۱۸۴۰ءتا۱۹۴۸ء تک کوگلگت بلتستان میں اردو شاعری کا اولین دور قرار دیا جاتا ہے۔اس دور میں اردو کو ذریعہ سخن قرار دینے والے اہل سخن کی تعداد بہت کم ہے۔ اس ابتدائی دورمیں شاعری کی محفلیں نہ ہونے کے برابرہیں لیکن مدارس اور اسکولوں میں بہت بازی کی محفلیں عام ہوتی تھی جوکہ شعری ذوق کوبڑھانے کےلئے کافی مددگارثابت ہوتی تھی۔گلگت بلتستان کی آزادی کے ایک سال بعد یعنی ۱۹۴۹ ءمیں یہاں اردو مشاعرے بھی منعقد کیے جانے لگے۔ان مشاعروں میں مقامی ملازمت پیشہ و غیر ملازمت پیشہ شعرا اور افسران شرکت کیاکرتےتھے۔
جب برصغیرمیں فارسی کوزوال آیا تو یہی زبان اردو کے رنگ وآہنگ میں ڈھل گئی اورباقاعدہ خالص اردو شاعری کی جانب سفر آگے بڑھا۔جوں جوں وقت گزرتاگیااردوبھی زیادہ شستہ اورسلیس اندازمیں ذریعہ ادب واظہار بنتی گئی۔برصغیرمیں تحریک آزادی کی ہل چل اورقائد اعظم محمدعلی جناح کی ولولہ انگیز قیادت سامنے آنے کے بعد گلگت بلتستان کی شعروشاعری نئے رجحانات وموضوعات کاآغاز اورنئی اصناف کوفروغ ملا۔
۱۹۵۸ء میں گلگت بلتستان میں پہلی بار موضع سکردو میں پہلی ادبی انجمن "شائقین ادب” کے نام سے وجود میں آگیا۔۱۹۸۰ء کے دہائی تک آتےآتے شاعروں کی ایک بڑی کھیپ ایسی تیارہوگئی جن کے ہاں اردومقامی زبان کی نسبت زیادہ استعداد کے ساتھ ذریعہ اظہارقرارپائی۔ اس دورمیں جن شاعروں کو مقامی سطح پرشہرت حاصل ہوئی یاجن کا کلام ادبی رسائل وجرائد کے توسط سے پڑھااور سراہاگیاان کی فہرست طویل ہے حفظ مراتب اور شاعری کے زمانہ آغازسےقطع نظردرجہ ذیل شعراء کے نام اس دور کی اردو شاعری کے حوالے سےقابل ذکرہیں۔عبدالخالق تاج،شیخ غلام حسین سحر،جمشید خان دکھی،سید اسد زیدی،علی احمدقمر،شاکر شمیم،ذاکرشمیم،خوشی محمد طارق،سید مہدی سرباز،حشمت کمال الہامی،عنایت اللہ شمالی،غلام حسن حسنی، ڈاکٹر غازی نعیم ،محمد علی توحیدی، احسان علی دانش، غلام مہدی شاہد،سیدامجدزیدی،ڈاکٹرمظفر،مشتاق احمدراہی،احسان شاہ،حبیب الرحمٰن مشتاق،ہدایت اللہ اختر، عبدالحفیظ شاکر، ظفروقارتاج،محمدافضل روش،سیداسلم سحر،محمداقبال عاصی،عبدالکریم کریمی،غلام رسول تمنا،بشارت حسین ساقی،سیداشرف کاظمی،فرمان علی خیال،اسماعیل ناشاد،عمر نظیم دیا، بہرام خان شاد،کریم مطرب،صاحبزادہ نعیم چستی،ذیشان مہدی،عاشق فراز، وغیرہ۔
شیخ غلام حسین سحر،حشمت کمال الہامی،علی احمد قمر،ڈاکٹرنعیم غازی،ذاکرشمیم،شاکرشمیم،سید اسد زیدی ،غلام حسن حسنی،سیداسلم سحر،سیداشرف کاظمی،عبدالخالق تاج،جمشیدخان دکھی،خوشی محمدطارق،عنایت اللہ شمالی غلام مہدی شاہدجیسے شعراء کاتعلق اسی گروہ سے ہے جن کاشعری سفر۱۹۸۰ءسےپہلے شروع ہوا۔
۱۹۸۴ ء میں سکردو میں ایک ادبی تنظیم "حلقہ علم و ادب ” کے نام سے قیام عمل میں لایا گیا اس تنظیم کے قیام میں یوسف حسین آبادی ،محمد علی شاہ صبااور سید اسد زیدی نے بھر پور کردار ادا کیا۔گلگت میں”قراقرم رائٹرز فورم” کے نام سے ایک ادبی تنظیم بنائی گئی اس تنظیم کے بانیان میں پروفیسر عثمان علی،شیر باز خان برچہ،محمد حسن حسرت اور یوسف حسین آبادی شامل تھے۔ قراقرم رائٹر فورم کے قیام کے دو سال بعد "حلقہ ارباب ذوق ” کے نام سے ایک اور تنظیم بنی ۔ حلقہ ارباب ذوق کی انفردایت یہ ہے کہ اس میں گلگت کے تمام مسلک سے تعلق رکھنے والے اہل قلم اور شعرا شامل ہیں مختلف سوچ و فکر اور خیالات رکھنے کے باوجود اس ادبی تنطیم سے وابستہ تمام ادبا اور شعرا ارو ادب اور شاعری کے فروغ کے ساتھ ملی یکجہتی کے لیے بھر پور کردار ادا کر رہے ہیں اس کے علاوہ گلگت کے مخصوص حلات میں فرقہ واریت ،تفرقہ بازی کو جڑ سے اکھاڑ کر بھائی چارگی کی فضا قائم کرنے میں گرانقدر کارنامہ انجام دیا ہے گلگت کے اندر مختلف محافل ومجالس ،میلاد اور محافل مسالمہ ،مشاعرہ اسی تنظیم کے زیر انتظام ہوتی ہیں۔1984 میں ایک ادبی تنظیم حلقہ علم و ادب بلتستان کے نام سے قیام عمل میں لائی اس تنظیم کے بانیان میں یوسف حسین آبادی، محمد علی شاہ صبا اور سید اسد زیدی شامل تھے۔ کے علاوہ بلتستان ادبی یوتھ، ادبی بورڈ شگر اور کاروان ادب خپلو نے بھی اردو ادب اور شعر و شاعری کے فروغ میں ان تنظیموں کے زیر انتظام کئی ادبی محافل اور تقریبات منعقد کئے گئے کاروان ادب خپلو۔ اردو ادب کے فروغ اور نئی نسل کو اور شاعری کی طرف راغب کرنے کے لیے ان تنظیموں کا کردار اور ان کی خدمات ناقابل فراموش ہے۔” ارض بلتستان” اور "جلوہ شمال” میں مختلف علمی و ادبی موضوعات پر مضامین کے علاوہ مختلف اضاف پر مبنی شعراء کے اردو کلام موجود ہیں ۔ (یہ بھی پڑھیں میں تمثال ہوں: ایک سرسری جائزہ – گلناز کوثر )
حمد،نعت،منقبت اورسلام ،قطعہ جیسی اصنافِ شعرکوبھی ساتھ ساتھ فروغ حاصل ہوتارہا۔ان اصناف کا آغاز اگرچہ یہاں انیسویں صدی کے نصفِ آخرمیں ہواتھا لیکن باقاعدہ اردوزبان میں ان پرشعراءنے طبع آزمائی آزادی کے بعدکی۔اردو نعت، منقبت اورسلام نگاری کے میدان میں شمیم بلتستان اس دورمیں اہم اورنمایاں شاعر کے طورپرسامنے آئے۔ان کی کتابیں” چراغِ مصطفوی ۱۹۷۷ء "اور”عقیدت ” اس حوالے سے اہم ہیں ۔
اس دور کی علمی و ادبی پیش رفت اور موضوعاتی تنوع کے بارے میں محمد حسن حسرت کہتے ہیں۔
۱۹۸۰ءکے بعد گلگت بلتستان کا ملک کے ترقی یافتہ شہروں سے روابط بڑھنے اور بدلتے حالات کے تناظر میں یہاں کی اردو شاعری کے موضوعات میں کافی حد تک تنوع پائے جاتے ہیں ۔اب یہاں کے شعرا حمد ،نعت اور منقبت تک محدود نہیں اور نہ ہی غزل گوئی میں لب ورخسار اور زلف ِ محبوب کے اسیر ہو کے رہ گئےہیں بلکہ اپنی غزلوں اور نظموں میں زمانے کے بدلتے حالات ،معاشرتی اصلاح،اقتصادی ،سماجی اور سیاسی نشیب وفراز اور پھر تہذیب و تمدن کے گوناگوں پہلووں پر اظہار خیال کرتے ہیں۔[۱]
وطن عزیز پاکستان سے محبت اور وابستگی،گلگت بلتستان کی سرزمین سے انس ومحبت،آزادی پاکستان اور آزادی گلگت بلتستان ،سیاسی جماعتوں کی سرگرمیاں،انتخابات کی ہل چل،سیاستدانوں کی ناتجربہ کاری اورمقامی انتظامیہ کی کوتاہیوں کو اس دورکے شعراء نے اپنی تخلیقات کاموضوع قراردیاہے یہاں کی مقامی اردو شاعری میں پاکستانیت اور پاکستان کی مٹی سے محبت اور اس کی تہذیب و تمدن سے لگاو قابل داد و تحسین ہے پاکستانی حکمرانوں کی طرف سے نظر اندااز کرنے اور سیاسی سطح پر پاکستان کی قومی اسمبلی اور سینٹ میں نمائندگی نہ ملنے کے باوجود پاکستان کی مٹی سے گلگت بلتستان کے لوگوں کی محبت و الفت اور گہری عقیدت ووابستگی کا عکس یہاں کی اردو شاعری میں نمایاں طور پر نظر آتا ہے۔
گلگت بلتستان کی اردو شاعری میں پاکستانیت اور پاکستان کی مٹی سے محبت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہےاس کی تہذیب و تمدن سے لگاو کی کیفیت بھی نہایت قابل تعریف ہے ایک سال تک خون ریز جنگ لڑ کر اپنے علاقے کو آزاد کرنے بعد گلگت بلتستان کے لوگوں نے جس ملک کے ساتھ وابستگی اختیار کی ہے اس سے عقیدت و محبت ایک فطری امر ہے۔[۲]
اس ضمن میں عبدالخالق تاج کی نظم "جشن آزادی”،ظفروقارتاج کی نظم "میراوطن”،خوشی محمدطارق کی نظم "اےوطن”، اور "یوم تکبیر”،مشتاق احمدراہی کی "ترانہ گلگت”،غلام حسن حسنی کی نظم”وطن کانغمہ” ،”بام جہاں”اور”ارض شمال”، شاکر شمیم کی نظم”اےارض وطن”،حشمت کمال الہامی کےنغمے”پیاراپاکستان” اور "بلتستان”،احسان دانش کی نظم "کارگل کے جوان”،فرمان علی خیال کی نظم”وطن کے جوان”،حبیب الرحمٰن مشتاق کی نظم”۱۴اگست”قابل توجہ ہیں۔
مری دھرتی تو میری آبرو ہے
تری تصویر پیہم روبرو ہے [۳]
تری رعنائیوں اور خوشبووں میں
مرے اسلاف کا شامل لہو ہے [۴]
ہے دھول تری جامہ احرار کی زینت
شامل ترے خاشاک میں خوشبوئے سمن ہے [۵]
آبشاریں ،ندیاں ،دشت و دمن یہ کوہسار
اے وطن سامان ِ ہستی ،جان و دل تجھ پہ نثار [۶]
ایک طرف شعراء کےہاں گلگت بلتستان اور پاکستان سے والہانہ محبت کا اظہار ہوتا ہے تو دوسری طرف یہاں کے اہل سیاست اورارباب حل وعقد کی نادانی اور بدانتظامی سے اظہارنفرت کرتےہیں۔
سحرملانہ کبھی ہم کو اپناحق پورا
رگِ حقوق پہ تلوارجیسے رکھتےہیں [۷]
اب تو امیر شہر کہاں بچ کے جائے گا
اپنے لہو کا خون بہا مانگتے ہیں لوگ [۸]
مقامی شاعروں نے دہشت گردی فرقہ واریت انتہا پسندی اور مذہبی تعصب جیسے رویوں کی تردید کی اوراپنے انداز میں ان کی حوصلہ شکنی کرنے کی کوشش کیااس ضمن میں جمشید دکھی،حشمت کمال ،حبیب الرحمٰن مشتاق،اور عبدالخالق غلام حسن حسنی تاج جیسے شاعروں کے نام نمایاں ہیں۔دہشت گردی،فرقہ واریت،مذہبی عصبیت اور بم دھماکوں کی شدیدمذمت کرتے ہوئے اظہارنفرت کیا۔
جہاں پہ فرقہ پرستی کی تخم ریزی ہوں
وہ شہرامن سے آراستہ نہیں ہوتا [۹]
تعصب سے بھرا پیغام یہ ہے
بہاو خون درس عام یہ ہے
مسلمانوں کا جب انجام یہ ہو
میں کافر ہوں اگر اسلام یہ ہے ]۱۰]
دہشت گردی ،فرقہ واریت اور مسلکی اختلافات کی بنیاد پر نفرت انگیز ی کی نفی کی۔تودوسری طرف باہمی اتفاق ووحدت کی ترغیب دلائی غلام حسن حسنی کی نظم اتحاد بین المسلمین اور محمد افضل روش کی نظم "وحدت” اس حوالےسے نمایاں طور پر قابل توجہ ہے ۔
گلگت بلتستان کے سیاسی وسماجی حقوق،انفرادی واجتماعی حقوق کاادراک اس دورکے شاعروں کے ہاں بھرپورنظرآتاہے۔ایک طرف ان شعراء کے ہاں اپنے انفرادی اور اجتماعی حقوق کااحساس وشعور پیداہواتودوسری طرف اہل حل وعقد کی غاصبانہ روش دیکھ کر مزاحمت اور تلخ نواءی کا اظہار بھی کیاگیااہل قل نے اپنے قلم کو ظلم واستبداد اور استحصالی رویوں کے خلاف متحرک رکھا۔
مجھ سے مخفی رکھ دیے میری زمیں کے مسئلے
اور غیروں کو اسی کارازداں رکھاگیا [۱۱]
جومیرے شہر کو طبقات میں کردےتقسیم
ایسی دیوار بہر طورگرائی جائے]۱۲]
۲۰۰۰ءکے بعد گلگت بلتستان کاسیاسی،سماجی اور شعری منظرنامہ ان تبدیلیوں،اتارچڑھاو اورتغیروتنوع کومنعکس کرتاہے جوگلگت بلتستان کے گردو نواح ،بالخصوص پاکستانی سیاسی اورسماجی میدانوں میں نظرآتاہے
۲۰۰۰ءکے بعد کی اردو شاعری کو تخلیقی سطح پہ فروغ دینے والے اہل سخن کودوگروہوں میں تقسیم کیاجاسکتاہےپہلاگروہ ان شعراءکرام کاجنہوں نے اپنی اردوشاعری کاباقاعدہ آغاز تو۱۹۸۰ءکےآس پاس میں کیااور اب تک برابر شاعری کررہےہیں اس گروہ میں ذیل شعراء کرام نمایاں ہیں۔
عبدالخالق تاج،شیخ غلام حسین سحر،جمشید خان دکھی، علی احمدقمر،شاکر شمیم،ذاکرشمیم،خوشی محمد طارق، حشمت کمال الہامی،عنایت اللہ شمالی، ڈاکٹرغازی نعیم ،علامہ محمد علی توحیدی،احسان علی دانش،غلام مہدی شاہد،سیدامجدزیدی،ڈاکٹرمظفرانجم،مشتاق احمدراہی،احسان شاہ،حبیب الرحمٰن مشتاق،ہدایت اللہ اختر،عبدالحفیظ شاکر، ظفروقارتاج،محمدافضل روش،سیداسلم سحر،محمداقبال عاصی،عبدالکریم کریمی،غلام رسول تمنا،بشارت حسین ساقی، سیداشرف کاظمی،فرمان علی خیال،اسماعیل ناشاد،عمر نظیم دیا، بہرام خان شاد،کریم مطرب،صاحبزادہ نعیم چستی،ذیشان مہدی،عاشق فراز، وغیرہ۔
دوسراگروہ ان نوجوان شاعروں کاہے جنہوں نے اپنے تخلیقی سفرکاآغاز ۲۰۰۰ءکے آس پاس میں کیااور مختصرسی مدت میں ان کا کلام فنی پختگی ،فکری وسعت ،موضوعاتی تنوع اور رواں اسلوب کے ساتھ ساتھ اپنامقام بنانے میں کامیاب ہوا۔اس گروہ میں شامل شعراءمیں سے بہت سے ایسے ہیں جو بہ غرض تعلیم ومعاش پاکستان کے دیگرصوبوں میں مقیم ہیں اور کچھ ایسے بھی ہیں جو پاکستان سے بھی باہرمعاش کی غرض سے یاحصول تعلیم کےلئے گئے ہوئے ہیں۔اور شعروسخن کا سلسلہ بھی برابرجاری رکھاہواہے اس گروہ سے تعلق رکھنے والے اکثرشاعروں کاکلام اگرچہ تاحال مختلف وجوہات کی بناءپرکتابی صورت میں چھپ کرسامنے نہیں آیالیکن انٹرنیٹ ،الیکٹرانک میڈیا،اور پرنٹ میڈیاپربآسانی دستیاب ہے ان شعراء کے ہاں نہ صرف گلگت بلتستان کے سیاسی ،سماجی،مذہبی،تعلیمی اور تہذیبی مسائل کاادراک نظرآتاہے بلکہ ملکی حالات وحوادث سے باخبررہنے اور ان مسائل کے حل کرنے کاعزم وارادہ بھی نظرآتاہے۔نوجوان شعراء کے اس گروہ میں درج ذیل نام قابل ذکرہے۔اشتیاق احمد یاد، شاہ جہاں مضطر،فاروق احمد قیصر،ڈاکٹرجابر حسین،توصیف حسن توصیف، ڈاکٹر جواد حیدر،رضا تابش ،امجد علی ساغر،یاور عباس یوسفی، تہذیب حسین برچہ،حیدر علی ،نوید حسن نگری،مرزاگھا ئل نگری،عبدالکریم کریمی،غلام عباس نسیم،امجد متاثر،تہذیب حسین ،ناصر نصیر ،جعفر عاجز،نذیر حسین نذیر،،رضا بیگ گھائل،عاشق حسین عاشق،حر حسنین،سفیر عباس،ہاشم حسین ہاشم،قیصر علی شاہد،قمر کاظمی،محمد عباس جرات،میر افتخار ، وغیرہ
مسئلے اس قوم کے حل کیسے ایوانوں میں ہوں
چور،بدکاروں،لٹیروں کاسجادربارہے]۱۳]
مکرجاتےہیں وعدے کرکے جواکثرمیرےلیڈر
وہی اس قوم کےماہر سیاست دان ہوتےہیں]۱۴[
میں بھی توایک فرد ہوں اس قوم کاحسن
جس قوم کے نصاب میں ماضی نہ حال ہے]۱۵]
تری مسند تمہاری موت کا پھندا نہ بن جائے
کہ اپنے پیٹ کی خاطر غریبوں کو ستاتے ہو [۱۶]
روک دےیہ انتخابی جھوٹ پر مبنی نظام
پہلے میری آئینی وہ حیثیت واضح کرے [۱۷]
سرِ افلاک سے محوِ تکلم حضرتِ کے۔ٹو مرا ہمدم
جو ہمدوشِ قمر دیوسائی کا سرسبز میداں ہے،
وہ میرا ہی تملک ہے۔
فلک بوسی کیا کرتی ہے دستارِ فضیلت جن کی،
مرے کہسار ہی تو ہیں!
ہزاروں ٹن ذخیرہ آبِ یخ بستہ لیے آغوش میں کہسار ہیں میرے۔
گلیشیر ایسے ایسے ہیں کہ جن کو دیکھ کر عقلِ بشر حیران رہ جائے۔
مرا تو کُل وجود اک شاہکارِ دستِ قدرت ہے۔
پڑوسی میرے دو ایسے ہیں جن سے رشتہ پاکستان کا بے حد نمایاں ہے،
بھارت اک طرف اور چین میری دوسری جانب
یہ باتیں اک طرف اور دوسری جانب مرا یہ حال،
تشخص میرا مبہم کر دیا جاتا رہا ہے،
چھیاسٹھ سال بِیتےپر ابھی تک اجنبی ہوں میں[۱۸]
مجموعی طور پر یہ کہنے میں کوئی باک نہیں کہ گلگت بلتستان میں پنپنے والی اردو شاعری اپنے موضوعات اور تہذیبی و فنی اظہار و معیار کے اعتبار سے پاک و ہند کے مختلف دیگر علاقوں میں تخلیق پانے ولی اردو شاعری سے یکسر مختلف بالکل نہیں۔گلگت بلتستان کے نوجواںن شعرا کا طرز احساس اور طرز اظہار اس قابل ہے کہ اسے بین الاقوامی اردو شاعری کے تناظر میں رکھا جائے۔
حوالہ جات
۱۔ حسرت، محمد حسن ،انٹرویو،بمقامِ سکردو ،26اگست ۲۰۱۴ء
۲۔ حسرت ،محمد حسن ،انٹرویو،بمقام ِ سکردو ،26اگست ۲۰۱۴ء
۳۔ دکھی ،جمشید خان ،مشمولہ :شمالی علاقے کااردوادب[ حصہ نظم ]، ناشر :حلقہ ارباب ذوق گلگت، ۱۹۹۳ء،ص۱۷
۴۔ تاج ،ظفر وقار ،آنند ،ہمالیہ پبلشرز انٹرنیشنل ،جون ۱۹۹۸ء،ص۲۱
۵۔ طارق ،خوشی محمد ،پلکوں کے سائباں ، طارق سنز پشواڑی منی مرگ گلگت ،جنوری ۱۹۹۷ء ،ص۳۲
۶۔ سحر،میر اسلم ، میرازخم ابھی بھرانہیں ہے، بزم علم و فن سکردو،گلگت بلتستان ،۲۰۰۸ ء،ص۷۰،
۷۔ حسنی، غلام حسن ،بادلوں کاسفر[غیر مطبوعہ] ص۹
۸۔ مشتاق ،حبیب الرحمن ،کوئی موجود ہوناچاہتاہے، ادبی انجمن فکری تحریک گلگت ،۲۰۱۲ء،ص۲۶
۹۔ طارق ،خوشی محمد ،مزاحمتی ادب )مضمون( مشمولہ:گلگت بلتستان کا اردو ادب) حصہ نثر( ،ناشر:حلقہ ارباب ذوق گلگت ،۲۰۱۱ء،ص۶۳
۱۰۔ قمر ،علی احمد ،لوح ،بیلا پبلی کیشنز اسلام آباد ، جولائی ۲۰۰۹ء،ص۴۸
۱۱۔ ایضا،ص۱۴۱
۱۲۔ برچہ، تہذیب حسین ،(غزل)غیر مطبوعہ کلام جو راقم کو تحریری صورت میں موصول ہوا۔
۱۳۔ مضطر ،شاہ جہاں ،(غزل)غیر مطبوعہ کلام جو راقم کو تحریری صورت میں موصول ہوا۔
۱۴۔ توصیف، توصیف حسن ،(نظم) مطبوعہ :ماہنامہ بام جہاں، گلگت ،شمارہ نومبر/دسمبر۲۰۱۳ء،ص۳۳
۱۵۔ جابر حسین ، ڈاکٹر ،نظم،مشمولہ:ضبطِ سخن(غیر مطبوعہ بیاض)،ص۵۴
۱۶۔ آصف ،آصف علی ،(غزل) غیر مطبوعہ
۱۷۔ جابرحسین، ڈاکٹر ،نظم،مشمولہ: ضبط سخن(غیر مطبوعہ بیاض)،ص۷۲
اسلام آباد ماڈل کالج برائے طلبا F-10/
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |


1 comment
Very good page for writers of gb.