فیض احمد فیض بیسویں صدی کے ان شاعروں میں سے ہیں جنہیں اپنی زندگی میں ہی خوب شہرت اور مقبولیت حاصل ہوئی۔ یہ کہنا ہرگز غلط نہیں ہوگا کہ غالب اور اقبال کے بعد اردو شاعری کی دنیا میںجن شعرا نے بہت زیادہ مقبولیت حاصل کی ان میں فیض کا نام سر فہرست ہے۔
فیض کی پیدائش 13 فروری 1911 کو سیالکوٹ کے نزدیک ایک گاؤں میں ہوئی۔ فیض ایک تعلیم یافتہ گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔ آپ کے والد محمد سلطان خان ایک علم پسند شخص تھے اور پیشے سے بیرسٹر تھے۔ ساتھ ہی ساتھ وہ ایک مصنف بھی تھے اور انہوں نے افغانستان کے امیر عبدالرحمن کی سوانح عمری بھی لکھی تھی۔ فیض کا گھرانہ پڑھا لکھا تھا اور وہاں شعرو ادبا اکھٹے ہوا کرتے تھے۔ اس زمانے کے رواج کے مطابق فیض کو ابتدائی تعلیم کے لیے مسجد میں بھیجا گیا جہاں انہوں نے مولوی ابراہیم سے عربی، فارسی، اردو اور دینی تعلیم حاصل کی۔ فیض نے دو پا رہ قرآن بھی حفظ کیا تھا۔ مگر ان کے والد چاہتے تھے کہ فیض سر سید احمد خان کے نقش قدم پر چلیں ۔اسی لئے انہوں نے فیض کا نام اسکاچ مشن اسکول میں لکھا دیا جہاں سے فیض نے انگریزی تعلیم حاصل کی اور یہی سے میٹرک کا امتحان پاس کیا۔
بچپن میں فیض احمد فیض کے گھر کے پاس ایک حویلی بھی تھی جہاں باقاعدہ مشاعرے منعقد کیے جاتے تھے۔یہیں سے فیض کے اندر شاعری کا شوق پیدا ہوا۔ اسی شوق کے نتیجے میں فیض نے دسویں جماعت میں پہلی بار شاعری کی۔ میٹرک کا امتحان پاس کرنے کے بعد فیض نے مرے کالج میں داخلہ لیا جہاں آپ کو سید میر حسن جیسے استاد ملے جو کہ علامہ اقبال کے بھی استاد رہ چکے تھے۔ سید میر حسن قرآن و حدیث اور عربی زبان کے بڑے عالم تھے اور انہیں شمس العلماء کا بھی خطاب مل چکا تھا۔ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لیے فیض لاہور چلے آئے اور یہاں گورنمنٹ کالج لاہور میں بی اے عربی انرس میں داخلہ لیا۔ اس کے بعد انہوں نے عربی میں اورینٹل کالج لاہور سے ایم اے کیا اور انگریزی میں گورنمنٹ کالج لاہور سے ماسٹر کی ڈگری حاصل کی۔ اس کے بعد انہوں نے امرتسر کے ایک کالج میں دو سال ملازمت کی پھر ہیلی کالج آف کامرس میں انگریزی کی لیکچرار بن گئے۔
لوگ فیض کو صرف ایک شاعر کی حیثیت سے جانتے ہیں مگر وہ ایک فوجی اہلکار بھی تھے۔ انہوں نے سال 1942 میں فوج میں بھی ملازمت کی 1943 میں میجر کے عہدے پر فائز ہوئے اور 1945 میں لیفٹیننٹ کرنل بھی بنے۔ لیکن فیض ایک درد مند دل رکھتے تھے اور 1947 میں پہلی کشمیری جنگ میں جو خون خرابہ ہوا وہ ان سے نہ دیکھا گیا اور انہوں نے فوچ سے استعفی دے دیا ۔
1941 میں فیض نے برطانوی شہری ایلس جارج سے شادی کی تھی جس پر ان کے گھر والوں کو اعتراض بھی تھا۔ سال 1947 میں تقسیم سے چھ ماہ پہلے فیض کو پاکستان ٹائمز اخبار کا مدبر مقرر کیا گیا۔
