Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تنقید اور عملی تنقید – سید احتشام حسین

      مئی 20, 2026

      تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تنقید اور عملی تنقید – سید احتشام حسین

      مئی 20, 2026

      تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
افسانہ کی تفہیم

صغیر افراہیم کے افسانے: ریڈیائی افسانوی ادب میں ایک اضافہ – صدام حسین

by adbimiras جون 15, 2021
by adbimiras جون 15, 2021 0 comment

پدم شری قاضی عبدالستار نے صغیر افراہیم کے افسانوی مجموعے ’ کڑی دھوپ کا سفر ‘ کے تعلق سے فرمایاہے:  ’’ کڑی دھوپ کا سفر ‘ اردو کے ریڈیائی افسانوی ادب میں ایک اہم اضافہ ہے ۔ ‘‘

قاضی عبدالستار کے ایک شاگرد  مظفر حسین سیدصغیر افراہیم کی گوناں گوں خوبیوں کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

’’ صغیر افراہیم ایک مجموعہ صفات شخص کا نام ہے ۔ ان کا شمار آج کے اردو ادب کے منظرنامے پر روشن ایسے قلم کاروں میں ہوتا ہے جو ہمہ وقت قلم بدست، ہمہ تن مشغول ، نیز بیشتر مصروف سفر رہتے ہیں ، شاید ہی کوئی ادبی محفل ، علمی مذاکرہ ، کسی اہم کتاب کی رسم اجراء ، ایسی ہو جس میں صغیر افراہیم جلوہ گر نہ ہوتے ہوں ۔ اس محدودالقلم کو تو اکثر حیرت ہوتی ہے کہ وہ اس درجہ قلم زنی ، تقریر آرائی ، نیز بزم سازی کس طرح انجام دیتے ہیں ، بنیادی طور پر مدرّس ہیں ، پتہ نہیں کب فرصت نکال کر درس بھی دے دیتے ہیں اور وہ بھی اس طور کہ ان کا شمار اچھے درس بخشوں میں ہوتا ہے۔ ‘‘ (جہان صغیر افراہیم ، مرتبہ : ڈاکٹر حنا آفرین، یونی ورسل پریس دہلی۔۲۰۱۷ء ، ص: ۴۵۷)

صغیر افراہیم قلمی نام اور اصل نام محمد صغیر بیگ افراہیم ہے ۔۱۲ /جولائی ۱۹۵۳ ء کو یوپی کے انّاؤ ضلع میں پیدا ہوئے۔ابتدائی تعلیم انّاؤ سے حاصل کی ۔ ہائی اسکول(۱۹۷۳ء ) اور انٹر میڈئیٹ(۱۹۷۵ ء) بھی وہیں سے کیا۔ انٹرمیڈیٹ کے بعد علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں داخل ہوئے اور ۱۹۷۸ ء میں بی۔اے آنرزکی ڈگری لی۔ یہاں انہیں ایک شاندار ادبی ماحول میسر ہوا ۔ساتھی بھی خوب ملے !سید محمد اشرف، طارق چھتاری ،پیغام آفاقی، ابن کنول ، غضنفرجیسے باشعوراور ادبی ذوق رکھنے والے ساتھیوں کی صحبت و رفاقت نے صغیر افراہیم کے اندر مزید حوصلہ اور استقلال پیدا کیا۔۱۹۸۰ ء میں ایم ۔اے۔اردو میں۔ڈپارٹمنٹ اور فیکلٹی دونوںمیںٹاپ رہے ۔تحقیقی مقالہ برائے پی۔ایچ۔ڈی ۱۹۸۶ ء میں مکمل کیا جس کا عنوان تھا ’’اردو افسانہ : ترقی پسند تحریک سے قبل ‘‘۔صغیر افراہیم علی گڑھ کی اس خوبصورت ادبی فضا کا ذکر کچھ یوں کرتے ہیں:

’’بلاشبہ علی گڑھ کا وہ دور ادبی اعتبار سے بے حد فعال تھا فنون لطیفہ میں خوب دلچسپی لی جاتی تھی۔ خلیل الرحمٰن اعظمی کے زیر سایہ شعر و شاعری کی محفلیں آباد ہوا کرتی تھیں۔ فکشن کے میرے کارواں قاضی عبدالستار صاحب تھے۔ والد محترم کے قاضی صاحب سے تعلقات تھے۔ اس قربت کی بدولت میں استاد مکرم کو اپنی کہانیاںدکھانے لگا۔قاضی صاحب کی رہنمائی میں شارق ادیب، پیغام آفاقی، سید محمداشرف ،غیاث الرحمن ،ابن کنول ، غضنفر ، طارق چھتاری وغیرہ کہانیاں لکھ رہے تھے۔ کینڈی ہال کے بعد’’ کارواں کلب‘‘میںمحفلیں سجتی تھیں۔ یہ کلب پہلے بال برادری میں تھا پھر سلیمان ہال کے سامنے،  انوپ شہر روڈ پر واقع پروفیسر محمد حاذق کی کوٹھی الحمراء میں آباد ہوگیا۔’’سنڈے کلب‘‘ میں بھی شام افسانہ کا اہتمام ہوتا تھا۔ میں کہانیاں سناتاکم، سنتا زیادہ تھا۔‘‘(کڑی دھوپ کا سفر( افسانے) ،مصنف: صغیرافراہیم ،ترتیب ڈاکٹر سیما صغیر، ۲۰۱۶ ء ، براؤن بک پبلیکیشنز، نئی دہلی۔ ص: ۱۰) (یہ بھی پڑھیں "اللہ میاں کا کارخانہ "سماج  اور قدرت کا آئینہ خانہ – ڈاکٹر محمد  کامران شہزاد )

صغیر افراہیم کے افسانوی ذوق کو نکھارنے اور جلا بخشنے میں قاضی صاحب کی صحبت اور تربیت کا سب سے اہم رول رہا ہے۔صغیر افراہیم کی ادبی سمت ورفتار کے تعین میں بھی قاضی صاحب کا کردار خاصا اہم ہے۔ بچپن ہی سے صغیر افراہیم کو کہانی پڑھنے ، سننے اور لکھنے کا بے حدشوق تھا ۔اسکول کے زمانے میں انہوںنے کئی بہترین کہانیاں لکھیںبھی۔ علی گڑھ میں طالب علمی کے دوران ہی ان کی پہلی کہانی روزنامہ ’پیغام ‘کانپور میں چھپی۔ اس کے بعد1977ء میں جب قاضی عبدالستار نے اردو فکشن پر ایک بڑے سیمنار کا انعقاد کیا تو دوسرے دوستوں کے ہمراہ صغیرا فراہیم نے بھی اپنی ایک کہانی سمینار میں پڑھی جس کا عنوان تھا’’ ننگا بادشاہ‘‘۔ا س کہانی کی عرصہ تک دھوم رہی مگراس کے بعد صغیر افراہیم تنقید کے خارزار میں ایسے الجھے کہ وہ اس کی طرف یکسوئی سے مزید توجہ نہ دے سکے۔ان کی یہ کہانی تین سال بعد ماہنامہ’ افکار ‘کراچی میں شائع ہوئی ۔اس کے بعد انہوں نے اور بھی کئی کہانیاں لکھیں مگر افسانوںسے زیادہ مضامین اور ترجموں پر توجہ دی ۔چند ہی برسوں میں وہ ایک اہم فکشن ناقد کے طور پر مشہور ہو گئے۔ انہوں نے دو سو سے زائد علمی وادبی اور تحقیقی و تنقیدی مضامین لکھے ہیں جو ملک اور بیرون ملک کے مختلف معیاری رسائل و جرائد میں وقتاً فوقتاً شائع ہوئے ہیںاور یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔ ایک درجن سے زیادہ تنقیدی کتابیںبھی ان کا اہم کارنامہ ہے جو ادبی دنیا میں قدر کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہیں۔ ان کی کتابوں کے ترجمے انگریزی ، ہندی اورکئی زبانوں میں ہو چکے ہیں ۔

صغیر افراہیم نے تنقیدی مضامین اورتصانیف کے علاوہ متعدد سائنسی مضامین کے ترجمے اور مختلف کتابوں پر بہترین تبصرے بھی کیے ہیں ۔’آرٹس فیکلٹی جرنل دانش ‘(۲۰۰۵ ء سے ۲۰۱۶ ء )،’ رفتار ‘(۱۹۹۳ء سے ۱۹۹۶ ء تک )، حسرت موہانی سوونیر(۱۹۸۳ ء سے ۱۹۸۶ ء تک) اور’تہذیب الاخلاق و نشانت ‘(۲۰۱۴ ء سے ۲۰۱۷ ء تک) کے مدیر بھی رہے ۔صدر شعبہ اردو بھی ہوئے ۔ ملک اور بیرون ملک کے اہم جریدوں کے ادارتی بورڈ زمیں بھی شامل ہوئے ۔درجنوں انعامات و اعزازات سے بھی نوازے گئے۔مختلف علمی ، ادبی ، سماجی اور فلاحی تنظیموں سے منسلک ہوئے ۔متعدد اداریوں کے علاوہ ترتیب و تدوین کے کارہائے نمایاں بھی انجام دیے۔ریڈیو ، ٹیلی ویژن پروگراموں سے وابستہ رہے۔مختصر افسانے کے ساتھ ساتھ انشائیے اور فیچرز بھی لکھے ۔غرض کہ ایسا کوئی کام نہیںجو صغیر افراہیم کر نہیں سکتے ۔ ادب تو ادب ، اس کے علاوہ بھی انہوں نے ہر کام میں گہری سنجیدگی کا مظاہرہ کیا ہے ۔ اس ضمن میں انیس رفیع کے یہ جملے بہت اہم ہیں :

’’ صغیر افراہیم کے بارے میں مشہور ہے کہ ادب کا وہ کونسا کام ہے جو وہ کر نہیں سکتے ۔ادب تو ادب غیر ادب کے متعلق بھی کوئی ایسا کام نہیں جسے ان کو کرتے ہوئے نہ دیکھا گیا ہو ۔اگر یقین نہ ہو تو ان سے کہ کر دیکھ لیجئے ۔اب تو خیر سے خود ہی صدر شعبہ ہیں ، مگر جب محض لیکچرر ، ریڈر یا پروفیسر تھے تو صدر شعبہ کے سارے احکامات و گزارشات کی بجا آوری سمجھ کر کرتے۔اپنے رفیقان کار اور دوستوں تک کی خدمات کا شرف حاصل کرتے ۔کبھی کبھی اپنے طلبہ و طالبات کی خدمت کرنے سے بھی نہیں چوکتے۔ان کے لئے کتابیں ، کاپیاں مہیا کرانے کے لئے وعدہ کر لیتے اور حیرت تب ہوتی جب وعدے پورے بھی کردیا کرتے اس خطرے کے باوجود کہ کتابیں واپس ملیں بھی یا نہیں ۔کاپیوں پر خرچ کی گئی رقم چکائی جائے گی یا نہیں۔‘‘ (تحریک ادب ، شمارہ ۴۸، اپریل تا جون ۲۰۲۰ ء ، گوشۂ صغیر افراہیم ، ص: ۱۶۵ )

صغیر افراہیم کی پریم چند شناسی اور فکشن تنقید پر بہت کچھ لکھا جاچکا ہے مگر ان کی افسانہ نگاری بھی قابل تحسین ہے۔ صغیر افراہیم کے افسانوی مجموعے ’’کڑی دھوپ کا سفر‘‘کا پہلا اردو ایڈیشن ۲۰۱۶ء میں شائع ہواجو ۲۸ /افسانوں پر مشتمل ہے ۔دوسرا اردو ایڈیشن۲۰۱۸ ء ، ہندی ایڈیشن ۲۰۱۹ ء اور اس کے فوراً ایک سال بعد ۲۰۲۰ ء میںانگریزی ایڈیشن بھی منظر عام پر آیا۔ اس میں ان کے ان افسانوں کا انتخاب ہے جو انہوں نے تیس چالیس برس قبل لکھے ہیں۔انجان رشتے ، ننگا بادشاہ ، انکشاف ، وہ اچھا لڑکا نہیں ہے ، روشنی ، سرخ تاج،کڑی دھوپ کا سفر، خوابیدہ چراغ او’ر سفر ہے شرط‘ ان کے نمائندہ افسانے ہیں۔ ان افسانوں کو پڑھ کر کہا جا سکتا ہے کہ صغیر افراہیم فن افسا نہ نگاری کے بنیادی رموز ونکات سے بخوبی واقف ہیں۔میرے خیال میں اگر وہ مسلسل افسانے لکھتے رہتے تو آج ایک بڑے افسانہ نگار کی حیثیت سے مشہور ہوتے ۔ (یہ بھی پڑھیں منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم )

صغیر افراہیم کے افسانوی مجموعے ’’ کڑی دھوپ کا سفر‘ کے ہندی ترجمہ کی رسم اجراء یو جی سی مرکز برائے فروغ انسانی وسائل علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، علی گڑھ میں ایک ادبی شام کے تحت عمل میں آئی ۔ترجمہ کا کام صغیر افراہیم کی رفیقہ ٔ حیات ڈاکٹر سیما صغیر نے انجام دیا ہے۔ اس پروگرام میں مشہور ادیب پدم شری پروفیسر حکیم سید ظل الرحمن ،پروفیسر یاسین مظہر صدیقی ،ہندی کے مشہور کہانی کار ڈاکٹر پریم کمار ،ڈاکٹر فائزہ عباسی، شعبہ ہندی اے ۔ایم۔یو کے پروفیسر معراج احمد جیسے نامور ادیب اور دانشور موجود تھے ۔کتاب پر تبصرہ کرتے ہوئے پروفیسر معراج احمد کہتے ہیں:

’’بلاشبہ پروفیسر صغیر افراہیم عصر حاضر کے منفرد تنقید نگار ہیں جہاں جہاں اردو ادب کے حوالے سے تنقیدی نگارشات پہنچتی ہیں وہاں پروفیسر موصوف کی تنقیدی صلاحیتوں کا لوہا مانا جاتا ہے انہوں نے نہ صرف اردو انجام دی ہے بلکہ ہندی زبان میں بھی ان کی کتابیں پرور تک پریم چند اپنی مثال آپ ہے پروفیسر صغیر افراہیم کا اصلی تنقید نگاری میں یہ کہ مقام ہے انہوں نے کسی مخصوص نظریے کے تحت تنقید نہیں کی بلکہ ان کا خاصہ یہ ہے کہ وہ فن کار کے ذہن میں اتر کر اور اس کی نفسیات سمجھ کر ادبی فن پارے پر اپنی رائے پیش کرتے ہیں پروفیسر موصوف نے اپنی نگارشات تنقیدی مضامین کے ذریعے نہ صرف علی گڑھ کا نام بلند کیا ہے بلکہ تمام برصغیر کے تنقیدی ادب کو اپنی کاوشوں کے ذریعے مل روشن و منور کیا ہے ہے امید کرتا ہوں کہ ان کا افسانوی مجموعہ واہ کڑی دھوپ کا سفر ہندی ادب کو بھی متاثر کرے گا۔‘‘(اخبار راشٹریہ سہارا ،اردو سے ماخوذ )

ابتدائی دور میں صغیر افراہیم کے افسانے روزنامہ ’ سیاست جدید ‘ کانپور میں چھپتے تھے جس کے چیف ایڈیٹر مولانا اسحاق علمی تھے جو عربی، فارسی اور اردو کے ایک بڑے عالم تھے۔ تحفظ ناموس رسالت تحریک میں مولانا کا اہم رول رہا ہے ۔ اردو ادب کے بے لوث خدمت گار کی حیثیت سے بھی وہ مشہور ہیں ۔ایک بار چودھری ریاض الدین کے ہمراہ صغیرافراہیم جب مولانا کے دفتر پہنچے تو چودھری صاحب نے ان سے صغیر افراہیم کا تعارف یہ کراتے ہوئے کہا کہ’ یہ وہ افسانہ نگار ہیں جن کے افسانوں کی آپ نے بھی داد دی ہے‘۔مولانا بے حد خوش ہوئے اور صغیر افراہیم کے افسانوں کا ذکر کچھ اس انداز میں کیا :

’’ان کی تحریروں میں جان ہوتی ہے ۔ادب میں ان کا مستقبل درخشاں دکھ رہا ہے اس لیے ان کے افسانے شائع کیے جاتے ہیں ورنہ میرے اخبار میں بڑے بڑوں کی تحریریں اور مراسلے جگہ نہیں پاتے۔‘‘(تحریک ادب ، شمارہ ۴۸، اپریل تا جون ۲۰۲۰ ء ، گوشۂ صغیر افراہیم ، ص: ۱۶۳ )

صغیر افراہیم کے افسانوں کے موضوعات کی بات کریں تو عصری زندگی کے بیشتر مسائل و معاملات ان میں نظر آتے ہیں۔ غلط رسم و رواج ،تہذیبی شکست و ریخت ،اقدار کی پامالی، رشتوں کی ناقدری، نفسیاتی الجھنیں،صارفیت کا بہاؤ ،بے روزگاری اور عائلی زندگی کے مسائل پر انہوں نے بہترین کہانیاں لکھی ہیں۔ صغیر افراہیم کی کہانیوں کے موضوعات کے متعلق مقصود  دانش لکھتے ہیں :

’’میں نے اپنے بالاستیعاب مطالعے کے دوران یہ پایا کہ صغیر افراہیم کے بیشتر افسانے پائمال قدروں کی بحالی ،گمشدہ تہذیب و ثقافت کی واپسی، زوال آمادہ رشتوں میں از سر نو تازگی ،بکھرتے معاشرے کی تجسیم کاری سے متعلق نئی نسل کی ذہنی آبیاری کا اثر انگیز اشاریہ ہیں۔مجموعے میں چند ایسے افسانے بھی ہیں جو صرف چونکا تے ہی نہیں بلکہ قاری کو فکری و معنوی طور پر مزید سوچنے پر مجبور کرتے ہیں۔‘‘(تحریک ادب شمارہ ۴۸، اپریل تا جون ۲۰۲۰ ء ،گوشۂ صغیر افراہیم ،مدیراعلی جاوید انور ص: ۱۹۹) (یہ بھی پڑھیں ‘‘آخری سردار’’ :ایک علامتی اور استعاراتی افسانہ : ڈاکٹر زاہد ندیم احسن )

صغیر افراہیم کے افسانوں پر اگر بات کریں تو وہ بوجوہ اپنے تمام معاصرین سے ممتازو منفرد نظر آتے ہیں۔ میں یہ بات یوں ہی نہیں کہہ رہاہوں بلکہ ان کے افسانوں کی انفرادیت اور مقبولیت کے کئی اسباب ہیںجن میں سے چند کا ذکر میں یہاں ضروری سمجھتا ہوں :

اولاً: اس افسانوی مجموعے کو یہ شرف حاصل ہے کہ عصر حاضر کے دو عظیم افسانہ نگار وں رتن سنگھ اور قاضی عبدالستار کے دست مبارک سے اس کی رسم اجراء ہوئی ۔دونوں بڑے افسانہ نگاروں نے مجموعے پر تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے ریڈیو اور ٹیلی ویژن کو انٹرویو بھی دیے اور فرمایا :

’’صغیر افراہیم کے افسانوں کا مجموعہ کھڑی دھوپ کا سفر اردو کے ریڈیائی افسانوی ادب میں ایک اہم اضافہ ہے ۔اس میں شامل تقریباً تمام افسانے فن حسن و جمال کے عمدہ نمونے ہیں۔ کردار زندہ، سماجی زندگی میں موجود اور متحرک ہیں۔ صغیر افراہم کا بیانیہ بہت مضبوط اور دلکش ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ جب افسانے ختم ہوتے ہیں تو ہم کچھ سوچنے پر مجبور ہوتے ہیں اور یہ بہت بڑی بات ہے ۔مجھے امید ہے کہ صغیر افراہیم کے یہ افسانے شوق اور احترام سے پڑھے جائیں گے۔‘‘(بیک کور ، کڑی دھوپ کا سفر )

ثانیاً : یہ تمام افسانے کلی طور پر ریڈیائی تکنیک پر ہیں ۔ ریڈیو سے وابستہ اور ریڈیائی تحریروں کے ماہرین مثلا ًنورالحسنین ، رتن سنگھ ، طارق چھتاری اور شکیل اختر سبھی نے ان افسانوں کو نہ صرف سراہا بلکہ ان پر اپنی قیمتی آراء بھی پیش کی ہیں ۔ رتن سنگھ ، نورالحسنین اور طارق چھتاری نے ان کے افسانوں کے تجزیے بھی کیے ہیں ۔

ثالثاً : یہ تمام افسانے ریڈیائی تکنیک پر جانچے اور پرکھے گئے ہیں ۔صغیر افراہیم کے یہ افسانے ریڈیو نشریات کے جملہ مطالبات کو پورا کرتے ہیں اور ریڈیو نشریات کے سارے اصول و ضوابط پر کھرے اترتے ہیں۔  ان میں سے بیشتر افسانے آل انڈیا ریڈیو آگرہ اور دہلی سے نشر ہوئے ہیں ۔

رابعاً : یہ افسانے اس لئے بھی منفرد ہیں کہ شائع ہوتے ہی ان کو بڑے بڑے لوگوں نے فوراً ہائی لائٹ کیا اور ان کہانیوں کو صرف ریڈیائی کہانیوں کے زمرے میں رکھا ۔ جن میں قاضی عبد الستار ، شکیل اختر،انیس رفیع ، طارق چھتاری،احمد رشید مظفر حسین سید اور نورالحسنین کے نام خاص طور پر قابل ذکر ہیں ۔

خامساً: ان افسانوں کی مقبولیت اس لئے بھی زیادہ ہے کہ ریڈیو کی تکنیک کی وجہ سے ہندی اور انگریزی کے لوگوںنے بھی انہیں ہاتھوں ہاتھ لیا ۔ بے حد پسند کیا ، سراہا اور ہندی اور انگلش ایڈیشن شائع کئے ۔ ہندی ایڈیشن ۲۰۱۹ ء میں اور اس کے فوراً ایک سال بعد ۲۰۲۰ ء میںJourney Through Scorching Sunکے نام سے انگریزی ایڈیشن منظر عام پر آیا ۔ ہندی کے مشہور کہانی کار ڈاکٹر پریم کمارنے ان افسانوں کی تعریف کی ۔ ڈاکٹر وکرم سنگھ جو خود ایک اچھے کہانی کار ہیں، انہوں نے ان افسانوں کوپسند کیا ۔ (یہ بھی پڑھیں نذیر احمد کا ناول ایامیٰ اور نو آبادیاتی جدیدیت – پروفیسر ناصر عباس نیرّ

صغیر افراہیم کے افسانوں کا خاص وصف یہ ہے کہ انہوں نے اپنے ہم عصروں سے ہٹ کر ریڈیائی قسم کے افسانے لکھے ہیں۔ ریڈیو ایک طاقتور میڈیا ہے۔ ریڈیو کے لئے لکھنا ایک علیحدہ فن ہے۔ اس کے لیے اولین اور اہم شرط زبان کاعام فہم اور سلیس ہونا ہے لیکن ایسا بھی نہیں کہ زبان کو عام فہم بنانے میں اس کے معیارکو بالائے طاق رکھ دیا جائے۔ ریڈیو کے لیے لکھنابہت مشکل امر ہے جس کے لیے بڑی مشق و مزاولت درکار ہے۔ریڈیو کے لئے مقالہ، مضمون یا افسانہ لکھنے کے لیے جن باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے اس کے متعلق پروفیسر نورالحسنین لکھتے ہیں:

’’ریڈیو ایک ایسا میڈیا ہے جو کامن سننے والوں اور خواص دونوں کے لیے ہے۔ یہاں افسانوں کی نشریات پر بھی خاص خیال رکھا جاتا ہے۔ اس کے لئے ایسے افسانوں کو منتخب کیا جاتا ہے جن کی سماعت کے بعد کسی قسم کا تنازعہ نہ ہو،یعنی ایسا افسانہ جس میں کسی خاص فرقے کو نشانہ بنایا جائے۔ اس کے کرداروں کی وجہ سے کسی اپاہج ،ہکلا کر بات کرنے والے کی تضحیک نہ ہو،کسی فرقے، جماعت کے رسم و رواج پر چوٹ نہ ہو، رشتوں کا مذاق نہ اڑایا جائے۔ افسانہ ابہام زدہ، گنجلک نہ ہو، افسانے کے متن سے محسوس یا غیر محسوس طریقے سے کوئی اچھا پیغام سامعین تک پہنچے۔ ان افسانوں میں میاں بیوی کی ازدواجی زندگی شامل ہو، مسائل بھی آئیں، ان کے جذبات اور محسوسات کا بیان بھی ہو لیکن افسانے کا کلائمکس ایک بھرپور معنی خیز انجام بھی سامنے لائے جس کو سننے کے بعد ان کی اصلاح ہو سکے، ان افسانوں میں غیر مہذب الفاظ کے استعمال کی اجازت بھی نہیں دی جاتی، جنسی موضوعات یا سستے جذبات کی بھی اجازت نہیں دی جاتی ۔ریڈیائی افسانوں کے پسندیدہ موضوعات میں قومی یکجہتی، آپسی بھائی چارہ، حب الوطنی ،کامیاب ازدواجی زندگی ، زندگی کے وہ مسائل جو تناؤ کا سبب تو بنتے ہیں لیکن ان کے پیچھے مقصد خاندان کی بہتر ی ہی ہوتا ہے۔ یا پھر بعض اوقات حکومت کی پالیسیوں کا موضوع دے کر افسانہ لکھوایا جاتا ہے اور اسے نشرکیا جاتا ہے۔ دوسرے معنوں میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ ریڈیو کی نشریات صاف ستھری اخلاقیات پر مبنی عام فہم زبان میں ہوتی ہیں۔‘‘

صغیر افراہیم کی تمام کہانیاں مختصر ہونے کے ساتھ ساتھ مکمل ہیں ۔ان میں کسی فرقے، جماعت، مسلک ،ذات یا رسم و رواج پر نہ کوئی چوٹ کی گئی ہے اور نہ ان میں کسی قسم کی تضحیک نظر آتی ہے۔ ان کی زبان نہایت سادہ ،سلیس اور عام فہم ہے ۔ صغیر افراہیم کا کمال یہ ہے کہ انہوں نے زبان کے معیار کو کہیں بھی گرنے نہیں دیا ہے۔ اختصار میں جامعیت ان کے اسلوب کا خاص وصف ہے۔ انہوں نے مبتذل موضوعات سے بھی اپنی تحریروں کو پاک رکھا ہے۔ ان کے افسانوں کا اختتام ایک بھرپور معنی خیز انجام سامنے لاتا ہے جس کو سننے کے بعد سامعین کی اصلاح ہوتی ہے اور ان کے اندر غور و فکر کی تحریک پیدا ہوتی ہے۔اس طرح ان کی زبان ریڈیو نشریات کے جملہ مطالبات کو بحسن و خوبی پورا کرتی ہے۔ ڈاکٹر محمد شکیل اختر ان کے ریڈیائی افسانوں کے اوصاف کا بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’سردست ہمارے پیش نظر ان کی 28 /کہانیوں کا مجموعہ ’کڑی دھوپ کا سفر ‘ہے جنہیں وقفے وقفے سے ریڈیو پر پیش کیا گیا ہے۔ ان افسانوں کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ مختصر ہونے کے باوجود مکمل ہیں ۔اس دور میں اب اخلاقی اخلاقی موضوعات پر کہانیاں کہاں لکھی جاتی ہیں بلکہ یوں کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ اب اخلاقی نظمیں بھی نہیں لکھی جارہی ہیں۔ اخلاقی بحران کے دور میں صغیرافراہیم کی کہانیاں ہمارے لئے ایک نیک شگون کی حیثیت رکھتی ہیں۔فنی اعتبار سے آج ان کہانیوں کو ریڈیو اور ریڈیو کو کہانی کے حوالے سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ ان سبھی کہانیوں کو صغیر افراہیم نے ریڈیو کی فرمائش پر لکھا تھا یا لکھی ہوئی کہانیوں کو ریڈیو پر پڑھا تھا ۔لیکن مذکورہ کہانیوںکے معروضی مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ موضوعات اور زبان ریڈیو جیسے لطیف میڈیم کے لئے کافی موزوں اور مناسب ہے۔‘‘(کڑی دھوپ کا سفر، مصنف: صغیر افراہیم، مرتب :ڈاکٹر سیما صغیر ،ص:۱۶۰)

ریڈیائی تکنیک پر مشتمل ہونے کی وجہ سے صغیر افراہیم کے افسانوں نے ایک خاص مقبولیت حاصل کی ہے۔موضوع کی مناسبت سے انہوں نے زبان کا استعمال کیا ہے۔ ریڈیو کے لیے لکھی گئی کہانیوں میں صوتی بیانیہ کا بہت کم خیال رکھا جاتا ہے ۔ کہانی کو میڈیم کے تقاضے کے مطابق نہیں لکھا جاتا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ریڈیائی کہانیوں کا تعلق پڑھنے کے بجائے سننے سے ہوتا ہے۔لہذا ان کا انداز تحریری کہانیوں سے مختلف ہونا چاہیے۔ ان کا پلاٹ اور کردار بھی عام اور سادہ ہونا چاہیے۔ ریڈیو کے لئے کہانی رائج طریقے سے ذرا ہٹ کر لکھی جاتی ہے۔ ریڈیو سے کہانی ایک مکمل تسلسل کے ساتھ سنائی جاتی ہے جس میں رکنے کا عمل کہیں  نہیں ہوتا ۔دراصل ریڈیو کی زبان ہماری وہ زبان ہے جو گلی کوچوں اور بازاروں میں عام طور پر بولی جاتی ہے اور جسے ہم مکمل ترسیل کی زبان کہہ سکتے ہیں ۔ریڈیو کے لیے لکھنے والے کو یہ بات ہرگز نہیں بھولنا چاہیے کہ ریڈیو Spoken Word کا نام ہے Written Wordsکا نہیں۔ریڈیائی اصولوں کو مد نظر رکھیں اور صغیر افراہیم کے افسانوں کے یہ چندا قتباسات بغور پڑھیں :

۱۔’’ نظریں اٹھا کر دیکھا توسامنے جو شخص کھڑا تھا اس کی آنکھیں لال انگارہ ہو رہی تھیں ۔ دانت بڑے بڑے تھے اور سر پر دو سینگ تھے ۔‘‘( وہ خواب ، کڑی دھوپ کا سفر ، ص:۲۴۔۲۳)

۲۔’’ایسا محسوس ہوا جیسے پہاڑی کی بلندی سے اسے کسی نے نیچے ڈھکیل دیا ہو اور وہ گرتی چلی جارہی ہو۔۔۔ ۔ ‘‘( وہ خواب ، کڑی دھوپ کا سفر ، ص:۲۴)

۳۔ ’’ یار! ……چھوٹے میاں ’ علم الاجسام ‘ کے ’’ باب عریاں ‘‘ میں غرق تھے مجھے دیکھ کر وہ چونک گئے۔۔ ۔ ‘‘ ( ننگا بادشاہ ، کڑی دھوپ کا سفر ، ص:۴۵)

۴۔ ’’۔۔دیکھا گیا ہے جیب سے کنگال لوگ دل سے خوشحال ہوتے ہیں ، چونکہ ان کے پاس پریم اور ممتا کا خزانہ ہوتا ہے ۔ ‘‘ ( انجان رشتے، کڑی دھوپ کا سفر ، ص: ۲۹)

۵۔ ’’ عشق بھی ایک بلا ہے ، ایسی بلا کہ چھٹکارا نا ممکن ۔۔۔حسن کی شراب میں ذہانت کی خوشبو مل جاتی ہے تو قیامت آجاتی ہے ۔ ‘‘ ( سرخ تاج، کڑی دھوپ کا سفر ، ص: ۱۳۹)

۶۔ ’’زندگی تو اندھیرے سے روشنی کی طرف ایک لمبی اڑان کا نام ہے  پھر یہ کیسی پرواز ہے کہ بازو تھک چکے ہیں اور سمٹ رہے ہیں ماضی کی گہرائیوں  میں۔‘‘( انکشاف، کڑی دھوپ کا سفر ، ص:۶۱)

میں نے یہاں صرف پانچ افسانوں سے چند اقتباسات پیش کیے ہیں اگر آپ ان اقتباسات سے ہٹ کر صغیر افراہیم کے افسانے بے نام رشتہ ، منزل ، کھڑی دھوپ کا سفر، ننگا بادشاہ،وہ اچھا لڑکا نہیں ہے ،سرخ تاج،انجان رشتے ، انکشاف ، وہ خواب، خوابیدہ چراغ وغیرہ از اول تا آخر پڑھیںاور ریڈیائی تحریروں کے اصولوں کو مد نظررکھیں تو معلوم ہوگا کہ ان افسانوں میں جملوں کی ساخت عام طور پر سادہ ہے جس سے تفہیم یا ترسیل کا کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہوتا۔نہ ان میں کرداروں کی بھرمار ہے بلکہ معدودے چند کرداروں کی مدد سے کہانی بہتے دریا کی مانند بتدریج آگے بڑھتی رہتی ہے ۔کسی بھی مقام پر کہانیوں میں بوجھل پن کا احساس نہیں ہوتا۔ ان کہانیوں میں الفاظ کے انتخاب اور استعمال میں بھی ایک طرح کی ہنرمندی نظر آتی ہے۔ کہانیوں کے الفاظ میں ایک مسحورکن صوتی کھنک بھی موجود ہے جو ریڈیو کے لیے لکھی جانے والی کسی بھی تحریر کے لئے لازمی ہے۔اس ضمن میں ڈاکٹر شکیل اختر لکھتے ہیں:

’’صغیر افراہیم نہ صرف نشریات کے فنی آداب بلکہ ریڈیائی تحریروں کی باریکیوں سے واقف ہیں۔ اسی لیے ان کے افسانوں میں زبان نہایت سادہ اور سہل استعمال ہوئی ہے۔‘‘(کڑی دھوپ کا سفر ، ص: ۱۶۲)

ریڈیو پر نشر کی جانے والی تحریروں کے لیے اعراب اور رموزاوقاف کا لحاظ رکھنا ضروری ہوتا ہے ورنہ ایک غلط علامت وقف کے استعمال سے پورے متن کا مفہوم بھی بدل سکتا ہے۔ اس لیے فکشن ہو یا کوئی اور ریڈیو تحریر اس میں جملوں کی ساخت حتیٰ کے بیانیہ کو بھی اس طرح لکھا جائے کہ سین پڑھنے سے انداز کوایک لطیف اشارہ مل سکے ۔صغیر افراہیم نے اپنی کہانیوں میں اس بنیادی نکتے کو بدرجہ اتم ملحوظ رکھا ہے۔ صغیرافراہم کی کہانیوں کے ابتدائیے اتنے دلچسپ ہوتے ہیں ہیں کہ فوراً سامعین کی توجہ اپنی طرف مبذول کرلیتے ہیں۔ ان کی کہانیوں کی شروعات اتنی مؤثر اور پرکشش ہوتی ہے کہ سامعین افسانہ سننے کے لیے خود کو غیر شعوری طور پر مجبور پاتے ہیں۔ صغیر افراہیم کی تمام کہانیوں میں سامعین ابتدا تا انتہا خودکو شریک پاتے ہیں اور یہی ان کہانیوں کی کامیابی کی ضمانت ہے ۔صغیرافراہیم نے ان کہانیوں میں مکالماتی اسلوب کی جگہ بیانیہ اسلوب کو ترجیح دی ہے۔ آئیے دیکھتے ہیں ان کے افسانوں سے چند مثالیں:

’’ابو سرکاری ملازم ہونے کی وجہ سے ہمیشہ دورے پر رہتے تھے۔ گھر میں ڈھیر سارے نوکر چاکر تھے جو مجھ پر جان چھڑکتے تھے۔ ان کے درمیان میں نے کبھی اکیلا محسوس نہیں کیا۔‘‘( انجان رشتے،کڑی دھوپ کاسفر ،ص : ۲۹ )

’’ان کی آنکھوں سے دو موتی گرنے والے تھے۔ میں نے اپنی ہتھیلی میں سمیٹ لئے ۔۔۔آسمان پر نظر اٹھائیں دو آنکھیں مسکرا رہی تھی۔‘‘ ( انجان رشتے، کڑی دھوپ کا سفر ، ص: ۳۴)

’’کڑی دھوپ کے سفر نے عرفان کہ شاداب چہرے کو  جھلسا دیا تھا آنکھیں ویران ،گال پچکے ہوئے اور لب سیاہ ہوچکے تھے ۔جسم روزبروز گھلتا جا رہا تھا۔ اس کی سہمی ہوئی سی شخصیت مجھے عجیب پس وپیش میں مبتلا کئے ہوئے تھی۔میں چاہنے کے باوجود بھی اس کی مدد نہیں کر پا رہا تھا ۔‘‘( وہ اچھا لڑکا نہیں ہے، کڑی دھوپ کا سفر ، ص:۱۲۱ )

’’زندگی تو اندھیرے سے روشنی کی طرف ایک لمبی اڑان کا نام ہے ہے پھر یہ کیسی پرواز ہے کہ بازو تھک چکے ہیں اور سمٹ رہے ہیں ،ماضی کی گہرائیوں  میں۔‘‘( انکشاف، کڑی دھوپ کا سفر ، ص:۶۱ )

’’کالج کمپاؤنڈ میں سناٹا چھایا ہوا تھا ۔مالتی سفید ساڑھی میں گم صُم بیٹھی تھی۔ خضاب نہ ہونے کی وجہ سے اس کے بالوں کی سفیدی اس کی بیوگی کا اعلان کر رہی تھی۔‘‘( انکشاف، کڑی دھوپ کا سفر ، ص:۶۴)

’’سب کے چہروں پر ہوائیاں اڑ رہی تھیں۔ بارات میں آئی عورتیں اس صورتحال سے گھبرا گئیں۔باہرمرد ایک دوسرے کا منہ تک رہے تھے۔میزبان ا نہیں دلاسہ دے رہے تھے۔ دلہن ہوش میں آگئی کی صدا نے سکتے کے عالم کو توڑا ۔‘‘( کڑی دھوپ کا سفر، ص: ۱۳۰)

(یہ بھی پڑھیں پروفیسر شبیرحسن کے افسانے – شاہ عمران حسن)

احمد رشید علیگ ان کے افسانوں کی دلچسپی اور تجسس کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

’’ان کا انداز بیان شفاف ، مؤثر اور بیانیہ ہے ۔بیانیہ کہانیوں میں مکالموں کی بر جستگی اور کرداروں کی فعالیت غیر متحرک ہونے کے امکانات ہوجاتے ہیں لیکن صغیر افراہیم نے ایسی صورت میں کہانی کی دلچسپی بر قرار رکھتے ہوئے چستی ، تیزرفتاری کا دامن تھام کر فنکارانہ چابک دستی کا ثبوت دیا ہے۔ اسی لئے ان کے افسانے باوجود بیانیہ ہونے کے ایک دلچسپی اور تجسس آخر تک بر قرار رکھنے میں کامیاب رہتے ہیں ۔‘‘

ان کے افسانوں میں احساسات اور کیفیات دھیمی دھیمی رفتار سے آگے بڑھتے ہیں ۔ ساتھ ہی عورت مرد کے تصادم میں پیداہونے والے واقعات کو بیان کرنے میں سادگی اور آہستہ روی اختیار کرتے ہوئے شدت پسندی سے اجتناب برتا ہے ۔ ‘‘( کڑی دھوپ کا سفر ، ص: ۱۵۸)

صغیر افراہیم کے افسانوں میں جملوں کی ساخت عام طور پر سادہ ہے ۔تفہیم اور ترسیل کے لحاظ سے بھی ان میں کوئی الجھاؤ نہیں ۔ایک یا دو کرداروں کی مدد سے کہانی کا تانا بانا بنا گیا ہے ۔موضوعات کے لحاظ سے بھی یہ کہانیاں ریڈیو کے لیے مناسب وموزوں ہیں ۔افسانوں میں اختصار کا وصف خاص طور پر نمایاں ہے۔دس سے بارہ منٹ میں کسی بھی افسانے کو با آسانی ختم کیا جاسکتا ہے ۔ان کے اکثر افسانے سبق آموز ہیں ۔ ان کے افسانوں کے پلاٹ نہایت واضح اور سیدھے سادے ہوتے ہیں ۔کرداروں میں زندگی کی رمق ، فعالیت اور موضوع کی مناسبت سے فطری پن ہوتا ہے۔صغیرافراہیم کے بیانیہ اسلوب کی بالخصوص اور ان کے افسانوں کے مجموعی تأثر کابالعموم تذکرہ کرتے ہوئے ڈاکٹر مشتاق احمد وانی لکھتے ہیں :

’’ پروفیسر صغیر افراہیم کی چندمختصر کہانیوں کا مطالعہ کرنے کے بعد مجھے یہ احساس ہوا کہ وہ نہ صرف کہانی کے فنی لوازمات سے کما حقہ ٗ واقف ہیں بلکہ ان کے موضوعات میں بھی تنوع دیکھنے کو ملتا ہے۔ صغیر افراہیم کی کہانیوں میں سب سے دلچسپ ، مؤثر اور تسلی بخش عنصر ان کا بیانیہ انداز ہے ۔ طویل قصے کہانیوں کے بدلے انہوں نے نہایت اختصار سے کام لیتے ہوئے وحدت تأثر کا خاص خیال رکھا ہے اور کہانی میں وحدت تأثر وہ اہم عنصر ہے جسے میں کہانی کی جان کہتا ہوں ۔ قاری، تخلیق اور تأثر یہ تینوں چیزیں ان کے نزدیک کافی اہمیت رکھتی ہیں ۔ چنانچہ اسی ادبی و فنی شعور کے تحت وہ بڑے بے باکانہ انداز میں اس بات کی بھی نشان دہی کرتے چلے جاتے ہیں کہ کوئی فن پارہ کب معیاری بنتا ہے او ر کن کمزوریوں کی بنیاد پر غیر معیاری قرار دیا جاسکتا ہے ۔ صغیر افراہیم کی کہانیوں کے مطالعے کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچاہوں کہ ان کے پاس کہانی تخلیق کرنے کا ہنر موجود ہے ۔ اسی ہنر مندی کے تحت ان کی مختصر کہانیاں عالم وجود میں آئی ہیں ، جو زندگی کے معمولی اور غیر معمولی حالات و واقعات سے تعلق رکھتی ہیں ۔ ان کہانیوں سے قاری کو یہ تأثر ملتا ہے کہ زندگی پھولوں کی سیج نہیں کانٹوں کا بچھوناہے۔‘‘( جہان صغیر افراہیم ، مرتبہ : ڈاکٹر حنا آفرین یونیورسل پریس دہلی۔۲۰۱۷ء ص:۴۹۹۔۵۰۰)

صغیر افراہیم کے فن میں کسی بھی قسم کا الجھاؤ یا پیچیدگی نہیں ہوتی، ان کی ہر تحریر اپنے آپ میں ایک مکمل تخلیقی اظہار ہوتی ہے ۔خیال اور احساس کا حسین امتزاج ان کے افسانوں کا وصف خاص ہے ۔عصری حسیت ، معاشرتی شعور اور مثبت نقطہ نظر کے سبب ان کے افسانے قاری کو صرف چونکاتے ہی نہیں بلکہ غور و فکر پربھی مجبور کرتے ہیں ۔ انہوں نے اختصار میں جامعیت کو ہر جگہ ملحوظ رکھا ہے ۔مشکل اور پیچیدہ بات کو بھی افسانوی رنگ میں ڈھالنے کا ہنر انہیں اچھی طرح آتا ہے ۔ غیر ضروری اور نامناسب الفاظ سے و ہ گریز کرتے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ ان کے افسانوں میں آخر تک ایک خاص قسم کی وحدت نظر آتی ہے ۔جا بجا علامتوں ، تشبیہوں اور استعارات کا استعمال بھی انہوں نے خوب کیا ہے ۔ ان کی کہانیوں پر رائے دیتے ہوئے ڈاکٹر سیماصغیر لکھتی ہیں :

