نجم الدین احمد کا شمار اکیسویں صدی کے اہم ناول نگاروں میں ہوتا ہے سہیم نجم الدین احمد کا تیسرا ناول ہے اس سے پہلے وہ دوناول کھوج اور مدفن لکھ چکے ہیں اس کے علاوہ مختلف تراجم جن میں پلوتا. سرائیکی سے اردو ترجمہ کافکا بر لب ساحل کا اردو ترجمہ اور مختلف افسانے لکھ چکے تھے سہیم کا مطلب شریک، حصہ دار کے ہیں سہیم میں خوف دہشت، بے بسی ،وہم زنا کاری دوسروں کا حق مارنا، عورتوں کے آبروریزی، صاحب اقتدار طبقہ کا دولت اور اقتدار کے نشے میں اپنے اختیارات سے تجاوز کرنا اور ہمارے ماحول اور معاشرہ کا تماشائی بنا رہناکو شدید تنقید کا نشانہ بناتا ہے. سہیم ایک وڈیرے کے بیٹے ارسلان کی کہانی ہے جس کو عورتوں کی عصمت دری اور اختیارات کا ناجائز استعمال کرنا ورثے میں ملا ہے یہ لوگ دولت کے نشے میں مزدور عورتوں کو جانور سے بھی کم سمجھتے ہیں ان کی عصمت دری کرنا اپنا فرض سمجھتے ہیں ان عورتوں کو اپنی ملکیت سمجھتے ہیں. ارسلان اسی دولت کے نشے میں اپنے گاوں کے ایک کمہارکی بیٹی ماروی کا اپنے غنڈوں کے زریعے اٹھا لاتا ہے اور اس کی عصمت دری کرتا ہے اور بعد میں اسی عورت سے اسکی شادی ہوجاتی ہے ایک سطح پر ارسلان اوہام کا شکار ہوجاتا ہے جب ماروی یہ انکشاف کرتی ہے کہ اس کے تین شوہر ارسلان کے علاوہ اور ہیں ناول کے شروع سے آخر تک معلوم نہیں ہوسکا کہ وہ کون سے افراد ہیں وہ سمجھتا ہے کہ اسے سزا کے طور پر ماروی سے شادی کرنا پڑی ہے اور وہ یہ سمجھتا ہے کہ یہ سزا اس اکیلے کو کیوں دی گئی اس ماحول کو بھی اس کی برابر سزا ملنی چاہیئے تھی جو کہ وہ پیدوار یے اس نے تو وہی کیا جو اسے ورثے میں ملا ہے جو اس کو اس کے ماں باپ بھائیوں نے دیا ہے وہ اس معاشرے کو بھی اس میں شریک سمجھتا ہے جو اپنے اوپر ظلم سہتے ہیں اور بغاوت نہیں کرتے اور کہتے ہیں حضور اپ ہی کا مال ہے اپ حکم کریں آقا لکھتے ہیں. ،، تم سب منافق ہو سارے. خود ظلم سہتےاور مظلوم بن کرظلم ڈھاتے ہو. یہ سب تمھارا ڈرامہ ہے ۔بے اختیار میرے آنسو بہنے لگتے ہیں خود پر ظلم سہتے طلا جانا، روک نہ لگانا بلکہ طرح دینا نہیں بلکہ ہمت اور حوصلہ بڑھاتے ہوئے دعوت دینا آوہمیں ہر طرح سے نوچ ڈالو ہمارے چیتھڑے اڑا دو ہمیں روند ڈالو ہمارا سب کچھ لوٹ کھسوٹ لواور لگا تار لوٹتے رہو بے تکان اور بغیر کسی وقفے کے ہم تیار ہیں ہم حاضر ہیں،، یہ جاگیر دار اور وڈیرے عورتوں کو محض ٹشو پیپر کی طرح استعمال کر کہ پھینک دیتے ہیں عورتوں کو اپنی ملکیت سمجھتے ہیں اور ان کا استحصال اپنا فرض سمجھتے ہیں یہی لوگ اقتدار کے ایوانوں تک جاتے ہیں اور قانون کو اپنے پاوں کے نیچے روندتے ہیں ان کی نِظر میں چھوٹی ذات کی خواتین کی کوئی اہمیت نہیں یہ ان کو جانوروں سے بھی بدتر سمجھتے ہیں. لکھتے ہیں. ،،چھوٹے بھیا نے کندھے ہر ہاتھ رکھتے ہوئے بولے اس نیچ ذات کو نوکرانی بنا کر رکھو پاؤں کی جوتی، اس سے بچے پیدا نہ ہونے دو یہ تمھارے اختیار میں ہے اور اپنی ہم مرتبہ دوسری بیوی لے آو ،ڈیڈ،میں نے اپنے جاگیردار باپ کارخ کیا، اپ کیا کہتے ہیں یہ دونوں میری زبان بول رہے ہیں ڈیڈنے اپنی کلف لگی مونچھوں کو تاو دیتے ہوئے معنی خیز انداز میں جواب دیا اوریہ کام ہم کریں گے اپنے ہم پلہ لوگوں میں تمھاری شادی کا ۔لیکن ظاہر یہ کیا جائے گا کہ تم نے لو میرج کی ہے ہم سے بغاوت کر کہ، جس کا ہمیں بھی کافی رنج ہے، چھوٹے بھیا کا لہجہ کامل مکاری لیے ہوئے تھا،، ناول کے دوسرے حصہ میں جاگیر دار کا بڑا بیٹا ایک عورت کی عصمت دری کرتا ہے جس پر اس خاتون کا خاندان آواز اٹھاتا ہے اور اس کے بدلے میں اس عورت کے پورے خاندان کو مکان میں جلا دیا جاتا ہے یہ ناول کے ایک دیہات کی کہانی ہے سندھ میں اج کے ترقی یافتہ دور میں بھی وڈیرے اور جاگیردار نظام موجود ہے. سہیم ناول موجودہ پاکستانی سماج کی عکاسی کرتا ہے یہ جاگیردار طبقے کے منہ پر ایک زبردست طمانچہ ہے اس ناول کا مطالعہ ضرور کریں عکس پبلشر لاہور نے شاہع کیا ہے.
محمد تیمور انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد.
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

