مرزبوم صدیق عالم کا تازہ ترین ناول ہے جسے اثبات پبلیکیشن نے شائع کیا ہے۔صدیق عالم کاشمار ایسے تخلیق کاروں میں ہوتا ہے جن کا تخلیقی وفورکسی ایک ہیئت یا طریقۂ اظہارتک محدود نہیں ہے۔ ان کی تخلیقات کبھی فکشن یعنی افسانہ اور ناول کی صورت اختیار کر لیتی ہیں تو کبھی نظم کی۔ کبھی ایسا بھی ہوتاہے کہ پورا ناول نظم (نثری نظم)کی ہیئت میں تبدیل ہوجاتاہے۔ تخلیقی انہماک کی ایسی مثالیں اردو میں کم ہی ملتی ہیں۔صدیق عالم کی تخلیقات کی ماہیت کے پیش نظر انھیں وجودی فنکار بھی کہا جاتا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ انھوں نے جن موضوعات کا انتخاب کیا ان میں وجودیت ایک اہم عنصر کے طور پر شامل ضرور ہے لیکن صرف وجودی فنکار کہہ دینے سے کسی کی اہمیت، انفرادیت اور تخصیص تو قائم نہیں ہوسکتی۔ وہ کون سے عوامل ہیں جن کی بنیاد پر کسی فنکار کو اہم یا منفرد تخلیق کار قرار دیا جاتا ہے۔صدیق عالم کی انفرادیت کے عوامل تک رسائی کے لیے ان کی تخلیقات (ناول، افسانہ اور نظم)کا بغور مطالعہ ضروری ہے۔
صدیق عالم کا تخلیقی سفر تقریباً چار دہائیوں پر مشتمل ہے۔ان کی تخلیقی سرگرمی کی تازہ مثال مرزبوم ہے جو ان کا چوتھا ناول ہے۔اس سے پہلے چارنک کی کشتی، چینی کوٹھی اور صالحہ صالحہ شائع ہوچکے ہیں۔ان تینوں ناولوں کے مقابلے میں مرزبوم کو مختصر ناول کہا جاسکتا ہے، جس کا دورانیہ بظاہر محض اڑتیس گھنٹے کو محیط ہے، لیکن اس کا قاری اس مختصر وقفے میں بھی تاریخ، تہذیب، معاشرت، سیاست اور اندرون ذات کی ایک لمبی مسافت طے کرتا ہے۔ ٹرین کے پلیٹ فارم سے دریا کی طغیانی تک کا سفر صرف جسم ہی نہیں بلکہ ذہن و دماغ کو بھی تھکا دینے والا ہے۔ (یہ بھی پڑھیں علی سردار جعفری کا کالم ” دار و رسن‘‘ – ڈاکٹر عبد السمیع )
ناول میں موجودہ ہندوستان کے ان تمام واقعات کی جھلک نظر آتی ہے جن سے ہماری، ہمارے ملک و قوم کی ”نئی شناخت“ قائم ہو رہی ہے۔اس میں سیاست، معیشت، عدلیہ، فوج، پولس، مذہبی جنون اور میڈیا کی تبدیل بلکہ مسخ ہوتے چہرے ملاحظہ کیے جاسکتے ہیں۔ جبریہ طور پر بنائے گئے مندر،دوسروں کے گھر، زمین اور تالاب پر ناجائز قبضہ کرنا، لوگوں کا محتاط ہوجانا اور سوالوں سے خوف کھانا،عورتوں کے رویوں میں خود اعتمادی کا درآنا، ملک کا پیچھے کی طرف چلنا، تجارت کا رومانس میں تبدیل ہوجانا، ملک کی ننانوی فیصد آبادی کا کیچڑ میں کنول کھلانا،کاسموس، میگا پولس اور میٹروپولس کا ارتقا، بزدل اقوام کا اپنے سورماؤں کے اونچے بت بنانا،سیاست کا غنڈوں کے ہاتھ میں چلاجانا،بنے بنائے راستوں کوچھوڑ کر جنگلوں کو کاٹ کر نئے راستے بنانا اور قدرتی وسائل کوبرباد کرنا، وبا اور امراض کی دواؤں کا کاروبار قائم رکھنا، ہندو قوم پرستوں کا اقلیتوں کو ہراساں کرنا، میڈیا اور اخبارات کا مقتدریٰ کے Narrative کو بطور خبر پیش کرنا جیسے موضوعات مختصراً اس ناول کے صفحات میں بکھرے ہوئے ہیں۔ناول میں ان واقعات کی حیثیت سطح آب پر بہنے والے خزف ریزوں کی ہے، ان سے بہتے پانی کی تہہ میں جاری شدیدلہر کا محض اندازہ ہی لگایا جاسکتاہے۔ ناول نگار کی نظر میں یہ مسائل اہم تو ہیں لیکن وہ کہیں بھی انھیں ناول کا بنیادی موضوع بنانے کی کوشش نہیں کرتا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ ان باتوں کا عادی ہوچکا ہے،یہ کوئی نئی بات بھی نہیں ہے بلکہ اس کی جڑیں ماضی میں پیوست ہیں۔ ناول میں ان واقعات کو جس طرح سے پیش کیا گیا ہے اس سے زمان و مکان کی روایتی حدیں پامال ہوگئی ہیں۔ماضی، حال اور مستقبل ایک دوسرے میں اس طرح گڈمڈ ہوگئے ہیں کہ انھیں الگ کرنا ناممکن سا ہے۔ (یہ بھی پڑھیں ’’میرا بچپن‘‘ ۔۔۔ بطور فکشن-ڈاکٹر عبد السمیع )
ناول نگار نے متحرک وقت کو کبھی اس کی متعینہ سمت و رفتار کے ساتھ پیش کیا ہے اور کبھی اس کے برعکس۔ کبھی ماضی حال میں گم ہوتا نظر آتاہے کبھی حال ماضی کا حصہ بن کرسامنے آتا ہے۔ ان کے اختلاط اور گمشدگی نے مستقبل کو بھی اپنے دائرہئ کار میں شامل کر لیا ہے۔
اب اس ناول کے اصل موضوع کی طرف آتے ہیں۔ اس کا بنیادی موضوع انسان ہے۔ ایک ایسا انسان جو پیدا ہوتا ہے، تعلیم حاصل کرتا ہے اور دنیا داری کے وہ سارے امور انجام دیتا ہے جسے ایک انسان کو بحیثیت بشر انجام دینے کا حق اور اختیارحاصل ہے۔انسان کی پیدائش کے ساتھ ہی دو چیزیں اس سے وابستہ ہوجاتی ہیں اس کا وجود اور اس کی جنم بھومی یعنی مرزبوم۔ اس ناول کے راوی (انسان) کو اپنی پہلی منز ل(اپنے وجود)کا عرفان ہے۔ یعنی اسے اس بات کا ادراک و احساس ہے کہ وہ پیدا ہوا ہے اور زندہ ہے حالانکہ وہ پیدا ہونے ہی کو ایک بڑا حادثہ تصور کرتا ہے، کیونکہ اس کے مطابق سارے دکھ، درد کی ابتدا پیدائش کے ساتھ ہی ہوتی ہے۔
مرزبوم فارسی زبان کا لفظ ہے جسے اردو میں مادروطن،جائے پیدائش بلکہ جنم بھومی کہنا زیادہ مناسب ہوگا۔راوی نے اپنی مرزبوم کا جو محل وقوع بتایا ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اسلام پور مغربی بنگال کی تیستا ندی کے کنارے آباد کوئی قصبہ تھا جو اب شہر میں تبدیل ہوچکا ہے۔ راوی کی ابتدائی(گیارہوں تک کی) تعلیم اسی قصبے کے اسکول میں ہوئی ہے۔ والد کی ملازمت کی وجہ سے وہ اس قصبے سے نکل کر کسی دوسرے شہر میں سکونت اختیار کرلیتاہے۔ وہ تقریباً دو دہائی بعد اپنی مرزبوم کی طرف لوٹا ہے۔ اس درمیان وہ ایک مرتبہ صرف دودن کے لیے دادی کے انتقال پر آیا تھا۔
ناول کے مطالعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ مرزبوم کا تصور کسی قطعۂ اراضی یا مخصوص خطے سے وابستہ نہیں ہے بلکہ اس کا تعلق وقت اور حالات سے ہے جو اپنی رفتار اور ہیئت تبدیل کرتارہتا ہے۔یہاں یہ سوال بھی قائم ہوتا ہے کہ کیا مرزبوم کا تصور ہر انسان کے لیے یکساں ہے؟راوی کی مرزبوم اس تصوراتی شہر کے اندر چھپی ہوئی ہے جس تک رسائی کے لیے خارجی مظہرات کی کینچلی اتارنا ضروری ہے۔یعنی مرزبوم کی بازیافت اسی صورت میں ممکن ہے جب انسان اس کے ساتھ اسی طرح پیش آئے جس طرح اس نے پہلی مرتبہ اپنی مرزبوم سے مکالمہ قائم کیا تھا، لیکن راوی اس امر سے بخوبی واقف ہے کہ خارجی مظہرات کی کینچلی اتار پھینکناممکن نہیں۔اسے یہ بھی گمان گزرتا ہے کہ یہ کینچلی ہی حقیقی وجودہے، اگر اسے بھی نوچ کر پھینک دیا گیا تو اس کے پاس کیا بچے گا؟ مرزبوم تک رسائی کے لیے خارج و باطن کے تصادم اور کشمکش میں خارج کا زور کم ہونے لگتا ہے کیونکہ مرزبوم خارج سے زیادہ انسان کے باطن میں آباد ہوتی ہے۔ جب تک انسان خارج کی آلائش سے پاک نہیں ہوجاتا،وہ اپنی مرزبوم تک نہیں پہنچ سکتا۔
مرزبوم یا جنم بھومی کے تعلق سے انسان جس قدر جذباتی ہوتا ہے کیا واقعی اس کی اتنی ہی اہمیت جتنی بیان کی جاتی ہے۔اس ناول کو پڑھتے ہوئے یہ خیال گزرتا ہے کہ مرزبوم کا پورا تصور الیوژن اور توہم کا کارخانہ ہے۔
راوی جس خدشے اور منصوبے کا اظہار اپنے رشتے داربھائی(سلام) سے نہیں کرسکا، اس کا اظہار نوجوانی کی محبت (جاپانی) کے سامنے کر بیٹھا۔مرزبوم کی یاد اس وقت شدت اختیار کرلیتی ہے جب دنیا کی دھوپ اس کے لیے ناقابل برداشت ہوجاتی ہے اور ساری سہولیات کے باوجود اسے کہیں سکون نہیں ملتا تو وہ مرزبوم کی طرف امیدبھری نظروں سے دیکھتا ہے۔اسے لگتا ہے کہ یہاں کوئی ایسا گوشہ ہوگا جو اسے نہ صرف قبول کرے گابلکہ اسے پناہ بھی دے گا۔راوی اسی توقع کے ساتھ اپنی مرزبوم کے گھر، قبرستان، جنگل،اسکول، تالاب، کھیت، سڑک، اسٹیشن، ندی، پل، چوک، بازار کا چکر لگاتاہے۔ اپنی محبوبہ سے ملنے جاتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے جاپانی اب بھی اس کا استقبال اس والہانہ پن کے ساتھ کرتی ہے گویا وہ برسوں سے اس کا انتظار کررہی تھی لیکن راوی کے جذبے میں تڑپ نظر نہیں آتی۔ جاپانی اسے مرزبوم کا احساس دلانا چاہتی ہے لیکن راوی پر اس حقیقت کا انکشاف ہوچکا ہے کہ مرزبوم دراصل سراب ہے۔
اس ناول کو محض ایک وجودی شخص یا فرد کا مسئلہ نہیں قرار دیا جاسکتا۔ گزشتہ چند برسوں میں ملک عزیز میں جس قسم کی سیاست اور معاشرت نے ترقی کی ہے اس میں اہل وطن کے اندر ایک خوف کا ماحول ہے کہ آخر اس کی جنم بھومی کہاں ہے اور اس کا ثبوت کیا ہے۔ یہ اعتراض بھی کیا جاسکتا ہے کہ محض اڑتیس برس کے جوان کو ایسی کون سی نفسیاتی یاجذباتی مجبوری درپیش تھی کہ اس نے مرزبوم کے سفر کا عزم کیا؟ جبکہ ابھی وہ جوان ہے، کامیاب بھی ہے اورشہر میں بھرا پوراگھر بھی ہے۔ اس کا جواب ملک کی بدلتی صورت حال میں پوشیدہ ہے۔
ناول میں علامتوں سے کام تو بہت لیا گیا ہے مگر اسے علامتی ناول بننے سے محفوظ رکھا ہے۔ اگر یہ علامتی ناول ہوتا تو اتنے صفحات سیاہ کرنے کی زحمت نہیں اٹھانی پڑتی صرف اسکول کے ہیڈماسٹر اور ان کے بیٹوں کا حال بیان کردیا جاتا اور بات مکمل ہوجاتی ہے۔
بطور علامتی بیانیہ اس ناول کا سب سے اہم کردار ہیڈ ماسٹرہے۔آپ اسے بیان واقعہ بھی سمجھ سکتے ہیں لیکن اگر پوٹلی کو مرزبوم، ہیڈماسٹر کو ہندوستان کا عام شہری، پلیٹ فارم کو ہندوستان تصور کر لیں تو اس واقعے کی معنویت میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ اس وقت ہندوستان میں ان لوگوں کو بدحال کردینے کی پوری کوشش جاری ہے جو کبھی خوش حال تھے اور ملک و سماج میں اپنے اچھے کارناموں کے باعث معزز بھی تھے۔یہ سوال قائم ہوسکتا ہے کہ اس واقعے کو علامت تصور کرنے کی بنیاد کیا ہے۔ اس کا جواب ناول کے مطالعے کے دوران مل جاتا ہے۔
ناول نگار نے اس مختصر بیانیہ کو اٹھارہ ابواب میں مختلف عنوانات کے ساتھ پیش کیا ہے۔ یہ عنوانات اور ان کے ذیل میں تحریر کیے گئے آڑے ترچھے معماتی الفاظ اور جملے قاری کو تجسس، محنت اور تامل پر مائل کرتے ہیں۔ اصل میں ان منتشر الفاظ اور جملوں میں اس باب کا نچوڑ موجود ہے۔ یہ ایک قسم کے کوڈ ہیں جنھیں ڈی کوڈ کرنا قاری کی ذمہ داری ہے۔ انھیں توجہ سے پڑھے بغیر ناول کی روح تک رسائی ممکن نہیں۔ کہیں کہیں ان پر نظم کا گمان گزرتا ہے۔ خاص طور پر5،6،7،9، 10،12،13، 17وغیرہ کو پڑھتے ہوئے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ جملے نہیں بلکہ نظم کے مصرعے ہیں اور ان میں ایک جہان معنی آباد ہے۔
”مقطع میں آ پڑی ہے سخن گسترانہ بات“ صدیق عالم کا شمار ان تخلیق کاروں میں ہوتا ہے جنھیں قاری لفظ بہ لفظ پڑھتا ہے۔ ایسے میں پروف کی فاش غلطیاں بھی ہمیں رک کر سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ کیا واقعی یہ املے کی غلطی ہے یا مصنف نے اسے اسی طرح استعمال کیا ہے۔اس ناول میں گوکہ املا کی غلطیاں کم ہیں لیکن صدیق عالم کی تخلیقات میں انھیں بھی برداشت کرنا مشکل معلوم ہوتا ہے۔
مجموعی طور پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ ملک میں جائے پیدائش اور جنم بھومی کے تعلق سے جو سیاسی اور معاشرتی سرگرمیاں جاری ہیں انھیں لغو اور فریب قرار دینے میں یہ ناول تخلیقی اساس فراہم کرتا ہے۔
یہ توہم کا کارخانہ ہے
یاں وہی ہے جو اعتبار کیا(میر)
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |


1 comment
ناول کے تمام پہلوؤں کو محیط عمدہ تبصرہ.. تبصرے میں کم از کم ناول کے واقعات کی اتنی تلخیص تو ہونی ہی چاہیے جس سے ناول کے مزاج کا اندازہ لگانا ممکن ہو اس تبصرے میں کم و بیش تمام باتیں آ گئی ہیں