’’صغیر افراہیم جو بنیادی طور پر فکشن کے نقاد ہیں ، ان کی کہانیاں سیدھے سادے انداز میں لکھی گئی ہیں ۔پلاٹ کی تعمیر اور کرداروں کے ارتقاء کے ساتھ جو لہجہ استعمال کیا گیا ہے وہ صورت حال اور ماحول کے مطابق ہے۔اسلوب کی خوبی یہ ہے کہ انہوں نے سلیس مگر عمیق بیانیہ طرز اور راست گوئی کے ساتھ علامتوں کا بر محل استعمال کیاہے ۔‘‘ (مقدمہ :کڑی دھوپ کاسفر ، ص: ۱۳)

مختصر یہ کہ صغیر افراہیم ایک مختلف الجہات شخصیت کا نام ہے ۔ انہوں نے جس موضوع پر قلم اٹھایاہے اس کا حق ادا کیاہے ۔ ان کی تنقید ہو یاافسانہ نویسی دونوں میں انہوں نے اپنی علمی،ادبی اور فکری پختگی کا مظاہرہ کیا ہے ۔جہاں ایک طرف ان کی تنقید میں متانت ، سنجیدگی ، معروضیت اور غیر جانب داری نظر آتی ہے وہاں دوسری طرف ان کے افسانوں میں عصری حسیت ، گہرا سماجی شعور اور مثبت نقطہ نظر دیکھنے کو ملتا ہے ۔ان کی تنقیدی صلاحیتیں ان کے مطالعے کی وسعت،مشاہدے کی گہرائی، دقت نظر اور تفکرو تدبر کی غماز ہیں۔موضوعات کا تنوع ، وحدت تأثر ، اختصار ، کہانی پن ، دلچسپی ،زبان کی صفائی اور بیان کی سادگی سبھی کچھ ان کے افسانوں میں موجود ہے ۔ میں اپنی بات قاضی عبدالستار کے ان فجائیہ کلمات پر ختم کرتا ہوں جو انہوں نے ڈاکٹر سیما صغیر کے سوال کا جواب دیتے ہوئے ایک انٹرویو کے درمیان کہے :

’’ ۔۔۔تخلیقی ادب تخلیقی ادب ہوتا ہے اور تنقیدی ادب تنقیدی ادب ہوتا ہے۔ تنقید کتنی بھی بڑی ہو جائے تخلیق کے برابر نہیں ہو سکتی ۔ دونوں میں بہت فرق ہے اور میں چاہوں گا کہ صغیر افراہیم پھر سے افسانے لکھیں اور آج کے مسائل پر لکھیں ۔ آج کے مسائل پر اردو میں بہت کم لوگ لکھ رہے ہیں ۔ میں تو اپنی بات ہی نہیں کہتا ۔ میں نے تو آج کے مسائل کو تاریخی تناظر میں پیش کیا ہے لیکن براہ راست لکھنا بھی ضروری ہے اور میرے خیال میں لکھنا چاہیے اور میں صغیر افراہیم سے توقع بھی کرتا ہوں کہ وہ ان تمام مسائل مثلاً بھوک ، افلاس ، بیماری ، تعصب جیسے ڈھیروں مسائل پر لکھیں گے تو مجھے امید ہے کہ وہ کامیاب ہوں گے ۔ ۔۔مجھے امید ہے کہ صغیر فراہیم کی بھی تخلیقی کتاب بہت جلد منظر عام پر آئے گی ۔ وہ تمام افسانے جو ریڈیو میں براڈ کاسٹ ہوئے ہیں وہ دوبارہ چھپنے چاہئیں۔کتابی صورت میں چھپنے چاہئیں۔ جی چاہے انتخاب کر لیجیے ۔ اگر انتخاب نہ بھی کیا جائے تو آپ مناسب سمجھتی ہیں اس کو چھپوائیں ۔ ‘‘( قاضی عبدالستار سے گفتگو : صغیر افراہیم کے تعلق سے ، ڈاکٹر سیما صغیر۔ مشمولہ : جہان صغیر افراہیم ، مرتبہ : ڈاکٹر حنا آفرین ، ص: ۶۸۵ )

مآخذ و مراجع :

۱۔جہان صغیر افراہیم ، مرتبہ : ڈاکٹر حنا آفرین، یونی ورسل پریس دہلی۔۲۰۱۷ء

۲۔ تحریک ادب شمارہ ۴۸، اپریل تا جون ۲۰۲۰ ء،گوشۂ صغیرافراہیم ،مدیراعلی جاوید انور

۳۔ کڑی دھوپ کا سفر، مصنف: صغیر افراہیم، مرتبہ:ڈاکٹر سیما صغیر ۔۲۰۱۶

 

صدام حسین

ریسرچ اسکالر : شعبہ اردو ،

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ، علی گڑھ

موبائل : 9568047024

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

صدام حسینصغیر افراہیمعلی گڑھ یونیورسٹی
0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
ٹوٹتے ارماں –  قمر اعظم صدیقی
اگلی پوسٹ
دین و دانش کا خوبصورت استعارہ پرو فیسر ڈاکٹر شاہ عباد الرحمٰن نشاط صا حب مرحوم – فتح محمد ندوی

یہ بھی پڑھیں

بیدی کا فن – پروفیسر محمد حسن

مئی 15, 2026

آج کی اردو کہانی: زبان اور ساخت –...

فروری 2, 2026

شموئل احمد کا افسانہ ’’سنگھار دان‘‘ – طارق...

فروری 1, 2026

منٹو اور نیا افسانہ – پروفیسر شمیم حنفی

اکتوبر 11, 2025

عزیز احمد کی افسانہ نگاری! وارث علوی

اپریل 12, 2025

اکیسویں صدی کی افسانہ نگارخواتین اور عصری مسائل...

مارچ 21, 2025

ہمہ جہت افسانہ نگار: نسیم اشک – یوسف...

جنوری 15, 2025

ڈاکٹر رُوحی قاضی : ایک فراموش کردہ افسانہ...

نومبر 25, 2024

اکیسویں صدی کے افسانے – ڈاکٹر عظیم اللہ...

ستمبر 15, 2024

افسانہ ‘ عید گاہ’ اور ‘عید گاہ سے...

اگست 7, 2024

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (120)
  • تخلیقی ادب (596)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (20)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,048)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (537)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (219)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (406)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (217)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (25)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں