ناول تین بتی کے راما اس زمانے میں تحریر کیا گیا جب اردو میں علامتی، اور تجریدی فکشن کا بول بالا تھا۔ناول کی کہانی تین بتی نام کے ایک ایسے علاقے کے چاروں طرف گردش کرتی ہے جو یوں تو بے حد پرسکون علاقہ ہے اور سکوت پسند پارسی قوم کے افراد نے اس گرد و نواح میں اپنی کوٹھیاں بنوائی ہیں۔ لیکن دن میں اب اس علاقے میں بے حد شور برپا ہے۔ یہ شعور موٹروں کے ہارن، بسوں کی سائلنسر اور ان سے نکلتے ہوئے سیاہ اور گاڑھے دھویں اور بے ہنگم آواز کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔ مگر شام ہوتے ہوتے تین بتی کے علاقے کی تبدیلیِ ماہیت ہوجاتی ہے۔ اور نو بجتے ہی گھروں سے وی، سی، آر کی آوازیں بلند ہونے لگتی ہیں۔ عمارتوں کے خوش نما ہال کے اسکرین پر کچھ بے ڈول موجود نظر آتے ہیں۔ تھوڑا وقت اور آگے بڑھنے پر عمارتوں کے وہ دروازے کھل جاتے ہیں جو نوکروں کے آنے جانے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ یعنی تین بتی کے علاقے میں بنی کوٹھیوں کی ایک یہ بھی خاصیت ہے کہ ان میں نوکروں کے داخل ہونے کے دروازے بھی الگ ہیں اور یہ ہمیں بے اختیار جاگیردارانہ زمانے کے اس دور کی یاد دلاتا ہے، جہاں نوابوں اور جاگیرداروں کی حویلیوں میں داخل ہونے کے لئے نوکروں کے اور نچلے درجے کے لوگوں کی آمد و رفت کے لیے الگ الگ دروازے ہوتے ہیں۔ اس پورے علاقے میں کوٹھیوں سے باہر یا بیرونی حصہ میں ان ملازموں کی آپسی گفتگو کا ایک دور شروع ہوتا ہے۔ یہ گفتگو پارسی سیٹھوں کے رکھے نوکروں یعنی راماؤں اور آپاؤں کے بیچ ہوتا ہے جس طرح مرد ملازموں کو راما کہا جاتا ہے۔ اسی طرح لڑکیوں یا عورتوں کو بائی کہہ کر مخاطب کرتے ہیں۔
یہ پورا ناول ایک اسکرین پلے کی طرح ہمارے حواس و اعصاب پر وارد ہوتا ہے۔ مصنف نے کہانی کو مختلف راماؤں اور آیاؤں یعنی بائیوں کے درمیان ہوئی گفتگو کے ذریعہ ارتقا دینے کی کوشش کی ہے۔ مکالموں کی اس شدت اور بہتات کی وجہ سے ناول میں اسکرین پلے کا سا انداز پیدا ہوگیا جو اس موضوع کے لیے بہت مناسب ہے۔ ہر منظر اپنے مکالموں کے ساتھ ہمارے سامنے آتا ہے اور ہم سارے ماجرے کو اپنے سامنے پیش ہوا محسوس کرتے ہیں۔ مکالموں کی ایک سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اس میں راماؤں کی وہی مخصوص ممبئی کے نچلے عوام میں بولی جانے والی زبان استعمال کی گئی ہے، جس میں ان کے تمام احساسات اور جذبات اظہار پاتے ہیں۔ علی امام نقوی نے بڑے کمال و فن کے ساتھ اس زبان کا استعمال کیا ہے اور اس کی وجہ سے ناول کی تاثیر کی شدت میں اضافہ ہوجاتا ہے کیوں کہ اگر راماؤں کی آپسی گفتگو کو اردو کا جامہ پہنا کے مہذب اور شائستہ بنانے کی کوشش کی جاتی تو وہ سنگلاخ اور بے رحم حقیقت ہماری آنکھوں سے اوجھل ہی رہتی، جن کو پیش کرنے کا بیڑا مصنف نے اٹھایا۔ مکالموں کے علاوہ جہاں جہاں بیانیہ کا استعمال کیا گیا ہے، وہ اردو ہی میں تحریر کیا گیا ہے۔ بیانیہ کا راوی ظاہر ہے کہ مصنف ہے اور یہ بالکل فطری ہے کہ یہاں راماؤں کے ذریعہ بولی جانے والی زبان کا استعمال ممکن نہ تھا۔ اسی طرح ناول میں زبانی بیانیہ اور تحریری بیانیہ دونوں کا ایک خوبصورت اور فنکارانہ امتزاج پیدا ہوگیا ہے۔
مصنف کی آنکھ گویا ایک ایکسرے مشین ہے، ایک ایسی ایکسرے مشین جو انسان کے جسم کے ہی نہیں بلکہ اس کی روح کے زخموں اور گھاؤں تک پہنچ جاتی ہے۔ علی امام نقوی کا قلم روح کی گندگی غربت اور بدقسمتی کے مارے ان لوگوں کی باطنی تکلیفوں اور ان کے درد و کرب کو بڑی بے رحمی کے ساتھ صفحۂ قرطاس پر بکھیرتا چلتا ہے۔ راماؤں کی اس زندگی کی تصویر کشی کرنا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ اس کو لکھنے کے لیے تخلیقی تجربے، مشاہدے کے ساتھ ساتھ انسانی ہمدردی، اور درد مندی کے ایک گہرے عنصر کی بھی ضرورت ہے۔ اور اسی عنصر نے علی امام نقوی کے اس ناول کو ایک منفرد اور ممتاز مقام عطا کیا ہے۔تین بتی کے راما کا پلاٹ اگرچہ روایتی ہے مگر ایک خاص بات اس میں یہ ہے کہ یہ پلاٹ واقعات کے سہارے اتنا آگے نہیں بڑھتا جتنا کہ ایک خاص صورت حال میں بڑے فنکارانہ انداز میں تشکیل پاتا ہے کیوں کہ مصنف کا مقصد تین بتی کے راماؤں کی زندگی کی تصویر کشی کرنا اسے قاری کے سامنے لانا ہے اور اس کے ذریعہ سماجی زندگی کا ایک دوسرا رخ بھی پیش کرنا ہے۔ اس لیے بغیر اس صورت حال کو بیان کیے اس کی مقصد کی تکمیل ممکن نہیں ہے کہ یہ سارے راماؤں اور بائیوں کے یہ سارے کردار بد قسمتی کے جس جال میں جکڑے ہوئے ہیں اس جال کے ایک ایک ریشے کی چھان بین کی جائے۔ لہذا ناول میں واقعات کی حیثیت تو محض ضمنی ہے۔ اصل چیز اس سچویشن، اس صورت حال اور اس زندگی کو حاصل ہے جن میں یہ کردار مقید ہے۔
لفظ کردار یونانی اسم فعل ہے۔Kharakterجس کے معنی کندا کرنا، یا نقش کرنا ہیں۔ یا افراد کے مابین وہ امتیازی پہچان جو طبیعت و عادت اور کسی نہ کسی حرکت ، عمل اور برتاؤ کی تفریق کی بنیاد پر واقع ہو۔ تھیو فراسٹس جو کہ ارسطو کا شاگر د تھا اس کی کتاب ایتھیکل کیرکٹرس ۳۰؍ پک خاکوں پر مشتمل ہے (286۔ 370 قبل مسیح) کردار نگاری یا خاکہ نگاری کے تعلق سے یہ وہ بنیادی کام ہیں جو ۱۷؍ ، ۱۸ویں صدی کے خاکہ نگاروں اور انشائیہ نگاروں کے نمونے کے طور پر ایک مثال بنی ہے۔ بقول اردو کے بلند پایہ ناقد پروفیسر عتیق اللہ کردار کے حوالے سے شخصیت اساس نظریہ اخلاط (یعنی تھیوری آف ہیومرس) بعض مصنفین کے کردار سازی کے عمل پر اثر انداز ہوا ہے۔ عتیق اللہ لکھتے ہیں کہ:
’’یونانی طریقہ علاج میں چار رطوبتوں خون، بلغم، صفرا اور سودا کو بنیادی درجہ حاصل تھا جنھیں اخلاط یعنی ہیومر کہا جاتا ہے۔ کسی شخص کے کردار، افتاد، مزاج، طبیعت اور میلان کے تعین میں اخلاط اہم کار انجام دیتے ہیں۔ ایک مثالی کردار یا مزاج ان اخلاط اربع کے باہمی توازن کا نتیجہ ہوتا ہے۔ ان اخلاط میں بے اعتدالی یا عدم توازن کسی ایک خلط کی فزونی اور تجاوز یا ایک دوسرے پر نفق سے نہ صرف جسمانی امراض پیدا ہوتے ہیں بلکہ ذہنی اور اخلاقی توازن بھی بگڑ جاتا ہے۔‘‘
(ادبی اصلاحات کی وضاحتی فرہنگ جلد اول، پروفیسر عتیق اللہ، مطبوعہ اردو مجلس پیتم پورہ، دہلی، 1995ء، ص۳۷۴)
اس نظریہ کے مطابق اگر کسی شخص میں خون کا غلبہ ہو تو اس کے کردار میں جوش، زندہ دلی اور مستعدی پائی جاتی ہے۔ اگر بلغم کا غلبہ ہو تو بزدلی، غیر ذمہ دارانہ پن، اور غبی ہونا اس کی کردار کی خصوصیات ہوسکتی ہے۔ اگر صفرا کا تجاوز ہوجائے تو ایسے شخص میں حسد، کینہ پروری ، بے صبری، انتقام اور غصے کی خصوصیات پائی جاسکتی ہیں۔ اگر سودا کا غلبہ ہو تو افسردگی، حساس پن اور دور بینی اور طنز وغیرہ اس کے کردار کی خصوصیات ہوتی ہیں۔بن جانسن نے سب سے پہلے اسی نظریہ شخصیت کے مطابق اپنے کرداروں کی تشکیل کی تھی۔ بن جانسن کے ڈرامے ’’کامیڈی آف ہیومر‘‘ میں تمام کرداروں کی نوعیت یہی اخلاط متعین کرتے ہیں۔
اٹھارہویں صدی میں کردار نگاری نے ناول میں باقاعدہ ایک وسیع تر فن کی صورت اختیار کرلی۔ اب ڈرامے کی کرداروں میں ناول جیسی ایک نئی صنف کے بطن سے نمو پانا شروع کردیا۔ یہاں کرداروں کا معاشرتی اور اخلاقی پس منظر بہت وسیع ہوگیا اور یہ دکھایا گیا کہ کس طرح خارجی حالات، حادثات کسی فرد کے کردار کی سمت بدل کر رکھ دیتے ہیں اور نتیجہ کچھ کا کچھ ہوجاتا ہے۔ ہینڈی فیلڈنگ، رچرڈ سن، ڈینیل ڈیفو، چارلس ڈکنس، تھامس ہارڈی، اور والٹر اسکاٹ تک کردار کی ان بدلتی ہوئی ہئیتوں کو صاف دیکھا جاسکتا ہے۔
ای ایم فاسٹر نے ادب میں کرداروں کی دو قسمیں بتائی ہیں۔ مدوّر یعنی راؤنڈ کردار اور سپاٹ یعنی فلیٹ کردار، پہلے کو ہم حرکی (ڈائنامک کردار بھی کہہ سکتے ہیں) اور دوسرے کو افقی کردار کہا جاسکتا ہے۔ مدوّر کرداروں کی ایک یا ایک سے زیادہ عادات و خصوصیات ہوسکتی ہیں۔ مگر محض اسی عادت یا خصوصیت سے ان کا انفرادی تشخص قائم نہیں ہوتا ہے۔ مدوّر کو ہم عمودی کا کردار بھی کہہ سکتے ہیں۔ عمودی کے برخلاف سپاٹ یا افقی کردار ہموار ہوتا ہے۔ اور اس سے گروہ یا طبقے کی نمائندگی کا مقصد کار فرما ہوتا ہے جو ان کی گروہ کی خصوصیت شناخت ہیں۔ ان کو ہم ٹائیپ کردار بھی کہہ سکتے ہیں۔ جن میں کسی قسم کی حرکت نہیں پائی جاسکتی برخلاف اس کے مدوّر کردار تہہ دار ہوتے ہیں اور ایک رخے نہیں ہوتے۔
جدید علم النفسیات کی رو سے کردار دو قسم کے کہے جاسکتے ہیں۔ بقول فرائڈ :
’’ایک نارمل کردار دوسرا ابنارمل کردار۔ فرائڈ کا کہنا ہے کہ کسی بھی آئیڈیل کردار کا وجود نہیں ہے۔ بلکہ لاشعور کی گتھیاں مثلاً احساس کمتری وغیرہ یا احساس برتری وغیرہ ہی کسی کردارو شخصیت کا رخ متعین کرتی ہیں یعنی کردار کا اصل معاملہ شعور سے زیادہ لاشعوری سے ہے۔ مذہب اور اخلاق وغیرہ یہاں بہت زیادہ معاون نہیں ہوتی اور نہ ان کی روشنی میں کسی کردار کو اچھا یا برا کہا جاسکتا ہے۔‘‘