فیض کی شاعری مختلف حوالوں سے انفرادیت رکھتی ہے۔ آپ کا تعلق ترقی پسند تحریک سے تھا۔ ترقی پسندی کو مختصر لفظوں میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ ظلم، جبر اور سماجی ناانصافی کے خلاف آواز اٹھانا ترقی پسند تحریک کے خاص مقاصد تھے۔ نچلے طبقات جیسے مزدوروں اور کسانوں کی ترجمانی کرنا، انقلاب کی بات کرنا ،یہ سب ترقی پسندی ہے۔ فیض بیک وقت ایک ترقی پسند انقلابی شاعر بھی تھے اور ایک رومانوی شاعر بھی تھے۔آپ کی شاعری میں رومانویت اور حقیقت پسندی ساتھ ساتھ چلتی ہے۔ فیض کی شاعری میں رومان اور انقلاب دونوں کا سنگم بھی پایا جاتا ہے۔ فیض کی شاعری کا کمال یہ ہے کہ انہوں نے دونوں طرح کی شاعری کے ساتھ مکمل انصاف کیا ہے۔ آپ کی انقلابی شاعری یا سماجی حقیقت نگاری پر مبنی شاعری میں وہ تمام فنی لوازمات موجود ہیں جو اس قسم کی شاعری لیے ضروری ہیں۔ اسی طرح آپ کی رومانوی شاعری بھی ان سبھی فنی خصوصیات سے مالامال ہیں جو رومانی شاعری کے لیے ضروری ہیں۔ فیض کے اس رومانوی اور انقلابی شاعری کے امتزاج کو سمجھنے کے لیے ہم ان کے یہ اشعار دیکھ سکتے ہیں۔
تنہائی میں کیا کیا نہ تمہیں یاد کیاہے
کیا کیا نہ دل زار نے ڈھونڈی ہیں پناہیں
آنکھوں سے لگایا ہے کبھی دست صبا کو
ڈالی ہیں کبھی گردن مہتاب میں باہیں
ان اشعار میں جو رومانویت ہے اسے ہم واضح طور پر محسوس کر سکتے ہیں۔ لیکن ایسی رومانی شاعری کرنے والاشاعر جب سامراجی حقیقت کی طرف توجہ دیتا ہے اور اپنے عوام کے حالت کو دیکھتا ہے تب اسے کچھ اس طرح بیان کرتا ہے ؎
جابجا بکتے ہوئے کوچہ و بازار میں جسم
خاک میں لتھڑے ہوئے خون میں نہلائے ہوئے
جسم نکلتے ہوئے امراض کے تنوروں سے
پیپ بہتی ہوئی گلے ہوئے ناسوروں سے
فیض ایک دردمند شاعر تھے اور اہل وطن کی غربت اور افلاس کو شدت سے محسوس کرتے تھے۔ آپ ظلم اور جبر کی ہر صورت کے مخالف تھے اور اپنے اصولوں پر پوری طرح قائم رہتے تھے۔ ظلم اور جبر برداشت کرنے والوں کو اس کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کی دعوت بھی دیتے تھے۔ فیض کی انقلابی شاعری میں حرکت ہے توانائی ہے اور زبردست اثر ہے۔ آپ جبر اور ظلم کی ہر صورت کو کچھ اس طرح بیان کرتے ہیں ؎
بنے ہیں اہل ہوس مدعی بھی منصف
بھی کسے وکیل کریں کس سے منصفی چاہیں
فیض نے وطن کو ایک محبوبہ کے روپ میں پیش کیا ہے۔ جب وہ وطن اور اہل وطن سے محبت کا اظہار کرتے ہیں تو انقلاب اور رومانویت کا ایک دلکش امتزاج سامنے آتا ہے۔ ایک طرف وہ وطن اور اہل وطن کی بے بسی اور مظلومیت پر احتجاج کرتے ہیں تو دوسری طرف وطن اور اہل وطن سے اظہار رومانوی الفاظ کے ذریعے کرتے ہیں۔ فیض کے انقلابی فکر کی وجہ سے انہیں سلاخوں کے پیچھے بھی جانا پڑا لیکن انہوں نے اپنے لبوں پر کبھی تالے نہیں لگنے دیے اور ہمیشہ اپنے وطن کے لئے اور اہل وطن پر ہو رہے ظلم کے خلاف لکھتے رہے۔ فیض کی انقلابی شاعری میں بھی شعریت ہے کیونکہ انہوں نے انقلابی اور سیاسی شاعری میں بھی اردو شاعری کی روایتی ڈکشن کا ہی استعمال کیا ہے۔ روایت سے انہوں نے کبھی بھی منہ نہیں موڑا روایتی ڈکشن، روایتی الفاظ ،روایتی لفظیات، کا ہی استعمال کرتے ہوئے انہیں نئے معنی سے آشنا کیا ہے۔ وہ وطن اور اہل وطن سے بہت محبت کرتے تھے اور اس محبت کا اظہار بھی کرتے ہیں۔ وطن کے لیے بھی محبت کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے لیلائے وطن کی ترکیب کا استعمال کیا ہے ؎
چاہا ہے اسی رنگ میں لیلائے وطن کو
تڑپا ہے اسی طور سے دل اس کی لگن میں
ڈھونڈی ہے یونہی شوق نے آسائشِ منزل
رخسار کے خم میں کبھی کاکل کی شکن میں
ان اشعار میں فیض نے وطن کو لیلاے وطن کہا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ رخسار اور کاکل کا ذکر بھی کیا ہے۔ یہ سارے رومانوی الفاظ ہیں مگر یہ نظم سیاسی ہے اور انقلابی خیالات کا اظہار کرتی ہے۔ فیض کی شاعری میں رومانویت اور انقلابیت کا یہی امتزاج دیکھنے کو ملتا ہے۔ آپ کی شاعری کی یہ خصوصیات ہیں جو آپ کو دوسرے ترقی پسند شاعروں سے الگ کرتی ہیں اور آپ کو زیادہ مقبولیت کا حامی بناتی ہیں۔اس طرح فیض نے اردو شاعری کے زبان اور لفظیات کو نئے معنوں میں استعمال کیا ہے۔ وہی الفاظ جو روایتی شاعری میں عشقیہ شاعری کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں فیض نے اسے انقلابی اور سیاسی شاعری کے لیے علامت کے طور پر استعمال کیا ہے۔ فیض کے کل سات شعری مجموعے ہیں۔ ان کا پہلا شعری مجموعہ "نقش فریادی” ہے جو 1945 میں شائع ہوا۔ مگر ان کو مشہور ان کی کتاب "دست صبا” نے کیا جو کہ 1952 میں شائع ہوئی۔ ان کے اور شعری مجموعے شائع ہوتے گئے اور ان کی شہرت اور مقبولیت میں اضافہ کرتے گئے۔ فیض کو بہت سارے اعزازات بھی ملے ہیں جن میں سب سے اہم ہے لینن پیس پرائز جو اُنہیں سوویٹ یونین کی طرف سے 1962 میں دیا گیا تھا۔ ان کی شاعری میں دردمندی، دل آویزی، تاثیر اور جمالیاتی رچاؤ ہے جس کا دل پر فورا اثر ہوتا ہے۔ فیض اپنے زمانے کے سب سے بڑے اور ہر دلعزیز شاعر رہیں۔ ان کی شاعری کو ہم سبھی کو پڑھنا اور سمجھنا چاہیے جس سے ہم بہت کچھ آج کے زمانے میں بھی سیکھ سکتے ہیں۔بالاخر 1984 میں آپ کا انتقال ہو گیا اور لاہور میں آپ کو سپرد خاک کیا گیا۔ اس طرح ایک صحافی ایک مصنف ایک نغما نگار کی زندگی کی کتاب بند ہوگئی۔
لاریب اشہر،متعلم کروری مل کالج، دہلی یونیورسٹی
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

