غضنفر فکشن کی دنیا کے ایک مشہور نام جس نے اپنے قلم سے اردو دنیا کو مالامال کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی خوبصورت ناول لکھے اس کے علاوہ انھوں نے دیگر اصناف میں بھی طبع آزمائی کی ان کا مشہور ناول مانجھی ہے ان کے ناولوں میں اسلوب کا نیا تجربہ ہیئت، تکنیک کی ایک نئی ایجاد زبان و بیان کی نئی تراش و خراش دیکھنے کو ملتی ہے ان کا ہر تجربہ پہلے سے انوکھا اور انفرادیت کا حامل ہوتا ہے.مانجھی عصرِ حاضر کی بہترین عکاسی کرتا ہے
مصنف نے الہ آباد کے سنگم کے ذریعہ پوری تہذیب کو بیان کیا ہے مختلف چھوٹی چھوٹی کہانیوں کے ذریعے سے ناول کا کلائمکس تیار کیا ہے۔ آلہ آباد ایک ایسی جگہ جو ہندوستانی تہذیب کا گہوارہ ہے گنگا اور جمنا کے سنگم پر آباد ہے ہندو دھرم کو ماننے والوں کا مقدس مقام ہے۔ سنگم دراصل گنگا اور جمنا کے ملاپ کو کہا جاتا ہے۔ مصنف نے گنگا جمنا کے ذریعہ ہندوستان کی دو بڑی اقوام ہندو و مسلمان کے آپسی اتحاد و اتفاق کو دکھایا ہے اور استعارہ کے طور پر استعمال کیا ہے. اگر ہم موضوع کی بات کریں تو ناول میں پوری دنیا نظر آتی ہے اس میں تہذیب زوال کی طرف مائل نظر آرہی ہے سماجی جبر و استحصال، معاشی تنگدستی، تہذیب و ثقافت کی ٹوٹتی روایت اور عورتوں کے استحصال کو پیش کیا گیا ہے۔ گویا ناول فکر و فلسفہ سے بھرپور ہے.ناول کا آغاز کچھ اس طرح سے ہوتا ہے:
"بھائی صاحب الہ آباد تک آیا ہوں تو سوچتا ہوں کہ سنگم بھی ہو آؤں”.
"بھائی صاحب سنگم ایک تیرتھ استھان ہی نہیں ہے وہ اور بھی بہت کچھ ہے”
جیسے؟
جیسے وہ ایک متھ ایک مسڑی ہے وہاں کے واتاورن میں رہسیہ ہے سسپینس ہے تھرل ہے اور کچھ وہ بھی ہے جیسے میں بتا دوں تو شاید آپ کو اچھا نہ لگے.”
کہانی کشتی پر بیٹھنے کے بعد شروع ہوتی ہے اور کشتی سے اترنے کے پہلے ختم ہوجاتی ہے اس مختصر سے ناول میں مصنف کی خوبی یہ ہے کہ پوری تہذیب کو سمیٹ لیا ہے۔ مختلف چھوٹے چھوٹے واقعات اور مناظر کے ذریعہ معاشی تنگدستی، سیاسی و سماجی برائیاں، عورتوں پر ظلم و ستم ، تہذیب کا زوال ہونا، آپس میں اتحاد و اتفاق کا ختم ہونا اور جبر کی انتہا ان تمام چیزوں کا احاطہ کیا ہے۔ (یہ بھی پڑھیں غلام باغ اور بدلتی ہوئی سماجی صورتحال – سیدہ ہما شیرازی )
ناول کے دو مرکزی کردار کے ذریعہ پوری کہانی کو پیش کیا گیا ہے ویاس مانجھی اور وی ان رائے ۔
ویاس مانجھی ایک ادھیڑ عمر کا ملاح جس کے ماتھے پر سکون کی لکیریں اور آنکھوں میں اطمینان کی روشنی لہرا رہی ہے اور اس کی ناؤ کا کرایہ دیگر ملاحوں سے مختلف ہے۔ اس کو زندگی کا تجربہ بہت ہے وہ باتوں باتوں میں ہی بڑی تہہ داری کی بات کر جاتا ہے جو عام انسان نہیں کر سکتا ہے۔ وہ مفکر کم دانش ور زیادہ نظر آتا ہے مانجھی کا کردار متاثر کن ہے۔
مانجھی کا تعارف کچھ اس انداز میں ہے:
"میرا نام ویاس ہے ویاس مانجھی.
ویاس” وی این رائے چونک پڑے
جی ویاس مانجھی
تم جانتے ہو یہ نام کس کا تھا
جی جانتا ہوں اس منی کا جس نے مہاکاویہ مہابھارت رچا تھا۔
تم نے مہا بھارت پڑھی ہے؟
پڑھی ہے – کہاں – کیسے؟ وی ان رائے کے منہ سے یک لخت تین سوال اچھل پڑے –
صاحب میں ناؤ کھیتا ہوں اس کا یہ مطلب نہیں کہ میں بالکل ان پڑھ گنوار ہوں۔’
میرا یہ مطلب نہ تھا – معاف کرنا مجھ سے پھر بھول ہوگئی
صاحب! بھول آپ سے نہیں ہوئی بلکہ بھول اس سے ہوئی جس نے مجھے پتوار پکڑا دیا _”
وہیں دوسرا کردار وی ان رائے ایک متجسس، سنجیدہ اور آزاد خیال آدمی ہے جو آلہ آباد میں سنگم کی سیر کرتا ہے وہ مانجھی ملاح سے بار بار سوال کرتا ہے اس کے اندر چیزوں کو جاننے کی تڑپ ہے اس لیے اس نے ایسے ملاح کا انتخاب کیا جو زندگی کے تجربوں سے بھر پور ہے۔ مانجھی کہانی سناتا ہے جو قصے کو آگے لے جاتی ہے۔
جب وی ان رائے ملاح سے زیادہ کرایہ کے بارے میں پوچھتا ہے تو وہ کہتا ہے میرا کرایہ بھی دیگر ملاحوں کی طرح تھا اور خوب مول بھاؤ بھی کیا کرتا تھا اور کبھی زیادہ پیسہ بھی مل جاتا تھا لیکن بعد میں یہ کرایہ بڑھا دیا۔
"دن تاریخ تو یاد نہیں صاحب! ہاں اتنا ضرور یاد ہے کہ ان دنوں سنگم پہ ایک یوگی آئے تھے صبح سویرے لوگوں کو یوگ سادھنا سکھاتے تھے اور بیچ بیچ میں کچھ باتیں بھی بتاتے تھے ان کی باتیں بڑی اچھی ہوتی تھیں وہ دل کو چھوتی تھیں ان کی ایک بات مجھے اتنی بھائی کہ وہ میرے دل میں بیٹھ گئی۔ وہ بات یہ تھی کہ بھاگنے سے بہتر ہے آہستہ چلو- بے شک منزل دیر سے آئے گی پرنتو راہ میں ٹھوکر نہیں لگے گی۔ آہستہ چلنے پر دنیا تمھیں ٹھیک سے دکھائی دے گی اور وہ سب کچھ بھی آنکھوں میں آجائے گا جو بھاگ دوڑ میں اوجھل رہ جاتا ہے. ”
آگر ہم غور کریں تو مصنف نے بڑی معنی خیز بات کہی ہے کہ آہستہ چلنے میں ہم ہر چیز کو بخوبی دیکھتے ہیں وہ سب دکھائی دیتا ہے جو نگاہوں سے اوجھل ہوتا ہے منزل دیر سے ملتی ہے لیکن ہم ہر چیز سے آگاہ ہو جاتے ہیں.
(یہ بھی پڑھیں مرزبوم : یہ توہم کا کارخانہ ہے – ڈاکٹر عبد السمیع )
مصنف کی بڑی خوبی یہ ہے کہ اس نے عورت کے استحصال کو بھی بیان کیا ہے اور بہت کم ہی مصنفین نے اس موضوع پر بات کی ہے.
ایک جگہ لکھتا ہے کہ
"اشتہاروں میں عورت کے جسم کو ہی کیوں دکھایا جاتا ہے – کہیں کسی اشتہار میں عورت کا دماغ کیوں نہیں نظر آتا؟”
زمانہ قدیم میں عورتوں کے مسائل جو تھے وہی صورت حال موجودہ دور میں بھی نظر آتی ہے وہی حالت ہے اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی حقیقت یہ ہے کہ عورت کو سماج میں جو مقام و مرتبہ ملنا چاہیے وہ آج بھی میسر نہیں اور ہمیشہ کمتر درجہ حاصل رہا – اس بات کو مصنف نے بڑی خوبصورتی سے چندن پور کے گھسیارے گھسیٹے رام کی بیٹی کے ذریعہ آشکار کیا ہے:
"عورت کی چنوتی سے تپا ہوا راج کمار سہاگ رات کے کمرے میں پہنچتے ہی بولا :
دھتکار ہے اس عورت پر جو مرد کے ہاتھوں مار کھا جائے”
یہ بات کیا تم نے ہی کہی تھی ”
پھولوں کے سیج پر دل میں ارمان سجاے سمٹی سمٹائی گٹھری بنی بیٹھی دلہن نے اقرار میں سر ہلا دیا.
عورت ذات ہو کر تمہاری یہ مجال کہ تم مرد کو چنوتی دو ”
مرد راج کمار کا اہنکار پھنکارنے لگا –
میں نے کوئی چنوتی نہیں دی. میں نے تو صرف ایک بات کہی تھی "لڑکی نے صفائی دی _”
مرد اپنی انا کے آگے عورت کی عقل اور سمجھ بوجھ کو نہیں سمجھتا اور ہمیشہ حکمرانی کرنا چاہتا ہے اس کو اپنے برابر بیٹھانا بھی نہیں پسند کرتا آج ہم چاہے جتنا کہہ لیں کہ قوم ترقی کر چکی ہے لیکن آج بھی عورتوں کے ساتھ وہی سلوک کیا جاتا ہے ان کے حقوق بھی نہیں دیئے جاتے اور ظلم و ستم بھی ڈھائے جاتے ہیں
"ماں درگا بھی تو عورت ہیں سروشکتی مان ہیں تو عورت پر یہ اپنا کرپا کیوں نہیں کرتیں؟ اسے طاقت ور کیوں نہیں بناتیں؟ اسے کمزور کیوں رکھتی ہیں جب کہ فطرت اور نفسیات کا تقاضا یہ ہے کہ اپنی ذات برادری سے تعلق رکھنے والا زیادہ قریب محسوس ہوتا ہے اور جو زیادہ قریب ہوتا ہے اس کا خیال بھی زیادہ رکھا جاتا ہے اس کی چنتا بھی زیادہ کی جاتی ہے – یہاں تو معاملہ بالکل برعکس ہے درگا کی اپنی ذات ہی سب سے زیادہ دربل ہے. ”
پھر کیوں عورت پر ظلم کیا جاتا ہے اس کو ہر حال میں استحصال کیا جاتا ہے اس کی معاشی حالت بھی بدتر ہے مصنف نے عورت کے لئے آواز اٹھائی اور یہ بھی کہا کہ ہمیں چاہیے کہ اپنے حقوق کے لیے آگے بڑھیں اپنی حالت تبدیل کریں.
ایک جگہ ملاح کہتا ہے کہ جو سنگم کی سیر کرنے آتے ہیں وہ صرف پنیہ کے لیے نہیں لطف حاصل کرنے کے لیے بھی آتے ہیں وہ اپنے ساتھ دانہ بھی لاتے ہیں جب وہ دریا میں پھینکتے ہیں تو چھینا جھپٹی میں پرندے گھائل ہوجاتے ہیں اور کچھ مر بھی جاتے ہیں ہم پرندوں کے ساتھ بھی اچھا سلوک نہیں کرتے اپنی تفریح کے لیے ان کی جان بھی لیتے ہیں
آج گنگا میلی کیوں ہوگئی ہے اس کے بھی ہم ذمہ دار ہیں۔مصنف نے ایک جگہ آج اور کل میں فرق بھی بتایا ہے۔
کل اس لفظ کا معنی زندہ تھا مگر آج اس کا معنی مرچکا ہے کل فرد کو آزادی نہیں تھی اس کے دائرے محدود تھے وہ اپنے دائروں سے باہر نہیں نکلتا تھا آج فرد کو آزادی دے کر دائروں سے باہر نکال دیا گیا۔آج ہم آزادی کا بے جا استعمال کرتے اور اپنے بارے میں زیادہ سوچتے ہیں اس کے لیے کچھ بھی کرنے کے لیے تیار ہیں چاروں طرف صرف اپنی خوشی نظر آتی دوسروں کی خوشی دکھائی نہیں دیتی ہم اس قدر بے حس ہو گئے ہیں.(یہ بھی پڑھیں ”پوکے مان کی دنیا “ (معاصر عہدکے چیلنجز کا اِظہار) – ڈاکٹرمظہر عباس )
ناول کا اسلوب بھی دلچسپ ہے سادہ سلیس زبان کا استعمال اور ساتھ ہی ہندی کے الفاظ بھی دیکھنے کو ملتے ہیں اور جگہ جگہ شاعری سے بھی کام لیا گیا ہے استعاروں کے استعمال سے فکری فضا کو متاثر کیا گیا ہے۔
اس ناول کی ایک خوبی یہ ہے کہ وہ اپنے قاری کو باندھ کر رکھتا ہے اور ایک ہی بار میں ختم کرنے کے لئے اکساتا ہے جو معیاری ناول ہونے کی دلیل ہے۔
ساجدہ علیگ
شعبہ اردو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |


1 comment
Mashallah well written Sajida