Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

      کتاب کی بات

      فروری 5, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

      اسلامیات

      نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعدد…

      ستمبر 23, 2023

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خبر نامہ

      پروفیسر خالد جاوید کی حیثیت شعبے میں ایک…

      اپریل 16, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

      کتاب کی بات

      فروری 5, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

      اسلامیات

      نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعدد…

      ستمبر 23, 2023

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خبر نامہ

      پروفیسر خالد جاوید کی حیثیت شعبے میں ایک…

      اپریل 16, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
روبرو (انٹرویو)

مایۂ ناز صحافی معصوم مرادآبادی سے خصوصی گفتگو – علیزے نجف

by adbimiras ستمبر 5, 2022
by adbimiras ستمبر 5, 2022 0 comment

زندگی بےشمار شعبہ ہائے حیات کا مرکب ہے۔ یہ سارے ہی شعبے انسانوں کے ایجاد کردہ ہیں۔ اور وقت جو کہ ہمہ وقت تبدیلیوں کی زد میں رہتا ہے اس نے کم و بیش ان تمام شعبوں میں انقلاب برپا کر دیا ہے اس انقلاب کا سہرا ٹکنالوجی کے سر جاتا ہے۔ ٹکنالوجی نے انتہائی کم مدت میں دنیا کا نقشہ بدل دیا ہے۔ ٹکنالوجی کی ہی بدولت اب دنیا گلوبل ولیج بن کر ہر کسی کی دسترس میں آ چکی ہے۔ وہ وقت ایک خیال بن چکا ہے جب اطلاعات و معلومات کی ترسیل و فراہمی میں دنوں گذر جاتے تھے اور محض چنندہ لوگوں تک ہی اس کی رسائی ہو پاتی تھی لیکن ٹکنالوجی نے اب خاص و عام کی تفریق مٹا کر معلومات کو ہر اس شخص کی دسترس میں دے دیا ہے جو اس کے حصول کی طلب رکھتا ہے۔ صحافت بھی ایک ایسا ہی شعبہ ہے جس نے ٹکنالوجی سے بھرپور استفادہ کیا پیغام رسانی کی سرعت نے دنیائے صحافت میں ایک انقلاب بپا کر دیا ہے۔
صحافت جس کو کہ مقننہ ، عدلیہ ، انتظامیہ کے ساتھ ساتھ جمہوری ملک کا چوتھا ستون کہا جاتا ہے۔ اس کی ترقی نے ملکی ارتقا میں خاطر خواہ کردار ادا کیا ہے۔ یہ دور جو کہ انفارمیشن کا دور کہلاتا ہے جہاں محض ایک کلک سے ہر طرح کی معلومات کی صدائے بازگشت سنی جا سکتی ہے۔ اس نے عوام کو پہلے سے زیادہ ملکی حالات سے باخبر رہنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ کیوں کہ صحافت کو محض صحافیوں   تک محدود نہیں رکھا جاسکتا بلکہ عوام کی بھی شمولیت لازمی ہوتی ہے جو کہ قاری، سامع اور ناظر کہلاتے ہیں ۔ صحافت کا مقصد کہیں نہ کہیں حکومت کو متنبہ کرنے کے ساتھ ساتھ عوام کو ملکی مسائل سے آگاہ کرنا ہوتا ہے۔ اور عوام کے اندر سیاسی بصیرت پیدا کرنا ہوتا ہے تاکہ انھیں اپنے حقوق و فرائض دونوں کا ہی علم ہو سکے۔
صحافت ایک ہمہ گیر موضوع ہے اور اس کے اثرات اتنے گہرے اور زور اور ہیں کہ کسی بھی ملک کا پورا نظام اس سے متاثر ہو سکتا ہے یہی وجہ ہے کہ حکومتیں اپنے دفاع کے لئے اسی میڈیم یعنی برقی میڈیا کا استعمال کرنے لگی ہیں وہ اپنا دفاع اور اپنی آواز اسی کے ذریعے لوگوں تک پہنچانے لگی ہیں تاکہ ان کے نظریات عوام کے ذہنوں میں جاگزیں ہو جائیں۔
صحافت کے میدان میں اردو صحافت کا اپنا ایک روشن باب ہے اور تاریخی حیثیت سے اس کی اپنی ایک شناخت ہے جنگ آزادی میں اس نے  اپنے  بےباک لفظوں اور بےلاگ اسلوب سے انگریزوں کی طاقت کو پارہ پارہ کر دیا تھا تقسیم ہند کے بعد اردو صحافت کا چراغ ضرور ہواؤں کی گردش میں رہا لیکن اس کی روشنی کبھی مدھم نہیں ہو سکی وقت کی تبدیلیوں کے ساتھ ہم آہنگ ہو کر ملک کے تمام سیاسی ، سماجی انقلابات میں آج بھی اپنا کردار ادا کرنے میں کوشاں ہے اور اس کی انفرادیت آج بھی قائم ہے۔
اردو صحافت کو  اب تک بےشمار مایہء ناز صحافیوں نے اپنی صلاحیتوں سے بام عروج تک پہنچایا ہے اپنی بےباکی اور بےخوفی سے اعیان اقتدار کو سوچنے پہ مجبور کیا ہے اور عوام کو سچائی سے آگاہ کرتے ہوئے ان کی آوازوں اور مطالبوں کو حکومت وقت تک پہنچایا ہے۔ انھیں میں سے  ایک معتبر نام معصوم مرادآبادی صاحب کا ہے جو پچھلے چھتیس سالوں سے دنیائے صحافت سے وابستہ ہیں ان کی اعلی صحافتی کارکردگی کا سب سے بڑا راز شاید یہ ہے کہ صحافت ان کا پیشہ نہیں ان کا جنون ہے سچائی ان کی پہلی ترجیح ہے وہ ہمیشہ حقیقت کو اپنی بصیرت سے گذار کر اس کے اسباب و سد باب کو عوام تک پہنچاتے ہیں۔ انھوں نے سچائی کو کبھی مسخ کرنے کی کوشش نہیں کی۔ اوروں کی مخالفت اور نکتہ چینیوں کی انھیں مطلق پرواہ نہیں ہوتی ۔ پچھلی کئی دہائیوں سے وہ براہ راست پارلیمنٹ کی کارروائیوں کی رپورٹنگ کر رہے ہیں۔ ہر قاری ان کی قلمی صلاحیتوں کا معترف ہے ان کے لفظوں میں سادگی اور سچائی کے ساتھ روانی و تسلسل کو بآسانی محسوس کیا جا سکتا ہے۔وہ کئی کتابوں کے مصنف ہیں جو کہ ادب و صحافت کے موضوع پر لکھی گئی ہیں جو ان کی شخصیت کی طرح انفرادیت کی حامل ہیں۔ بےشک دنیائے صحافت میں ان کی خدمات کسی بڑے اعزاز سے کم نہیں وہ بہتوں کے لئے سنگ میل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کی خدمات کو عالمی سطح پہ پزیرائی ملی ہے ان کو متعدد  اعزازات سے بھی نوازا جا چکا ہے۔ بےشک ان کی حیثیت کو تاریخ میں ہمیشہ جلی حروف لکھا جائے گا۔ وہ نہ صرف سچے صحافی ہیں بلکہ قابل قدر انسان ہیں وہ اپنے معاصرین کے لئے جس قدر خوش خلق ہیں اتنا ہی اپنے سے چھوٹوں پر مہربان بھی ہیں۔ عاجزی ان کی فطرت کا خاصہ ہے۔
صحافت کے ساتھ ساتھ خطاطی بھی ان کی ذات سے منسلک ہے جو انھیں اپنے آباء کی طرف سے ورثے میں ملی ہے۔  گوناگوں خصوصیات کے حامل معصوم مرادآبادی سے انٹرویو لینا میری دلی خواہشات میں شامل تھا آج جب کہ انھوں نے مجھے یہ اعزاز بخشا تو میں ان سے وہ سارے سوالات کرنے جا رہی ہوں جو ہمیشہ سے ان کے حوالے سے میرے ذہن میں ابھرتے تھے۔ وہ خود ایک بہترین انٹرویو نگار ہیں جنھوں نے عہد رفتہ کی نامور شخصیات کے انٹرویوز لئے ہیں ۔ میں نے حتی المقدور کوشش کی ہے کہ سوالات ان کی پوری شخصیت کا احاطہ کر سکیں۔ میرے سوالات کہیں نہ کہیں آپ کے تجسس کا ترجمان بھی ہو سکتے ہیں آئیے ان سے بات کر کے بہت کچھ جاننے اور سیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ علیزے نجف

