ادبیات عالم کی تاریخ میں ٹیگور کا نام تخلیقی عظمت اور برتری سے عبارت ہے۔ انھوں نے صرف ادبی فن پاروں کو ہی خلق نہیں کیا بلکہ اس کا ایک معیار اور اعتبار بھی قائم کیا۔ اسی معیار اور اعتبارنے انھیں نہ صرف مرجع خلائق بنایا بلکہ دنیا کی بیشتر بڑی اور زندہ زبانوں میں ان کی تخلیقات کو تراجم کے ذریعہ منتقل بھی کیا گیا۔عہد حاضر میں جبکہ ہر طرف تنقید اور تنقیدی افکار کا بول بالا ہے ٹیگور کو پڑھنا اور ان کو مطالعے کا موضوع بنانا تخلیقیت کی بازیافت کہا جاسکتا ہے ۔اب ایسے لوگ کہاں ہے جو بیک وقت شاعری،فکشن ،مصوری اور موسیقی میں اپنی مثال آپ ہوں۔ناول سنجوگ ٹیگور کے اسی سلسلہ زریں اورسلسلۂ تخلیق کا ایک حصہ ہے۔
ٹیگور کا ناول’’ سنجوگ‘‘ پہلی مرتبہ کتابی شکل میں ۱۹۲۹ میں ’’جوگا جوگ‘‘ بنگالی نام سے شائع ہوا تھا۔ یہ ناول کتابی شکل میں منظر عام پر آنے سے قبل ایک بنگالی ادبی رسالہ ’’بچتر‘‘(bicihitra) میں ستمبر اکتوبر ۱۹۲۷ سے مارچ اپریل ۱۹۲۹ کے درمیان قسط وار شائع ہوا۔پہلی دو قسط کا عنوان ’’تین پُروش‘‘ تھا۔ تیسری قسط میں اس کا عنوان ٹیگور نے ’’جوگا جوگ‘‘ رکھا اور اس نام سے مکمل ناول بھی شائع ہوا۔اس ناول کا اردو ترجمہ ساہتیہ اکادمی نے ۱۹۶۲ میں شائع کیا، جسے رضا مظہری نے اردو میں منتقل کیا ہے۔
اس ناول کی کہانی دو خاندان کے درمیان کشمکش پر مبنی ہے۔ ایک چٹرجی خاندان ہے جو اعلی طبقہ سے تعلق رکھتا ہے لیکن اب رو بہ زوال ہے اور دوسرا گھو شال خاندان ہے جس نے غریبی سے دولتمندی کی راہ پکڑی اور دولت کے نشے میں چورہوگیا۔اس ناول کا آغاز ٹیگور نے بالارادہ ایک ایسی کہانی کی پیش کش کے طور پر کیا ہے جس میں دو خاندان اپنے ماضی کی جھوٹی شان و شوکت پر ایک دوسرے کے خلاف محاذ قائم کرنے اور دوسرے کو کمتر ثابت کرنے کے درپے ہیں۔ یہ ناول نہ صرف جھوٹی شان و شوکت سے متعلق ہے بلکہ میاں بیوی کے درمیان ربط وتعلق کی خلیج اور خاموش آرزوؤں کی کہانی بھی ہے۔ ٹیگور نے بنگال کے زمیندارانہ معاشرت اور ان سے وابستہ روایات کی سچی اور تلخ عکاسی کی ہے ، جہاں مرد اپنی شان اور نمودو نمائش کے لیے مال و زر کے حصول میں مشغول ہیں اور عورتیں گھر کی چہار دیواری کے اندر حق تلقی کے کڑوے گھونٹ پی پی کر سسکتی ہیں۔ ایسے ماحول میں ٹیگور نے اس ناول کی ہیروئن کمودنی کو ایک طاقت ور کردار کے طور پر پیش کیا ہے جو نا انصافی کے خلاف لڑنے اور کسی کے آگے کمزور نہ پڑنے کی جدوجہد کرتی نظر آتی ہے۔یہ کہانی گھوشال اورچٹرجی نامی بنگال کے دو ایسے خاندانوںپر مشتمل ہے جو پڑوسی ہیں مگر ان کی آپسی رنجش نے ہمسائیگی کو سرحدوں میں تقسیم کردیا ہے۔
ناول کا ابتدائیہ سماجی تبدیلی اور اس کے بعض مظاہر کو پیش کرتا ہے جس سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ یہ دونوں خاندان کبھی عیش وعشرت سے گزر بسر کرتے تھے ، مگر وقت کے ساتھ ساتھ ان کی خوش حالی اور عیش پرورانہ زندگی کو کسی کی نظر لگ گئی ۔اور اب ان کی حیثیت ایک عام انسان کی رہ گئی ۔اس ناول کے اردو مترجم رضا مظہری لکھتے ہیں:
’’اس کہانی کے تاریخی پس منظر پر نگاہ ڈالی جائے تو اندازہ ہوتاہے کہ گھوشال خاندان کبھی سندربن کے علاقے میں آباد تھا۔ پھر اسکے بعد ضلع ہو گلی میں آبسا۔ لیکن رہائش کی تبدیلی کے اسباب نہیں معلوم ہوسکے ۔ پرتگالیوں کے بیرونی خوف سے یا سماج کے اندرونی دباؤ سے۔ جو لوگ حالات سے مجبور ہوکر اپنا گھر بارچھوڑتے ہیں وہی‘ نیا گھر بنانے کی ہمت بھی کرتے ہیں۔ گھوشال خاندان کی تاریخ سے بھی یہی پتہ چلتا ہے۔ ابتدا میں ان کے پاس وافر زمینیں‘ بے شمار مویشی ‘نوکر چاکر‘رعیت ‘ مکان‘ باغ‘ غرض یہ کہ کافی ذرائع آمدو خرچ تھے۔ آج بھی ان کے آبائی گاؤں شیواکلی میں تقریباً دس بیگھہ رقبہ کا ایک تالاب ’’گھوشال دیگھی‘‘ کے نام سے موجود ہے‘ جو سوار اور کچوری پاناکی لتاؤں سے ڈھکا ہوا‘ رندھے ہوئے گلے سے بزبان حال اپنی عظمت رفتہ کا افسانہ سنا رہا ہے۔ اس تالاب پر اب صرف گھوشال خاندان کے نام کا نشان ہی باقی ہے‘ ورنہ اس کے پانی پر قبضہ چٹرجی خاندان کے زمینداروں کا ہے۔ اس خاندان کو اپنی آبائی شان و شوکت کو کب اور کیوں خیر باد کہنی پڑی‘ اس کا پتہ لگانا ضروری ہے۔‘‘(سنجوگ : ٹیگور، مترجم: رضا مظہری، ناشر: ساہتیہ اکادمی نئی دہلی، ۱۹۶۲، ص:۵۔۶)
مدھوسودن گھوشال اپنی شومی قسمت کی بنا پرنورنگر کو خیرآباد کہتاہے، جبکہ چٹرجی کی زمینداری برقرار رہتی ہے۔ ایک نسل کے وقفے کے بعد مدھوسودن گھوشال تلخی اور کڑواہٹ سے بھری غربت و محتاجی کی وادی سے نکل کراپنی انفرادی جدوجہد کے نتیجے میں ایک غیر معمولی صلاحیت کا حامل شخص ابھر کرسامنے آتا ہے۔ ایک کیروسین ڈپو کی مینجری کرنے والا مدھو سودن، اپنی خودکی ایک بڑی خوش حال کمپنی کے مالک اور ڈائریکٹر کی حیثیت سے کمپنی میں برطانوی مینجروں کا تقرر کرتا ہے اور اسے راجہ اور رائے بہادر کا خطاب حکومت سے حاصل ہوتا ہے۔ اب ایسی صورت حال میں اپنے خاندانی روایتی حریف چٹرجی خاندان سے پرانی رنجش کا بدلہ لینے اور دو دو ہاتھ کرنے کی اس کی پرانی دلی آرزو جاگ اٹھتی ہے اور سب سے پہلے روبہ زوال چٹرجی خاندان کی تمام مال و دولت کو خرید لیتا ہے اور پھر تابوت کی آخری کیل ٹھونکتے ہوئے چٹرجی خاندان کی سب سے چھوٹی بیٹی کمودنی کے لیے پیغامِ نکاح بھیجتا ہے ۔ مدھوسودن گھوشال کے لیے یہ رشتہ داری ایک ایسے ہتھیار کی حیثیت رکھتی ہے جس کے ذریعہ وہ اپنے حریف کو کمتر ثابت کرسکے۔ وہیں کمودنی کے لیے یہ رشتہ ایک ایسی حالت میں داخل ہوجاتا ہے جس میں حیرت ناک ذاتی فریب کاری اور جہالت کے نتیجے میں ، علاحدہ، محفوظ اور روایتی پرورش پانے والی عورت ایک ناقابل برداشت ظلم و زیادتی کا شکار ہو جاتی ہے اور اس کے بڑے بھائی اور سرپرست بپر اداس کے لیے یہ رشتہ ایک مسلسل تذلیل اور اس کی بہن کی جانب سے ایک افسردگی اور خوف و اضطراب ثابت ہوتا ہے۔
مدھوسودن اور کمودنی کے درمیان مسابقت صرف ان کی طویل خاندانی کشمکش تک محدود نہ تھی بلکہ ان دونوں کی فطری صفات نے اس رسہ کشی کو مزید بدتر بنا دیا تھا۔ مدھوسودن ایک غیر مہذب اوربیہودہ مالک جبکہ کمودنی خوف خدا کی حامل اطاعت شعار اور خود دار عورت ۔ کیا ایک دوسرے سے بالکل ہی متضاد صفات رکھنے والے زن و شوہر ہم آہنگ ہوکر خوشی خوشی رہ سکتے ہیں ؟ناول کی کہانی کا جنم اسی سوال کے تانے بانے سے ہوتا ہے ۔
ٹیگور کے مشاق قلم اور خداداد صلاحیت نے اس کہانی کو نہ صرف میاں بیوی بلکہ مرد و زن کا رزمیہ بنادیاہے۔ اس کے مطالعہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ ٹیگور انسانی نفسیات کے نباض ہیں۔ اسی لیے وہ اپنے ہیرو اور ہیروئن کو کبھی بھی آیڈیل تصورنہیں کرواتے بلکہ ان کے ہیرو اور ہیروئن اپنی اپنی خامیوں اور کوتاہیوں کے ساتھ نمودار ہوتے ہیں جس کے نتیجے میں ناول حقیقت سے قریب تر ہوجاتا ہے اور اس طرح آپ بیتی جگ بیتی بن جاتی ہے۔
اس ناول کا پلاٹ بنیادی طور پر دوانا پسند وں کا غیرمساوی اور ناکام مقابلہ ہے۔ ناول کے تینوں مرکزی کردار مدھو سدن‘ کمودنی اوربپراداس انفرادی طور پر اخلاقیات اور آیڈیالوجی کے بوجھ کو اٹھانے کی کوشش کرتے نظر آتے ہیں۔ اعلی طبقے کا بپراداس اور اس کی بہن کمودنی شریف ،باعزت اورکشادہ دل ہیں جبکہ خوددار مدھوسودن بے حس، حریص اور بداخلاق ہے۔ چٹرجی خانوادے کی طرف سے افواہوں کے ذریعے گھوشال خانوادے کی اونچی ذات پر حملہ اور کمتر ثابت کرکے گاؤں سے باہر نکال دینا ایک ایسا واقعہ تھا جو نہ صرف روایتی طور پر پرورش پانے والی کمودنی کے لیے شادی سے قبل دکھ کاسبب بنتاہے بلکہ شادی کے بعد کی ازدواجی زندگی میں بار بار کمودنی کی تذلیل کا باعث بھی ہوتا ہے۔ یہ اقتباس ملاحظہ کیجیے۔
’’ایک قسم کا شخصیت کا فرق ہوتا ہے جو سماج کا پیدا کیا ہوا نہیں ہوتا بلکہ خون کا ہوتا ہے ۔ یہ فرق کسی طرح مٹتا نہیں۔ یہ جو خون یا نسل کا فرق ہوتا ہے وہ عورت کو جس قدر پریشان کرتا ہے اتنا مرد کو نہیں۔
موتی کی ماں کا بیاہ کمسنی میں ہوا تھا۔ اس لیے اس کو اس فرق کی کرشمہ سازیوں کو سمجھنے کا موقع ہی نہیں ملا تھا۔ لیکن کمو کے دل میں اس کا احساس کتنا سخت ہے، اس کا پتہ موتی کی ماں کو یقینی طور پر مل گیا ۔ اس کے بدن میں جیسے ایک جھرجھری سی پیدا ہو گئی۔ جیسے اس نے ایک خوف ناک سی تصویر دیکھ لی ہو۔ ایک انجانا جانور اپنی للچائی ہوئی زبان نکالے کنڈلی مارے بیٹھا ہو۔ اسی اندھیرے غار کے دہانے پر کمودنی کھڑی دیوتا کو پکار رہی تھی۔ موتی کی ماں جھلا کر دل ہی دل میں بول اٹھی: ’’ دیوتا کے منہ میں خاک! جس دیوتا نے اسے اس مصیبت میں پھنسایا ہے وہی اس کو نجات دلائے گا؟ ہائے رے انسان تیری سادہ دلی!‘‘(سنجوگ : ٹیگور، مترجم: رضا مظہری، ناشر: ساہتیہ اکادمی نئی دہلی، ۱۹۶۲، ص:۱۱۴)
ٹیگور نے کمودنی کی زندگی کے نشیب و فراز کو پیش کرنے میں تخیل اور کہانی کی تمام مہارتوں کا خوبصورتی سے استعمال کیا ہے۔ کمودنی کی اپنی دنیا: بچپن کی یادیں، اپنی خود اعتمادی، بھائی کی تدریس، اس کے خواب، تنہائی اور افسردگی وغیرہ۔ بِن بیاہی ۱۹ سالہ کمودنی اپنے خاندان کی بدقسمتی کی ذمہ دار خود کو ٹھہراتی ہے۔ مدھوسودن گھوشال کے ذریعے چٹرجی خاندان کو بھیجے گئے پیغام نکاح پر کمّو قربانی کے حوصلے سے رضامندی ظاہر نہیں کرتی بلکہ تقدیر کی یقینی سزا سمجھ کر فیصلہ لیتی ہے۔ کمودنی کے ذریعے پیش کی گئی فکر اور ا س کے فیصلے گویا عورتوں کی زندگی اور ان کے اپنے اصول و ضوابط کے تعلق سے خود ٹیگور کے گہرے یقین اور مشاہدے کو ظاہر کرتے ہیں۔
ناول کے اختتام میں کمودنی اپنے بھائی بپراداس کے گھر پر رہتے ہوئے یہ سوچتی ہے کہ اپنی مشکلات اور پریشانیوں کے ساتھ ہی اسے زندگی بسر کرنی ہے۔ چونکہ وہ اپنی ازدواجی زندگی میں کبھی خوش نہیں رہ پائے گی لہٰذا وہ مدھو سودن کے پاس دوبارہ کبھی نہ جانے کا عہدکرتی ہے۔ لیکن ٹیگور کے ذریعے تیار کردہ کسا ہوا پلاٹ کمودنی کے اس آزادانہ فیصلے کو رد کرتا ہے۔ ایک ہفتہ سے بھی کم اپنے شوہر کے گھر رہنے کے بعد شادی شدہ زندگی میں دو جسموں کے ایک جاں ہونے کا سچ اس کے سامنے اس وقت ظاہر ہوتا ہے جب اسے اپنے حاملہ ہونے کا علم ہوتا ہے۔ کمودنی اپنے شوہر کے ساتھ قائم کیے گئے اس جسمانی تعلق کو ایک ایسا ہتھیار سمجھنے لگتی ہے جس کے ذریعے تقدیر کمودنی کو سزا دے رہی ہے۔یہ اقتباس دیکھیے۔
’’شوہر کے ساتھ کمودنی کا یہ جو چند روزہ تعلق ہوا تھا، وہ اندر ہی اندر روز بروز جو ایک ناگوار روپ اختیار کرتا جارہا تھا، وہ روپ، آج حمل کا دغدغہ پیدا ہوجانے کی وجہ سے صاف صاف ابھر آیا ہے۔ انسان انسان میں جو فرق سب سے زیادہ اختلاف پیدا کرنے والا ہوتا ہے ، اس کے اجزائے ترکیبی بعض اوقات بہت ہی نازک اور باریک ہوتے ہیں۔ زبان سے، چہرے کے اتار چڑھاؤ سے، برتاؤ کے چھوٹے موٹے اشاروں سے، جب کچھ بھی نہ کر رہا ہے تو اس سکون کی ادا سے، لہجے کی تبدیلیوں سے، ذوق سے، عادات و اطوار سے، زندگی کے اصولوں سے، اس فرق کے آثار و اشارات نمایا ہوتے رہتے ہیں۔ یہی نہیں کہ مدھوسودن کی طبیعت میں کچھ ایسی باتیں تھیں، جو ہر وقت کمو کے دل پر چرکے لگاتی رہتی ہیں۔ بلکہ اس کی بعض حرکات سے اسے بعض دفعہ بہت شرم آتی تھی۔ اس کو بعض وقت ایسا محسوس ہوتا کہ وہ نہایت ہی ذلیل اور کمینہ ہے۔ مدھوسودن اپنے آغاز زندگی میں ناگفتہ بہ حد تک غریب تھا۔ اس لیے جب کبھی وہ پیسے کی اہمیت کے متعلق باتوں باتوں میں خیالات ظاہر کرتا، تو اسی تفاخر میں اس کی رگوں میں سرایت کی ہوئی غربت کی پستی ظاہر ہو جاتی تھی۔ دولت کی پوجا کا ذکر وہ باربار کمو کے سامنے صرف اس غرض سے چھیڑتا تھا کہ کمو کو اس کے میکے والوں کی حالیہ ناداری کا طعنہ دے کر خفیف کرے۔ اس کا یہ گنوار پن، زبان کی کرختگی، یہ کمینہ پن اور کم ظرفی، غرض یہ کہ اس کا سارا وجود، ہر وقت اپنی اندرونی غلاظت کی جھلک دکھایا کرتا اور کمو کے دل اور روح کو افسردہ کرتا رہتا ۔ وہ اپنی نگاہ سے، اپنے ذہن سے، ان باتوں کو نکال پھینکنے کی جتنی زیادہ کوشش کرتی رہی تھی، اسی قدر یہ باتیں کوڑے کرکٹ کے ڈھیر کی طرح چو طرفہ جمع ہوتی جا رہی تھیں۔ اپنی اس نفرت کے خلاف کمو جی جان سے جنگ کر رہی تھی۔ شوہر سے عقیدت کا فرض ادا کرنے کے لیے، اس نے جو کوششیں کیں، ان کی حد بیان نہیں کی جاسکتی۔ لیکن کتنی بڑی ہار اسے ماننی پڑی تھی۔ اس کا احساس آج سے پہلے اتنا زیادہ کبھی نہ ہوا تھا۔ اب گوشت و خون کا اتنا مضبوط بندھن ہوگیا تھا جو کسی طرح سے ٹوٹ نہیں سکتا تھا۔ قدرت کی اس ستم ظریفی نے اسے دلی تکلیف پہنچائی۔ بڑی پریشانی سے اس نے موتی کی ماں سے پوچھا:’’تمھیں کیا پورا یقین ہے؟‘‘(سنجوگ : ٹیگور، مترجم: رضا مظہری، ناشر: ساہتیہ اکادمی نئی دہلی، ۱۹۶۲، ص:۲۶۵)
سوپریہ چودھری جنھوںنے اس ناول کا انگریزی میں ترجمہ کیا ہے ،انھوں نے اپنے مقدمے میں اس مذکورہ بالا اقتباس کے تناظر میں لکھا ہے کہ ۔
"This final entrapment, unsatisfactory though it may seem as a narrative resolution, returns us to marriage itself as the novel`s problematic: marriage as a critical encounter, sexual and physiological, between two persons, and marriage as a contractual negotiation between families. It is upon the person of Kumudini that this cruelly exact examination of marriage is conducted, and through it she acquires the literary form of a person, something beyond mere subjectivity or narrative history.”
(Relationship (jogajog), Oxford University Press, Oxford India Paper Back 2006, Page No: 19)
ٹیگور نے ناول کے تمام فنی لوازمات کو بحسن و خوبی برتا ہے۔ ٹیگور کے اسلوب اور ان کے لب و لہجے نیز مکالموں پر ترجموں کی وساطت سے گفتگو کرنا ایک مشکل امر ہے۔ ہاں منظر نگاری، جزئیات نگاری، پلاٹ اور کردار وغیرہ پر بھر پور گفتگو کی جاسکتی ہے۔ منظر نگاری میں بھی ٹیگور کے گہرے مشاہدے اور تجربے کا عکس صاف نظر آتا ہے۔ منظر نگاری کی خوبی یہی ہے کہ قاری ناول کی قرأت کے دوران اپنے آپ کو اس ماحول کے درمیان پائے۔ ٹیگور کے ناولوں کے قاری کوبیان کردہ ماحول میں داخل ہونے میں ذرا بھی دیرنہیں لگتی۔ منظر نگاری کے یہ جملے قابل توجہ ہیں۔
’’اسی ماحول سے نکل کر کمودنی کلکتہ پہنچی۔ یہ شہر اس کے لیے ایک بہت بڑا سمندر تھا۔ جس میں پینے کے قابل پانی کا ایک قطرہ بھی نہ تھا۔ گاؤں کا آسمان گاؤں کی ہوا بھی جانی پہچانی تھی۔ وہاں کی گھنی جھاڑیاں ، چمکتی ہوئی ریت کے بیچ سے گذرتی ہوئی ندی کی پتلی سی دھار، مندر کا کلس، دور تک پھیلا ہوا سنسان میدان، جھاؤ کے درختوں کے کنج، پگڈنڈیاں-ان سب نے مل کر ایک اور رنگا رنگ آسمان گاؤں کے آسمان کے نیچے بنا رکھا تھا۔ یہی تھا کمودنی کا اپنا خاص آسمان۔ اس آسمان کے نیچے سورج کی روشنی بھی ایک خاص رنگ کی تھی۔ جھیل، کھیرے کے کھیت، بید کی جھاڑیاں، گیروے رنگ کا بادبان لگائے ملاحوں کی کشتیاں، بنسواڑی کی نرم نر م چکنی چکنی پتیاں، کٹہل کے درخت کے گہرے سبز پتّے، ندی کے اس پار بالو کے ڈھیروں کا ہلکا رنگ-ان سب نے مل جل کر وہاں سورج کی روشنی کو ایک خاص جانی پہچانی رنگت دے دی تھی۔ کلکتہ کے بے جانے پہچانے مکانوں کی چھتوں، دیواروں، کھڑکیوں پر بکھری ہوئی سورج کی کرنیں آج اسے ایک اجنبی کی طرح نہایت کڑی اورناہمدردانہ نگاہ سے دیکھ رہی تھیں۔ یہاں کے دیوتاؤں نے بھی اسے قابل اعتنا نہیں سمجھا تھا۔(سنجوگ : ٹیگور، مترجم: رضا مظہری، ناشر: ساہتیہ اکادمی نئی دہلی، ۱۹۶۲، ص:۳۵۔۳۶)
ٹیگور نے اس ناول میں عورت کی نفسیاتی کیفیت کو پیش کرنے میں کمال فن کا مظاہر ہ کیا ہے۔ علم نجوم پر یقین، شادی سے قبل ازدواجی زندگی کے بارے میں خو ش گمانی اور فکرمندی، سسرال والوں کے بارے میں ذہنی کیفیت، میکے میں موجود گھر والوں کے لیے بے چین ہونا غرض اس قسم کی تمام نفسیاتی کیفیات ٹیگور کے اس ناول میں جا بجا نظر آتی ہیں۔
ٹیگور صرف ناول نگار ہی نہیں بلکہ وہ شاعر، افسانہ نگار، ڈراما نگار، مصور اور موسیقار کے ساتھ ساتھ معلم، مفکر اور فلسفی بھی تھے۔ لہٰذا ان کی تخلیقات میںان تمام فنون کی خصوصیات در آئی ہیں۔ ٹیگور کے فن پارے دراصل ادب پارے کی حیثیت رکھتے ہیں جن میں جگہ جگہ علم و دانش اور فکر وفن کے جواہر بکھرے ہوئے ہیں۔ اس ذیل میں مذکورہ بالا ناول بھی ہے ۔دیگر تخلیقات کی طرح اس ناول کی خوبی یہ بھی ہے کہ متعدد مقامات پر ٹیگور نے فلسفیانہ گفتگو کرتے ہوئے جہاں مختلف نظریات کو پیش کیاہے وہیںبعض مقامات پر ایسے جملے اور عبارتیں خلق کر دی ہیں کہ جن میں فلسفہ و حکمت کی ایک دنیا آباد ہے ۔ٹیگور کی تخلیقات میں اس کی کئی مثالیں موجود ہیں۔ اس ناول سے ایک مثال پیش کرکے اپنی بات ختم کرتا ہوں۔بقول ٹیگور:
’’مارنے والے بھول جاتے ہیں۔ مار کھانے والے آسانی سے نہیں بھول سکتے۔ لاٹھی ان کے ہاتھ سے گر پڑتی ہے مگر دل ہی دل میں وہ لاٹھی گھماتے رہتے ہیں۔‘‘
٭٭٭٭٭
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

