Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      ستمبر 9, 2026

      کتاب کی بات

      اگست 24, 2026

      کتاب کی بات

      جولائی 15, 2026

      کتاب کی بات

      جولائی 15, 2026

      کتاب کی بات

      جون 6, 2026

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      رسالہ شاہراہ کے مضامین کا تنقیدی جائزہ –…

      ستمبر 20, 2026

      تحقیق و تنقید

      کلیاتِ فراقؔ گورکھپوری کے چند نسخوں کا تنقیدی…

      اگست 21, 2026

      تحقیق و تنقید

      تنقید اور عملی تنقید – سید احتشام حسین

      مئی 20, 2026

      تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      سیرت النبی ﷺ اور اِنفرادی جواب دہی – ڈاکٹر…

      اگست 24, 2026

      اسلامیات

      سنت ابراہیمی کی حقیقی روح اور اس کا…

      جون 6, 2026

      اسلامیات

      آبِ زمزم کے طبی ، روحانی اور سائنسی…

      جون 6, 2026

      اسلامیات

      قربانی صرف رسم نہیں، اللہ کے حکم کی…

      جون 6, 2026

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      جیسا گمان ویسا انسان: مترجم ڈاکٹر عثمان غنی…

      جولائی 31, 2026

      تراجم

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      چنار بک فیسٹول نہایت مختصر وقت میں علم،…

      جولائی 18, 2026

      خبر نامہ

      ڈاکٹر ظفرالاسلام خان کو شاہ ولی اللہ  ایوارڈ سے…

      جولائی 2, 2026

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام بشیر بدر،…

      جون 7, 2026

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خصوصی مضامین

      حسین الحق تصوف اور اردو ادب – عبد…

      ستمبر 9, 2026

      خصوصی مضامین

      حاجی شفیع اللہ شفیعؔ بہرائچی: حیات اور ادبی…

      جولائی 18, 2026

      خصوصی مضامین

      آٹزم : خاندان کا سفر ، قبولیت اور…

      جولائی 16, 2026

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      مُحَرَّم اور اسلامی اخوت کا تصور – فیض…

      اگست 8, 2026

      سماجی اور سیاسی مضامین

      تعلیمی اداروں کا زوال اور سوشل میڈیا- نازش…

      جولائی 16, 2026

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ شاہراہ کے مضامین کا تنقیدی جائزہ –…

      ستمبر 20, 2026

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      متفرقات

      رسالہ شاہراہ کے مضامین کا تنقیدی جائزہ –…

      ستمبر 20, 2026

      متفرقات

      حسین الحق تصوف اور اردو ادب – عبد…

      ستمبر 9, 2026

      متفرقات

      مُحَرَّم اور اسلامی اخوت کا تصور – فیض…

      اگست 8, 2026

      متفرقات

      جیسا گمان ویسا انسان: مترجم ڈاکٹر عثمان غنی…

      جولائی 31, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      ستمبر 9, 2026

      کتاب کی بات

      اگست 24, 2026

      کتاب کی بات

      جولائی 15, 2026

      کتاب کی بات

      جولائی 15, 2026

      کتاب کی بات

      جون 6, 2026

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      رسالہ شاہراہ کے مضامین کا تنقیدی جائزہ –…

      ستمبر 20, 2026

      تحقیق و تنقید

      کلیاتِ فراقؔ گورکھپوری کے چند نسخوں کا تنقیدی…

      اگست 21, 2026

      تحقیق و تنقید

      تنقید اور عملی تنقید – سید احتشام حسین

      مئی 20, 2026

      تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      سیرت النبی ﷺ اور اِنفرادی جواب دہی – ڈاکٹر…

      اگست 24, 2026

      اسلامیات

      سنت ابراہیمی کی حقیقی روح اور اس کا…

      جون 6, 2026

      اسلامیات

      آبِ زمزم کے طبی ، روحانی اور سائنسی…

      جون 6, 2026

      اسلامیات

      قربانی صرف رسم نہیں، اللہ کے حکم کی…

      جون 6, 2026

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      جیسا گمان ویسا انسان: مترجم ڈاکٹر عثمان غنی…

      جولائی 31, 2026

      تراجم

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      چنار بک فیسٹول نہایت مختصر وقت میں علم،…

      جولائی 18, 2026

      خبر نامہ

      ڈاکٹر ظفرالاسلام خان کو شاہ ولی اللہ  ایوارڈ سے…

      جولائی 2, 2026

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام بشیر بدر،…

      جون 7, 2026

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خصوصی مضامین

      حسین الحق تصوف اور اردو ادب – عبد…

      ستمبر 9, 2026

      خصوصی مضامین

      حاجی شفیع اللہ شفیعؔ بہرائچی: حیات اور ادبی…

      جولائی 18, 2026

      خصوصی مضامین

      آٹزم : خاندان کا سفر ، قبولیت اور…

      جولائی 16, 2026

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      مُحَرَّم اور اسلامی اخوت کا تصور – فیض…

      اگست 8, 2026

      سماجی اور سیاسی مضامین

      تعلیمی اداروں کا زوال اور سوشل میڈیا- نازش…

      جولائی 16, 2026

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ شاہراہ کے مضامین کا تنقیدی جائزہ –…

      ستمبر 20, 2026

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      متفرقات

      رسالہ شاہراہ کے مضامین کا تنقیدی جائزہ –…

      ستمبر 20, 2026

      متفرقات

      حسین الحق تصوف اور اردو ادب – عبد…

      ستمبر 9, 2026

      متفرقات

      مُحَرَّم اور اسلامی اخوت کا تصور – فیض…

      اگست 8, 2026

      متفرقات

      جیسا گمان ویسا انسان: مترجم ڈاکٹر عثمان غنی…

      جولائی 31, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
افسانہ کی تفہیم

راکھ سے لکھی گئی کتاب – سبط حسن نقوی

by adbimiras دسمبر 19, 2022
by adbimiras دسمبر 19, 2022 1 comment

 

تلخیص:

کبیر ،انصاری اور راوی کو تین مہینے کے لئے ایک ملازمت پر رکھا گیا ہے۔کبیر کا کام ادھ جلے،معمولی جلے اور معمولی بچے کاغذوں کو الگ الگ ،انصاری کا کاغذوں کی راکھ کو علیحدہ کرنا ہے۔راوی سے کہا گیا ہے کہ ادھ جلے کاغذات کی تحریروں کو پڑھ کر ایک کتاب تیار کرے۔تین زبانوں اور قدیم کتابوں کے کتب خانے کے ادھ جلے اوراق سے ایک مربوط کتاب ترتیب دینا کوئی آسان کام نہیں ہے۔راوی کا مزاج ہے کہ وہ مشکل کام سے فرار اختیار نہیں کرتا ،وہ اس کام کو کرنے کے لئے تیار ہے۔

ان کے ٹھہرنے ،کھانے پینے کا انتظام ہے لیکن اس بات کی ممانعت ہے کہ کسی سے بھی اور آپس میں بھی آتش زدہ کتب خانے کے بارے میں بات نہیں کریں گے۔

یہ ملازمت جس مقام پر ہے وہ مقام راوی کے شہر سے بہت دور ہے۔ اس کو یہ ملازمت حاکم شہر کی سفارش پر ملی ہے۔حاکم شہر اس کی اہلیتوں سے واقف تھا۔اس واقفیت کا سبب یہ ہے کہ ایک مرتبہ اس کے شہر میں گھروں سے ایک فرقے کی ساری کتابیں یکجا کرکے بھیڑ نے جلا دی تھیں اور اس کے کچھ دن بعد اسی فرقے کے علاقے میں ایک ادھ جلے کاغذ کی بات کہہ کر اس گھر کو آگ لگا دی گئی تھی جو تجارتی نقطۂ نظر سے اہم تھا ۔جلنے کے بعد اس مکان کو تاجروں نے حاصل کر لیا اور وہاں پلازہ تیار ہو گیا۔

یہ پورا معاملہ راوی اور اس کے بڑے بیٹے کے لئے شاق تھا ،ان دونوں نے تحقیق کی اور معاملے کی حقیقت سے آگا ہی حاصل کی۔انھوں نے حاکم شہر سے ملاقات کر کے اس کو معاملے سے آگاہ کیا ۔حاکم نے شکریہ ادا کیا لیکن حوصلہ شکنی بھی کی۔وہ حاکم شہر کی یادداشت کا حصہ بھی بن گئے۔کسی شہر میں جب کسی کتب خانے میں آگ لگی تو شہر کے حاکم کو اس شہر کے حاکم نے راوی کا نام سجھایا۔ (یہ بھی پڑھیں بیدل ،جدیدیت اور خاموشی کی جمالیات – پروفیسر ناصر عباس  نیر ّ )

راوی نے اپنا کام تین ماہ میںمکمل کر کے، ادھ جلے،معمولی جلے اور معمولی بچے کاغذوں سے کتاب ترتیب دے دی ۔پہلے افسروں نے دو روز کتاب کو دلچسپی سے سنا ،دلچسپی تسلسل اور بے تسلسلی میں بھی قائم رہی آخری روز خود ملازمت دینے والے شخص نے کتاب سنی ۔ کام مکمل ہو چکا تھا لیکن کتاب ترتیب دینے والا ہی راکھ کے ڈھیر میں بدل گیا۔

افسانے کاموضوع:

نظریاتی اساس پر وحشیانہ ظلم ہے جس کی جڑیں سیاسی قتدار اور سرمایہ دارانہ نظام میں پیوست ہیں۔اقتدار اور ظلم کا رشتہ روز اول سے قائم ہے۔افسانہ نگار نے براہ راست تو پاکستان میں اقلیتوں پر ہونے والے خودکش حملوں کا ذکر نہیں کیا لیکن اشارے ضرور کئے ہیں۔

 

غرض و غایت:۔

 

افسانے کی کوئی ارادی اور واضح غرض و غایت نہیں ہے۔افسانہ نگار قاری کو کسی نتیجے پر پہچانا بھی نہیں چاہتا تاہم زیریں سطح پر اس کی خواہش یہ ہے کہ لوگ اصل سبب کے متعلق سوچیں اورپروپیگنڈے سے حقیقت کی تہہ تک پہنچیں۔

 

افسانے کا بیانیہ اورکرافٹ:۔

 

افسانے کا سارا حسن و جمال اس کے بیانیہ،ہیئت اور موضوع کے درمیان ہم آہنگی میںمضمر ہے۔زبان،بیان اور اسلوب موزوں و مناسب ہے۔فلش بیک کی تکنیک کا استعمال بھی افسانہ نگار نے کیا ہے۔اردو افسانے کی روایت کے ذیل میں کہا جا سکتا ہے کہ جدید افسانوں کی روایت کی خاک سے اپجا نیا افسانہ ہے۔ما بعد جدید رجحان لایعنیت کا پرتو افسانے کی بنت میں شامل ہے ۔ بچے ہوئے بے معنی اوراق میں معنویت تلاش کر لینا ہی لا یعنیت ہے۔ افسانے کے کرافٹ پر نظر کیجئے تو یہ بے تسلسل ٹکڑوں کو مربوط بنانے کی سعی معلوم ہوتا ہے۔ابتدا سے آخری پیراگراف سے قبل تک راوی اور افسانہ نگار ایک ہی ہیں لیکن اختتام پر راوی موجود نہیں ہے اور افسانوی بیانیہ  افسانہ نگار کے ہاتھ میں آ جاتا ہے،اس طرح افسانہ دو راویوں کا وجود رکھتا ہے۔

 

تجزیاتی مطالعہ:۔

 

کیا ادھ جلے بے تسلسل اوراق کو مربوط کرنے کا نام ’راکھ سے لکھی گئی کتاب ہے‘؟قاری کو بادی النظر میں ایسا ہی محسوس ہوتا ہے کہ راکھ سے لکھی گئی کتاب ہی وہ کتا ب ہے جو جلے بے جلے صفحات سے ترتیب دی گئی ہے۔اگر ایسا ہوتا تو ’جلے اوراق سے لکھی گئی کتاب‘زیادہ مناسب عنوان ہوتا۔راکھ سے لکھی گئی کتاب کی معنویت پرآگے چل کر روشنی ڈالیں گے فی الحال یہاں پر مجھے یہ عرض کرنا ہے کہ راکھ سے لکھی گئی کتاب یہ اشارہ کرتی ہے کہ راکھ کے علاوہ دوسری چیزوں سے بھی کتابیں لکھی جاتی ہیں۔راکھ کی مناسبت سے جو بات فوری ذہن میں آتی ہے، وہ آگ ہے اور آگ کے آتے ہی سطح ذہن پرپانی موجیں مارنے لگتا ہے۔راکھ سے لکھی گئی کتاب ،آگ سے لکھی گئی کتاب اور پانی سے لکھی گی کتابیں خیال میں وجود حاصل کر لیتی ہیں۔

افسانے میں براہ راست نہ سہی مگر تین کتابوں کا ذکر ہے ،افسانہ تیسری اور نئی کتاب ہے، باقی دو کتابیں قدیم اور پرانی ہیں۔ ایک تو وہ کتاب جو انسان کو خود کش بم بناتی ہے اور انسانوں کے جسموں کو ادھ جلے اوراق میں تبدیل کر دیتی ہے ۔ دوسری وہ کتاب ہے جو حاکم کو پیر کے نیچے زمین ہونے کا احساس، نہیں ہونے دیتی اور اس کو ابتلا سے نجات دلاتی ہے ،ان کتابوں کو پانی یا برف سے لکھی کتابیں کہہ سکتے ہیں۔

آگ اور پانی کی کتابوں میں ہمیشہ تضاد رہا ہے۔ہر آگ اپنی منفردکتاب رکھتی ہے جو اور دوسری کتابوں کی شعلہ فشانیوں کے لئے پانی کا حکم بھی رکھتی ہے۔یہاں آگ کو آگ بڑھاتی نہیںنگل جاتی ہے ،پہلی کتاب کے لئے دوسری آتشی کتاب آبی کتاب ہو جاتی ہے۔انسانی حکمرانوں کی تاریخ انھیں کتابوں کی کہانی ہے۔کتابوں کی تاریخ فسادات سے بھری پڑی ہے۔کتابوں کا جلنا فساد کے لئے آگ بھی رہا ہے اور پانی بھی۔ (یہ بھی پڑھیں ” کہانی ، تصور حقیقت، علامتی افسانہ ” – پروفیسر ناصر عباس نیّر )

’’جس شہر سے میں آیا ہوں وہاں تو اکثر کتابیں جلائی جاتی ہیں۔میرے لئے تو اس میں کوئی اچنبھے کی بات نہیں کہ کچھ کتابوں کے جلانے سے فساد شروع ہوئے اور کچھ کے جلانے سے فساد ختم ہوئے۔‘‘

آگ کی صفت ہے کہ وہ اشیا کو اپنے رنگ میں ڈھالتی اور شریک بناتی ہے۔اپنی جگہ پر جلتی بھی ہے اور آگے بھی بڑھتی ہے،اپنی حفاظت کے لئے قلعے بناتی ہے اور ہر طرح کے پانی سے خائف بھی رہتی ہے اور جب پانی اپنی طوفانی موجوں کا کچھ اظہار کرتا ہے تو اس کو گارے میں شامل کرادیتی ہے۔اس حقیقت کا اظہارافسانہ نگار نے کچھ یوں کیا ہے:

’’مجھے قلعے کی کچھ کچھ تاریخ معلوم تھی کہ اسے کوئی آٹھ سو سال پہلے ایک افغان حملہ آور نے تعمیر کروایا تھا ۔وہ علاقہ زرخیز زرعی علاقہ تھا ۔جن کسانوں کو اس نے زیر کیا تھا انھی کو مزدور بنا کر وہ قلعہ بنوایا تھا اور انھی کے ڈر سے پھر اس قلعے میں وقت گزارتاتھا…….جب کچھ مزدوروں نے ایک دن پتھر ڈھونے سے انکار کیا تو ان کی لاشوں کو اس مسالے میں شامل کرکے قلعے کی جنوبی دیوار کا حصہ بنا دیا۔‘‘

کوئی بھی کتاب لکھی جائے اس کا مخاطب وہی ایک شخص ہوتا ہے جسے حاکم یاخدا وند کہتے ہیں۔کتابیں الگ ہو سکتی ہیں لیکن مخاطب تبدیل نہیں ہوتا ،حاکم کی تبدیلی اس وقت تک وراثت کی تبدیلی ہے جب تک نظریات یکساں ہیں اور جب نظریاتی بدلاؤ سامنے آتا ہے تو کتابوں کا مخاطب تو وہی حاکم رہتا ہے لیکن دو حاکم پیدا ہو جاتے ہیں اور یہ دوئی فساد کا پیش خیمہ ہے۔اس فساد کے تین رنگ ہیں پہلا کتابیں جلانا،دوسرا مکان جلانااور تیسرا انسان جلانا۔

’’پھر پتا چلا کہ ایک فرقے کے گھروں میں موجود کتابیں نکال لائے ہیں اور انھیں جلایا جا رہا ہے ۔اسی دوران میں ایک نوجوان نے چیختے ہوئے کہا کہ اگر آئندہ ان کے گھروں سے سے کوئی کتاب ملی تو پہلے گھر کو آگ لگائی جائے گی پھر گھر والوں کو۔‘‘

دوسرے فرقوں کا وجود اسی صورت میں ممکن ہے جب وہ اپنی علمی وراثت سے محروم یا اقتصادی طور پر کمزور ہو جائیں۔ اس کے لئے بستے کی کتابیں اور مکانوں کوجلا کر پلازہ بنانابھی ضروری ہے۔ اس سے بھی حالات قابو میں نہ آئیں تو بم دھماکے اور انسانی جسم کے ٹکڑے ہی اس کاحل ہیں۔یہ کسی ایک فرقے اور کسی ایک زمانے کی کہانی نہیں ہے لیکن اس کہانی کواپنے زمانے کے بغیر کیسے سمجھا جاسکتا ہے؟ افسانہ نگار نے پس منظر کو’ سینہ کوبی‘ اور’سینہ پیٹنے‘ سے بڑی خوبی سے اجاگر کیا ہے۔ اس ترکیب کا استعمال افسانے میں تین مرتبہ اور ایک ہی مقام پر کیا ہے ،اس تکرار سے قاری کی نظر آسانی سے اس اصطلاح پر پڑ جاتی ہے۔

افسانہ اپنے کرافٹ میں شاہکار ہے۔ افسانہ ادھ جلے اوراق ،بے تسلسل صفحات کی کہانی بیان ہی نہیں کرتا بلکہ افسانہ نگار اس کو اسی تکنیک میں تحریر بھی کرتاہے۔ادھ جلے بے تسلسل اوراق کے درمیان ، حاکم، حکومت اور انسان کی فطرت کو پیش نظر رکھ کر ربط پیدا کیا گیا ہے اور افسانے میں یہ ربط ، فلش بیک ا ور تسلسل کو انسان کی نفسیات کے نشیب و فراز سے پُر کیا گیا ہے۔افسانے میں فلش بیک قصیدے کے گریز کی طرح داخل ہوتا ہے اور قیاس ،گمان ،حیرت ،تخیل وغیرہ فضا میںرخصت ہو جاتے ہیں۔

’’ہمارا مالک جس سے ہماری ملاقات ابھی تک نہیں ہوئی ، شاید آخر میں کہیں ہو جائے ،وہ اس کو سمجھتا ہوگا کہ کام کے دوران میں کسی سوال کا پیدا ہونا اچھا نہیں اور اگر وہ سوال اسی کام کے بارے میں ہوتو کام اور کام کرنے والے دونوں کے لیے مضر ہے۔میرے پر دادا کا واقعہ مجھے نہیں بھولتا ۔وہ ایک ہرن کا شکار……‘‘

فلش بیک سے واپسی بھی گریز کے انداز میں ہوئی ہے:

’’اس نے ہمارا شکریہ ادا کیااور کہا کہ یہ نیک کام ہے مگر ایک بار ہی کافی ہے۔اس کا بھلا ہو کہ اس نے کسی کو اس کی خبر نہیں ہونے دی۔شاید یہ بات اس شخص کو معلوم ہے جس نے مجھے یہاں ملازمت کے لیے بلایا تھا۔اگرچہ مجھے حیرت ہے کہ اتنی دوررہنے والے شخص تک میری خبر کیسے پہنچی؟‘‘

دوسری مثال ملاحظہ کیجئے:

ــ’’ایک بار تو جی چاہا کہ یہاں سے نکلوں،شہر کے چوک میں جاؤں اور سینہ کوبی کروں ۔کوئی پوچھے تو اور زور سے اپنا سینہ پیٹوں ۔ایک مرتبہ پھر مجھے وہ منظر یاد آنے لگا جب میں نے اپنے شہر میں جلے ہوئے ٹنڈ منڈ انسانی اعضا جا بجا بکھرے دیکھے تھے…… خواب میں عجب منظر دیکھا ،میرے جسم پر کپڑوں کی جگہ ان کتابوں کے جلے ہوئے ٹکڑے چپکے ہیں۔‘‘

افسانے کا راوی سیاحانہ مزاج کا حامل ہے،اس نے اپنی آنکھوں سے دنیا دیکھی ہے،وہ یقین کے بھروسے پر نہیں،تجربے اور عمل کی بنیاد پر قائم ہے۔ مشاہدہ،شواہد اور تحقیق اس کے لئے اہم ہے۔ تجربیت پسندی ہی اس کے لئے محور ہے۔یہ فقط اس کا ذاتی مزاج نہیں ہے ، اس کا بڑا بیٹا بھی کتاب و مکان جلانے کے واقعات کی تحقیق میں شریک ہے،وہ ایک ہفتے سے زیادہ گھر میں نہیں ٹھہرتا ،اس کا یہ طریقۂ کار گھر والوں پر بار نہیں ہے۔تجربیت(Empricism) اور عملیت پسندی(Pragmatism)اس فرقے یا خاندان کا شعار ہے۔اس بات سے ان کی کتابوں اور کتب خانوں کی طاقت کااندازہ لگایا جا سکتا ہے اور آتش زنی کے جواز کو بھی سمجھا جا سکتا ہے۔ اگرحکومت انسانیت کی اساس پر قائم ہوتی تو کسی کتب خانے کو آگ نہیں لگتی،نظریاتی حکومتیں ایک آگ ہوتی ہیں جو دوسرے کتب خانوں کو راکھ بنانے ہی پر قائم ہیں ورنہ خود ان کا وجود خاک میں مل جائے گا۔

حاکم چاہے اپنے آپ کو فرعون نہ بھی کہیں تب بھی فرعونیت میں غرق ضرور ہوتے ہیں۔وہ سیاحی جو اپنے دامن میں غاروں اور قلعوں کا تجربہ رکھتی ہو ،وہ کتاب میں بھی ڈھل جائے تو بھی اس کا مخاطب بادشاہ ہی رہے گا۔ اس حقیقت نے اپنی سیاحی کو قلم بند کرنے کا خیال راوی سے جدا کر دیا ہے۔اس خیال کو اُس انکشاف نے پیدا کیا ہے جو جلے ہوئے اوراق کی بچی ہوئی تحریروں سے حاصل ہوا ہے۔ وہ بادشاہ کے لئے لکھنا نہیں چاہتا،وہ کس کے لئے لکھنا چاہتا ہے؟اس سوال کا جواب افسانے کی بنت میں شامل ہے۔وہ ان مزدوروں سے خوش ہوتا ہے جو پتھر ڈھونے سے انکار کرتے ہیں اور ان کی لاشیں دیوار کا حصہ بن جاتی ہیں۔کمزور ہو کرظلم کے خلاف آواز اٹھانا اور موت کو گلے لگانا اس کے نزدیک خوش آئند ہے۔حاکم کی منشا کے خلاف عمل ملک الموت کو دعوت دینے کے مترادف ہے،اس علم کے باوجودبھی کیا حاکم کی منشا کے مطابق کتاب لکھی جا سکتی تھی؟اس نظریہ کا شخص جب جلے ہوئے اوراق کا مواد تخلیق کرے گا تو کیا وہ حکومت کے حق میں ہوگا؟ ان سوالوں کا جواب نفی میں ہوگا۔حاکم کی منشا اور اس کے اپنے وجود کے درمیان کش مکش اس افسانے کے تار و پود کو جوڑتی ہے۔ یہ فیصلہ کوئی آسان نہیں تھا، بچے اپنی جان بچانے کے لئے بستے کی کتابیں بھی دے دیتے ہیں، جان کی بازی لگانا مشکل کام تھا جب کہ اس کے نزدیک کوئی کام مشکل نہیں تھا اور اس کے نظریہ کے مطابق دماغ کے اندر موجودمشین مشکل سے مشکل کام کو بھی آسان بنا نے کی اہلیت رکھتی ہے۔

جلے اوراق سے مکمل کتاب ترتیب دینے کا کام اس لئے مشکل تھا کہ وہ منشائے حاکم کے مطابق اسے انجام دینے کے لئے تیار نہیں تھا ۔ لیکن اس کے پاس اتنی ہمت بھی نہیں تھی کہ جو اسے ضمیر سے ہم آہنگی اختیار کر نے پر مجبور کر دے۔غار سے غیبی حقیقتیں آشکار ہوتی ہیں۔ یہ بات اس کے علم میں ہے،اس کا ذہن غار کے میورال سے اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ بچہ پیدا ہوتا ہے، گھٹنیوں چلتا ہوا کاندھوں پر آجاتا ہے اور اس کے بعد ایک لمبی خاموشی کے بعد دوبارہ پیدا ہوتا ہے۔ مرنے کے بعد کی خاموشی حقیقت ہے جب کہ دوبارہ وجود حاصل کرنے کی عقائدی مدتیں جدا جدا ہیں لیکن ان کی حدود محشر سے بھی ملتی ہیں۔یہ حقیقت اس کے اندر اتنی گہری ہو گئی کہ اس کو واپس اس دنیا میں آنے کے لئے اپنے ہی نام کو پکار نا پڑا۔

غار کے میورال افسانے کا آخری فلش بیک ہے ،جس کے بعد وہ ذہنی طور پر ضمیر کے مطابق اوراق کے درمیان کا مواد تخلیق کرنے پر آمادہ ہو گیا۔ اس نے بادشاہ کی حقیقت ، کنیزوں سے اس کی شکست اور شہزادے کے بادشاہ کے متعلق خیالات اور اس کے زندہ رہنے کے امکانات کو بھی سلاخوں سے ختم کرنے کا رجحان طشت از بام کر دیا۔ (یہ بھی پڑھیں نذیر احمد کا ناول ایامیٰ اور نو آبادیاتی جدیدیت – پروفیسر ناصر عباس نیرّ )

کتاب خانہ کیوں جلایا گیا ؟اس کا جواب یہ ہو گا کہ اس میں موجود حقائق حکومت کے وجود کے لئے خطرہ تھے۔کتابوں کی راکھ حکومت کے ماتھے کا قشقہ ہے جو اس کی سر بلندی کی علامت ہے۔حکومت کے سامنے کتابوں کو جلانے کا سوال نہیں ہے ، اس کے سامنے سوال یہ ہے کہ راکھ کے ڈھیر سے کیا دوبارہ کتاب ترتیب پا سکتی ہے یا نہیں ؟کتاب کے بعد گھر اور گھر والوں کو بھی جلانا ہوگا کہ نہیں؟ آخری دن خود حاکم نے کتاب سن کر فیصلہ کر لیا کہ اوراق ادھ جلے چھوڑنا بھی خطرناک ہے ،راکھ کے ڈھیر ہی میں حکومت سر چھپا سکتی ہے۔ کتاب کے مرتب کو بھی معلوم تھا کہ ہمارا انجام کیا ہوگا گھر کے بعد گھر والوں کو جلایا جائے گا۔ مرتب کے سامنے مسئلہ یہ تھا کہ بچے ہوئے آثار کو راکھ سے جدا کر دیا جائے اور ان آثار سے نئی کتاب ترتیب دے دی جائے یا راکھ کو پھر اوراق میں بدل دیا جائے۔راکھ کو اوراق بنانے کے لئے صاحب قلم کو راکھ بننے کے لئے آمادہ ہونا پڑے گا۔یہی وہ’ راکھ سے لکھی گئی کتاب‘ ہے جو راکھ کے ڈھیر میں اپنے وجود کو رکھ کر ترتیب دی گئی ہے۔انجام بھی حسب توقع ہوا ہے،مرتب راکھ بن گیا ہے،یہ راکھ کا ڈھیر کیسے بنا اس کو واضح تو نہیں کیا ہے لیکن ملازم(حاکم کے نمائندے) کا مطمئن ہونا جو وقتی ہوتا ہے ،وجود کو راکھ کا ڈھیر بنا کر مٹادینے کی حقیقت کو کھول دیتا ہے۔

******

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

Home Page

 

adabi meerasnasir abbas naiyyerادبی میراثافسانہتنقیدناصر عباس نیر
1 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
جامعہ ملیہ اسلامیہ گاندھی، نہرو، مولاناآزاد اور ڈاکٹر ذاکر حسین کی وراثت کو آگے بڑھا رہا ہے
اگلی پوسٹ

یہ بھی پڑھیں

منو بھنڈاری: ہندی افسانوی ادب کامقبول ترین کردار...

مئی 26, 2026

بیدی کا فن – پروفیسر محمد حسن

مئی 15, 2026

آج کی اردو کہانی: زبان اور ساخت –...

فروری 2, 2026

شموئل احمد کا افسانہ ’’سنگھار دان‘‘ – طارق...

فروری 1, 2026

منٹو اور نیا افسانہ – پروفیسر شمیم حنفی

اکتوبر 11, 2025

عزیز احمد کی افسانہ نگاری! وارث علوی

اپریل 12, 2025

اکیسویں صدی کی افسانہ نگارخواتین اور عصری مسائل...

مارچ 21, 2025

ہمہ جہت افسانہ نگار: نسیم اشک – یوسف...

جنوری 15, 2025

ڈاکٹر رُوحی قاضی : ایک فراموش کردہ افسانہ...

نومبر 25, 2024

اکیسویں صدی کے افسانے – ڈاکٹر عظیم اللہ...

ستمبر 15, 2024

1 comment

منزہ نور مئی 6, 2023 - 3:55 صبح

عورت کو زیادہ محبت کس سے ہے؟/ناصر عباس نیر
یہ افسانہ موجودہ دور کے ایک مشہور تنقید نگار ناصر عباس نیر کے قلم سے تحریر شدہ ہے۔جنھیں دنیا عملی تنقید سے جانتی ہے۔ان کی تنقیدی سر گر میوں میں بہت خاموشی کے ساتھ تخلیقی سر گرمیوں نے اپنی جگہ بنا لی ہے ۔تنقید کا تخلیق کے ساتھ بڑا گہرا تعلق ہے۔ایک بہترین تنقید نگار ایک اچھا تخلیق کار ثابت ہو سکتا ہے جس کی مثال ناصر عباس نیر کی صورت میں موجودہے۔
افسانے کا بنیادی پلاٹ عورت کی حقیقت کو بتانا ہے لیکن شاید حقیقت کی مکمل وضاحت نہیں ہو سکی اور اس ضمن میں عورت کے دو روپ کو دکھایا گیا ہے۔میں سمجھتی ہوں کہ عورت کی حقیقت پر سوال کیا گیا ہے اور اس کا جواب تشنہ چھوڑ دیا گیا ہے۔یوں بھی عورت کی حقیقت سے کوئی مفکر آج تک پردہ نہیں اٹھا سکا۔اس لیے اس افسانے کا عنوان بھی سوالیہ ہے۔
اس افسانے میں عورت کو مختلف مقامات پر رکھ کر جانچا گیاہےکہ وہ رشتوں کےجال میں کس کی طر ف جھکاؤ زیادہ رکھتی ہے۔بوڑھے مقتول کی بیوی اپنے بیٹے (قاتل)سے انتقام لینا چاہتی تھی۔کنیز اپنے سابقہ شوہروں سے طلاق کے بعد بھی مراسم رکھتی ہےاور اپنے عاشق کی نادیدہ حرکت کو چھپا کر کہتی ہے وہ اپنی مری بیٹی کو زبان زد عام نہیں کرنا چاہتی تھی۔دوسری طرف اس افسانے میں بے جان رشتوں کی بے حسی دیکھائی گئی ہے کہ کس طرح چند ایکر زمین کے واسطے اکلوتے بیٹے نے بوڑھے باپ کو قتل کر دیا حالانکہ باپ کے انتقال کے بعد وہ زمین بیٹے کی ملکیت ہونی تھی۔دوسری طرف ایک ماں جو بدنامی کے ڈر سے اپنی بیٹی کا قتل اور اپنے عاشق کی زیادتی پر پردہ ڈال دیتی ہے۔
"میں چاہتی تھی میری بیٹی اسی طرح قبر میں جائے ،جیسے وہ میرے پیٹ سے نکلی تھی۔”
ایک عورت کے کردار پر بات کرتے ہوئے بیاں کیا گیا ہے کہ بد کردار عورت مردوں بڑی خوش اخلاق ہوتی ہے۔جو آنے والے کو سلام اور جانے والے کو دعا دے گی۔اقتباس سے ظاہر ہے۔
” کوئی شخص کنیز کو اِس کے منھ پر بھلا برا نہیں تھا۔ایک تو وہ راہ میں آتے جاتے سب مردوں کو سلام کرتی۔ان سے حال احوال پوچھتی۔سب کی سلامتی کی دعا کرتی ہے”
افسانے میں کنیز نامی عورت کے بھائی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے ۔جو شہر میں رہتا تھا ۔شاید وہ اپنی بہن کی ایسی حرکتوں سے ناواقف تھا یا ان پر دھیان نہیں دینا چاہتا تھا لوگ اس کے منہ پر تو اسے کچھ نہ کہتے مگر بعد میں باتیں بناتے تھے۔ اگرچہ کنیز کے ماں باپ نے اس سے ملنا جلنا چھوڑ دیا تھا۔
"اس کے بوڑھے ماں باپ نے اس سے ملنا چھوڑ دیا تھا ۔ایک بھائی ،تھا جسے لوگ غیرت دلاتے تھے۔جب وہ عید یا برادری کی شادی غمی میں گاوں آتا، مگر وہ جواب نہ دیتا تھا۔اس کے جانے کے بعد لوگ کہتے شہر میں نوکری کرنے والے بے غیرت ہو جاتے ہیں۔”
افسانہ اگرچہ نئی نوعیت کا نہیں مگر اس میں فکر کی نئی جہت سامنے آتی ہے ۔افسانہ کسی مقام تک نہیں پہنچا ۔ایک افسانہ نگار کے لیے یہ ضروری بھی نہیں۔ اُس کا مقصد قاری کی توجہ اصل کی طرف کروانا ہے۔

Reply

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (61)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (187)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (122)
  • تخلیقی ادب (604)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (204)
    • انشائیہ (20)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (145)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (129)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,059)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (542)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (220)
      • غزل شناسی (208)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (89)
    • صحافت (47)
    • طب (20)
    • فکشن (408)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (218)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (25)
      • ناول شناسی (149)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (13)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (482)
  • گوشہ خواتین و اطفال (100)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,145)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (35)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (901)
    • خصوصی مضامین (129)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (230)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (69)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں