جدید اردو ناول نگاروں میں شفق کا نام اہمیت کا حامل ہے۔ان کی شہرت ومقبولیت کا سارا دارو مداران کے مشہور و مقبول ناول’کانچ کا بازی گر‘ پر ہے۔یہ ناول جب منظر عام پر آیاتو لوگوں نے شفق کو ان کے نام کے بجائے ان کے اسی ناول سے زیادہ پہچانا۔فکشن کی دنیا میں ان کی شناخت اسی ناول سے قائم ہوئی۔شفق نے اپنے ناولوں میں معاشرہ،فرد ،اور ذات کے داخلی اور خارجی دونوں عوامل کو پیش کیا ہے۔داخلی تصادم و تضاد اور اس کے محر کات کو اپنی گرفت میں اس طرح لیاکہ وہ قوم اور معا شرے کی فکری و نظریاتی فضا کا اظہاریہ ہو گیا ۔ جس طرح سے ناول کو زندگی کا رزمیہ کہا گیا ہے ،اسی طرح شفق کی تحریروں کو عصر حاضر کے المیے سے تعبیر کیا جائے تو بے جا نہ ہو گا ،کیونکہ ان کی ابتدائی تحریروں میں تفریح طبع اور تفنن طبع کے بجائے خوف و دہشت کی فضا غالب ہے، جس کی وجہ سے قاری بہت زیادہ اکتاہٹ محسوس کرتا ہے اور ان کی تحریروں پر سرسری نظر ڈالتا ہوا گزر جاتا ہے،مگر بعد کی وہ تحریریں جو ما بعد جدیدیت کے زیر اثر وجود میں آئیں ان میں وہ سارے فنی لوازمات موجود ہیں، فکشن جن کا تقاضا کرتی ہے۔شفق کو اگر عصر حا ضر کا نباض کہا جائے تو میرے خیال سے مبالغہ نہ ہو گا۔ کیونکہ ان کے ناولوں اور افسانوں میں عصر حا ضر کا کوئی ایسا المیہ نہیں ہے جو بیان سے رہ گیا ہو۔مثلاً 9/11 کی کہانی اور اس کاالمیہ’بادل‘ میں اور گودھرا جیسا گھناؤنا،دلسوز اور آنکھیں خیرہ کردینے والی کہانیو ں کے پس پشت دہشت گردی ،فاشزم اور دوسری عالمی و ملکی اصطلاحوں کے ذریعہ موجودہ عہد کا المیہ’کابوس‘کے صفحات کی زینت بنا ہے۔مذکورہ دونوں ناولوں سے قبل’کانچ کا بازی گر‘میں آزادی سے قبل اور ایمر جنسی کے دوران ،اور ۸۰ کے آس پاس تک ملکی اور بین الاقوامی سطح پر اقلیت کے تئیں اکثریت کی حکمت عملی،دیگر مذہبی و غیر مذہبی،جمہوری وغیر جمہوری،سما جی،معاشی،اقتصادی اور معاشرتی مسائل کا اس ناول کے بین السطور میں بہ نظر عمیق مطالعہ و مشاہدہ کیا جاسکتا ہے۔اس ناول میں تقسیم ہند اور ایمر جنسی کے دوران کی المناک داستان کی تفصیل بھی ہے جس نے فرقہ وارانہ فساد کی لعنت کو جنم دیا ۔جس میں انسانیت کے دشمنوں نے انسانوں کے خون سے ہولی بھی کھیلی ۔سینکڑوں گھر نذر آتش ہوئے ،خوش حال اور ذی حیثیت خاندان فسادات کی زد میں آکر تباہ ہوگئے ۔بے شمار عورتوں کو اغوا کیا گیا ،شیر خوار بچے اپنی ماؤں کی یاد میں بلکنے لگے۔ انسانوں نے وحشی درندوں کا روپ اختیار کرکے ناکتخدا اور کنواری دوشیزاؤں تک کی عصمت دری سے اپنی جنسی ہوس کی بھوک مٹائی ۔یہ سارے واقعات اس ناول کے صفحات پر جابجا بکھرے نظر آتے ہیں۔دشمنوں اور شر پسند عناصر کو شفق نے مختلف علامتوں مثلا بھورے رنگ کا سانپ ،سیاہ اژدہا، ڈراکیولا، عقاب، صفائی والا،بھیڑیاوغیرہ کے ذریعہ بیان کیا ہے ۔یوں تو ملک کی تقسیم کا المیہ ہمارے بہت سے ادباء وشعراء اور فکشن نگاروں کا موضوع رہا ہے اور اس مو ضوع پر بہت سارے افسانے اور ناول بھی تخلیق کئے گئے لیکن کانچ کے بازی گر نے اس المیے کو ایک نئے انداز اور نئے ڈائمنشن میں دیکھا ،محسوس کیا اور پڑھا ہے ملک کی تقسیم کے بعد ہندوستان میں کون کون سے واقعات کس کس طرح سے رونما ہوئے اور جمہوریت کی آڑ میں کون سا غیر جمہوری کھیل کھیلا گیا ، مسلمانوں کے ساتھ کیا کیا اور کیسے کیسے سلوک ہوئے اور ملک میں کون سی فضا تیار ہوئی، ان سب کی خوبصورت تصویر کشی اس ناول میں کی گئی ہے ۔
اس ناول کا کینوس بے حد وسیع ہے یہ ایک طویل ،درد ناک ،المناک،اور خونچکا ں داستان ہے جو دہشت،سرا سیمگی ،اور خوف وہراس جیسے ماحول سے بھرا ہوا ہے جس میں اکثر وبیشتر کسک، چبھن،درد،محرومی،اور انسانی ہاتھوں سے ایجاد کردہ ستم پر ضرب کاری بھی ہے جو حساس دل رکھنے والوں کو سنائی بھی دیتی ہے ان سب کو شفق نے اپنی گرفت میں لینے کی کامیاب کوشش کی ہے ۔شفق نے کل تین ناول لکھے لیکن یہاں سب پر تفصیلی گفتگو مقصود نہیں بلکہ صرف اکیسویں صدی کے ابتدائی عشرے میں شائع شدہ ان کے ناول ’بادل‘ سے سروکار ہے۔
’’بادل ‘‘شفق کا دوسرا ناول ہے جوکرائون آفسٹ پریس ،سبزی باغ پٹنہ سے ۲۰۰۲ء میں چھپ کر منظر عام پر آیا۔مصنف نے اس ناول کا انتساب ’امن کے نام‘ کیا ہے جس کے خلاف پورے عالم میں جنگ جاری ہے۔یہ ناول بین الاقوامی سیاسی منظر وپس منظر میں عصری حسیت کی ترجمانی کرتا ہے ۔
بادل کے لغوی معنی ابر اور گھٹا کے ہیں لیکن مصنف نے اسے اپنے اصلی معنی کے بجائے علامت اور استعارے کے طور پر استعمال کیا ہے۔بادل کے کئی معنی ہوسکتے ہیں ۔جنگ وجد ل کے بادل ،محبت اور نفرت کے بادل ،خوف و دہشت اور ظلمات کے بادل یا موسم برسات میں برسنے والے وہ بادل جو روح اور جسم میں طمانیت کا احساس پید ا کرتے ہیں یا وہ بادل جو پوری روئے زمین کو اپنی آغوش میں لئے ہوئے ہے اور اس کے سایے میں بسنے والے انسان حیات وممات سے جوجھ رہے ہیں یا پھر وہ بادل جو بنی نوع آدم کو اپنی کڑ ک اور گرج سے ڈراتا اور دھمکاتا ہے اور پھر بجلی گراکے اس کے وجود کو نیست ونابود کردیتا ہے ،یا وہ بادل جو کبھی آب حیات نازل کرکے انسانی وجود کو امر کردیتا ہے ۔مگر یہ بادل وہ نہیں ہے جو قانون فطرت کے عین مطابق چلتا ہو بلکہ یہ بادل وہ ہے جسے قانون فطرت کے بر خلاف سپرپاور کا درجہ حاصل ہے ،جو ساری دنیا پر بادل کی طرح چھا جانا چاہتا ہے ۔یہ بادل اسی کااستعارہ ہے جو ناول پر آغاز سے لیکر اختتام تک چھایا رہتا ہے اور گیارہ مختلف مقامات پر مختلف معنوں میں استعمال ہوا ہے مگر ہر جگہ سلمیٰ کے تاریک مستقبل کا اشاریہ بن گیا ہے ۔مثلاً:
’’وہی دوپہر والا منظر ،ہوائی جہاز ، عمارتیں آگ اور دھوئیں کا بادل ‘‘ ۱؎
’’میری بات دھیان سے سن ،سمے نکلا جارہا ہے ،دیکھ وہ کالا بادل،شاید تجھے دکھائی نہ دے ‘‘ ۲؎
’’وہ کالا بادل نہیں ہے سادھومہاراج ‘‘ ۳؎
’’تم نے سنا ڈھونگی مجھے کالے بادل سے ڈرانے کی کوشش کررہا تھا ‘‘ ۴؎
’’دو بجے دن میں بارش کا زور ٹوٹا ،بادلوں کے ٹھہرے ہوئے لشکر میں ہلچل ہوئی‘‘۵؎
ایک کالا بادل ہمیشہ میرے گھر پر سایہ فگن ہوگیا ہے ‘‘ ۶؎
’’مختلف سمتو ںمیں اٹھنے والے جنگ وجد ل کے بادل ایک نقطے پر سمٹے جارہے تھے‘‘ ۷؎
’’بادلوں کا کیا اعتبار کہیں دھوپ نکل گئی تو ۔۔۔۔‘‘ ۸؎
’’اس گھر میں نہ سورج کی روشنی ہے نہ چاند کی ،بہت کالا بادل ہے جس نے اس گھر کو ڈھک لیا ہے ‘‘ ۹؎
’’سلمی کے گھر کے باہر آسمان کا لے بادلوں سے ڈھکاہوا ہے ‘‘ ۱۰؎
اس طرح سے تاریک بادلوں نے اپنا سایہ ڈال کر سلمی کی زندگی کو مزید تاریکیوں میں ڈال دیا اوراس سے وہ اپنا پیچھا نہ چھڑ اسکی ۔بہر کیف اس ناول کے پس منظر میں عالمی اور بین الاقوامی سیاست کے داخلی سیاست پر ہونے والے اثرات کی پیدا کردہ کش مکش کو بہت خوبصورتی کے ساتھ تحریر کیا گیا ہے ۔ موجود ہ عالمی وقومی تناظر میں مسلم سائیکی کی ترجمانی بھی ہے۔ معاصر ناول نگاری میں جہاں یہ ناول ایک اضافے کی حیثیت رکھتا ہے وہیں11/9 سے پیدا شدہ حالات وواقعات، عالمی سطح پر نسلی وفرقہ وارانہ تصادم وتعصبات ،جنگی فضا،اور شدت پسندی، وحشت ناکی اور ہولناکی کوبھی پیش کرتا ہے۔اس طرح اگر دیکھا جائے تو یہ ناول عصری تناظر میں مسلمانوں کی نفسیاتی وفکری الجھنوں اور اندیشوں کا صداقت پسندانہ ترجمان بن گیا ہے ۔
اس ناول کا آغاز ۱۱؍ستمبر ۲۰۰۱ کو ورلڈ ٹریڈ ٹاور اور پٹناگن پر یکے بعد دیگر ے تین جہازوں کے ٹکرانے کے بعد جو صورت حال سامنے آئی اسی سے ہوتا ہے ۔ اس صورت واقعہ کو ٹی۔وی اسکرین پر جس طرح دکھایا گیا وہ ہم سب نے دیکھا ۔بے تحاشہ بھاگتے ہوئے مرد اور عورتیں ،مومی شمع کی طرح پگھلتی ہوئی عمارتیں ،بلند ہوتے شعلے ،کھڑکیوں سے چھلانگتے لوگ،دھنستی ہوئی عمارتیں وغیرہ یہ سارے مناظر ٹی وی اسکرین پر بار بار دکھائے جارہے تھے ۔اس واقعہ سے جہاں پوری دنیا میں ہلچل مچ گئی وہیں اس تاریخ نے دنیا کا نقشہ ہی بدل دیا۔امریکہ نے بغیر کسی ثبوت کے اس کی ساری ِذمہ داری اسامہ بن لادن اور اس کی تنظیم القاعدہ پر ڈال دی اور ناٹو کی مدد سے افغانستان کی اینٹ سے اینٹ بجادی ۔امریکی صدر جارج ڈبلیو بش نے اپنی تقریر میں اسے ’’کرو سیڈ وار‘‘ کا نام دیا تھا لیکن جب عالمی پیمانے پر اس کی مخالفت ہوئی تو اسے دہشت گرد ی بنام امن دیتے ہوئے یہ اعلان کیا کہ دہشت گردی کی اس جنگ میں جو ملک اس کا ساتھ نہیں دیگا وہ بھی دہشت گرد مانا جائے گا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمانوں کو دہشت گرد قرار دینے کی جو سازش برسہا برس سے چلی آرہی تھی اسے مزید تقویت پہنچانے کیلئے الکٹرانک میڈیا، ذرائع ابلاغ اور ترسیل عامّہ نے دنیا کی دوسری بڑی طاقت روس کے بکھرنے کے بعد واحد سپر پاور امریکہ جو پوری دنیاپر تسلط اور چودھراہٹ قائم کرنے کا خواب دیکھ رہا تھا اس خواب کو شرمند ۂ تعبیر کرنے کے لئے اس پر اپنی پوری قوت صرف کردی اور حملہ کے فوراً بعد صدر نے اعلان کیا کہ ہم اس جرم کے کرنے والوں اور ان کے پناہ دینے والوں کو نہیں بخشیں گے مزید امریکی صدر جارج ڈبلیو بش نے اپنے صدارتی خطبہ میں یہ بھی کہا :
’’ حملہ کرنے والے دہشت گردوں اور انہیں پناہ دینے والوں کو بخشا نہیں جائے گا‘‘۱۱؎
چنانچہ
’’ صدر نے کہا ان کے خلاف جو جنگ چھیڑی گئی ہے وہ اس چیلیج کو قبول کرتے ہیں اور اب جنگ شروع ہوگئی ہے تو دشمنوں کے خلاف دنیا کے آخر ی حصے میں بھی جنگ لڑی جائے گی اور دہشت پسندوں کا وجود دنیا سے نیست ونابود کرکے دم لیا جائے گا۔ اس جنگ میں جتنا وقت لگے سال دوسال دس سال‘‘ ۱۲؎
آج دس سال سے زیادہ گذر جانے کے بعد یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا امریکہ اور اس کے پیرو کار اسامہ پر دہشت گردی کا لیبل چسپاں کرکے اسے موت کے گھاٹ اتارکر دہشت گردی کا قلع قمع کرنے میں کامیاب ہوگئے؟جواب نفی میں ہوگا ۔کیونکہ اسامہ کو ہوّا بناکر جس طرح امریکی اور اتحادی فوجوں نے افغانستان کو قبرستان میں تبدیل کیا،آج اس کے نہ ہوتے ہوئے بھی حملے کیوں ہورہے ہیں ؟یہ دراصل اسامہ ،ملا عمر ،الظواہری کے پس پردہ پورے عالم اسلام کو بدنام کرنے اور انہیں دہشت گرد ثابت کرنے کی ناکام کوشش ہے حالانکہ ٹریڈ ٹاور پر حملہ کی ذمہ داری جاپان کی ریڈ آرمی نے قبول کرلی تھی اور کہا تھا کہ ہیرو شیما اور ناگہ ساکی کی تباہی کا بدلہ ہے ۔مگر ریڈ آرمی کے اس بیان پر کسی نے دھیان نہیں دیا۔ اس حملے میں پانچ ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے مگر پانچ ہزار کے عوض پچاس ہزار افراد ہلاک کردئے گئے ۔اسامہ کو تو ہلاک کردیا گیا مگر ملا عمر تک رسائی نہیں ہوسکی انہیں حالات وواقعات سے شفق اتنے متاثر ہوئے کہ اس ہولناک منظر وپس منظر میں ’’بادل ‘‘لکھ کر اپنی تخلیقی ہنر مندی کا ثبوت پیش کردیا ۔بلکہ یہ ناول ان کے لئے Catharsis (تنقیہ)کا ذریعہ بن گیا۔
11/9 کا حملہ اکیسویں صدی کے پہلے عشرے کی جہاں روح فرسا اور ہیبت ناک داستان پیش کرتا ہے وہیں یہ امن کے نام پر امریکہ کی جنگ افغانستان کو ریگستان بناکر ساری دنیا پر تسلط کا خواب دیکھنے والی تاریخ انسانیت کا المناک واقعہ بھی ہے ۔اس ناول میں پٹناگن پر حملے سے ظہور انتھرکس حد تک کے مراحل عالمی میڈیا کے سہارے بیان کئے گئے ہیں اور میڈیا کے بیانات پر اس زمانے میں ہندوستان کے مختلف طبقات جس قسم کا خیال ظاہر کررہے تھے ان کو بحسن وخوبی تحریر کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ اس ناول میں عالمی اور سیاسی سطح پر اسلام بنام مسیحیت اور صہیونیت کی جنگ ،عالمی دہشت گردی بنام مسلمان ،ملک عزیز میں مسلمانوں کی وفاداریاں ،سیاست کا کرمنلا ئزیشن،حکومت کی مسموم ذہنیت ،مذہب اور دھرم کے نام پر وحشت وبربریت کا ننگا ناچ وغیرہ جیسے اہم اور حساس واقعات پر جہاں شفق کی نظر ہے وہیں ان کی نظر انسان کی فطری جبلت کے زیر اثر رومانیت کی مسحور کن فضا پر بھی ہے ۔11/9 کے پس منظر میں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ اس وقت امریکہ نے دوطرح کی جنگیں چھیڑ رکھی تھیں: ایک تو افغانستان کے خلاف وہ جنگ تھی جس میں کئی ہفتوں تک یک طر فہ بمباری سے جانی ومالی املاک تباہ و برباد ہوگئیں اور دوسری طرف وہ پروپگنڈہ جنگ تھی جس میں سی ۔این۔این۔اور بی بی سی بم بردار جہازوں کا کردار اداکر رہے تھے، نیز وہ امریکی اور برطانوی اخبارات بھی تھے جنہوں نے پوری دنیا میں جھوٹ اور دروغ گوئی پر مبنی پروپگنڈے کا جال بچھا رکھا تھا۔ مگر امریکہ کے اہم ترین شہری ،جدید علم لسانیات کے بانی ،بین الاقوامی شہرت یافتہ ادیب ،دانشور اور مفکر Noam chomsky(نوام چامسکی )کے مطابق 11؍سمتبر کو امریکہ میں جو کچھ ہوا وہ ایک بھیانک جرم تھا ۔جن لوگوں نے بھی اس جرم کا ارتکاب کیا ہے انہیں گرفتار کرکے بین الاقوامی عدالت کے سامنے پیش کیا جانا چاہئے تاکہ حقیقت حال کے سامنے اس کے اور اس کی روشنی میں مجرموں کو مناسب سزادی جاسکے ‘‘لیکن مشکل یہ ہے کہ امریکہ کے مطابق ۱۱؍سمتبر کا واقعہ جرم نہیں بلکہ اس کے خلاف اعلان جنگ تھا ناول نگار نے بھی صدر کے بیانات کو کوٹ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ جس کا ذکر ماقبل صفحہ میں ہوچکا ہے ۔
آخر امریکہ نے ایسا کیو ں کہا ؟اس لئے کہ جرم ایک خاص نوعیت کی چیز ہوتی ہے اگر آپ کسی کو مجرم ٹھہراتے ہیں تو اس کے خلاف عدالت میں ثبوت فراہم کرنا پڑتا ہے مگر بقول چامسکی چونکہ بش انتظامیہ کے پاس ۱۱؍سمتبر کے واقعات میں اسامہ بن لادن کے ملوث ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ہے اس لئے اس نے افغانستان جیسے غریب اور پسماندہ ملک کے خلاف اتنی خطرناک جنگ شروع کردی ہے ،جو آج تک جاری ہے اور سپر پاور انتظامیہ اس میں ناکام نظر آرہی ہے۔ مگرحقیقت یہ ہے کہ ۱۱؍ستمبر کے واقعات کی ساری ذمہ داری امریکہ کی اس خارجہ پالیسی پر عائد ہوتی ہے جس کی بنیاد نخوت اور غرور پر رکھی گئی ہے۔امریکہ ساری دنیا کو جبراً اپنے راستے پر چلانا چاہتا ہے۔ وہ اپنے سپر پاور ہونے اور اپنی فوجی طاقت کے سہارے پوری دنیا پر بالواسطہ حکومت کرنے کا خواہشمند ہے ۔امریکہ ایک ایسا ملک ہے کہ جب بھی اس کے مفاد پر کہیں سے کوئی ضرب پڑتی ہے تو وہ اس کے خلاف فوراً جنگ کا اعلان شروع کردیتا ہے ۔وہ اپنے مفاد ات کے پیش نظر کہیں تو جمہوریت کی حمایت کرتا ہے اور کہیں ان شہنشاہوں کی جو جمہوریت کو کچلنے کے درپے ہیں ۔جن ممالک میں تیل کے ذخیرے نہیں پائے جاتے وہاں عورتو ں پر کئے گئے مظالم اور انسانی حقوق کے استحصال کے خلاف وہ کوئی آواز نہیں اٹھاتا ۔لیکن تیل سے محروم افغانستان کی عورتوں کی مظلومیت پر وہ ضرور آنسو بہاتا ہے ۔خود اپنے ملک میں جنسی بے راہ روی اسے نظر نہیں آتی لیکن اسے دیگر ممالک میں کثرت ازدواج کی رعایت کی وہ پرزورمخالفت کرتا ہے ۔بہرحال اس جنگ کی چاہے جو خاصیت اور نوعیت ہو لیکن یہ امر متفقہ ہے کہ دنیا میں آج جہاں جہاں تشدد کے واقعات ر ونما ہو رہے ہیں یا تو ان کا محرک خود امریکہ رہا ہے یا ایسے ممالک کی حمایت کی جو انسانوں کو اپنے ظلم کا نشانہ بنارہے ہیں ۔اس سلسلے میں کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ دنیا میں کہیں بھی تشدد کے واقعات ہورہے ہوںکتنی ہی بڑی ناانصافی کیوں نہ کی جارہی ہو امریکہ کو اس وقت کچھ نظر نہیں آتا جب تک کہ خود اس کے مفاد پر ضرب نہ پڑے۔مذکورہ بالا حقائق کا انکشاف ناول کے بین السطور سے ہوتا ہے ۔
جیسا کہ گذشتہ صفحات میں ذکر کیا گیا کہ اس ناول کا آغاز ۱۱؍ستمبر ۲۰۰۱ء کو ٹریڈ ٹاور پر حملے سے ہوتا ہے اور اس ہیبت ناک حادثے کی تفصیل ٹی وی پر دیکھتے ہوئے لوگوں کے مختلف خیالات پر نظر ڈالتی ہے اور مسلمانوں کی زندگی اور ان کے موجودہ رویے کو ٹٹولتی ہو ئی آگے بڑھتی ہے۔ اس سانحہ عظیم نے مسلمانوں کو جس فکر اور اندیشے میں مبتلا کردیا اور جن سوالات سے انہیں جوجھنا پڑا ناول ان کا جائزہ مدلل انداز میں لیتا ہوا آگے بڑھتا ہے ۔مگر اس میں ناول نگار نے ایک ایسا قصہ ترتیب دیا ہے جو رو مان اور جذبات سے لبریز تو ہے لیکن اس پر خوف ودہشت کی فضا جو ناول نگار کی تحریروں کی نمایاں خصوصیت ہے غالب نظر آتی ہے۔ اسی سایے میں خالد اور سلمیٰ کی محبت پروان چڑھتی ہے۔جس کے اردگرد جنگ ،فساد اور کشیدگی کی ہولناک فضا کا تانابانا بناگیا ہے ۔خالد اور سلمیٰ اس ناول کے دومرکزی کردار ہیں جو آغاز سے لے کر انجام تک قاری کو اپنی گرفت میں لئے رہتے ہیں اور قاری ہر لمحہ یہ جاننے کے لئے بے چین رہتا ہے کہ اب کیا ہوگا ۔یہی وہ تجسّس ہے جو قاری کوپورا ناول ایک ہی بیٹھک میں پڑھنے پر مجبور کرتا ہے ۔کیونکہ نفسیاتی اور واقعاتی تجزیوں ،تجسّس اور اس کے رکھ رکھاؤ میں کچھ اس طرح کا اہتمام کیا گیا ہے کہ قاری اگر ایک بار شروع کردے تو اسے ختم کرکے ہی دم لیتا ہے ۔اس کے علاوہ نعیم ،رامو،راجیش وغیرہ ثانوی کردار ہیں اور ضمنی کرداروں میں رشمی ،سری واستو اور سنہا ،وغیرہ قابل ذکر ہیں ۔جو کینٹین میں بیٹھ کر چائے نوشی کرتے وقت حملے کے مثبت ومنفی پہلوئوں پر اپنی آزادانہ اور بے باکانہ رائے کا اظہار کرتے ہیں جس سے مسلمانوں کے تئیں ان کی ذہنیت کا اندازہ ہوتا ہے ۔
اس ناول کی تشکیل کیلئے مصنف نے ایک ایسا قصہ ترتیب دیا ہے جو رومان اور جذبات سے بھرپور ہے ۔ناول میں ایک ساتھ تین قصے چلتے ہیں پہلا قصہ ناول کے مرکزی کردار خالد کا ہے جو خوب رو ،تعلیم یافتہ اور مہذب نوجوان ہے جس کی تقرری بحیثیت اسسٹینٹ ۱۱؍سمتبر ۲۰۰۱ء کو سنہا صاحب کی آفس میں ہوتا ہے جس میں پہلے سے ہی ایک انتہائی حسین وجمیل دوشیزہ اپنے کام میں منہمک رہتی ہے۔ اسے دیکھ کر خالد کی کیفیت کیا ہوتی ہے ناول نگار کے لفظوں میں ملاحظہ کیجئے :
’’کمرے میں داخل ہوتے ہی خالد کے دل کی ناہموار دھڑکنیں کچھ اور ناہموار ہوگئیں ،سیلنگ فین تیزی سے گھوم رہا تھا مگر اسے گرمی کا احساس ہوا ،نہ جانے یہ گرمی لڑکی کے وجود کی تھی یا اس کی گھبراہٹ کی ۔‘‘ ۱۳؎
اس طرح سے اسے دیکھ کر خالد کے دل میں دھڑکنیں دوگنی ہوجاتی ہیں مگر’’ جسے بھی دیکھئے وہ اپنے آپ میں گم ہے‘‘کے مصداق وہ لڑکی بھی اپنے آپ میں اس قدر گم ہے کہ خالد اسے لاکھ کو ششوں کے باوجود متوجہ کرنے کی اپنے اندر ہمت نہیں جٹاپاتا ۔ اسی آفس میں رامو نام کا ایک چپراسی بھی کام کرتا ہے جو خالد کو جاسوسی کردار کا حامل شخص معلوم ہوتا ہے ۔جس کی اصلیت ناول کے آخر میں واضح ہوتی ہے۔ اسی دن لنچ کے وقت میں جب رامو نے کینٹین تک خالد کی رہنمائی کی۔ وہاں پہنچ کر کیا دیکھتا ہے کہ سب کی نظر یں TV اسکرین کے وحشت ناک منظر پر جمی ہوئی ہیں جس پر wtcکے تباہ ہونے کی خبریں نشر ہورہی ہیں اور کینٹین کا ماحول خاصا گرم ہے ایک دوکو چھوڑ کر سبھی لوگ اس کے لئے مسلمانوں کو مورد الزام ٹھہراتے ہوئے طرح طرح کی قیاس آرائیاں کررہے ہیں۔ ایک میز پر ملاعمر اوراسامہ بن لادن موضوع بحث تھے تو دوسری پر طالبان کی ظلم وزیادتی،اور تیسری پر امریکہ اور اسامہ زیر بحث تھے ۔خالد کے ذہن پر اس حادثے اور اس پر بے جا اٹکل پچّو کا ردعمل شدید طور پر ہوا ۔مگر اتفاق سے وہیں پر اس کی ملاقات نعیم سے ہوتی ہے جس کا تعلق اسٹیبلشمنٹ سیکشن سے ہو تا ہے ۔پہلی ملاقات میں ہی دونوں ایک دوسرے کے اٹوٹ دوست بن جاتے ہیں۔خالد متوسط گھرانے سے تعلق رکھتاہے اور اپنے والدین کے بڑھاپے کا واحد سہارا بھی ہے۔ اس کی صرف ایک بہن ہے جس کی شادی ہوچکی ہے ۔وہ نعیم کو اپنے حالات بتاتا ہے اور اس سے گزارش کرتا ہے کہ وہ اس کی رہائش کا انتظام کردے ۔چنانچہ نعیم خالد کی ملاقات رشمی نام کی ایک شوشل ورکر سے کراتے ہوئے کہتا ہے کہ:
’’خالد ان سے ملو یہ رشمی آہو جہ ہیں ،میں نے ان سے تمہاری رہائش کے مسئلے پر بات کی ہے۔شوشل ورکر بھی ہیں اور تحریک نسواں کی سرگرم ممبر بھی،دیکھنے آئی ہیں کہ تم ایسے ویسے تو نہیں ہو ۔‘‘ ۱۴؎
اس طرح سے خالد اور رشمی کے درمیان گفتگو کا سلسلہ دراز ہوتا ہے اور باتوں ہی باتوں میں رشمی خالد سے دوستی کا ہاتھ بڑھاتی ہے اس سلسلے میں یہ دلچسپ جملہ ملاحظہ ہو:
’’ویسے آپ دوستی کی لمبائی بتائیے ،چند قدم والی پسند کرتی ہیں یا ہم قدم والی۔۔۔چند قدم والی سے ابتدا کریں گے اگر لڑکھڑائے نہیں تو ہم قدم کے بارے میں سوچا جائے گا ۔۔۔‘‘ ۱۵؎
اس دوستی کے باوجود خالد کی رہائش کا مسئلہ تو حل نہیں ہوتا ہے مگر خالد رشمی کے درپردہ جس لڑکی سے بات کررہا تھا اس کے بارے میں اسے پتہ نہیں تھا کہ وہ لڑکی ہندو ہے یا مسلم ۔کیونکہ آج ہندومسلم لڑکیوں کی شناخت باقی نہیں بچی ،پہلے لباس اور آنکھوں کے حجاب سے اندازہ ہوجاتاتھا اب نہ آنکھوں کا حجاب ہے اور نہ ہی لباس کی الگ پہچان۔رشمی سے دوستی کے دوران باتوں باتوں میں پتہ چلا کہ اس کے ساتھ کام کرنے والی لڑکی مسلمان ہے اور اس کا نام سلمیٰ ہے ۔
اس ناول کا دوسرا قصہ سلمیٰ کا ہے جو ناول کے آغاز سے اختتام تک چھایا رہتا ہے۔ کالج میں شعبہ کیمیا کے پروفیسر نیاز احمد کی دوصاحبزادیاں تھیں شاذی اور سلمیٰ ۔انہوں نے ان کی پرورش وپرداخت میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ان کو اپنے بیٹوں جیسا پالاپوسا ۔وہ انہیں بہادر نڈر اور مستقل مزاج دیکھنا چاہتے تھے۔ وہ اعلیٰ اقدار وروایات کے حامل شخص تھے اور توہمات سے کوسوں دور بھاگتے تھے۔وہ اپناکام بہت ہی چابکدستی اور مستعدی کے ساتھ کیا کرتے تھے ۔ان کے پاس امجد نام کا ایک امیر زادہ پڑھنے کیلئے آتاتھا جس پرپروفیسر نیاز کی بڑی صاحبزادی شاذی فریفتہ تھی ۔وہ اس سے پیار کرنے لگی حسن اتفاق کہ دونوں کی شادی بھی ہوگئی ابتدائی ایام تو بہت ہنسی خوشی میں گزرے۔مگر کچھ دنوں کے بعد جب شاذی کو معلوم ہوا کہ امجد ایک عیاش اور آوارہ مزاج نوجوان ہے تو وہ اسے ان بری عادتوں اور خصلتوں سے باز آنے کوکہا لیکن اس نے اسے زد وکوب کرنا شروع کیا ۔چنانچہ شاذی ایک ذلت آمیز ی کو برداشت نہیں کرپاتی اور میکے چلی آتی ہے مگر امجد پھر اسے منا کرگھرلے جاتا ہے جہاں تیسرے دن یہ خبر آتی ہے کہ شاذی مرگئی ۔اس صدمے کی تاب نہ لاکر پروفیسر نیاز بھی چل بسے اور اپنے ساتھ اپنے گھر کی خوشیاں اور چین وسکون سب لیتے گئے ۔اس دن اس گھر میں آخری چہل پہل ہوئی تھی ،موت کی چہل پہل پھر اس گھر میں کبھی قہقہے نہیں گونجے ،ہنسی کی پھوار نہیں پڑی ۔زور سے بولنے کی آواز سنائی نہیں دی۔چنانچہ صفحہ ۲۰ سے ۴۰ تک شاذی اور امجد کی المناک ازدواجی زندگی کا بیان ہے جس میں انسانی زندگی کے مختلف رنگ روپ دیکھے جاسکتے ہیں۔وقت اور حالات کی تبدیلی میں انسانی زندگیاں کیسے تبدیل ہوگئیں اور ہوتی جارہی ہیں، یہ آج کا انسان بخوبی جانتا ہے۔ وہ زمانہ گذر گیا جب چہرہ دیکھ کر آدمی کی فطرت کاا ندازہ ہوجاتا تھا ۔آج کا انسان اپنے چہر ے پر اتنے ماسک چڑھائے ہوئے ہے کہ اصلی چہرہ بہت بعد میں سامنے آتا ہے ،اور جب اصلیت سامنے آتی ہے تو ایک شریف النفس پاکیزہ وصاف گو شخص کس اذیت میں مبتلا ہوتا ہے اور اس کا حشر کیا ہوتا ہے، وہ پروفیسر نیاز جیسے نفیس الطبع شخصیت سے ظاہرہوتا ہے،اس لئے آج لباس پارسائی سے شرافت کااندازہ لگانانا ممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے۔کیونکہ آج کا انسان اپنے کارناموں کی پردہ پوشی کیلئے اور معاشرے میں اپنی حیثیت منوانے کے لئے ظا ہری زرق برق لباس زیب تن کرتا ہے تاکہ لوگ اس کی حیثیت اور وقعت کا اندازہ کرسکیں ۔ لوگ اسے اپنے پلکوں پر بٹھاکر سماج کے وضع دار شریف النفس اور ذی حیثیت افراد میں شمار کرسکیں ۔جبکہ ان کی ظاہری چمک دمک اور وضع داری کو بالائے طاق رکھ کر ان کے اندورون میں جھانکیں تو آپ کو امجد جیسے لوگ ہی نظر آئیں گے جن کے باطن میں مکروفریف ،ہوس پرستی اور عیاشی جیسی گھنائونی اور مکروہ صفتیں پا ئی جا تی ہیں۔اس لئے اس کہاوت کے مصداق کہ ’’ہر چمکنے والی چیز سونا نہیں ہوتی ‘‘کی صداقت اور معنویت آج پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے ۔
اس طرح بہن اور والد کے انتقال کے بعد سلمیٰ نوکری کرلیتی ہے۔ مگر اسے اس واقعہ کے بعد مرد ذات سے نفرت پیدا ہوجاتی ہے یہی وہ رد عمل تھا کہ وہ خالد کو گھاس نہیں ڈالتی تھی ۔مگر فطرت سے بغاوت کون کرسکتا ہے ۔چنانچہ وہ نفرت محبت میں تبدیل ہوجاتی ہے ۔لیکن اس کے آفس میں کام کرنے والا نوجوان راجیش اس پر بری نظر رکھتا ہے۔ایک دن آفس سے واپسی پر ایک آٹو والا سلمیٰ کا اغوا کرلیتا ہے ۔تین دن بعد وہ گھر لوٹتی ہے۔ سلمیٰ اپنے بکھرے ہوئے وجود کو ایک ایک کرکے سمیٹنے کی کوشش کرتی ہے۔ اسی دوران راجیش کا قتل ہوجاتا ہے اور سلمیٰ کو مردذات سے نفرت ہوجاتی ہے اورو ہ اپنے آپ کو ایک ایسے حصار میں قید کرلیتی ہے جہاں کسی غیر کا گزر نہیں۔ مگر خالد اس کے درد دل پر دستک دیتا ہے پہلے تو وہ اپنا دامن بچاتی پھرتی ہے مگر آخر کار خالد کے دام الفت میں گرفتا ر ہوجاتی ہے ۔اس طرح سے بش کے افغانستان پر فتح حاصل کرنے کے ساتھ ناول کا ہیرو بھی فاتح محبت ہوجاتا ہے ۔
ناول کا تیسرا قصہ نعیم کا ہے جو بچپن سے ہی شعلہ مزاج ہے تکمیل تعلیم کے بعد جب اسے کہیں نوکری نہیں ملتی ہے تو اس کے والد اسے طعنے دیتے ہیں۔ تو وہ خود انہیں ہی مورد الزام گردانتا ہے کہ انہوں نے اس کی تعلیم وتربیت پر مکمل توجہ نہیں دی اور اس کا کیر یر بنانے کیلئے کچھ نہیں کیا ۔اس کے والد اس کی بات سن کر سکتے میں آجاتے ہیں۔ اسی دن ان کا اکسیڈنٹ ہوجاتا ہے اور نعیم کو Compassionate groundپر نوکری ملجاتی ہے اور وہ اپنے آپ کو باپ کا قاتل سمجھنے لگتا ہے۔ اس کی ساری شعلہ مزاجی ختم ہوجاتی ہے اور وہ ایک سنجیدہ اور برد بار شخص بن جاتا ہے ۔اس کی والدہ اس کی شادی سلمیٰ سے کرنا چاہتی ہیں مگر وہ شادی نہیں کرنا چاہتا ۔وہ ڈرتا ہے کہ کہیں اس کی اولاد اس کے ساتھ وہی سلوک نہ کرے جو اس نے اپنے باپ کے ساتھ کیا تھا ۔خالد کے سمجھانے پر وہ شادی کیلئے راضی ہوجاتاہےمگروہ اپنےشہرکی کسی لڑکی سےشادی نہیں کرناچ اہتا۔اس طرح سےیہ ناول جیسےجیسے آگے بڑھتا ہےویسے ویسے یہ تینوں قصے آپس میں مربوط ہوتے چلے جاتے ہیں ۔اور پھر داستانوی اندازمیں اپنے اپنے مسائل کے ساتھ ایک مرکز پر جمع ہوجاتے ہیں اور پھر ایک ہی کہانی کا حصہ بنتے نظر آتے ہیں۔ مذکورہ سارے کردار اپنے سماجی اور سیاسی حالات وواقعات سے پوری طرح باخبر ہیں ۔لیکن چونکہ ان کا تعلق ایک اقلیتی فرقہ سے ہے۔ اس لئے جہاں کھلے عام اقلیتی فرقے کو لعن وطعن کیا جاتا ہے ۔جھوٹ کو سچ او ر سچ کو جھوٹ بناکر پیش کیا جاتا ہے وہاں بھی یہ اپنی زبان بند رکھنے پر مجبور نظر آتے ہیں۔ اس سلسلے میں نعیم خالد کو سمجھاتے ہوئے کہتا ہے کہ:
’’ایک بات کا دھیان رکھنا ،کان کھلے مگر زبان بند رکھو گے ،اور آج کے حادثے کے بعد زبان بندی اور ضروری ہوگئی ہے ،ہوسکے تو کان بھی بند رکھنا۔‘‘کیونکہ نہ سنا جائے گا تم سے وہ ترانہ ہرگز ‘‘ ۱۶؎
اور ہاں ۔
’’تم اس شہر میں نووارد ہو ،شہر کے مزاج سے واقف نہیں ہو ،اس لئے میری بات ذہن نشیں کرلو ،تم اپنے کام سے کام رکھو گے ،دوسروں کے معاملے میں دخل اندازی نہ دوگے چاہے تمہارے سامنے کسی دوکاندار کی پٹائی ہورہی ہو ،موٹر سائیکلیں چھینی جارہی ہو ں ،کسی کا قتل ہورہا ہو،اغوا ہورہا ہو،تم وہاں ٹھہرو گے نہیں ،یہ شہر اب شریفوں کے رہنے کے لائق نہیں رہ گیا ہے غنڈہ راج ہے اور یہ سیاست کے کر منلائزیشن کا نتیجہ ہے ‘‘ ۱۷؎
مذکورہ بالا اقتباس میں جہاں زبان پر قفل لگائے اقلیتی فرقہ کی خوف ودہشت کے سایے میں پروان چڑھتی زندگی کا حقیقی عکس پیش کیا گیا ہے، وہیں موجودہ سیاسی ،،سماجی معاشرتی تہذیبی اور اخلاقی سطح پر زوال پذیری کا بھی اندازہ ہوتا ہے ۔یہ ساری چیزیں وہی ہیں جو روزانہ ہماری آنکھوں کے سامنے رونما ہوتی ہیں ۔مگر اس پر کوئی اف تک نہیں کہتا ۔اس طرح سے ناول نگاری نے مکمل طور پر عصری مسائل کا احاطہ کیا ہے مگر اس کے سارے کردار خوف ودہشت کے سایے میں ہی پروان چڑھتے ہیں۔ تینوں کردار خالد ،سلمیٰ،اور نعیم مختلف حالات ومسائل سے ہمیشہ دوچار ہی نظر آتے ہیں۔یہ تینوں کردار جب ایک مرکز پر جمع ہوتے ہیں تو پھر اچانک خالد پر قاتلانہ حملہ ہوتا ہے اور یہ حملہ آور وہی آٹو ڈرائیور ہے جس نے سلمیٰ کو اغوا کیا تھا ۔اس حملہ میں توخالد بچ جاتا ہے مگر سلمیٰ پر خوف کے بادل چھا جاتے ہیں ۔پھر اچانک اس علاقے کے MLAکا کردار ابھر کر سامنے آتا ہے جس کا پس منظر مجرمانہ ہے اور جو اپنے بھاڑے کے ٹٹوئوں سے طاقت کے زور پر چندہ وصول کرتا ہے چنانچہ ابھی سلمیٰ کے ذہن سے خوف کے بادل چھٹنے بھی نہیں پائے تھے کہ اچانک خالد ایک دن غائب ہوجاتا ہے اوراسی دن شہر میں ایک مسخ شدہ لاش برآمد ہوتی ہے جسے دیکھ کر نعیم سمجھتا ہے کہ خالد کا قتل ہوگیا ہے اور وہ بوکھلا جاتا ہے اور شہر کا کونہ کونہ چھان مارتا ہے، مگر بعد میں پتہ چلتا ہے کہ وہ لاش خالد کے بجائے اس آٹو ڈرائیور کی تھی جس نے سلمیٰ کو اغوا کیا تھا اور خالد پر قاتلانہ حملہ کیا تھا ۔پھر اچانک MLAکا بھی قتل ہوجاتا ہے۔ اس قتل کے بعد پورے شہر کی فضا کشیدہ ہوجاتی ہے:
’’فضا کشیدہ ہے افواہوں کا بازار گرم ہے ،خوف کا پرندہ بہت نیچی اڑانے بھرتا ہوا گھر کی منڈ یروں پر بیٹھ رہا ہے اور شہر میں ہڑتا ل ہے۔دکانیں بند کرانے والوں کی ٹولیاں ہاتھوں میں آتش گیر مادے لئے ہوئے اشتعال انگیز نعرے لگارہی ہیں ۔چنگاری شعلہ بننے کی منتظر ہے اور حکمراں جماعت کے ہاتھوں میں بڑے بڑے پنکھے ہیں ‘‘ ۱۸؎
چنانچہ وہ بڑے بڑے پنکھے جو حکمراں جماعت کے ہاتھوں میں تھے،’ہلے، تو وہ چنگاریاں شعلہ جوالہ کی شکل اختیار کرگئیں اور آتش گیر مادے لئے اشتعال انگیزنعروں کے ساتھ سابر متی کی زمین کو بھسم کرکے رکھ دیا ۔مگر MLAکے قتل کے بعد شہر میں خالد کی عدم موجودگی بہت سارے شکوک وشبہات کو جنم دے رہی تھی کہ اچانک خالد واپس آجاتا ہے استفسار کرنے پر پتہ چلتا ہے کہ اس کے والد کا فون آیا تھا کہ اس کا پبلک ریلیشن آفیسر کی حیثیت سے انتخاب ہوگیا ہے۔ فوراً جوائن کرنا تھا اور گاڑی چھوٹنے کا وقت بھی بہت قریب تھا اس لئے وہ کسی کو اطلاع نہ دے سکا۔بہر کیف وہ ماموں زاد بہن کا منسوب نعیم سے طے کرکے آتا ہے اس کے بعد سارے شکوے گلے دور ہوجاتے ہیں ۔اس طرح سے ناول کا اختتام اگر چہ طربیہ انداز میں ہوتا ہے مگر اس کی فکری فضا قاری کوایسے سوالات سے جوجھنے پر مجبور کردیتی ہے کہ ناول کا انجام دیر پا اثر قائم نہیں رکھ پاتا ۔کیونکہ اگر اس ناول سے قصہ افغانستان کو نکال دیں جو بقول حسین الحق :
’’ اس پورے قصے میں ’’قضۂ افغانستان فٹ ہوتا ہوا نظر نہیں آتا یہ خالد کا کوئی نفسیاتی معاملہ ہوسکتا ہے مگر نعیم ،سلمیٰ،رشمی اس پچڑے میں پڑتے دکھائی نہیں دیتے ‘‘ ۱۹؎
تو اسے ایک طویل رومانی افسانہ کہا جاسکتا ہے جس میں خوف ودہشت کے سایے میں پروان چڑھتی محبت کا قصہ رقم کیا گیا ہے، جس کے درپردہ سیاسی ،سماجی،اور معاشرتی طرز بودوباش پر بھی روشنی پڑتی ہے مثال کے طور پرناول کے مندرجہ ذیل اقتباسات ملاحظہ ہوں :
’’معاملہ مذہب کا نہیں ان حالات کا ہے جس کی ابتدا ملک کے بٹوارے سے ہوئی تھی فسادات کے سلسلے نے اس سلسلے کو قائم رکھا اور مسجد کے انہدام کے بعد تو ۔۔۔۔‘ ۲۰؎
’’محلہ پٹھان ٹولی اس کے شہر کے مسلم محلوں سے الگ نہ تھا ،وہی گندگی ،نالیوں میں رنگ برنگی پولیتھین ،تھیلیو ں میں گھروں کے کوڑے ،پرانے خستہ مکانات کے درمیان کوئی نئی عمارت ،چھوٹی چھوٹی گمٹیاں ،بنچ پر بیٹھ کر گندی پیالیوں میں چائے پیتے لوگ ،مرغیاں ،بطخیں ،بکریاں ۔۔۔۔یہاں کچھ اچھا نہ تھا ،مگر سب سے اچھی چیز اپنائیت اور احساس تحفظ تھا۔‘‘ ۲۱؎
’’پولیس کا کیا بھروسہ ،فساد میں دیکھ چکاہوں ،ایک گھر سے اگر دس بم نکلا تو دس نوجوانوں کو پکڑکر ایک ایک بم سب کے نام دکھادیا ۔اسی طرح ایک ایک لڑکی۔۔‘‘ ۲۲؎
’’سیٹنگ MLAہے اسی کے دم سے شہر میں لاقانونیت کا بازار گرم ہے،ہر جرم کے پیچھے اسی کا دماغ کام کرتا ہے ‘‘ ۲۳؎
’’فساد کے زمانے میں شہر فوج کے حوالے کردیا جاتا ہے ،زمانہ ٔامن میں یہ شہر غنڈوں کے حوالے ہے ‘‘ ۲۴؎
’’یہ شہر اب شریفوں کے رہنے کے لائق نہیں رہ گیا ہے ،غنڈہ راج ہے اور یہ سیاست کے کرمنالائزیشن کا نتیجہ ہے ۔‘‘ ۲۵؎
مذکورہ بالا صورت ،مناظر ،احوال اور بیانات میں کتنا کچھ تخلیقی مشاہدے اور بیان کا حصہ ہے اور ایسے کتنے اظہارات میں سماجی دبائو اثر انداز ہو تا ہے ناول اس کا احاطہ کرتا ہے اور سیاسی ،سماجی اور معاشرتی اثرات کا بھی امین بنتا دکھا ئی دیتا ہے ۔اس کے علاوہ اس میں ناول نگار نے جذبات نگاری اور فضا بندی پر خاص توجہ صرف کی ہے۔ ناول کے کرداروں کے ساتھ عام مسلمانوں کے جذبات بڑے موثر اسلوب میں پیش کیے ہیں اور جنگ فساد یا کشیدگی کی فضا اتنی حقیقی اور ڈرائونی ہے کہ قاری نہ صرف اس فضا میں خود کو محبوس پاتا ہے بلکہ ناول ختم کرلینے کے بعد اس مسئلے پرفکر مند نظر آتا ہے۔ مگر ناول نگار ایک ایسے ماحول کو تیار کرنے میں کامیاب ہوگیاہے کہ قاری کرداروں کے ساتھ مکمل طو ر پر جڑجاتا ہے اور آخر تک جڑا ہی رہتا ہے۔ چونکہ شفق نے ایک ایسے موضوع کا انتخاب کیا تھا جو خبروں کا پلندہ بن سکتا تھا مگر ان کے تخلیقی اور مشاہداتی شعور نے انہیں اس سے بچائے رکھا ۔چونکہ ایسے موضوع کو جو بے تحاشہ خبروں کی سرخی بن رہا ہو، لکھنا آسان نہیں کیونکہ لکھنے والا کہیں نہ کہیں محض صحافیانہ اندازبرتنےپرمجبور ہوجاتا ہے مگر شفق کا کمال یہ ہے کہ وہ اس موضوع کو پوری ہوشمندی ،شعور کی پختگی اور فنکارانہ چابکدستی کے ساتھ برتنے میں کامیاب نظر آتے ہیں۔مگر بقول اقبال حسن آزاد :
’’شفق کا یہ ناول کرداری نہیں ۔دراصل یہ ایک موضوعاتی ناول ہے اور موضوع ہی اس کی طاقت ہے ۔اپنے موضوع کے لحاظ سے یہ اردو کا پہلا ناول ہے لیکن چونکہ یہ ناول بہت عجلت میں لکھا گیا ہے اس لئے ناول کے مرکزی واقعے یعنی ۱۱؍ستمبر کے واقعات کو اس کے ذیلی قصے سے پورے طور پر نہیں جوڑا جاسکا اور فلمی اندازمیں تمام کرداروں کو ملا کر روایت کے باسی پن کو برقرار رکھا گیا جس سے ناول کے اختتام پر ہلکے پن کا احساس ہوتا ہے پھر بھی خوف ودہشت کی فضا پورے ناول میں جاری وساری ہے اور غالبا ناول نگار کا مقصد یہی ہے کہ آج مسلمانان عالم جس خوف ودہشت سے دوچار ہیں اس کی تصویر کشی کی جائے ۔اور ناول نگار اپنے اس مقصد میں پوری طرح کامیاب نظر آتا ہے ۔‘‘ ۲۶؎
اس طرح یہ ناول اپنی بہت سی خامیوں کے باوجود موضوع کے حوالے سے اردو فکشن میں جہاں ایک قابل ذکر اضافہ ہے، وہیں اکیسویں صدی کے اس عظیم سانحے پر نہ صرف تاریخی دستاویز کی حیثیت رکھتا ہے بلکہ میرے محدود مطالعہ کی روشنی میں مذکورہ سانحہ پر کم سے کم اردو میں یہ پہلی تخلیق ہے جس کی اہمیت و افادیت کا اندازہ مستقبل بعید میں اس وقت ہوگا جب ہمارے بعد کی نسلیں اس واقعہ اور حادثے کی تفصیل ڈھونڈ یں گی۔
اس ناول کا سارا تانابانا مکالماتی تکنیک سے تیار کیا گیا ہے ۔مکالماتی انداز کوئی نئی تکنیک نہیں ہے مگر اس ناول میں ترتیب اورر بط و تسلسل کے ساتھ ایسا دلکش مسحور کن اسلوب ہے کہ قاری نہ چاہتے ہوئے بھی ایک ایک سطر کو غور سے پڑھنے پر مجبور ہوجاتا ہے ۔طرز تحریر کی روانی کے ساتھ مکالماتی طرز اسلوب میں ہندی الفاظ کا مختلف کرداروں کے ذریعہ موقع ومحل کے اعتبار سے جس کثرت سے استعمال کیا گیاہے وہ بہت ہی خوب ہے ۔اس کے ذریعے اس کمیونٹی کی فکر ،ذہنی رجحان اور غیر وں کے تئیں ان کا رویہ کیسا ہے ،وہ مندرجہ ذیل مکالموں سے لگایا جاسکتا ہے:
’’میں نے کل ہی بھوش بانی کردی تھی کہ اس حادثے میں اسامہ کا ہاتھ ہے میری بات سچ نکلی نا؟
’’وہاں دومہاشکتیاں مات کھاچکی ہیں ۔تیسرا بھی چپ نہ رہ سکا۔کیا امریکہ وہاں سپھل ہوجائے گا ،انگلینڈ کی بات تو یاد نہیں روس کا انجام سامنے ہے،،
’’اس بار ایسا نہیں ہوگا جب ہم یہ سوچ رہے ہیں تو کیا امریکہ نہیں سوچ رہا ہوگا انہیں بھی خطرے کا آبھاس ہوگا اور وہ ۔۔۔،،
’’دراصل افغان گوریلابدھ میں د کچھمہ ہیں ۔وہاں کی بھوگو لک استیتھی بھی ان کی سہائیتا کرتی ہے ،ودیشی سینائیں درّوں ،پہاڑوں ،اور گپھاؤں کے جال میں بھٹکتی رہ جاتی ہیں جس کا وہ لابھ اٹھاتے ہیں،،
’’اس بار ناردن الائنس والے ان کی سہائیتا کریں گے اس طرح امریکہ کو وہ سویدھائیں پراپت ہونگی جو دونوں مہاشکتیوںکو پراپت نہ تھیں۔،،
’’کیوں کیا باریک کارمل کی روسیوں کو سہائتا پراپت نہ تھی ؟پر انجام کیا ہوا۔دوسری میز پر طالبان کی ظلم وزیادتی زیر بحث تھی ،،
’’کٹر پنتھیوں نے دیش کو چودہ سوورش پیچھے ڈھکیل دیا ہے عورتوں کی استیتھی سب سے زیادہ دنیئے ہے ۔انہیں گھر میں بندی بنادیا گیا ہے۔باہرنکلتی بھی ہیں تو اس طرح وستر میں منڈھی ہوئی جیسے چتا میں جلنے جارہی ہوں۔منورنجن کا کوئی سادھن نہیں ۔سنیما گھر بند ہیں ۔لوگ ٹی ۔وی تک نہیں دیکھ سکتے۔داڑھی رکھنا انیواریہ ہے۔کیوں وہ مدرسے کھلے ہیں جن میں کٹر پنتھ اور آتنک واد کی شکچھا دی جاتی ہے ۔اسکول کالج بند کردیے گئے ، لڑکیوں کو شکچھا سے ونچت کردیاگیا ،، ۲۷؎
اس طرح سے شفق نے سماج اور معاشرے کے ایک خاص طبقے کے لوگوں کی فکر کو مکالماتی اندازمیں پیش کرکے اپنی تخلیقی ہنر مندی کا جواز مہیا کیا ہے مذکورہ بالا اقتباسات میں زبان کا پورا پورا تخلیقی استعمال ہوا ہے ۔اس سے قبل کی تمام تحریروں میں پیچیدگی بہت زیادہ ہے ۔ربط وتسلسل کا فقدان ہے ۔کردار ناپید ہیں ۔تحریر مبہم اور نامکمل ہے ۔کوئی بھی بات ٹکڑوں میں ہی سمجھی جاسکتی ہے کیوں کہ ہر بات اشارے وکنایے کے علاوہ استعارے اور علامت کے پردے میں کہی گئی ہے جس کی وجہ سے تفہیم مشکل ہوگئی ہے مگر یہ ناول مذکورہ ساری خامیوں سے مبرّا ہے۔اس میں واقعہ اور کردار کے علاوہ آغاز وانجام سبھی کچھ موجود ہے اور زبان واسلوب بالکل سادہ اور شفاف ہے۔ ثقیل اور مبہم الفاظ کے استعمال سے حتی الامکان گریز کیا گیا ہے۔ علامت واستعارے کا استعمال تو ہوا ہے مگر بہت مشکل نہیں کیونکہ لفظوں کے انتخاب میں کسی طرح کا کوئی ایسا حربہ اختیار نہیں کیا گیا ہے جس سے زبان مفرس اور معرب ہونے کے ساتھ ساتھ مصنوعی لگے۔ان کے اسلوب میں ایک طرف روانی اور شگفتگی ہے تو دوسری طرف آئرنی یا تیکھا پن بھی ہے۔ کاٹ دار جملے قاری کے دل پر کسی دھار دار چھری جیسا وار کرتے ہیں اس طرز اسلوب کی چند جھلکیا ں ملاحظہ ہوں :
’’یہ اتفاقات بھی عجیب چیز ہیں ،یہ اتفاق کہ ایک یہودی فوٹو گرافر کیمرہ لئے حادثہ کا منتظر تھا ،یہ اتفاق کہ اسی دن مسلمانوں کے خوشیاں منانے کا ویڈیو ٹیپ مل گیا اور اسے تباہی کے مناظر سے جوڑ کر ڈائرکٹ ریلے کیا جانے لگا اور اتفاق سے اس دن چار ہزار یہودیوں کو ایک ساتھ ضروری کا م پڑگیا اور انہوں نے اجتماعی چھٹی لے لی ۔خدا جس قوم سے خوش ہوتا ہے اسے اتفاق کی دولت سے مالا مال کردیتا ہے ۔۔۔‘‘ ۲۸؎
’’اب مسلمانوں کا پینٹ اترے گا ۔پھر ہنسی کی آوازیں ‘‘ ۲۹؎
’’اب عوام سے ان کا ذہن چھین لیا گیا ہے ،وہ وہی سمجھ رہے ہیں جو انہیں سمجھا یا جارہا ہے وہی بول رہے ہیں جو ان سے بلوایا جارہا ہے ‘‘ ۳۰؎
’’شاید وہ دن بھی آئے گا جب بکنے کیلئے کچھ بھی نہ بچے تو عہد ے گروی رکھے جائیں گے ‘‘ ۳۱؎
’’فساد کے زمانے میں شہر فوج کے حوالے کردیا جاتا ہے ،زمانہ امن میں یہ شہر غنڈوں کے حوالے ہے ‘ ‘۳۲؎
اس طرح سے حقیقت پر مبنی بیانات کو جس آئرنی کے اسلوب میں پیش کیا گیا ہے وہ اپنی مثال آپ ہے۔یہی وہ اسلوب ہے جو شفق کو اپنے معاصر تخلیق کا روں میں انفرادیت بخشتا ہے ۔مابعد جدید فکشن میں وہ ساری فنی وفکری خو بیان جو جدیدیت کی بے راہ روی اور لایعنیت میں کھو گئی تھیں، عود کر آگئیں کیونکہ شفق کے ناول ’’کانچ کا بازی گر ‘‘اور اس سے قبل کی تحریروں سے جدید طرز اسلوب اور ’’بادل‘‘کے بعد کی تحریروں سے ما بعد جدید طرز اسلوب کا بخوبی اندازہ کیا جاسکتا ہے ۔کیونکہ دونوں تحریروں میں زمین وآسمان کا فرق ہے ۔جدید یت والی تحریروں میں لا یعنیت ،تنہائی ،خون ، لاش ،اذیت وکربناکی وغیرہ کا بیان مبہم ،پیچیدہ ،اور علامتی اسلوب میں ہوا ہے جس کا سمجھنا ہر کس وناکس کے بس کی بات نہیں۔مگرمابعد جدیدوالی تحریروں کی خوبی یہ ہے کہ ادنیٰ سے ادنیٰ قاری بھی اس کی تفہیم کرسکتا ہے ۔کیونکہ اسلوب میں وہ بانکپن اور روانی ہے جو قاری کو سحر زدہ کردیتی ہے ۔ایسے دل نشیں اسلوب کے چند جملے ملاحظہ ہوں:
’’اسامہ کے بہانے اگر دنیا پر تسلط ہوجائے تو آم کے ساتھ گٹھلی کے دام بھی مل جائیں گے ۔۔‘‘ ۳۳؎
’’صاف آسمان میں تارے ہنس رہے تھے ۔چاروں طرف نور کی چادر بچھی ہوئی تھی۔امرود کی پتیاں چاندنی میں چمک رہی تھیں ۔بدن انجانی لذت سے کانپ رہا تھا۔ستارے اتنے قریب آگئے تھے کہ ہاتھ بڑھاتے ہی مٹھی میں آجاتے۔‘‘ ۳۴؎
’’خوبصورتی نہ شام میں ہے نہ رات میں ۔خوبصورتی ہماری آنکھوں اور دل میں ہے۔خالد نے کمرے کا تالا بند کرتے ہوئے جواب دیا ۔تم اس چھت پر کھڑے ہوکر رات کا منظر دیکھو ۔سیاہ دوپٹے میں ٹنکے سلمیٰ ،ستارے ،زمین سے اٹھتا ہوا روشنی کا غبار ،دلہن کی مانگ میں بھری افشاں کی طرح کہکشاں ،سسکیاں بھرتی ہوئی ہوائیں اور چاند کی جدائی میں روتی ہوئی شبنم ‘‘ ۳۵؎
’’تمہاری آنکھوں کی کشمکش مجھے بے بس کردیتی ہے خالد ،میں چاہ کر بھی ان آنکھو ں کاحکم نہیں ٹال سکتی ۔وہ جیسے پگھلی جارہی تھی ،تم نے ان آنکھوں کو سحر کیسے سکھایا ‘‘ ۳۶؎
’’آنکھو ں کی زبان دنیا کی سب سے سچی زبان ہے او ر خد ا نے عورت کو اس زبان کو سمجھنے اور سننے کی صلاحیت ودیعت کی ہے ۔‘‘ ۳۷؎
’’چاہت ناپنے کا کوئی پیمانہ نہیں وہ آسمان سے زیادہ وسیع اور سمندر سے زیادہ گہری ہوتی ہے ۔‘‘ ۳۸؎
اس طرح سے مذکورہ بالا اقتباسات ایک گہری معنویت اور حقیقت کے غماز وعکاس ہیں جو اپنا بھر پور تاثر قاری کے ذہن پر نقش کر جاتے ہیں ۔یہ اسی دلنشیں اور مسحور کن اسلوب کا نتیجہ ہے کہ قاری کہیں پراکتاہٹ محسوس نہیں کرتا اور شگفتہ اسلوب کے بہائو میں خود بہتا چلا جاتا ہے۔اس ناول کا موضوع ایسا تھا کہ یہ خبروں کا پلندہ بن سکتا تھامگر ناول نگار نے پختہ شعور اور فنکاری سے کام لے کر اسے ناول ہی بنائے رکھا اور بے تکلف اسلوب کے سہارے محبت اور جنگ کی کہانی پیش کرنے میں کامیابی بھی حاصل کرلی ہے۔ اسے وار اینڈ پیس تو نہیں لیکن وار اینڈ لَو کی کہا نی سے موسوم کیا جا سکتا ہے۔
اس ناول میں جہاں بہت ساری خوبیاں ہیں وہیں چند خامیاں بھی درآئی ہیں مثلاً ناول نگار نے غیر اردو داں کرداروں میں راجیش،سری واستو ،مشرا جی وغیرہ سے بعض مقامات پر خالص اردو کے مکالمے ادا کروائے ہیں مثلا :
’’ملا عمر کی شامت آئی ہے جو امریکہ سے جرم کا ثبو ت مانگ رہا ہے امریکہ بھلا اس کو ثبو ت دیگا،،
’’مشرا جی یہ زیادتی ہے، بغیر ثبوت کے کوئی بھی حوالے نہ کرتا ۔ناٹو والے بھی تو ثبوت کے لئے بے غیر ساتھ دینے پر آمادہ نہیں،،
’’طاقتور کے منھ سے نکلی ہوئی بات ثبوت ہوتی ہے سریواستو جی،بش نے کہہ دیا ،یہی سب سے بڑا ثبوت ہے ،آپ دیکھ لیجئے گا ساری دنیا اسے مان لے گی۔‘‘ ۳۹؎
’’بہانہ ،کیسا بہانہ ،آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ اسامہ نے ٹریڈ ٹاور پر حملہ نہیں کیا ،امریکہ نے اپنی عمارتوں پر خود حملہ کراکے یہاں آنے کی راہ نکالی ہے‘‘ ۴۰؎
جبکہ یہی کردار ناول کے صفحہ ۵۲ سے ۵۴ تک پر خالص ہندی بولتے نظر آتے ہیں۔ ناول نگار کو چاہئے تھا کہ زبان کو کرداروں کے مطابق استعمال کر تے یعنی کردار کی فطری زبان ہوتی۔مگر یہاں ایسا نہیں ہے ۔یہ کوئی بڑا عیب نہیں ہے لیکن بہرحال اس سے قصہ کا فطری پن متاثر ہوا ہے جسے ایک فنی کمزوری کہا جاسکتا ہے ۔بہر کیف ان چھوٹی چھوٹی خامیوں کے باوجود یہ ناول ذوق وشوق سے پڑھا جائے گا کیونکہ ناول نگار نے اس کے ذریعہ اپنے عہد کے سلگتے ہوئے مسائل کو پیش کرکے ایک اہم دستاویز ی ثبوت مہیا کردیا ہے ۔یہ ناول اکیسویں صدی کے اس عظیم سانحہ پر نہ صرف تاریخی دستاویز کی حیثیت رکھتا ہے بلکہ یہ موجودہ صدی کے سانحہ پر اردو فکشن میں پہلی تخلیق بھی ہے ۔
’کابوس‘عربی زبان کا لفظ ہے اور مذکر کے طور پر استعما ل ہو تا ہے یہ ایک قسم کی بیماری کا نام ہے جسے انگریزی میں NightmareیاIncubsکہا جاتا ہے یہ ایک ایسی بیماری ہے جس میں آدمی خواب میں خوف ودہشت محسوس کرتے ہوئے زور سے چیختا ہے ۔
’کابوس ‘شفق کا تیسرا اور آخری ناول ہے جو ۲۰۰۳ ء میں ایجوکیشنل پبلشنگ ہائوس ،نئی دہلی سے شائع ہوا۔ اس سے قبل ان کے دوناول ’’کانچ کا بازی گر ‘‘اور ’’بادل ‘‘شائع ہو چکے تھے ، جن کا تحقیقی وتنقیدی جائزہ ماقبل صفحات میں پیش کیا جاچکا ہے ۔یہ ناول اپنے ماقبل ناول ’بادل ‘کی توسیع ہے۔ کیونکہ اس ناول کے سارے کردار وہی ہیں جو بادل کے تھے،فرق صرف یہ ہے کہ’بادل‘ میں عالمی سیاست کا منظر نامہ ہے تو’ کابوس‘ میں ہندوستانی سیاست کا۔بقیہ سارے حالات وہی ہیں، سارا منظر وپس منظر وہی ہے، سارے کردار وہی ہیں جو بادل میں تھے ۔چونکہ بادل کا قصہ اور کردار اپنے منطقی انجام تک نہیں پہنچا، تھا اس لئے شفق نے اسے پایئہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے الگ سے ’’کابوس ‘‘کی شکل میں ایک نیا ناول پیش کیا۔ اگر وہ چاہتے تو دونوں ناولوں کو ایک ساتھ ملاکر کسی ایک نام سے شائع کرسکتے تھے ۔لیکن انہوں نے سلگتے ہوئے الگ الگ مو ضوع کے تحت وقفے وقفے سے ناول کی شکل میں پیش کیا۔
مذکورہ دونوں ناولوں کا موضوع ایک ہی ہے۔ بادل میں جن حادثات وواقعات کا احاطہ کیا گیا ہے اُن کا براہ راست تعلق مسلمان عالم کے خلاف ہورہی چو طرفہ سازشوں اور عالمی سطح پر یہودیوں اور فرقہ پرست ہندوؤں کے مابین ہونے والے خفیہ معاہدے سے ہے ۔جبکہ ’کابوس‘میں آزادی سے پہلے اور آزادی کے بعد معرض وجود میں آنے والے فرقہ وارانہ فسادات ،بابری مسجد کی شہادت ،11/9کا سانحہ،امریکہ کی افغانستان پر چڑھائی اور دہشت گردی کے نام پر ہندوستان کے مسلم نوجوانوں کی گرفتاری ،ہندوستانی پارلیمنٹ پر ہونے والے دہشت گرد انہ حملہ ،تابوت گھوٹالہ ،بوفورس رشوت کانڈ،گودھرا سانحہ ،اور پھر اس کے بعد پورے گجرات میں منظم طریقے سے ہونے والا مسلمانوں کا قتل عام ،اور بی جے پی کی مسلم دشمنی کو شفق نے ناول کے مرکز ی کردار خالد ،سلمیٰ اور نعیم کے علاوہ ضمنی کرداروں میں شری واستو،مشراجی،اور سنہا کے ذریعہ بڑی خوبصورتی کے ساتھ پیش کیا ہے ۔ان سب سے قبل ناول نگار نے اس ناول کی ابتدا قرآن کریم کے سورۃ اعراف کی ایک آیت کے ترجمے سے کی ہے کہ ’’قصے کہتے رہو تاکہ لوگ کچھ تو غورو فکر کریں ‘‘اس سے ناول نگار کی مذہب سے ذہنی، فکری اور جذباتی وابستگی کا اندازہ ہوتا ہے ۔
اردو فکشن میں قرآنی آیات سے آغاز کی بنیاد سب سے پہلے انتظار حسین نے ڈالی اوراپنے ناولوں اور افسانوں کی ابتدا قرآنی آیات سے کی ۔اس روایت کی جہاں اور ادیبوں نے پاسداری کی وہیں جدید فکشن نگار شفق نے بھی اپنے پیش رو تخلیق کار انتظار حسین کا تتبع کرتے ہوئے اپنے آخری ناول ’’کابوس ‘‘کی ابتدا قرآنی آیات کے ترجمے سے کی ۔اس طرح قرآنی احکام پر عمل کرتے ہوئے شفق نے ۱۱؍۹ کے سانحہ کو ’بادل‘میں اور گودھرا سانحہ اور اسکے بعد گجرات منظر نامے کو ’کابوس‘ میں رومانی وجذباتی عشقیہ قصے کے ساتھ پیش کرکے اپنے قاری کو غورودفکر کرنے پر مجبور کردیا ۔بہر کیف شفق اپنے جدید اور مابعد جدید دونوں ناولوں کی بنیاد پر ہمیشہ یا د کئے جائیں گے۔
حوالہ جات
(۱)بادل،شفق،کرائون آفسٹ پریس ،سبزی باغ،پٹنہ،۲۰۰۲ء ص:۱۵
(۲)ایضاً، ص:۲۴
(۳)ایضاً، ص:۲۴
(۴)ایضاً،ص:۳۱
(۵)ایضاً، ص:۳۵
(۶)ایضاً، ص:۷۱
(۷)ایضاً، ص:۸۱
(۸)ایضاً، ص:۱۰۱
(۹)ایضاً، ص:۱۱۴
(۱۰)ایضاً،ص:۱۳۶
(۱۱)ایضاً،ص:۱۷
(۱۲)ایضاً، ص:۱۵
(۱۳)ایضاً،ص:۵
(۱۴)ایضاً،ص:۴۶
(۱۵)ایضاً،ص:۴۶
(۱۶)ایضاً،ص:۹
(۱۷)ایضاً، ص:۵۵
(۱۸)ایضاً،ص:۱۳۶
(۱۹)مباحثہ ،پٹنہ،دسمبر ۲۰۰۲ ء تا ،جنوری ۲۰۰۳ء ج:۳۔۲ ش:۹ ،شفق کا نیا ناول:بادل ص:۵۹
(۲۰)بادل،شفق،کرائون آفسٹ پریس ،سبزی باغ،پٹنہ،۲۰۰۲ء ص:۱۱
(۲۱)ایضاً، ص:۵۶
(۲۲)بادل،شفق،کرائون آفسٹ پریس ،سبزی باغ،پٹنہ،۲۰۰۲ء ص:۶۷
(۲۳)ایضاً، ص:۱۱۸
(۲۴)ایضاً،ص:۱۱۹
(۲۵)ایضاً،ص:۵۶
(۲۶)مباحثہ ،پٹنہ،دسمبر ۲۰۰۲ ء تا ،جنوری ۲۰۰۳ء ج:۳۔۲ ش:۹ ،بادل ایک تجزیاتی مطالعہ، ص:۶۶
(۲۷)بادل،شفق،کرائون آفسٹ پریس ،سبزی باغ،پٹنہ،۲۰۰۲ء ص:۵۳۔۵۲
(۲۸)ایضاً،ص:۴۴۔۴۳
(۲۹)ایضاً،ص:۵۴
(۳۰)ایضاً، ص:۵۵
(۳۱)ایضاً، ص:۸۳
(۳۲)ایضاً،ص:۱۱۹
(۳۳)ایضاً،ص:۱۱۷
(۳۴)ایضاً، ص:۱۴
(۳۵)ایضاً، ص:۸۷
(۳۶)ایضاً، ص:۱۰۱
(۳۷)ایضاً، ص:۴۹
(۳۸)ایضاً، ص:۲۷
(۳۹)ایضاً،ص:۷۵
(۴۰)ایضاً،ص :۷۶
ڈاکٹر امتیاز احمد علیمی
موبائل نمبر: 8750961043
نوٹ: مضمون نگار این سی ای آر ٹی سے وابستہ ہیں۔
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

