہ تو بیچارے۔۔۔۔گیندا صاحب ہیں۔
ایسا نہیں تھا کہ وہ بہت بدصورت تھے۔مگر کیاکہیں لوگ ان کو خوبصورت بھی کہنے میں بڑا تامل کرتے تھے۔ کبھی کبھی ہم ان کو دیکھ کر اللہ سے شکوہ کرتے۔ اے اللہ کیا سارے حسن کے ذخیرے کو ان سے ہی بچانا تھا۔ حسن یوسف نہ سہی مگر ایک روپیہ میں سے چونی تو ان کو دے دیتے۔ ارے سب تو ٹھیک ذرا لمبائی ہی دے دیتے۔ کیا تیرے دربار میں کسی چیز کی کمی ہے۔
اچھا یہ نہیں تو نقش ہی تیکھا اور سڈول بنا دیتے، مگرشاید یہ سب قسمت کی ستم ظریفی تھی۔
خیر۔ ان سب کے باوجود نہ جانے ان میں ایسی کون سی خوبی تھی کہ گوپیاں ان کے گرد ہالہ کیے رہتیں۔جب کبھی ہم اسٹاف میں جاتے اکثر یہ نظارہ دیکھنے کو ملتا اور ہم دور کہیں تاریخ کے پلو میں کرشن کی سانولی صورت پر گوپیوں کو فدا ہوتے دیکھتے۔
اور پھر رفتہ رفتہ ہم پر یہ راز آشکار ہوا کہ اس شخص کے پاس بھی کرشن کی طرح ایک بانسری ہے جس کو بجاتے ہی گوپیاں اس کے گرد کھڑی ہوجاتی ہیں۔اور یہ بانسری تھی ان کے اخلاق کی۔ ان کا اخلاق واقعی قابل تعریف تھا۔ ان کے پاس ایک نرم اور ہمدرد دل تھا۔ ان کی ایک بہت بڑی خوبی یہ تھی کہ ہر ایک کی مدد کو ہمیشہ تیار رہتے۔ اور سب کی مدد دل سے کرتے اور خاص کر لڑکیوں کی۔
کبھی کبھی ان کے اس عمل سے کچھ لڑکیاں تو واقعی گوپی بن جاتیں۔ ان گوپیوں میں سنا تھا ان کی ایک رادھا بھی تھی۔ مگر قسمت شاید ان سے ناراض تھی۔ یا شاید ہوا مخالف تھی۔تبھی تو ان کے قسمت میں بھی رادھا نہ ہوکر روپ مڑی ہی تھی۔ مگر کہتے ہیں۔ ان کے عشق کے قصے دور دور تک مشہور تھے۔
دوست آج بھی ان کی محبوبہ کے نام سے ان کو چھیڑتے ہیں۔ بیچارے کبھی گردن جھکاکر اعتراف کرلیتے ہیں تو کبھی نہایت ناراضگی سے جھڑک دیتے۔ مگر ہاں اتنا تو ہے ان کا زخم کاری تھا تبھی تو آج بھی کسی لڑکی میں اس کی شبیہ نظر آجاتی ہے تو ان کوفوراً ان سے ہمدردی ہوجاتی ہے۔
جہاں تک بات گوپیوں میں دلچسپی کی ہے تو وہ واقعی رنگین مزاج ثابت ہوئے ہیں مگر ہاں ایک بات اور بھی ہے اوروہ یہ کہ ہر گوپی سے انہوں نے اپنے عشق کی ایک حد مقرر کررکھی ہے۔ کچھ بھی ہوجائے وہ اس حد سے پار نہیں جاتے۔ ویسے رنگین مزاج ہونا کوئی عیب بھی نہیں۔ ہاں ایک بات اور ان کی شخصیت میں چار چاند لگاتی ہے جب وہ مسکرا کر کہتے ہیں۔
میں نے آج تک کسی لڑکی کی طرف دوستی میں پہل نہیں کیا۔ بلکہ لڑکیاں خود ان سے دوستی کی خواہش مندرہتی ہیں۔ تو ہم بے ساختہ کہتے میرے رب جب آسمان میں عقل بٹ رہی تھی۔یہ سب لڑکیاں کہاں تھیں؟
ایک دن ہماری ملاقات ان کے اسٹاف میں ہوئی سلام دعا کے بعد جوں ہی گھر کا اور پھر اماں کا ذکر کرنے لگے کہنے لگے جانتی ہو میں اپنی اماں کے لیے آج بھی چھوٹا سا بچہ ہوں۔ ہم نے کہا۔ وہ تو ہر بچہ اپنی ماں کے لئے چھوٹا ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا ارے میرے کہنے کا یہ مطلب نہیں۔
ہم نے کہا پھر؟
کہنے لگے جب میں کھانا کھاتا ہوں میری اماں میرے ارد گرد دوپٹہ لپیٹ دیتی ہیں۔
ہم نے نظریں اٹھاکر ان کے بھاری بھرکم جسم کو دیکھا جس کرسی پر وہ بیٹھے تھے یقین مانئے کرسی ہر لمحہ اپنی زندگی کی دعا مانگ رہی تھی۔ خیر۔
ہم نے صرف اتنا کہا ابھی تک تو صرف سنا تھا کہ ماں کی محبت اندھی ہوتی ہے۔ مگر اب یقین ہوگیا۔
ان کی فطرت میں ایک بہت بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ روتوں کو ہنسا دیں۔
اسٹاف میں اکثر لوگ ان کو ہر مرض کی دوا کے نام سے جانتے ہیں۔
ان کی طبیعت کو دیکھ کر ایک بات کا اور اندازہ ہوتا ہے کہ:
اگر آپ کا ٹائم نہ پاس ہو رہا ہو تو آپ ان کے نمبر پر ’’کال‘‘ کرسکتے ہیں۔
ان کے پاس کہانیوں کا انبار ہے۔
نانی کیا کہانی سنائے گی۔ جو ہمارے گیندا صاحب سناتے ہیں۔
ارے ان کی خوش قسمتی تھی کہ اب لکھنؤ میں قصہ گوئی کا رواج ختم ہوچکا تھا ورنہ بادشاہوں میں آپس میں جنگ چھڑجاتی کہ گیندا صاحب کو کون اپنے محل میں رکھے گا۔
ہم نے محسوس کیا تھا کہ وہ سب سے زیادہ دو لوگوں کے ذکر سے خوش ہوتے ہیں۔پہلا ان کا کتا جس کا نام انہوں نے اس وقت کے بہت مشہور اداکار کے نام پر رکھا تھا۔ خدا خیر کرے میڈیا والوں کو ابھی تک اس بات کی خبر نہیں لگی تھی۔ وہ اپنے کتے سے اتنا پیار کرتے تھے کہ جب کبھی اس پر شدید غصہ آتا تب بھی اس کوکتا ہی کہتے۔مجال ہے جو اورکچھ کہہ ديں ۔ کہ کہیں کتا صاحب ناراض نہ ہوجائیں۔
دوسری شخصیت جو ان کو بہت عزیز تھی وہ ان کا بھانجا جس کو انہوں نے بچپن ہی سے گود لے لیا تھا اور جس کے سارے جوابوں کا صرف وہ ایک ہی جواب دیتے۔
وہ اکثر پوچھتا ماما کس کا فون ہے؟
اور ماماکا ہمیشہ ایک ہی جواب۔ مامی کا ہے۔ وہ ابدی معصومیت سے پوچھتا۔ماما۔ مامی کتنا بات کرتی ہیں۔ اب اس کو کیا معلوم یہاں کتنی مامیاں ہیں۔ایک دن ہم نے پارٹی میں ان کو دیکھا۔ بریانی کے ساتھ پورا انصاف کرتے ہوئے جب وہ کھانے سے فارغ ہوئے تو ہم نے کہا سرآپ کو ’’نان ویج‘‘ بہت پسند ہے؟ شاید صحت کا یہی راز ہے۔کہنے لگے ارے نہیں کبھی کبھار کھالیا۔ ورنہ میں تو اکثر پالک اور ’’کریلا‘‘ کھاتا ہوں۔مجھے توساگ بہت پسند ہے۔اس دن ہم پہلی بار کنفیوز ہوئے کہ ان کی باتوں پر یقین کروں یا اپنی نظروں پر۔ خیر۔ لہجہ اور صحت میں تضاد تھا۔ خیر۔ ایک بات ہم نے اور محسوس کی کہ جب ہمارے اسٹاف کے کسی ’’اسکالر‘‘ کی شادی کا کارڈ آتا تب ان کے لبوں سے ایک سرد آہ نکلتی۔ان کے قریبی دوست تسلی دیتے کچھ دن اور پھر آپ بھی اس منصب پر بیٹھ جائیں گے۔ان سب رنگینیوں کے باوجود ’’گیندا صاحب‘‘ نے اپنے مقصد سے کبھی نظر نہیں ہٹای اور نہ ہی اپنی ذمہ داریوں سے منھ موڑا۔اردو اور یونیورسٹی کی خوب خدمت کی۔کئی کتابوں کا ترجمہ کیا۔ تقریباً ۱۲؍ مضامین لکھے۔ بڑے بڑے سیمینار میں کئی مقالے پڑھے۔ ۔ سب سے بڑھ کر انہوں نے ریسرچ میں ایک ایسی شخصیت کو زندہ کیا جس پر زمانے کی گرد نے اپنا قبضہ جمالیا تھا۔ واقعی ان کی شخصیت کو دیکھ کر لگتا ہے۔ گیندا صاحب نے ’’چمن وردہ‘‘ (گلاب باڑہ) سے پوری ذمہ داری سنبھالی ہے۔ اور اب ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اب وفا داری کی باری گلاب اور مالی چمن کی ہے ۔
عافیہ حمید ۔۔ ریسرچ اسکالر
خواجہ معین الدین چشتی لينگویج یونیورسٹی ۔۔
نوٹ:افسوس گیندا صاحب گزشتہ برس کورنا کا شکار ہوکر ہمارے درمیان سے ہمیشہ کے لئے رخصت ہو گئے۔
یہ خا کہ سر کی زندگی میں ان کی خواہش پر لکھا گیا ،
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |


1 comment
واہ بہت اچھا خاکہ ہے مزاح سے بھرپور ۔۔زبان بھی رواں ہے ۔جی خوش ہوا پڑھ کر۔۔۔۔۔