پاؤں کا چھالا عاشق صادق کے عشق کا امین ہوتا ہے۔ پر خار راہوں سے گزرتے وقت عشق کی کیفیت میں سرشار عاشق نہ راہوں کو دیکھتا ہے نہ خاروں کو دیکھتا ہے اور نہ منزل کو پہلے عشق اپنے اشارے پر عاشق کو نچاتا ہے پھر عاشق کی مرضی پر عشق ناچتا ہے یہ ہنر جہاں میں سب کو کہاں ملتا ہے؟ اور یہی وہ مقام ہوتا ہے جہاں منزل کی ضرورت باقی نہیں رہتی کیونکہ جو آپ منزل ہو اسے منزل کی جستجو نہیں رہتی۔ درج بالا اقتباس سے مراد عاشق و معشوق کا تذکرہ ہرگز نہیں اور اگر آپ نے یہی سوچ لیا تو چلئے آپ کے فہم کی داد پیش کرتا ہوں اور یہ گوش گزار کرتا چلوں کہ ڈاکٹر افضال عاقل بھی انہیں عاشقوں میں شمار کۓ جاتے ہیں جو راہ کی رکاوٹیں اور پاؤں کے چھالے نہیں دیکھتے جو نام و نمود سے بے پروا اپنا کام کرنے میں یقین رکھتے ہیں ڈاکٹر افضال عاقل کی شخصیت محتاج تعارف نہیں سروں کی بھیڑ میں ان کی شناخت اتنی آسان ہیں جتنا حروف تہجی کا الف لکھنا۔ بہت سنجیدگی سے شاعری کرتے ہیں اور نثر نگاری کے میدان کے بھی شہ سوار ہیں۔ طبیعت میں انکساری گفتگو میں نرمی اخلاق میں بے مثل ہونا انکی شخصیت کو منفرد بناتی ہے۔
ڈاکٹر افضال عاقل اردو ادب میں اپنا مقام رکھتے ہیں اور ان کا اپنا انداز انہیں بھیڑ میں گم ہونے نہیں دیتا اور جو سب سے اہم بات ہے وہ یہ ہے کہ انکی شاعری ان کا اپنا سراپا ہے۔ انکی شخصیت ان کی شاعری سے بغلگیر نظر آتی ہے ان کی شاعری مثبت پہلو کی نمائندگی کرتے ہوئے زندگی کو شان و شوکت عطا کرتی ہے۔ زندگی کے درپیش مسائل ہویا وقت کی ستم ظریفی انکی شاعری آنکھیں موند کرفرار نہیں چاہتی بلکہ صبر و استقلال کا گلدستہ ہاتھوں میں لیے مسائل کا استقبال کرنے کا ہنر سکھاتی ہے۔انکے ہاں جب رنج و الم کے بادل چھاتے ہیں تو امید کا سورج پہلے کی بہ نسبت اورتیز چمکنے لگتا ہے خوشیوں میں مسکرانے کا ہنر تو سب جانتے ہیں غموں میں قہقہہ لگانے کا سلیقہ سب کو نہیں ملتا غموں میں قہقہہ وہ لگاتا ہے جو غم کی بے ثباتی کو بہتر جانتا ہے جو بہترین transformer ہوتا ہے اسکے یہاں تاریکیوں کا بسر نہیں ہوتا کیونکہ اندھیروں میں چراغ جلانے کا ہنر وہ بخوبی جانتا ہے وہ اندھیروں کا دکھڑا نہیں روتا بلکہ روشنی کی سبیل پیدا کرتا ہے ڈاکٹر افضال عاقل کی شاعری بھی تاریکیوں میں روشنی کا سفر ہے نا امیدیوں میں امید کی کرن ہے جدوجہد اور کوشش پیہم کا جیتا جاگتا ثبوت ہے۔
ڈاکٹر افضال عاقل کی تازہ ترین شعری مجموعہ” پس دیوار ” ان کا دوسرا شعری مجموعہ ہے اہل علم” اشک ریز” میں ان کا شعری جوہر دیکھ چکے ہیں اور اپنی پسندیدگی کا مہر لگا چکے ہیں تازہ شعری مجموعہ "پس دیوار”دس ابواب میں تقسیم کیا گیا ہے مشمولات میں حمد، نعت، نظمیں ،منقبت، غزل ،ماہیےاور ہائیکو کے علاوہ ان کے منتخب اشعار مقطع کے اشعار کے ساتھ اہل قلم کے تاثرات کو شامل کر کے انہوں نے اس کتاب کو ایک مختلف پھولوں سے سجا گلدستہ بنا کر قارئین کی خدمت میں پیش کیا ہے مجھے اس بات کی خوشی ہو رہی ہے کہ افضال عاقل صاحب نےاپنے مجموعے میں مختلف اصناف ادب کو جگہ دیکر اپنی گوناگوں صلاحیتوں کا نہ صرف احساس دلایا ہے بلکہ ان سے اپنی رغبت بھی ظاہر کی ہے۔سبھی اصناف ادب جو اردو میں رائج ہیں انہیں بچانے کی خاطر انہیں منظرعام پر لانا چاہیے ہر صنف اپنی جگہ اپنی شناخت رکھتا ہے۔انکے اس شعر سے مجموعے کے مشمولات کا جائزہ لینا آسان ہوگا۔
پس دیوار سچائی نہاں ہونے لگی ہے
زباں اب کھولنے کا حوصلہ کرنا پڑے گا
زمینی حقیقتوں سے آشنا شاعر جو ہمہ وقت حوصلے اور ہمت کی بات کرتا ہے اس شعر میں لفظ” اب "بہت معنی خیز ہے شاعر نے پہلا تیر ہی سیدھا نشانے پر مارا ہے جہاں حوصلہ ہوتا ہے وہ زندگی متحرک نظر آتی ہے ورنہ آتی جاتی سانسوں کو زندگی تھوڑی کہتے ہیں یہ نقطہ فکر ڈاکٹر افضال عاقل کا ہے ان کی شاعری کا کینوس بہت وسیع ہے مگر ہمیں ہر جگہ یہ حوصلہ میر محفل ملتا ہے۔
"اپنی باتیں” میں شاعر اپنی شاعری کے متعلق یوں گویا ہے کہ” میری شاعری میری ذاتی رویے اور مزاج پر انحصار کرتی ہیں میرے نزدیک شاعری "شوق فضول” نہیں یہ زندگی کا آئینہ ہوتی ہے۔
یقیناً شاعری زندگی کا آئینہ ہوتی ہے جس میں زندگی کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کیا جاتا ہے اور شعر میں سموۓ ہوۓ احساسات کو محسوس کیا جاتاہے۔ایک شاعر اور کیا چاہتا ہےکہ اسکے احساسات کی ترسیل ہو اسکی صدا کو لوگ سنے۔
حمد و نعت کے ذریعہ شاعر نے اپنی بندگی اور محبت کا والہانہ اظہار کیا ہے قابل تعظیم ہے وہ قلم جو نعت رسول لکھنے کی سعادت پاتا ہے ہر ایک کو کہاں یہ توقیر ملتی ہے یہ کام تو مرضئ مولا پر منحصر کرتا ہے۔
عید کے نام کے باب کے تحت عید سے متعلق نظمیں ہیں جو یہ بتاتی ہیں کہ شاعر حساس ہےاور جس طرح سے شب و روز کے منظرنامے آۓ دن بدل رہے ہیں اس منظر نامے میں جہاں ہر سو انتشار ہو اس میں تہوار وں کی اہمیت کیا ہوگی؟ہر شخص دنیاوی الجھنوں میں ایسے گھرا ہوا ہے جیسے پہروں کے درمیان پانی۔عید کے حوالے سے خوبصورت نظمیں شامل ہیں جو اس عظیم تہوار کی اہمیت بڑے واضح طور سے بتاتی ہیں اور ان کربناک یادوں کو بھی تازہ کردیتی ہیں جن پر ماضی کی گرد جم چکی ہے۔
"شہدائے کربلا”کے تحت عقیدت ومحبت کے نزرانے منقبت کی شکل میں پیش کۓ گۓ ہیں حسین ابنِ علی نواسہ رسول اور جان بتول کی عظمت پر عظمت خود ناز کرتی ہے اس ضمن میں انکے دو اشعار دیکھیں دل مچل جاتا ہےاور بے اختیار ہوکر سلامی کو کھڑا ہو جاتا ہے۔
نادم ہوۓ ہزاروں بہتر ہیں سرخ رو
بہتر نہیں مقام مقام حسین سے
شمر لعیں پہ پڑتی ہے پھٹکار آج بھی
شرمندہ ہے یزید امام حسین سے
"عقیدت ومحبت ” کے باب میں اپنے عزیز واقارب کے تعلق سے محبت کا اظہار کیا گیا ہے جس میں شامل نظم "شجر سایہ دار”آنکھیں نم کردیتی ہے۔”فصل گل کی بشارت”بہت خوبصورت نظم ہےاسکی موسیقیت کمال کی ہے۔
دوہا گیت،دوہاغزل اردو ادب میں خوش آئندہ ہیں اردوادب میں جتنے اصناف رائج ہیں ضروری ہے سب پر کام ہو کیونکہ ان اصناف کی آبیاری میں کتنے لوگوں نے اپنی زندگیاں لگا دی آنے والی نسلیں ان اصناف کو دیکھ سکے سمجھ سکے اور ان سے لطف اندوز ہو سکےاس لۓ ضروری معلوم پڑتا ہے کہ ان کو منظر عام پر لایا جائے۔
مختلف اصناف پر طبع آزمائی ڈاکٹر افضال عاقل کی شعری جہت کا پتا دیتی انکی غزلیں انکی ذات کی نمائندگی کرتی ہیں جیسی خوبصورتی انکی شخصیت میں پائی جاتی ہے ویسی ہی خوبصورتی انکی غزلوں میں بھی ملتی ہے ادب میں بے جا تنقید نے جو نقصان پہنچایا ہے اہل علم و ادب اس سے بخوبی واقف ہیں لہجہ شاعر خود سے مخاطب ہوتے ہوئے رقمطراز ہے کہ
ناقدوں سے بچ کے رہنا تم بھی عاقل
لفظ کے پردے میں بچھو بولتا ہے
ڈاکٹر افضال عاقل جو تشنگان علم کو اپنی تدریسی صلاحیتوں سے تو سیراب کرتے ہی ہیں تشنگان ادب کو بھی سیراب کر رہے ہیں وہ مختلف اصناف سخن میں طبع آزمائی کرتے ہیں اور جس میں کلام کہتے ہیں اس میں کمال کرتے ہیں ان کا یہ وصف قابل داد ہے مشمولات ایسے ہیں جس کے متعلق یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ یہ ہوتا اور یہ نہیں ہوتا چونکہ اردو ادب میں غزل سب سے مقبول ترین صنف ہے اور اس کا جادو سر چڑھ کر بولتا ہے۔ڈاکٹر افضال عاقل کی غزلوں میں انکا اپنا رنگ اور اپنی خوشبو ہے ان کے شعر کہنے کا لہجہ انکی بالغ نظری اور دوربینی کے ساتھ مخلص اور بے ریا دل کا پتہ دیتا ہے ان کے اشعار دل کوروشن اور دماغ کو سرور عطا کرتے ہیں مجموعے میں شامل غزلوں کو پڑھنے سے یہ تاثر بھی قائم ہوتا ہے کہ اردو زبان کبھی مٹ نہیں سکتی اسکا جادو ہر دور میں اپنے شباب پر رہے گا شاعر ہو کے ادیب اپنے عہد کی پیداوار ہوتا ہے اس کی تخلیقات اپنے عہد کی ترجمانی کرتی ہیں لہذا انکی غزلوں میں عصر حاضر میں درپیش مسائل کی ترجمانی ملتی ہے شاعر کا دل بیزار تو ضرور ہوتا ہے مگر وہ گھبراتا نہیں بلکہ اپنے حوصلے کو چٹان بنا لیتا ہے یہ حوصلہ اس کی راہوں میں امید کے دیۓ جگمگ کر دیتا ہے حوصلہ مضبوط کردار سازی بھی کرتا ہے دور حاضر میں قول و فعل میں جو تضاد پایا جاتا ہے وہ کردار کا پتہ دیتا ہے مضبوط کردار والے مشکلوں میں ضرور پڑتے ہیں مگر دوسروں کے لئے مشکل پیدا نہیں کرتے یہ کردار کی عظمت ہوتی ہے شاعر نےبھی کردار کی عظمت کو یوں آداب کہا ہے
رسوا سر محفل مجھے کیسے وہ کرے گا
جب سامنے سب کے میرا کردار کھڑا ہے
ڈاکٹر افضال عاقل کی غزلوں میں کلاسیکی موسیقی ملتی ہے غزل میں اگر محبوب کا ذکر نہ ہو تو یقیناً غزل روٹھی روٹھی معلوم ہوتی ہے اور غزل کے موضوعات میں محبوب کا ذکر ایک اہم عنصر تھا ہے اور رہے گا اس قبیل کا ایک شعر دیکھیں
رات کی تاریکیوں میں ایک حسیں چہرے کا عکس جگمگاتا اس کا آنگن اس میں جگنو اور وہ
مجموعے میں شامل ایسے بے شمار ہیں جنہیں پڑھ کر قلبی مسرت حاصل ہوتی ہے جدید انداز فکر ہے روایت سے ہٹ کر ایک نیا جہاں کی تلاش ہے جس میں یقینا شاعر حساس دلوں کو ڈھونڈ رہا ہے۔
"یادیں” کے باپ کے تحت معروف شخصیتوں کو خراج پیش کیا گیا ہے جو یقینا اس گلدستہ نما مجموعے کا خوبصورت پھول ہے۔
ماہۓ اور ہائیکو شامل کرکے شاعر نے اہم کام انجام دیا ہے اور ان سے دلی وابستگی کا اظہار کیا ہے جو قابل تحسین ہے سرور کونین کی محبت میں سرشار یہ ماہیا ملاحظہ فرمائیں
گو نور سے عاری ہوں
نور سراپا کے
در کا میں بھکاری ہوں
منتخب اشعار،مقطع کے اشعار کے ساتھ اہل قلم کے تاثرات سے شاعر کی شعری بصیرت،لہجہ،شخصیت کو سمجھنے میں آسانی ہوتی ہے نیز شاعر کی نثری خدمات کا بھی اندازہ ہوتا ہے۔کچھ ہندی کے الفاظ دیپک،پستک،دھرتی،بھید،درشن،سبھاؤ وغیرہ کا استعمال پر محل کیا گیا ہے کہیں کوئی بار محسوس نہیں ہوتا۔کتاب کا سرورق جاذب نظر ہے۔کاغز اور طباعت عمدہ ہیں جلد پختہ ہونے کے سبب نظروں کو اپنی جانب کھینچ رہا ہے کتاب ہاتھ میں آتے ہی دل کا خوش ہوجانا یقینی ہے۔میں ڈاکٹر افضال عاقل کو انکے شعری مجموعے”پس دیوار”پر سر محفل مبارکباد پیش کرتا ہوں اور انکے اس شعر پر اپنی بات ختم کرتا ہوں۔
میرے لہجے کی نہ سلاست نہ بلاغت کو دیکھ
میں نے لفظوں کو سجانے کا ہنر سیکھا ہے
نسیم اشک
ھولڈنگ نمبر10/9گلی نمبر3
جگتدل 24 پرگنہ مغربی بنگال
فون۔9339966398
e-mail : nasimashk78@gmail.com

