وہ اپنے گھر کے دریچوں سے جھانکتا کم ہے
تعلقات تو اب بھی ہیں رابطہ کم ہے
تم اس خموش طبیعت پہ طنز مت کرنا
وہ سوچتا ہے بہت اور بولتا کم ہے
عالمی شہرت یافتہ شاعر ڈاکٹر نواز دیوبندی کے مذکورہ چار مصرعے میرے ایک دیرینہ ساتھی پر بالکل صادق آتا ہے جو اس فانی دنیا میں ۸ ْ / فروری ۱۹۸۲ء کو وارد ہوا۔ ہم دونوں(میرا ساتھی اور خاکسار) لگ بھگ آٹھ سال(2008ء تا 2017ء) ایک ہی تاریخی تعلیمی گہوارہ کانکی نارہ حمایت الغرباء ہائی اسکول (کیم ڈی ٹی پی سنٹر) میں ایک ساتھ تدریسی خدمات انجام دیتے رہے۔ لہذا گزشتہ چودہ برسوں سے متذکرہ اسکول کے کمپیوٹر سنٹر(ماتحت این سی پی یو ایل، منسٹری آف ایجوکیشن، گورنمنٹ آف انڈیا) کے مختلف تقریبات میں مزید علاقائی اداروں کے ادبی، علمی اور سماجی پروگرام میں جب کبھی انھیں تعارفی کلمات سے پکارتا تو نواز دیوبندی کے ماخوذ چار مصرعے خودبخود زبان پر آجاتے۔
حقیقی معنوں میں میرا دیرینہ ساتھی خطاب عالم شاذ ؔ ایک شریف النفس بندۃٔ خدا ہے۔ اپنے نام خطاب کے برعکس بالکل کم گو، خموش و حلیم طبع، ہنگامۃٔ ہستی سے بعید، سنجیدہ قیافہ، شریفانہ جامہ، مفکرانہ سوچ، اور بے ضرر شخص ہے میرا دوست۔بلا مبالغہ میں وثوق کے ساتھ ایسا کہہ سکتا ہوں کیونکہ شاذ ؔ کے کردار مزید ان سے میری قربت کا ایک زمانہ شاہد ہے۔ ایک جانب ہم کمپیوٹر سنٹر میں چھ گھنٹے ساتھ رہتے تو دوسری جانب شام تا شب بھی بغرضِ مطالعہ و گفت و شنید گھنٹوں مل بیٹھتے۔ علاوہ ازیں چھٹی کے دنوں میں ایک ساتھ مختلف مقابلہ جاتی امتحانات کی تیاری میں ان کے ہی ایک علیحدہ چھوٹے سے کمرے میں مشغول رہتے۔ رمضان کے مہینے میں عشائیہ سے قبل از سحری ، ان کے ہی مخصوص کمرے میں ذاتی مطالعے میں مستغرق رہتے۔اسی بہانے گروپ اسٹڈی/ ڈسکشن بھی ہو جاتا۔ ہم دونوں کئی ایک بار ایک ہی ساتھ اپنے ضلع اور اپنی ریاست کے باہر دوسرے ضلعوں اور دوسری ریاستوں میں مقابلہ جاتی امتحان میںبھی شریک ہوئے۔ ہم اتنے قریب تر ہیں کہ میرے گھر کے ہر چھوٹے سے بڑے پروگرام میں وہ مدعو رہتے ہیں اور ان کے یہاں میں۔
ہمارے مابین ذاتیاتی طور پر کبھی شدید بے تکلفی نہ رہی جس طرح سے دو ہم نوالہ اور ہم پیالہ دوست یا لنگوٹیا یار ہوا کرتے ہیں۔ ہمیشہ ایک پاسِ لحاظ آڑے رہا۔ ہمارا میلانِ طبع بھی ہماری بے تکلفی کے فقدان کا سبب رہا۔ جہاں ایک طرف زود گوئی اور چنچل پن ہے تو دوسری جانب غازۂ متانت ضرورت سے زیادہ گاڑھا۔ مجھ سے عمر اور جماعت میں دو سال بڑے ہونے کے باوجود میرے دیرینہ ساتھی ہیں خطاب صاحب۔ میرے بڑے بھائی کے ہم جماعت ہونے کی وجہ سے میں انہیں بڑوں والی عزت دیتا تو وہ بھی میرے داخلی حسیت سے واقف ہونے کی بنا پر مجھ سے ویسا ہی اپروچ رکھتے ہیں۔ مگراس وقت سے تاحال اپنے دل کے دروازے ہمہ وقت کھولے رکھتے ہیں۔ میری بات تو الگ، انہوں نے ہر کسی کے ساتھ اپنے خلیق ہونے کا ثبوت پیش کیا ہے۔
ان کی ہونہاری اور ذہانت کا خاکسار بھی قائل رہا ہے۔ یہ ان کی ہونہاری اور ذہانت کی دلیل ہی ہے کہ انہوں نے پرائمری تا ہائر سیکنڈری کبھی اول یا دوئم یا سوئم مقام کے علاوہ دوسرا کوئی مقام حاصل نہیں کیا۔ انہوں نےM.P سال 1997ء میں، H.S Arts 1999ء میں، آئی ٹی آئی (ٹریڈ فیٹر)2001ء میں، پرائمری ٹیچر ٹریننگ 2004ء میں، گریجویشن(B.A) 2005ء میں، CABA-MDTP(DIPLOMA COMPUTER COURSE)سال 2006ء میں، ایم اے اردو سال 2008ء میں، ایم اے (ہسٹری) 2012ء میں اور D.El.Ed (Bridge course) سال 2012ء میں امتیازی نمبروں سے پاس کیا۔
قابل ذکر بات یہ رہی کہ غربت میں دو بھائیوں اور تین بہنوں کو ساتھ لیکر پلے بڑھے۔ مزید برآں خطاب صاحب نے بچپن ہی سے بندی کاٹنے کا کام کرکے ذاتی پڑھائی کے اخراجات اٹھاتے ہوئے گھریلو خانہ برداری میں بھی اپنا تعاون پیش کرتے رہے۔ گویا بڑے محنت کش، ہونہار، ایماندار اور ملنسار ہیں جناب۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ شاذ ؔنے صاحب مدرسہ اسلامیہ سے مولانا حمیدالقاسمی (مرحوم) کی سر پرستی میں دینی تعلیم اور نصف قرآن بھی حفظ کر رکھا ہے۔
ان کے اخلاق حسنہ کا نمونہ میں بذات خودمسلسل گزشتہ پندرہ سالوں سے چشم دید گواہ کی شکل میں بہت قریب سے دیکھتے آ رہا ہوں۔ ان کا گھرانہ بھی بڑا دیندار، مہذب اور شریفانہ دیکھنے کو ملا۔ نہ کسی سے کوئی مفاد، نہ کسی کے ٹوہ میں رہنا، حسد، جلن اور کینہ سے کوسوں دور بس اپنی ہی زندگی میں مشمول رہنا، ان لوگوں کا شیوہ رہا ہے۔ ان کے بڑے بھائی آفتاب جو واقعی آفتاب کی طرح اپنی روشنی سے پورے کنبہ کو روشن کرتے رہے ہیں۔ بڑے بھائی کے قدم سے قدم ملاکر دنوں چھوٹے بھائی خطاب و شباب عالم بھی چلتے رہے۔ اللہ نے اسی کے ثمرات میں موجودہ اچھے دنوں سے نواز دیا۔
مغربی بنگال پرائمری ٹیچر اور اپر پرائمری ٹیچر کے مقابلہ جاتی امتحانات میں ہم دونوں ہی سرخرو ہوئے۔ خطاب صاحب پرائمری ٹیچرز ٹریننگ مکمل کرنے کے بعد سے ہی پرائمری ٹیٹ کے امتحانات دے رہے تھے۔ مگر اللہ نے سال 2017ء ان کے لیے مقرر کر رکھا تھا۔ بالاآخر ان کی تقرری ویسٹ بنگال پرائمری بورڈ کے تحت جگتدل شمس اردو پرائمری اسکول میں معاون معلم کے فرائض انجام دینے کے لیے ہوئی۔ پرائمری اسکول کے اساتذہ تو بہت ہیں لیکن ایک منفرد پہچان کے حامل خطاب عالم شاذ ؔ میں کچھ خاص بات ہے۔
موصوف نے شروعات نثرنگاری سے کی مگر دل منظوم نگاری کی طرف مائل تھا۔ لہذا کچھ سالوں بعد جب مستقل سرکاری ملازمت مل گئی تو ذہنی یکسوئی کے ساتھ نظمیں لکھنے لگے جو متعدد روز ناموں کی زینت بنیں۔ آٹھ دس غزلیں بھی کہی ہیں۔ مگر قابل ذکر بات یہ ہے کہ ان کی نظمیں متعدد رسالوں میں شائع ہوتی ہیں۔ پہلی بار، قومی کونسل کے میعاری ماہنامہ ’’بچوں کی دنیا‘‘ جنوری 2021ء نظم شائع ہوئی اور’’ اردو دنیا‘‘ستمبر2021ء اور دسمبر 2022ء میں بالترتیب انکا تاثراتی مضمون اور انٹر ویو بھی شائع ہو چکا ہے۔ دہلی اردو اکاڈمی سے شائع ہونے والا رسالہ’’ بچوں کا ماہنامہ امنگ‘‘ فروری اور اکتوبر2022ء میںنظم اور مضمون شائع ہوا۔بہار اردو اکاڈمی کا ماہنامہ ’’زبان و ادب ‘‘ جولائی 2022 ، اڈیشہ اردو اکاڈمی کا سہہ ماہی رسالہ ’’فروغِ ادب‘‘ جولائی تا ستمبر اور اکتوبر تا دسمبر 2022ء میں غزلیں شائع ہوئی ہیں، اس کے علاوہ ’’ایوان اردو اور فروغ ادب ‘‘میں کتابوں پر تبصرے بھی شائع ہو ئے ہیں۔ اس رواں سال 2023ء میں انھوں دو نئی صنف’’ترائیلے اور ماہئے‘‘ پر طبع آزمائی کی، جس میں حمدیہ، نعتیہ، دعائیہ اور نظم شامل ہیں، جو ہندوستان کے مختلف اخبارات کی زینت بنی۔ موصوف ادبی نشستوں میں اپنی تخلیقات پیشِ سامعین و ناظرین کر چکے ہیں۔ مگر انہوں نے اپنا پہلا بڑا، میعاری اور شاندار مشاعرہ انجمن ترقی اردو ہند شاخ مغربی بنگال کے زیر اہتمام توپسیا، کلکتہ میں انجمن کے’’اردو گھر‘‘ میں 21؍ فروری 2022 ء’’ بین الاقوامی مادری زبان ‘‘کے دن پڑھا۔ متذکرہ مشاعرے میں کلکتہ، ہوڑہ اور مضافات کے قدآور شعراء و ادباء کی موجودگی، استاد اور صاحب دیوان شاعر حلیم صابر صاحب کی صدارت اور پروفیسر ڈاکٹر عاصم شہنواز شبلی کی نظامت میں پڑھا۔ جہاں ان کی غزل کے زیر ِنظر اشعار پر ڈھیروں داد و تحسین ملے ؎
میری ترقی کے ضامن، میرے رقیب ہوئے
ملا جو مجھ کو یہاں، ان کو کیا نصیب ہوئے
جنہیں شغف تھا قلم اور کتاب سے ہر دم
وہی زماں میں معلم، وہی ادیب ہوئے
یہ شاعرانہ سِحر گفتگو کے کیا کہنے
زباں سے پھول جو جھڑنے لگے نقیب ہوئے
منافقانہ رویہ کمال کا فن ہے
یہاں رفیق رہے شاذؔ، وہاں رقیب ہوئے
حاسدین، مخالفین، تنگ نظروں، فتنہ بازوں، حریفوں، اور نئے لکھاریوں کے راستوں میں روڑا اٹکانے والوں کے لیے بغیر کسی نتیجے کی پرواہ کئے، جناب کا کرارہ جواب بھی شعری لبادے میں خوب ہے۔ اس ضمن میں موصوف کی رشحاتِ فکر کے چند شعری نمونے کے ساتھ آج کے لیے اپنا قلم یہیں روک رہا رہوں ؎
کہے گا نہیں شعر، تو کیا کہے گا
اگر چپ رہا وہ،زمانہ کہے گا
ادب ملکیت تو نہیں ہے کسی کی
تو لکھ آج، کل دوسرا بھی لکھے گا
نہ بن راہ میں تو کسی کے رکاوٹ
وہی ایک دن قہر بن کر گرے گا
نہ پرواہ کر اب زمانے کی کوئی
یقیں شاذؔ رکھ، شعر اچھا کہے گا
اپنی ادبی و سماجی سرگرمیوں کی پیش رفت خ۔ع۔شاذؔ موجودہ انجمن ترقی اردو ہند ، شاخ – جگردل و کانکی نارہ کے جنرل سکریٹری اور کانکی نارہ کاروان علم و ادب کے جوائنٹ سکریٹر ی بھی ہیں۔
۔۔۔۔۔ختم شد۔۔۔۔
، کوچ بہار گورمنٹ انجینئرنگ کالج، حکومت مغربی بنگال،موبائل: 8820239345
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page