جدید اردو فکشن جس کی بنیاد ترقی پسند تحریک کے زیر اثر پڑی ، اس کے تحت لکھنے والوں میں عصمت چغتائی کا نام کئی اعتبار سے اہمیت کا حامل ہے۔پہلا یہ کہ انھوں نے بندھے ٹکے اور روایتی قسم کے موضوعات سے انحراف کیا ۔ دوسرا یہ کہ روایتی اور تقلیدی اسلوب سے انحراف کرتے ہوئے ایک نئے اسلوب کی بنیاد ڈالی۔تیسرے یہ کہ موضوعات کی پیش کش میں زیادہ تر مسائل نسواں کو ترجیح دی۔ان کی آزادی ،ان کے حقوق ،ان کے مسائل اور ان کی خواہشات کا برملا اظہار کرتے ہوئے ان کی حمایت کی۔گھر کی چہار دیواری میں قید وبند کی صعوبتیں برداشت کرنے والی خواتین کی جنسی اور نفسیاتی الجھنوں کو اپنی تخلیق میں پیش کرکے سماج کو آئینہ دکھانے کا کام کیا۔چوتھا یہ کہ عصمت کی لڑکیاں یا عورتیں ہمارے سامنے سارے جہاں کی اداسیاں سمیٹے ضرور ہیں مگر وہ سسکتی ،بلکتی اور چیختی چلاتی نہیں،بلکہ باغیانہ ذہن لے کر سامنے آتی ہیں۔ایسی ذہن سازی میں عصمت اپنے ماقبل اور ما بعد ہم عصرفکشن نگاروں میں سر فہرست نظر آتی ہیں۔ پانچواں یہ کہ عصمت نے اپنے ناولوں میں براہ راست سیاسی موضوعات کو سمیٹنے سے باز رکھا ہے البتہ بالواسطہ طریقے سے سیاسی موضوعات تلاش کئے جا سکتے ہیں۔ چھٹا یہ کہ عصمت کے ناولوں کے بیشتر کردار کا تعلق نوجوان لڑکے اور لڑکیوں سے ہے۔ان کا کوئی ایسا ناولنہیں ہے جس کا مرکزی کردار نوجوان کے بجائے ضعیف العمر ہو۔
عصمت چغتائی کا زمانہ ایسا تھا جہاں عورتیں خاص طور سے مسلم عورتیں وہ بھی متوسط گھرانے کی، ایسے حالات کا شکار تھیں جنھیں کبھی بھی مذہبی نقطہ نظر سے یا سماجی نقطہ نظر سے اچھا تصور نہیں کیا جاتا تھا۔ان کے لئے ناول ، افسانہ یا شاعری وغیرہ کرنا تو دور کی بات ،اس کا پڑھنا گناہ تصور کیا جاتا تھا۔عورتوں کے جذبات و احساسات اور ان کی ضرورتوں کو سمجھنا یا ان کا حل نکالنا تو در کنار ان باتوں کے بارے میں سوچنا بھی گناہ عظیم تصور کیا جاتا تھا۔ایسے حالات میں عصمت نے قلم اٹھایا اور بچپن سے ہی حق تلفی اور غیر مساویانہ سلوک کے تئیں احتجاج کا سلسلہ شروع کر دیا۔عورتوں کا استحصال ہر سطح پر ہو رہا تھا۔عورتوں کے ساتھ ظلم و زیادتی کا عام رجحان سماج میں موجود تھا۔ان تمام حالات نے عصمت کو بہت زیادہ متاثر کیا۔انھیں عورتوں کے تئیں سماج کے ان غیر مساویانہ رویے پر، غور و فکر پر مجبور کیا۔انھوں نے اپنی آنکھوں سے عورتوں کی زبوں حالی دیکھی اور مرد کے ہاتھوں عورت کی درگت بنتے دیکھی نیز خاموشی، بے بسی، اور بے چارگی سے اسے مرد کے ظلم و ستم کو سہتے دیکھا ،چنانچہ ان سب باتوں نے انھیں بے حد متاثر کیا۔یہ سب دیکھ کر انھوں نے عورت کی زندگی کے مختلف مسائل کو اپنے ناولوں میں پیش کیا۔ان کی حق تلفیوں اور نا انصافیوں کے خلاف آواز بلند کی۔عصمت چغتائی کے ناولوں کے عمومی موضوعات تقسیم ہند سے قبل مشترکہ خاندانوں کی چہل پہل،تقسیم کے بعد ابھرنے والی شہری زندگی کی غلط تقسیم، عورت کو مرد کی ملکیت تصور کیا جانا،گھٹن زدہ معاشرے میں پیدا ہونے والا جنسی دباؤ، اور اکثر اوقات اس کی تسکین کے غیر فطری انداز وغیرہ شامل ہیں۔انھوں نے اپنے ناولوں میں جن ماحول کو پیش کیاوہ ان کے اپنے گر د و پیش کا ماحول ہے جس کی عکاسی بہت ہی فن کاری سے کی ہے۔انھوں نے دو طرح کا ہندوستان دیکھا اور ہر لمحہ بدلتی ہوئی زندگی کا بہت قریب سے مشاہدہ کیا۔اس کے علاوہ عورت کی زندگی کے مختلف پہلوئوں کو ناول کا موضوع بنایا۔انھوں نے طوائف کی زندگی کوپیش کرتے ہوئے اسے بالکل مختلف انداز سے دیکھنے کی کوشش کی۔موضوع اور اسلوب دونوں کے اعتبار سے اگر دیکھا جائے تو ان کے یہاں کسی کی خوشہ چینی نظر نہیں آتی۔عصمت کے ناولوں کے موضوعات صرف مسلم گھرانوں کے متوسط طبقے کی زندگی اور ان کی نا گفتہ بہ صورتحال ہی نہیں،بلکہ اس میں سیاست،مذہب، زمینداری،ہندو مسلم اتحاد،ان کی باہمی لڑائی، نوجوان،غنڈے، ہندوستانی گالیاں، نسائی لب ولہجہ اورنسائی محاوروں کے علاوہ سب سے بڑی چیز یہاں کی غربت و افلاس سبھی کچھ تلاش کئے جا سکتے ہیں۔ عصمت کے موضوعات کے سلسلے میںطاہرہ اقبال نے بالکل درست لکھا ہے :
’’ عصمت چغاتء بھرے پُرے گھرانوں کی معاشرت،رسوم ورواج،چہل پہل اور اخلاقی و معاشرتی تضاد کی عکاسی کرتی ہیں۔خاص طور پر عورت کے حوالے سے معاشرے کا دوغلہ رویہ منفی سلوک،سماجی سزائیں،نہ کردہ گناہوں کے الزامات،ذاتی مفاد کے لیے اس کا استحصال،اس گھٹے ہوئے سماج اور جامد ماحول میں جنسی دبائو اور ان جنسی احساسات کا غیر فطری اظہار ان کے بنیادی موضوعات ہیں۔‘‘(ص:326،منٹو کا اسلوب،طاہرہ اقبال،فکشن ہاؤس ، لاہور،2012)
عصمت کے ناولوں کے مطالعے سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ انھوں نے بیشتر عورتوں کے مسائل کو اپنا موضوع بنا کر ہندوستانی معاشرے اور مشرقی تہذیب ومعاشرت کے وہ سارے مسائل پیش کردیے کہ کس طرح ایک مشرقی عورت ایک محدود دائرے میں رکھی گئی تھی۔نہ اسے بولنے کی آزادی تھی نہ گھر سے باہر نکلنے کی۔نہ سیاست میں حصہ لے سکتی تھی نہ ہی معاشرے میں اسے اونچی حیثیت حاصل تھی،نہ ہی تعلیمی و مسابقتی میدان میں آگے جا سکتی تھی چہ جائے کہ جنسی آزادی میسر ہو۔غرض یہ کہ اسے کہیں بھی آزادی میسر نہیں تھی۔ وہ گھر کی چہار دیواری میں قید رہتی تھی جہاں اس کا ہر طرح سے استحصال ہوتا تھا۔انھیں سب موضوعات کو عصمت نے اپنے ناولوں کا حصہ بنا کر سماج اور معاشرے سے بغاوت کی ۔مگر اب صورتحال بدل چکی ہے ۔اب عورتوں کے بیشتر مسائل وہ نہیں رہے جسے عصمت نے پیش کیا۔ اب مسئلہ ہر چیز میں برابری کا ہے۔ وہ برابری اور مساوات کے مسائل سے دو چار ہیں۔آج ہر جگہ چاہے وہ سیاست ہو ،سماج ہو، معاشرہ ہو، نوکری ہو، تعلیم ہو یا جنسی بے راہ روی یا اس کے علاوہ کھانے ،پہننے، گھومنے، سیر سپاٹے کرنے، کشتی، کبڈی، ریس، گھوڑ سواری، تیر اندازی، تیراکی، بائک ریس وغیرہ سب میں مردوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہونے اور اپنے وجود کو محسوس کرانے کا مسئلہ در پیش ہے۔عصمت نے انھیں گھر کی چہار دیواری سے باہر نکال کر ان کے لیے مزید مسائل کھڑے کر دیے۔اب تک وہ گھر کی چہار دیواری کے پس پر دہ مسائل سے جوجھ رہی تھیں اب وہ مذکورہ مسائل کو لے کر جوجھ رہی ہیں۔مگر ان دونوں میں فرق یہ نظر آتا ہے کہ عصمت کے زمانے میں عورتوں کا سماج اور معاشرے سے بغاوت کرنا گویا اپنی جان جوکھم میں ڈالنا تھا۔لیکن اب موجودہ سماج اور معاشرے میں عورت ہر چیز سے بغاوت کر سکتی ہے ۔اس کو اپنی پسند اور نا پسند کا حق حاصل ہے۔وہ جس چیز کو چاہے پسند کرے اور جسے چاہے ریجکٹ کرے۔یہ حق اس کو آج کے سماج اور معاشرے نے بھی دی ہے اور قانون نے بھی۔اس طرح عصمت نے بغاوت اور احتجا ج کی جو بیج ڈالی تھی وہ آج تناور درخت کی حیثیت حاصل کر چکا ہے۔بہر کیف عصمت کی تحریروں میں عورت کا سب سے نمایاں وصف اس کی زبردست فعالیت اور باغیانہ رویہ ہے۔یہی وہ رویہ ہے جس میں عورتوں کے استحصال اور اس پر ہو رہے ظلم کے خلاف شدید احتجاج ملتا ہے۔یہی احتجاجی کیفیات ان کے بیشتر ناولوں اور افسانوں کا اٹوٹ حصہ ہیں ۔البتہ ایک بات یہ کہ احتجاج کی لیَ ان کے ابتدائی ناولوں میں بہت مدھم ہے۔ساتویں یہ کہ عصمت کے یہاں باغیانہ اور احتجاجی رویہ ایسا ہو تا ہے جو سماج اور معاشرے کو منفی کے بجائے مثبت انداز میں غور و فکر کی دعوت دیتا ہے اور یہ سوال قائم کرتا ہے کہ عورت کس وجہ سے جارحانہ رویہ اپنانے پر مجبور ہوئی ؟ کیا سماج اور معاشرے میں اس کی کوئی حیثیت نہیں ؟اس نے احتجاجی رویے کا اظہار کیوں کیا؟ کیا اسے اس کے جائز حقوق حاصل ہیں؟سماج اور معاشرہ انھیں مساوی حقوق کیوں نہیں دیتا؟ جب تک یہ سوالات قائم رہیں گے ان کا کوئی مثبت حل نہیں نکالا جائے گا تب تک احتجاج اور بغاوت کی لے بڑھتی ہی جائے گی۔
آئیے دیکھتے ہیں کہ عصمت نے اپنے پہلے ناول ’ضدی‘ میں جو ایک ہلکا پھلکا رومانی ناول ہے جس میں عشق و محبت کے المیاتی کیفیات کا بیان ہے ،کس قسم کے احتجاج اور بغاوت کو پیش کیا ہے۔ناول میں عشق و محبت میں نا کامی کا سبب طبقاتی تصادم ہے۔طبقاتی تصادم اس طرح سے ہے کہ ناول کا مرکزی کردار پورن ایک اونچی ذات اور اعلیٰ طبقے سے تعلق رکھتا ہے۔جبکہ دوسرا مرکزی کردار آشا ہے جو نیچی ذات اور ادنیٰ طبقے سے تعلق رکھتی ہے۔پورن مساوات کا قائل ہے لیکن اہل خانہ نہیں ۔وہ سب کے ساتھ یکساں سلوک کرتا ہے۔ذات پات ،بھید بھائو اور اونچ نیچ کا قائل نہیں ہے۔اسی لیے وہ آشا جیسی کمتر ذات نوکرانی سے عشق کر بیٹھتا ہے۔ جب کہ کمتر ذات نوکرانی آشا کو اس بات کا بخوبی علم ہے کہ وہ اس محبت میں گرفتار تو ہو گئی ہے لیکن پورن کے گھر والے کبھی بھی اس کو بہو کے روپ میں قبول نہیں کریں گے۔پھر بھی دونوں ایک دوسرے کے محبت میں ایسے گرفتار ہوتے ہیں کہ ایک دوسرے کو دیکھ کر ہی دم توڑتے ہیں۔اس ناول میں باغیانہ رویے اور احتجاج کی جھلک اس شادی کے منڈپ میں نظر آتی ہے جب کسی طرح بہلا پھسلا کر پورن سنگھ کی شادی آشا کے بجائے شانتا سے کی جانے لگتی ہے۔مگر شادی کے شامیانے میں پورن اور آشا کی نگاہیں ایک دوسرے سے چار ہوجاتی ہیںاور اچانک شامیانے میں آگ لگنے کی وجہ سے بھگدڑ مچ جاتی ہے۔اس بھگدڑ میں بغاوت اور احتجاج کی کیفیت سامنے آتی ہے، وہ اس طرح کہ اس بھگدڑ میں پورن شانتا کو چھوڑ آشا کو گلے لگا لیتا ہے۔مگر پھر آشا کو غائب کرکے شانتا کو ہی اس کی زندگی میں ڈھکیل دیا جاتا ہے۔اس طرح شانتا کی شادی تو پورن سے ہوگئی لیکن شادی کی لذتوں سے دونوں ہی محروم رہے۔کیونکہ یہاں پورن کا خاموش باغیانہ تیور اس طرح سامنے آتا ہے کہ شادی کے بعد پورن ساری زندگی شانتا سے ازدواجی رشتہ قائم کرنے سے باز رہتا ہے۔شادی کے بعد بیوی سے ازدواجی رشتہ قائم نہ کرنا ہی در اصل اس کا احتجاج ہے۔جبکہ دوسرا احتجاج شانتا کی طرف سے ہے، وہ یہ کہ پورن کی طرف سے عدم توجہی کی بنیاد پر ایک طویل انتظار کے بعد وہ پورن کے بھابھی کے بھائی مہیش سے عشق کرنے لگتی ہے۔حالانکہ یہ بات پورن کو بھی پتہ ہے کہ وہ مہیش سے عشق کرتی ہے لیکن وہ اپنی بیوی کو کچھ نہیں کہتا۔پورن کا اپنی بیوی شانتا کو سب کچھ جانتے ہوئے بھی کچھ نہ کہنا اور شانتا کو یہ جانتے ہوئے بھی کہ میں پورن کی بیوی ہوں اور جو کچھ کر رہی ہوں یہ سماجی ، معاشرتی اور مذہبی نقطہ نظر سے غلط ہے ۔اس طرح دونوں کا ایک دوسرے کو غلط نہ کہنا در اصل خاموش احتجاج اور باغیانہ رویے کی طرف اشارہ کرتا ہے ۔ پورن کا اپنے گھر والوں کے رد عمل پر یہ کہنا کہ ’اگر وہ مہیش سے محبت کرتی ہے تو کرے مجھے کیا کرنا ہے‘ اس ایک جملے میں در اصل گھر ،سماج اورمعاشرہ سب سے بغاوت اور احتجاج شامل ہے۔یہ اور بات ہے کہ اس میں احتجاج اوربغاوت کی لے بہت مدھم ہے۔ایک بات یہ کہ پورن، شانتا، اور آشا یہ سب تو عصمت کے ناولوں کے کردار ہیں تو بھلا یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ روایتی کردار ہوں گے جو بندھے ٹکے اصولوں پر چلیں گے ۔سماج اور معاشرے سے بغاوت اور احتجاج ان کے کرداروں کا فطری خاصہ ہے۔مشرقی تہذیب میں کسی بھی لڑکی یا بہو کا گھر سے بھاگنا کسی بھی سماج اور معاشرے میں اچھا تصور نہیں کیا جاتا ہے۔ہر معاشرہ اسے نا پسندیدگی کی نظر سے دیکھتا ہے مگر عصمت نے شانتا کو اس کے شوہر کے گھر سے بھگا کر کسی انجانے گھر اور بانہوں میں پناہ دلوائی۔بھگانے کا یہ کام صرف عصمت ہی کروا سکتی تھیںاور کسی کے بس کا روگ نہیں تھاکہ وہ شانتا سے یہ کہلوائے کہ’ میں جا رہی ہوں۔میں آپ کی کوئی بھی نہیں‘یہ جرأت اور یہ ہمت صرف عصمت اور عصمت کے کردار ہی کر سکتے تھے۔چونکہ عصمت کو ہر طرح کی فرسودگی اور جہالت سے نفرت ہے اس لئے قدم قدم پر نئے نئے افکار و نظریات کا خیر مقدم کرتی ہیں۔اس ضمن میں پورن کے ترقی پسندانہ خیالات اور اس کے باغیانہ تیور ملاحظہ کیجیے جو اس کے بڑے بھائی سے آپسی بحث میں ہوتی ہے:
’’ٹھیک۔ لیکن تمہیں کس نے ایسے حقوق دیئے جن کی رو سے تمہیں سماج اور بزرگوں کی دل شکنی کا ٹھیکہ مل گیا‘‘
’’سماج‘‘ واہ واہ،وہی پرانی سڑی بحث۔
’’اور پھر یہ سوچو! یہ بچے تمہارے معصوم بھتیجے آخر انھوں نے کیا قصور کیا ہے جو یہ تمہاری خواہشات پر قربان ہو جائیں۔
’’ارے! یعنی ان کے قربان ہونے کا سوال کہاں سے آن کودا۔واہ خوب‘‘
’’کیوں نہیں۔ان کی سوسائٹی میں کیا حیثیت ہوجائے گی۔کہ بھئی چچا نے نوکرانی سے شادی کر لی۔شیلا کو کون پوچھے گا،کون شریف خاندان بیاہ لے گا۔اور یہ یہ نرمل کو کون بیٹی دے گا جب وہ ان کے چچا کے کارنامے سنیں گے‘‘
’’پھٹکار ہے ایسی سوسائٹی پر ۔لعنت ہے ایسے لوگوں پر جو شیلا میں یہ عیب نکالیں کہ اس کے چچا نے غریب لڑکی سے شادی کر لی۔اس سے تو بہتر ہے کہ ایسے لوگوں میں جانے کے بجائے شیلا صدا کنواری رہے۔‘‘ (ص:63-64،ضدی،عصمت چغتائی)
ایسا نہیں ہے کہ یہ مسائل نئے ہیں اور ان سے پہلے کسی اور نے پیش ہی نہیں کیا۔بعض دانشور ادیبوں نے ان موضوعات و مسائل کے حوالے سے بھر پور تجزیہ بھی کیا ہے لیکن عصمت کی زبان اور ان کا باغیانہ اور احتجاجی اسلوب ایسے موضوعات و مسائل کو اتنا موثر بنا دیتا ہے کہ قاری ان کے باغیانہ لہجے اور احتجاجی رویے میں خود کو شریک کر لیتا ہے اور ناول کے اختتامیہ پر وہ عصمت کا ہم خیال ہو جاتا ہے۔
یہ بات بہت واضح ہے کہ عصمت اپنے موضوع اور افکار و نظر یات سے بہت کم جانی جاتی ہیں ۔عورتوں پر ظلم و ستم ،ان کے داخلی اور خارجی مسائل،جسمانی جبر و تشدد اور استحصال کو تو بہت سارے ترقی پسند ادیبوں نے موضوع بنایا اور ان سب کے خلاف صدائے احتجاج بلند کیا اور عورتوں کے حقوق کی بات بھی کی، لیکن ان سب کی تحریروں میں باغیانہ تیور اور احتجاجی لے عصمت کی طرح کہیں نظر نہیں آتا۔عصمت نے ایسا نسوانی یا نسائی اسلوب اور طرز بیان اختیار کیا جو اس سے پہلے کسی نے اپنی تحریروں میں اختیار نہیں کیا۔اسلوب میں جو احتجاج اور باغیانہ لے ہے وہ صرف عصمت کا ہی خاصہ ہے اور یہی ان کی تحریروں کی انفرادی شناخت بھی ہے کہ انھوں نے عورتوں کی بات عورتوں کی زبان میں تحریر کیا ۔ اس سے قبل نسائی لہجے میں بہت کم تحریریں ملتی ہیں ۔ چند مکالموں کو چھوڑ کر پورا کا پورا ناول نسائی اسلوب میں نہیں ملتا۔عصمت نے جو اسالیب بیان اختیار کیا،وہ اس زمانے کے متوسط مسلم خاندانوں کے تعلیم یافتہ طبقے اور عورت دونوں کی معیاری زبان ہے۔ عورتوں کی مخصوص لفظیات ،محاورات، اور لب و لہجہ کی وجہ سے انھیں اردو فکشن میں ایک نئے اسلوب کے موجد کا درجہ حاصل ہو گیا ہے۔ انھوں نے اپنے نمایاں اسلوب کے ذریعہ سماج اور معاشرے کے فرسودہ اور مصنوعی اقدار و روایات پر جم کر وار کیا اور نو جوان طبقے میں جو بے چینیاں ، الجھنیں ، اور جنسی محرومیاں تھیں ان سب سے نکل بھاگنے کا راستہ دکھایا۔ناول ’دل کی دنیا ‘ کی قد سیہ خالہ اس کی زندہ مثال ہیں۔ اس ناول کا موضوع بھی جاگیر دارانہ عہد میں مسلمان گھرانوں کے اندرون خانہ معاملات، شادی شدہ زندگی میں جنسی تسکین کی عدم دستیابی، جنسی جذبے کی عدم تسکین سے پیدا شدہ نفسیاتی مسائل،اور ان نفسیاتی مسائل کو نہ سمجھنے والے یا سمجھ کر انجان بننے والے خاندان کے افراد ،اور اس طرح کے سماج کے وہ سارے افراد جو اپنے کھوکھلی سماجی رتبے کو بچانے کے لیے ،نیز اپنے احساس برتری کو جتانے اور احساس کمتری کو چھپانے کے لیے چیخ چیخ کر کہتے ہیں کہ:
’’میرا ملک عظیم ہے، میرا مذہب سب سے ارفع ہے،میرا شہر، میرا گھر، میری دنیا زیادہ بلند ہے،زیادہ مقدس ہے۔میرا شعور میرا یقین،میرا طریقہ فکر صحیح ہے، مگر زبردستی۔‘‘
’’ہاں زبر دستی،وہ جو خیال اور عمل کی آزادی کو ہر انسان کا حق سمجھتے ہیں ۔ڈیمو کریسی کا ڈھنڈھورا پیٹتے ہیں تلوار کے زور سے ڈیمو کریسی حلق میں ٹھونسنے لگتے ہیں کبھی خدا کا حکم کہہ کر ، کبھی کسی اصول یا جذبے کی آڑ لے کر ،اور کبھی رسم و رواج کے بہانے ، اور کچھ نہ ملے تو بھوت پریت کے سر الزام تھوپ دیتے ہیں۔‘‘(ص:174،دل کی دنیا)
انھیں تمام باتوں کو عصمت اپنے باغیانہ لہجے میں پیش کر کے سماج اور معاشرے کے روایتی طور طریقوں سے ہٹ کر نو جوان طبقہ خواہ وہ لڑکا ہو یا لڑکی یا عورت ان سب کو اپنی زندگی اپنے طور طریقے سے جینے کی طرف اکساتی ہیں۔ صرف اکساتی ہی نہیں بلکہ ’ڈیمو کریسی کا ڈھنڈورا پیٹنا‘اور ’ڈیمو کریسی حلق میں ٹھوسنا‘ جیسے محاوراتی ڈکشن کے ذریعے اس کے اندر احتجاجی کیفیت اور باغیانہ تیور پیدا کر دیتی ہیں تاکہ وہ اپنے گھر ، سماج ، معاشرے اور ان تمام چیزوں سے مقابلہ کر سکے جسے عورت کے لیے مرد اساس معاشرے میں نا پسند کیا جاتا ہے۔نیز وہ ان تمام چیزوں سے پرے اپنی آزاد دنیا میں آزادی کی سانس لے سکے۔عصمت کے پیدا کردہ ان باغیانہ لہجوں اور رویوں سے آج مرد اساس معاشرہ جوجھنے لگا ہے اور قریب قریب ہم سب اس کی زد میں آچکے ہیں۔یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ عصمت نے جس بیج کو آج سے تقریباًساٹھ سال قبل بویا تھا آج وہ ایک تناور درخت کی حیثیت اختیار کر چکا ہے جسے کاٹنا اب نا ممکن سا نظر آرہا ہے۔اس طرح عصمت خواتین کے اندر جو جذبہ پیدا کرنا چاہتی تھیں وہ آج پورے طور پر پایا جاتا ہے۔اور عصمت نے جو یہ کہا تھا کہ :
’’جاؤ رفیعہ حسن ،تم بے ڈھرک جہاں چاہو جا سکتی ہو ،زندگی کی قدروں کو ناپنے اور تولنے کے لیے تمہارا اپنا فیتہ ہے ،اپنے باٹ ہیں، اپنی ترازو ہے۔تمہاری زندگی میں کوئی ڈنڈی نہ مار سکے گا۔تمہارے خواب کبھی چکنا چور نہ ہوں گے ‘‘(ص:175،دل کی دنیا)
اس طرح ہم دیکھتے ہیں کہ آج وہ عصمت کی رفیعہ ،قدسیہ ، اور ان جیسے دوسرے کردار اپنے دل کی دنیا آباد کئے ہوئے نظر آتے ہیں۔اس ناول کے در پردہ اس عہد کی معاشرتی زندگی کی جھلکیاں دیکھی جا سکتی ہیں خاص طور پر بہرائچ میں سیدنا سالار مسعود غازی عرف بالے میاں سے متعلق کرامات اور عرس کے موقع پر بے جا خرافات،پیر ،مرید، بھوت پریت،جن ،شیطان، اور دیگر توہم پرستانہ عقائد، جس طرح سے عام تھے، عصمت نے ان تمام پر طنز و تیر کے نشتر برسائے اور ان کھوکھلی عقائد کی قلعی بُوا اور قدسیہ خالہ کے ذریعہ کھول کر رکھ دی ہے۔اس طرح یہ کہا جا سکتا ہے کہ عصمت اپنے مقصد میں اس اعتبار سے کامیاب ہوگئیں کہ انھوں نے نذیر ؔ اور راشد الخیری کی لڑکیوں اور عورتوں کے اندر احتجاج اور بغاوت کا جذبہ پیدا کردیا۔اس کے علاوہ فرائڈ کے نفسیاتی نظر یات سے استفادہ کرکے کرداروں کے نہاں خانوں میں پوشیدہ حقائق تک سراغ رسانی کی کوشش کی ہے جس میں بہت حد تک کامیابی بھی ملی ہے۔ناول دل کی دنیا کے اساسی تھیم کے حوالے سے جگدیش چندر ودھاون کی یہ رائے بھی ملاحظہ کرتے چلیں لکھتے ہیں:
’’ اس ناولٹ کا اساسی تھیم اس کے عنوان’دل کی دنیا‘ کے تعلق سے ’محبت‘ ہے۔یعنی مچھو چچا کی قدسیہ خالہ کی محبت ،جس کا ذکر ناولٹ کے اختتامیہ حصہ میں رفیعہ حسن نے کیا ہے۔مچھو چچا نے قدسیہ سے جی جان سے محبت کی اور ٹھکرائے جانے کے با وصف اسے ثابت قدمی اور پا مردی سے اپنی جان جوکھم میں ڈال کر آخری دم تک نبھایا۔دوسرے شادی بیاہ کے رسوم و قیود سے انحراف،اور ’Free Love‘ یا آزاد محبت کے نظریے کی تبلیغ و ترویج،جس کی پیروی قدسیہ خالہ اور شبیر ماموں نے کی اور جن کے نقش قدم پر ان کی بیٹی رفیعہ حسن چل نکلی۔ تیسرے توہمات کی شکست و ریخت،جس کا سر چشمہ بُوا،اور بالے میاں ہیں اور جس کا شکار اماں بی،نانی بی اور دادی بی ہیں۔‘‘
(ص:444،عصمت چغتائی شخصیت اور فن،جگدیش چندر ودھاون،ناشرمصنف،1996)
عصمت نے اپنے تمام ناولوں میں ’دل کی دنیا‘ کو سب سے اچھا ناول بتایا ہے۔سب سے اچھا بتانے کی وجہ شاید یہ ہو کہ اس ناول میں انھوں نے اپنے عقائد و نظر یات اور جذبات و احساسات کو بہتر اور موثر ڈھنگ سے پیش کیا ہے۔اور توہمات کی شکست و ریخت اور آزاد محبت کے نظریے کی ترویج جو عصمت کی سائیکی کا حصہ ہے اس کا کھل کر اظہار ہوا ہے۔اس طرح ان کا یہ ناول ان کی پوری شخصیت کا ترجمان معلوم ہوتا ہے۔یہ فلیش بیک ٹیکنک میں لکھا گیا ایک کامیاب ناول ہے۔اس ناول سے بھی باغیانہ تیور اور احتجاجی اسلوب کا ایک نمونہ ملاحظہ کیجیے:
’’تمہارے اوپر بوجھ بن گئی ہوں تو مجھے زندہ دفن کرادو،کتے کی موت کیوں مارنا چاہتی ہو،میں یہ زہر نہیں پیوں گی،ہرگز نہیں پیوں گی‘‘
تیرا دماغ خراب ہوگیا ہے مردار‘‘
’’ہاں دماغ خراب نہ ہوگا تو اور کیا ہوگا۔انسان ہوں پتھر نہیں۔پندرہ برس کی عمر میں مجھے بھاڑ میں جھونک دیا۔سہاگ کی مہندی بھی پھیکی نہ پڑی تھی کہ سات سمندر پار چلا گیا ۔وہاں اسے سفید ناگن ڈس گئی۔پر یہ تو بتاؤ کہ میں نے کیا قصور کیا تھا۔کسی سے دیدے لڑائے تھے۔کسی سے یاری کی تھی؟‘‘(ص:158،دل کی دنیا)
اسی ناول میں عصمت نے قدسیہ خالہ سے کم فہم اور کوتاہ بیں معاشرے کے مروجہ دستور سے بر ملا بغاوت کا اظہارکس طرح کرایا ہے ملاحظہ کیجیے:
’’اری چڑیل یہ تو کسے کوس رہی ہے؟‘‘
’’باقر حسین تمہارے چہیتے داماد کو۔ حرامزادے کتیا کے جنے کو۔ اسے دوزخ کی آگ جلائے۔قبر میں کیڑے پڑیں۔ وہ دوپٹہ پھیلا کر جھوم جھوم کر کوسنے لگیں۔‘‘(ص:62،دل کی دنیا)
مذکورہ اقتباسات کی روشنی میں یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ اس ناول کا اسلوب خالص نسائی ہے۔اور اس نسائی لہجے میں جو باغیانہ تیور اور احتجاج ہے وہ صاف جھلکتا ہے۔اور اس باغیانہ تیور اور احتجاج میں طنزیہ اسلوب کی کارفرمائی غالب ہے۔ اس کے علاوہ جا بجا مروجہ محاوروں کا خوبصورت اور بر محل استعمال بھی ملتا ہے جس میں مغربی یوپی کا لب و لہجہ قدرے حاوی نظر آتا ہے۔اس ضمن میں چند جملے ملاحظہ کیجیے:
’’چھوڑو ہمرا آنچل، تم سیّاں کالے ،ہم گورے،آئینہ میں دیکھیں گے دونوں جنے۔تم سیاں موٹے ہم دبلے،کانٹے میں تلیں گے دونوں جنے۔‘‘(ص:116،دل کی دنیا)
’’نا بھائی ہم او پگلیا کا ناہیں بلائے جاویں گے۔۔۔۔کھسم کھانی ڈھیلا مارت ہے۔‘ (ص:117،دل کی دنیا)
’’اے بیٹھو نا بُوا‘‘ قدسیہ خالہ خوشامد کرتیں۔ناہیں بھائی ہمکا جائے کا پڑی،ہمری باٹ دیکھت ہوئے،اور ہم سمجھے کہ واقعی کدم کی چھاؤں تلے کھڑے ان کی راہ دیکھ رہے ہونگے۔اچھی بھلی شریف گھرانے کی ہے۔نگوڑی کی مت ماری گئی ہے۔نہیں بی مجھے پاگل تو نہیں لگے ہے۔اوئی تو کیا ڈھیلا مارے جب ہی مانو گی کہ یہ پاگل ہے۔گھر میں چمریا کو گھسا رکھا ہے۔موٹی کوڑی کی دیوال نہیں ۔جب جے کا جی چاہے دکھیا کو لوٹ لے ،خبر بھی نہ ہوگی۔‘‘
’’بغیر مرد کے عورت کی زندگی محفوظ نہیں ہوتی۔مولوی صاحب نے سمجھایا۔‘‘
’’ہمرا مرد موجود ہے۔تمہرے باپ کا باپ۔سن پیہئے تو تمہری داڑھی ما آگ لگا ئے دہیں‘‘
(ص:124،دل کی دنیا)
بھائی ہمرا مگج کھائے گوا۔ہم پر بھروسہ نہیں۔کہت ہے ہمری آسنائی ہے! ہم نین لڑاوت ہیں، ارے ہم کا سمجھت کا ہے ہم کوئی پتریا ہن ،کھانگی ہن۔‘‘ (ص:134،دل کی دنیا)
اس طرح سے اور بھی مثالیں ہیںجن میں خالص نسائی لب و لہجہ نظر آتا ہے۔چونکہ پورا ناول ہی اسی اسلوب میں لکھا گیا ہے جس سے نسائی لب و لہجہ میں اس کے داخلی جذبات و احساسات اور خارجی مسائل کا فطری اظہار ہوا ہے۔زبان و بیان میں کسی طرح کا کوئی تصنع نہیں ہے اور نہ ہی تمثیلی اور بہت زیادہ علامتی اسلوب اپنایا گیا ہے جس سے ناول کو سمجھنے میں دشواری پیش آئے۔ زبان و بیان ،لہجے اور اسلوب کے اعتبار سے عصمت کی اپنی مستحکم شناخت ہوچکی ہے اور ایک نئے اسلوب کی موجد بھی کہی جا چکی ہیں کیونکہ اس سے پہلے کسی اور فکشن تخلیق کار کے یہاں اس طرح کا اسلوب یا لب و لہجہ دور دور تک نظر نہیں آتا۔اس اعتبار سے عصمت کو نسائی اسلوب میں اولیت کا مقام حاصل ہوچکا ہے۔
عصمت کے ایک اور ناول ’معصومہ‘میں بھی تقسیم ہند کے المیے کے پس منظر میں جاگیردارانہ نظام اور اقدار حیات کی زوال پذیری کی داستان کو رقم کیا گیا ہے۔اس ناول کا موضوع بھی کوئی نیا یا اچھوتا نہیں ہے بلکہ وہی مسلم گھرانے کے متوسط طبقے اور جاگیردارانہ طبقے کی زیست کے مسائل ہیں،جس سے وہ تقسیم ہند سے قبل اور بعد سے لے کر آج تک جوجھ رہے ہیں۔پیٹ کی آگ بجھانے کے لیے انسان اپنی حیات میں زندگی کے کتنے رنگ و روپ اختیار کر سکتا ہے یا کرنا پڑتا ہے، اور اس مختصر سی فانی زندگی میں وہ کون کون سے اور کس کس نوعیت کے کام کر گزرنے کے لیے تیار ہوجاتا ہے، ہم سب تو آج اس سے واقف ہوچکے ہیں لیکن عصمت نے ایسی صورتحال کا نقشہ ناول کے مرکزی کردار ’معصومہ‘عرف نیلو فر کے ذریعے کھینچ کر معاشرے اور سماج کے بے رحم حقیقت کو عریاں کیا ہے۔یہی نہیں بلکہ عصمت نے معصومہ کے درپردہ جس صورتحال کو دکھایا ہے وہ ہماری نظروں سے پوشیدہ تھے۔سیاسی برتری، موقع پرستی،معاشی تنگ دستی کے نتیجے میں جبراً جسم فروشی، اخلاقی ابتری، اقداری زوال، جنسی تسکین یہ سب نظر آتے ہیں ۔ پیٹ کی بھٹی سلگانے کے لیے معصومہ اور اس کے اہل خانہ کو مذکورہ تمام مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔معصومہ سے نیلوفر بننے کی ایک طویل داستان ہے جو ناول کے تفصیلی مطالعے سے واضح ہوگی اور ناول کے اختتامیہ پر واضح ہو گا کہ آخر معصومہ نیلو فر کیسے بنی،اور عصمت نے اس کا عنوان نیلوفر کے بجائے ’معصومہ‘ کیوں رکھا۔کیونکہ معصومہ کے معنی پاکدامن، بے گناہ، مبرا عن الخطا ہوتا ہے اور عصمت نے اس سے سارے متضاد کام کروائے۔اس کی پاکدامنی کو ناپاک کر دیا۔اس کی بے گناہی کو گناہی میں بدل دیا۔مبرا عن الخطا کے مفہوم کو خطا سے بھر دیا۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر عصمت نے ایسا کیوں کیا؟اس سلسلے میں جہاں تک مجھے لگتا ہے کہ یہاں بھی عصمت کا باغیانہ اور احتجاجی رویہ ہی کام کرتا ہے اور وہ سیدھی لکیر پر چلنے اور سیدھی لکیر کھینچنے کے بجائے اس کے بر عکس کیا کرتی ہیںتاکہ اپنی شناخت بھی قائم رہے اور دوسرے اس رویے پر غور و فکر بھی کریں ،کہ آخر انھوں نے ایسا کیوں کیا؟حالانکہ عصمت نے جو کچھ بھی کیا ہے وہ ایک طرح سے اچھا ہی کیا ہے اگر وہ اس طرح کے موضوعات پر قلم نہیں اٹھاتیں تو اس طرح کے مسائل پردئہ خفا میں ہی رہ جاتے اور ہم سب ان مسائل کا ادراک کرنے سے قاصر رہ جاتے۔یا ادراک رکھنے کے با وجود اس سے غفلت برتتے اور اسے مروجہ روایت پر ہی قائم رکھتے، جیسا کہ ملک میں برہمنی نظام قائم کر کے پھر سے وہی روایتی رسم و رواج اور ذات پات پر مبنی نظام قائم کرنے کی بے جا کوشش کی جا رہی ہے۔لیکن عصمت نے اپنے لیے اسلوب کے ساتھ ان تمام مسائل کو برہنہ شکل میں کھڑا کر دیاتاکہ اس سے نظریں پھیرنے والا کم از کم ایک اچٹتی نظر ہی ڈال لے اور پھر اس پر غور و فکر کر کے ان مسائل کے حل اور تدارک کے لیے کوئی نہ کوئی صورت تلاش کرسکے۔اس ناول کا اسلوب بھی دیگر ناولوں کی طرح نسوانی اور باغیانہ ہے۔یہاں بھی عصمت نے معصومہ عرف نیلو فر سے وہ سارے کام کروائے جو سماج اور معاشرے میں حد درجہ نا پسند کیا جاتا تھا ۔وہ معصومہ جو پاکدامن تھی نیلو فر بننے کے بعد پاکدامنی کا چولہ اتار کر گانجا،سگریٹ، شراب، مورفیا انجکشن، اور نہ جانے کتنی نشیلی دوائیوں سے اپنی جنسی تسکین کا سامان مہیا کرتی تھی۔ ایک ساتھ کرپشن اور اینٹی کرپشن دونوں کا بوجھ برداشت کرتی تھی۔اس طرح معصومہ جسم سے روح تک ننگی ہو چکی تھی۔دوست احباب سے لے کر سیاسی اہلکارساہو کار تک ،فلم پروڈیوسر سے لے کر سیٹھ اور مہاجن تک معصومہ کی ننگی دنیا پر تال دے کر اس سے لطف اندوز ہونے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔اس ناول کے ذریعے عصمت نے بورژوازی نظام اور اس کے در پردہ ہو رہے غیر انسانی اعمال و افعال سے پر دہ اٹھایا ہے اور بورژوازی نظام میں عورت کی حیثیت اور وقعت کیا تھی اس کو بھی واضح کیا ہے۔لیکن کارپوریٹ سیکٹر میں آج بھی وہی ہو رہا ہے جسے عصمت نے پیش کیا ہے یہ اور بات ہے کہ افراد بدل گئے ۔یہاں اب مسئلہ تقسیم ہند یا ہجرت کا نہیں رہا کہ رفیوجی کیمپ میں ان کے ساتھ زبردستی بد فعلی اور بد سلوکی کی جائے ،اور نہ ہی اب بہت زیادہ زیست کا مسئلہ ہے ۔اب مسائل ہیں اسٹیڈرڈ مینٹین کرنے کا ۔ اسٹینڈرڈ مینٹین کرنے کے نتیجے میں جو کام عصمت نے معصومہ عورف نیلو فر سے کرایا وہی کام آج اسٹینڈرڈ طریقے سے کارپوریٹ سیکٹر میں کال گرل کرتی ہیں۔
یہ بات تقریباً سبھی کو معلوم ہے کہ عصمت کی ذات میں بغاوت اور احتجاج کا عنصر کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا ۔ان کے اندرون کی ضد،اکھڑپن، باغیانہ جرأت افکار،احتجاجی رویہ،،ضدی پن،منھ پھٹ،بال کی کھال نکالنے والی،جاہلانہ باتوں ،سماج کے بوسیدہ اور خود ساختہ اصولوں اور رسم و رواج سے جھنجھلاہٹ، ازدواجی زندگی سے بیزاری اور نفرت،مساویانہ حقوق اور مردوں کے شانہ بشانہ چلنے کی ہمت اگر کسی خاتون فکشن رائٹر کے یہاں نظر آتا ہے تو وہ عصمت چغتائی کی ذات اور ان کی تخلیق ہے۔عصمت اپنے تمام ناولوں میں کہیں نہ کہیں کسی نہ کسی شکل میں نظر آتی ہیں چاہے وہ’ معصومہ‘ کی بیگم صاحبہ ہوں یا’ دل کی دنیا‘ کی قدسیہ خالہ یا ’ٹیڑھی لکیر‘ کی شمن یا کوئی اور۔ہر جگہ ان کا عکس ان کے تمام تر افکار و خیالات اور نظر یات کے ساتھ نظر آتا ہے جو ٹیڑھی لکیر پر نہ صرف چلنے کی ترغیب دیتے ہیں بلکہ چلتے بھی ہیں اورکامیابی سے ہمکنار بھی ہوتے ہیں اور قاری پر یہی تاثر بھی چھوڑتے ہیں۔جیسا کہ ماقبل میں یہ بات کہی جا چکی ہے کہ عصمت کے تمام تر ناولوں کے موضوعات گھریلو زندگی، زیست کے مسائل، امور خانہ داری، گھریلو ماحول اور فضا، عورت کا داخلی و خارجی کرب، ازداوجی رشتوں کے مسائل،خواتین کے حوالے سے سماج کا جبری رویہ اور نظام،مسلم متوسط گھرانے کی پردہ نشین خواتین کی نفسیاتی الجھنیں ،ان الجھنوں سے پیدا شدہ مسائل،بیوگی کے مسائل ، جنسی و نفسانی مسائل وغیرہ ہیں۔انھیں تمام مسائل کو عصمت نے اپنے شاہکار ناول ’ٹیڑھی لکیر‘ جو سب سے ضخیم بھی ہے، اس میں سیدھے سادے نسائی اسلوب، لب و لہجہ،زبان و بیان، بولی ٹھولی،ضرب الامثال، کہاوتوں اور محاوروں کے ذریعے بیان کیا ہے۔جسے پڑھتے ہوئے بظاہر شمن کی لیکن اس کے در پردہ عصمت کی اپنی آپ بیتی معلوم ہوتی ہے۔شمن کے در پردہ عصمت نے سماج اور معاشرے میں عورتوں اورلڑکیوں کی نفسیاتی پیچیدگیوں،سماجی الجھنوں، معاشی دشواریوں اور تعلیمی مجبوریوں، اور ان جیسے دوسرے مسائل اور صورتحال کامکمل نقشہ کھینچ دیا ہے۔ناول شمن کی پیدائش سے شروع ہوکر اس کے بچپن ،جوانی، شادی بیاہ کے واقعات سے گزرتا ہوا ایک اہم موڑ پر ختم ہوجاتا ہے لیکن اس درمیان میں بہت سے دوسرے کرداروں مثلاً ، بڑی آپا، مس چرن،منجھو بی،رائے صاحب، رونی ٹیلر، افتخار، ایلما، رسول فاطمہ، سعادت، نجمہ، اجو،نوری، کدن، بلقیس، سنھجلی، منجھلی وغیرہ بیشتر نسائی کرداروں کے ذریعہ عورتوں کے جذبات و احساسات کی بھر پور ترجمانی کی ہے۔تمام واقعات بہت ہی مربوط انداز میں تسلسل کے ساتھ پیش کئے گیے ہیں کہ پڑھتے ہو ئے ذرا بھی اکتاہٹ محسوس نہیں ہوتی۔بلکہ ناول جیسے جیسے آگے بڑھتا ہے مزید دلچسپی قائم ہونے لگتی ہے اور آخر تک بر قرار رہتی ہے۔قاری کا تجسس ہر واقعے کے بعد’اب کیا ہوگا‘ ’اب کیا ہونے والا ہے ،جیسے سوالوں کے ساتھ بر قرار رہتا ہے اسی تجسس کے سہارے وہ پورا ناول ختم کر دیتا ہے ۔یہی ایک اچھے تخلیق کار کی پہچان بھی ہے۔ مجموعی اعتبار سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ ایک سوانحی قسم کا کرداری ناول ہے جس میں ہر کردار کی زندگی کے اپنے مسائل ہیں جس کا ذکر ناول میں کہیں تفصیل اور کہیں اجمال کے ساتھ کیا گیا ہے۔اس ناول کے اسلوب کے حوالے سے احمد ندیم قاسمی کی یہ بات بھی اپنی جگہ اہم ہے:
’’عصمت نے اپنے ناول میں ان گنت واقعات کی چولیں ٹھیک سے نہیں بٹھا سکی۔اور اگر اس کا بے حد شگفتہ ، شوخ اور فنی اپج سے لدا ہوا طرز اظہار اس کا ساتھ نہ دیتا تو یہ ناول ایک ذہین جذباتی عورت کی ڈائری بن کر رہ جاتا۔اس ناول میں شمن کے سوا جتنے کر دار ہیں وہ خشک پتوں کی طرح جھڑتے چلے جاتے ہیں۔اور پھر ایک بار جھڑتے ہیں تو اتنے ضخیم ناول کے انجام تک ان میں سے بیشتر کا کوئی سراغ نہیں ملتا۔‘‘(ص:106،بحوالہ قرۃ العین حیدر ایک مطالعہ،مرتبہ ارتضیٰ کریم، ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس، نئی دہلی،1992)
احمدندیم قاسمی کی مذکورہ بالا باتوں سے صد فیصد اتفاق کیا جا سکتا ہے۔کیونکہ اس ناول کا اسلوب ہی قاری کو آخر تک لے جاتا ہے ورنہ ان مسائل سے تو سبھی واقف ہیں۔اس ناول میں شروع سے آخرتک نسائی اسلوب اختیار کیا گیا ہے۔لیکن نسائی اسلوب میں ہی کئی اور اسالیب اختیار کئے گئے ہیں مثلاً نفرت اور حقارت آمیز اسلوب،مکتوب نگاری کا اسلوب، منظری اسلوب،مکا لماتی اسلوب، تشبیہی و استعاراتی اسلوب وغیرہ قابل ذکر ہیں۔یہاں صرف دو تین اسلوب کی مثالیں دی جا رہی ہیں ما بقیہ اوپر دوسرے ناولوں کے اسلوب میں گزر چکا ہے۔سب سے پہلے نسائی لب و لہجہ میں نفرت اور حقارت آمیز اسلوب کے ساتھ منظری اسلوب کی مثال ملاحظہ کیجیے:
’’خدا غارت کرے اس منی سی بہن کو۔اماں کی کوکھ کیوں نہیں بند ہو جاتی۔حد ہو گئی تھی! بہن بھائی اور پھر بہن بھائی۔بس معلوم ہوتا تھابھک منگوں نے گھر دیکھ لیا ہے،امڈے چلے آتے ہیں۔ویسے ہی کیا کم موجود تھے جو اور پے در پے آرہے تھے، کتے بلیوں کی طرح، ازل کے مر بُھکّے۔اناج کے گھُن ٹوٹے پڑتے ہیں۔دو بھینسوں کا دودھ تبرک ہو جاتا پھر بھی ان کے تندور ٹھنڈے ہی پڑے رہتے۔‘‘(ص:7-8،ٹیڑھی لکیر ، عصمت چغتائی،ناشر،چودھری اکیڈمی ، مکتبہ اردو، لاہور،بار اول 1944)
’’مگر جونہی منجھو کی آنکھ بچتی وہ باہر کھسک جاتی اور پھر شام کو جو وہ قدم رکھتی تو یہ معلوم ہوتا کہ کوئی دیوانی کتیاکیچڑ کی کونڈی میں لوٹ کر آئی ہے۔غبارہ جیسی فراک جانو سڑے ہوئے چوہے کی کھال اور اس پر باریک باریک دھول کی افشاں چھڑکی ہوئی۔سر ،بال اور آنکھیں دھول میں اٹی ہوئی ۔دونوں نتھنے غلاظت سے ایسے ٹھسا ٹھس جیسے سیمنٹ سے دروازے چنے ہوئے ہوں۔جامنوں، امرودوں، بیرون اور آموں کا یا حسب موسم جو پھل موجود ہوتے ان کا پلستر کیا ہوا ،اوپر سے طاعونی چوہے جیسی بُو!۔‘‘ (ایضاً:12)
ٹیڑھی لکیر میں مذکورہ دونوںاسالیب کے علاوہ مکتوب نگاری کے اسلوب کا نمونہ بھی کہیں کہیں نظر آتا ہے۔مکتوب نگاری اسلوب کی ایک چھوٹی سی مثال ملاحظہ کیجیے:
’’ میرے من مندر کی دیوی
آہ،اپنی عاشق سے کیوں ناراض ہو،کب تک خفا رہوگی۔اگر ایسی ہی مجھ سے نفرت ہے تو اپنے پیارے پیارے ہاتھوں سے گلا گھونٹ دو۔۔۔۔۔یہ تم نے کیا جادو کر دیا ہے۔۔۔ایک دفعہ اپنے پیروں پر سر رکھ کر مانگ لینے دو۔۔
تمہارے حسن کی پروانہ رسول فاطمہ۔‘‘
(ایضاً:83)
مکتوب نگاری کے علاوہ نادر تشبیہاتی اور استعاراتی اسلوب کی مثال ملاحظہ کیجیے:
’’اور یہ پیٹ کی کھرچنکالی پیلی،دھنیا سی ناک،چیاں سی آنکھیں پر چیل سے زیادہ تیز،بڑی آپا اور منجھو دونوں نے اس کے چوہے کے بچے جیسے منھ کو مسکراتے دیکھا۔‘‘(ایضاً:8)
’’ندیدی کتیا کی طرح سونگھ سونگھ کر وہ ڈھونڈھنے لگی۔اس نے پا لیا،پیال کے ایک کونے میں اس کی نرم گرم انّا پکے آم کی طرح گول مول سی ہو رہی تھی۔‘‘ (ایضاً:9)
’’۔۔۔۔۔۔پھر شام کو جو وہ قدم رکھتی تو یہ معلوم ہوتا کہ کوئی دیوانی کتیاکیچڑ کی کونڈی میں لوٹ کر آئی ہے۔غبارہ جیسی فراک جانو سڑے ہوئے چوہے کی کھال۔۔۔۔۔۔دونوں نتھنے غلاظت سے ایسے ٹھسا ٹھس جیسے سیمنٹ سے دروازے چنے ہوئے ہوں ۔‘‘ (ایضاً:12)
عصمت نے شمن کے بچپن کے عادات و اطوار، رہن سہن ،کھان پان، وغیرہ کے حوالے سیبڑی کریہہ ، غلیظ ، ناپسندیدہ اور ناگوار تشبیہات کا جگہ جگہ استعمال کیا ہے یہ تو صرف چند مثالیں ہیں ۔ناول میں کئی مقامات ایسے آئے ہیں جہاں مکروہ تشبیہات کا استعمال کیا گیا ہے۔مثال کے طور پرپلے کی طرح ،بھینس کے کیڑے کی طرح، غراتی بلی کی طرح، مکڑی کی طرح،سڑی ہوئی نالی کی طرح، شیر کی طرح، زخمی مینڈھکوں کی طرح، دیوانی کتیا کی طرح ، پکے ہوئے آم کی طرح ،سڑے ہوئے چوہے کی طرح ، چوہے کے بچے جیسے منھ اور جسم کی بُو کو طاعونی چوہے کی بوُ سے تشبیہ دی جو سننے اور پڑھنے دونوں میں ناگوار گزرتا ہے لیکن ناول میں یہی تشبیہات فن کاری کا بہترین نمونہ بھی ہیں۔ ناول کو پڑھتے ہوئے جگہ جگہ اس طرح کی نادر تشبیہات سے آپ کا سابقہ پڑے گاکیونکہ اس کے بغیر ان کی تحریر ادھوری تصور کی جائے گی۔عصمت کے ناولوں کی زبان تخلیقی زبان ہے جس کی مثال ٹیڑھی لکیر کے ہر صفحے سے دی جا سکتی ہے۔عصمت کی زبان چونکہ ان کے طبقے کی عورتوں کی مخصوص زبان ہے جس پر انھیں الہامی قدرت حاصل ہے۔اس میں روز مرہ ، کہاوتیں، محاورے، فقرے، آوازے،پھبتیاں،گالیاں، دعائیں، کوسنے، طعنے اس طرح سمائے رہتے ہیں کہ قاری ان سے لطف اندوز ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔طعنے اور کوسنے کی ایک مثال دیکھیے:
’’مرجائے ، اللہ کرے منجھو بی مر جائے۔‘‘ اماں اپنی لاڈلی کو کوستے دیکھ کر خوب بگڑیں۔‘‘ (ایضاً:21)
’’کھود کے گاڑ دوں گی جو میری بچی کو کوسا، کلموہی کہیں کی۔‘‘ (ایضاً:21)
دعا کی مثال:
’’جیتی رہو بیٹی، دودھوں نہاؤ ۔پوتوں پھلو۔‘‘ (ایضاً:23)
یہ تو صرف چند جملے ہیں پورا ناول اس طرح کے جملے ،کوسنے ، محاورے اور پھبتیوں سے بھرے پڑے ہیں۔یہ ناول ان کے زبان و بیان اور نسائی طرز اظہار پر کامل عبورکی روشن دلیل ہے ۔اس طرح کا اسلوب کسی اور ناول نگار کے یہاں نظر نہیں آتا۔اس کے بیانیہ کے علاوہ مکالموں کی زبان انتہائی چست درست اورطنزو تیر کا نشتر لیے ہوئے ہوتی ہے البتہ بعض مکالموں میں نفرت اور حقارت آمیز اسلوب کا عنصر غالب نظر آتا ہے جس سے ایک حِس رکھنے والا قاری اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔وہ منظر نگاری اور لطافت بیان میں بھی اپنا ثانی نہیں رکھتیں۔معنی خیز اور فکر انگیز جملے جگہ جگہ ناولوں میں بکھرے نظر آتے ہیں جو ان کے تجربات و مشاہدات کا نچوڑ معلوم ہوتے ہیں۔ ان کے نسوانی کرداروں کے مکالمات میں وہی الفاظ ،اصطلاحات،محاورے،اور لب و لہجہ بھرا ہے جو انھیں سے مخصوص ہے۔گھر کی دادیوں،نانیوں،خالاؤں،اناؤں کی زبان ، ان کی گالیاں،ان کے طعن و تشنیع،سازشیں،گلے شکوے،لگائی بجھائی وغیرہ سبھی کچھ دیکھے جا سکتے ہیں۔اس کے علاوہ خادم اور خادمائوں کا جنسی استحصال،ماں ،بھابھی، پڑوسن کے مخصوص کردار،ان کے شخصی تضادات سبھی زندہ اور متحرک کردار ہمارے سامنے آجاتے ہیں۔
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