Sigmend Freud, Inter Prtertion of Dreams, Oxford) Book Store London، 1949ء، ص۱۲۲۔)
علم النفسیات کی ہی رو سے کرداروں کو ان تین زمروں میں بھی تقسیم کیا گیا ہے۔
۱۔ خارجی رجحان والے کردار (ایکسٹرو ورڈ)
۲۔ داخلی رجحان والے کردار (انٹرو ورڈ)
۳۔ خارجی۔ داخلی رجحان والے کردار (ایم بی ورڈ)
پہلے قسم کے کردار وہ ہیں جو اپنی ذات سے زیادہ خارج میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ خارج پر فتح حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ دنیا کے معاملات میں جوش و خروش دکھانا چاہتے ہیں اور اپنی شخصیت کو دوسرے اشخاص، ماحول اور معاشرے پر اثر انداز ہوتے ہوئے دیکھنا چاہتے ہیں۔ اس قسم کے کرداروں کے حامل سیاست داں ، کھیلاڑی، فلم اسٹار، بزنس مین، باتونی وغیرہ ہوسکتے ہیں۔
داخلی رجحان پر مبنی کردار ایسے اشخاص ہوتے ہیں جو اپنی ذات میں مگن رہتے ہیں۔ باہر کی دنیا یا خارج سے ہٹ کر رہنا پسند کرتے ہیں۔ مزاجاً شرمیلے اور کم گو ہوتے ہیں۔ ان کے لئے اپنے اندر کی دنیا ہی اصل دنیا ہوتی ہے۔ شاعر، ادیب، اور سائنس داں اسی زمرے میں آتے ہیں لیکن جدید ترین نے اب یہ بھی ثابت کیا ہے۔ اب ایسا کوئی بھی کردار نہیں پایا جاتا جو کہ مکمل طور پر داخلی ہو یا مکمل طور پر خارجی ہو بلکہ حقیقی زندگی میں ہر انسان اور فرد داخلی اور خارجی خصوصیات کا مجموعہ ہوتاہے۔ زیادہ سے زیادہ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ جس میں جس رجحان کی زیادتی ہوتی ہے اس کو اسی رجحان کا نمائندہ کردار مان لیا جاتا ہے۔ ورنہ حقیقت تو یہ ہے کہ ہر شخص کا کردار داخلی— خارجی دونوں ہی خصوصیات کا حامل ہوتا ہے اور حالات اور محل وقوع یہ متعین کرتے ہیں کہ کس وقت اس سے کس قسم کے عمل کی امید کی جاسکتی ہے۔
ان سب نظریات کے علاوہ ایک سائنسی نظریہ یہ بھی ہے کہ کسی بھی فرد کی شخصیت اور اس کے کردار کی تشکیل میں اس کے نسلی ورثے اور ماحول دونوں کا برابر کا ہاتھ ہوتا ہے۔ مثلاً اگر کسی شریف خاندان اور نیک ماں باپ کی اولاد کو غلط اور غیر اخلاقی ماحول میں تربیت دی جائے تو اس ماحول کے منفی اثرات اس کی شخصیت اور کردار کو ایک منفی رخ دینے میں کارگر ثابت ہوسکتے ہیں۔ یعنی بہت سی خصوصیات اس قسم کی ہیں جو انسان اپنے D.N.A کے ذریعہ ہی خود لے کر پیدا ہوتا ہے۔ بہت سی عادات و خصلات اسے وراثت میں مل جاتی ہیں۔ یہ اچھی اور بری دونوں ہی اقسام کی ہوسکتی ہیں۔ مگر اس کے ساتھ ساتھ اچھا ماحول اور برا ماحول دونوں اس کے کردار کو بنانے یا بگاڑنے میں اہم رول ادا کرسکتا ہے۔
ان تمام ادبی اور نفسیاتی اور سائنسی نظریہ کے حاصل کے طور پر ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ در اصل یہ سارا قصہ خیر و شر کی جنگ کا ہے۔ انسان نہ تو فرشتہ ہے اور نہ ہی شیطان، وہ ان دونوں کے بین بین ہے۔ لہذا کوئی بھی انسان نہ تو مکمل طور پر اچھا ہوسکتا ہے اور نہ ہی برا۔ آئیڈیل یا ٹائپ کرداروں کی کمی یہی ہے کہ وہ ایک رخی ہوتے ہیں یعنی اگر کوئی برا ہے تو مکمل طور پر ہے کوئی اچھا ہے تو مکمل طور پر اچھا ہوگا۔ قدیم یونانی ڈراموں میں ہیرو اور ویلن کا تصور انہی آئیڈیل یا ٹائپ کرداروں پر منحصر تھا، جس کے سرے ہماری ممبئی کمرشیل فلموں تک چلے آئے ہیں۔ یعنی اگر ہیرو ہوگا تو اس کی خصوصیات میں شجاعت، مردانگی، نیکی، اخلاق، قربانی اور حسن کا یکجا ہونا ناگزیر ہے جبکہ ویلن میں حسد، برائی، ظلم، نا انصافی، مکاری، طاقت کا بے جا استعمال، اخلاقی زوال اور بد صورتی اس کی نمایاں خصوصیات کہی جائیں گی۔
لیکن حقیقت یہ ہے کہ اصل زندگی میں ہمیں ایسے کردار دیکھنے کو نہیں ملتے بلکہ برے سے برے آدمی میں بھی اچھائی کا کوئی پہلو ہوتا ہے۔ اور اچھے سے اچھے آدمی میں بھی کچھ کمزوریاں پوشیدہ رہ سکتی ہیں۔ بقول ایک کہاوت کے کہ ہر سادھو میں ایک شیطان اور ایک شیطان میں ایک سادھو چھپا ہوا ہے۔ ادبی اعتبار سے ناول اگر زندگی کا صحیح آئینہ دار ہے اور زندگی کی تمام سچائیوں کی ترجمان ہے، تو پھر ناول کے کرداروں کو آئیڈیل یا سپاٹ نہیں ہونا چاہیے بلکہ کردار ایسا ہونا چاہیے جو کہ تہہ دار ہوں اور ان پیچیدگیوں کی عکاسی کرتے ہوں جو معاشرے حالات، صورت حال ، ماحول اور نفسیاتی گتھیوں کے ذریعہ تشکیل پاتے ہوں۔ کرداروں کی اچھائی اور برائی زیادہ اس بات پر منحصر ہوسکتی ہے کہ ان میں انسانی جبلتوں کی تنظیم بہتر طور پر ہوئی ہے کہ نہیں۔ لیکن دوسری طرف ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ جبلتیں بذات خود تہذیبی، اخلاقی، مذہبی اور سماجی اقدار کے ذریعہ اپنی شکل تبدیل بھی کرسکتی ہیں اور کسی نئی شکل میں ڈھل پانے کے لئے تیار بھی ہوسکتی ہیں۔
تین بتی کے راما کے کرداروں کا مطالعہ اگر ہم اس روشنی میں کریں تو ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ اس کا کوئی بھی کردار آئیڈیل ، ٹائپ ، سپاٹ نہیں ہے۔ کوئی بھی کردار نہ تو پوری طرح اچھا ہے اور نہ ہی پوری طرح برا۔ ہر کردار میں خیر و شر کی ایک کشمکش بھی جاری ہے۔ نیکی اور برائی مطلق طور پر کسی بھی کردار کی نمایاں خصوصیت نہیں کہی جاسکتی اور اس طرح تین بتی کے کردار روایتی ناول کے روایتی کرداروں کے سانچوں پر فٹ نہیں بیٹھتے۔ اس مطالعے کی روشنی میں کرداروں کا تجزیہ پیش ہے۔
۱- سکّو
تین بتی کے راما کا بنیادی کردار سکو نام کی راما (آیا) کا ہے۔ ناول کی کہانی سکو کے کردار کے چاروں طرف ہی گھومتی ہے اور سکو کے کردار کے وسیلے سے ہی دوسرے کردار اور ان کی جہات قاری پر کھلتی ہیں اور واقعات بھی سکو کی زندگی اور حالات زندگی کے ہی آئینے دار نظر آتے ہیں۔ سکو کا کردار ایک ایسی عورت کی داستان ہے جس کی تمام خواہشات اور آرزوں کو فریبی اور استحصال نے کچل کر رکھ دیے ہیں۔ وہ لگاتار دولت مند سیٹھوں کی ہوس کا نشانہ بنتی رہتی ہے۔ اور ایک حیوان سے بھی بدتر زندگی گزارنے پر مجبور رہتی ہے۔ سکو کے کردار کا ہر پہلو اخلاقی اعتبار سے زوال کے اندھیروں میں ڈوب چکا ہے۔ اسے زندگی کی کسی مثبت قدر پر اب کوئی یقین نہیں۔ اسے یہ انکشاف ہوچکا ہے کہ مرد اسے اپنی ہوس کا شکار تو بنا سکتے ہیں۔ اس کے جسم کو حاصل کرنے کے لیے بے چین بھی ہوسکتے ہیں لیکن کوئی اس سے شادی کرکے ایک باعزت زندگی دینے پر راضی نہیں ہوسکتا۔
مردوں کی اس اخلاقی بزدلی نے اسے تمام دنیا سے متنفر کردیا ہے۔ اور سکو کے اندر ایک خاص قسم کی بے رحمی بھی پیدا کردی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سکو ڈھونڈو کے مجبور کرنے پر بھی پرکاش سے شادی کرنے پر راضی نہیں ہوتی۔ علی امام نقوی نے سکو کے کردار کو ایک تہہ دار کردار بناکر پیش کیا۔ یہ ایک سپاٹ کردار نہیں بلکہ ایک مددی کردار ہے جس پر پر تین ہی پرتیں پوشیدہ ہیں۔ ناول نگار کا کمال یہ ہے کہ سکو کے کردار کے ذریعہ اس نے اپنی طرف سے کچھ بھی کہنے کی کوشش نہیں کی ہے۔ بلکہ یہ قاری پر مکمل طور پر چھوڑ دیا ہے کہ وہ اس کردار کو کس طور پر سمجھتا ہے۔ یا اس کا تجزیہ کرتا ہے۔ سکو کے کردار کے حوالہ سے کہی سے زیادہ ان کہی کی اہمیت ہے۔ نفسیاتی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ سکو پرکاش سے شادی کرنے کے لیے اس لئے نہیں راضی ہوتی ہے کہ اب اس کی عصمت تار تار ہوچکی ہے، اور وہ پاک دامن نہیں رہی۔ اس کے جسم کو دوسرے مرد اپنی ہوس کے لیے استعمال کرتے رہے ہیں۔ لہذا سکو کے پاس اپنے شوہر کو دینے کے لیے کچھ بھی نہیں بچا۔ ظاہر ہے کہ ایک عورت کے لئے اپنے مرد کو دینے کے لیے اس کی پاکدامنی اور عفت و عصمت ہی ہوتی ہے۔ اور جب یہ تباہ ہوچکے ہوں یعنی جب جسم پامال ہوچکا ہو تو روح بھی پامال ہوجاتی ہے۔ اس لیے سکو اب اس غلط فہمی میں نہیں جینا چاہتی کہ شادی کرکے وہ ایک باعزت زندگی بنا سکے گی۔ محبت کا وہ رشتہ جو شوہر اور بیوی کے درمیان قائم ہوتا ہے اس کی نفسیاتی جڑیں جسم ہی میں پیوست ہیں، اور سکو کا جسم اب باسی ہوچکا ہے۔ وہ اپنے شوہر کو جھوٹا اور باسی کھانا نہیں پروسنا چاہتی۔ سکو جانتی ہے کہ پرکاش ہو یا کوئی اور اس سے شادی کرنے کے بعد بھی اس کے ساتھ خوش نہیں رہ سکے گا اور ایک صحت مند زندگی چاہے وہ ذہنی اعتبار سے ہو چاہے سماجی اعتبار سے ہو، شادی اس کی ضامن نہیں ہوسکتی۔ مگر اہم بات یہ ہے کہ علی امام نقوی نے یہ سب کچھ اپنی طرف سے نہیں کہا ہے۔ سکو کے کردار سے اگر سرسری طور پر گزر جایا جائے گا تو اس کردار کی پوشیدہ جہات قاری پر روشن نہیں ہوسکیں گیں۔ اس لئے ضروری ہے کہ نفسیاتی اعتبار سے اور ایک عورت کے جذباتی وسائل کو مد نظر رکھتے ہوئے اس کردار کا مطالعہ کیا جائے۔ آگے چل کر ہم دیکھتے ہیں کہ سکو کے کردار کی ساری بے رحمی انہیں حالات کی دین ہے، جن میں وہ جکڑی ہوئی ہے۔ اور جن سے وہ پیچھا بھی نہیں چھوڑا سکتی۔
ایک سیٹھ کے مرنے کے بعد دوسرے سیٹھ سے رشتہ بناتی ہے اور اس پر شرمندہ نہیں ہوتی۔ اسے اس بات کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی کہ پرکاش یا موہن اس کے بارے میں کیا سوچیں گے۔ وہ جانتی ہے کہ ایک دن وہ سارے لوگ بھی جو اس سے ہمدردی رکھتے ہیں، اس سے مکمل طور پر بد ظن ہوجائیں گے۔ مگر اس کے لئے وہ کوئی جھوٹا سمجھوتہ کرنے پر تیار نہیں ہوئی۔ سکو کے کردار کی یہ بے راہ روی در اصل عورت کے مجبوری کی علامت ہے اور اس مجبوری کے تئیں ایک برہم رویے کی غماز۔
اس ضمن میں ایک اقتباس پیش ہے:
وہ دونوں ایرانی ہوٹل کی ایک میز پر آمنے سامنے بیٹھے ہوئے تھے اور موہن برابر والی کرسی پر خاموش بیٹھا ان دونوں کو دیکھ رہا تھا۔ دھونڈو کی آنکھوں میں سوالات کی آگ روشن تھی اور پرکاش کی آنکھوں میں ویرانی بسیرا کیے ہوئے تھی۔ ایک ٹھنڈی سانس خارج کرتے ہوئے پرکاش نے موہن کو دیکھتے ہوئے دھونڈو سے کہا۔
’’اب تم بتاؤ دھونڈو با۔ میں کیا کروں؟
’’بولوں
’’ہاں بولو
’’تم… تم سکو کا وچار چھوڑ دو
پرکاش کی چبھتی ہوئی نظریں ڈھونڈوں کی طرف اٹھ گئیں۔ موہن نے آہستہ سے پرکاش سے کہا
’’تم کوئی دوسری لڑکی سے لگن بنا لو
’’لگن
’’ہاں لگن
’’وہ کرسکتا ہوں۔ پن پریم… میرے کو سکو سے ہے
’’اور اس کو پریم ہے مایا سے۔ جو تمہارے پاس نہیں ہے
دھونڈو نے اس کی بات پر تبصرہ کیا تو پرکاش نے اس کی تائید کی۔ کچھ دیر کی خاموشی کے بعد اُس نے دونوں سے کہا
’’تو تم دونوں۔ اپنی کوشش میں ناکام رہے
دونوں میں سے کسی نے بھی اس کی بات کا کوئی جواب نہیں دیا۔ پرکاش نے دونوں کے جھکے ہوئے سروں کو دیکھا اور کرسی سے اٹھ گیا۔ موہن اور دھونڈو نے سر گھما کر اُسے ہوٹل کے زینے اترتے ہوئے دیکھا، ان کی نظریں لوٹیں، سنگ مرمر کی گول میز پر پل بھر کی خاطر رکیں۔ پھر اٹھیں۔ ایک دوسرے سے متصادم ہوئیں اور پھر جھک گئیں۔ کافی دیر تک دونوں اسی عالم میں بیٹھے رہے، پھر اس خاموشی کو موہن نے توڑا
’’کیا کرنا چاہیے دھونڈوبا
’’وہ… سدھرنے والی نہیں موہن
’’پھر
’’پھر کیا؟ یہ پرکاش گپ چپ چلا گیا۔ میرے کو تو ڈر لگ رہا ہے۔
’’کیوں
’’یہ جاستی کرکے گپ چپ رہتا ہے۔ اور…
’’اور کیا
’’میں سنا۔ گپ چپ رہنے والا آدمی ڈینجر ہوتا۔ سمجھا کیا۔‘‘
(تین بتی کے راما- علی امام نقوی، قلم پبلی کیشنز، بمبئی، 1991ء، ص۱۴۱،۱۴۲)
اس اقتباس سے بھی صاف ظاہر ہوتاہے کہ سکو کی یہ روح کی برہمی ہے۔ یہ برہمی ایک ایسے منفی راستے پر گامزن ہے جو کسی دوسرے کو تباہ کرنے کے بجائے خود اپنے آپ کو ہی تباہ کر رہی ہے۔ ایسا نہیں کہ سکو کو اس کا احساس نہیں ہے لیکن سکو جانتی ہے کہ برسوں پہلے اس کی روح مرچکی ہے۔ لہذا اب وہ صرف اپنے جسم کو ڈھونڈ رہی ہے۔ اور جب تک جسم باقی ہے ، جوانی باقی ہے تب تک وہ اپنی دانست میں اسی انتقامانہ رویہ پر قائم رہے گی۔
یوں دیکھیں تو یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ سکو کا کردار ایک لخت کردار ہے۔ اس کی شخصیت دو حصوں میں منقسم ہوچکی ہے۔ شخصیت کا ایک حصہ محض ایک مشینی جسم بن کر رہ گیا ہے اور دوسرا حصہ ذہنی خود کشی کے راستے پر لگاتار آگے بڑھ رہا ہے۔
سکو کے کردار کے ذریعہ ناول نگار ہمیں اندھیری دنیاؤں کی سیر کراتا ہے۔ یہاں روشنی کی کوئی کرن نہیں۔ اوپری سطح سے دیکھا جائے تو سکو کا کردار اخلاقی اعتبار سے منفی نوعیت کا حامل ہے۔ لیکن اگر ذیلی سطح پر بغور مطالعہ کیا جائے تو ہم یہ بھی پاتے ہیں کہ سکو کی یہ بے راہ روی نام نہاد بد چلنی در اصل اس احتجاج اور برہمی کی علامت ہے جو وہ ان سفید پوش سیٹھوں، ساہو کاروں اور دولت مند طبقوں کے خلاف درج کرنا چاہتی ہے۔ ساتھ ہی مردوں کی جھوٹی اور اخلاقی بزدلی کے خلاف بھی ۔ ورنہ ایسا نہ ہوتا کہ سکو پرکاش سے شادی سے منع کرتی۔ موہن سے ایک ممتا بھرا رویہ نہ اپناتی۔ ہم یہ صاف دیکھتے ہیں کہ موہن کے تئیں سکو کے دل میں ایک بڑی بہن کا سا پیار ہے۔ اور سکو کی انا زخمی اور مجروح ہونے کے باوجود زندہ ہے۔ اس کردار کے ذریعہ ناول نگار ہمیں یہ بتانا چاہتا ہے کہ راماؤں کی دنیا اتنی اندھیری، اتنی گمنامی اور اتنی مایوس کن ہے کہ اس میں جینے والے کسی فرد کے پاس مکتی کے لیے کوئی راستہ نہیں۔ اس بھول بھلیوں سے نکلنا آسان نہیں۔ یہ راستہ لگاتار ایک زوال کا راستہ ہے۔
ناول نگار کے فن کی خوبی یہ ہے کہ اس نے روایتی ناول نگار کی طرح سکو کے کردار کے ساتھ اپنی طرف سے کوئی کھلواڑ نہیں کی ہے۔ یعنی اگر وہ چاہتے تو سکو کو شادی کرتا ہوا بھی دکھا سکتے تھے۔ غلاظتوں سے نکال کر اسے ایک باعزت عورت کی سی زندگی بتاتے ہوئے دکھا سکتے تھے۔ لیکن اگر ایسا ہوتا تو تین بتی کے راما پریم چند کا ناول ہوتا علی امام نقوی کا نہیں۔
