ابن صفی ایک نابغہ روزگار شخصیت کے مالک ہیں۔ان کی بے شمار جہتیں ہیں۔ ان کے قلم سے الفاظ و معانی کے آبشاروں کی قطاریں وجود میں آتی ہیں۔ناول کی دنیا میں ابن صفی ایک ٹھاٹھیںمارتا سمندر ہے۔ ان کے کارناموں کا ذکر بہت طویل ہے۔ کن کن پہلؤوں کو زیر بحث لایا جائے۔ دفتر کے دفتر سیاہ ہوجائیں۔بجائے اس کے کہ ان کے کمالات کو ایک ایک کرکے بیان کیا جائے، آمدم بر سر مطلب، میں ابن صفی کے ایک خاص پہلو کی طرف آپ کی رہنمائی کرتا ہوں اور اس سے متعلق کچھ عرض کرتا ہوں۔ وہ خاص پہلو ہے ابن صفی کا رزمیہ بیانیہ۔ جی ہاں ابن صفی کے ناولوں میں رزمیہ بیان۔ یوں توآپ دیکھیں گے کہ ابن صفی کے کئی کردار سیکڑوں معرکے سرکرتے نظر آئیں گے۔ علی عمران ایم ایس سی، کرنل فریدی، ٹی تھری بی اور سنگ ہی جیسے معروف و مشہور کردار کی دھینگا مُشتی اور ہاتھا پائی کے ساتھ ساتھ تیر تلوار اور بندوق طمنچہ، ریوالور اور رائفلوں کا کھیل دیکھا ہی ہوگا۔ لیکن اس مضمون کے توسط سے آج ابن صفی کی آباد کی ہوئی ایک ایسی دنیا کی سیر کرتے ہیں جس کے خالق خود ابن صفی ہیں۔ وہ ہے قبائلی علاقہ شکرال۔ جس کی تہذیب و تمدن کے نقوش ابن صفی کی کہانیوں کالے چراغ، خون کے پیاسے، الفانسے اور درندوں کی بستی میں نظر آتے ہیں۔ ابن صفی کے قلم سے آباد کیا ہوا یہ قبائلیوں کا علاقہ ہے جس کے باشندے جنگجو ، نڈر اور بہادر قسم کے ہیں۔
اس علاقے میں ایک خوں ریز جنگ ہوئی ہے۔ جسے ابن صفی کا شاہ کار رزمیہ بیانیہ کہا جاسکتا ہے۔ رزمیہ ادب کی شعریات کے خدو خال اس کہانی میں نمایاں ہیں۔ علی عمران ایم ایس سی کی سربراہی میں شکرال کے کے علاقے میں ایک خوں ریز معرکہ وجود میں آیا۔ کہانی ’’درندوں کی بستی‘‘ میں عمران شکرال کے علاقے کا سفر کرتا ہے تاکہ اس کے ملک کے خلاف سازش کرنے والے غیر ملکی گروہ کا پردہ فاش کرسکے اور عالمی سطح کے مجرمین کو گرفتار کر سکے۔ ابن صفی نے اپنی خلاقانہ صفات سے اس کہانی میں ایک ایسی رزم کی بزم آرائی کی ہے جسے پڑھ کر رونگٹے کھڑے ہوجائیں۔ قاری خوفناک مناظر سے محظوظ ہونے کے بجائے اس سے متاثر نظر آئے۔ چونکہ ابن صفی نے شکرالیوں کی صفات بیان کرنے میں ان کوشجاعت کا پیکراور بے خوف و خطر موت سے کھیلنے والا بتایا ہے۔ لہذا اُن کی اِن صفات کا مظاہرہ کرانے کے لیے رزم کا سامان بھی بہم پہنچایا ہے۔
اس کہانی میں تین جنگوں کا ذکر ہے۔ تیسری جنگ میں جو خوفناک منظر کشی کی گئی ہے اس سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ابن صفی نے بذات خود اس جنگ میں شرکت کی ہو یہاں تک کہ قاری بھی اس جنگ کے خوفناک مناظر کو اپنی آنکوں سے دیکھ لیتا ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ ان معرکوں میں جس طرح سے پینترے بازی اور حکمت عملیوں کو پیش کیا گیا ، اس سے واضح ہوتا ہے کہ ابن صفی جنگوں کی باریکیوں سے کس حد تک واقف ہیں۔مثلاً پہلی جنگ کے لیے عمران نے جو پلاننگ کی ہے کہ وہ قابل داد ہے۔ اس منصوبہ بندی کو ملاحظہ کیجیے:
’’انھوں نے ]عمران کے قافلے نے[اپنی چھولداریاں ایک مسطح جگہ نصب کی تھیں اور اس کے تین طرف ڈھلوانیں تھیں۔ عمران نے پہلے ہی کچھ سوچ سمجھ کر اس جگہ پڑاؤ ڈالا تھا۔ اس نے چھولداریاں جوں کی تو رہنے دیں۔ان میں چراغ جلتے رہے، لیکن اس کے سارے آدمی اسلحہ سنبھال کر ڈھلوانوں میں رینگ گئے تھے۔ ہلکی مشین گنوں کا دستہ آٹھ آدمیوں پر مشتمل تھا۔ انھیں ڈھلوان کی دوسری طرف ایک اونچی چٹان پر چڑھا دیا گیا، جہاں سے وہ تقریباً چاروں طرف مار کرسکتے تھے۔ یہ سب کچھ بیس منٹ کے اندر ہی اندر ہوگیا۔‘‘ (شکرال کی جنگ، درندوں کی بستی، عمران سیریز 10: ابن صفی، اپلائڈ بکس، دہلی، 2005، ص:248)
یہ تھی عمران کی منصوبہ بندی۔ نیز یہ جنگ رات کی تاریکیوں میں ہوئی۔ دشمن نے جب پیچھے سے حملہ کیاتو اونچی چٹان پر بیٹھے مشین گن والے دستے نے ان پردھاوا بول دیا۔ دشمنوں نے چھولداریوں کو نشانہ بنایا لیکن اس میں ایک بھی فرد نہیں تھا۔ ڈھلوان میں موجود عمران اورشکرالی جاں باز شہباز کے لوگ گولیاں برساتے ہوئے اوپر چڑھنے لگے۔ دشمن کے پاؤں اکھڑ گئے۔ چھولداریاں جل کر راکھ ہوچکی تھیں اور لاشیں جا بجا بکھری پڑی تھیں۔ اس معرکے کوپڑھتے ہی ذہن میں جنگ احد کا نقشہ بھی ابھر آتا ہے کہ کس طرح وہاں بھی تیر اندازوں کو احد پہاڑ کی چٹانوں پرمعمور کیا گیا تھا۔ ابن صفی نے یہ نقشہ جنگ احد سے ہی مستعار لیا ہوگا۔ جنگ کے بعد کا منظر یوں کھینچا گیا ہے:
’’دوسرح صبح خوش گوار نہیں تھی۔ کیونکہ ان کے گرد لاشیں ہی لاشیں تھیں اور وہ بھی اپنے پانچ آدمی کھوچکے تھے۔ حملہ آوروں کے تقریبا ستر (70)آدمی کھیت رہے تھے۔ دس زخمی تھے جو اس وقت بھی وہیں پڑے کبھی کراہتے تھے اور کبھی غار والے کو گالیاں دینے لگتے تھے۔‘‘(شکرال کی جنگ، درندوں کی بستی، عمران سیریز 10، ص:251)
ایک دوسری جنگ جو دن میں بستی میں لڑی گئی لیکن اس کی نوعیت دوسری تھی۔ چونکہ دشمن رات کی جنگ میں پسپا ہو چکا تھا اور یہ جنگ بستی سے دور ہوئی تھی۔ حزب مخالف نے دو سو سواروں کے ساتھ بستی پر حملہ بول دیا تھا بالخصوص شہباز کے مکان پر جس میں جولیا سمیت عمران کے قافلے کی تین خواتین کو چھوڑدیا گیا تھا۔ بستی والے ان دوسو سواروں سے مزاحمت میں لگے ہوئے تھے اور جولیا نے ٹرانسمیٹر کے ذریعے کے عمران کو خبر کردی تھی۔ آناً فاناً میںعمران اور شہباز نے اپنے جوانوں کے ساتھ بستی کی طرف اپنے گھوڑے دوڑا دیے ۔ بستی میں کافی کشت و خون ہوچکا تھا اور شہباز و عمران کے پہنچتے ہی زور شو ر سے جنگ شروع ہوگئی تھی۔یہ اقتباس دیکھیے:
’’شہباز تو بالکل دیوانہ ہوگیا تھا۔شہباز تو بالکل دیوانہ ہوگیا تھا، اس کے بائیں ہاتھ میں ریوالور تھا اور دائیں ہاتھ میں خنجر ۔گھوڑے کی باگ اس نے چھوڑ دی تھی، ریوالور شاید خالی ہوچکا تھا۔
فائر اب ویسے بھی نہیں ہو رہے تھے۔ یہ جنگ مغلوبہ تھی۔ فریقین ایک دوسرے سے بھڑ گئے تھے۔ اب یا تو تلواریں چل رہی تھیں یا خنجر…. عمران کے سارے فوجیوں نے کلہاڑیاں سنبھال لی تھیں اور جھپٹ جھپٹ کے حملے کر رہے تھے۔
دفعتاً عمران نے ڈینی کو آواز دی کہ وہ اپنے آدمیوں کو لے کر مجمع سے نکلنے کی کوشش کرے ڈینی سمجھ گیا کہ عمران کیا چاہتا ہے وہ اپنے گیارہ شکاریوں کو ایک طرف نکال لے گیا اور اس طرف بڑھنے کی کوشش کرنے لگا جہاں سے حملہ آور شہباز کے مکان میں گھسنے کی کوشش کر رہے تھے ۔اتفاق سے پوزیشن لینے کے لیے انھیں ایک مناسب جگہ بھی مل گئی اور انھوں نے حملہ آوروں پر بڑی تیزی سے باڑ ماری۔ دوسری طرف سے عمران نے اپنے فوجیوں کو بڑھایا وہ بڑی تیزی سے کلہاڑیاں چلا رہے تھے۔ عمران انھیں اس راستے کے لیے رکاوٹ بنانا چاہتا تھا، جدھر سے حملہ آوروں کے پسپا ہونے کا امکان تھا، وہ اس میں کامیاب بھی ہوگیا، جیسے ہی ڈینی کے شکاریوں نے تیسری باڑ ماری حملہ آوروں کے پیر اکھڑ گئے۔
ادھر عمران نے کلہاڑی بردار فوجیوں کو آگے بڑھایا۔ چوتھی باڑ مارنے میں ڈینی کے شکاریوں نے دیر نہیں کی اور پھر دلیر فوجیوں نے بھاگنے والوں کو کلہاڑیوں پر رکھ لیا۔ وہ گھوڑے سے گرتے اور چیخ چیخ کر غار والے کو گالیاں دیتے۔ شہباز کا قہقہہ ان کی آوازوں سے بھی اونچا جاتا ۔ذرا ہی دیر میں نقشہ بدل گیا۔(شکرال کی جنگ، درندوں کی بستی، عمران سیریز 10، ص:253)
پے درپے یہ دو جنگیں ہوئیں۔ کافی جانی و مالی نقصان ہوا۔ تقریباً دیڑھ سو لاشیں شام تک اٹھائی جاتی رہیں۔ اس فتح میںشہباز کو سرداری نصیب ہوئی اور روایتی انداز میں اس کے مکان پر فالسئی رنگ کا جھنڈا لہرانے لگا جو کبھی اس کے باپ ضرغام کے وقت میں لہراتا تھا۔ اس فتح پر رات کو ایک جشن منعقد ہوا لیکن یہاں عمران نے اس جشن کی مخالفت کی کہ ابھی جشن کا وقت نہیں، دشمن کا سردار زندہ ہے وہ کسی بھی وقت حملہ کر سکتا ہے۔ شہباز اور اس کے ساتھیوں نے عمران کی نہیں سنی اور اس کا مذاق اڑایا لیکن عمران نے ان سے ایک غار کا راستہ معلوم کرکے اپنے ساتھیوں کو وہاں لے جاکرمحفوظ ہوگیا۔عمران کا خدشہ سچ ثابت ہوا۔ رات کے وقت ہوائی حملہ کیا گیا۔ جشن پر بمباری ہوئی۔ جشن میں بھگدڑ مچ گئی۔ لوگوںنے اپنی جان بچاتے ہوئے انھیں غاروں کی طرف رخ کیا جہاں عمران اور اس کے ساتھیوں نے پناہ لے رکھی تھی۔ دوسری صبح بستی والوں نے دیکھا کہ کوئی بھی مکان نہیں بچا تھا جسے نقصان نہ پہنچا ہو۔ بستی میں چاروں طرف مردوں،عورتوں اور بچوں کی لاشیں پڑی ہوئی تھیں۔
تیسری جنگ کھلے چٹیل میدان میں ہوئی۔ کیونکہ عمران اور شہباز ڈھائی سو سواروں کے ساتھ اس بستی کی طرف کوچ کرچکے تھے جہاں ان کا دشمن غار والا رہتا تھا۔ جس سے شکرال کے لوگ خائف رہتے تھے۔ سوائے شہباز کے بستی کے سارے لوگ اس غار والے کی کی ہر بات مانتے تھے ۔ شہبازاور عمران کی وجہ سے یہ طلسم ٹوٹ چکا تھا، بالخصوص جشن پر بمباری کی وجہ سے شکرالیوں نے اس سے نفرت شروع کردی تھی اور اس کو ختم کرنے کے لیے شہباز کے ساتھ ہوگئے تھے۔ عمران و شہباز کا قافلہ ابھی چٹیل میدان میں ہی تھا کہ دشمن کی فوج بھی مخالف سمت سے بڑھی چلی آرہی تھی۔ راستے میں ہی دشمن سے مدبھیڑ ہوگئی۔ یہ جنگ آمنے سامنے کی تھی۔
’’اور پھر دونوں طرف سے فائرنگ شروع ہوگئی۔دونوں ہی طرف کے کئی آدمی گھوڑے سے گرے۔ لیکن گھوڑوں کی رفتار میں کوئی فرق نہ آیا۔ ایک بار پھر وہی پچھلے دن کی سی جنگ مغلوبہ کا منظر دکھائی دیا۔ قریب ہوتے ہی فریقین نے خنجر کھینچ لیے۔ عمران کے فوجیوں نے کلہاڑیاں سنبھال لیں۔
عین ہنگام جنگ میں عمران نے شہباز کی آواز سنی جو کہہ رہا تھا ’’میں نے تجھے دیکھ لیا ہے اوئے ۔۔۔۔۔۔ چھچھورے فقیر۔۔۔!لیکن شہباز نظر نہیں آیا۔ اس کے دونوں ہاتھوں میں خنجر تھے اور اس نے گھوڑے کی لگام چھوڑ دی تھی۔ اس کے ساتھی اسے گھیرے ہوئے تھے۔ دفعتاً اس کی نظر ایک طویل قامت آدمی پر پڑی، جس کے چہرے پر گھنی داڑھی تھی۔ اور سر کے بڑے بڑے بال الجھے ہوئے تھے، آنکھیں سرخ تھیں۔۔۔۔۔عمران اس تک پہنچنے کی کوشش کرنے لگا۔(شکرال کی جنگ، درندوں کی بستی، عمران سیریز 10، ص: 260)
دراصل وہ طویل قامت شحض ہی دشمن کا سرغنہ اور سردار تھا۔ جو تھا تو شکرالیوں کی وضع قطع میں لیکن حقیقت میں وہ ایک غیر ملکی مشہور مجرم الفانسے تھا۔ جس نے غار والے کا روپ اختیار کرکے آسمانی بلاؤں کا خوف دلاکر بستی والوں کو اپنے قبضے میں کر رکھاتھا۔ اس شحض تک پہنچنے کے لیے عمران اور شہباز دونوں کوشاں تھے۔ ایک اقتباس دیکھیے۔
عمران کواس تک پہنچنے میں دشواری پیش آرہی تھی۔کیونکہ اسے بھی اس کے ساتھی گھیرے ہوئے تھے۔ لیکن وہ جگہ بنانے کی کوشش کرتا ہی رہا۔ اب تک وہ نصف درجن دشمنوں کو موت کے گھاٹ اتار چکا تھا۔ دفعتاً عمران نے کلہاڑی بردار فوجیوں کو آواز دی۔ ان میں سے پانچ فوراً ہی اس کی مدد کو پہنچ گئے۔
’’راستہ صاف کرو‘‘ عمران نے کہا۔’’ اس داڑھی والے لمبے آدمی کو زندہ گرفتار کرنا ہے‘‘۔
فوجی کلہاڑیاں چلاتے ہوئے آگے بڑھے۔ دشمنوں پر ان کی کافی دھاک بیٹھ گئی تھی۔ ان میں سے پچھلے والے معرکے سے بھاگے ہوئے لوگ بھی تھے۔ انھیں ان خوفناک کلہاڑیوں کا اچھی طرح تجربہ ہو چکاتھا۔ وہ کائی طرح پھٹنے لگے۔
دفعتاً اس لمبے آدمی کی نظر عمران پر پڑی اور ایک لحظہ کے لیے ایسا معلوم ہوا جیس اسے سکتہ ہوگیا ہو ارو پھر اس نے اپنے آدمیوں کو للکارا کہ وہ کلہاڑی چلانے والوں کو پیچھے دھکیل دیں۔ ساتھ ہی اس نے ریوالور سے عمران پر فائر کردیا۔ عمران غافل نہیں تھا۔ اس لیے ظاہر ہے کسی دوسرے ہی گھوڑے کی زین خالی ہوئی ہوگی۔ پھر اس نے پے در پے کئی فائر عمران پر کیے لیکن کامیاب نہ ہوسکا۔ کلہاڑیاں چلانے والے عمران کے لیے راستہ بنا رہے تھے۔
دراز قد نے اپنے ساتھیوں کوللکارا اور ایک بار پھر بڑے زور و شور سے جنگ شروع ہوگئی۔ جنگ شدت اختیار کرتی جارہی تھی۔ اب کلہاڑی بردار فوجیوں میں سے تین ہلاک ہوچکے تھے۔ لیکن اس کے باوجود ان کے جوش و خروش میں کمی واقع نہیں ہوئی تھی۔ بلکہ اب پہلے سے بھی تیز حملے کر رہے تھے۔ دوسری طرف دراز قد کے سوار بھی اس کی حفاظت کے لیے جانوں پر کھیل رہے تھے۔ جیسے ہی ایک گرتا دوسرا اُس کی جگہ لے لیتا۔(شکرال کی جنگ، درندوں کی بستی، عمران سیریز 10، ص:261)
عمران نے اس طویل قامت شحض کو پکڑنے کے لیے ڈینی سے جال مانگا اور گھوڑے کو ایڑ لگا کر مجمع سے نکل بھاگا۔ یہ عمران کی ایک چال تھی۔ عمران کو اس طرح جاتے دیکھ وہ دراز قد بھی مجمع سے نکل کر عمران کے پیچھے چل پڑا۔ اور اس طرح جنگ کا فیصلہ یہیں ہونے لگا کہ کیونکہ دشمن کا سردار دراز قد شحض جنگ کے میدان سے نکل چکا تھا، لہٰذا اس کی فوج پسپا ہونے لگی۔ شہباز کے ساتھیوں نے بچ گئے لوگوں کو گھیر کر بے دردی سے قتل کیا۔ وہ بلبلا رہے تھے اور جان کی بھیک مانگ رہے تھے لیکن ان کی ایک نہ سنی گئی۔ان کی لاشوں کو گھوڑو وں کی ٹاپوں سے روندا بھی گیا۔ شکرالیوں کا وحشی پن اس جنگ میں خاص طور سے دیکھا گیا۔ عمران نے غار والے اس پراسرا شحض کو آگے جاکر اس کے ٹھکانے پر ہی اپنی عیارانہ چالوں اور بہادری سے زیر کر لیا۔ یہی نہیں بلکہ اسے موت گھاٹ بھی اتارنا پڑا۔
اب کچھ باتیں اس رزمیہ بیانیے کی خصوصیات سے متعلق ملاحظہ کیجیے۔ آپ نے دیکھا کہ ابن صفی نے کس طرح جنگی مناظر کی عکاسی کی ہے۔ جزئیات نگاری میں صرف اس حد تک کام لیا ہے کہ منظر آنکھوں کے سامنے گھوم جائے اورقاری اس کی خوف ناکی محسوس کر سکے۔ ابن صفی نے جو رزم نامہ پیش کیاہے اس میں جنگیں کئی طریقے سے لڑی گئی ہیں۔ طرح طرح کے ہتھیاروں اور اسلحوں کا استعمال کیا گیا ہے۔ یہاں تک ہوائی بمباری بھی ہوئی۔ جن ہتھیاروں اور اسلحوں کا استعمال کیا گیا ان میں کلہاڑیاں، نیزے، خنجر، تیر، تلوار، باردو سے چلنے والی بندوقیں، ریوالور، رائفلیں، آتش گیر اسلحے وغیرہ ہیں۔ان اسلحوں اور ہتھیاروں سے اندازہ ہوتا ہے کہ جنگ آمنے سامنے بھی ہوئی ہے اور دور سے بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔ذرا غور کیجیے کہ ابن صفی نے جنگی ہتھیاروں میں کلہاڑی بھی شامل کی ہے۔ بھلا کسی کے خیال میں بھی آسکتا ہے کہ اس سے بھی جنگ لڑی جاسکتی ہے۔ لیکن نہیں، ابن صفی نے نے یہ کارنامہ کر دکھایا۔ مزید یہ کہ کلہاڑیوں سے جو وار کیا جارہا تھا اس کی خوفناکی تیر وتلوار، نیزوں اور خنجر کے وار سے زیادہ تھی۔ بندوق کی گولی لگی، خون بہنے لگا اور آدمی گر گیا، گولی کا زہر جسم میں سرایت کرنے لگا۔ اسی طرح تیر و تلوار کے وار سے زخمی ہوئے لوگوں کی کیفیت آپ سوچ سکتے ہیں۔ لیکن ذرا غور کیجیے کہ جب کلہاڑی سے وار کیا جائے گا تو اس کی خوفناکی کس قدر ہوگی۔ کلہاڑی سے لکڑیاں چیرتے ہوئے آپ سبھی نے دیکھا ہوگا۔ بالکل اسی طرح کلہاڑی کے وار سے جسم جب چرتا ہوگا تو کتنا خوف ناک منظر ہوتا ہوگا۔کلہاڑی کا وار چہرے ، کندھے، سینے یا جسم کے کسی حصے پر پڑتا ہوگا تو اس جس کے ٹکڑے جب بکھرتے ہوں گے اور خون کا فورہ چھوٹتا ہوگا تو ایک کریہہ اور دردناک منظر پیدا ہوتا ہوگا۔ اسی لیے ابن صفی نے بیان کیا ہے کہ تیسری جنگ میں وہ لوگ جو پہلے بھی لڑ چکے ہیں وہ کلہاڑی برداروں سے دور بھاگ رہے تھے کیونکہ اس کے وار کی وحشت اور دہشت کو وہ دیکھ چکے تھے۔
اس کہانی میں جو نام رکھے گئے ہیں ہ بھی ایک قسم کا تہذیبی پس منظر رکھتے ہیں۔ شکرال، مقلاق، سرخسان وغیرہ الفاظ سے ہی ظاہر ہورہا ہے کہ یہ قبائلی علاقے ہیں اور یہاں کی دنیا ہی الگ ہے۔ اسی طرح شکرالی لوگوں کے نام بھی ان کی بہادری اور شجاعت، ان کے جوش اور ولولے اور سربکف ہونے کو ظاہر کرتے ہیں۔ جیسے شہباز، ضرغام، داراب اور فیلزور وغیرہ۔ فیل زور کی ترکیب بھی خوب ہے۔یعنی جس کا یہ نام ہے اس کے اندر ایک ہاتھی کی سی طاقت و قوت موجود ہے۔لیکن اس کو بھی مرنا پڑتا ہے اور شہباز اس کے سر کو جسم سے الگ کرکے بستی میں لے جاکر فخریہ لوگوں کو دکھاتا ہے۔ شہبازلفظ بذات خود ایک جری اور دلیر فرد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ ابن صفی نے عمران کا نام بھی ’’صف شکن‘‘ رکھا۔ دیکھے کیاخوب ترکیب ہے۔ عمران کی شخصیت کے عین مطابق ہے۔ وہ واقعی صف شکن ہے۔ اس نے جو کارنامے اس کہانی میں انجام دیے ، اس کو دیکھ کر شکرال کے بہادر، دلیر، ہٹے کٹے جوان بھی زانوی تلمذ طے کرتے ہیں۔ خود شہباز عمران کی صلاحیتوں کا اعتراف کرتا ہے۔
اس کہانی میں ابن صفی نے نہ صرف دلیری اور جرأت کی عکاسی کی ہے بلکہ جنگ میں کس طرح چالیں چلی جاتی ہیں بالخصوص فرنگی چالیں ، اس کو بھی بحسن و خوبی دکھایا ہے۔ نیز فرنگیوںکی عیاری و مکاری اور ان سے نفرت بھی اس میں در آئی ہے۔ عمران ایک جگہ شہباز سے کہتا ہے
’’میں ٹھیک کہہ رہا ہوں، جہاں فرنگیوں کے قدم جاتے ہیںوہاں بدچلنی اور آوارگی پھیلتی ہے، عورتیں ننگی ہوکر ناچنے لگتی ہیں اور مرد ڈر کے مارے اپنا منھ پھیر کر کھڑے ہوجاتے ہیں‘‘شکرال کی جنگ، درندوں کی بستی، عمران سیریز 10، ص:235)
ابن صفی کی کہانی عمران سیریزکی ہو اور ظرافت سے حالی ہو ایسا ناممکن ہے۔ اس کہانی میں بھی جا بجا ظریفانہ جملے بکھرے ہیں۔ عمران نا مساعد حالات میں بھی پھلجڑیاں چھوڑنے سے باز نہیں آتا ہے۔ چند جملے ملاحظہ کیجیے:
’’ان قیدیوں کا کیا ہوگا‘‘؟ جولیا نے اشارہ کرتے ہوئے کہا
’’تم ان کی پرورش کرنا ۔ میں زیادہ سے زیادہ پیسے پیدا کرنے کی کوشش کروں گا‘‘۔ عمران نے سنجیدگی سے جواب دیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عاشقوں کے آنسو جمع کرو۔ وہ ہیروں سے زیادہ قیمتی ہوتے ہیں۔ مگر آنسو جمع کرنے سے پہلے اچھی طرح اطمینان کرلو کہ کہیں عاشق نزلے میں تو مبتلا نہیںہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہاں بکواس ہی کہتے ہیں اظہارا عشق کو۔۔۔۔ تنویر ڈارلنگ کسی دن مجھ سے اظہار عشق کرکے دیکھو۔ ایسی ایسی عمدہ غزلیں سناؤںگا کہ تمھارا کلیجہ معدے میں اٹک جائے گا۔
میں تم سے ہزار بار منع کرچکا ہوں کہ مجھ سے بکواس نہ کیا کرو
میں نے جس دن اظہار عشق کیا زہرہ اور مریخ کی شادی ہوجائے گی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تین خچر میں ان کے جہیز میں دوںگا مرگ ابھی اس میں دیر ہے۔ ان سے کہو کہ شادی سے پہلے انھیں ڈولیوں پر ہی بیٹھنا چاہیے۔ شوہر اور خچر ہم قافیہ ہیں اور ویسے بھی دونوں میں کوئی فرق نہیں ہوتا۔
یہ تو چند جملے بطور نمونے پیش کیے گئے ورنہ پوری کہانی میں جگہ جگہ مزاح کے پہلو نکالے گئے ہیں۔
شکرال کی جنگ ابن صفی کاتخلیق کردہ ایک ایسا رزم نامہ ہے جو مثالی نثری بیانیہ ہے۔ اس میں جنگ کے بھیانک مناظر کی عکاسی ہے۔ دل دہلادنے والے واقعات ہیں۔ رونگٹے کھڑے کر دینے والے حادثات ہیں۔ مار کاٹ کی اس قدر سفاکی بیان کی گئی ہے کہ پڑھنے اور سننے والے پر دہشت طاری ہوجائے۔ الفاظ کی جادوگری کا خزانہ ہے۔ ایک سے ایک تراکیب کا استعمال لذت سماعت و ذہن کے لیے سامان فراہم کرتے ہیں۔ جنگ کے خوفناک مناظر اور سفاکی و درندگی کے ماحول میں ادبی و ظریفانہ گلکاریوں سے بھی کام لیا گیا ہے تاکہ قاری کا ذہن صرف ایک سمت کا راہی نہ ہو بلکہ مختلف و متعدد چیزوں سے لطف اندوز بھی ہواوردل و دماغ کی کھڑکیاں بھی روشن ہوں۔ ساتھ ہی چودہ طبق بھی روشن ہوجائیں۔ ابن صفی تو ابن صفی ہیں۔ ان کے ذریعے کی گئی رزم کی بزم آرائی بھی قابل داد و تحسین ہے۔ اس میدان میں بھی انھوں نے اپنے تخلیقی جوہر کا بھر پور مظاہر کیا ہے۔
٭٭٭٭
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |


1 comment
اس پہ تبصرہ نہیں صرف اک آہ ہے
اللہ پاک ابن صفی (اسرار احمد مرحوم) کو جنت میں اعلیٰ مقام عطاء فرمائیں
جنہوں نے قاری کے اخلاق اور حب الوطنی کو پالش کیا
شکرال کی جنگ جب بھی پڑھو تب ایک نیا مزہ دیتی ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پڑھنے والا خود وہ سارے کام کررہا ہے
ایسا سحر طاری ہوتا ہے کم ازکم میں تین سے چار گھنٹوں سے پہلے نارمل نہیں ہو سکتا جنتی بار بھی پڑھوں یہی ہوتا ہے
اللہ پاک آپ کے درجات بلند فرمائے، آمین