اردو رباعی کا نصف النہار جوش ملیح آبادی – امیر حمزہ

by adbimiras
0 comment

اردو رباعی گوشعرا کے اگر چار نام گنائے جائیں تو ان میں انیس ، دبیر، جوش وفراق کانام سر فہرست ہوگا ۔اردو رباعی گویوں میں جو ش نمایاں صرف اس وجہ سے نہیں ہیں کہ انہوں نے باعتبار کمیت زیادہ رباعیاں کہیں ہیں بلکہ بلحاظ کیفیت بھی ان کی رباعیوں کی تعداد کسی دوسر ے رباعی گو کی اچھی رباعیوں سے زیاد ہ ہے ۔جو ش غزل کے بجائے نظم کے شاعر تھے اور رباعی بھی مختصر نظم کے مماثل ہوتی ہے اس لیے انہوں نے اس کی طر ف ایک خاص توجہ دی بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ رباعی گوئی انہوں نے دوسرے شاعر وں کی طرح تکلفاً نہیں اپنائی تھی بلکہ جس طر ح شاعری ان کی سر شت میں داخل تھی اسی طر ح رباعی کہنا ان کی فطرت کا ایک جز بن گیا تھا جس کو وہ بہت ہی خوبصورتی کے ساتھ بر تتے چلے گئے ۔ نظم اور رباعی کو وہ ایک ساتھ لیکر چلتے رہے سوائے اولین مجموعے کلام روح ادب کے۔ اس کے علاوہ ان کے ہر مجموعہ کلام میں رباعیات موجو د ہیں اور دو  مستقل مجموعہ ہائے رباعیات ہیں ، جنوں حکمت اور قطرہ و قلز م ۔ ہر چند رباعی گوئی کی حیثیت سے جو ش کو وہ مقام نہیں عطا کیا گیا جو مقام ان کے رفیق فراق کو ملتا رہا ۔لیکن ایک رباعی کے طالب علم ہونے کی حیثیت سے میری ذاتی رائے ہے کہ وہ جتنے بلند پایہ نظم کے شاعر ہیں وہی مقام ان کی رباعیوں کا بھی ہے۔ ( یہ بھی پڑھیں اردو شاعری کی کلاسیکی شعریات – پروفیسر ابو الکلام قاسمی)

جو ش  کی شاعر ی کو عموما ًتین حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے ، شباب ، انقلاب اور فطر ت لیکن جب ہم ان کی رباعیوں کی جانب توجہ کر تے ہیں تو اردو کے خیام کا علَم(صرف خمری رباعیوں کی وجہ سے ) ان کے ہاتھ میں نظر آتا ہے اور وہ شاعر خمریات کے طور پر بھی نظر آتے ہیں ۔جو ش کبھی ایک نظر یے پر قائم نہیں رہے ، حسن و عشق کے نغمے گائے ، انقلاب کے پرچم لہر ائے ، امن انصاف اور مساوات کے سفیر بنے ، فطر ت کی حسین تصویر کشی کی اور جام شراب بھی چھلکائے ۔ان کے نظر یات میں بہت ہی تضاد بھی نظر آتا ہے وہ خدا کا مذاق اڑاتا ہے اور اس کے رسو ل کی تعریف بھی کر تا ہے ،درود بھیجتا ہے اور نواسئہ رسول پر مرثیہ بھی کہتا ہے ۔کبھی غر یبوں کی حمایت کر تا ہے تو کبھی اس کا مذاق اڑاتا ہے اور نفرت بھی کر تا ہے ۔کبھی جاگیر دارانہ نظام ان کے سر پر چڑ ھ کر بولتا ہے تو کبھی اشتر اکیت کے نشے میں مزد روں کے قدم سے قدم ملا لیتا ہے ۔جو ش کو اس تضاد کا علم بخوبی تھا اور اس کا اظہار بھی کر تا ہے۔

جھکتا ہوں کبھی ریگ رواں کی جانب

اڑتا ہوں کبھی کاہکشاں کی جانب

مجھ میں دو دل ہیں ایک مائل بہ زمیں

اور ایک کارخ ہے آسمان کی جانب

جو ش کی فکری تضادات اگرچہ بہت ہیں لیکن ان تضادات میں جو خوبی نظرآتی ہے وہ یہ ہے کہ انہوں نے زندگی کے تمام موضوعات و مسائل کو اپنی رباعیوں میں سمیٹ دیا اور یہ ہمہ گیر ی جو ش کو دوسرو ں سے متمائز کرتی ہے ۔وہ نہ تصوف کے حجرہ کے مکین ہیں اور نہ اصلاح واخلاق کے مبلغ بلکہ وہ تو اِس گلستان کے اُس مالی کی طر ح ہے جو ہر پھول کی خوبیوں اور خامیوں کو گنواتا ہے ۔ان کی رباعیوں میں ہر قسم کے مضامین پائے جاتے ہیں،کہیں خیام کے خمریات کا نشہ ہے تو کہیں عشق کی کیفیات ، کبھی فلسفئہ علم و عقل میں اقبال سے مقابلہ آرائی کر تے ہیں تو کہیں فلسفئہ خودی کا رد عمل پیش کر تے ہیں ۔کہیں عاشق نامر ادکی طر ح غم کی پرچھائیاں نظر آتی ہیں تو کہیں کامیاب عاشق کی خوشی میں محبوبہ کا عکس کھینچتے ہیں ۔ان کی رباعیاں مذہب پر تیکھا طنزبرساتی ہیں اور مذہب کے پاسداروں کی ہجو بھی کرتی ہے۔

جوش اگر چہ باضابطہ ایک فلسفی شاعر نہیں ہے تاہم ہر ایک فلسفہ کو انہوں نے اپنی شاعر ی میں اپنا یا ، جو ش کی رباعیاں ہر ایک کو سوچنے پر مجبور کر دیتی ہیں۔ بھلے ہی وہ فلسفی نہیں تھا لیکن بحیثیت شاعر ایک کامیاب شاعر اور بطور رباعی توکامیاب تر شاعر تھا۔ رباعی ان کی زند گی کا ایک درخشاں تر ین پہلوہے ۔بہت سی ایسی رباعیاں ہیں جس کو صرف جوش ہی کہہ سکتے تھے اور کوئی نہیں۔

تلوار کو خم کر دوں تو مر ہم ٹپکے

پتھر کو فشار دوں تو زمزم ٹپکے

قدرت نے وہ بخشی ہے کرامت مجھ کو

شعلے کو نچوڑ دو ں تو شبنم ٹپکے

جب جو ش ایسی رباعیاں کہہ سکتے ہیں تو ہم ان کے دوسرے مضامین کو نظر انداز نہیں کر سکتے ۔خصوصا خمر یا ت کے موضوع پر کہی گئی رباعیوں کو ۔انہوں نے اگر چہ اس میں جگہ جگہ پر خیام کی نقل کرنے کی کوشش کی ہے لیکن انہی خیالات کو اردو میں اتنی فنی چابکدستی سے پیش کیا ہے کہ یہ انہیں کا حصہ ہوسکتا ہے ۔

باغوں میں وہ چھاگئی جوانی ساقی

سنکی وہ ہوائے زندگانی ساقی

ہاں جلد انڈیل جلتی ہوئی آگ

آیا وہ برستا ہوا پانی ساقی

حسن وعشق میں ہم جوش کی نظر کو کبھی نظر انداز نہیں کر سکتے۔ وہ عشق کے معاملے میں عشق حقیقی نہیں بلکہ عشق مجازی کے شاعر ہیں ان کا معشوق اسی گوشت پوست کا مخلوق ہے وہ خواہ مخواہ تصوف میں اپنے عاشق حقیقی کو ملحوظ رکھ کر رباعیاں نہیں کہتے ہیں بلکہ اسی گوشت و پوست کے ہیولی سے عشق کر تے ہیں جو ان کے دل میں قیامت بر پا کیے ہوئے ہے ۔جوش اور فراق کے عشق میں بہت ہی عظیم فرق ہے ۔جوش احساس و فضا کے حسن کو محبوب کے سراپا یا محبوب کے کسی جز کے حسن سے تعریف کر تے ہیں جبکہ فراق محبوب کی جمالیات کی تشبیہ احساس وفضا کے حسن میں تلاش کر تے ہیں ۔

کاکل کھل کر بکھررہی ہے گویا

نرمی سے ندی گزررہی ہے گویا

آنکھیں تری جھک رہی ہیں مجھ سے مل کر

دیوار سے دھوپ اتر رہی ہے گویا

ان کی رباعیوں کی منظر نگاری کو  اگر ادبی مصوری کہا جائے تو بیجا نہ ہو گا ۔انہوں نے منظر نگاری کے نمونے خصوصانظم میں جو پیش کیے ہیں اسی سے وہ شاعر فطر ت کہلائے ۔دیگر شاعر وں کے یہاں بھی منظر نگاری ہے مگر رباعی میں اس طر ح کی منظر نگاری  بہت ہی کم دیکھنے کو ملتی ہے۔ اصل میں ان کو مناظر فطر ت کے ساتھ جو لگاؤتھا اس کا باضابطہ اظہار رباعیوں میں بطور خاص ہوا ہے ۔انہوں نے تشبیہوں ، استعاروں کے ذریعہ بہتر ین منظر نگاری کی ہے ۔جوش کو منظر نگاری میں غیر معمولی قدرت حاصل تھی نئی تشبیہات ،لطیف استعارے ،جدید اور پراثر تر کیبیں ، لفظ کی مزاج شناسی اور حروف اصوات سے بنائے ہوئے نقوش جوش کی تصویروں کو گویا متحرک بنا دیتے ہیں اور مناظر و مظاہر مجسم ہو کر سامنے کھڑے ہوجاتے ہیں ۔

سمجھاؤں کن الفاظ میں تم کو ہم راز

اللہ رے سحر کے وقت کا سوز و گداز

اس طر ح چٹکتی ہیں چمن میں کلیاں

اطفال کی ہچکیوں کی جیسے آواز

جوش اپنی رباعیوں میں فلسفہ ٔحرکت وعمل کی بنیاد ان عناصر پر رکھتے ہیں جن سے ان عناصر کا ادراک و اظہار ہو۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی رباعیوں میں گھن گر ج اور بلند آہنگی پیدا ہوگئی ہے ۔اس حر کت وعمل میں وہ اقبال سے ہٹ کر نیطشے کے قریب آگئے ہیں جہاں سے سپر مین (فوق البشر)کا تصور ظاہر ہوتا ہے ۔ان کے یہاں ذات میں فوق البشر کاپیدا ہونا ماحول اور حالات کے سامنے سرتسلیم خم کر نا نہیں ہے بلکہ اس سے جنگ کرنا اور اپنی مر ضی کے سانچے میں ڈھالنا ہے ۔ اس لیے صرف وہی باقی رہ جاتا ہے جن کے پاس قوت ہوتی ہے اورباقی رہنے کے لیے جدو جہد کر تا ہے ۔اس طر ح ہم سوچ سکتے ہیں کہ نیطشے کے یہاں اصل خواہش زیست نہیں ہے بلکہ اصل خواہش اقتدار ہے اور جوش بھی زندگی کا اصل مقصد جدوجہد اور حصول اقتدار کوہی گر دانتا ہے ۔اور مثبت انداز میں ایسی رباعی تخلیق کر تاہے ۔

قانون نہیں کوئی فطر ت کے سوا

دنیا نہیں کچھ نمود طاقت کے سوا

قوت حاصل کر اور مولا بن جا

معبود نہیں ہے کوئی قوت کے سوا

اسلوب میں ان کی نظموں کی طر ح ان کی رباعیوں میں بھی گھن گر ج اور بلند آہنگی موجود ہے ، جو ش کا لب ولہجہ انقلابی اور انداز فکر باغیانہ ہے لیکن انیس و دبیر کے بعد حسن بیان اور لطف زبان کے علاوہ ٹکسالی اور مستند زبان سے اگر کسی رباعی نگار نے اپنی رباعیوں کو آراستہ وپیر استہ کیا ہے تو وہ جو ش ہی ہیں ۔نئے نئے الفا ظ اور محاوراتی زبان کو جس خوبصورتی سے جوش نے اپنی رباعیوں میں برتا ہے یہ ان کا فقید المثال کارنامہ ہے ۔

دل رسم کے سانچے میں نہ ڈھالا ہم نے

اسلو ب سخن نیا نکالا ہم نے

ذرات کو چھوڑ کر حر یفوں کے لیے

خورشید پہ بڑ ھ کے ہاتھ ڈالا ہم نے

جو ش نے تیکنیکی سطح پر رباعی کے امکانات کے تمام زاویوں پر غور کیا اوراسکو اپنی رباعی میں بر تا ہے ۔ اپنی رباعیوں میں ڈرامائی عنصر کو شامل کیا اور اس سے اپنے اسلوب اور طر ز بیان کو زیادہ مؤثر بنایا ہے ۔جو ش کی رباعیوں میں یہ خصوصیت پائی جاتی ہے کہ وہ چھوٹے چھوٹے فقر و ں سے مکالمے تیار کر لیتے ہیں اور ان کو مصر عوں کی شکل میں بڑ ی چابکدستی سے ڈھالتے ہیں اس تکنیک کے ذریعہ جوش کے یہاں ایک چھوٹی سی رباعی ایک کامیاب ڈراما بن جاتی ہے اور بغیر نام کے کردار ابھر تے ہیں جو اپنامکالمہ بول کر چلے جاتے ہیں ۔اس قسم کی رباعیاں فنی خوبیوں کے ساتھ ساتھ اپنا کیفیت اور اثر سامع کے دل میں چھوڑ جاتی ہیں ۔

بندے ! کیا چاہتا ہے ؟ دام ودینار

یا دولتِ پایندۂ زلف و رخسار

معبود نہیں نہیں کوئی چیز نہیں

إلا آگاہی رموز و اسرار

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

bws

You may also like

Leave a Comment