۲- دھونڈو
ناول تین بتی کے راما میں دھونڈو کا کردار اگرچہ ناول کے بنیادی کردار کے زمرے میں نہیں آتا ۔ اس کے باوجود وہ اپنی صفات اور اپنے اعمال کے بنا پر قاری کے لیے بے حد دلکشی کا باعث بن جاتا ہے۔ ڈھونڈو ان ہی نچلے درجے کے آواراہ، جاہل، راماؤں میں سے ایک ہے ۔ اس کے باوجود اس کے اندر انسانیت کا ایک گہرا سمندر موجزن نظر آتا ہے۔ ناول کے ابتدا ہی میں ڈھونڈو اپنے مختلف طرزِ احساس اور طرز عمل کی بنا پر توجہ کا سبب بن جاتا ہے۔
ہم دیکھتے ہیں کہ دھونڈو کے کردار میں کسی قسم کا لجلجلاجذباتی پن نہیں پایا جاتا ہے۔ وہ زندگی اور زندگی کے اقدار کے تئیں ایک متوازن نظریہ کا حامی ہے۔ ڈھونڈو کو نہ صرف یہ کہ اپنی محرومیوں کے بارے میں علم اور احساس ہے بلکہ دوسرے راماؤں کے سلسلے میں بھی وہ بے حد حساس واقع ہوا ہے۔ ڈھونڈو کو خوب معلوم ہے کہ ان کو راما کس نے بنایا۔ یہ لوگ نچلی زندگی گزارنے پر کیوں مجبور ہیں۔ اپنا گھر بار، گاؤں، رشتے اور کنبہ چھوڑ کر یہ سارے لوگ ممبئی میں پیسہ کمانے کی غرض سے آئے ہیں۔ ان سب کی آنکھوں میں آتے وقت ایک خواب تھا۔ مگر بعد میں یہ خواب گندے پانی کے گٹر میں بہہ جاتا ہے۔ اگرچہ خوابوں کا سلسلہ راماؤں کی زندگی سے کبھی ختم نہیں ہوتا پھر بھی ہر راما سب کچھ بھول کر دوسرا خواب دیکھنے لگتا ہے۔ ان خوابوں میں وہ اپنے ماں باپ تک کو بھول جاتا ہے۔ لیکن اس کے ہر خواب کا انجام گندے پانی کے ایک گٹر پہ ہوتا ہے، جہاں یہ خواب گھٹتے رہتے ہیں، مرتے رہتے ہیں۔ اور ایک دن اس گٹر میں ان خوابوں کی سڑی ہوئی لاشیں رہ جاتی ہیں۔ ڈھونڈو کو ان سب کا احساس ہے۔ خواب اور حقیقت کا فرق جاننے لگا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ڈھونڈو موہن سے ہمدردی اور محبت سے پیش آتا ہے۔ اور اس کی بہن کی شادی کے لئے اسے اپنے خون پسینے سے کمائے ہوئے پیسہ بھی دینا چاہتا ہے۔ نفسیاتی طور پر ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کیوں کہ ڈھونڈو کی اپنی ایک بہن ہے جو گاؤں میں اس کی ماسی کے پاس رہتی ہے۔ اور موہن کی بہن کے بارے میں سن کر اسے اپنی بہن کی یاد آجاتی ہے۔ یعنی ڈھونڈو کا یہ رویہ پورے طور پر شعوری نہ ہو کر لاشعوری گھیتوں کا اظہار بھی کہا جاسکتا ہے۔ بقول سگمنڈ فرائڈ؛
’’لاشعور میں دبی ہوئی گتھیاں اور کچلی ہوئی اور پوری نہ ہونے والی خواہشات انسان کے شعوری عمل کو متاثر کرتی ہے۔ اور ان کی سمت متعین کرتی ہیں۔‘‘
(Sigmend Freud, Inter Prtertion of Dreams, Oxford Book Store London، 1949ء، ص۲۴۵)
چوں کہ دھونڈو کے لاشعور میں یہ احساس موجود ہے کہ اسے ان ذمہ داریوں کو پورا کرنا ہے جو وہ نہیں کرسکا اور جن کی خاطر وہ سب کچھ چھوڑ کر بمبئی آیا تھا۔ اور اس لیے یہ احساس ایک قسم کے احساسِ جرم میں بدل چکا ہے۔ اور اس کے ضمیر پر ایک بوجھ بن چکا ہے۔ اس احساس جرم کو ہلکا کرنے کے لیے وہ موہن کے ساتھ محبت اور ہمدردی سے پیش آتا ہے اور اس کی مدد کرنا چاہتا ہے۔ ڈھونڈو کے کردار کا بغور مطالعہ کرنے کے بعد ہم یہ بھی پاتے ہیں کہ پورے ناول میں کہیں بھی اس کا کردار جبلی سطح پر بے قابو نہیں ہوتا۔ وہ دوسرے کی مدد کرنے کے لئے ہمیشہ تیار رہتا ہے اور راماؤں کے گندے فحش مذاق میں ان کے ساتھ رہ کر بھی اس مذاق سے ایک طرح سے بیگانہ ہی رہتا ہے۔
دھونڈو کو نا صرف یہ کہ محض روپے پیسے کے ذریعے یا خالی خولی ہمدردی جتانے سے ہی تسلی ملتی ہے، بلکہ اس کے کردار کی اخلاقی جہات کافی مضبوط نظر آتی ہیں۔ وہ سکو اور پرکاش کی شادی ہوتے دیکھنا چاہتا ہے اور اس کے لئے کوشاں ہے۔ دھونڈو کو یہ علم ہے کہ ایک مدت کے لیے باعزت اور با ضمیر زندگی بتانے کے لئے شادی کتنی ضروری ہے۔ سکو کی عزت بچانے، اس کے نسوانی وقار کو بحال کرنے اور سماجی اور اخلاقی اعتبار سے ایک با اعتبار زندگی دینے کے لئے یہ ضروری ہے کہ سکو کی شادی کردی جائے۔ لیکن سب سے بڑا مسئلہ ناول میں یہی ہے کہ سکو سے شادی کون کرے گا۔ ڈھونڈو اپنی کوششوں سے پرکاش کو اس بات کے لئے تیار کرتا ہے کہ وہ سکو سے شادی کرلے۔ اگرچہ سکو اس پر راضی نہیں ہوتی۔ ایک اقتباس ملاحظہ فرمائے۔
’’موہن یہ روپیہ رکھ…… دو ہجار ہے پورا، سمجھا کیا
’’کیسا؟
’’کیسا۔ بولے تو… وہ دن تو، بولا ہوتا۔ تیرا بہن کا لگن کرنے کا ہے
’’پن اس کا لگن میرے کو، میرے باپ کو کرنے کا ہے!
