اچانک بجلی آئی تو پنکھا چلنے کے ساتھ کمرے کا بلب بھی روشن ہوگیا۔۔ جس کے باعث میری آنکھ کھل گئی اور میں اٹھ کر بیٹھ گئی۔ پسینے میں بھیگے بال سمیٹتے ہوئے میں اُن تینوں کو دیکھنے لگی جو قمیصیں اتارے بے نیازی سے ایک دوسرے کے قریب قریب لیٹے نیند کی وادیوں میں کہیں گم تھے۔ پنکھے کی ہوا لگنے سے ان کے چہروں پر طمانیت کے آثار نظر آتے تھے۔۔۔ سب سے چھوٹا والا سب سے بڑے والے کی بغل میں گھسا ہُوا عجیب ٹیڑھے میڑھے انداز میں لیٹا ہوا تھا۔۔ مگر اس کے چہرے سے کوئی بے زاری عیاں نہیں ہوتی تھی۔ میں نے اسے کھینچ کر ان سے الگ کیا اور سیدھا کرکے لٹا دیا۔۔۔ وہ جس کروٹ پر لیٹا ہوا تھا اس پر کافی دیر لیٹے رہنے کے باعث وہ پہلو پسینے سے بھیگ گیا تھا۔۔
بجلی بھی تو کافی دیر بعد آئی تھی۔۔۔،، میں نے سوچا اور سامنے لگی دیوار گیر گھڑی پر وقت دیکھنے لگی، صبح ہونے میں ابھی خاصی دیر باقی تھی۔ میں بلب کی اُجلی روشنی میں سب سے چھوٹے والے کو دیکھتی رہی۔ پھر میں نے ہاتھ بڑھا کر پسینے سے بھیگا ہوا اس کے سر کا وہ حصہ سہلایا۔۔۔ اس کے چھوٹے چھوٹے ریشمی بال گیلے ہورہے تھے اور پسینہ کان کو بھگوتا ہوا گردن اور گال سے نیچے پھسلتا تھا، اُس کے گول مٹول پھولے پھولے گال بوسے کی دعوت دیتے تھے اور اس کے اوپری ہونٹ کے اوپر پسینے کی ننھی ننھی نمکین بوندیں چمکتی تھیں۔۔ میں نے جھک کر اس کے ہونٹ چومے اور گال اور گردن کے بھیگے ہوئے گوشوں کو بھی چومنے لگی۔ ہر بوسے میں ایک تازہ مٹھاس اور نمکینی تھی۔۔ میں نے اس کے ننھے ننھے ہاتھوں کو دیکھا وہ مٹھیاں بند کیے بے نیازی سے ایک محفوظ اور گہری نیند سو رہا تھا۔۔۔ میں نے اس کی پسینے سے بھیگی ہتھیلی کو کھول کر چوما اور اس پر پھیلے لکیروں کے جال کو دیکھنے لگی۔۔۔ اس کے ہاتھ کی لکیریں بھی اپنے باپ کے ہاتھ کی لکیروں کی طرح سیدھی اور گہری تھیں۔
اگر کوئی مجھ سے پوچھے کہ تمہیں کسی مرد میں سب سے زیادہ کیا اچھا لگتا ہے تو میں بلا تکلف کہوں کہ اُس کے ہاتھ اگر وہ ہاتھ مضبوط اور تحفظ دینے والے ہیں تو۔۔،،
میرے باپ کے ہاتھ بھی ایسے ہی تھے، مضبوط، محنتی اور تحفظ دینے والے۔ اپنے باپ کے بعد مجھے اس کے ہاتھ پسند آئے تھے جو اُن دونوں چھوٹے سے مردانہ وجودوں کے قریب لیٹا ہُوا تھا۔۔۔ مضبوط شانوں، گھنی بانہوں اور محفوظ ہاتھوں والا۔۔ دو بچوں کے بعد بھی وہ ہاتھ مجھے تھام کر اپنی طرف کھینچتے تو میں اپنے حواس میں نہیں رہ پاتی تھی، اُن ہاتھوں کی پناہوں میں آسمانوں میں اڑا کرتی تھی۔۔ بادلوں اور بارشوں کے درمیان آباد نگار خانے مجھے انہی ہاتھوں نے دکھائے تھے۔ میں نے ان گرم اور محنتی ہاتھوں کو کبھی مشقت اور ذمے داری سے فرار ہوتے نہیں دیکھا تھا۔ وہ ہاتھ میرا آسمان تھے، جہاں میں پرندوں اور تتلیون کی طرح اڑا کرتی تھی۔ اس کے ہاتھوں کی لکیریں سیدھی اور گہری تھیں، میں نے کالج کے زمانے میں کبھی پامسٹری پڑھی تھی اور اس کی روشنی میں کہہ سکتی تھی کہ ایسی سیدھی اور گہری لکیریں رکھنے والے مردانہ ہاتھ محنتی اور تحفظ دینے والے ہوتے ہیں۔ اُس کے پیٹ پر اُس کا ہاتھ دھرا تھا جو بائیں کروٹ پر اُس سے لپٹ کر سورہا تھا۔۔۔ اُس کے ہاتھ پتلے اور انگلیاں لمبی تھیں اور اس کی انگلیوں کے ناخن بڑھے ہوئے تھے۔ میں اس پر ہاتھ پھیرنے لگی۔
اچھا صبح کاٹوں گی، کل پتہ نہیں کیوں نہیں کاٹ پائی۔؟ مجھے یاد نہ آیا کہ کل کونسی مصروفیت نے اس کے ناخن کاٹنا بھلائے رکھا تھا۔ حالانکہ اس کے اسکول کی ٹیچر بھی اس سے کہہ چکی تھی کہ کل ہاتھوں کے ناخن کاٹ کے آنا۔
میں نے اسے کروٹ بدل کر لٹایا اور اس کے بدن کے پسینے سے بھیگ جانے والے حصے پر ہاتھ پھیرنے لگی۔۔۔ اس کی کھال نرم تھی اور اس کے نیچے پتلی پتلی پسلیاں ابھری ہوئی تھیں۔ وہ ایک دبلا پتلا لڑکا تھا جس کی رنگت سفید تھی اور پلکیں خوب لمبی اور گھنیری تھیں۔۔ میں نے جھک کر اس کی بند آنکھوں کو چوما اور اپنی ہتھیلی سے اس کے چہرے پر چمکتا پسینہ پونچھنے لگی۔ اس کے ہونٹ بھی ان دونوں کی طرح اُبھرے ہوئے اور مسکراہٹ سے لبریز تھے۔۔۔ وہ تینوں پیٹ بھر کر کھانا کھانے کے بعد پنکھے کی خنک ہوا میں سوئے تھے اور رات کے کسی پہر لائٹ جانے اور جا کر آنے کے دوران بھی نہیں جاگے تھے۔۔ ان کی نیند پُرسکون اور بے فکر تھی۔ دونوں چھوٹوں کو سیدھا کر کے لٹانے کے بعد میں اُسے دیکھنے لگی جو اُن کے وجود کا باعث تھا۔ وہ مضبوط بازوئوں اور چوڑے کاندھوں والا ایک محنتی اور محبت کرنے والا آدمی تھا جس کا سینہ کالے بالوں سے بھرا تھا اور اس کی پسلیوں میں دھڑکتا دل سارے کو روشن رکھتا تھا۔ اس کی پلکیں بھی گھنی اور لمبی تھیں۔۔ میں اس کے چہرے پر ہاتھ پھیرنے لگی۔ سانس لینے کے دوران اس کا سینہ اور پیٹ پھولتا اور پچکتا تھا اور اس کے نتھنوں سے گرم سانس خارج ہوتی تھی۔۔ میں اس کے بھرے بھرے ادھ کھلے ہونٹوں پر سجی گھنی مونچھوں کو دیکھنے لگی۔۔۔ ان ہونٹوں نے مجھے سیکڑوں بار چوما تھا۔ اس کا لمس یاد آتے ہی میرے ہونٹوں میں سنسناہٹ دوڑنے لگی اور بدن میں شدید قسم کی انگڑائیان سر اٹھانے لگیں۔ میں نے ہاتھ کی پشت سے اپنے ہونٹ پونچھے تو چنگاریاں سے سلگنے لگیں۔ میں اس کے پھولتے پچکتے پیٹ اور بالوں سے بھرے سینے پر ہاتھ پھیرنے لگی۔۔ وہ تینوں ایک جیسے ہی تھے۔۔ وہی دو ہاتھ، دو پائوں، ٹانگیں، بازو اور سینہ اور پسلیاں جن میں دل دھڑکتے تھے اور اطراف کو روشن کرتے تھے اور گردن تھی جس میں سانس کا دھارا بہتا تھا اس کے اوپر سر دھرا تھا اور کشادہ پیشانیوں والے کِھلے ہوئے بے داغ چہرے تھے اور دعوتِ بوسہ دیتے ہوئے ادھ کھلے ہونٹ تھے۔۔۔ تینوں کی آنکھیں بند تھیں اور لمبی پلکیں ایک دوسرے میں پیوست تھیں۔۔۔ وہ تینوں ایک تھے، ایک سے تھے مگر ایک سے نہیں تھے، ایک جیسی کھال اور ہڈیوں سے بنے بدن ایک دوسرے کا حصہ تھے مگر ایک جیسے نہیں تھے۔ اپنے ‘ہونے’ میں مختلف تھے۔۔ ان تینوں کو پیار کرتے ہوئے میری کیفیتیں بدل بدل جاتی تھیں۔۔ ان تینوں میں سے کسی کا بوسہ کسی دوسرے جیسا نہیں تھا۔۔۔ اور نہ ان کے لمس ایک دوسرے سے ملتے تھے۔۔۔ میں بھی ان کے لیے ایک نہیں تھی۔۔۔ میرا لمس بھی ان میں سے ہر ایک کے لیے مختلف تھا۔ ابھی ان دونوں چھوٹوں کے ہونٹ اور گال چومتے ہوئے مجھے اپنے وجود میں اس طرح سنسناہٹ اور حلق میں پیاس کا احساس نہیں ہوا تھا۔ جیسے ان مونچھوں تلے مسکراتے ہونٹوں کو چھو کر ہُوا تھا۔۔۔ سگریٹ کے دھوئیں سے بنفشئی ہوئے ہونٹ میری پیاس بڑھاتے تھے۔۔۔۔ بہت اندر سے اٹھتی ہوئی کوئی لہر تھی جو مجھے ان ہونٹوں پر جھکائے جاتی تھی۔۔۔ چھوٹے والے نے پھر کروٹ بدل لی تھی اور میرے لیے وہاں لیٹنے کی جگہ نہیں بن رہی تھی۔ اس کے ننھے ننھے گھٹنے میرے کولہوں میں چبھ رہے تھے۔۔ میں اسے پھر سیدھا کرکے لٹانے لگی۔۔ مجھے سخت پیاس لگ رہی تھی اور اندر کہیں تپتی ہوئی مٹی ٹھنڈی ٹھار بارش کی تمنائی ہوئی جاتی تھی۔۔۔
میں اپنے ہونٹوں پر زبان پھیرتے ہوئے اٹھی اور اٹھ کر واش روم کی طرف بڑھ گئی۔

