آزادی کے بعدلکھے جانے والے ناولوں میں ایک بڑاحصّہ تقسیم ہندکے نتیجے میں پیداہونے والے ناخوش گوار واقعات ، غیر انسانی رویوں ،مایوسی،محرومی،شناخت کافقدان،عدم تحفّظ اورہجرت کے کرب وغیرہ پرمشتمل ہے ۔شوکت صدیقی کاناول ’’جانگلوس‘‘انھیں مسائل پرمبنی ہے ۔ تقسیم ہندکے بعدایک نئے سماج کی تشکیل ،اپنے وطن سے جدا ہو جانے کاغم ،معاشی و معاشرتی بدحالیاںاوراسی طرح کی مختلف چیزوں کے تصادم نے ذہنی پیچیدگیاں پیداکردی تھیں ۔ انسان یہ سمجھنے سے قاصرہوگیاتھاکہ ان ساری باتوں کاملزم اپنی ذات کوٹھہرائے یاکسی مخصوص فردکویامعاشرے کو۔ اسباب و محرکات سے ناواقفیت اورسماجی رشتوں سے عدم عرفان کے باعث ہرچیز پراسرار بنتی چلی گئی ۔ (یہ بھی پڑھیں موت کی کتاب :سیاہیوں کی تہہ داریاں – پروفیسر انتخاب حمید )
’’جانگلوس‘‘کے کینوس پرجوکردارسامنے آتے ہیں وہ پرتشددحالات کا شکار ہونے کے باوجود زندگی کی تلخ حقیقتوں سے مردانہ وارمقابلہ کرتے ہوئے نظرآتے ہیں ۔ لالی،رحیم داد،شاداں،حیات محمدخاں وٹو،فیض محمدوغیرہ کے ذریعے اس نوتشکیل معاشرے کی شکل قاری کے سامنے آتی ہے ۔ناول کے واقعات لالی اورجاگیرداروں کے اردگرد گھومتے ہیں ۔لالی اس ناول کا مرکزی کردارہے ۔جیل سے بھاگاہواقیدی ،ان پڑھ،تہذیب وطریقے سے بالکل بے بہرہ ،زندگی کی کسی بھی منزل سے ناآشنا اس کے لیے زندگی کے تقاضوں کی تکمیل اورفطری خواہشات وغیرہ وقت کے سیلاب میں ایک تنکے کی حیثیت رکھتے ہیں ۔اتفاقی واقعات کے نتیجے میں پیش آنے والے حادثات سے ہرباروہ خود کو محفوظ کرنے کے چکرمیں ایسی جگہ جا پہنچتا ہے جہاں کسی نہ کسی کریہہ حقیقت کاپردہ فاش کرنے کاسبب بن جاتاہے اور اس کے مجرمانہ ذہن کی وجہ سے کوئی نہ کوئی نیک کام سرانجام تک پہنچتاہے ۔ڈاکٹرانواراحمدلالی کے اس متضادرویے کے متعلق لکھتے ہیں :
’’ناول جانگلوس میں کچھ ایسے کردارہیںجن کوحقیقت اورتخیل سے مزین کیاگیاہے ایسے کرداروں لالی ،رحیم داد،،جمیلہ اللہ وسایا،حیات محمد وٹو اور احسان اللہ سرفہرست ہیں ۔لالی میں مصنف نے ایسے اوصاف رکھ دیے ہیں جن کی عام انسان سے توقع کرناعبث ہے ۔لالی اگرچہ مجرم ہے ۔لیکن وہ ہرایک کی بھلائی کاخواہاں ہے وہ جسے بھی دکھ اور تکلیف میں مبتلادیکھتاہے اس کواس مصیبت سے نجات دلانے کی کوشش کرتاہے‘‘۔(۱)
اس ناول کے مطالعے اورتجزیے سے مختلف طرح کے تأثرابھرتے ہیں ۔ لیکن سب سے گہرا اورشدید تأثر یہ ابھرتاہے کہ اس کے کرداروں کے رویے متضاد ہیں ۔ اس ناول کامرکزی کردارلالی پسماندہ طبقے کی نمائندگی کرتاہے ۔ جوجاگیرداروں کے استحصال اورمظالم کاشکارہیں ۔لالی کے لیے ایک مخصوص لفظ جانگلی کا استعمال ہواہے ۔ اس سے مرادغیرمنقسم پنجاب کی وہ نسل ہے جس نے انگریزوں کی مدد نہ کرکے اپنے ہم وطنوں کی مددکی تھی ۔ اس لیے انھیں حقارت سے جانگلی کہاگیا۔ یہ بھی گویا اس جاگیردارانہ معاشرے پر طنزہے کہ انھوںنے انگریزوں کی درندگی میں ان کاساتھ دے کربڑے عہدے حاصل کرلیے اوروفاداروں کوجانگلی کا نام دیا۔ لالی کاذہن بظاہرتوشیطانی وتخریبی عمل کی طرف راغب ہے ۔ لیکن وہ خیروشرکی کشمکش میں الجھاہوادکھائی دیتاہے اوراس کے اندرانسان دوستی اورنیک نیتی کاجذبہ بھی کارفرمانظرآتاہے ۔خیروشرکی کشمکش کایہ عنصرشوکت صدیقی کی دوسری تخلیقات میں بھی موجودہے ۔ جرائم پیشہ ،قتل وغارت گری،لایعنی مشاغل ،منشیات کا استعمال ،جنس زدگی،دھوکہ بازی کے ساتھ ساتھ ان کے کرداروں میں ہمدردی کاجذبہ بھی موجود ہوتا ہے ۔جیسے جیسے ناول کے واقعات سامنے آتے ہیں لالی جیسے مجرم کردارکی انسانیت کے روشن پہلو نمایاں ہوتے چلے جاتے ہیں ۔مثلاً جیل میں رحیم دادکی دکھ بھری کہانی سن کرہمدردی کے جذبہ سے لبریزہوجاتاہے اورجیل کے باہرنکالنے کے لیے ترکیبیں سوچتاہے آخرکار اسے اکساکرجوش دلا کر اپنی مجرمانہ ترکیب سے اس کولے کرباہرنکلتاہے ۔ باہرنکلنے کے بعدان کے جسم پرجیل کی وردی سب سے بڑامسئلہ ہے اس وردی سے نجات دلانے کے لیے وہ رحیم داد کو لے کرچھپتے چھپاتے پہاڑیوں اورکھیتوں سے سے گزرکرایک گاؤں میں پہنچتاہے اوردیوار پھاند کرایک گھرمیں داخل ہوتاہے جہاں انھیں ایک الگ ہی خوفناک منظرکاسامنا ہوتاہے ۔ اس گھر میں ایک عورت اپنے عاشق کواس کی بے وفائی کے پاداش میں قتل کرکے ہیجانی وپاگل پن کی کیفیت میں مبتلا نظر آتی ہے۔ پہلے تووہ لالی پرجھپٹتی ہے مگراس کی ہمدردی اور نرمی سے مطمئن ہوجاتی ہے ۔لالی اس عورت (شاداں)کو گرفتاری سے بچانے کے لیے لاش کوٹھکانے لگانے میں اس کی مدد کرتاہے ۔ اس طرح شاداں کے اس مجرمانہ فعل کی پردہ پوشی میں وہ بھی شریک ہوجاتاہے اس واقعہ سے بھی اس کردارکے دوپہلوسامنے آتے ہیں ایک مجرمانہ دوسرا ہمدردانہ ۔ اس کے مجرمانہ اورقاتل کے حمایتی فعل کونظراندازکرکے اس کے انسانی رویہ اورہمدردی کواپنے گرفت میں لے کرتجزیہ کیاجائے کہ ایک غیرمہذب انسان جوعلم وآگہی سے نابلدہے تویہ کردار اعلیٰ مقام پر فائز نظرآتاہے ۔ بیسویں صدی کے Humanistنقادکرداروں کاتجزیہ ان کے ظاہری شرافت وطہارت سے کرنے کے بجائے ان کے انسانی اعمال سے ان کامعیارمتعین کرتے ہیں Steven Schafersmain نے لکھاہے :
"Humanist stand for the building of a more humane, just compassionate and democratic society using a pragmatic ethics that judge the consequences of human action by the well being of all life on earth”
شوکت صدیقی نے اس کردارکی پیش کش میں جانب دارانہ رویہ اختیارنہیں کیا۔ مصنف نے ایک ایسامنظرنامہ تیارکیاہے جس میں اس کی تمام ترعیاریوں اورمکاریوں کے باوجودقاری اسے سماجی سروکارسے وابستہ اورانسانی ہمدردی کااستعارہ ماننے پرمجبور ہوجاتاہے ۔ مثلاًجب لالی شاداں کے یہاں سے ناکام ہوکراپنے آپ کو پولیس کی نظروں سے بچاتے ہوئے اتفاقاً حیات محمدخاں وٹوکے محل میں پہنچ جاتاہے ۔یہاں پہنچنے کے بعد اس کامقصدصرف رحیم دادکے لیے جلدازجلدکپڑے کا بندوبست کرکے واپس لوٹ جانے کاہوتاہے لیکن حیات محمدخاں ایک بادشاہ گراورضمیرفروش شخص ہے جس کے نہاں خانوں کے رازسے کوئی واقف نہیں ۔لالی کویہاں داخل ہونے کے بعداس خوف سے باہرنہیں نکلنے دیتاکہ اس کی عیاریوں کاپردہ فاش ہوجائے گا۔ دولت ہتھیانے کے لیے اپنے بڑے بھائی کوپاگل پن کے انجکشن لگوانا،اپنی بیوی کو مہمانوں کے لیے ضیافت کے تحفے کے طورپرپیش کرنا،حکم کی خلاف ورزی کرنے والے غلام کوتہہ خانے میں دفن کردینا وغیرہ اس کی خصوصیات ہیں ۔ایک رات جب اس کی بیوی اس کے خاص مہمان کے ساتھ شب باشی سے انکار کرتی ہے توحیات محمدخاں اس پرجان لیواحملہ کرتاہے ۔شورشرابے کی آوازسے لالی اس کے خواب گاہ میں داخل ہوکرسارا منظردیکھ لیتاہے اوراسے حیات محمد کے وحشیانہ چنگل سے آزادکراکے محل سے باہرنکالتاہے ۔ اس طرح لالی کے ذریعے مصنف نے اس معاشرے کے سماجی رہنماؤں کے چہرے کوبھی بے نقاب کیاہے جوتمام انسانی قدروں کاگلاگھونٹ کر سیاست کی باگ ڈوراپنے قبضے میں رکھنا چاہتے ہیں ۔ اس پڑھے لکھے بظاہرمہذب نظرآنے والے معاشرے کے لیے اس کی کراہیت اورحقارت لالی کی زبان سے ملاحظہ ہو:
’’میں توجی کوڑے کاڈھیرہوں ،کوڑے کے ڈھیرپرپلااورکوڑے کے ڈھیرپرہی رہاکھادبھی نہ بن سکا مگر تمہارا خصم ۔۔۔۔۔۔میاں حیات محمدکیسے جرائم پیشہ بن گیا، وہ توجی ولایت سے بیرسٹری پڑھ کرآیاہے ،کنون کوپوری طرح جانتاہے ‘‘۔(۲)
ناول میں لالی کئی بارذکرکرتاہے کہ وہ جانگلی ہے ۔بزرگوں کی تربیت سے محروم اسے خودنہیں معلوم کہ اس کا باپ کون تھا۔ پھربھی وہ عورتوں کااحترام کرتاہے ۔ حیات محمدکی بیوی تہمینہ کی کھلی ہوئی پنڈلی کودیکھ کروہ آہیں بھرتاہے ۔ عورت کے خوبصورت جسم سے اس کے حواس خمسہ پہلی بارمتلذذہوتے ہیں لیکن اگلے ہی لمحے وہ خودپرقابوپالیتاہے اور اسے ایک معمولی عورت بننے سے بچالیتاہے ۔ اس ناول کے راوی کے پیش کش کی عظمت یہ ہے کہ اس نے مجرم افرادکی غلط کاریوں اور کوتاہیوں کے لیے ان کی ذات سے زیادہ ماحول کوذمہ دارقراردیاہے ۔ ان کی انفرادی زندگی کوبالکل معصوم تصور کیا ہے ۔لالی کے ذریعے انجام پانے والے سارے عوامل محض اتفاقی حادثات کے تحت پیش آئے ہیں ۔کوئی بھی جرم جانے بوجھے منصوبے کے تحت سرزدنہیں ہوابلکہ لاشعوری طورپرعمل اورردعمل کے نتیجے میں واقعات وجودمیں آتے چلے گئے ہیں جن میں جرائم کی کارفرمائی ضرورہے ۔ مثلاً لالی فیض محمدسے اپنے متعلق جھوٹ بول کرخود کوبھٹکاہوا مسافر بتاکر اس کے گھرقیام کرتاہے لیکن فیض محمدلالی سے بڑاعیار ثابت ہوتاہے جو بظاہرمتقی وپرہیزگارہے لیکن اندرہی اندرلوگوں کو اپنے جال میں پھنسا کردھوکہ دیتاہے ۔ جعلی کلیموں پر زمینیں الاٹ کراتاہے ۔لالی بھی اس کے دام میں گرفتارہوہی جاتا ہے ۔وہ لالی سے کسی خواب کاذکرکرتاہے جس میں اسے تاکیدکی گئی ہے کہ اپنی بیٹی طاہرکی شادی لالی سے کردی جائے لیکن طاہرہ اپنے باپ کی اصلیت سے لالی کو باخبر کرتی ہے اور انکار کے لیے منتیں کرتی ہے ۔لالی اس کی بات مان تو لیتاہے مگرعوض میں ایک بھینس ،کچھ پیسے اورجوڑے لے کرجاتاہے جوشاداں اوررحیم دادکے کام آتے ہیں ۔ ا س واقعے سے بھی لالی کے دو متضاد رویے سامنے آتے ہیں وہ یہ کہ اس کاظاہر تو پراگندہ ہے مگرباطن آلائشوں سے پاک ہے ،وہ دوٹوک باتیں کرنے کاعادی ہے جوبعض دفعہ تلخ توہوتی ہیں مگراس میں ہمدردی کاجذبہ ضرورہوتا ہے۔ اردوافسانوںمیں اس طرح کے کردارعام طورپرکم ہی نظرآتے ہیں اس لیے کہ اس طرح اپنے کرداروں کوپیش کرنے کاعمل کافی پیچیدہ ہے ۔پروفیسرخورشید احمد نے افسانے میں کردارنگاری پرگفتگوکرتے ہوئے لکھاہے:
’’افسانہ نگارکو چاہیے کہ وہ ہمیں بتائے کہ اس آدمی کے دماغ میں کیا ہو رہاہے ۔یعنی صرف گفتگو اور اعمال ہی نہیں بلکہ کردارنگاری کے لیے اس کے خیالات اورمحسوسات بھی اہم ہیں ۔چنانچہ کردارکوپیش کرنے کاایک دوسرا تجربہ یہ کیاگیاکہ اس کے اندرداخل ہوکرہمیں اس کے خیالات سے آگاہ کیاجائے اس کو خارجی کردارنگاری کے مقابلے میں داخل کردارنگاری کہاجاسکتاہے ۔ کردارنگاری کے پس پشت یہ فلسفہ کام کرتاہے کہ ظواہرہمیں غلط سمت میں لے جاتے ہیں لوگ وہ نہیں ہوتے جو بظاہر نظر آتے ہیں ۔ (۳)
لالی کے کردارمیں اسی طرح کی تہہ داری ہے وہ اپنے خیالات کسی پرعیاں نہیں کرتامگرپھربھی قاری اس کی حرکات اورنفسیاتی پیچیدگیوں سے آگاہ ہوجاتاہے ۔ اس کا ہرمجرمانہ قدم کسی نہ کسی نیک کام کااشاریہ ہوتاہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اس کردارکے نہایت ہی ظالمانہ اوربہیمانہ جرائم کے باوجودقاری اس سے نفرت کے بجائے ہمدردی کاجذبہ رکھتاہے ۔اینٹ بھٹّے میں کام کرنے والے مزدوروں پرکیے جانے والے مظالم کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرنا، اینٹ کے بھٹّے میں آگ لگادینا،وغیرہ ایسے اقدام ہیں جنھیں انجام دے کروہ مزدوروں کوظلم وستم سے نجات دلانا چاہتا ہے ۔
لالی بعض ایسے اصولوں کی نفی کرتاہے جومعاشرے کومہذب بناتے ہیں ایسے اصول اس کے نزدیک ناپسندیدہ اور مکروہ ہیں اسی لیے اصولاً ،قانوناًیااخلاقی سطح پروہ کوئی نہ کوئی جرم ضرورکربیٹھتاہے ۔ پولی نیسین کلب کےNight of the great suspence میں لالی جب نوشابہ کے کمرے میں داخل ہوکراس سے عشق کااظہارکرتاہے تو نوشابہ اسے دھمکیاں دیتی ہے ۔وہ اس کی دھمکیوں سے قطعی مرعوب نہیں ہوتاہے اور کہتا ہے کہ :
’’موت اسی طرح آنی ہے تو یونہی سہی ۔وہ کھل کھلا کرہنسا۔پرایک شرط ہے تم اپنے سوہنے ،سوہنے ہاتھوں سے میرے ٹکڑے کرنا ہائے بھی نہیں کروں گا۔ ‘‘(۴)
ہرطرح سے نوشابہ کوپریشان کرنے کے بعدجب وہ نہایت ہی تغافل کے اندازمیں پوچھتاہے کہ ’’نراض کیوں ہوتی ہو‘‘؟اس کے اس سوال سے ظاہرہوتاہے کہ گویااس نے کوئی اخلاقی جرم نہیں کیاہے بلکہ ایساکرنا اس کاحق تھا اور پھر اس کے بعدا س شکست خوردگی پرترس کھاکرنوشابہ اس کلب کی تفصیلات کے بارے میں اسے بتاتی ہے ۔اس کلب کی تفصیلات کاجائزہ لیتے ہوئے انوار احمد لالی کے بارے میں لکھتے ہیں :
’’شوکت صدیقی نے برائیوں میں پلنے والے افراد کو اپنے تخیل کی مدد سے اخلاقی بلندیوں پردکھایاہے ۔وہ مجرم ہونے کے باوجود اعلی صفات کامالک نظرآتاہے ،جب کہ معاشرے کے وہ افردجن کے ہاتھوں میں معاشرے کو سدھار نے کی طاقت موجودہے وہ اپنی غلط کاریوں کے سبب اسے بگاڑنے پر تلے ہیں ۔‘‘ (۵)
لالی کی ذات سے وابستہ اب تک کے واقعات سے بخوبی اندازہ لگایاجاسکتاہے کہ اس کے اندر دکھاوا اور ریاکاری نہیں ہے ، وہ شرافت کالبادہ اوڑھ کرکسی کودھوکہ نہیں دیتا۔ اوباش قسم کی حرکتیں کرنااس کی رگ رگ میں شامل ہیں مگروہ اعلی تہذیب کے علمبرداروں ،مؤقر اداروں سے ڈگری یافتہ لوگوں کی طرح لرزہ خیز اور روح فرسا اقدام کرکے انسانیت کو شرمندہ نہیں کرتاہے ۔زاہدانہ اورمتقیانہ رعب قائم کرکے دھوکہ نہیں دیتاہے بلکہ ایسے لوگوں کاپردہ فاش کر تا ہے ۔انوار احمد کے مطابق:
’’ناول کے ہیرولالی نے ایسے لوگوں کے چہرے بے نقاب کیے ہیں جو بظاہرنیکی اوراچھائی کامرقع نظرآتے ہیں۔‘‘(۶)
ناول کے آخرمیں جب رحیم داد کے متعلق اسے معلوم ہوتاہے کہ چودھری نورالٰہی کاقتل کرکے اس کی شناخت مٹاکراس کی جائیداد اور زمینیں الاٹ کراکے خود کو چودھری نورالٰہی بتاکر لوگوں کودھوکہ دے رہاہے اورساتھ ہی احسان شاہ کے ساتھ مل کر اپنے محسن اللہ وسایاکو بھی قتل کرادیاہے اوراس کی بیوی جمیلہ پروحشیانہ نظریں جماکراسے اپنی جائیداد اور حویلی چھوڑ کرجانے پر مجبور کردیاہے ۔ تولالی کے سرپرخون گردش کرنے لگتاہے اوروہ چودھری نورالٰہی کے پسماندگان اس کے بیٹے اوربیوی کوان کاحق دلانے کاارادہ کرتاہے اوراس کے لیے جدوجہدبھی کرتاہے ۔آخرکاررحیم دادکوشاداں کے ہاتھوں قتل کراکے اسے انجام تک پہنچاکر ہی سکون کی سانس لیتاہے ۔
لالی کے حرکات وعوامل اوراس کی نفسیاتی پیچیدگیوں کاجائزہ لینے کے بعداندازہ ہوتاہے کہ راوی نے اسے حالات کی رو میں بہنے کے لیے چھوڑدیاہے ۔حالات کے اثرات کوقبول کرنے کاعنصر اس کے اندراس قدرغالب ہے کہ اس کی ساری حرکتیں جبلی کیفیات معلوم ہونے لگتی ہیں اوراس کے کردارکامعمولی پن اورمتضادرویے حالات کے عین مطابق معلوم ہوتے ہیں ایسا محسوس ہوتاہے کہ اپنی زندگی کے معنیٰ کھو کر وہ بے مقصدجی رہاہے ۔متعدد اتفاقیہ حوادث نے اسے ایسے دلدل میں پھنسادیاہے کہ اس میں اپنی گم شدہ زندگی کوتلاش کرنے کاحوصلہ باقی نہیں رہاہے ۔
٭٭٭
حواشی :
۱۔ شوکت صدیقی شخصیت اورفن ۔ڈاکٹرانواراحمد۔۲۰۰۶ء ۔ص۶۴
۲۔ جانگلوس ۔شوکت صدیقی ۔جلداول۔ص۱۹۷
۳۔ اردوافسانہ ہیئت اورتکنیک کے تجربے ۔ پروفیسرخورشیداحمد۔۱۹۹۷ء ۔ص۵۶
۴۔ جانگلوس ۔شوکت صدیقی ۔جلداول ۔۱۹۹۵ء ۔ص۳۳۷
۵۔ شوکت صدیقی شخصیت اورفن ۔ڈاکٹرانواراحمد۔۲۰۰۶ء ۔ص۶۴
۶۔ شوکت صدیقی شخصیت اورفن ۔ڈاکٹرانواراحمد۔۲۰۰۶ء ۔ص۵۹
Shahnaz Rahman
shahnaz58330@gmail.com
Mob:9458537513
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