’’بروبر— پن اپن کچھ بول سکتا کیا
’’بولو
’’تیرے اور تیرے باپ کے بیچ میں تیرا کوئی نہیں آسکتا؟
’’آسکتا- پن و ہ تم تو نہیں
’’اپن کائے کو نہیں؟— دھونڈو نے ایک ایک لفظ چباکر پوچھا، موہن صرف اسے دیکھ کر رہ گیا۔ سکو بھی ساری سمیٹ کر دونوں کے سامنے بیٹھ گئی تھی، اس نے پوری بات سنی تھی اور اب وہ اپنے دل میں بے چینی محسوس کر رہی تھی، جب اُس کی بے چینی بڑھی تب اُس نے موہن سے پوچھا
’’میں بول سکتی کچھ، منجے پوچھ سکتی
’’ہا
’’میں تمہارے سے پوچھتی دھونڈوبا۔ تم کیا کرنے کو منگتے ہو؟
’’اپن سمجھا نہیں
’’میں گمبھیر بات نہیں کی۔ وہ دن تم میری شادی کی بات کرے۔ آج تم … یہ روپیہ لائے
’’بروبر بولی تو— پن میں بھی تیرے کو پوچھتا۔ تو، یہ سب کائے کو پوچھتی؟ سکو ایک لمحہ کے لئے سٹ پٹا کر رہ گئی، اُس نے کنکھیوں سے موہن کی طرف دیکھا، پھر دھونڈو کے چہرے پر نظریں جما دیں۔ کافی دیر تک دونوں ایک دوسرے کو دیکھتے رہے، پھر دھونڈو نے سکو سے کہا
،،،،،،،،،،،،،
’’پن موہن نہیں بھولا
’’مالوم میرے کو۔ میں بھی کدھر بھولا۔ پن… بھولتا جاتا ہوتا۔ یہ موہن ادھر آیا تو یاد آیا کہ اپنا بھی ایک بہن ہے ادھر گاؤں میں۔ ماسی کے پاس۔ پھر وہ دن موہن بولا، اس کا بھی ایک بہن ہے۔ اپن کو لگا وہ بھی اپناچ بہن ہے۔ کر کے… کرکے… اپن… اپن یہ… تھوڑا… بندو… بست کیا۔ آخری جملے کی ادائیگی دھونڈو نے رندھے ہوئے گلے سے کی تھی۔ سکو نے اس کی بدلی ہوئی آواز سن کر موہن کو روپئے لینے کا اشارہ کیا۔ موہن دری سے اٹھ بیٹھا۔ اس نے آگے بڑھ کر ڈھونڈو کا دایاں ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں میں لیا پھر جھک کر اس نے دھونڈو کا ہاتھ چوما اور نوٹ لے کر تکیے کے غلاف میں ٹھونس دیئے۔
’’تم روتے ہو دھونڈو با؟ سکو نے غیر ارادی طور پر دھونڈو کے شانے پر ہاتھ رکھتے ہوئے پوچھا
’’نہیں تو
دھونڈو نے مسکرانے کی کوشش کرتے ہوئے کہا۔ لیکن اس کوشش میں وہ مضحکہ خیز ہوکر رہ گیا تھا۔ موہن نے اپنی بھیگی ہوئی آنکھوں سے اسے دیکھا۔ پھر اسے مخاطب کیا۔
’’اے… دھونڈوبا
’’بول
’’کون سے جنم کا رشتہ ہے۔ اپنا، تمہارا؟
’’مالوم نہیں پن… کچھ ہے۔ اتاچ لگتا میرے کو۔ سمجھا کیا
دھونڈو نے دائیں، بائیں، شانوں سے اپنی آنکھیں صاف کرتے ہوئے جواب دیا۔
’’میرے کو بھی لگتا۔ کچھ ہے۔ موہن نے چادر سے اپنی بھیگی ہوئی آنکھیں پونچھتے ہوئے کہا۔ سکو ان دونوں کو خاموشی سے دیکھ رہی تھی۔ خود اس کے اپنے دل میں ایک تلاطم برپا تھا۔ جسے وہ کوئی نام نہیں دے پارہی تھی۔‘‘
(تین بتی کے راما- علی امام نقوی، قلم پبلی کیشنز، بمبئی، 1991ئص ۸۱، ۸۲، ۸۳، ۸۴، ۸۵ )
مجموعی طور پر ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ڈھونڈو کا کردار تین بتی کے راماؤں میں الگ چمکنے والا کردار ہے۔ محبت، خلوص، ہمدردی، نیکی، یہ سب اس کے کردار کی نمایاں خصوصیات ہیں، جن سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ڈھونڈو کی روح اس ماحول میں بھی مردہ نہیں ہوئی۔ اسے انسانیت پر بھی یقین ہے اور انسانیت کے مستقبل پر بھی۔ اگرچہ وہ بے حد پریشان حال اور مایوس ہے۔ اس کے سپنے تار تار ہوچکے ہیں۔ اس کے باوجود وہ دوسرے راماؤں کے سپنے پورے ہوتے دیکھنا چاہتا ہے۔ ان کے وقار کو بحال کرنا چاہتا ہے اور اس طرح انتہائی ماحول اور غلاظتوں میں زندگی گزارنے کے باوجود، زندگی کی مثبت اخلاقی اقدار پر سے اس کا یقین پوری طرح سے اٹھا نہیں ہے اور یہ خصوصیت ہم ہر جگہ اس کے کردار میں پاتے ہیں۔ علی امام نقوی نے ڈھونڈو کا کردار تخلیق کرکے کوئی آئیڈیل یا ٹائپ کردار نہیں پیش کیا ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ وہ اس ذہنی پستی اور زوال میں شامل نہ ہو، جس میں دوسرے راما گرفتار ہیں۔ بلکہ ڈھونڈو کے کردار کی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں کیچڑ بھرے ماحول میں رہنے کے باوجود بنیادی انسانیت کی رمق بہت روشن ہے۔ سماجی اور نفسیاتی اعتبار سے ڈھونڈو کا کردار ناول کا ایک اہم کردار ہے۔ اور ادبی اعتبار سے بھی اس خصوصیت کا بھی حامل ہے کہ اہم واقعات کے موقع پر ناول کا ماجرا ڈھونڈو کے کردارکے ذریعہ ہی آگے بڑھتا ہے۔ دوسرے راماؤں کے زندگی میں ذہنی اور جذباتی تبدیلی زیادہ تر ڈھونڈو کے ذریعہ ہی تحریک پاتی ہے۔
اگر یہ کہا جائے تو نامناسب نہ ہوگا کہ علی امام نقوی نے ناول کی ٹیکنک میں ڈھونڈو کے کردار کو ایک Motif کی طرح استعمال کیا ہے۔ یہ Motif اندھیرے سے روشنی کی طرح بڑھتے رہنے کی ایک علامت ہے۔
۳- پرکاش
تین بتی کے راما کا ایک کردار پرکاش بھی ہے، جسے کچھ نہ کچھ اہمیت ضرور حاصل ہے۔ پرکاش سکو سے محبت کرتا ہے لیکن اس کو زوال کے راستے پر دیکھ کر اس سے بدظن ہوجاتا ہے۔ بعد میں دھونڈو کے سمجھانے اور مجبور کرنے پر وہ سکو سے شادی کرنے پر آمادہ بھی ہوجاتا ہے۔ اگرچہ یہ شادی نہیں ہو پاتی ہے۔ پرکاش کے دل میں سکو کے لئے محبت کا جذبہ یقینا موجود ہے۔
اسی لیے وہ ناول کے اختتام میں اس سیٹھ سے ہاتھا پائی بھی کرتا ہے جو سکو کا جسمانی استحصال کرتا رہا تھا۔ لیکن اس سب کے باوجود نفسیاتی اعتبار سے پرکاش کا کردار ایک معقول (Passive) کردار ہے۔ اس کردار میں ایک خاص قسم کا کنفیوژن بھی پایا جاتا ہے۔ جیساکہ پہلے عرض کیا گیا کہ علی امام نقوی نے ناول کو کچھ اس انداز سے پیش کیا ہے کہ کہی سے زیادہ ان کہی کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔ اگر اس اعتبار سے دیکھیں تو یہ کہا جاسکتا ہے کہ اگر شروع سے ہی پرکاش چاہتا تو سکو کو گندگی کے اس راستے پر چلنے سے بچا سکتا تھا اور اپنی سچی محبت کے ذریعے اسے مردانہ تحفظ بھی فراہم کرسکتا تھا، لیکن ایسا نہیں ہوا۔ اس میں مستقل مزاجی کی کمی تھی۔ سکو جیسی عورت کے دل کو سمجھا ہی نہیں۔ پرکاش کے کردار میں ایک ایسا غبی پن پایا جاتا ہے جو عورت اور نسوانی وقار وہ اس کے پوشیدہ گوشوں کو سمجھ پانے میں ہمیشہ ایک رکاوٹ ڈالتا رہا ہے۔ اسے خود یقین نہیں ہے کہ سکو سے شادی کے بعد کیا ہوگا جبکہ سکو کو یہ معلوم ہے کہ پرکاش کس قسم کا مرد ہے۔ پرکاش کے تئیں دل میں نرم گوشہ رکھنے کے باوجود اب زندگی کے اس موڑ پر وہ کسی خوش گمانی میں مبتلا نہیں رہنا چاہتی ہے۔
اس طرح دیکھا جائے تو پرکاش کا کردار ایک عام سا کردار ہے۔ اسی قسم کے کرداروں سے ہم اپنی حقیقی زندگی میں ہمیشہ نبرد آزما رہتے ہیں۔ ہمارے چاروں طرف زیادہ تر پرکاش جیسے ہی کردار ہیں۔ جن کے لاشعور میں یہ گتھی پوشیدہ رہتی ہے کہ وہ بھلائی کا یا نیک کام کرکے بہت بڑا کارنامہ انجام دے رہے ہیں۔ یا یہ کہ کوئی بہت بڑی قربانی انجام دے رہے ہیں۔ اب اس طرح ایسے اشخاص ایسے لوگوں کے سامنے احساس برتری میں مبتلا رہنا چاہتے ہیں جن پر وہ کوئی احسان کرتے ہیں اور دوسرے کی انا اور خود داری کو کچلتے ہوئے دیکھنے میں ہی ان کو مسرت حاصل ہوتی ہے۔
علی امام نقوی نے پرکاش کے کردار کو عمدگی کے ساتھ پیش کرکے ہمیں اپنے آس پاس زیادہ تر نظر آنے والے اشخاص کی بھی سچی تصویر دکھانے کی کوشش کی ہے۔
(۴) موہن
ناول میں موہن کا کردار شروع سے آخر تک انسانی معصومیت کی علامت کی طور پر پیش کیا گیا ہے۔ موہن ان راماؤں میں سب سے کم عمر ہے۔ اور نیا نیا بمبئی آیا ہے۔ ابھی وہ راماؤں کے رنگ میں پوری طرح رنگا نہیں ہے۔ اس کا لڑکپن اور معصومیت برقرار ہے۔ اس کی یہی معصومیت اور سچائی ڈھونڈو اور سکو کو اس سے ہمدردی رکھنے اور محبت کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔ موہن نا پختہ کار ہے اس کو دنیا کی بے رحمیوں کے بارے میں کوئی علم نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سکو کے لیے اس کے دل میں کوئی گندہ جذبہ نہیں پیدا ہوتا بلکہ جب لوگ سکو کو گالی دیتے ہیں تو وہ ان سے لڑتا جھگڑتا ہے اور اپنے غم و غصہ کا اظہار کرتا ہے۔ وہ اپنی بہن کی شادی کے واسطے روپیہ کمانے کے لیے اس گندی اور جہنم نما دنیا میں آیا ہے۔ اس کی بنیادی معصومیت آخر تک ختم نہیں ہوتی۔ وہ سکو کو اپنی بہن ہی سمجھتا ہے اور ناول کے اختتام میں جب اسے پتہ چلتا ہے کہ سکو چھپ چھپ کر رات کو سیٹھ کے پاس جاتی ہے تو اس کو جتنی تکلیف ہوتی ہے وہ بیان سے باہر ہے۔ ایک اقتباس ملاحظہ فرمائیے۔
’’یہ بہت دکھی ہے یار
ہونا ہی چاہیے۔ اس کو دکھی۔ ونے کے تبصرے پر موہن نے اپنی آنکھیں صاف کریں۔ پھر اس کو دیکھا جو اسی سے مخاطب تھا۔
’’چکنے بہنوں کو چھینالہ کرتے اپن بہت دیکھا۔ پن— کوئی چھنال کو بہن بناتے پہلی بار دیکھا۔ اور…… وہ کچھ اور بھی کہنا چاہتا تھا۔ لیکن ڈھونڈو نے اس کے شانے پر رکھے اپنے ہاتھ کی ہتھیلی کا دباؤ صرف کرکے اسے خاموشی اختیار کرنے کا اشارہ کیا تو وہ صرف ڈھونڈو کو دیکھتا رہ گیا۔‘‘
(ایضاً، ص ۱۳۸ )
صاف ظاہر ہے کہ موہن کی تکلیف اور غصے کا سبب یہ ہے کہ اس نے اپنی بہن کو بد چلنی کے راستے پر آگے بڑھتے ہوئے دیکھا ہے جو ہر بھائی کے لیے تکلیف اور نفرت کا سبب ہوگا۔ موہن پرکاش کی طرح شراب کے نشے میں یا اپنے انا کے نشے میں چور نہیں ہے۔ موہن کا یہ رویہ اس کے کردار کی سچائی اور معصومیت کا آئینہ دار ہے۔
یوں دیکھا جائے تو موہن کا کردار بھی راماؤں کے اس اندھیری دنیا میں روشنی کی ایک رمق ہے۔ ناول نگار یہ نہیں بتاتا کہ آگے چل کر موہن کا مستقبل کیا ہوگا۔ وہ بھی دوسرے راماؤں کی طرح گندگی اور غلاظت کے اس ڈھیر میں اپنی شخصیت اور کردار کو کھو بیٹھے گا یا اس سے باہر نکل کر اپنی بنیادی انسانی معصومیت کو برقرار رکھ پائے گا۔
ان کرداروں کے علاوہ اس ناول میں چند ذیلی اور ثانوی نوعیت کے کردار بھی ہیں جو جگہ جگہ نظر آتے ہیں اور غائب ہوجاتے ہیں۔ مثلاً ونے کا کردار جو خود سکو پر بری نظر رکھتا ہے۔ یا انو کا کردار یا سیٹھ اور سیٹھانی کا کردار اور اس کے علاوہ مشہور فلمی ہیرو جے کی شراف کا کردار جو ناول میں حقیقت کا رنگ بھرنے کے لیے بڑی خوبصورتی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔
اس مطالعہ کے پیش نظر ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ علی امام نقوی نے اپنے اس مختصر سے ناول میں جو بھی کردار پیش کیے۔ وہ تہہ داراور نفسیاتی پیچیدگیوں کی عکاسی کرتے ہوئے نظر آتے ہیں جو کہ ناول نگار کی اعلیٰ کردار نگاری، نفسیاتی در وں بینی، سماجی شعور اور انسانی ہمدردی اور خلوص کی آئینہ دار ہے۔ اور بطور ایک ناول نگار علی امام نقوی کو ایک اہم اور ممتاز مقام دینے کی گواہ بھی۔
مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

