Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
افسانہ

مذبوحی – فیصل ہاشمی

by adbimiras دسمبر 14, 2020
by adbimiras دسمبر 14, 2020 0 comment

چند محاوروں اور فلموں کی بدولت قصائی کا لفظ ہمارے ذہنوں میں شقی القلبی اور سفاکی کا تصور اجاگر کرتا ہے۔تاہم میرا ذہن اس قسم کے تصور سے پاک ہے۔ سبب یہ ہے کہ ہمارے محلے میں ایک قصائی خاندان آباد ہے جس کا ہر فرد شرافت اور وضع داری کا نمونہ ہے۔ چار بھائی ہیں اور چاروں اپنے خاندانی پیشے سے وابستہ ہیں۔ انہیں کوئی عار نہیں ہے۔

یہ لوگ اپنے گھر میں صبح صبح دویا کبھی کبھی تین جانور ذبح کرتے ہیں اور گوشت کوپاس والے محلے میں لے جا کر اپنی کرائے کی دکان میں رکھتے ہیں۔ شام تک سارا مال بیچ کریہ لوگ اپنے گھر لوٹ آتے ہیں۔ اور سکھ چین کے ساتھ زندگی بسر کرتے ہیں۔

ہمارے بچپن میں بکرے اور مرغ کا گوشت اس فراوانی کے ساتھ دستیاب نہیں تھا۔ لہٰذاہمارے یہاں کوئی مہمان آنے والا ہوتا تو ایک دن پہلے ہی ان لوگوں کو اطلاع بھجوادی جاتی تھی کہ آدھ کیلو کلیجی چاہئے ہوگی کل صبح۔

دوسرے دن صبح صبح چھ اور سات بجے کے درمیا ن ہم دونوں بھائیوں میں سے کوئی ایک ان کے گھر پہنچ جاتا اور کلیجی خرید لاتا۔ اس کے بعد وہ کریم گنج محلے کارخ کرتا اور مسجد کے قریب والی حلوائی کی دکان سے جلیبی لے آتا۔اور یوں ناشتے میں مہمان کی تواضع موری روٹی اور آلو کی بھجیا کے ساتھ ساتھ  جلیبی اور کلیجی کے سالن سے کی جاتی۔

گیارہ بجے کے قریب ہم میں سے کوئی ایک ان کی دکان سے گوشت خرید لاتا۔ اکثر اوقات ہانڈی کاالگ اور قیمے کا الگ۔

ہمیں اپنے پڑوس کے محلے میں اپنے محلہ دار کی دکان سے اتناعمدہ اور تازہ گوشت مل جایا کرتا تھا کہ ہم لوگوں کو شہر میں موجود کیل خانہ جانے کی کبھی ضرورت محسوس نہیں ہوئی۔

گنی بوٹیاں اور مپے شوربے میں ہم بھائی بہنوںکی غذا اور تغذیہ کا سامان موجود ہوتا تھا۔ گھر کا اصول یہ تھا کہ قصاب کے تقاضے سے بہتر ہے کہ گوشت نہ کھایا جائے۔ محاورہ فارسی میں بولا جاتا تھا۔ میرے ذہن سے اتر گیا۔

ابی ہمارے ایک سکول میں ٹیچر تھے ۔یہ ایک اقلیتی ادارہ تھا۔ مہینوں تنخواہیں نہیں آتی تھیں۔ بچوں کی جمع فیس میں سے اساتذہ کو تھوڑا تھوڑا بطور قرض مل جایاکرتا تھا ۔ اس سے ہمارے گھر کے اوپری اخراجات پورے ہوتے تھے۔ باقی کھاتے پڑتے تھے۔دھوبی ، گوالا اور کرانا والے کو تین تین یاکبھی کبھی چار چار مہینے پر ایک ساتھ پیسے دیئے جاتے تھے۔ انہیں بھی اطمینان رہتاتھا کہ پیسے آخر جائیں گے کہاں۔ علاوہ ازیں، یک مشت ایک بڑی رقم ہاتھ آنے سے ان لوگوں کا بھی کوئی بڑا کام نکل جایا کرتا تھا۔

ایک بات بتاتا چلوں کہ جن لوگوں کے یہاں ہمارا کھاتا ہوتا وہ نقد دے کر سامان لینے والوں کے مقابلہ میں ہم بھائیوں کے ساتھ بالکل سوتیلے والابیوہار کرتے تھے۔ کئی کئی دفعہ یہ لوگ ہمیں گھنٹے گھنٹے بھردکان کے باہر کھڑا رکھتے تھے ۔ ایک دو مرتبہ تو ہمارے ابی نے جم کر ان لوگوں کو جھاڑ پلائی تھی۔

اسی دوران سنہ ۱۹۹۱ء آیا۔ ملک میں نیو لبرل ریفارم شروع ہوا۔ انتہائی غر بت میں بڑی حد تک کمی واقع ہوئی۔ ایک بڑا متوسط طبقہ وجود میں آیا۔ باہر کی کمپنیوں نے یہاں سرمایہ کاری شروع کر دی۔ علاوہ اور چیزوں کے، کھانے پینے اور پہننے کی اشیاء کی ریل پیل ہوگئی۔ ( یہ بھی پڑھیں  آج بھی نتالی نہیں آئی۔۔۔ – سید کامی شاہ )

شہر کے ہر محلے میں ایس ٹی ڈی بوتھ، مٹن اور برائیلر چکن کی دکانیں کھلنے لگیں، اکادکا سوپراسٹور بھی دکھنے لگے۔ بہت سے نوجوانوں نے بڑے بڑے شہروں میں جاکر بی پی اوز اور آئی ٹی کمپنیوں میں ملازمت اختیار کرنا شروع کردیں۔ نتیجتاًشہر میں غیرملکی برینڈ کے ٹی شرٹ، جینس، اسپورٹس شوزاور گھڑیاں دکھنے لگیں۔ اور بہت سارے لوگوں کے گھر وںکے باہر ایک عدد کار بھی کھڑی ہوگئی۔ یہ اور بات ہے کہ یہ گاڑیاں سال میں ایک یا دو دفعہ ہی باہر نکلتیں جب چھٹیوں پر یہ نوجوان اپنے گھروں کو لوٹتے۔ خوشحالی کے نتیجے میں عمرہ اور حج پر جانے والوں کی تعداد میں خاصا اضافہ ہوگیا۔ تھوک کے بھاؤ انجینیئر پیدا ہونے لگے۔ لڑکیوں میں حجاب اور نقاب کا استعمال بڑھ گیا اور ان کا تعلیم حاصل کرنا ایک عام بات ہوگئی۔

اس وقت لوگوں کو کیا معلوم تھاکہ نئی معاشی پالیسی جو آج خوشحالی لے کر آئی ہے آئندہ شہریوں کو صارفین میں تبدیل کردے گی۔ دولت اور آمدنی کی غیربرابری میں بے انتہا اضافہ ہوجائے گا۔ اورملک کی بیشتر دولت مٹھی بھرلوگوں کے ہاتھوں میں سمٹ جائے گی۔

یہ بھی کون جانتا تھا کہ یہ معاشی پالیسی ایک ایسی سیاست کا ایندھن بنے گی جو گنگاجمنی تہذیب یا مشترکہ تہذیب کو جلا کر بھسم کردے گی۔معیاری طبی سہولیات اور اعلیٰ تعلیم دھیرے دھیرے عام شہریوں کی پہنچ سے باہر ہوتے جائیں گے۔ ثقافت اور قومیت کے ناگ پھن کاڑھیں گے اور زہر اگلیں گے۔

سنہ ۹۱ء کے بعد ۹۲ء آنا تھا،سو وہ آیا۔ میں نویں جماعت میں پڑھتا تھا۔ اس وقت خبراخبار سے مجھے رتی برابر بھی دلچسپی نہ تھی۔ بس ادھرادھر کہیں کچھ سن لیا تو سن لیا۔ ایک دن میں اپنی نانی کے گھر پہنچا۔ ویسے تو یہاں تقریباً ہر روز جانا ہوتا تھا۔دراصل نانی کا گھر ہمارے پڑوس میں تھا۔

اجی چھوڑئیے لوگ کیاکہتے ہیں۔ میں اپنا تجربہ بتارہا ہوں۔پڑوس میں ننھیال ہونے کے بڑے فائدے ہیں۔ نانا نانی کاپیار متواتر آپ کے ساتھ بنا رہتاہے۔ ساتھ ہی آپ کو ان کی خدمت کا بھرپور موقع ملتا ہے۔

ہم بھائی بہن بڑے خوش قسمت تھے کہ نانا نانی کے علاوہ ہمیں اپنی امی کی نانی، جنہیں ہم نانی اماں کہتے تھے، کا فیض بھی بہت دنوں تک حاصل رہا۔ ( یہ بھی پڑھیں کاہے کو بیاہی بدیس – احمد صغیر )

جس طرح ہم لوگ اپنے گھر کے لئے سودا سلف، سبزی، راشن کی دکان سے کراسن تیل اور چینی، اور ایل پی جی سلینڈر خرید کر لاتے تھے، ویسے ہی اپنی نانی کے گھر کے لئے بھی لایا کرتے تھے۔ نانی کے یہاں کے لئے خاص طور سے ہم لوگ پنواڑی کے یہاں سے پان، کتھا، سپاری، اور کالا، پیلا زردہ خریدکر لاتے تھے، اور دعائیں لیتے تھے۔

نانی کے یہاں ہم لوگوں کابڑا جی لگتا تھا۔ ان کے گھر کے آگے چاردیواری تھی جس کے اندر امرود، پپیتا، مالتی، مہندی، سورج موکھی وغیرہ لگے ہوئے تھے۔دو کمروں کے دروازے برآمدے میں بھی کھلتے تھے جس میں ایک چوکی اور کئی کرسیاں پڑی رہتی تھیں۔ایک گلیارے کے ذریعہ اندر داخل ہوناہوتا تھا۔ اندر جاکراسارا اور آنگن آتاتھااور مزید دوکمرے، باورچی خانہ اور غسل خانہ۔

اسارے میں دو چوکیاں ملا کر رکھی رہتی تھیںجس پر اکثرہلکے رنگ کی چادریں بچھی رہتی تھیں۔ اوپر دو پاندان رکھے رہتے تھے۔ اور نیچے دو الگ الگ کونوں میں ایک ایک اگالدان پڑا ہوتا تھا۔ ایک پاندان اور اگالدان نانی اماں استعمال کرتی تھیں۔ اور دوسرا ہماری نانی اور نانا کے مصرف میں رہتا تھا۔

ہم لوگ وہاں جاتے تو شوق سے نانا نانی کے لئے پان بناتے اور گلوری منہ میں دے کر ان کی دعائیں وصول کرتے تھے۔ گلوری یا بیڑا کو ہم لوگ کھِلّی کہتے تھے۔ کبھی کبھی شوق سے ہم لوگ سروتا اٹھالیتے اور چھالیا کترتے۔ چھالیا کو ہم لوگ ڈلی کہا کرتے تھے۔

خیر،میں یہ کہہ رہا تھاکہ اس روز میں نانی کے گھر پہنچا۔ سناٹا پسرا ہوا تھا۔ نانی اماں، جو اس وقت اسی کے پیٹے میں تھیں مگر بڑی پروقار معلوم ہوتی تھیں،ایک سفید ساڑی میں ملبوس چوکی پر بیٹھی تھیں۔ میں نے بالکل قریب جاکر سلام عرض کیا۔ تھوڑا اونچا سنتی تھیں۔ مجھے دیکھتے ہی بول پڑیں: ’’ایں بیٹا، بابری مسجد شہید ہوگئی؟‘‘ اور بلکنے لگیں۔ میں تو سکتے میں آگیا۔ مجھے تو کچھ خبر ہی نہیں تھی۔ بعد میں پتہ چلاکہ آج دسمبر کی چھٹی تاریخ تھی۔

پھر سنہ ۹۳ء آیا۔ ہمارے لئے کچھ خوش خبریاں لایا۔ ہماری امی، جنہیں ہمارے ابی نے حکمت یعنی یونانی میڈیسن پڑھوایا تھاپٹنہ طبیہ کالج سے، کی سرکاری نوکری ہوگئی یونانی میڈیکل آفیسر کے عہدے پر۔اسی سال میں نے میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ ابی کی تنخواہ بھی اب پابندی کے ساتھ آنی شروع ہوگئی تھی۔

لہٰذا اب کھاتا بہی کا وہ سلسلہ جس کا میں ذکر کر رہا تھا ختم ہوا۔ اور پھر خدا نے وہ دن بھی دکھائے جب گوشت اس فراوانی اور تنوع کے ساتھ دسترخوان کی زینت بننے لگاکہ ہم لوگ تنگ آکر پکار اٹھتے؎

ہر روز وہی گوشت وہی گوشت وہی گوشت

اک دن تو کبھی دال پکانے کے لیے ا ٓ  (محمد یوسف پاپا)

ہاں تو ذکر ہو رہا تھا قصائی برادران کا۔ یہ لوگ ہم دونوں بھائیوں کے ساتھ خاص طور سے مروت کے ساتھ پیش آتے تھے۔ وجہ یہ تھی کہ یہ چاروں ہمارے والد کے شاگرد رہ چکے تھے۔ سب سے بڑے بھائی جن کا نام رحمت تھاشیریں کلامی اور منکسرالمزاجی میں اپنے بھائیوں سے آگے تھے۔

رحمت بھائی کے جملے آج بھی میری یادداشت میں محفوظ ہیں۔ ’’بابو، ذرا پیچھے ہو جائیے گا۔ ہڈی ٹوٹ کر اڑے گی تو چوٹ لگ سکتی ہے۔‘‘ ’’بابو،اس کونے میں چلے جائیے۔ یہاں پہ چھینٹ پڑجائے گی۔‘‘ ’’اے، ماسٹر صاحب کے بیٹے کوپہلے دے کر چلاؤ۔‘‘

رحمت بھائی کے گھر کا نقشہ کچھ اس طرح تھا ۔ ایک طرف تنگ گلی والا راستہ تھا جدھر سے ہم لوگ ان کے گھر میں داخل ہوتے تھے۔ اندر پہنچنے پر دو طرف رہائشی کمرے نظر آتے تھے اور تیسری جانب جانوروں کا باڑا تھاجس میں چار یاشاید پانچ ناندیں پڑی ہوتی تھیںجن میں جانوروں کو چارا پروساجاتا تھا۔ اس کے باہر ڈھیر سارے کھال جمع ہوتے رہتے تھے۔ کھالوں کو، ظاہر ہے، دباغت کے کارخانے بھیجاجاتاہوگا چمڑے میں تبدیل ہونے کے لئے۔ جانوروں کو حلال کرنے، کھال اتارنے اور مختلف حصوں کو الگ الگ کرنے کا کام صحن میں انجام دیا جاتا تھا۔

اکثر، تجسس مجھے وقت سے تھوڑا پہلے ہی وہاں پہنچنے پر مجبور کر دیتا تھا۔ میں ساری کارروائی بغور دیکھا کرتا۔ اس پورے عمل میں مجھے تو کہیں کوئی سفاکی یا بدمذاقی نظر نہیں آتی تھی۔بلکہ یوں لگتا کہ یہ کوئی آرٹ ورک ہے اور یہ چاروں بھائی آرٹسٹ یا فن کار ہیں۔

یہ لوگ انتہائی نفاست اورعرق ریزی کے ساتھ سارا کام انجام دیتے تھے۔چھرے کی نوک کے ہلکے ہلکے ضرب اور پانی کے چھڑکاؤ کے ساتھ پوست اتاری جاتی۔شکم چاک کرکے انتڑی پچونی نکالی جاتی اور اسے ایک کونے میں دھردیاجاتا۔ کلیجی،دل اور گردے کو دھو کر ایک سینی پر ڈالا جاتا۔ اور پھر ران الگ، سینہ الگ، سری الگ۔

چاروں بھائی بنیان پہنے رہتے تھے اور اپنی اپنی لنگی کے اوپری حصے کو اپنی اپنی کمر کے اطراف اینٹھ اینٹھ کر باندھ لیتے تھے۔ اس طرح یہ لوگ چھینٹ سے بچتے اور پیر پھنس کر گرنے سے بھی۔ ساتھ ہی کمر کے اطراف اچھا خاصا بٹوا سابن جاتاجس میں نوٹوں کی گڈّی، ریزگاری، کھینی کی ڈبیا، چابی کے گچھے، وغیرہ بآسانی اپنی اپنی جگہ بنا لیتے تھے۔

بقرعید کے موقع پر یہ لوگ درجنوں جانور لایا کرتے تھے۔ محلے کے بہت سارے لوگ ان بھائیوں سے جانور خریدتے اور انہیں سے اپنے جانور ذبح کرواتے اور گوشت بنواتے تھے۔ اس طرح یہ قصائی برادران نہ صرف محلے والوں کی رزق کا سامان بہم پہنچاتے تھے بلکہ ان کے پل صراط پار کرنے کا انتظام بھی کرتے تھے ۔ غرض ہمارے محلے میں ان لوگوں کا وجود سر تا سر رحمت تھا۔

جب بھی میں کریم گنج محلے میں رحمت بھائی کی دکان پہ جاتا تو دو لوگوں کو اکثر وہاں موجود پاتا۔سید نوشاد علی اور مجتبیٰ خان۔یہ دونوں ہمارے محلے کی معزز شخصیتیں تھیں۔ دونوں حضرات گوشت شناسی میں بڑی مہارت رکھتے تھے۔ظاہر ہے انہیں گوشت خوری کا بڑا طویل تجربہ تھا۔ رحمت بھائی ان کے ساتھ بڑی عزت کے ساتھ پیش آتے تھے۔ انہیں اپنے بازو والی بنچ پر بٹھاتے اور کئی کئی دفعہ چائے منگوا کر پلواتے تھے۔ یہ دونوں حضرات خریدے ہوئے گوشت کے ساتھ ساتھ دوچار بوٹیاں اور ایک دو چبنی ہڈی منگنی میں لے کر وہاں سے اٹھتے تھے۔

جانور کے جسم کے مختلف عضلات کے نام اور کس عضلے یا حصے کااستعمال کس پکوان کے لیے زیادہ موزوں اور مناسب ہے یہ میں نے انہیں لوگوں سے سن کر سیکھا۔

’’یاررحمت، پٹھ کے گوشت کا کوئی جواب نہیں۔ کتنا جلد گل جاتا ہے۔ اور منہ میں جاتے ہی حلوہ ہو جاتا ہے۔ کیا لذیذ اسٹیک اور پسندے تیار ہوتے ہیں!‘‘ مجتبیٰ خان نے ایک روز فرمایا۔

’’جی بھیا۔‘‘ رحمت بھائی بولے ۔

’’یار! آج نکال دو ڈھائی کیلو پشت کا گوشت۔‘‘

’’جی بھیا۔‘‘ کندھے کے قریب ٹنگے گوشت کے ٹکڑے پر چھرا پھیرتے ہوئے رحمت بھائی نے جواب دیا۔

ایک روزمیں رحمت بھائی کی دکان پر گیا تو سید نوشاد علی معیاری اور صحت بخش گوشت کی صفات کچھ یوں بیان فرما رہے تھے: ’’بھائی، اچھا گوشت لال رنگ کا نہیں ہوتا ہے بلکہ سرخی مائل ہوتا ہے۔ اس میں ایک خاص قسم کی چمک ہوتی ہے۔ اس کی چربی پیلاپن لیے ہوئے یا لجلجی نہیں ہوتی، بلکہ سفید اور قدرے سخت ہوتی ہے اور آسانی سے نکل آتی ہے۔ اور ہاں معیاری گوشت میں ایک خاص طرح کی خوشبو بھی پائی جاتی ہے۔‘‘

ہمارا قصاب کی دکان پہ جانا یوں بھی مفید ثابت ہوتاکہ گوشت پہچاننے اورکھانے کے متعلق ہماری معلومات میں اضافہ ہوتا رہتاتھا۔

قیمہ، کوفتہ، کباب اور روسٹ بنانے کے لیے لوگ ران کا گوشت لے جاتے۔

’’رحمت ، مقدم نکال دوڈھائی کیلو۔‘‘ سید نوشاد علی نے ایک روز کہا۔

’’جی بھیا۔‘‘ ہمیشہ کی طرح رحمت بھائی بولے۔

’’یار رحمت، آج چانپ کھانے کا دل ہے۔ سینے اور پٹھ میں سے دے دو تین کیلو۔‘‘ مجتبیٰ خان بولے۔

’’جی بھیا۔‘‘ لکڑی کے کندے پر رکھے گوشت پر چاپڑ چلاتے ہوئے رحمت بھائی نے جواب دیا۔

دکان پرعلیک سلیک ، ’جی بھیا‘ اور ’جی بابو‘کے علاوہ شاید ہی کوئی لفظ یا فقرہ میں نے رحمت بھائی کی زبان سے سناہو۔

’’رحمت، ڈکر کاگوشت نکال دوایک کیلو۔‘‘ ایک صاحب بولے۔

’’جی بھیا۔‘‘

’’رحمت بھائی، قورمے کے لیے ایک کیلو نکال دیجئے اور آدھ کیلو ران کے گوشت کے پارچے بنادیجئے ۔‘‘

’’جی بابو۔‘‘

’’رحمت بھائی، بوٹی ذرا چھوٹی چھوٹی کاٹئیے گا۔ ‘‘ ایک نوجوان گاہک نے کہا۔

’’جی بابو۔‘‘

’’ارے پریشان مت ہو۔ رحمت بالکل برفی کی طرح بوٹیاںبناتا ہے۔‘‘ مجتبیٰ خان نے مسکراتے ہوئے کہا۔

رحمت بھائی کے چہرے پر بھی ایک خفیف مسکراہٹ کھیل گئی۔

’’رحمت، چھیچھڑے اچھی طرح نکال دینا۔اورہڈی کم ہی رکھنا۔‘‘ ایک صاحب بولے۔

’’جی بھیا۔‘‘

ایک دن سید صاحب کہنے لگے: ’’گوشت کھاناایک فطری عمل ہے۔ یہ مہذب ہونے کی بھی نشانی ہے۔ فطرت نے ہمارے منہ میںایسے دانت دیئے ہیں جن کا کام گوشت کھانے کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں ہے۔اور یہ مہذب اور متمدن ہونا ایسے ہے کہ ہم نے گوشت بنانے اور پکانے کوایک فن میں تبدیل کر دیا ہے۔ انواع و اقسام کے لذیذ سالن ہم کھاتے اور کھلاتے ہیں۔ گوشت کا کاروبار دنیا میں اربوں کھربوں روپے کی صنعت بنا ہوا ہے۔ اور ہاں، یہ گوشت جو ہم کھارہے ہیں لحمیہ یا پروٹین کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ ایک بات اور غور طلب ہے کہ اگرانسان گوشت نہ کھائے تو ماحولیات کا نظام درہم برہم ہوجائے گا۔‘‘

اس پرزور تقریر نے میرے ساتھ ساتھ وہاں پہ موجود تمام لوگوں کے دل میں گوشت خوری کی دھاک جمادی۔ اگر کسی کے دل میں اس تعلق سے ذرا برابر بھی شک و شبہ رہا ہوگا تو وہ ضرور کافور ہوگیا ہوگا۔

میں توگوشت خوری کے جذبے سے ایسا سرشار ہوا کہ اگر کوئی سبزی خور اس وقت مجھے مل جاتا تو میں اس کے منہ پھاڑ کر ان دانتوں کی نشاندہی ضرور کرتا جو بقول سید صاحب قبلہ خاص گوشت خوری کے لئے ودیعت کئے گئے ہیں۔

ایمان افروز اور مدلل تقریر کے بعد سید صاحب، رحمت بھائی سے مخاطب ہوئے: ’’یار رحمت! ٹھنڈ بہت بڑھ گئی ہے۔ جانتے ہو، ہندی میں اسے گلنگ کہتے ہیں۔ ہڈی ہڈی میں سرایت کر گئی ہے۔‘‘

’’جی بھیا۔‘‘

’’یار، آج پایے اور بونگ دے دو۔ نہاری ہی اس ٹھنڈ کا توڑہے۔‘‘

’’جی بھیا۔‘‘

’’بھئی رحمت، پایے اور بونگ کل میرے لیے رکھ دینا۔ آج گردن اور شانے کا گوشت دے دو۔ شوربے والا سالن کھایاجائے آج ۔‘‘ خان صاحب نے ارشاد فرمایا۔

’’جی بھیا۔‘‘ لکڑی کے کندے پر قیمہ کوٹتے ہوئے رحمت بھائی نے جواباً کہا۔

’’ارے رحمت بھائی، یہ کیسا دودھیا رنگ کا گوشت ہے؟ ہٹا دیجئے اسے۔‘‘ ایک نوجوان گاہک نے احتجاج کیا۔

’’برخوردار، یہ باکھ کا گوشت ہے۔ اسے کھیری کہتے ہیں۔ کافی مزیدار ہوتا ہے۔ لے جائو۔‘‘ مجتبیٰ خان نے معلومات اور مشورہ ایک ساتھ عنایت فرمایا۔

’’باکھ کیا ہوتا ہے؟‘‘ خریدارنے استفسار کیا۔

’’جانوروں کے تھن کے اوپری حصے کوباکھ کہتے ہیں۔ اسی میں دودھ بنتا ہے۔‘‘ خان صاحب نے مزید معلومات عنایت فرمائیں۔

’’رحمت بھائی،چُرّی تیار ہو رہی ہے کیا آج کل؟‘‘ ایک گاہک نے دریافت کیا۔

’’نہیں بابو۔‘‘

’’رحمت بھائی، مغز ہے؟‘‘ دوسرے شخص نے سوال کیا۔

’’جی بابو۔‘‘

’’رحمت، مغز پہ ایک بات یاد آگئی۔‘‘ مجتبیٰ خان نے مسکراتے ہوئے کہا۔

’’کیا بھیا؟‘‘ رحمت بھائی نے پوچھا۔

’’میں اپنے بیٹے کولے کر دلی گیا تھا جامعہ ملیہ اسلامیہ میں داخلے کے لئے۔ ہم لوگ کھانا کھانے جامعہ نگر میں ایک ریسٹورنٹ میں بیٹھے۔ میرے بیٹے نے بیرے سے پوچھا کہ ’کیاہے کھانے میں؟‘ ’قیمہ، کوفتہ، پایے، نہاری، بھیجا، اسٹو، پالک پنیر، آلو گوشت۔۔۔، ‘پوری فہرست اس کے نوک زبان تھی۔ میرے بیٹے نے آلو پالک اور بھیجا لانے کو کہا۔ مغز کو وہاں لوگوں کو بھیجا بولتے سنا۔ بیرا بڑا مزاحیہ تھا۔ جو بندہ سالن نکالنے پر مامور تھا اس سے جاکر بولتا ہے کہ’ ایک آلو پالک نکال اور بھائی کا بیجا نکال‘۔‘‘ دکان پر موجود تمام لوگ بشمول رحمت بھائی ہنس پڑے۔

’’رحمت، بٹ اور چستہ ہے؟‘‘ایک روز ایک صاحب پوچھنے آئے۔

’’جی بھیا۔‘‘

’’نکال دو۔ اصل میں خالہ کے گائوں سے چاول کاآٹا آیا ہواہے۔بٹ کے سالن کے ساتھ چاول کے آٹے کی روٹی کا مزہ ہی کچھ اور ہے۔ کیوں رحمت؟‘‘

’’جی بھیا۔‘‘

گوشت خریدنے اور کھانے کا سلسلہ بدستور جاری تھاکہ ایک روز پھر کلیجی لانا میرے ذمے آیا۔ پھوپھا جان اور پھوپھی جان آئے ہوئے تھے اپنے گاؤں سے۔

پیسے اور تھیلے لے کرمیں گھر سے نکلا۔ رحمت بھائی کا مکان میرے گھر سے بمشکل پچاس قدم پہ ہے۔ جب میں ان کے گھر کے قریب پہنچا تو دیکھاکہ بہت سے لوگ جمع ہیں۔چاروں طرف اداسی بکھری پڑی ہے۔ دو دو، تین تین لوگ حلقہ بناکر آپس میں دھیمے دھیمے لہجے میں باتیں کر رہے ہیں۔

اسی دوران میری نظر پنٹو پر پڑی۔ مرلی گراؤنڈ میں ہم دونوں، اور لڑکوں کے ساتھ کرکٹ اور فٹ بال کھیلا کرتے تھے۔

’’پنٹو، کیابات ہے؟‘‘

’’ارے۔۔۔رحمت بھائی گزر گئے۔‘‘

’’ اوہو۔ اناّ۔۔۔‘‘

’’کچھ دن پہلے گوشت کاٹتے ہوئے ان کی ایک انگلی کٹ گئی تھی۔ پھر شاید گینگرین ہو گیا تھا اور انفکشن زیادہ پھیل گیا تھا۔‘‘

مجھے تو سکتہ سالگ گیا۔ تھوڑی دیرمیں گم صم کھڑا رہا۔ افسردگی اور اضمحلال نے مجھے آ لیا تھا۔

پنٹو سے رخصت ہوکر دھیرے دھیرے قدم اٹھاتا ہوامیں اپنے گھر کی طرف بڑھنے لگاکہ اچانک میری نظر سید نوشاد علی اورمجتبیٰ خان پر پڑی۔ یہ لوگ آپس میں محو گفتگو تھے۔ ’’بھیا، بے زبان جانوروں کا صبرتو پڑتا ہی ہے۔‘‘ ’’صحیح بات ہے۔ ان کی بھی بددعا ہوتی ہے۔‘‘

جیسے ہی ان دونوں کی باتیں میری سماعت سے ٹکرائیں، مجھے سڑے ہوئے گوشت کا بھبھکا محسوس ہوا۔ ایسی سڑانڈ کہ خدا کی پناہ۔ مجھے لگا جیسے دماغ کی نسیں پھٹ جائیں گی۔ میرے حلق میں ابکائی امنڈ آئی۔گھٹن کا احساس ہونے لگا۔

تیز تیز قدم بڑھاتا ہوامیں وہاںپر سے بھاگا۔

پہلے بھی ان لوگوں کو میں نے رحمت بھائی کی دکان کے باہرایک دن بولتے سنا تھا کہ’’قصائی اپنے باپ کا بھی نہیں ہوتا ہے۔ کتنا ہی اچھا گوشت دے، اس میں سے دو چار بوٹی ضرور مار لے گا۔‘‘ اس روز ان لوگوں کی بات نے بڑا بدمزہ کیا تھا، لیکن آج تو مذبوحی ہو گئی۔

گھر پہنچ کر میں نے پانی سے اپنے ہاتھ دھوئے۔ اور پھرمیں نے گوشت کھانا اور گوشت کی دکان پر جانا چھوڑ دیا۔

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

 

adabi meerasadabi miraasadabi mirasافسانہ
0 comment
1
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
فرقہ پرستی اور اس کا تدارک – ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی
اگلی پوسٹ
آخری سواریاں:ایک مطالعہ – ڈاکٹر شہناز رحمن

یہ بھی پڑھیں

زندگی کے درمیاں – وصی الحق وصیؔ

اکتوبر 11, 2025

بُت اگر بولتے – قیُوّم خالد

جنوری 20, 2025

بھیگے ہوئے لوگ – اسلم سلازار 

جنوری 6, 2025

شیشے کے اُس پار – ڈاکٹر عافیہ حمید

ستمبر 18, 2024

دو دوست /موپاساں – مترجم: محمد ریحان

ستمبر 9, 2024

غریبِ شہر- ڈاکٹر فیصل نذیر

ستمبر 8, 2024

راج دھرم – ڈاکٹر ابرار احمد

اگست 7, 2024

پہلی نظر – تسنیم مزمل شیخ

جون 18, 2024

کائی – قیُوّم خالد

جون 2, 2024

یہاں کوئی کسی کا نہیں – ڈاکٹر ابرار...

مئی 28, 2024

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (118)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں