خدیجہ مستور ترقی پسند تحریک کی اہم ناول نگار اورافسانہ نگار تھیں ۔ انھوں نے دو ناول ’’آنگن‘‘ اور’’ زمین‘‘ لکھے ۔ جو قارئین کے ذہنوں میں نقش ہیں ۔یوں تو خدیجہ مستور نے افسانے بھی لکھے ہیں مگر ان کا ناول آنگن ہی اس قدر توانا ثابت ہوا کہ اس نے ان کے نام کو زندہ جاوید کر دیا ۔بر عظیم کی اس سحر انگیز اور جانی پہچانی ادبی شخصیت کے فکرو فن میں تاریخ اور ثقافت کے متنوع رنگ دیکھنے کو ملتے ہیں ۔وہ ثقافتی ماحول میں تاریخ کے جلوے دکھا کر ماضی ،حال اور مستقبل کو ایک ساتھ لے کر اس طرح چلتی ہیں کہ ان کا اسلوب انفرادیت اختیار کر جاتا ہے ۔خدیجہ مستور کا ناول ’’آنگن‘‘ تقسیم ہند سے قبل اور آزادی کے بعد کے پس منظر میں لکھا گیا ہے ۔’’ آنگن ‘‘میں برصغیرکی تہذیب و ثقافت اور آزادی سے قبل کے دور کی اقدار و روایات کو موضوع بنایا گیا۔ناول میں خدیجہ مستور نے سماجی،تہذیبی،ثقافتی اور سیاسی عناصر پر قلم فرسائی کی ہے۔ناول’’ آنگن ‘‘کی کہانی کے بارے میں عقیل احمد لکھتے ہیں :
’’آنگن کی کہانی گھر کے آنگن سے شروع ہوکر ہندو ستانی سماج اور سیاست کے دائرے میں پہنچ جاتی ہے ۔گھر کے آنگن میں مذہب ،سیاست ادب اور تعلیمی مسائل جیسے موضوعات زیرِ گفتگو ہوتے ہیں ۔ناول ماضی اور حال دو حصوں میں منقسم ہے ۔یہ آنگن ایسے خاندان کا آنگن ہے جو پہلے خوشحال تھا لیکن جاگیر دارانہ نظام کی شکست وریخت سے مالی دشواریوں سے دو چار ہو گیا ۔‘‘۱؎
آنگن ایک ایسے خاندان کی کہانی ہے جو اتر پردیش کے علاقے یوپی میں دوسری جنگ ِعظیم سے قبل آرام و سکون کی زندگی گزار رہا تھا ۔۱۹۴۷ کی جنگ آزاد ی ،حالات کی تبدیلی سماجی تغیرات ا ور نئے معاشرتی مسائل سے یہ خاندان بھی متاثر ہوا۔اس گھر کے لوگ نظریات ،خیالات، مزاج اوررویوں میں ایک دوسرے سے مختلف تھے۔گھر کا ماحول گاندھی جی، جناح اور نہرو کے نام اور کام سے آشنا ہوتا چلا گیا ۔مسلم لیگ اور کانگریس کی آویزش اور کشمکش کا ذکر کیا گیا ہے ۔لوگ کانگریس اور گاندھی جی کے نعرے لگاتے ہیں ۔ہندوستان میں رہنے والی دونوں قوموں کے درمیان اپنے اپنے مفادات کے حصول کی آویزش ہے ۔ایک طبقہ اس بات پر متفق تھاکہ ہندوستان نہیں بٹے گا تو دوسرا طبقہ نیا پاکستان بننے کا خواب دیکھ رہا تھا۔ اقتباس دیکھیں :
’’گلی میں کانگریسی بچوں کا جلوس نکل رہا تھا ۔وہ بڑے بے ہنگم طریقے سے شور مچا رہے تھے ْجھنڈا اونچا ہے ہمارا ۔۔کانگری زندہ باد ،گاندھی جی زندہ باد ،جواہر لال نہرو زندہ باد ، ہندوستان نہیں بٹے گا ،جھنڈا اونچا ہے ہمارا ‘‘۔ ۲؎
’’ آنگن‘‘ میں مصنفہ جلیانوالہ باغ کے سانحے کا ذکر کرتی ہیں ۔برصغیر کی تاریخ میں جلیانوالہ باغ ایک الم ناک باب ہے ۔یہ حادثہ ۳ اپریل ۱۹۱۹ میں پیش آیا ۔ امر تسر کے جلیانوالہ باغ میں بیساکھی کا تہوار منانے کی غرض سے ہزاروں سکھ ہندو اور مسلمان جمع ہوئے تھے ۔جس میں ایک بڑی تعدادبچوں اور عورتوں کی تھی ۔ یہ واقعہ ہندوستان کے نفسیاتی اذہان کی شکست و ریخت کا باعث بنا۔ اس واقعے کو تاریخ کے صفحات سے مٹایا نہیں جا سکتا ۔یہ تہوار پنجابیوں کا مذہبی وثقافتی ورثہ تھا۔اس ناول میں کسم دیدی کا خاوند وطن کی آزادی کی خاطر اس واقعے میں مارا جاتا ہے ۔مثا ل ملاحظہ ہو:
’’اس اشرف المخلوق نے کیسے کیسے ظلم سے تاریخ مرتب کی ہے ۔اس وقت وہ سرا سر مفکر بنی ہوئی تھی ۔اقتدار کی آگ کبھی نہیں بجھتی ۔لاکھ تہذیب جنم لیتی رہے کچھ نہیں بنتا ۔ اقتدار سب کچھ جلا کر بھسم کر دیتا ہے ۔اس کے باوجود دعویٰ یہ ہے کہ ہم مہذب بن چکے ہیں۔سروں کے منار بنانا اور انسانوں کو پنجروں میں بند کرنا تو صدیوں پرانی وحشت کے دور کی یاد گاریں ہیں مگر آج جو جنگ ہو رہی ہے ایک سے ایک بڑھیا بم لو ،جس سے سب سے زیادہ بے گناہ مریں وہ سب ترقی یافتہ ہتھیار ۔۔پھر جلیانوالہ باغ کا قصہ کون سا صدی پرانا واقعہ ہے ۔اسی مہذب دور نے تو اس واقعہ کو جنم دیا تھا اور اسے کسم دیدی یاد آگئیں۔ اندھیرے میں ان کی لاش آنکھوں کے سامنے تیرنے لگی۔سا ڑی سے قطرہ قطرہ ٹپکتا ہوا پانی اس کے دل پر گر رہا تھا ۔‘‘۳؎
ناول’’ آنگن‘‘ تحریک ِآزادی اور ہند ومسلم کلچر کا عکاس ہے۔ اس حوالے سے مرزا حامد بیگ لکھتے ہیں :
’’سیاست کے الجھائو ں کو سلجھانے کی سعی اور کھوئی ہوئی تہذیب کی تلاش اس ناول کی روح ہے ۔جبکہ بیتے ہوئے ماضی اور حال کی درست صورتِحال کو ایک وحدت میں پرو کر تہذیبی وراثتوں میں ارتباط کی تلاش اس ناول کا موضوع ہے ‘‘۔۴؎
’’آنگن ‘‘میں مصنفہ سیاسی پہلو کے ساتھ ساتھ مذہبی پہلوئو ں کو بھی ساتھ لے کرچلتی ہیں۔ دونوں قومیں مذہب میں فرق کے باوجود ثقافتی سطح پر ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں ۔ایک ہی خطے کی ثقافت میںزبان اور مذہب کے فرق میں ہم آہنگی ملتی ہے۔ اس ناول میں اذان اوردعا کاذکر کثرت سے ملتا ہے ۔جو خاص ا سلامی معاشرت کی عکا سی کرتی ہے۔کرداروں کو مشکلات دکھ، درد تنگی ،تکالیف میں اللہ کے حضور سجدہ ریز ہوتے اور دعا سے مدد طلب کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔استمدادو استغاثہ کا انداز ملتا ہے یو ں دعا سے تسکین حا صل کرنا اسلامی تہذیب کا آئینہ بن جاتا ہے:
’’محلے کی مسجد سے اذان کی آواز آرہی تھی۔ اس نے مارے احترام کے ساری کا پلو سر پر ڈال لیا ۔کریمن بوا جلدی جلدی لالٹینں جلا رہی تھیں ۔اللہ شکیل کو خیریت سے رکھیو۔ بڑی چچی دونوں ہاتھ پھیلا کر دعا کرنے لگیں ۔وہ اس وقت کتنی دکھی اور مامتا سے بھرپور نظر آرہی تھیں ۔‘‘۵؎
انسان معاشرتی حیوان ہے اور اپنی زندگی مختلف رسم ورواج کے مطابق گزراتا ہے ۔معاشرتی زندگی میں خوشیوں کے ساتھ ساتھ دکھ اورتکلیفیں بھی آتی رہتی ہیں ۔ایسے موقعوں پر سب ایک دوسرے کے ساتھ ہمدردی ،تعاون ،مدد ،باہمی اتفاق اور اتحاد سے رہتے ہیں ۔ زندگی اور موت کا چولی دامن کا ساتھ ہے ۔ جس طرح انسان کی زندگی میں مختلف رسمیں اس کی زندگی کا لازمی جزو سمجھی جاتی ہیں اسی طرح انسان کی موت کے بعد چند رسمیں معاشرے کا لازمی حصہ ہیں۔یہ رسمیں مرنے والے کے مذہب کے مطابق ادا کی جاتی ہے اور مرنے والے کو باعزت طریقے سے ابدی زندگی کی طرف روانہ کیا جاتا ہے ۔ مسلم کلچر میں مرنے والے کو پہلے غسل دیا جاتا ہے اور پھر کفن پہنا کر عز یز و اقارب کو میت کا آخری دیدار کرایا جاتا ہے ۔نما زِ جنازہ کے بعد میت کو قبرستا ن لے جاکر تدفین کر دی جاتی ہے ۔یہ رسمیں مرنے والے کی مغفرت اور نجات کے لیے ادا کی جاتی ہیں ۔ ناول آنگن ‘‘میں عالیہ کی دادی کا انتقال ہو جاتا ہے اور اسلامی عقیدے کے مطابق ان کی آخری رسومات اور تدفین مسلم کلچر کی عکاسی کرتی ہے :
’’دادی کی مسہری کھینچ کر ان کا منہ قبلہ کی طرف کر دیا گیا تھا۔۔۔دادی کی آنکھیں دروازے پر ٹکی ہوئی تھیں۔۔۔کریمن بوا صحن میں اینٹوں کا چولھا بنا کر بڑے سے پتیلے میں پانی گرم کر رہی تھیں اور جواب تک دادی کی موت پر ایک آنسو نہ بہا سکی تھی۔اندھیرے میں آگ کے لرزتے شعلوں کو دیکھ کر سلگ اٹھی ۔۔ کریمن بوا جو سامنے ٹھندی ہوا میں بھٹی میں گیلی لکڑیاں پھونک رہی تھیں ۔کتنے صبر اور خاموشی سے انہوں نے دادی کی موت کو برداشت کر لیا تھا۔۔۔جب دادی کو نہلا دھلا کر آخری سفر کے لیے تیار کر دیا گیا تو تمام عورتیں برآمدے میں ٹاٹ کے پردے کے پیچھے چھپ گئیں ۔دادی کی لاش جب صدر دروازے سے پا ر ہو رہی تھی تو ایک بار سب چیخ کر رو پڑے۔‘‘۶؎
اسلامی مہینوں میں رمضان المبارک کا مہینہ بڑی رحمتوں اور برکتوں والا مہینہ ہے۔ اسلا م میں اس مہینے کو بنیادی اہمیت ٖحاصل ہے ۔مسلم معاشرہ میں ہر گھرانہ اپنے تیئں اس ماہِ مقدس کا زبردست طریقے سے استقبال کرتا ہے ۔ اس مہینے میں مسلمان اپنے اللہ کے حضور گناہوں سے مغفرت اور اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے دن رات عبادت میں مشغول نظر آتے ہیں ۔مسلمان رمضان کے مہینے کو تقویٰ ،شکر ،صبر ،قبولیت ،برکات اور مادی فوائد کے حصول کا ذریعہ سمجھتے ہیں ۔سحری اور افطاری کے اوقات دلآویز سماں با ندھتے ہیں۔اس ناول میں مصنفہ افطاری کے اہتمام اوردستر خوان کی سجاوٹ کے متعلق لکھتی ہیں:
’’تخت پر دسترخوان بچھا کر افطاری کا سامان چنا جا چکا تھا ۔بڑی چچی ملے ہوئے چنوں پر لیموں نچوڑ رہی تھیں۔کریمن بوا کو شاید روزہ لگ رہا تھا اس لیے نڈھا ل سی بیٹھی تھیں ۔ ۔ ۔ قریب مسجد میں گوالا چھوٹا اور پھر نقارہ بجنے کی تیز آواز آنے لگی تو اماں نے پلیٹوں میں رکھا ہوا سب کا حصہ بانٹنا شروع کر دیا ۔عالیہ نے تانبے کا منقش جگ اٹھا کر سب کے گلاسوں میں لیموں کا شربت بھر دیا۔۷؎
تہوار ہماری سماجی زندگی کا اہم منظر نامہ اور پہلو ہیں ۔یہ اجتماعیت کا درس دیتے ہیں۔تہوار کسی بھی قوم کی مذہبی و ثقافتی اقدار کے ترجمان ہوتے ہیں ۔عیدیں مسلمانوں کے مذہبی تہوار ہیں ۔مسلم معاشرے میں عید الفطر اور عید الاضحی بڑے جوش وجذبے سے منائی جاتی ہیں ۔عید الفطر جو رمضان کا مہینہ مکمل ہونے کے بعد شوال کا چاند دیکھ منائی جاتی ہے ۔عید کی نماز کے لیے چھوٹے بڑے نہا کر نئے کپڑے پہن کر عطر لگا کر مساجد کا رخ کرتے ہیں ۔۔عید الفطر کے حوالے سے اقتباس ملاحظہ ہو:
’’عیدگاہ سے وآپس آتے ہوئے بچے گلی میں بڑے زور سے اودھم مچارہے تھے کریمن بوا ،منجھلی،بھابھی کومیرا سلام کہواور عید مبارک بھی ۔سیڑھیوں کو طے کرتے ہوئے عالیہ نے اسرار میاں کا خوشی سے لرزتا ہوا پیغام سنا کیسا جی چاہا کہ آج تو وہ بھی اسرار میاں کو سلام کرے۔عید کا دن ہے آخر ۔صبر کروں تم کو بھی سویاں بھجوادو گئی۔کریمن بوا نے اس طرح جواب دیا جیسے مذاق اڑا رہی ہوں ۔نجمہ پھوپھی کریمن بوا کو تہواری کا ایک پیسہ دے رہی تھیں َ انہوں نے عالیہ کی طرف دیکھا تو وہ الٹے پیروں اپنے کمرے کی طرف چلی دی۔‘‘۸؎
بسنت کا تہوار برصغیر کا موسمی تہوار ہے اس تہوار کو موسم بہار کے استقبال کے لیے منایا جاتا ہے۔ یہ تہوار انڈیا مسلم کلچر دونوں ریاستوں میں مقبول ہے ۔ہر طرف بو کاٹا کی صدائیں بلند ہوتیں ۔عالیہ اپنے کمرے سے نکل کر چھت پر جاتی ہے تو آسمان کے مناظر کچھ ا س طرح بیان کرتی ہے:
’’دھوپ چھت کی منڈیر وں پر چڑھتے چڑھتے غائب ہو گئی تو عالیہ اپنے کمرے سے نکل کر چھت پر آگئی ۔ ۔۔۔ قریب قریب کی چھتوں سے لڑکے لال پیلی پتنگیں اڑا رہے تھے۔ وہ بو کاٹا کہ آوازیں آرہی تھیں اور گلی میں گلاب کی گنڈیریاں بیچنے والا تو جیسے اسی گلی کا ہوکر رہ گیا تھا ۔اس نے دلچسپی سے پتنگوں کو دیکھنا اور گننا چاہا‘‘۔۹؎
مذہب کا انسانی زندگی کے ساتھ گہرا تعلق ہے ۔جب سے انسان نے دنیا میں قدم رکھا ہے تب سے ہی انسان اپنے ریتی رواج کے مطابق کسی برگزیدہ ہستی کو اپنا دیوتا مان کر اس کے سامنے سر بسجود ہو کر منتیں مرادیں مانگتاور اس کی عبادت شروع کر دیتا ہے۔خدیجہ مستور جہاں مسلم کلچر کی بات کرتی ہیں وہی وہ ہندی کلچر کو بھی ساتھ لیکر چلتی ہیں ۔ہندو بت پرستی پر یقین رکھتے ہیںان کی عبادت گاہوں اور مسلم عبادت گاہوں کی تعمیر میں فرق کو دکھایا گیا ہے۔ ہندو اپنے دیوی دیوتاؤں کے مندروں میں حاضر ہوتے ہیں ، ناول کا آغاز ایک اجاڑ ضلع سے ہوتا ہے ۔ جہا ں چھوٹی چھوٹی جگہوں میں بہت سے مندر بنے ہوئے ہیں ہندوں کی عبادت یہ تھی کہ وہ مندر میں جاتے دیوی اور دیوتا کی مورتیوں کے سامنے حا ضری دیتے اور بھگوان کی پراتھناکرتے جہاں بھجن وغیرہ گائے جاتے ۔ہندئو ں کی اپنی مذہبی عقیدت مندی کے متعلق اقتبا س د یکھیں ۔
’’وہ ایک اجاڑ ضلع تھا ۔سرخ سرخ اینٹوں کے مکان اس طرح بنے ہوئے تھے کہ کسی ترتیب کا خیال ہی نہ آتا۔۔۔وہاں اس چھوٹی سی جگہ میں کتنے بہت سے مندر تھے ۔ان کے سنہرے کلس سر اٹھائے جیسے بھگوان کی پرارتھنا کرتے رہتے ۔مندروں میں صبح شام گھنٹے بجتے پجاریوں کے بھجن گانے کی مدھم مدھم آواز گھر تک آتی‘‘۔۱۰؎
ہندوؤں مذہب میں گائے ماتا کو بہت اہمیت حاصل ہے ۔ہندئوں کی فطرت میں مایا کی محبت رچی بسی ہے۔ ہندوؤں معاشرہ ماتا کی پوجا کرتے ہیں اور اسے دولت کی علامت سمجھتے ہیں ۔کریمن بوا گائے ماتا کی بات کرتی ہیں تو اماں اے چپ کروا دیتی ہیں کہیں کوئی فسا دبرپا نہ ہو جائے ۔مصنفہ گائے ماتا کی ہندوئوں معاشرے اہمیت کچھ اس طرح بیان کرتی ہیں ۔
’’کریمن بوا یہ گائے ماتا کی بات نہ کیا کرو،کسی ہندوؤں نے سن لیا تو لینے کے دینے پڑ جائیں گئے ،اب وہ بھائی چارہ نہیں رہا ،جیسے دیکھو پاکستان کے خلاف ہے۔۔۔اللہ بچائے اس قوم سے کانپور میں کیسے کیسے فساد نہیں ہوتے رہتے ۔۔۔ اپنے کئی عزیز کانپور میں مر چکے ہیں ۔‘‘۱۱؎
ہندو ستانی معاشرے میں توہم پرستی عروج پر تھی۔ تو ہم پرستی اعتقاد ہندوستانی مشترکہ ثقافت کی نمایاں خصوصیات ہے ۔ہندوستان کے باشندے عہد قدیم سے ہی توہم پرستی کا شکار رہے ہیں ۔ سماج میں بیوہ کے عقد ثانی کو بھی اچھی نظروں سے نہیں دیکھا جاتا ۔شوہر کی موت کے بعد انہیں ساری زندگی بیوگی کا دکھ جھیل کر گذارنی پڑتی ہے ۔ خوشی کے موقع پر بیواہ کی موجودگی بد شگونی سمجھی جاتی ہے ۔ بیوہ عورت معاشرے میں با عزت اور با وقار طریقے سے جینے کا حق نہیں رکھتی تھی ۔ ناول آنگن کا ایک کرادار کسم دیدی کا ہے جس کی شادی نو عمری میں ہو جاتی ہے اور ساری زندگی بیوہ رہے کے گزار دیتی ہے۔مثال ملاحظہ ہو ۔
’’کم بخت کافروں میں کیا برا طریقہ ہے کہ دوسرا نکاح نہیں کرتے ۔کیسا عذاب ہوتا ہے ۔جوان جہاں عورت کو بٹھائے رکھنا ۔ہمیں پتہ ہے کہ یہ جوان جہاں بیوائیں کس طرح ہنڈیا میں گڑ پھوڑتی ہیں ۔‘‘۱۲؎
اس ناول میں ہندو اور مسلمان فرقے کے غلط اعتقادات اور رسوم و راج پر اظہار خیال کیا گیا ہے کسم دیدی پندرہ سال کی عمر میں بیوہ ہو جاتی ہے ۔کسم اپنے تمام ارمانوں کے باوجود معاشرے کی نام نہاد روایات سے تنگ آکر موت میں پناہ لے لیتی ہے۔ ہولی کے تہوار پر کسم ہولی نہیں کھیلتی لوگوں کے پوچھنے پر وہ ودھوا کاکہے کر چپ کر جاتی ہے۔ کسم دیدی کے حالات بیان کرنے کا مقصد ہندوؤں کے نزدیک عورت کے عقدِثانی کی مذمت کو سامنے لانا ہے۔
’’تم نے ہولی نہیں کھیلی کسم ؟اماں نے پوچھا تھا۔
میں ودھوا جو ہوں موسی ۔۔۔ کسم دیدی کی ہنستی ہوئی صورت غلا گئی ۔۔۔۔
جی چاہتا ہے کہ خوب رنگ کھیلوں موسی رنگین سای پہنوں ، من کا مارنا کتنا مشکل کام ہوتا ہے ۔۔۔۔کسم دیدی پھوٹ پھوٹ کر رونے لگیں۔‘‘۱۳؎
اس ناول میں تہذیب و ثقافت کی عکاسی بھر پور انداز میں ملتی ہے۔ پرانی روایات ،رسم ورواج ،اور طور طریقوں کو کرداروں کی زبانی بیان کیا گیا ہے۔ مصنفہ سلوک اور سماجی رویوں کا ذکر ایسے کرتی ہیں کہ معاشرے کی تصویر آنکھوں کے سامنے آجاتی ہے ۔وہ لوگوں کے ساتھ میل جول،خلوص اور مہمان نوازی کا بیان بڑا کھل کر کرتی ہیں ۔مقامی لوگ آنے والے مہمانوں کا نہایت جوش و جذبے اور خوشی سے خیر مقدم کرتے ہیں اور اُن کی خاطر مدارت میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے۔مہمان نوازی کے حوالے سے مثال ملاحظہ ہو:
’’اس دن سکول کی نگران نے گھر آنے کو کہا تھا ۔اماں اور ابا سارا دن گھر سجاتے رہیں ۔ ۔۔ صفدر بھائی گیندے اور گل عباسی کے پھول لے آئے جو نیلے گلدانوں میں سجا دیئے گئے ۔۔۔مہندی کے پودے کے پاس آرام کرسیاں اور میز بچھا دی گئی ۔میز پر آپا نے ہاتھ کی کا کڑھا ہوا سب سے خوبصورت میز پوش بچھا دی۔چائے کے لیے نیا جاپانی سیٹ نکالا گیا ۔وہ سیٹ اسی وقت نکالا جاتا جب خاص قسم کے مہمان آتے ۔چائے کے ساتھ کھانے کو کئی چیزیں تلی گئیں ۔اماں اس دن بے حد خوش اور مصروف نظر آرہی تھیں ۔دو پہر میں انہوں نے نہ خود آرام کیا نہ ماما کو کمر ٹکانے دی۔‘‘۱۴؎
تہواروں کے علاوہ رسم و رواج بھی کسی معاشرے کی ثقافت کو نمایاں کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ شادی بیاہ کی رسموں میں بڑی رنگا رنگی پائی جاتی ہے۔لڑکی کی شادی میں جہیز کی رسم ہندوستانی مشترکہ ثقافت کی ایک منفرد رسم ہے ۔ شادی پرجہیز کی قبیح رسم جو زمانہ قدیم سے چلتی آ رہی ہے ۔ شادی کی رسموں میں سب سے اہم رسم نکا ح کی ہے اس ناول میں مصنفہ چھمی کی شادی پر جہیز کی تیاریوں سے لے کر نکاح کی رسم کا بیان بڑی خوبصورتی سے کرتی ہیں :
ستمبر کی بیس تاریخ چھمی کے نکاح کے لیے مقر ر ہو چکی تھی۔اماں کے لاکھ منع کرنے کے باوجود عالیہ نے چھمی کا سارا جہیز تیار کیا تھا ۔۔۔ نقشین ،لوٹا ، کٹورہ،جگ، اگالدان ، پاندان ،دو پتیلیاں اور چھ پلیٹیں ‘‘۱۵؎
شادی کی رسموں میں مانجھے کی رسم بھی اہمیت کی حامل ہے ۔جس میں شادی سے چند روز قبل دلہن کو مانجھے بٹھایا جاتا ہے۔ ان موقعوں پر رقص اور موسیقی کی محفلیں آراستہ کی جاتی ہیں ۔ان محفلوں میں با کمال فنکا روں کے علاوہ لڑکے اور لڑکیاں بھی اپنے فن کا مظاہرہ کرتیں ہیں ۔ ناول میں چھمی کی شادی پر لڑکے لڑکیاں اور ڈومنیاں گانے کا اہتمام کرتی ہیں :
بارات آنے میں جب سات دن رہ گئے تو آپا کو نہلا دھلا کر اور پیلے کپڑے پہنا کر مانجھے بیٹھا دیا گیا۔رات میرا ثیں اور ڈومنیاں ڈھول لیکر آگئیں اور برآمدے میں بچھی ہوئی دری پر بیٹھ کر قسم قسم کی آوازں میں گانے لگیں۔کتنا ارمان ،کتنی آرزوئیں تھیں ان گانوں میں جو کنواری زندگی میں نصیب نہ ہوا تھا ۔اسے پالینے کی تمنا میں گیت کا ایک ایک بول ہاتھ پھیلائے ہوئے تھا۔‘‘۱۶؎
شادی بیاہ کی رسموں کے سلسلے میں پاکستان کی ثقافت اچھوتے پن کی حامل ہے ان رسموں میں اسلامی رنگ صاف نظر آتا ہے اسلام میں شادی کا آغاز نکاح جیسی پاکیزہ رسم سے ہوتا ہے ۔نکاح خالص اسلا می عمل ہے ۔جو معاشرے میں طہارت اور پاکیزگی کا ذریعہ بن جاتا ہے ۔اسلام میں نکاح دو خاندانوں کے درمیان اچھے اور دیر پا تعلقات کا پیش ِ خیمہ سمجھا جاتا ہے ۔شادی کے موقع پر آرسی ،مہندی ،گھڑولی ،ڈولی اور ولیمہ کی رسمیں ادا کی جاتی ہیں ۔چھمی کے نکاح کی رسم کے کے حوالے سے مثال ملاحظہ ہو:
’’اماں بڑی چچی ساجدہ آپا اور کریمن بوا سب کمرے میں آگئے ۔کریمن بوا کے ہاتھوں میں تھال تھا جس میں سسرال سے آیا ہوا نکاح کا جوڑا ،زیور اور سہرا سجا ہوا تھا ۔سب لوگ پردہ کر لو نکاح کے لیے آرہے ہیں ۔۔۔ اسرا میاں کی آواز آئی تو کریمن بوا نے چادر تان کر پردہ کر دیا اور سب اس کے پیچھے چھپ کر بیٹھ گئے ۔۔۔اسرار میاں نکاح پڑھوانے آئے ،اللہ نصیب اچھے کرنا۔‘‘۱۷؎
شا دی بیاہ کی رسموں میں بڑی رنگا رنگی پائی جاتی ہے ۔ اس ناول میں چھمی کی رخصتی کے منظر کو مصنفہ بڑی عمدگی سے بیان کرتے ہوئے لکھتی ہیں :
’’کھانا کھانے کے بعد چھمی کی رخصتی کا سامان شروع ہو گیا۔گلی میں کھڑے ہوئے تانگوں پر جہیز کا سامان لادا جا رہا تھا اور میراثیں بڑی رقعت سے گا رہی تھیں ۔۔۔ بھائیوں کو دینا محل دو محل ہم کو دیا پر دیس رے ۔لکھیابابل مورے ۔۔۔دولہا میراثیوں کے قہقوں کے بیچ میں چھمی کو اٹھا کر پردہ لگے تانگے پر بٹھا آیا۔ عالیہ نے اپنی چیخ گلے میں گھونٹ لی ۔۔راون سیتا کو لے گیا۔۔جمیل بھیا کاش تم ہی رام بن سکتے‘‘۱۸؎
رخصتی کے گیت کے متعلق اقتباس دیکھیں :
’’ارے بٹیا بڑی بڑی بٹیا رخصت ہو گئیں تم گائو نا
کاہے کو بیاہی بدیس لکھیا بابل مورے
ماما کی بات پر جیسے کہرام مچ گیا ‘‘۱۹؎
خدیجہ مستور کا یہ ناول موضوع کے حوالے سے دو سطحیں رکھتا ہے ۔ایک گھریلو زندگی کے بارے میں بات کی گئی ہے دوسرا تحریکِ آزادی پر ہے ۔یہ ناول اپنے عہد کی مخصوص تہذیب و ثقافت ،رسم و رواج اور سیاسی اثرات کا ترجمان ہے۔مصنفہ نے فرسودہ رسومات،وہم،توہمات،مشترکہ کلچر کے مسائل ،سوچ کی بوسیدگی ،ذہنی گھٹن اور نئی نسل کے انقلابی خیالات کو کرداروں کے ذریعے بیان کیا ہے ۔
حوالہ جات:
۱۔عقیل احمد ۔اُردو ناول اور تقسیم ہند۔دہلی :موڈرن پبلیشنگ ہائوس،۱۹۸۷ئ۔ص۹۲
۲۔خدیجہ مستور ۔آنگن ۔لاہور :سنگ میل پبلی کیشنز،۲۰۰۴۔ص ۱۸۹
۳۔خدیجہ مستور ۔آنگن ۔ص ۱۷۳
۴۔حامد بیگ، مرزا ۔نسوانی آوازیں (مرتبہ)۔لاہور :سارنگ پبلی کیشنز ،۱۹۶۶ئ۔ص ۴۶
۵۔خدیجہ مستور ۔آنگن ۔ص۱۹۱
۶۔ایضاََ۔ص ۱۱۴۔۱۱۵۔۱۱۶
۷۔ایضاََ۔ص ۱۳۱
۸۔ایضاََ۔ص۱۴۲
۹۔ایضاََ۔ص ۲۲۸،۲۲۹
۱۰۔ایضاََ۔ص ۷
۱۱۔ایضاََ۔ص ۲۳۹
۱۲۔ایضاََ۔ص ۲۷
۱۳۔ایضاََص۴۵۔۴۶
۱۴۔ایضاََص ۳۱
۱۵۔ایضاََ۔ص۱۹۵
۱۶۔ایضاََ۔ص۶۰
۱۷۔ایضاََ۔ص ۲۱۴
۱۸۔ایضاََ۔ص ۲۱۶
۱۹۔ایضاََ۔ص ۶۴
کنزہ نوشیر
پی ایچ ڈی اسکالر
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