علیزےنجف؛۔آپ کی شخصیت محتاج تعارف نہیں لیکن پھر بھی آپ بتائیں کہ معصوم مرادآبادی کون ہیں اور آپ انھیں کس طرح دیکھتے ہیں ۔کیا ان کے بچپن کی معصومیت اب بھی کسی شرارت اور بذلہ سنجی کی شکل میں باقی ہے یا سنجیدگی کی آڑ میں چھپ سی گئی ہے؟

معصوم مرادآبادی: معصوم مرادآبادی اردو صحافت اور شعر وادب کے ایک ادنیٰ طالب علم کا نام ہے ، جو کچھ کم چالیس برس سے قلم وقرطاس سے اپنا رشتہ اس یقین کے ساتھ قایم کئے ہوئے ہے کہ دنیا میں علم ودانش کی راہ سے ہی کوئی بہتر اور مثبت تبدیلی رونما ہوگی۔خود اپنے آپ کو کسی عینک سے دیکھنا ممکن نہیں ہے کیونکہ انسان کے اندرون میں جو طلاطم برپا ہوتا ہے ، اس کی آنچ دوسروں کو محسوس ہوتی ہے۔ ہاں میں ہروقت اپنے کام میں مصروف رہتا ہوں۔ لکھنا ، پڑھنا اور خوبصورت مقامات کی سیر کرنا میرا شوق ہے۔سیاحت کے شوق نے مجھے تقریباً آدھی دنیا دکھادی ہے۔ معصومیت تو بچپن میں ہی کافور ہوگئی تھی۔ میرے بڑے یہ بتاتے ہیں کہ میں بہت کم عمر میں سنجیدہ ہوگیا تھا ، البتہ بزلہ سنجی اور شوخی آج بھی پہلے کی طرح میرے مزاج کا حصہ ہے ۔ اس پر سنجیدگی ابھی تک قابو نہیں پاسکی ہے۔

علیزےنجف: معصوم آپ کا حقیقی نام ہے یا قلمی نام۔ معصوم کے نام کا انتخاب کس نے کیا تھا اور اس کے پیچھے کیا سوچ کارفرما تھی ہمارے بزرگوں کے نزدیک نام کا شخصیت پر اثر پڑتا ہے آپ کی اس بارے میں کیا رائے ہے؟

معصوم مرادآبادی: میرا حقیقی نام معصوم علی خاں ہے اور یہ میرے دادا نے اپنے نام کے وزن پر رکھا تھا۔ ان کا نام معشوق علی خاں تھا،جوایک بہادر مجاہد آزادی تھے ۔ انگریزوں کے خلاف جدوجہد میں بارہا جیل گئے۔آزادی کی کئی تحریکوں میں حصہ لیا ۔کبھی کسی سے مرعوب نہیں ہوئے۔ مجھے ان کی شکل وصورت یاد نہیں ہے کیونکہ جب ان کا انتقال ہوا تو میری عمر دوتین سال ہی تھی۔بلاشبہ شخصیت پر نام کا اثر ضرور پڑتا ہے ، لیکن میں اپنے بارے میں اپنی رائے کو مستند نہیں سمجھتا پھر بھی میرے متعلقین کہتے ہیں کہ میں طبعی طورپر ایک سادہ لوح انسان ہوں۔کوشش کرتا ہوں کہ میری ذات سے کسی کو کوئی تکلیف نہ پہنچے۔

علیزےنجف: آپ کا بچپن کس طرح کے ماحول میں گذرا ؟میرے علم کے مطابق آپ کے گھر کا ماحول نظم و ضبط پہ سختی سے کار بند تھا۔ ایسے میں کیا آپ نے کبھی خواہشات کی تکمیل کی راہ میں کوئی رکاوٹ محسوس کی اور آپ کو اپنے ماحول کی سب سے اچھی چیز کیا لگتی تھی اور کس چیز سے آپ کو اس وقت کوفت ہوتی تھی اگرچہ وہ آپ کی بہتری کے لئے ہی تھی؟

معصوم مرادآبادی: یہ درست ہے کہ میرے گھر کا ماحول بہت مذہبی تھا اور وہاں بندشیں بہت تھیں۔ نظم وضبط، وقت کی پابندی، کھانے پینے کا سلیقہ اور ایک دوسرے کا احترام ۔ یہ سب ہمارے ہاں بہت تھا۔پابندیوں کی وجہ سے کبھی کبھی الجھن بھی ہوتی تھی ، مگر اکثر ان پابندیوں کو توڑکر میں اپنی راہ لے لیتا تھا۔مجھے گھومنے پھرنے کاشوق بچپن ہی سے تھا مگر والدین تنہا گھر سے نکلنے نہیں دیتے تھے مگر میں ان سے نظریں چراکر اکثر ادھر اُدھر چلاجاتا تھا۔بعد کوڈانٹ بھی پڑتی تھی اور کبھی کبھی پٹائی بھی ہوتی تھی مگر یہ سب میری بہتری کے لیے ہی تھا ۔ بچپن میں انسان کو اپنے اچھے برے کا شعور نہیں ہوتا اور والدین بچوں کے بگڑنے سے ڈرتے ہیں۔بعد کو اندازہ ہوا کہ بندشیں بھی انسان کی زندگی میں ضروری ہوتی ہیں۔ اگر وہ نظم وضبط کا پابند نہ ہو تو بہت سی مشکلات کھڑی ہوتی ہیں۔

علیزےنجف:  آپ کی تعلیمی لیاقت کتنی ہے آپ کو کتابوں سے کس حد تک دلچسپی تھی ۔فارمل تعلیم کے ساتھ آپ نے انفارمل تعلیم کے لئے کن کن ذرائع کا استعمال کیا اور اس سے آپ کی شخصیت سازی مین کس طرح کا مثبت اثر پیدا ہوا موجودہ وقت کے طلبہ انفارمل تعلیم سے دور ہو رہے ہیں یا اس کے تئیں رغبت رکھتے ہیں؟

معصوم مرادآبادی : مجھے بہت زیادہ روایتی تعلیم حاصل کرنے کا موقع نہیں ملا۔میرے پاس جو کچھ بھی علم ہے وہ بڑوں کی صحبت اور بزرگوں کی تربیت کا نتیجہ ہے۔ میری خوش قسمتی ہے کہ مجھے اپنے عہد کے سربرآوردہ لوگوں کے قریب رہنے کا موقع ملا۔ مڈل کلاس تک اپنے شہر مرادآباد میں پڑھا۔وہیں مدرسہ امدادیہ میں گلستان سعدی اور بوستان سعدی پڑھی۔ اس کے بعد 1977 میں دہلی آکر یہاں نویں کلاس پاس کی اور اس کے بعد روایتی تعلیم کا سلسلہ منقطع ہوگیا ۔کچھ دنوں بعد مدرسہ عالیہ فتحپوری میں داخلہ لے لیا اور یہاں تین سال تک عربی اور فارسی پڑھی ۔ اس کے بعد زندگی کی دوڑدھوپ میں شامل ہوگیا ۔ بعدکو ادارہ ادبیات حیدرآباد سے ’اردو عالم ‘پھر جامعہ اردو علی گڑھ سے ادیب کامل اور پھر اسی کی بنیاد پر روہیل کھنڈ یونیورسٹی (بریلی)سے اردو ادب میں ایم اے کیا۔تقریباًپانچ سال مدرسہ میں عربی اور فارسی پڑھنےکی وجہ سے میری اردو بہت اچھی ہوگئی۔پہلے زمانے میں لوگ اپنی استعداد بڑھانے کے لیے تعلیم حاصل کرتے تھے اور اب صرف ملازمت حاصل کرنے کے لیے پڑھتے ہیں۔ یہی فرق ہے جس سے تعلیم کا مفہوم بدل گیاہے .آج اردو میں پی ایچ ڈی کرنے کے بعد بھی لوگ صحیح اردو نہیں جانتے۔

علیزےنجف: جب آپ ایک طالب علم تھے اس وقت کے نظام تعلیم اور آج کے وقت میں رائج شدہ نظام تعلیم میں آپ کس طرح کا فرق دیکھتے ہیں آپ کی نظر میں وہ کون سے پہلو ہیں جو پہلے کے مقابلے میں اب زیادہ بہتر ہو چکے ہیں اور کن میں انحطاط کے اثرات غالب ہوتے دکھائی دے رہے ہیں؟

معصوم مرادآبادی: آج تعلیم کا شور بہت ہے ، لیکن اس کے حصول کی تڑپ اور طلب نہیں ہے۔ہم نے جب اسکول میں داخلہ لیا تو ٹاٹ پر بیٹھ کر پڑھتے تھے ۔ اسکول میں بجلی اکثر غائب رہتی تھی۔اردو پڑھنے کے لیے تختی ہمارا قرطاس تھی، جسے میری والدہ روزانہ دھوکر دیتی تھیں۔اساتذہ بڑی محنت سے پڑھاتے تھے اور چھٹی کے بعد گھر لے جاکر پڑھاتے تھے۔ سرکاری اسکول تھا۔ کوئی فیس نہیں تھی۔ آج میں دیکھتا ہوں کہ بچے ایرکنڈیشنڈ کلاسوں میں پڑھتے ہیں ۔ اسکول سے زیادہ ٹیوشن میں پڑھائی ہوتی ہے۔مہنگی فیس ہے اور اس کے بعد بے تحاشہ مقابلہ آرائی ہے ۔ طلباءایک مشین بنے ہوئے ہیں ،پھر بھی وہ نتیجہ برآمد نہیں ہوتا جو والدین چاہتے ہیں۔ بچوں پر تعلیم کے اثرات کم اور بستے کا بوجھ زیادہ ہے جو ان کی صحت کو متاثر کررہا ہے۔

علیزےنجف:  آپ بچپن سے خطاط بننا چاہتے تھے اور یہ فن آپ کو وراثت میں ملا ہے۔ آپ کے نانا اپنے وقت کے ممتاز خطاط تھے۔ میرا سوال یہ ہے کہ آپ نے اس خطاطی کے فن کو کس حد تک تراشا اور کہاں تک اس کے شہ پارے تخلیق کئے؟ کیا اب بھی آپ باقاعدہ خطاطی کرتے ہیں یا صحافت کی مصروفیت نے خطاطی کے لئے وقت ہی نہیں چھوڑا؟

معصوم مرادآبادی: یہ درست ہے کہ میں بچپن میں خطاط بننا چاہتا تھا اور یہ فن مجھے گھٹی میں ملا تھا ۔ میرے نانا منشی عبدالقیوم خاں بہترین خطاط تھے ۔ان کا خط مولانا ابوالکلام آزاد کو اتنا پسند تھا کہ وہ جب کلکتہ کے قیام کے دوران ’ترجمان القرآن‘ لکھ رہے تھے تو اس کی کتابت کے لیے میرے نانا کو کلکتہ لے گئے اور تقریباًڈیڑھ سال اپنے ساتھ رکھا۔اس دوران نانا نے ’ترجمان القرآن‘ کی دوسری جلد کی کتابت کی اور بعد کو اس کی طباعت کا بھی بندوبست کرایا، کیونکہ اس زمانے میں مولانا آزاد کی مالی حالت اچھی نہیں تھی۔ اس کے بعد جب مولانا آزادنے اپنی معرکةالآراءکتاب ’غبارخاطر ‘ لکھی تو اس کی کتابت انھوں نے ایک بارپھر میرے نانا کے سپرد کی اور انھوں نے ہی اسے طبع کراکے اس کی رقم انھیں پہنچوائی۔ میرے نانا نے بجنور کے مشہورزمانہ اخبار’مدینہ ‘ میں بھی کام کیا۔میں نے دہلی آکر یہاں غالب اکیڈمی میں مایہ ناز خطاط محمدخلیق ٹونکی اور مولانا یوسف قاسمی سے کتابت اور آرائشی خطاطی کا فن سیکھا۔اس کی مشق میں نے مرادآباد میں ہی شروع کردی تھی مگر یہاں آکر اس میں نکھار پیدا ہوااور اس میں مہارت حاصل کرنے کی کوشش کی ۔ طالب علمی کے زمانے میں کئی طغرے بھی بنائے۔ اس فن کی وساطت سے ہی صحافت تک میری رسائی ہوئی۔بے ہنگم صحافتی مصروفیات کی وجہ سے اگرچہ اب یہ فن مجھ سے چھوٹ گیا ہے ، لیکن کبھی کبھی کیلی گرافی قلم سے لکھنے کی کوشش کرتا ہوں تو بہت لطف آتا ہے۔ یقینا یہ بہت لطیف فن ہے۔

علیزےنجف:  ایک وقت تھا جب ملک میں خطاطی کا شہرہ تھا مغلیہ سلطنت میں یہ فن اپنے عروج پہ تھا لیکن موجودہ وقت میں خطاطی کے فن کو وہ مقبولیت حاصل نہیں رہی آپ کے نزدیک اس کی کیا بنیادی وجوہات ہیں اور اس کا احیاءسے کس طرح ممکن ہے؟

معصوم مرادآبادی: ہر فن کا اپنا ایک دور ہوتا ہے۔ خطاطی نے صدیوں حکمرانی کی ، لیکن مشینی دور میں اس کی وہ ضرورت باقی نہیں رہی ۔آج قلم کا کام کمپیوٹر سے لیا جارہا ہے اور اس میں زیادہ ندرت پیدا ہوگئی ہے ، لیکن یہ سب فیضان ماہرین فن کا ہے۔ ان کے نقش قدم پر چل کر ہی ہم آگے بڑھ رہے ہیں۔تاہم ایران اور بعض دیگر ملکوں میں خطاطی کارواج آج بھی قائم ہے۔

علیزےنجف:  آپ ایک ممتازاور مایہ ناز صحافی ہیں ۔آپ کے اندر صحافت کا رجحان کیسے پیدا ہوا اور اس کے پیچھے کس طرح کے عوامل اور کن لوگوں کی ترغیبات شامل تھیں ،کیوں کہ زندگی کے ابتدائی سالوں میں آپ نے صحافت کے متعلق بالکل بھی نہیں سوچا تھا ۔اگر آپ اس وقت صحافی نہیں ہوتے تو کس شعبے کا انتخاب کرتے اور کیوں؟

معصوم مرادآبادی : صحافی بننا میری پلاننگ کا حصہ بالکل نہیں تھا۔ جب 90 کی دہائی میں اردو سافٹ یئر ایجاد ہوا تو میں نے کراچی جاکر اس کے موجد احمد مرزا جمیل کا انٹرویو لیا اور کتابت کے مشینی نظام کو غور سے دیکھا ۔ اس وقت میں یہ محسوس کئے بغیر نہیں رہ سکا کہ اب کتابت کا مستقبل محفوظ نہیں ہے ، لہٰذا کچھ اور کیا جائے ۔ اس دوران مجھے دوگنی تنخواہ پر ’نئی دنیا‘ اخبار سے رپورٹنگ کرنے کا آفر ملا جسے میں نے فوراًقبول کرلیا۔حالانکہ مجھے صحافت کا کوئی تجربہ نہیں تھا ، لیکن اس چیلنج کو قبول کیا اور محنت ومشقت نے میری منزل آسان کردی۔یہ کہنا مشکل ہے کہ اگر میں صحافی نہ ہوتا توکیا ہوتا۔شاید کسی کالج یا یونیورسٹی میں اردو کا استاد ہوتایا کچھ اور۔

علیزےنجف: اپ پچھلے 36 سالوں سے صحافتی فرائض انجام دے رہے ہیں اس دوران آپ نے سیاست کے نشیب و فراز کو نہایت قریب سے دیکھا ہے۔ میرا سوال یہ ہے کہ موجودہ ملکی سیاست کے وہ تین تعمیری نکات کیا ہیں جس سے ہم اچھی امید وابستہ کر سکتے ہیں اور وہ تخریبی پہلو کیا ہیں جو جمہوریت اور ملکی سالمیت کے لئے خطرہ بنے ہوئے ہیں؟

معصوم مرادآبادی: ملکی سیاست کا سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ ہمارے یہاں کسی نہ کسی صورت میں جمہوری قدریں زندہ ہیں ، لکھنے اور بولنے کی آزادی اب بھی بڑی حدتک برقرار ہے ۔ملک کے بہت سے حصوں میں عوام کا ذہن اب بھی آلودہ نہیں ہے۔تخریبی پہلو یہ ہیں کہ ہندی بیلٹ میں لوگو ں کا ذہن بہت حد تک آلودہ کردیا گیا ہے ۔ یہاں جمہوریت اور سیکولرازم پر مسلسل حملے ہورہے ہیں اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی داو پر لگی ہوئی ہے ۔ یہ وہ چیزیں ہیں جن سے جمہوریت اور ملکی سالمیت کو خطرات لاحق ہیں۔ میرا یقین ہے کہ یہ ملک جمہوریت اور سیکولرازم کے راستے پر ہی آگے بڑھ سکتا ہے۔

علیزےنجف: آزادی کی جنگ سے لے کر کم و بیش اب تک اردو صحافت نے ایک نمایاں کردار ادا کیا ہے لیکن گزشتہ کچھ سالوں سے اردو کے ساتھ سوتیلے سلوک کی وجہ سے اردو صحافت بھی متاثر ہوئی ہے ۔میرا سوال یہ ہے کہ اردو صحافت کو اپنی شناخت اور کارکردگی کو مستحکم بنانے کے لئے اپنے اندر کن تبدیلیوں کو پیدا کرنے کی ضرورت ہے اور آپ اردو صحافت کے مستقبل کو کس طرح دیکھتے ہیں؟

معصوم مرادآبادی : اردو صحافت کو مزید حقیقت پسند بننے کی ضرورت ہے ۔ اردواخبارات میں آج بھی پروفیشنل لوگوں کی کمی ہے ۔اچھے اور تیز لکھنے والوں کی تعداد دن بہ دن کم ہوتی جارہی ہے۔ شوقیہ مضمون نگاروں کی کثرت ہے ۔ اردو صحافت کی پیشہ ورانہ تربیت بہت ضروری ہے ، تبھی وہ آگے بڑھ سکتی ہے۔ اردو صحافت کا مستقبل اردو زبان سے وابستہ ہے۔ جہاں جہاں اردو تعلیم کا نظام مضبوط ہے ، وہاں وہاں اردو اخبارات کے نئے قارئین پیدا ہورہے ہیں اور جہاں جہاں اردو تعلیم کا نظام درہم برہم ہوگیا ہے وہا وہاں اردو اخبارات دم توڑ رہے ہیں۔

علیزےنجف: کسی بھی ملک کی سیاست میں اپوزیشن ہمیشہ ایک اہم کردار ادا کرتی ہے مضبوط اپوزیشن جمہوریت کے لئے ایک مضبوط ستون ہے موجودہ وقت کی سیاست میں اپوزیشن کا وجود جس قدر نحیف و لاغر ہے وہ جگ ظاہر ہے آپ کی کیا رائے ہے کیا کانگریس واپس سے اپنا سابقہ اقتدار اور دبدبہ و رعب حاصل کرنے میں کامیاب ہو سکتی ہے یا اپوزیشن کی نحیفیت پڑھنے کا امکان نظر آرہا ہے یا آپ کی نظر میں کوئی دوسری جماعت مضبوط اپوزیشن کا درجہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو سکتی ہے اور کیسے یہ ممکن ہوگا؟

معصوم مرادآبادی: اپوزیشن کا وجود جمہوریت کے تسلسل اور بقاءکے لیے بے حد ضروری ہے۔ ہرچند اس کے وجود کو مٹانے کی کوششیں عروج پر ہیں ، لیکن یہ ممکن نہیں ہوپائے گا ۔ اپوزیشن کی موجودہ حالت ایک وقتی صورت ہے۔ آئندہ بہتر حالات پیدا ہوں گے۔

علیزےنجف: کسی بھی ملک کے استحکام میں میڈیا کا کردار مسلم ہے لیکن جس طرح سے حکومتیں ان کو کنٹرول کرتی جا رہی ہیں اس سے آزادئ رائے کا دم گھٹتا جا رہا ہے ایسے حالات میں آزادانہ صحافت کسی صحافی کا عرصہ حیات تنگ کرنے کے مترادف ہے آپ کے خیال میں ملک میں آزادئ رائے کا اظہار کرنے میں ایک صحافی کس حد تک آزاد ہے کیا اس کی وجہ سے نوجوان صحافت کے شعبے سے دور ہوتے جا رہے ہیں؟

معصوم مرادآبادی :صحافت کی آزادی اور اظہار رائے جمہوریت کی بنیادی شرط ہے۔ پرنٹ میڈیا کے صحافیوں کا بڑا طبقہ آج بھی اس پر کاربند ہے اور اس میں انگریزی اخبارات پیش پیش ہیں۔ نوجوانوں کی دلچسپی اس میں برقرار ہے ۔ متبادل میڈیا نے اپنی ایک منفرد جگہ بنالی ہے۔ ڈیجیٹل میڈیا صحافت کی ایک نئی داستان لکھ رہا ہے۔ یہ خوش آئند بات ہے۔

علیزےنجف: آپ ایک بہترین صحافی کالم نگار ہیں آپ کی تحریروں میں حقیقت پسندی کا عنصر غالب نظر آتا ہے آپ نے اپنی حق گوئی پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا۔ کیا کبھی ایسا ہوا ہے کہ آپ نے کسی موضوع پر پوری بےباکی کے ساتھ اپنی رائے کا اظہار کیا ہو پھر آپ کو کسی نے مجبور کیا ہو کہ اپنے الفاظ واپس لے لیں یا آئندہ سے احتیاط کریں ایسے میں آپ کا کیا ردعمل رہا؟

معصوم مرادآبادی: میرے ساتھ کبھی ایسا نہیں ہوا ۔ میں الفاظ کو چبانے کا عادی نہیں ہوں اور وہی لکھتا ہوں جسے سچ سمجھتا ہوں۔ ظاہر ہے سچ ہمیشہ کڑوا ہوتا ہے اور اس کے اظہار پر لوگ ناک بھوں چڑاتے ہیں ۔ مجھے اس کی پروا نہیں ، کیونکہ میں اپنے اس مالک کے سامنے جواب دہ ہوں جس نے مجھے قوت اظہار اور سچ بولنے کی طاقت عطا کی ہے۔

علیزےنجف: آپ نے اب تک بہت کچھ لکھا اور اپنی ان تحریروں کو آپ نے کتاب کی شکل بھی دی میرا سوال یہ ہے کہ آپ نے اب تک کتنی کتابیں تصنیف کیں اور قارئین کی طرف سے آپ کو کیسا تاثر ملا اور کیا مستقبل میں کسی خاص موضوع پہ کتاب لکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں؟

معصوم مرادآبادی: میری اب تک ایک درجن کتابیں شائع ہوچکی ہیں۔ ان میں چار اردو صحافت پر ہیں۔ کالم اور مضامین کی تعداد ہزاروں میں ہے ۔ مجھے اتنا وقت نہیں ملتا کہ انھیں مرتب کرنے بیٹھوں البتہ قارئین اس کا بار بار مطالبہ کرتے ہیں۔مجھے اپنے پڑھنے والوں کا بہت پیار حاصل ہے اور میں اس کی دل سے قدر کرتا ہوں۔اپنی آپ بیتی لکھنا چاہتا ہوں، جو خاصی دلچسپ ہوگی۔

علیزےنجف: آپ نے اب تک بےشمار مشہور اور ممتاز صحافیوں کے ساتھ کام کیا ہے اور ان سے بہت کچھ سیکھا ہے میرا سوال یہ ہے کہ ان میں سے اگر کسی کو استاد کا درجہ دینا ہو تو آپ کسے اس منصب پر بٹھائیں گے اور کیوں؟

معصوم مرادآبادی: یوں توکئی اساتذہ ہیں جن سے میں نے بہت کچھ سیکھاہے ، لیکن چند نام ایسے ہیں جن کا ذکر کرنا چاہتا ہوں ۔ ان میں پہلا نام سعید سہروردی مرحوم کا ہے ۔ ان کے بعد جن لوگوں سے میں نے کسب فیض کیا ان میں جناب احمدسعید ملیح آبادی، محفوظ الرحمن، شاہدصدیقی اور م۔افضل صاحبان کے نام قابل ذکرہیں۔

علیزےنجف:  آپ نے اب تک زندگی کی بےشمار بہاریں دیکھی ہیں نشیب و فراز بھی دیکھے ہیں اپنی اب تک کی گذری ہوئی زندگی کو اگر آپ دو سطر میں سمیٹنا چاہیں تو وہ دو سطر کن الفاظ پر ہوں گی اور آپ نے اب تک زندگی میں وہ کیا دو اصول یا سبق سیکھے جس نے آپ کی شخصیت پہ گہرا اثر مرتب کیا؟

معصوم مرادآبادی: دوسطروں میں سمیٹنے کے لیے مجھے مظفروارثی کے اس شعر سے بہتر کوئی بات نظر نہیں آتی۔

زندگی تجھ سے ہرایک سانس پہ سمجھوتہ کروں

شوق جینے کا ہے مجھ کو مگر اتنا تو نہیں

جہاں تک اصولوں کا معاملہ ہے تو میں نے زندگی میں وقت کی پابندی اور بے تکان محنت کو ہمیشہ ترجیح دی ہے۔ایمانداری،سچائی اور صراط مستقیم پرچل کر ہی میں نے زندگی بسر کی ہے۔

علیزےنجف: ہر انسان کی کچھ فطری جبلتیں ہوتی ہیں جو ہمیشہ ہی انسان کے اندر رہتی ہیں جیسے کچھ لوگ فطرتا بذلہ سنج ہوتے ہیں اور کچھ سنجیدہ مزاج اور کچھ باتونی و خاموش پسند وغیرہ ۔میرا سوال یہ ہے کہ آپ کے اندر کس مزاج کو غلبہ حاصل ہے اور کس طرح کے لوگوں سے ملنا آپ پسند کرتے ہیں اور کون لوگ آپ کے اعصاب پہ گراں گزرتے ہیں؟

معصوم مرادآبادی : میں بنیادی طور پر سنجیدہ مگر اتنا ہی بذلہ سنج بھی ہوں۔اچھے اور خوش مزاج لوگوں سے ملنا اور گفتگو کرنا مجھے اچھا لگتا ہے۔ مصنوعی، بے کردار اور بڑبولے لوگ مجھے سخت ناپسند ہیں ۔

علیزےنجف:  آپ اپنی ذاتی زندگی اور سماجی زندگی کے درمیان کیسے توازن پیدا کرتے ہیں آپ کی صحافت کی غیر معمولی مصروفیات سے کیا آپ کے اہل خانہ تنگ ہوتے ہیں مثلا انھیں یہ شکایت ہو کہ آپ ہمیں وقت نہیں دیتے یا آپ کی حق گوئی و بےباکی کی وجہ سے آپ کے تحفظ کے حوالے سے جب خوفزدہ ہوتے ہیں تو آپ انھیں کیسے ڈیل کرتے ہیں؟

معصوم مرادآبادی:  یہ ذرا مشکل سوال ہے ۔ میری بے ہنگم مصروفیات سے اہل خانہ پریشان ضرور ہوتے ہیں اور کبھی کبھی توازن قایم کرنا مشکل بھی ہوتا ہے ، لیکن جب بھی وقت ملتا ہے میں اسے اپنے گھروالوں کے ساتھ بتانا پسند کرتا ہوں۔ ان کے ساتھ سیروتفریح کرنا مجھے اچھا لگتا ہے۔

علیزےنجف: آپ کا صحافتی سفر نئی نسل کے لیے سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے ۔آپ نے ایک عمر اس دشت کی سیاحی میں گزاری ہے ۔اس راہ میں درپیش تمام مراحل کو آپ نے اپنی حق گوئی اور بے باکی کے ساتھ سرکیا ہے۔دوسرے لفظوں میں کہوں تو آپ نے اردو صحافت کے اعلیٰ معیار کو ہمیشہ قایم رکھا ہے ۔ میرا سوال یہ ہے کہ آپ کی ان خدمات کو عوام اور حکومت نے کس طرح سراہا ۔آپ کو اب تک کتنے سرکاری ، نیم سرکاری اعزازات سے نوازا جاچکا ہے ۔ ساتھ میں ایک سوال یہ بھی ہے کہ کیا اردو صحافیوں کو حکومت کی طرف سے وہ مقام اور تحسین حاصل ہوتی ہے جو دوسری زبان کے صحافیوں کو حاصل ہوتی ہے؟

معصوم مرادآبادی: خدا کا شکر ہے کہ اب تک میں نے جو کچھ بھی ٹوٹا پھوٹا کام کیا ہے اس کی پذیرائی قارئین اور حکومت دونوں سطحوں پر ہوئی ہے۔اعزازات کی تعداد تو درجنوں میں ہے ۔ اب تک دہلی، اترپردیش اور مغربی بنگال کی اردواکادمیاں مجھے صحافتی خدمات کے لیے ایوارڈ سے نواز چکی ہیں۔میری اب تک جو کتابیں شائع ہوچکی ہیں، ان میں سے بیشتر کو انعام ملا ہے۔امریکہ ، برطانیہ ، سعودی عرب اور لیبیا کی حکومتوں نے مجھے اپنے ہاں مدعو کیا ہے اور میری بہت پذیرائی کی ہے۔ میں گزشتہ تیس سال سے مرکزی وزارت اطلاعات کے شعبہ پریس انفارمیشن بیورو سے منظور شدہ صحافی ہوں۔ اتنے ہی برس سے پارلیمنٹ کی کارروائی کی رپورٹنگ کررہا ہوں اور کئی سال پارلیمنٹ کی میڈیا ایڈوازری کمیٹی کا رکن رہ چکا ہوں۔اردو صحافی اگر اہل ہوں تو ان کو تمام سرکاری مراعات ملتی ہیں۔

علیزےنجف:  یہ انٹرویو دیتے ہوئے آپ کے احساسات کیا تھے اور سوالات سے کس حد تک مطمئن تھے اس انٹرویو کے ذریعے اگر ہم قارئین کو کچھ نصیحت کرنی ہو تو وہ کیا ہو گی؟

معصوم مرادآبادی: آپ نے سوالات سوچ سمجھ کر تیار کئے ہیں ۔ اس فن میں آپ کی دلچسپی متاثر کن ہے ۔ خدا آپ کو خوش رکھے اور میری دعا ہے کہ آپ ترقی کی منازل طے کریں۔نئے لکھنے والوں سے صرف اتنا ہی کہنا چاہتا ہوں کہ آج کل لکھنے والوں میں ایک عجیب قسم کی عجلت ہے۔ وہ بہت جلد مشہور ہونا چاہتے ہیں۔ میری گزارش یہ ہے کہ وہ سنجیدگی سے اپنا کام کرتے رہے ۔ شہرت ، دولت اور عزت کامعاملہ خدا پر چھوڑدیں، کیونکہ وہی اس کا مالک ہے۔

انٹرویو نگار :علیزے نجف
سرائے میر اعظم گڈھ

 

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

Home Page

 

0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
علامہ شبلی نعمانی ۔ایک تاریخ ساز شخصیت – ڈاکٹر تجمل حسین
اگلی پوسٹ
ڈاکٹر قرۃ العین کی کتاب "اردو شاعری میں پروشوتم رام” کی رسم رونمائی

یہ بھی پڑھیں

پروفیسر عبدالمنان طرزی سے بات چیت – منصور...

دسمبر 4, 2024

پولیٹیکل سائنٹسٹ پروفیسر اشتیاق احمد سے خاص گفتگو...

جولائی 28, 2024

بین الاقوامی شہرت یافتہ آرٹسٹ اور فیض احمد...

جولائی 14, 2024

مہجری ڈرامہ نگار اور داستان گو جاوید دانش...

جولائی 4, 2024

معاصر ادب اور تنقید پر ڈاکٹر شہاب ظفر...

جون 30, 2024

فیض احمد فیض کی صاحبزادی منیزہ ہاشمی سے...

فروری 2, 2024

اعلی اقدار کی حامل شخصیت نیر تاباں سے...

جنوری 3, 2024

ایک ہمہ جہت شخصیت:زیبا گلزار – شفقت خالد

ستمبر 25, 2023

پروفیسر محمد طاہر سے علیزے نجف کی ایک...

اگست 26, 2023

معروف شاعر چندر بھان خیال سے علیزےنجف کی...

جولائی 11, 2023

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (182)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (118)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,042)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (535)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (204)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (402)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (214)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (475)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,133)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (897)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں