Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
شاعری کے مختلف رنگ

پروفیسر نازؔقادری کی شاعری میں اوزان وبحور – عظیم الرحمن

by adbimiras مارچ 1, 2021
by adbimiras مارچ 1, 2021 0 comment

ارباب شعروادب یہ کہنے میں صدفی صد حق بہ جانب ہیں کہ پروفیسرنازقادری (اصل نام محی الدین) اردو دنیا میں کسی تعارف کے محتاج نہیں۔نظم، نثر، تحقیق اور تنقید کی دنیا میںوہ اپنی خصوصی پہچان طالب علمی کے دور سے ہی قائم کر چکے تھے۔تقریباََ پچاس سالہ تخلیقی کارگزاری اور تحقیقی ہماہمی کا یہ لمبا سفر اپنے نقطئہ عروج پر پہنچ ہی رہا تھا کہ تواتر سے کئی غم انگیزحادثات نیز جسمانی بیماریوں نے دھیرے چلنے پرمجبورکردیا۔اس میں بھی اللہ ربّ ٌالعزت کی کچھ مصلحت ہی ہوگی۔ آج کا نازؔقادری بہت زیادہ سنجیدہ، خاموش، اپنی منتشر تخلیقات کی ترتیب و تہذیب میں ہمہ وقت مشغول، مشاعروں اور مجلسوں سے دور، اپنے کمرے میں کچھ حد تک محبوس ایک شخص ہے جس کی صحبت و قربت ادب تلاش ذہنوں کے لیے باعث تسکین ہے۔

نازؔقادری کی کثیرالجہات تخلیقات پر بہتوں نے بہت کچھ لکھا ہے اور ابھی بہت کچھ لکھا جانا باقی ہے۔انہوں نے نظم و نثر سے تقریباََ مساوی تعلق رکھا ہے۔آثاراس بات کے ہیں کہ رواں سال کے آخر تک آٹھ نثری کتابوں اور پانچ شعری مجموعوں کی اشاعت مکمل ہو جائے گی،انشاء اللہ۔ یہ تو تسلیم کرنا ہوگا کہ ایک اچھا شعر کہنا  نثر کے کئی صفحات پر بھاری ہے اور اچھے شعر کو سمجھنا تو اور بھی مشکل امر ہے۔شکلاََبھی نازقادری مکمل روایتی شاعر نظر آتے ہیں، بے توجہی کی شکار الجھی لمبی زلف، داڑھی اور مونچھ کی حدیں غیر واضح، آنکھیں لا محدود اشارے سمیٹے ہوئے گہرے سمندر کی طرح،لبوں پر ہلکے تبسم کی لکیر جس کی ہر جنبش سے غزل کے حسین اشعار کی بارش کا گمان غالب آجائے، مطلع بہت صاف نہیں مگر پورا قدوقامت کسی حسین غزل سے کم بھی نہیں۔

نازؔقادری کی تخلیقیت کا غالب پہلو غزل گوئی ہے۔ان کے دو شعری مجموعے ’لمحوں کی صدا‘(۱۹۹۷ء) اور’ صحرا میں ایک بوند‘(۲۰۱۰ء) میرے سامنے ہیں ۔ یہ تحریر انھیں دو مجموعوں کا احاطہ کرے گی۔’لمحوں کی صدا ‘ میں۵۶ غزلیں ہیں اور’ صحرا میں ایک بوند‘ میں ۹۷ غزلیں شامل کی گئی ہیں۔ یہ سبھی غزلیں اپنی ہیئت میں پوری طرح روایتی ہیں جب کہ مواد میں داخلی کیفیات واحساسات کے ساتھ ساتھ جدید عصری معاملات و موضوعات کو سمیٹے ہوئی ہیں۔تقریباََ تمام تر غزلیں اس بات کی گواہی دیتی ہیں کے شاعر کو اپنے اندر کے معاملات واطراف کے حالات کا پورا پورا احساس ہے جس کے اظہار وترسیل میں وہ غزل کے مخصوص لہجے اور لفظیات کے استعمال میں قدرت کاملہ بھی رکھتا ہے ۔

غزل کے اس بڑے شاعر سے اگر پوچھئے کہ کیا آپ نے علم العروض کا مطالعہ کیا ہے تو جواب ہوگا کہ صرف امتحانات میں پاس کرنے کی حد تک سات سالم بحروں کی پہچان اور ان کی تقطیع۔پروفیسر موصوف کے اس بیان کوغلط ماننا بہت صحیح نہیں ہوگا مگر عالم یہ ہے کہ ان کے سامنے سے بے وزن مصرع پڑھ کر نکل جانا بہت مشکل ہے۔نازؔقادری بتادیں گے کہ مصرعے کی غلط قرأت کی وجہ سے یا حرف؍سبب کی کمی؍ زیادتی کی وجہ سے مصرع خارج از وزن ہو گیا ہے، پھر اسے مناسب ترمیم کے بعد درست بھی کردیں گے۔ انھیں دیکھ کر لگتا ہے کہ مولانا روم کا یہ قول بھی شاید حقیقت پر مبنی ہو کہ   ؎

شعرمی گویم بہ از قندونبات

من دانم فاعلا تن فاعلات

شعر کی غلط قرأت کی وجہ سے اس کا بے وزن ہوجانا بہت عام بات ہے۔مومنؔکا مشہور شعر یاد تو بہتوں کو ہے مگر صحیح کتنے لوگ پڑھتے ہیں؟   ؎

تم میرے پاس ہوتے ہو گویا

جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا

یہ شعر بحر خفیف میں ہے اور اس کی قرأت ہونی چاہیے، تم مِ رے پا ؍سَ ہوتِ ہو ؍ گویا (فاعلاتن مفاعلن فعلن)۔غلط قرأت کے شکار بہت سارے مشہور ومعروف اشعار ہیں جس پر بڑے پیمانے پر تحقیق درکار ہے۔

میں اس امر کو تسلیم کرتا ہوں کہ شاعری کے لیے عروض دانی ضروری نہیں ہے ،بلکہ یہ بھی تسلیم کرتا ہوں کہ عروض کا علم شعر گوئی میں اکثر حارج بھی ہوتا ہے۔ جس طرح اللہ سبحانہ تعالیٰ نے پانی میں یہ صفت بخشی ہے کہ نشیب کی طرف اپنا راستہ نکالتا ہوا آگے بڑھتا جائے اور دریا بن جائے، اسی طرح اس خالق کل ـنےکچھذہنوںمیںیہصلاحیتودیعتکیہےکہخیالاتکےاظہارکےلیےمستعمل الفاظ کا ایسا انتخاب اور ایسی ترتیب بروے کار لائے جو آہنگ وموسیقیت کے جملہ تقاضوں کو پورا کرے اور شاعروں کی جماعت میں مسند نشیں ہوجائے۔ان حقائق کے باوجود یہ تسلیم کرنا غلط نہیں ہوگا کہ روایتی شاعری اور عروض شعوری یا غیر شعوری سطح پر ایک دوسرے سے لازمی طور پر جڑے ہوئے ہیں۔ اظہار و بیان میں موزونیت وموسیقیت و ہبی بھی ہو سکتی ہے اور اکتسابی بھی۔بڑ ے شاعروں میں یہ صفت ودیعت ایزدی ماننا ہی زیادہ صحیح ہوگا۔ مگر یہ ماننا ہوگا کہ روایتی شاعری میں عروض کا عمل دخل کچھ اس طور پر ہے کہ شاعری کو انواع واقسام کے آہنگوں کی ایک دنیا تسلیم کریں جس کے افق سے افق تک کی سیر کے لیے کم ازکم ۲۴  شاہراہیں قائم کی گئی ہیں اور ہر شاہراہ کو بحر کہا گیا ہے۔دو خماسی ارکان کی بحریں ہیں،متقارب (فعولن) اور متدارک (فاعلن) کی پانچ سباعی ارکان کی بحریں ہیں،ہزج(مفاعلین)، رجز (مستفعلن)، رمل (فاعلاتن)، کامل (متفاعلن) اور وافر (مفاعلتن)۔پانچ ثمانی ارکان کی بحریںقائم کی گئی ہیں، جمیل(مفاعلاتن)، خلیل(مفتعولتن)، شمیم(مفاتفعلن)، نہال (مفتعلاتن) اورکشیر (مستفعلتن)۔ مندرجہ بالا بارہ مفرد بحروں کے علاوہ بارہ مرکب بحریں بھی بنائی گئی ہیں، بحر مضارع (ہزج اور رمل کا مرکب)، بحر قریب (ہزج اور رمل منفصل کا مرکب)، بحر مشاکل (رمل متفصل اور ہزج کا مرکب)،بحرمجتث(رجز متفصل اور ہزج کا مرکب)،بحر خفیف (رمل اور رجز متفصل کا مرکب)، بحر جدید (رمل اور رجز کا مرکب) ،بحرسریع ( رجز اور ہزج عکسی کا مرکب)،بحر مقتضب (ہزج عکسی رجز کا مرکب)،بحر منسرح (رجز اور ہزج عکسی کا مرکب )، بحر مدید (رمل اور متدارک کا مرکب ) بحر بسیط(رجز اور متدارک کا مرکب )  اور بحر طویل (متقارب اور ہزج کا مرکب)۔

واضح  رہے کہ جہانِ آہنگ کی ان ۲۴؍ شاہراہوں سے چھوٹی بڑی بہت ساری پگڈنڈیاں بھی نکلی ہیں جو ہر آہنگ کے نئے نئے روپ کی گوش و دل نواز کیاریوں تک لے جاتی ہیں۔ بحروں کی شاہراہوں سے نکلی ان پگڈنڈیوں کو وزن کہا جاتا ہے۔ہر بحر کے درجنوں اوزان وضع ہوئے ہیں اور ہو رہے ہیں ۔علم العروض سے متعلق اس مختصر سی تحریر کی ضرورت اس لیے محسوس ہوئی کے پروفیسر نازؔقادری کے دونوں شعری مجموعوں،’لمحوں کی صدا‘ اور’ صحرا میں ایک بوند‘ میں استعمال کیے گئے اوزان وبحور کے تجزیے میں ان کے حوالے دیے جاسکیں۔

مجھے یاد ہے کہ ۱۹۹۷ء میںجب میں حج بیت اللہ شریف سے لوٹا تو مجھے’ لمحوں کی صدا‘ کی ایک جلد موصول ہوئی، پروفیسر موصوف کا فون آیا کہ’’ سر! میری خواہش ہے کہ آپ  لمحوںکی صدا کے سنِ اشاعت کا قطعہ تاریخ لکھ دیں‘‘۔ میرے انبساط کی کوئی حد نہ رہی کہ مظفرپور کی بنجرہوچکی زمین میں ایک خوشنما پھول کھلا ہے۔انھیں مبارکباد دی اور  رَبِّ الشْْرَحْ لِیْ صَدْرِیْ ویَسِّرْلِیْ اَمْریْ پڑھ کر ان کی فرمائش پوری کرنے میں مصروف ہوگیا۔ اللہ کی مدد آئی اور شرحِ صدر نے ذہن کے گوشے کھولا۔ تاریخ کے پانچ چھ قطعات ہو گئے جن میں صرف دو یاد رہ گئے ہیں جو درجہ ذیل ہیں۔

انگشت بدنداں سب، ہر سمت خموشی تھی

لمحوں کی صدا، کی جب تاریخ اشاعت دی

۱۹۹۷ء

’لمحہ‘کو ہٹا کر دیکھیں

۸۳

لمحوں کی صدا کی تاریخ

۸۳-۱۵۰۰=۱۴۱۷ھ

بر سبیل تذکرہ یہ عرض کردوں کہ مظفرپور شہر اور لنگٹ سنگھ کالج (ثمّہ بہار یونیورسیٹی ) کے اردو ماحول کو۱۹۵۴ء سے بغور دیکھتا رہا ہوں۔اوائل میں اِل۔ایس۔کالج کی بزم سخن کی محفل آرائیاں، شہر کے مسلم کلب کی ادبی سرگرمیاں، بزم فیض کے پلیٹ فارم سے نوجوان تخلیق کاروں کی مسلسل ہمت افزائیاں، شاعروں کی گہماگہمی، افسانوں کی شامیں، صحت مند اردو شعرو ادب کے نشوو نما کے لیے خونِ جگر کے نذرانے،سب کچھ بڑے سلیقے سے چل رہے تھے ۔پروفیسر سید اختر حسین قادری ،صدر شعبۂ اردو وفارسی کی پر وقار قیادت میں ۔۱۹۷۵ء

میں پروفیسر اختر حسین قادری کی ملازمت سے سبکدوشی کے ساتھ ہی جیسے چمنستان اردو  میں خزاں کا دور شروع ہوگیا۔ انجمن ترقی اردو کے راستے اردوبستیوں میں سیاست کی قزّاقی داخل ہوگئی۔ انجمن کی قیادت کا جھگڑا اس شہر میں بھی گل کھلانے لگا۔اردو اپنے مخلص خدمت گاروں کے ہاتھوں سے نکل کر اردو کے سوداگروں کے ہاتھ میں چلی گئی۔اردو سے وابستہ لوگ ذات،برادری، مسلک ومذہب، علاقائیت وغیرہ کے چھوٹے چھوٹے خانوں میں بنٹتے چلے گئے۔ اختر قادری کے بعد پھر کوئی قیادت نہیںابھری جو سبھوں کو جوڑکر رکھ سکے۔جو نئے مدینتہ العلم وجود میں آئے ان کے دروازے ہر خادم اردو کے لیے یکساں طور پر کھلے نہیں تھے۔ان کے فیوض کچھ خاص قسم کی صفت والوں کے لیے مخصوص ہو گئے۔

گذشتہ صدی کا آخری ربع اردو کے لیے بہت مایوس کن رہا۔اس شہر میں اردو کی سرگرمیاں گویا معدوم ہو گئیں اور ابھی تک نقشہ امیدافزا نہیں ہے۔ ایسے حالات میں بھی کچھ جیالوں نے اپنا کام جاری رکھا۔نازؔقادری کو’ لمحوں کی صدا‘ کی رسم اجرا کے لیے شہر کا ماحول ناموافق معلوم ہوا۔ اس کی رونمائی پروفیسر عنوان چشتی کی قیادت میںغالب اکیڈمی میں شاندار طریقے سے دہلی میں منائی گئی۔کچھ عرصہ بعد شہرکا ایک سپوت، سائنس کی دنیا کا چمکدار ستارہ، ڈاکٹر عبیدالرحمٰن نے اپنے مجموعہ کلام ’آواز کا سایہ‘ کی رونمائی کی جسارت اسی شہر میں کر بیٹھے تو کچھ خدایانِ اردو اپنی تمام غلاظتوں کے ساتھ کھل کر باہر آگئے۔دراصل اس شہر کی اردو دنیا پر ایسے لوگوں کا قبضہ ہوگیا ہے جو خود کچھ خاص کرنے سے قاصر ہیں اور اگر کوئی دوسرا کچھ کارنمایاں کر گزرتا ہے تو ان کے لبوں کی لکیریں اوندھے ہلال کی طرح لٹک جاتی ہیں۔دیہاتی مثل مشہور ہے کہ بانجھ کو دوسروں کے بچے ایک نظر نہیں سہاتے   ؎

احوال واقعی کا بیاںکرگیا ہوںمیں

’ روئے سخن کسی کی طرف ہو تو رو سیاہ‘

’لمحوں کی صدا ‘ عروض کی رو سے مفعولُـفَعَلْ (ہزجاخرممکفوفہزممجبوب) میںڈھلتاہے۔تاریخکےدونوںقطعاتبھیبحرہزجہیمیںہیں۔پہلاقطعہمفعولُمفاعیلنمفعولُمفاعیلن (ہزجاخرممکفوفہزجسالممضاعفالمثطور) میں ہے اور دوسرا قطعہ مفعولُ مفاعیلن فعْ؍فاع (ہزج اخرم مکفوف ہزج مکفوف ہزج مجبوب) میں ہے جو زحاف تخنیق سے مفعول مفاعیلن فع ہو گیا۔ اب ذرا اس مجموعے کے مشمولات پر عروض کی نظر سے غور کریں۔ اس کی ۵۶ غزلوں میں سے ۲۵ غزلیں مفرد بحور میں ہیں اور باقی ۳۱ غزلیں مرکب بحور میں ہیں۔مفرد بحروں میں سے صرف تین ہی بحروں میں غزلیں کہی گئی ہیں،بحر ہزج،بحر رمل اور بحر جمیل۔بحر رمل میں بیس غزلیں ہیں جن میں سے گیارہ غزلیں (صفحہ ۲۱،۲۷،۳۱،۳۳،۵۱،۵۵، ۷۱،۸۷،۱۰۵،۱۱۷ اور۱۱۹) رمل محذوف مثمن یعنی فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلن میں ہیں ۔بحر رمل کی آٹھ غزلیں(صفحہ ۳۵،۴۳، ۵۷، ۷۳،۸۳،۱۰۳،۱۰۹ اور ۱۱۱)  رمل مجنون مقلوع مثمن یعنی فاعلاتن فعلاتن فعلاتن فعلن؍فعِلن میں ہیں۔ رمل محذوف مسدس(فاعلاتن فاعلاتن فاعلن) میں صرف ایک غزل صفحہ ۶۵ پر آئی ہے۔ رمل کے درجنوں اوزان میں شاعر موصوف نے صرف تین ہی اوزان میں طبع آزمائی کی ہے۔رمل ہی کے ایک خوبصورت وزن میں غالبؔ کی یہ غزل ہے:

یہ مسائلِ تصوف، یہ ترا بیان غالبؔ

تجھے ہم ولی سمجھتے جو نہ بادہ خوار ہوتا

(فعِلاتُ فاعلاتن فعِلاتُ فاعلاتن، رمل مکفوف ،رمل سالم، رمل مکفوف رمل سالم،مثمن)

’لمحوں کی صدا‘ میں دو غزلیں بحر ہزج (مفا عیلن) میں ہیں ،صفحہ ۴۱ پر ہزج سالم مثمن (مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعلین) میں اور صفحہ ۶۳ پر ایک غزل ہزج محذوف مثمن (مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن فعولن) میں ہے۔ہزج جیسی مترنم بحر کو شاعر موصوف اپنے اظہار کا وسیلہ نہیں بنایا جب کہ عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ شعر گوئی کی ابتدا فعولن (متقارب)،اور مفاعیلن(ہزج) سے ہی ہوتی ہے۔ نازؔقادری نے شاید متقارب، متدارک اور ہزج کو مبتدیوں کی بحر مان کر انھیں نظرانداز کیا ہے۔’صحرا میں ایک بوند‘ جس کا عروض تجزیہ بعدمیں آئے گا،کی ۹۷ غزلوں میں صرف ایک غزل بحر ہزج میں ہے۔

اس مجموعے میں تیسری مفرد بحر جسے شاعر موصوف نے اپنی تین غزلوں میں برتاہے وہ ہے بحر جمیل (مفاعلاتن) جو پانچ ثمانی ارکان میں سے ایک ہے۔صفحہ ۶۷،۹۵ اور۱۰۱ پر وارد تینوں غزلیں بحر جمیل سالم مثمن میں ہیں۔بحر جمیل کی بات آگئی تو ایک واقعہ یاد آگیا جس کا ذکر کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔۱۹۵۶ء یا ۵۷ء ہوگا۔لنگٹ سنگھ کالج کی بزم سخن کے زیر اہتمام مشاعرے کا انعقاد کالج کے ہال میں ہورہا ہے۔ مرحوم پرنسپل فضل الرحمٰن صاحب کی سرپرستی ہے ،صدر شعبۂ اردو وفارسی مرحوم اخترؔ قادری صاحب کی صدارت ہے،ڈائس مقامی نیز بیرونی شعرا سے کھچاکھچ بھرا ہے۔ ہم اساتذہ کے لیے دا ہنی جانب کرسیاں ہیں۔طلبا نیز دیگر سامعین کے لیے فرش پر دری بچھی ہے۔ تل رکھنے کی جگہ نہیں ہے۔ سارا شہر لنگٹ سنگھ کالج پہنچ گیا ہے جو اُن دنوں شہر سے بہت دور ہوا کرتا تھا۔ پروفیسر اجتبیٰ حسین رضوی کو دعوت سخن دی گئی ۔ان کا نام سنتے تھے، دیکھنے کا پہلا موقع ملا۔ انہوں نے غزل شروع کی،تحت میں مگر آواز بڑی پاٹدار۔ ایک شعر آیا

چمن اسے اتفاق کہہ لے، گری تو ہے آشیاں پہ بجلی

نہ دو قدم آشیاں سے پیچھے،نہ دو قدم آشیاں سے آگے

سارا ہال سبحان اللہ،ماشاء اللہ سے گونج اٹھا مگر قریب کے طلبا نے کچھ زیادہ ہی داد دی جس پر اجتبیٰ صاحب نے زورسے ڈانٹ کر کہا ’’چپ رہو، تم کیا سمجھو گے اس شعر کو، یہ شعر تمہارے والدوں کے سمجھنے کے لیے ہے‘‘۔ شاعر مرحوم کی یہ ڈانٹ ایک بڑی تلخ حقیقت پر مبنی تھی۔۴۷۔۱۹۴۶ ء میں چمن پہ کیسی بجلی گری اور کیسے کیسے آشیانے خاکستر ہوئے، اس کا پورا علم واحساس ان نو عمروں کو کہاں سے ہوگا۔ مرحوم شاعر کی یہ غزل بحر جمیل مثمن سالم یعنی مفاعلاتن مفاعلاتن مفاعلاتن مفاعلاتن میں ہے۔پروفیسر نازؔقادری نے اس بحر ووزن میں علامہ جمیل مظہری کی غزل کا ایک مصرع واوین میں ڈالا ہے۔

تجھے مبارک نگار ہستی، طلسم تہذیبِ خود فریبی

’اگر نہ ہو یہ فریبِ پیہم تو دم نکل جائے آدمی کا‘

متقارب،متدارک،کامل،وافر،خلیل،شمیم، نہال اور کشیر وغیرہ بحروں میں کوئی تخلیق پیش نہیں کی گئی ہے۔

’لمحوں کی صدا ‘ میں آدھی سے زیادہ غزلیں مرکب بحروں میں ہیں اور وہ بھی بارہ میں سے صرف دو بحروں میں۔صفحہ ۵۳،۸۵،۸۹، ۹۱ اور ۹۳ پر درج پانچ غزلیں بحر مضارع(ہزج اور رمل کا مرکب) کے صرف ایک ہی وزن یعنی مفعولُ فاعلات مفاعیلُ فاعلن میں ہیں۔دوسری مرکب بحر جسے مجموعے میں سب سے زیادہ نمائندگی حاصل ہے وہ ہے بحرمجتث جو رجز منضصل اور رمل کا مرکب ہے۔ ۲۶  غزلیں اسی بحر میں ہیں۔صفحات   ۲۲، ۲۳، ۲۵، ۲۹، ۳۷، ۳۹، ۴۵، ۴۷، ۴۹،۵۹،۶۱،۶۹،۷۰،۷۵،۷۷،۷۹،۸۱،۹۷، ۹۹،  ۱۰۷، ۱۱۳،۱۱۵،۱۲۱،۱۲۳،۱۲۵ اور۱۲۷ پرکی ساری غزلیں بحر مجتث کے ایک ہی وزن مفاعلن فعلاتن مفاعلن فعلن؍فعِلن میں ہیں۔ایسا لگتا ہے کہ شاعر کے ذہن میں جو خیال ابھرتاہے، یہی بحر اسے اپنے سانچے میں ڈھال لیتی ہے۔ہے بھی یہ بہت پیارا وزن۔متقدمین نے بھی اس وزن کو اپنے کلام میں بہت جگہ دی ہے۔

اب ذرا ’صحرا میں ایک بوند‘ کی طرف رخ کریں۔ اس مجموعے کا نام بڑا شاعرانہ رکھا مفعول فاعلات یعنی بحر مضارع میں۔ مجموعے میں ۹۷ غزلیں شامل ہیں۔پانچ مفرد بحر یں استعمال ہوئی ہیں جن میں سباعی ارکان کی بحررمل (فاعلاتن) اور اس کے مختلف اوزان میں تیس غزلیں ہیں۔ بحر ہزج(مفاعیلن) میں تین غزلیںہیں ۔خماسی ارکان یعنی فعولن (متقارب) اور فاعلاتن (متدارک) کو بھی اس مجموعے میں جگہ ملی ہے۔بحر متقارب کی دو غزلیں اور بحر متدارک کی ایک غزل شامل اشاعت ہے۔ ثمانی ارکان میں مفاعلاتن (بحر جمیل) میں دو غزلیں مجموعے میں شامل ہیں اور دونوں غزلوں کے ہر مصرعے میں دو مفاعلاتن ہیں، یعنی اشعار مربع لمبائی کے ہیں اور ارکان سالم حالت میں ہیں ۔اردو میں مربع اشعار کا چلن نہیں ہے مگر ثمانی ارکان میں مربع اشعار اچھے لگتے ہیں جیسے جگرؔمرادابادی کا یہ شعر:

پھول کھلے ہیں گلشن گلشن (مفتعلاتن  مفعولاتن)

لیکن   اپنا   اپنا   دامن         (مفعولاتن  مفعولاتن)

’لمحوں کی صدا‘ کی طرح اس مجموعے میں بھی بحر رجز،بحر کامل اور بحر وافر میں کوئی غزل نہیں ہے۔اسی طرح بحر جمیل کے علاوہ باقی چارثمانی ارکان کی بحروں میں کوئی کلام مجموعے میں نہیں ہے۔

پیشِ نظر مجموعے کی کل ۹۷ غزلوں میں سے ۵۹ غزلیں تین مرکب بحروں، مضارع (ہزج اور رمل کا مرکب )،  مجتث(رجزاور رمل کا مرکب)اور بحر خفیف(رمل اور رجز کا مرکب) میں شامل کی گئی ہیں۔اس مجموعے میں بھی بھر مجتث (مفاعلن فعلاتن مفاعلن فعلن؍فِعلن)میں ۳۴ غزلیں ہیں او ر’ لمحوں کی صدا ‘ کی طرح اس مجموعے میں بھی واضح اکثریت اسی بحر کی غزلوں کی ہے۔بحر مضارع(مفعول فاعلات مفاعل فاعلن؍ فاعلات)میں۱۹غزلیںہیں۔بحر خفیف جو مسدس الاصل بحر (فاعلاتن مفاعلن فعلن؍ فعِلن) ہے مجموعے کی چھ غزلوں پر محیط ہے ۔’لمحوں کی صدا‘ میں اس بحر کی کوئی غزل شامل نہیں ہے یہ بھی واضح رہے کہ مرکب بحور میں بھی اوزان کے جائز رد وبدل کی بڑی گنجائش ہے مگر اس مجموعہ کلام میں جن تین مرکب بحور کا استعمال ہوا ہے، سب کے سب بغیر استثنیٰ،ایک ہی وزن میں ہیں جن کی مثالیں سطور بالا میں مندرج ہیں۔بقیہ ۹ مرکب بحور کی کوئی تخلیق مجموعے میں شامل نہیں ہے۔

بحر مضارع میں غزلوں کے صفحات :

۵۱،۵۷،۶۳،۸۵،۹۴،۹۵،۹۹،۱۰۵،۱۱۱،۱۲۹،۱۳۴،۱۳۵، ۱۴۷،۱۴۸،۱۵۱،۱۵۷،۱۵۹، ۱۶۵،۱۶۷——- ۱۹

سبھی غزلیں ایک ہی بحر و وزن میں ہیں (مفعولُ فاعلاتُ مفاعیلُ فاعلن)

بحر مجتث میں غزلوں کے صفحات:

۴۷،۵۲،۵۳،۵۵،۵۹،۶۵،۶۶،۶۸،۶۹،۷۱،۷۳،۷۴،۷۸،۸۰،۹۱،۹۲،۱۰۰،۱۰۳،

۱۰۶،۱۰۷،۱۱۲،۱۱۳،۱۱۴،۱۱۹،۱۲۷،۱۳۱،۱۳۹،۱۴۰،۱۵۳،۱۵۴،۱۶۳،۱۷۰،۱۷۱،۱۷۳

——–۳۴

سبھی  غزلیں ایک ہی وزن میں ہیں (مفاعلن فعلاتن مفاعلن فعلن؍فعِلن)

بحر خفیف میں غزلوں کے صفحات:

۸۷،۸۹،۱۰۱،۱۱۸،۱۲۳،۱۴۵ ——-۶

سبھی غزلیں ایک ہی وزن میں ہیں (فاعلاتن مفاعلن فعلن؍فعِلن)

مفرد بحور میں کہی گئی غزلوں میں وزن کی یک رنگی نسبتاََ کم نظر آتی ہے ۔بحر رمل میں کہی گئی تیس غزلوں میں مستعمل اوزان کی تفصیل درج ذیل ہے:

 

۱       رمل محذوف مثمن (فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلن)

صفحہ:   ۴۹،۵۰،۶۰،۷۹،۸۱،۸۳،۱۱۵،۱۱۷،۱۲۵،۱۶۱،۱۶۲،۱۶۹——–۱۲

۲      رمل مخبون مقلوع مثمن (فاعلاتن فعِلاتن فعِلاتن فعلن فعِلن)

صفحہ:   ۴۶،۶۱،۶۷،۷۷،۹۷،۱۲۲،۱۵۵،۱۶۸——–۸

۳      رمل سالم مخبون مقلوع مسبغ مسدس (فاعلاتن فعِلاتن فعلان)

صفحہ:   ۴۵——-۱

۴      رمل مکفوف مخبون مسکن مضاعف المشطور مثمن (فاعلات مفعولن فاعلات مفعولن)

صفحہ:    ۱۳۷——-۱

۵      رمل سالم مخبون مقلوع مسدس ( فاعلاتن فعِلاتن فعلن ؍فعِلن)

صفحہ:     ۷۰،۷۵،۷۶،۹۶،۱۰۹،۱۱۰،۱۴۳،۱۴۹——۸

’صحرا میں ایک بوند‘ کی ایک غزل صفحہ ۱۷۵ پر بحر متدارک سالم دوازدہ رکنی یعنی مضاعف الارکان کی ہے۔ بحر متقارب میں دو غزلیں ہیں،پہلی غزل صفحہ ۹۳ پر مثمن محذوف یعنی فعولن فعولن فعولن فعل میں ہے اور دوسری غزل صفحہ ۱۴۱ پر مثمن سالم یعنی فعولن فعولن فعولن فعولن میں ہے۔

بحرہزج میں بھی تین غزلیںہیں، پہلی صفحہ ۵۴ پرمثمن سالم یعنی مفاعیلں مفاعیلن مفاعیلں مفاعیلن میں ہیں اور صفحہ ۱۳۳ نیز ۱۳۸ پر کی غزلیں ہزج اخرم مکفوف مکفوف محذوف مثمن یعنی مفعول مفاعیل مفاعیل فعولن میں ہیں۔صفحہ ۱۰۲ اور ۱۲۱ پر درج دو  غزلوں کا ذکر پہلے ہو چکا ہے جو بحر جمیل مربع سالم میں ہیں۔

’لمحوں کی صدا‘ اور’ صحرا میں ایک بوند ‘ کی غزلوں کے اوزان وبحور متعین کرنے کے سلسلے میں ہر غزل کے کم ازکم ایک دو اشعار کو بغور پڑھنا تو لازمی تھا جو میں نے کیا۔چوںکہ علم العروض سے بھی کچھ لگائو رکھتا ہوں اس لیے میں نے دونوں مجموعوں کے ہر ایک مصرعے کو بڑی سنجیدگی سے یہ دیکھنے کے لیے پڑھا کہ شاعر موصوف نے عروضی سہولتوں یا اجازتوں جیسے تسبیغ ،تسکین یا تخلیق کا استعمال کیا ہے یا نہیں ۔ نازؔقادری صاحب نے ’لمحوں کی صدا‘ میں صفحہ ۲۴، ۴۷، ۷۹، ۸۵ اور ۱۰۳ کی غزلوں میں اور ’صحرا میں ایک بوند‘ میں صفحہ ۴۵، ۱۱۱، ۱۳۹، ۱۶۳ اور ۱۶۷ کی غزلوں میں تسبیغ کا استعمال کیا ہے ۔ عمل تسبیغ میں مصرعے کے رکنِ آخر میں ایک حرفِ موقوف کا اضافہ کرتے ہیں جس سے قرأت تو بدل جاتی ہے مگر وزن میں فرق نہیں آتا ہے۔ دونوں مجموعوں میں تسکین اور تخنیق کی ایک بھی مثال نہیں ملی۔ قابل صد ستائش یہ بات ہے کہ دونوں مجموعوںکا ہر شعر کسی بھی طرح کے عروضی نقص سے بالکل پاک اور منزہ ہے۔ کتابت کی غلطیوں سے مکمل نجات پانا تو بہت مشکل ہے۔

مناسب معلوم ہوتاہے کہ ڈاکٹر نازؔ قادری جیسے قادرالکلام شاعر سے یہ درخواست کی جائے کہ اپنی اعلیٰ تخلیقی صلاحیتوں کو گنتی کے چند بحور و اوزان کی قید سے آزاد کرنے کی سنجیدہ کوشش کریں۔

 

٭٭٭

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

ناز قادری کی شاعری
0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
اُردو کی ترقّی میں ضلع بجنور کا کردار – اقبال احمد صدیقی
اگلی پوسٹ
قحط الرّجال میں ایک انسان کی موت (ظفر احمد نظامی کی وفات پر) – پروفیسر خالد محمود

یہ بھی پڑھیں

 اردو شاعری میں سہرا نگاری اور’’ضیائے حنا‘‘ کا...

دسمبر 7, 2025

کوثر مظہری کے شعری ابعاد – محمد اکرام

نومبر 24, 2024

سہسرام کی سلطنتِ شاعری کا پہلا شاعر (سولہویں...

ستمبر 22, 2024

جگر شناسی کا اہم نام :پروفیسر محمد اسلام...

ستمبر 13, 2024

شاعری اور شخصیت کے حسن کا سنگم  :...

اگست 22, 2024

شاعری اور عریانی – عبادت بریلوی

مارچ 21, 2024

سلیم انصاری کا شعری رویہ – ڈاکٹر وصیہ...

مارچ 12, 2024

آصف شاہ کی شاعری میں انسان کا شناختی...

دسمبر 2, 2023

علامہ اقبال کی حب الوطنی اور قومی یکجہتی –...

نومبر 8, 2023

صبیحہ سنبل کا شعری نگارخانہ – حقانی القاسمی

نومبر 7, 2023

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (118)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں