وباکے موسم سے پہلے کی بات ہے۔شہر میں ازدحامنے ڈیراجمایاہواتھا۔شاہراہیں نصف شب تک موٹرگاڑیوں کی آمد ورفت سے پر ہوتی تھیں۔مال بردارٹرک اور ہوائی پروازوں کے مسافروں کاسلسلہ یکدم نہ تھمتاتھا۔ہاں یہ فرق اس شور میں ضرور تھاکہ دن میں انسانی آوازیں مشینیآوازوں کی متانت کو مجروح کر دیتی تھیں۔گاڑیوں کے فراٹے انسانوں کے خراٹے کی بدولت آرام سے سانس لیتے اور صاف سنائی دیتے۔
آبادی کی کثرت نے ماحول کو بہت بے بس کیاہواتھا۔اگر مانیں تو ماحول کے دم میں بس انسانی بخارات کے لیے ہی گنجائش بچتی تھی۔میٹرو پولیٹن سٹی وہ بھی اکیسویں صدی کا دارالحکومت صرف انسانی بخارات پر قانع ہو جائے،یہ ممکن ہی نہ تھا۔گاڑیوں،موٹروں،جہازوں کا دھواں، زیر تعمیر عمارتوں کاگرد وغبار ، پڑوسی صوبوں میں فضلۂ کاشت کی آتش نذری،سب مل کراپنا الگ آسمان بنانے میں مصروف تھے۔
کئی پیڑوںسےدن کے وقت ملاقاتیں ہوئیں تو وہ انسانوں سے زیادہ مصروف نظر آئے۔مجھے تعجب ہوا۔یہ فطرت کے طبیعی کام پر مامور ہیں۔اس شہر میںیہ ہریالی کو بچانے اور اگانے کااہتمام بھی ہے پھر یہ کیوں کر اس قدر ہلکان نظر آتے ہیں۔دن میں کار میں سوار جب بھی شاہراہ سے گزرتےوقت دورویہ پیڑوں کودیکھتاتو وہ شور میں سکوت کی مہر لگائے دھوپ میں ایسے تپتے دکھتے جیسے مزدور چلچلاتی دھوپ میں اپناخون پسینہ جلاکر اپنے لقمے کے لئے خود کو بن چھری نفس نفس حلال کرنے میں مصروف ہوں۔یونیورسٹی کی چہار دیواری میں رہتے ہوئے رات کے آخری پہر کبھی کبھار لائیبریری سے لوٹتے وقت بارہا پیڑوں کو اپنی تکان اتارتے دیکھا۔کئی بار خیال آیاکہ ان میں سے کسی سےہمکلام ہونے کاموقع ملے لیکن کسی پیڑ نے منھ نہ لگایا۔سب کامنھ تا کتااپناسامنھ لے کر رہ جاتا۔میں نےبارہاان کے منھ کے دہانوں کو تلاش کرنے کی کوشش کی کہ کہیں سے تو یہ بول پڑیں لیکن میری رسائی نامراد رہی۔ایک دن میں اپنے حرم آرزو کا طواف کرکے ،سر میں سروراور دل میں گداز کانور لیے لوٹ رہاتھا کہ ایک جٹادھاری پیڑ سے سامناہوا۔میں اس سے پہلے بھییہاں سے بلامبالغہ سومرتبہ گزرا تھا۔یہ میرے رہائشی کمرے کے بالکل پیچھے تھالیکن اس نے کبھی مجھے ایسے مکاشفے پر مجبور نہ کیا۔اس وقت یہ شجر جرار، درخت چھتنار،دیو ہیکل کی صورت اپنی جٹائیں اپنی تن ومند خضیر وحطیب پیڑی پر لپیٹے بہت ہی جزبز اور نالاں معلوم ہوتاتھا۔میں بہت سی کیفیتیں لئے اس سے گزراہوں گا،غمناک،المناک،اضطراب اور مطربانہ بھی لیکن اس سے پہلے اس سے مکالمے کاکوئی اتفاق نہ ہوا۔اس نےمیرے گداز اور گدگدی داز احساس کو یکلخت اڑن چھو کردیا۔میں نے دیکھا کہ آج یہ راستہ بند ہے۔لوگ اپنی عبادتیں مکمل کر رہے ہیں۔آشیرباد لے رہے ہیں اور پرساد بھیبڑی احتیاط وعقیدت سے اپنی مٹھیوں میں سنبھالے ہوئے ہیں۔پیپل کا پیڑ اپنی پر اسرار خاموشی میں لپٹاجیسےسوگ میں مصروف ہو۔پیچھے سے ایک آدیباسی طالب علم آتادکھائی دیا۔ہوا ایکتیزجھونکا بدنکےکھلےہوئے حصوں کو چومنے اور کپڑوں تلے ڈھنکے کچھ حصوں میں پنکھاکرتے گزرا اور سارے پتے جھوم اٹھے۔پہلے پہل ان کی آواز خوفناک قہقہہ معلوم ہوئی۔پھر میں طرب آمیز بے ڈھڑک مردانہ کھلکھلاہٹ پر ٹھٹک گیا۔شری کرشن یاد آئے کہ گیتا میں انھو نے اسے اپناسوروپ کہاہے۔کرشن یادآئے اور کنہیاذہن میں نہ کوندے،یہ بھی پہلے نہ ہوا،اس دن ہوااور ذہن اکشے برِکْس کی طرف بڑھ گیا۔وشنو،کیشو، ناراین،ہری اور اچْیٌتْ دیو آئے اور پیڑ کے پتے، جڑیں ،شاخیں،تنے اور پھل سب ذہن سے سرسراکر گزر گئے۔پھر پیڑ کی کھلکھلاہٹ اور آدیباسی طالب علمکی آہٹ میرے ذہن پر چھتنار تان گئی۔میں سالک اشوک بھی نہ تھاکہ تپسیا میں مصروف رہاہوں اور مجھ پر کوئی حقیقت منکشف ہونے والی ہو۔میں پیڑ کے تنے میں غرق ہوا تو صادقین اپناآلۂ خطوط لئے میرے سامنے آکھڑآہوا اور لہراکرچلتابنا۔پیڑکے تن سے لپٹی جڑیں ، لٹکتی جٹائیں بہت سے ہیولے بنانے لگیں۔کتنے صورتیں عیاں ہوکر پنہاہوئیں اور کتنے منظر بن کے ہوا ہوگئے۔میں نے گردن اٹھائی اور پیڑ کی گردن پر لے جاکر ٹکادی ۔اس کے نالے اور کھلکھلاہٹ کاراز جانناچاہا،اس نے بڑی بے اعتنائی برتی،میںنے آسمان کی دور دیکھنے کی کوشش کی تو جیسے کسی نے میں میرے من کے کان میں سرگوشی کی”کب سے تم نے کھلادھلاآسمان نہیں دیکھا،دھودھیاچاندنی میں نہائی زمیں نہیں دیکھی؟ تارے نہیں نہارے۔میری سوچ نے حافظے کاتعاقب کیا تو یاد آیاکہیہی کوئی نوسال پہلے میں پارساسارتھی چٹانوں کے بیچ صرف اس منظر کی دید کے جایاکرتاتھا۔بالعموم گرمیوں کے دنوں میں جب سارے نوخیز جوڑے اپنے چوسے کی خواہشیں اوٹ میں پوری کرتے تھے۔ادھر چھ سالوں سے نئے یگ کی چنگھاڑ نے نئے بھکت جوڑوں میں خود اعتمادی کی وہ لہر چلی کہ چوسے ،کھسوٹے اور نوچے بڑی بےباکی سے چٹانوں کی بلندی پر ہونےلگےتو فطرت کی سرگوشی کےعمل میں خلل آنے لگااور میں نے جاناموقوف کردیاتھا۔
اس انکشاف کے بعد آسماں کی سیر میری نظر کے معمول میں شاملہوگئی۔میں نے پایاکہ ہمارے مشینی اور چبلی بخارات نے ایک نیا آسمان تانناشروع کردیا ہے۔عید چراغاں اور فضلۂ کساناں کی مہربانیاں ایک آدھ مہینے کے لئے یہ نیاآسمان بناہی دیتیں۔
پھیپھڑے کے عارضے میں مبتلا مریضوں کو اطباء آب وہوا کہ تبدیلی کے لئے چھوٹے شہروں کی طرف کوچ کرنے کی صلاح دینے لگے۔شہر کاہرشخص یابوڑھاکیابچہ اور کیاجوان سگریٹ کو ہاتھ نہ لگاکر بھی اسموکرکی سی تنفسی غذاپارہاتھا۔ماحول کی ابتری نے نو منتخب حکومت کو آڈ ایون کی سجھا ئی۔خیر اس فارمولے سے قدرے عافیت آئی۔لیکن دھودھیا چاند اوراجلے سورج کےخالص درشن اکثر موہوم رہنے لگے۔کبھی کبھی چاند اپنی چاندنی سمیت نظرآتاتو یوں لگتا جیسے وہ اپنی صورت دکھانے انسانیآسماں سےنیچے اترآیاہو۔ستارے جو مدھم ہوتے ان پر دھوئیں کی چادرپڑی ہونے کاشبہ ہوتا۔موسم سرما کی آمد اپنے ساتھ کہرآلود فضالاتاتو اس دلاسے کاسامان بھی ہوجاتاکہ سورج کی روپوشی اس سردہوااور کہرآلود فضاکی رہین منت ہے۔
وباکے موسم میں خبروں کے شور میں خدشات کی باڑھ آئی۔گاؤوں،قصبوں اور قریوں کے اکثر ساکنان اپنے وطن مالوف یامولود کو عازم سفر ہوئے۔متوسط طبقے کے لوگ یاتو گھروں میں قرنطینی سے ہوگئے یااپنے دیس سدھار کر گھروں میں بند ہوئےسارےاغنیاواثریا اپنی پرآشائش رہائشگاہوں میںمصروف خوش فعلی ہوئے۔ان خوش فعلیوں میں سب سے مرغوب خوش فعلی غریبوں اور عام شہریوں کے لئے احتیاط کی نصیحتوں پر مبنی ویڈیوکی اشاعت تھی۔سارے فنان اپنے گھریلو کاموں سے تفریح عوام وتشہیرنام کے نیک کام کرنے لگے۔خیرات کی حکومتی صدالگائی گئی تو کوش میں نذرانے رکھتے ہی اسے برگوش کرنے کے جتن بھی ہوئے۔
ساری دنیانے خوف کےسناٹے میں خدشوں کی سنسناہٹیں سنیں۔موت کے اندیکھے اُنیسیے19جرثومے نے کتنی صورتوں کوہلاکرکےرکھ دیا۔عام انسان نے اپنی بساط بھر خدشات کے گھوڑے دوڑائے۔اندیشوں کی ٹہنیاں توڑیں۔گمان کے اسپ سلیماں اڑائے۔وباکو وبانہ پایا۔اسےایک حیاتیاتی جنگ خیال کیا،جس میں پوری دنیاکی بڑی طاقتوں کااسپ ہویٰ اپنے نعلوں سے دنیا کا سکون روندرہا تھا ۔خیال ہوا کہ معیشت کامدار بدل رہاہے۔طاقت کاپایۂ تخت سرک رہاہے۔مدوردنیانئے مدارکی تلاش میں وقفے کاسانس لینے کے لئے رکی ہے۔دنیاموقوف ہوئی نہیں، کی گئی ہے۔کائناتی مظہرنےاس گولے سے انسانوں کےاغوا ہونے کی آرزو کی۔تشہیروترسیل کے سارے ذرائع اسے عالمی وباکہنے اور بتانے پر مصررہے لیکن زیر زمین انسان نے اپنے جہنم کی آگ پچھانے کی تگ ودو نہ چھوڑی۔سیاست کے کاروبار جاری رہے۔متحرک بساط عالم نے اپنی سانسوں کو اجباری آرام جو دیاتو عقل پسندوں نے اسے کھیل جانا۔مذہب کے نام لیواؤں نے اسے غیبی غیض وغضب مانا۔
بڑے شہروں کے غیرمقامی مزدوروں نے پیدل ہی اپنے اپنےدیسوں کی راہ لی۔سارے شہر مقفل ہوئے۔زندگی میں بس سانس لینے کی گنجائش باقی رکھی گئی۔بھوک نے کروٹ بدلی تو نادار آنتوں کی انگڑائیوں سے وجود کی سانسیں پھولنے لگیں۔سارے رحم دلوں نے اپنی زبانوں اور انگلیوں کو حرف وصدا پر لگاکر مجبوروں سے اظہار ہمدردی پر خود کو مجبور کیا۔مخیروں نےدہانوں میں لقمے رکھ کر اپنی خیرکاری کی بولتی تصویری شہادتیں محفوظ کیں۔ ضرورت مندوں تک چپکے چپکے سامان خوردنوش پہنچاگیا۔اتنےجتن کے باوجود غربت گلہ پھاڑے چلاتی رہی۔عملے اور جملے ناکافی ہونےلگے۔عوام کی کھوپڑیوں میں مغز اگنے لگا۔مدماتی آنکھوں میں بصیرت کی ٹکیاپھوٹنے لگی تو حاکم وقت کی نبض باشعورنے جھٹکا لیا۔من میں گھنٹیاں بجیں پھر منومن گھنٹیاں گونجیں۔چیخیں ماند نہ پڑیں۔ترسیل کی آنکھیں پیدل چلتے مزدوروں کے افلاس کو کھاتی رہیں۔ذائقہ نیاضرور تھالیکن مرغوب نہ تھا۔ پھر دیروحرم کاازلی قضیہ آیااور گھاس کی طرح چراگیا۔اہل حرم مردود حرم ہوئے۔
زندگی کے تعطلنے مشینی بخارات کو موقوف کیا۔سارے شجر مسکرا تے رہے۔پرند چہچہاتے رہے۔حشرات الارض نے جشن کیا۔انسان اپنے بل میں سمایاہواتھا۔اس افواہ کے بیچ کہ وباکااغواہواتھا ،کائنات کے سارے رنگ مسکرااٹھے تھے،انسان کے بغیر۔
آسمان میں روشن سورج مسکرارہاتھا۔بادل نےپھر سے روئی کے گالوں سی صورت پائی تھی۔چاندفرش زمیں پر چاندنی چھٹک رہاتھا۔تارے اپنیاپنیمسافتوں میں اپنامدارناپ رہے تھے۔فضاکو پھرسے اپنی فطری سانسیں میسر ہوئی تھیں۔
یہ تب ہواتھاجب انسان کی سانسیں اکھڑ رہی تھیں۔
وباکے دن ٹلے۔مصروفیت کی نئی صبح طلوع ہوئی تو فطرت نےصاف سانسوں پر اصرار شروع کیا۔چاندنےگدلے پانی کے سحاب سے بنی بادلی چادر اوڑھنے سے انکار کیا۔انسان کے بس میں نہ تھا۔وہ اپنی سہولت پسندی سے مجبور تھا۔اسنے تعطل کے دنوں کی کسر نکالنی شروع کی جلد ہی کائنات نے ہچکیاں لینی شروع کردیں۔چاندکی ریت پر بنے دھومل گھوڑے نے چھلانگ لگادی اور کتنی کہانیاں گم ہوگئیں۔انساننے چھینکوں کے سیل رواں سے نجات پائی اورکائنات نے جھکولے کھانے شروع کئے۔
سارے انسان اپنےاپنےملک کےمیدانوں میں کھڑے تھے۔کوئی گروہ بکریوں اور گایوں کو پالنے کی دعامانگرہارتھا۔سارے سامان جنگ ناکارہ کرکے سب گھوڑوں ،تلواروں، برچھیوں، نیزوں اور زرہوں پر لوٹنے کی قسمیں کھا رہے تھے۔سارے زراعت پیشہ اصلی اجناس اگانےکاپرن لے رہے تھے۔بھنیسیں بانسری بجارہی رھی تھیں۔کتے گیت گارہے تھے۔سانپ تریاقاگل رہے تھے۔بکریابھیڑیوں کےجسمو ں پر اپنی سینگوں سے کھجلی کر رہی رہی تھیں۔شیر ہرن کےبچے کوگود میں لئے اس کامنھ چوم رہا تھا۔آخر کاقصہ بس اتنامعلوم ہوا کہ حرف مٹ گیاتھااورنطق معدوم ہوا۔
گانجے کااثر اتر چکا تھا۔ وہ ہلتا ہواستون جسے پکڑے ہوئے نہ جانے کب سے وہ بیٹھا تھا، بالکل سہی سلامت تھا۔ اس کی بلی اس کے پاس بیٹھی اسے دیکھ رہی تھی۔اس کی شبیہ اس کی آنکھوں میں چمک رہی تھی۔ وہ بے زاری سے اٹھا ،اپنے کمرے کی طرف بڑھنے لگا۔اندر گیا قلم کاغذ اٹھایااور ہذیان نمااپنی خود کلامی کو لکھنے لگا۔لکھ کر دیکھا تو اس کی خودکلا می کا عشر عشیر تھاجو کاغذ پر اتر سکا ۔اس نے لاکھ کوشش کی کہ سارا سوچا ہوا لکھ دے لیکن وہ ناکام رہا،اسے بس اتنا ہی یاد آیا کہ آخری پف لینے سے پہلے ہی اسے لگا تھا کہ اگر اس نے یہ ستون نہ پکڑا تو ساری عمارت زمین پر آرہے گی اور وہ عمارت بچانے کے لئے ستون پکڑکر بیٹھ گیا تھا۔ اس نےجو لکھا تھا،آپ نے ابھی ابھی اسے پڑھ کر ختم کیا۔

